Baaghi TV

Tag: گیس

  • گیس امپورٹ پر پابندی نہیں، پائپ بچھانے پر پابندی ہے،ایم ڈی سوئی ناردرن

    گیس امپورٹ پر پابندی نہیں، پائپ بچھانے پر پابندی ہے،ایم ڈی سوئی ناردرن

    اسلام آباد: ایم ڈی سوئی ناردرن کا کہنا ہے کہ گیس پاور سیکٹر کے لیے درآمد کی جا رہی تھی، بعد میں کوئلہ اور نیوکلیئر کے پلانٹس لگ گئے، اس لیے فیلڈ بند کرنے کے علاوہ آپشن نہیں۔

    باغی ٹی وی : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کو بریفنگ دیتے ہوئے ایم ڈی سوئی ناردرن نے بتایا کہ قطر اور ای این آئی کے ساتھ 2031 تک ہونے والے معاہدوں کے تحت ہر ماہ 10 کارگو آتے ہیں اور انہیں 2 یا 3 دن سے زیادہ مؤخر نہیں کیا جاسکتا گیس پاور سیکٹر کے لیے درآمد کی جا رہی تھی، بعد میں کوئلہ اور نیوکلیئر کے پلانٹس لگ گئے، اس لیے فیلڈ بند کرنے کے علاوہ آپشن نہیں۔

    پاک ایران گیس پائپ لائن سے متعلق سیکرٹری پیٹرولیم نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ٹاسک دیا ہے، گیس امپورٹ پر پابندی نہیں، پائپ بچھانے پر پابندی ہے۔

    دوسری جانب شمالی وزیرستان سے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، ماڑی انرجیز لمیٹڈ نے شمالی وزیرستان سے تیل اور گیس کی دریافت کا اعلان کیا ہے،ماڑی انرجیز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دریافت سے ابتدائی طور پر یومیہ 20 بیرل خام تیل حاصل ہوگاابتدائی طور پرایک کروڑ 29 لاکھ مکعب فٹ یومیہ گیس حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔

  • فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کچھ دن پہلے میں نے ایک پروگرام کیا تھا جس میں بتایا تھا کہ او جی ڈی سی میں کس حد تک کرپشن ہو رہی ہے، آج اسکا پارٹ ٹو بتاؤں کہ اربوں روپے کی کرپشن ہو رہی، نااہلی، غلط فیصلوں کی وجہ سے ایسا ہو رہا،نقصان ہو رہا، کرپشن کے انبار ہیں، کتنا پیسہ کس کو گیا کیسے لوٹا گیا،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گیس کی پیداوار ہے کیا، لاگت کتنی آتی ہے، اس کے برعکس امریکہ میں کتنی لاگت آتی ہے، حکومتی وزرا میڈیا پر آ کر سرعام جھوٹ بولتے ہیں، وزرا نوازشات کی برسات کر رہے ہیں، گیس کی پیداوار میں گھپلے کیسے ہو رہے، ماری پٹرولیم لمیٹڈ کی نوے فیصد پیدوار اور آمدنی ماری گیس فیلڈ سے آتی ہے ، ایکس اون،اسکا تجارتی نام ایس او ہے، پاکستان میں فی مکعب فٹ گیس کی پیداواری لاگت چھ لاکھ ڈالر ہے، امریکہ میں دو سے تین لاکھ ڈالر ہے، پاکستان میں گیس کی قیمتیں اس لئے زیادہ کیونکہ پیدواری لاگت دگنا ہے، یہ انتظامیہ کی نااہلی ہے،زرون گیس فیلڈ کی ماہانہ آپریٹنگ لاگت چار لاکھ ڈالر ہے، جبکہ امریکہ میں صرف 30 ہزار ڈالر لاگت ہے،ماری پٹرولیم لمیٹڈ کے اخراجات سولہ فیصد یا امریکہ سے بھی آگے ہیں، اس میں قصور حکومت یا موجودہ نظام کا ہے، نہ کمپنی میں بہتری لا سکے، نہ اپنی پرفارمننس بہتر کر سکے، ماری پٹرولیم میں ڈرلنگ کے اخراجات ایم پی ایل بین الاقوامی معیار سے بہت زیادہ ہیں دس ہزار فٹ کنویں کی لاگت 50 ملین ڈالر سے زیادہ ہے، اسے مکمل ہونے میں ایک سال لگتا ہے، امریکہ میں ایک کنویں کو 3 ملین ڈالر اور تین ہفتے لگتے، یہ فرق نہ صرف ماڑی پٹرولیم کی ناکامیوں نااہلی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ممکنہ مسائل کی نشاندہی بھی کرتا ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے یکم جنوری کو گیس کی کرپشن پر پروگرام کیا جس پر بہت سے لوگوں نے رابطہ کیا میں نے بتایا تھا کہ کیسے مہنگی گیس پیدا کی جا رہی جس کا خمیازہ پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑ رہا،حکومتی عہدیداروں کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ احتساب کریں بلکہ مجھے چپ رہنے کا کہہ دیا گیا، میں چپ نہیں رہوں گا، سوال بھی اٹھاؤں گا اور کرپشن بھی بے نقاب کروں گا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وسائل بے دریغ استعمال کئے جاتے ہیں، کون تھا جو کرپشن کے بازار گرم کر کے بیٹھا تھا ، ایک شخص جو ایگزیکٹو ڈیپارٹمنٹ میں آتا، فہیم حیدر ماری پٹرولیم کے سی ای او ہیں،یہ 2020 سے ابتک مسلسل یہاں موجود ہیں.تین سال کے لئے انکو لگایا گیا تھا، 12 اگست کو دوبارہ بورڈ آف ڈائریکٹر نے ایم ڈی مقرر کر دیا، دوبارہ تقرری پھر تین سال کے لئے کی گئی، اس شخص پر کتنا پیسہ خرچ کیا گیا، کمپنی نے حکومت کے خزانے سےپیسہ نکلوایا اور حکومت نے پھر عوام کی جیبوں سے پیسہ نکلوایا، سال 2023 میں فہیم کو جو تنخواہیں اور پیسے ملے چار لاکھ چورانوے ہزار ڈالر تنخواہوں اور دیگر کی مد میں ادا کئے گئے جو پاکستانی 13 کروڑ سے زائد ہیں، 2024 میں 27 کروڑ 67 لاکھ سے زیادہ ادا کئے گئے، یعنی ایک سال میں ہی فائدوں میں سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا، اس ادارے میں 803 لوگ ایگزیکٹو میں شمار کئے جاتے ہیں جن کو 2023 میں 8 بلین سے زائد تنخواہیں و دیگر دی گئیں، 2024 میں ایگزیکٹو نے عیاشی کی زندگی گزاری کیونکہ حکومت ن لیگ کی ہے لہذا لوگوں کو نوازا جاتا ہے،یہ کام مصدق ملک کی نگرانی کے بغیر نہیں ہو سکتا، حکومت کی غیر ضروری نوازشات سرکاری کمپنیوں کا بیڑہ غرق کر رہی ہیں جس کا اثر عام آدمی پر ہوتا ہے.فہیم حید رنے جو تجربہ بتایا وہ اسکا نہیں ہے،

    اسلام آباد پولیس کی کارروائی، غیرملکی شہری سے موبائل چھیننے والا گرفتار

    بھارتی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستوں کی شادی فیصلے پرنظر ثانی سے انکار

