Baaghi TV

Tag: گیس

  • ملک میں ایل پی جی کے بحران :حکومت نے ایکشن نہ لیا تو ایل پی جی نایاب ہو جائے گی

    ملک میں ایل پی جی کے بحران :حکومت نے ایکشن نہ لیا تو ایل پی جی نایاب ہو جائے گی

    لاہور:ایل پی جی ایسوسی ایشن نے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہڑتال کی کال دے دی۔چیئرمین عرفان کھوکھرنے کہا ہے کہ اگرحکومت نے ایکشن نہیں لیا تو ایل پی جی نایاب ہو جائے گی۔

    چیئرمین ایل پی جی ایسویسی ایشن عرفان کھوکھرنےبتایا کہ ملک بھر میں ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ نے تمام ریکارڈ توڑدئیے،قیمت کنٹرول نہ کی گئی تو 10 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کریں گے۔

    عرفان کھوکھرکا کہنا تھا کہ تمام چیف سیکرٹری بے بس ہیں اورایل پی جی مافیا جیت گیا ہے، اگر حکومت نے ایکشن نہ لیا تو ایل پی جی نایاب ہو جائے گی۔

    انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں گیس کی قیمت 400 روپے کلو وصول کی جا رہی ہے۔ اوگرا نے ستمبر میں 212 روپے قیمت مقرر کی جبکہ مارکیٹ میں 300 سے360 روپے میں فروخت ہورہی ہے۔ گھریلو سیلنڈر کی قیمت 2ہزار 496 روپے مقرر ہے جبکہ مارکیٹ میں 3 ہزار500 میں فروخت جاری ہے۔

    دوسری جانب ترجمان اوگرا کا کہنا تھا کہ صوبائی ضلعی انتظامیہ کو ایل پی جی قیمتوں پر نظررکھنے کی ہدایات کردیں۔ یکم ستمبر2022 سے پروڈیوسرز کے لیے گیارہ اعشاریہ آٹھ کلو سلنڈر کی قیمت 2 ہزار13 روپے مقرر ہے۔

    عام صارف کے لیے یہ قیمت 2ہزار496 روپے مقرر کی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ منافع خوروں کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن کرے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • قیمتوں میں اضافہ: ایل پی جی ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی دھمکی دیدی

    قیمتوں میں اضافہ: ایل پی جی ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی دھمکی دیدی

    اسلام آباد:بڑھتی ہوئی قیمتوں کیخلاف ایل پی جی ایسوسی ایشن نے ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دے دی۔ چیئرمین عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ 10 ستمبر تک قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک گیر ہڑتال کریں گے۔

    ایل پی جی کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے، جس پر ایل پی جی ایسوسی ایشن نے کی ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دیتے ہوئے حکومت کو 10 ستمبر تک قیمتیں کنٹرول کرنے کا الٹی میٹم دیدیا۔

    چیئرمین ایل پی جی ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر کا کہنا ہے کہ 10 ستمبر تک قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک گیر ہڑتال کریں گے، اوگرا نے قیمت 212 روپے مقرر کی لیکن فروخت 280 روپے میں ہورہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ گھریلو سیلنڈر کی قیمت 2496 مقرر ہے جبکہ مارکیٹ میں 3300 میں فروخت ہو رہا ہے، سیلاب زدہ علاقوں میں گیس کی قیمت 270 سے 300 روپے فی کلو وصول کی جارہی ہے۔

    دوسری طرف ملک بھر میں مہنگائی کی شرح انتہائی بلند سطح 44 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی،ادارہ شماریات نے ملک میں مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 1 اعشاریہ 83 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، 23 اشیائے ضروریہ قیمتیں بڑھیں۔رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 47 روپے 42 پیسے بڑھ گئی، فی کلو ٹماٹر 110 رو پے کی اوسط قیمت سے 157 روپے تک پہنچ گئے، پیاز کی فی کلو قیمت میں 35 روپے 6 پیسے کا اضافہ ہوا، آلو کی فی کلو قیمت 3 روپے 88 پیسے بڑھ گئی، انڈوں کی قیمتوں میں فی درجن 7 روپے 25 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    ایک ہفتے کے دوران ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 51 روپے 2 پیسے مہنگا ہوا، بچوں کے خشک دودھ کا 390 ملی گرام کا پیکٹ 8 روپے 57 پیسے مہنگا ہوا۔ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق برائلر مرغی کی فی کلو قیمت میں 2 روپے 48 پیسے کا اضافہ ہوا، گندم کا 20 کلو آٹے کا تھیلا 7 روپے تک مہنگا ہوا، دال مونگ، ماش، جلانے کی لکڑی بھی مہنگی ہوئی، ایک ہفتے کے دوران صرف 7 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے دال مسور کی فی کلو قیمت میں 3 روپے 91 پیسے کی کمی ہوئی، ویجی ٹیبل گھی کی قیمتوں میں 5 روپے 52 پیسے، چینی، کیلے، ڈالڈہ کوکنگ آئل کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی جبکہ حالیہ ہفتے تازہ دودھ اور دہی سمیت 21 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

