آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (و جی ڈی سی ایل) نے اٹک میں گیس کے نئے ذخائر دریافت کرلیے۔
باغی ٹی وی: ترجمان کے مطابق او جی ڈی سی ایل پنجاب کے ضلع اٹک کے سوغری بلاک میں سوغری نارتھ-ون کنویں سے گیس اور کنڈینسیٹ کی دریافت کا اعلان کیا ہے او جی ڈی سی ایل اس بلاک کی واحد لائسنس ہولڈر ہے اور 100 فیصد ورکنگ انٹرسٹ رکھتی ہے۔
ترجمان کے مطابق کنویں کی کھدائی21 مئی 2024 کوشروع ہوئی اور 4 ہزار 942 میٹر کی گہرائی پر گیس دریافت ہوئی، ابتدائی ٹیسٹنگ کے بعد کنویں سے 13.95 ملین مکعب فٹ یومیہ (ایم ایم ایس سی ایف ڈی) گیس اور 430 بیرل یومیہ کنڈینسیٹ حاصل ہوا، یہ دریافت پاکستان کے توانائی کے مقامی وسائل میں اضافے اور درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
اسلام آباد: ایم ڈی سوئی ناردرن کا کہنا ہے کہ گیس پاور سیکٹر کے لیے درآمد کی جا رہی تھی، بعد میں کوئلہ اور نیوکلیئر کے پلانٹس لگ گئے، اس لیے فیلڈ بند کرنے کے علاوہ آپشن نہیں۔
باغی ٹی وی : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کو بریفنگ دیتے ہوئے ایم ڈی سوئی ناردرن نے بتایا کہ قطر اور ای این آئی کے ساتھ 2031 تک ہونے والے معاہدوں کے تحت ہر ماہ 10 کارگو آتے ہیں اور انہیں 2 یا 3 دن سے زیادہ مؤخر نہیں کیا جاسکتا گیس پاور سیکٹر کے لیے درآمد کی جا رہی تھی، بعد میں کوئلہ اور نیوکلیئر کے پلانٹس لگ گئے، اس لیے فیلڈ بند کرنے کے علاوہ آپشن نہیں۔
پاک ایران گیس پائپ لائن سے متعلق سیکرٹری پیٹرولیم نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ٹاسک دیا ہے، گیس امپورٹ پر پابندی نہیں، پائپ بچھانے پر پابندی ہے۔
دوسری جانب شمالی وزیرستان سے تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت ہوئے ہیں، ماڑی انرجیز لمیٹڈ نے شمالی وزیرستان سے تیل اور گیس کی دریافت کا اعلان کیا ہے،ماڑی انرجیز کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دریافت سے ابتدائی طور پر یومیہ 20 بیرل خام تیل حاصل ہوگاابتدائی طور پرایک کروڑ 29 لاکھ مکعب فٹ یومیہ گیس حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کچھ دن پہلے میں نے ایک پروگرام کیا تھا جس میں بتایا تھا کہ او جی ڈی سی میں کس حد تک کرپشن ہو رہی ہے، آج اسکا پارٹ ٹو بتاؤں کہ اربوں روپے کی کرپشن ہو رہی، نااہلی، غلط فیصلوں کی وجہ سے ایسا ہو رہا،نقصان ہو رہا، کرپشن کے انبار ہیں، کتنا پیسہ کس کو گیا کیسے لوٹا گیا،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گیس کی پیداوار ہے کیا، لاگت کتنی آتی ہے، اس کے برعکس امریکہ میں کتنی لاگت آتی ہے، حکومتی وزرا میڈیا پر آ کر سرعام جھوٹ بولتے ہیں، وزرا نوازشات کی برسات کر رہے ہیں، گیس کی پیداوار میں گھپلے کیسے ہو رہے، ماری پٹرولیم لمیٹڈ کی نوے فیصد پیدوار اور آمدنی ماری گیس فیلڈ سے آتی ہے ، ایکس اون،اسکا تجارتی نام ایس او ہے، پاکستان میں فی مکعب فٹ گیس کی پیداواری لاگت چھ لاکھ ڈالر ہے، امریکہ میں دو سے تین لاکھ ڈالر ہے، پاکستان میں گیس کی قیمتیں اس لئے زیادہ کیونکہ پیدواری لاگت دگنا ہے، یہ انتظامیہ کی نااہلی ہے،زرون گیس فیلڈ کی ماہانہ آپریٹنگ لاگت چار لاکھ ڈالر ہے، جبکہ امریکہ میں صرف 30 ہزار ڈالر لاگت ہے،ماری پٹرولیم لمیٹڈ کے اخراجات سولہ فیصد یا امریکہ سے بھی آگے ہیں، اس میں قصور حکومت یا موجودہ نظام کا ہے، نہ کمپنی میں بہتری لا سکے، نہ اپنی پرفارمننس بہتر کر سکے، ماری پٹرولیم میں ڈرلنگ کے اخراجات ایم پی ایل بین الاقوامی معیار سے بہت زیادہ ہیں دس ہزار فٹ کنویں کی لاگت 50 ملین ڈالر