  • ڈاکٹر مصدق ملک نالائق انسان،گیس تیل کی مد میں اربوں روپے کی کرپشن

    ڈاکٹر مصدق ملک نالائق انسان،گیس تیل کی مد میں اربوں روپے کی کرپشن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نیا سال شروع ہو چکا ہے، 2025 کا پہلا شو ہے جوپاکستان میں کرپشن کی اعلیٰ ترین مثال ہے کہ کس لیول کی کرپشن ہو رہی ہے،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امپورٹ میں بڑا حصہ پٹرولیم کی امپورٹ کا ہے، 35 سے 40 فیصد اسکا حصہ ہے،اسی پر حکومت یا ریزور یا عام عوام کی جیب سب متاثر ہوتے ہیں، کسی نے پٹرول ،ڈیزل بھرواناہےکسی نے انرجی کے لئے استعمال کرنا ہے، پچھلے دنوں مجھے پتہ چلا کہ پاکستان میں کرپشن کو ایک جگہ بند کرنا ہو تو اسکو بڑے آرام سے او جی ڈی سی میں بند کر سکتے ہیں، اوجی ڈی سی پاکستان کا سب سے کرپٹ ادارہ ہے، اس میں لالچ ہے، کاروائی ہے جو ہمارے بیوروکریٹ نے ڈالی ہے، کیا مصدق ملک نالائق ہیں،کیا چیئرمین او جی ڈی سی کو کام نہیں آتا ،ہو کیا رہا ہے؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں اس پر تفصیلی پروگرام بھی کروں گا کہ پاکستان میں تیل کے نام پر کیسے فراڈ ہو رہا ہے، اوجی ڈی سی پوری طرح ڈرلنگ کرتا ہے تو میرا دعویٰ ہے کہ ایک ڈالر کا بھی پٹرولیم مصنوعات امپورٹ نہیں کرنا پڑتا، تمام ضروریات لوکلی پوری کر سکتے ہیں، خام تیل کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے، ملکی معیشت کے لئے ایک المیہ ہے ، گیس کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے،کمی 4.4 فیصد سالانہ ہے،سال 2023 میں ٹوٹل 47 کنویں کھودے گئے،15 تلاشی اور 32 ترقیاتی کنویں، او جی ڈی سی نے دس کنویں ، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے 8 کنویں، ماڑی پور پٹرولیم نے تین کنویں، بے شمار مسائل سامنے آئے، پاکستان پٹرولیم نے کنواں جو 16 ہزار فٹ ہے جس کو ڈرل کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگا، اس کا موازنہ امریکا سے کیا جائے تو امریکہ میں یہی ایک کنواں 3 ہفتوں میں اور پیسے بھی کم لگے، امریکی کنویں 10 ہزار فٹ عمومی دس ملین ڈالر کی لاگت میں کھودا جاتا ہے، 20 ملین ڈالر کی لاگت سے تین کنویں انہوں نے کھودے ، وہ کام جس کی لاگت امریکا میں سات ہزار ڈالر ہے وہ کام پاکستان میں ایک لاکھ بیس ہزار ڈالرمیں کیا جا رہاہے، کمپنی کے شراکت دار سب سے پہلے ماڑی پور پٹرولیم ہے، دوسرے نمبر پر پاکستان پٹرولیم ہے ،اسکے بعد اوجی ڈی سی، جس کے ذریعے روزانہ خالص ،خام تیل ، گیس کی پیداوار ہے، حیران کن طور پر آپریٹنگ اور ترقی اخراجات میں ناکامی ہے، کمپنیوں کو چونا لگایا جا رہا ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مہنگی گیس اور پٹرول حقیقت میں یہ کرپشن کا بازار گرم ہوتا ہے،

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

  • گھریلو صارفین کو گیس سپلائی میں کمی،وزیراعظم کا نوٹس

    گھریلو صارفین کو گیس سپلائی میں کمی،وزیراعظم کا نوٹس

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدرات ملک میں گیس سپلائی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،

    وزیر اعظم نے گھریلو صارفین کو گیس سپلائی میں کمی کی شکایات پر نوٹس لے لیا اور ہدایات دیں کہ موسم سرما میں گھریلو صارفین کو گیس کی بلا تعطل فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنائی جائے.وزیر اعظم نے سسٹم کی ساخت میں اصلاحات لانے کی ہدایت تاکہ اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کیا جاسکے. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے

    اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سسٹم میں سرپلس آر ایل این جی موجود ہے، جس کی وجہ سے گیس لوڈ مینجمنٹ میں پچھلے سال کی نسبت بہتری آئی ہے.پچھلے سال کی نسبت اس سال گیس لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم ہے.گھریلو صارفین کو صبح 5 بجے سے رات 10 بجے تک گیس فراہم کی جارہی ہے.پاور سیکٹر کو بھی گیس ڈیمانڈ کے مطابق دی جا رہی ہے.صارفین کی شکایات کے حوالے سے ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کے آن لائین ڈیش بورڈز کام کر رہے ہیں.ایس این جی پی ایل کی شکایات کو حل کرنے کی شرح 93 فیصد جبکہ ایس ایس جی سی کی شرح 79 فیصد ہے.ملک کی تمام گیس فیلڈز فعال ہیں ،اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔

    میجر محمد اویس شہید کی نماز جنازہ ادا

    سابق وزیراعظم بینظیر کی 17 ویں برسی، صدر مملکت کا پیغام

  • کراچی میں گیس کی لوڈشیڈنگ،شرجیل میمن کا اظہار تشویش

    کراچی میں گیس کی لوڈشیڈنگ،شرجیل میمن کا اظہار تشویش

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر،وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے گیس لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس کی فراہمی میں خلل کے باعث نہ صرف عوامی زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ صنعتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ کراچی سمیت سندھ میں گیس لوڈشیڈنگ کا سامنا بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور صوبہ اس صورتحال کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ گیس کی قلت نے عوام میں بے یقینی اور مایوسی پیدا کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اور کاروباری حلقوں کا اعتماد کم ہو رہا ہے اور صنعتی پیداوار میں کمی آ رہی ہے جس سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ سردیوں کے مہینوں میں گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سردیوں میں گیس کی فراہمی میں مزید خلل پڑا تو اس سے نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ میں معاشی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ وفاقی حکومت فوری طور پر گیس کی قلت کے مسئلے کو حل کرے تاکہ عوام اور صنعتی شعبے کو اس بحران سے نجات مل سکے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی پاکستان کا تجارتی مرکز ہے اور یہاں گیس کی کمی کے اثرات پورے ملک کی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔ اگر گیس کی فراہمی بہتر نہ ہوئی تو صنعتی یونٹس کی پیداوار میں مزید کمی آ سکتی ہے جس سے روزگار کے مواقع میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ سندھ کے عوام اور کاروباری حلقے اس وقت بے چین ہیں اور وفاقی حکومت سے فوری اقدامات کی توقع رکھتے ہیں تاکہ گیس کی فراہمی میں رکاوٹوں کا خاتمہ ہو سکے اور عام آدمی کو سکون کی زندگی گزارنے کا موقع مل سکے۔

    خیبر پختونخوا حکومت اداروں سے لڑنے کی بجائے دہشتگردوں سے لڑے،شرجیل میمن

    سندھ سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گا، شرجیل میمن

    پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک ہے ،شرجیل میمن

  • گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فراہمی کا نیا شیڈول جاری

    گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فراہمی کا نیا شیڈول جاری

    کراچی: سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے موسم سرما میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فراہمی کا نیا شیڈول جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی: جاری شیڈول کے مطابق صارفین کو دن بھر کے 3 مختلف اوقات میں گیس فراہم کی جائے گی تاکہ گیس کی مکمل دباؤ کے ساتھ فراہمی یقینی بنائی جا سکے اس اقدام کا مقصد گھریلو صارفین کو روزمرہ امور، خاص طور پر کھانا پکانے کی منصوبہ بندی کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔

    گیس کمپنی کے مطابق گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی صبح 6 سے 9 بجے، دوپہر 12 سے 2 بجے ، جبکہ شام 6 سے 9 بجے تک ہوگی، ایس این جی پی ایل حکام کے مطابق حکومت کی ہدایات پر گیس فراہمی کے اوقات کو تبدیل کیا گیا مذکورہ اوقات میں تمام علاقوں میں گیس مکمل دباؤ کے ساتھ فراہم کی جائے گی۔

