Baaghi TV

Tag: گیس بحران

  • نا اہل مودی کی دوغلی  پالیسیاں: بھارتی عوام  گیس کے ہولناک بحران  سے پریشان

    نا اہل مودی کی دوغلی پالیسیاں: بھارتی عوام گیس کے ہولناک بحران سے پریشان

    مودی سرکار کی دوغلی پالیسیوں نے بھارت کیلئے توانائی بحران مزید سنگین کردیا-

    معروف برطانوی جریدہ ” دی اکانومسٹ” نااہل مودی کی ناکام پالیسیوں کے بھارتی عوام پر پڑنے والے منفی اثرات دنیا کے سامنے لے آیا برطانوی جریدے میں کہا گیا کہ بھارت میں گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، اس وقت پورے بھارت میں ریسٹورنٹس گیس نہ ہونے کی وجہ سے بند ہیں کھاد کی فیکٹریاں اور گیس پر منحصردیگر کاروبار اپنی سرگرمیاں روک چکے ہیں۔

    دی اکانومسٹ کے مطابق کئی شہروں میں بھارتی شہری گیس سلنڈر کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور ہیں، بھارتی عوام پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہے تھے اب مودی سرکار کی ناقص پالیسیوں کے باعث گیس سلنڈرز کے حصول کیلئے سڑکوں پر خوار ہو رہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے ایران کیخلاف اپنی تمام تر توجہ اسرائیل کیساتھ گٹھ جوڑپر رکھی اور ملکی توانائی کی ضرورتیں پورے کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔

  • پنجاب میں گیس بحران شدت اختیارکر گیا،400 کے قریب ٹیکسٹائل ملز بند

    پنجاب میں گیس بحران شدت اختیارکر گیا،400 کے قریب ٹیکسٹائل ملز بند

    پنجاب میں گیس بحران شدت اختیارکر گیا، گیس اور بجلی نہ ملنے پر 400 کے قریب ٹیکسٹائل ملز بند ہو گئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پنجاب میں چوتھے روز بھی ٹیکسٹائل ملز کو گیس کی سپلائی بند ہے،گیس نہ ملنے پر 400 کے قریب ٹیکسٹائل ملز کی بندش سے ایک ارب ڈالر کی برآمدات کم ہوں گی-

    آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسو سی ایشن(آپٹما) کے ذرائع کے مطابق ٹیکسٹائل ملز کو برآمدی آرڈر پورے کرنے میں دشواری کا سامنا ہے جبکہ ٹیکسٹائل ملز کی بندش سے ہزاروں ڈیلی ویجز ملازمین فارغ ہو گئے ہیں۔

    آپٹما نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر ٹیکسٹائل برآمدات میں ممکنہ کمی سے آگاہ کردیا ہ اپٹما کے پیٹرن ان چیف گوہراعجاز نے کہا ہے کہ گیس کی بندش سے ایک ارب ڈالرز کا زرِمبادلہ ضائع ہو جائے گا،وزیراعظم شہباز شریف فوری نوٹس لیں اورگیس بحال کی جائے مہنگے ڈیزل سے ٹیکسٹائل ملز چلانا ممکن نہیں-

    دوسری جانب سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ انڈسٹریل بالخصوص ٹیکسٹائل سیکٹر کے انرجی سپلائی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے،انڈسٹریل،برآمدی سیکٹر کے مسائل کے فوری حل میں پاکستان کی معاشی بقا پوشیدہ ہے ان سیکٹرز کی مدد سے مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں بہتر طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔

  • وفاقی وزیر توانائی کا3 اوقات میں گیس کی فراہمی کے بیان سے یوٹرن

    وفاقی وزیر توانائی کا3 اوقات میں گیس کی فراہمی کے بیان سے یوٹرن

    وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے دن میں کھانا بنانے کے 3 اوقات میں گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے بیان سے یوٹرن لے لیا۔

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کا کہنا ہے کہ صرف یہ کہا تھا کہ گھروں میں کھانا بنانے کے تین اوقات میں یعنی صبح، دوپہر اور شام میں گیس کی فراہمی کی کوشش کی جائے۔

    حماد اظہر نے 12 نومبر کو سینیٹ اجلاس سے خطاب میں واضح طور پر کہا تھا کہ دن کے تین اوقات میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    اسلام آباد:اوآئی سی اجلاس:ٹریفک پلان جاری کردیا گیا

    واضح رہے کہ پاکستان میں موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی گیس بندش اور پریشر میں کمی کے باعث گھریلو صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا تھا۔

    ادھر ملک بھر میں جاری گیس کے بحران پر حکومتی ارکان وزیراعظم کے سامنے بول اٹھے اور کہا تھا کہ وزیر توانائی حماد اظہر فون تک نہیں اٹھاتے اور نہ گیس بحران پر لوگوں سے ملتے ہیں وزیراعظم کی زیرصدارت حکومتی ارکان کا اجلاس میں گیس بحران پر حکومتی ارکان بھی بول پڑے ارکان نے شکوہ کیا کہ ملک میں گیس نہیں ہے گھریلو اور صنعتی صارفین سب ہی احتجاج کر رہے ہیں شکوہ کرنے والوں میں گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی شامل نکلے جو وزیر توانائی حماد اظہر کے رویے سے نالاں ہیں۔

    ڈی جی رینجرز میجر جنرل افتخار حسن چوہدری نے اقراء یونیورسٹی نارتھ کراچی کیمپس کادورہ کیا

    گورنر سندھ نے وزیراعظم سے حماد اظہر کے روپے کی شکایت کی اور کہا تھا کہ وزیراعظم صاحب! حماد اظہر صاحب ہمارا فون تک نہیں سنتے، وزیراعظم سے رابطہ کرنا آسان ہے لیکن حماد اظہر سے مشکل جواب میں حماد اظہر بولے کہ آپ کو ہر روز میسج کرتا ہوں، لگتا ہے آپ کسی غلط نمبر پر میسجز کرتے ہیں۔

    گورنر سندھ نے کہا کہ گیس کی قلت ہے، کراچی میں گیس بحران سنگین ہے، گیس بحران کے حل کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں، حماد اظہر صاحب، سندھ کی انڈسٹری بھی سراپا احتجاج ہے، آپ اگر انہیں گیس نہیں دے سکتے تو کم از کم ان سے مل تو لیں۔ اس موقع پر ایک حکومتی رکن نے کہا تھا کہ حماد صاحب پنجاب کی انڈسٹری سے بھی ملاقات کرلیں ان کا بھی یہی شکوہ ہے۔

    ایس ایس پی ویسٹ کی زیر صدارت ضلع ویسٹ آفس میں کرسمس میٹنگ کا انعقاد