سے زیادہ ہے، اسے مکمل ہونے میں ایک سال لگتا ہے، امریکہ میں ایک کنویں کو 3 ملین ڈالر اور تین ہفتے لگتے، یہ فرق نہ صرف ماڑی پٹرولیم کی ناکامیوں نااہلی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ممکنہ مسائل کی نشاندہی بھی کرتا ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے یکم جنوری کو گیس کی کرپشن پر پروگرام کیا جس پر بہت سے لوگوں نے رابطہ کیا میں نے بتایا تھا کہ کیسے مہنگی گیس پیدا کی جا رہی جس کا خمیازہ پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑ رہا،حکومتی عہدیداروں کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ احتساب کریں بلکہ مجھے چپ رہنے کا کہہ دیا گیا، میں چپ نہیں رہوں گا، سوال بھی اٹھاؤں گا اور کرپشن بھی بے نقاب کروں گا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وسائل بے دریغ استعمال کئے جاتے ہیں، کون تھا جو کرپشن کے بازار گرم کر کے بیٹھا تھا ، ایک شخص جو ایگزیکٹو ڈیپارٹمنٹ میں آتا، فہیم حیدر ماری پٹرولیم کے سی ای او ہیں،یہ 2020 سے ابتک مسلسل یہاں موجود ہیں.تین سال کے لئے انکو لگایا گیا تھا، 12 اگست کو دوبارہ بورڈ آف ڈائریکٹر نے ایم ڈی مقرر کر دیا، دوبارہ تقرری پھر تین سال کے لئے کی گئی، اس شخص پر کتنا پیسہ خرچ کیا گیا، کمپنی نے حکومت کے خزانے سےپیسہ نکلوایا اور حکومت نے پھر عوام کی جیبوں سے پیسہ نکلوایا، سال 2023 میں فہیم کو جو تنخواہیں اور پیسے ملے چار لاکھ چورانوے ہزار ڈالر تنخواہوں اور دیگر کی مد میں ادا کئے گئے جو پاکستانی 13 کروڑ سے زائد ہیں، 2024 میں 27 کروڑ 67 لاکھ سے زیادہ ادا کئے گئے، یعنی ایک سال میں ہی فائدوں میں سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا، اس ادارے میں 803 لوگ ایگزیکٹو میں شمار کئے جاتے ہیں جن کو 2023 میں 8 بلین سے زائد تنخواہیں و دیگر دی گئیں، 2024 میں ایگزیکٹو نے عیاشی کی زندگی گزاری کیونکہ حکومت ن لیگ کی ہے لہذا لوگوں کو نوازا جاتا ہے،یہ کام مصدق ملک کی نگرانی کے بغیر نہیں ہو سکتا، حکومت کی غیر ضروری نوازشات سرکاری کمپنیوں کا بیڑہ غرق کر رہی ہیں جس کا اثر عام آدمی پر ہوتا ہے.فہیم حید رنے جو تجربہ بتایا وہ اسکا نہیں ہے،
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نیا سال شروع ہو چکا ہے، 2025 کا پہلا شو ہے جوپاکستان میں کرپشن کی اعلیٰ ترین مثال ہے کہ کس لیول کی کرپشن ہو رہی ہے،
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امپورٹ میں بڑا حصہ پٹرولیم کی امپورٹ کا ہے، 35 سے 40 فیصد اسکا حصہ ہے،اسی پر حکومت یا ریزور یا عام عوام کی جیب سب متاثر ہوتے ہیں، کسی نے پٹرول ،ڈیزل بھرواناہےکسی نے انرجی کے لئے استعمال کرنا ہے، پچھلے دنوں مجھے پتہ چلا کہ پاکستان میں کرپشن کو ایک جگہ بند کرنا ہو تو اسکو بڑے آرام سے او جی ڈی سی میں بند کر سکتے ہیں، اوجی ڈی سی پاکستان کا سب سے کرپٹ ادارہ ہے، اس میں لالچ ہے، کاروائی ہے جو ہمارے بیوروکریٹ نے ڈالی ہے، کیا مصدق ملک نالائق ہیں،کیا چیئرمین او جی ڈی سی کو کام نہیں آتا ،ہو کیا رہا ہے؟