    ترجمان سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے مطابق موسم سرما میں گیس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔

  • گیس پائپ لائن، پاکستان کا عالمی عدالت میں ایرانی مقدمے پر دفاع کا فیصلہ

    گیس پائپ لائن، پاکستان کا عالمی عدالت میں ایرانی مقدمے پر دفاع کا فیصلہ

    ایران نے پاکستان کے خلاف گیس پائپ لائن میں تاخیر کے معاملے پر عالمی ثالثی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس پر پاکستان نے دفاع کے لیے قانونی فرموں اور وکیل کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔

    نجی ٹی وی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومتی ذرائع کے مطابق، پاکستان نے تین قانونی فرموں اور آسٹریلیا میں مقیم ایک معروف وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ وہ پیرس میں ایرانی مقدمے کا مؤثر طور پر دفاع کر سکیں۔ ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین میں گیس پائپ لائن کا حصہ مکمل نہیں کیا اور نہ ہی وہ 750 ایم ایم سی ایف ڈی گیس وصول کر سکا ہے۔پاکستان نے بین الاقوامی قانونی فرموں میں وائٹ اینڈ کیس، تھری کراؤنز، اور وِلکی فیر گیلگر کی خدمات حاصل کی ہیں۔ یہ وکلا تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کے ماہرین میں شمار کیے جاتے ہیں۔متعلقہ حکام نے تینوں قانونی فرموں اور مرکزی وکیل کو گیس پائپ لائن منصوبے اور پاکستان کی طرف سے اس کو مکمل نہ کرنے کی وجوہات پر بریفنگ دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 18 اکتوبر 2024 کو فرانس میں واقع ثالثی عدالت کے سیکرٹریٹ میں پاکستان کی قانونی ٹیم کی تفصیلات جمع کرائی جا چکی ہیں۔

    پاکستان اب قانونی مشورے کے مطابق ایک ثالث مقرر کرے گا، جبکہ ایران بھی ایک ثالث نامزد کرے گا۔ دونوں ممالک مشترکہ طور پر ایک تیسرے ثالث کو نامزد کریں گے، جس کے بعد مقدمے کی کارروائی شروع ہو جائے گی۔ توقع ہے کہ ایک سال کے اندر فیصلے کا اعلان ہو جائے گا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایران نے اگست 2024 میں پاکستان کو حتمی نوٹس جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے اور وہ ستمبر 2024 میں پاکستان کے خلاف ثالثی عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہے، کیونکہ پاکستان نے آئی پی گیس منصوبے کے تحت پائپ لائن نہیں بنائی۔

    ایران پاکستان گیس منصوبہ 2014 سے امریکی پابندیوں کی وجہ سے 10 سال سے تاخیر کا شکار ہے۔

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • ملک کا نیشنل گیس ٹرانسمیشن سسٹم ایک بار پھر خطرے کی زد

    ملک کا نیشنل گیس ٹرانسمیشن سسٹم ایک بار پھر خطرے کی زد

    اسلام آباد: ملک کا نیشنل گیس ٹرانسمیشن سسٹم ایک بار پھر خطرے کی زد میں آگیا ہے۔

    باغی ٹی وی: وزارت توانائی کے سینئر سرکاری عہدیدار کے مطابق آر ایل این جی کے استعمال میں اضافے کے بعد ملک کا نیشنل گیس ٹرانسمیشن سسٹم ایک بار پھر خطرے کی زد میں آگیا ہے لائن پیک پریشر بنیادی طور پر پاور سیکٹر کی جانب سے آر ایل این جی کے استعمال میں بڑے پیمانے پر کمی کی وجہ سے دوبارہ بڑھ کر 5 ارب کیوبک فٹ (بی سی ایف) کے قریب ہو گیا ہے جو 5 اکتوبر 2024کو 577 ایم ایم سی ایف سے 7اکتوبر 2024کو تین دنوں میں 239 ایم ایم سی ایف (ملین کیوبک فٹ) تک رجسٹرڈ ہوا۔