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں اس پر تفصیلی پروگرام بھی کروں گا کہ پاکستان میں تیل کے نام پر کیسے فراڈ ہو رہا ہے، اوجی ڈی سی پوری طرح ڈرلنگ کرتا ہے تو میرا دعویٰ ہے کہ ایک ڈالر کا بھی پٹرولیم مصنوعات امپورٹ نہیں کرنا پڑتا، تمام ضروریات لوکلی پوری کر سکتے ہیں، خام تیل کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے، ملکی معیشت کے لئے ایک المیہ ہے ، گیس کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے،کمی 4.4 فیصد سالانہ ہے،سال 2023 میں ٹوٹل 47 کنویں کھودے گئے،15 تلاشی اور 32 ترقیاتی کنویں، او جی ڈی سی نے دس کنویں ، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے 8 کنویں، ماڑی پور پٹرولیم نے تین کنویں، بے شمار مسائل سامنے آئے، پاکستان پٹرولیم نے کنواں جو 16 ہزار فٹ ہے جس کو ڈرل کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگا، اس کا موازنہ امریکا سے کیا جائے تو امریکہ میں یہی ایک کنواں 3 ہفتوں میں اور پیسے بھی کم لگے، امریکی کنویں 10 ہزار فٹ عمومی دس ملین ڈالر کی لاگت میں کھودا جاتا ہے، 20 ملین ڈالر کی لاگت سے تین کنویں انہوں نے کھودے ، وہ کام جس کی لاگت امریکا میں سات ہزار ڈالر ہے وہ کام پاکستان میں ایک لاکھ بیس ہزار ڈالرمیں کیا جا رہاہے، کمپنی کے شراکت دار سب سے پہلے ماڑی پور پٹرولیم ہے، دوسرے نمبر پر پاکستان پٹرولیم ہے ،اسکے بعد اوجی ڈی سی، جس کے ذریعے روزانہ خالص ،خام تیل ، گیس کی پیداوار ہے، حیران کن طور پر آپریٹنگ اور ترقی اخراجات میں ناکامی ہے، کمپنیوں کو چونا لگایا جا رہا ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مہنگی گیس اور پٹرول حقیقت میں یہ کرپشن کا بازار گرم ہوتا ہے،
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدرات ملک میں گیس سپلائی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا،
وزیر اعظم نے گھریلو صارفین کو گیس سپلائی میں کمی کی شکایات پر نوٹس لے لیا اور ہدایات دیں کہ موسم سرما میں گھریلو صارفین کو گیس کی بلا تعطل فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنائی جائے.وزیر اعظم نے سسٹم کی ساخت میں اصلاحات لانے کی ہدایت تاکہ اس مسئلے کو مستقل طور پر حل کیا جاسکے. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے
اجلاس میں وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سسٹم میں سرپلس آر ایل این جی موجود ہے، جس کی وجہ سے گیس لوڈ مینجمنٹ میں پچھلے سال کی نسبت بہتری آئی ہے.پچھلے سال کی نسبت اس سال گیس لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کم ہے.گھریلو صارفین کو صبح 5 بجے سے رات 10 بجے تک گیس فراہم کی جارہی ہے.پاور سیکٹر کو بھی گیس ڈیمانڈ کے مطابق دی جا رہی ہے.صارفین کی شکایات کے حوالے سے ایس این جی پی ایل اور ایس ایس جی سی کے آن لائین ڈیش بورڈز کام کر رہے ہیں.ایس این جی پی ایل کی شکایات کو حل کرنے کی شرح 93 فیصد جبکہ ایس ایس جی سی کی شرح 79 فیصد ہے.ملک کی تمام گیس فیلڈز فعال ہیں ،اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی ۔
سندھ کے سینئر صوبائی وزیر،وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے گیس لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ گیس کی فراہمی میں خلل کے باعث نہ صرف عوامی زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ صنعتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ کراچی سمیت سندھ میں گیس لوڈشیڈنگ کا سامنا بہت زیادہ بڑھ گیا ہے اور صوبہ اس صورتحال کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ گیس کی قلت نے عوام میں بے یقینی اور مایوسی پیدا کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام اور کاروباری حلقوں کا اعتماد کم ہو رہا ہے اور صنعتی پیداوار میں کمی آ رہی ہے جس سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔انہوں نے وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ سردیوں کے مہینوں میں گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سردیوں میں گیس کی فراہمی میں مزید خلل پڑا تو اس سے نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ میں معاشی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ وفاقی حکومت فوری طور پر گیس کی قلت کے مسئلے کو حل کرے تاکہ عوام اور صنعتی شعبے کو اس بحران سے نجات مل سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی پاکستان کا تجارتی مرکز ہے اور یہاں گیس کی کمی کے اثرات پورے ملک کی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔ اگر گیس کی فراہمی بہتر نہ ہوئی تو صنعتی یونٹس کی پیداوار میں مزید کمی آ سکتی ہے جس سے روزگار کے مواقع میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ سندھ کے عوام اور کاروباری حلقے اس وقت بے چین ہیں اور وفاقی حکومت سے فوری اقدامات کی توقع رکھتے ہیں تاکہ گیس کی فراہمی میں رکاوٹوں کا خاتمہ ہو سکے اور عام آدمی کو سکون کی زندگی گزارنے کا موقع مل سکے۔
کراچی: سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے موسم سرما میں گھریلو صارفین کے لیے گیس کی فراہمی کا نیا شیڈول جاری کر دیا۔
باغی ٹی وی: جاری شیڈول کے مطابق صارفین کو دن بھر کے 3 مختلف اوقات میں گیس فراہم کی جائے گی تاکہ گیس کی مکمل دباؤ کے ساتھ فراہمی یقینی بنائی جا سکے اس اقدام کا مقصد گھریلو صارفین کو روزمرہ امور، خاص طور پر کھانا پکانے کی منصوبہ بندی کرنے میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
گیس کمپنی کے مطابق گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی صبح 6 سے 9 بجے، دوپہر 12 سے 2 بجے ، جبکہ شام 6 سے 9 بجے تک ہوگی، ایس این جی پی ایل حکام کے مطابق حکومت کی ہدایات پر گیس فراہمی کے اوقات کو تبدیل کیا گیا مذکورہ اوقات میں تمام علاقوں میں گیس مکمل دباؤ کے ساتھ فراہم کی جائے گی۔
ترجمان سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے مطابق موسم سرما میں گیس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے۔
ایران نے پاکستان کے خلاف گیس پائپ لائن میں تاخیر کے معاملے پر عالمی ثالثی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس پر پاکستان نے دفاع کے لیے قانونی فرموں اور وکیل کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔
نجی ٹی وی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومتی ذرائع کے مطابق، پاکستان نے تین قانونی فرموں اور آسٹریلیا میں مقیم ایک معروف وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ وہ پیرس میں ایرانی مقدمے کا مؤثر طور پر دفاع کر سکیں۔ ایران نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے اپنی سرزمین میں گیس پائپ لائن کا حصہ مکمل نہیں کیا اور نہ ہی وہ 750 ایم ایم سی ایف ڈی گیس وصول کر سکا ہے۔پاکستان نے بین الاقوامی قانونی فرموں میں وائٹ اینڈ کیس، تھری کراؤنز، اور وِلکی فیر گیلگر کی خدمات حاصل کی ہیں۔ یہ وکلا تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کے ماہرین میں شمار کیے جاتے ہیں۔متعلقہ حکام نے تینوں قانونی فرموں اور مرکزی وکیل کو گیس پائپ لائن منصوبے اور پاکستان کی طرف سے اس کو مکمل نہ کرنے کی وجوہات پر بریفنگ دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 18 اکتوبر 2024 کو فرانس میں واقع ثالثی عدالت کے سیکرٹریٹ میں پاکستان کی قانونی ٹیم کی تفصیلات جمع کرائی جا چکی ہیں۔