    انہوں نے بتایا کہ پائپ لائن میں درآمدی گیس کے علاوہ ملک کی مقامی گیس بھی شامل ہے اور پائپ لائن میں بار بار لائن پریشر سے مین ٹرانسمیشن لائن پھٹ جانے کی صورت میں کسی بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہےپاکستان ہر ماہ 10 ایل این جی کارگو درآمد کرتا ہے لیکن پاور سیکٹر کی کھپت کبھی بھی اس کی مانگ کے مطابق نہیں رہی جو وہ ہر ماہ جمع کراتا ہے۔

    کراچی میں مبینہ بھارتی جاسوس گرفتار

    یو این نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے،منیراکرم

    منشی پریم چند

  • پاکستانی سمندر میں دنیا کے چوتھے بڑے گیس اور تیل ذخائر کا انکشاف

    پاکستانی سمندر میں دنیا کے چوتھے بڑے گیس اور تیل ذخائر کا انکشاف

    پاکستان کے سمندر میں دنیا کے چوتھے بڑے گیس اور تیل کے ذخائر کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ ایک دوست ملک کے ساتھ ملکر 3 سال کے عرصے میں جیوگرافک سروے کیا گیا جس میں تیل اور گیس کے ذخائر کی نشاندہی کرلی گئی ہے

    سابق رکن اوگرا محمد عارف کا کہنا تھا کہ تیل کے ذخائر کی دریافت گیم چینجر ثابت ہو گی، جبکہ گیس کے ذخائر ملنے سے معاشی لحاظ سے قسمت بدل سکتی ہے،ہ ملک ہر سال 200 ارب ڈالر تیل اور گیس پر خرچ کرتا ہے۔

    جنگ نیوز کے مطابق پاکستان میں سمندر سے تیل اور گیس کا بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے، دریافت ہونے والے ذخیرے کے بارے میں کہا جا رہا ہے ہے کہ دنیا کا چوتھا بڑا تیل اور گیس کا ذخیرہ ہے جو تین سال کے سروے کے بعد سامنے آیا،ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کیلئے جیولوجیکل سروے کیا گیا، سروے کے دوران سمندر سے لیے گئے ڈیٹا کا مطالعہ کیا جا رہا ہے،ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق گیس اور تیل کے بھاری ذخائر کی دریافت سے متعلق کہنا قبل از وقت ہے، یہ گیس اور تیل کی موجودگی سے متعلق اندازہ یا تخمینہ ہو سکتا ہے،ڈی جی پیٹرولیم کنسیشنز آفس اگلے سال پہلی سہ ماہی میں بڈنگ کرائے گا، کامیاب بولی دہند گان کو آف شور بلاکس ایوارڈ ہوں گے، ایکسپلوریشن کا عمل شروع ہونے بعد تیل و گیس کی دریافت کا معلوم ہو سکے گا۔

    پاکستان میں پہلے بھی متعدد بار سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کی گئی، ماضی میں سمندر میں ہونے والی تیل اور گیس کی تلاش کیلئے سرگرمیاں بھی تخمینوں کی بنیاد پر تھیں، جب تک گیس یا تیل دریافت نہ ہو جائے ذخیرے کا حجم نہیں بتایا جا سکتا،

    گیارہویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ 7 ملزمان کی 48 گھنٹے تک اجتماعی زیادتی

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

  • ملک میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں،مصدق ملک

    ملک میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں،مصدق ملک

    اسلام آباد (محمد اویس) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس چیئرمین سینیٹر عمر فاروق کی زیر صدارت ہوا ۔

    سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ کیپٹو پاور پلانٹس حکومت کی پالیسی کے تحت لگائے گئے اب کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس کی فراہمی بند کی جا رہی ہے انڈسٹری نے اپنی ضروریات کیلئے 50 فیصد ایفیشنسی والے پاور پلانٹس لگائے ڈی جی گیس نے کہاکہ ملک میں 1180 کیپٹو پاور پلانٹس لگائے گئے ہیں ان پلانٹس کو 358 ایم ایم سی ایم ڈی گیس فراہم کی جاتی ہے یہ پلانٹس حکومت کی 2005 پالیسی کے تحت لگائے گئے ان میں سے 797 پاورپلانٹس سندھ میں ہیں ان پلانٹس کا اڈٹ کرنے کی کوشش کی گئی پر کامیابی نہیں ہوئی پیٹرولیم ڈویژن کی طرف سے تجویز آئی کہ ان کیپٹو پاور پلانٹس کو گرڈ پر منتقل کیا جائے ،پیٹرولیم ڈویژن نے کبھی کیپٹو پاور پلانٹس کو بند کرنے کی کی بات نہیں کی پاور ڈویژن نے آئی ایم ایف کو تجویز دی کہ ان کیپٹو پاور پلانٹس کو بند کروایا جائے پاور ڈویژن کا موقف ہے کہ کیپٹو پاور پلانٹس بند کرنے سے صنعتی شعبہ گرڈ سے بجلی لے گا ایسا کرنے سے بجلی گرڈ پر کیپسٹی چارجز ختم کرنے میں مدد ملے گی اب کیپٹو پاور پلانٹس کو گیس فراہمی پر کوئی سبسڈی فراہم نہیں کی جا رہی ہے ۔وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے کہاکہ مسائل سے نکلنے کا راستہ ہے مگر ہمیں نظر نہیں آرہاہے، کیپٹیو پاور کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ کمیٹی کو دے دیں گے ۔ کمیٹی نے ان کیمرہ اجلاس میں اس معاملے کو ایجنڈا آئٹم کے طور پر اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

    محسن عزیز نے کہاکہ کیا ہم گیس کی قلت کا شکار ہیں یا ہم کنویں نہیں کھود رہے ہیں؟مصدق ملک نے کہاکہ کنووں سے جو گیس نکلتی ہے وہ سب کی سب پائپ لائن سے نہیں دی جاسکتی ہے ۔ 32سو ایم ایم سی ایف ڈی گیس پاکستان میں نکلتے ہیں ۔بجلی کی ایل این جی کا استعمال کم ہورہاہے جس کی وجہ سے گھریلو سسٹم میں یہ گیس ڈال دیتے ہیں جس سے قیمت بڑھ جاتی ہے ۔سیکورٹی صورتحال کے باوجود ملک میں تیل گیس کی تلاش چل رہی ہے ۔ کیپسٹی پیمنٹ اشرافیہ کی وجہ سےہے اشرافیہ کے اے سی چلانے کے لیے اضافی کارخانے لگے ہیں ۔ وزیر پیٹرولیم مصدق ملک نے کہاکہ گیس کے کنووں سے گیس کی قلت سالانہ ایک اعشارہ چھ فیصد کمی کا سامنا ہے، مقامی گیس کی پیداوار میں کمی کے باعث ایل این جی منگواتے ہیں درأمدی ایل این جی پاور پلانٹس کو دینی تھی، ایل این جی مہنگی ہونےکے باعث اب پاور سیکٹر بھی نہیں لے رہا .

    سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ نگران حکومت میں اس طرح کی کوئی ڈسکسشن ہوئی ہے، نگران حکومت کا یہ اختیار نہیں کہ وہ کوئی لانگ ٹرم فیصلہ کر سکے،آئی ایم ایف کے ساتھ اگر کوئی ایسی بات ہوئی ہے تو اسے یہاں ایجنڈے پر ہونا چاہئیے۔ وزیر مصدق ملک نے کہاکہ کراچی میں ایک انڈسٹریل ایریا میں 200 تک انڈسٹریل یونٹس ہیں، 200 میں سے 10 سے 12 کے پاس کیپٹو پاور ہے،کچھ انڈسٹریز کے الیکٹرک سے 60 روپے کی بجلی لے رہی تھی،کچھ انڈسٹری کہیں سے مہنگی کہیں سے سستی بجلی خرید رہی تھی،اس طرح انڈسٹری میں کارٹلائزیشن بن چکی تھی،اس لیے انڈسٹری کیلئے لیول آف پلینگ فیلڈ کا ہونا ضروری ہے، پالیسی ایسی ہوکہ ہمارے بچوں کو لگے کہ ملک میں صرف 10 سے 15 سیٹھ نہیں ہیں، کیپسٹی پیمنٹ بینک کے قرضے کی قمیت ہے دنیا میں حکومتیں بجلی گیس نہیں خریدتیں پاکستان میں حکومت خریدتی ہے، ہم پیٹرولیم سیکٹر کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرینگے، اگر عوام کا تحفظ نہ ہوا تو پھر ڈی ریگولیٹ نہیں کرینگے ،ملک میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی کوشش کر رہے ہیں۔چند لوگوں کے ایئر کنڈیشنر کے استعمال کیلئے سب کپیسٹی پیمنٹس لگانی پڑتی ہیں،ان ایئر کنڈیشنز کے لیے ہمیں سال بھر کپیسٹی ادا کرنا پڑتی ہے،اشرافیہ کی ڈیمانڈز کو اب کچھ کم کرنا پڑے گا،کچھ بوجھ تو اب اس اشرافیہ کو بھی اٹھانا پڑے گا،

    محسن عزیز نے کہاکہ اشرافیہ کو ایسے ٹریٹ کریں جیسے ایک عام آدمی کو کیا جاتا یے، آج میں آرہا تھا تو سڑک پر اشرافیہ کی گاڑیاں آتے دیکھیں،اشرافیہ کی گاڑیاں آئیں تو مجھے کہا گیا سائڈ پر ہوجائیں

    آئی پی پیز سے معاہدے ختم نہیں ہوں گے، بجلی کی قیمتوں میں جلد کمی کی امید

    آئی ایم ایف نے کہا آئی پی پیز سے معاہدے بدلیں،لیکن ہمارے وزیراعظم..؟

    حکومت کو آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں تبدیلی کی کوشش میں سنگین چیلنچز کا سامنا

    آئی پی پیز کا مسئلہ اٹھا کر پوائنٹ اسکورنگ نہیں کر رہے، سابق نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ

    آئی پی پیز کا مسئلہ: سابق نگران وزیر گوہر اعجاز کا فرانزک آڈٹ کا مطالبہ

    آئی پی پیز کیساتھ معاہدہ فی الفور ختم کیا جائے،مصطفیٰ کمال

    بجلی کا زیادہ، دو بھائیوں میں جھگڑا، بھائی نے بھائی کو قتل کر دیا

    گھروں میں بجلی کی لٹکتی ننگی تاریں، شہریوں کی زندگیاں غیر محفوظ،لیسکو کی بے حسی

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    پاکستان ان کمپنیوں کو اربوں کی ادائیگی کرتا ہے جو بجلی پیدا نہیں کرتیں۔گوہر اعجاز

    مہنگی بجلی، زیادہ تر آئی پی پیز پی ٹی آئی رہنماؤں کی ملکیت نکلیں

    4 آئی پی پیز کو بجلی کی پیداوار کے بغیر ماہانہ 10 ارب روپے دیے جا رہے ، گوہر اعجاز

    بجلی کا بل کوئی بھی ادا نہیں کرسکتا، ہر ایک کے لئے مصیبت بن چکا،نواز شریف

    حکومت ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے بجلی کے بحران کو حل کرے۔مصطفیٰ کمال

    سرکاری بجلی گھر بھی کیپسٹی چارجز سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،سابق وزیر تجارت کا انکشاف