پاکستان اب قانونی مشورے کے مطابق ایک ثالث مقرر کرے گا، جبکہ ایران بھی ایک ثالث نامزد کرے گا۔ دونوں ممالک مشترکہ طور پر ایک تیسرے ثالث کو نامزد کریں گے، جس کے بعد مقدمے کی کارروائی شروع ہو جائے گی۔ توقع ہے کہ ایک سال کے اندر فیصلے کا اعلان ہو جائے گا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایران نے اگست 2024 میں پاکستان کو حتمی نوٹس جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایران کے پاس کوئی اور آپشن نہیں ہے اور وہ ستمبر 2024 میں پاکستان کے خلاف ثالثی عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہے، کیونکہ پاکستان نے آئی پی گیس منصوبے کے تحت پائپ لائن نہیں بنائی۔
ایران پاکستان گیس منصوبہ 2014 سے امریکی پابندیوں کی وجہ سے 10 سال سے تاخیر کا شکار ہے۔
اسلام آباد: ملک کا نیشنل گیس ٹرانسمیشن سسٹم ایک بار پھر خطرے کی زد میں آگیا ہے۔
باغی ٹی وی: وزارت توانائی کے سینئر سرکاری عہدیدار کے مطابق آر ایل این جی کے استعمال میں اضافے کے بعد ملک کا نیشنل گیس ٹرانسمیشن سسٹم ایک بار پھر خطرے کی زد میں آگیا ہے لائن پیک پریشر بنیادی طور پر پاور سیکٹر کی جانب سے آر ایل این جی کے استعمال میں بڑے پیمانے پر کمی کی وجہ سے دوبارہ بڑھ کر 5 ارب کیوبک فٹ (بی سی ایف) کے قریب ہو گیا ہے جو 5 اکتوبر 2024کو 577 ایم ایم سی ایف سے 7اکتوبر 2024کو تین دنوں میں 239 ایم ایم سی ایف (ملین کیوبک فٹ) تک رجسٹرڈ ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ پائپ لائن میں درآمدی گیس کے علاوہ ملک کی مقامی گیس بھی شامل ہے اور پائپ لائن میں بار بار لائن پریشر سے مین ٹرانسمیشن لائن پھٹ جانے کی صورت میں کسی بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہےپاکستان ہر ماہ 10 ایل این جی کارگو درآمد کرتا ہے لیکن پاور سیکٹر کی کھپت کبھی بھی اس کی مانگ کے مطابق نہیں رہی جو وہ ہر ماہ جمع کراتا ہے۔
پاکستان کے سمندر میں دنیا کے چوتھے بڑے گیس اور تیل کے ذخائر کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اعلیٰ سیکیورٹی حکام نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ ایک دوست ملک کے ساتھ ملکر 3 سال کے عرصے میں جیوگرافک سروے کیا گیا جس میں تیل اور گیس کے ذخائر کی نشاندہی کرلی گئی ہے
سابق رکن اوگرا محمد عارف کا کہنا تھا کہ تیل کے ذخائر کی دریافت گیم چینجر ثابت ہو گی، جبکہ گیس کے ذخائر ملنے سے معاشی لحاظ سے قسمت بدل سکتی ہے،ہ ملک ہر سال 200 ارب ڈالر تیل اور گیس پر خرچ کرتا ہے۔
جنگ نیوز کے مطابق پاکستان میں سمندر سے تیل اور گیس کا بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے، دریافت ہونے والے ذخیرے کے بارے میں کہا جا رہا ہے ہے کہ دنیا کا چوتھا بڑا تیل اور گیس کا ذخیرہ ہے جو تین سال کے سروے کے بعد سامنے آیا،ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ سمندر میں تیل اور گیس کی تلاش کیلئے جیولوجیکل سروے کیا گیا، سروے کے دوران سمندر سے لیے گئے ڈیٹا کا مطالعہ کیا جا رہا ہے،ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق گیس اور تیل کے بھاری ذخائر کی دریافت سے متعلق کہنا قبل از وقت ہے، یہ گیس اور تیل کی موجودگی سے متعلق اندازہ یا تخمینہ ہو سکتا ہے،ڈی جی پیٹرولیم کنسیشنز آفس اگلے سال پہلی سہ ماہی میں بڈنگ کرائے گا، کامیاب بولی دہند گان کو آف شور بلاکس ایوارڈ ہوں گے، ایکسپلوریشن کا عمل شروع ہونے بعد تیل و گیس کی دریافت کا معلوم ہو سکے گا۔
پاکستان میں پہلے بھی متعدد بار سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کی گئی، ماضی میں سمندر میں ہونے والی تیل اور گیس کی تلاش کیلئے سرگرمیاں بھی تخمینوں کی بنیاد پر تھیں، جب تک گیس یا تیل دریافت نہ ہو جائے ذخیرے کا حجم نہیں بتایا جا سکتا،