  • وزیراعظم شہبازشریف نے آج ہنگامی اجلاس طلب کرلیا، ملکی صورتحال پر اہم فیصلے متوقع

    وزیراعظم شہبازشریف نے آج ہنگامی اجلاس طلب کرلیا، ملکی صورتحال پر اہم فیصلے متوقع

    اسلام آباد :وزیراعظم شہبازشریف نے حکومتی اتحادی جماعتوں کا ہنگامی اجلاس آج (پیر کو) طلب کرلیا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم اجلاس میں ملک کی موجودہ صورتحال پرغورہوگا اور اہم فیصلے متوقع ہیں۔

    اجلاس آج شام 6 بجےوزیراعظم ہاؤس میں ہوگا جس میں تینوں مسلح افواج کی قیادت بھی شریک ہوگی۔ہنگامی اجلاس میں وزرائے اعلیٰ کو بھی مدعو کیا گیا ہے جبکہ اجلاس میں حکومت کے تمام اتحادی بھی شریک ہوں گے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ کمراٹ میں سیلاب میں پھنسے لوگوں کو با حفاظت طور پر نکال لیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ آج بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے دوران مجھے بتایا گیا کہ کمراٹ میں سیلاب میں پھنسے لوگوں بشمول طالبِعلموں کو الحمداللّہ با حفاظت طور پر نکال لیا گیا ہے۔

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مزیدکہا کہ گزشتہ روز جیسے ہی یہ میرے علم میں لایا گیاتو میں نے تمام تر وسائل استعمال کرکے ان کے ریسکیو کی ہدایت کی تھی، پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کرنے پر پاک آرمی سمیت تمام اہلکار شاباشی کے مستحق ہیں۔

  • یورپ میں توانائی بحران:سردیوں میں ٹھٹھرکر    مرجائیں گے:یورپی عوام دہائی دینے لگی

    یورپ میں توانائی بحران:سردیوں میں ٹھٹھرکر مرجائیں گے:یورپی عوام دہائی دینے لگی

    برلن :یورپ میں توانائی بحران:سردیوں میں ٹھٹھرکرمرجائیں گے:یورپی عوام دہائی دینے لگی ،اطلاعات کے مطابق یورپ کو اس وقت توانائی کے بحران کا سامنا ہے کیونکہ یوکرین میں روسی فوجی کارروائی کے دوران گیس اور بجلی کی قیمتیں بے مثال سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    یوروپی حکومتیں روز بروز بگڑتی ہوئی صورتحال پر خطرہ محسوس کرتی ہیں جس کے نتیجے میں اس موسم سرما میں بڑے پیمانے پر مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے ساتھ ساتھ کئی حصوں میں خشک سالی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے بھی براعظم میں بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی میں امریکن یونیورسٹی میں ترقیاتی سیاست کی پروفیسر نومی حسین کہتی ہیں، "حکومتیں جو بھی راستہ منتخب کریں، آنے والا موسم سرما سماجی بدامنی سے دوچار ہونے والا ہے۔”

    برطانیہ کے ایک رہائشی فلپ کیٹلی نے شکایت کی، "زندگی گزارنے کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے اور پھر بھی آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ اس رقم پر زندہ رہیں گے جب کوئی بحران نہیں تھا… میں یا تو گرم کر سکتا ہوں یا کھا سکتا ہوں۔” .

    دریں اثنا، توانائی کی قلت کے خوف نے صارفین کو لکڑی کی طرف راغب کیا ہے اور وہ سردیوں سے پہلے لکڑی کو ذخیرہ کرنے پر مجبور ہیں۔

    فرانس میں، توانائی کی قیمتوں میں 28.5 فیصد اضافے کے ساتھ، حالت اس قدر خراب ہے کہ لوگ آئندہ موسم سرما کے لیے خود کو تیار کرنے کے لیے لکڑیاں جلانے والے چمنی استعمال کرنے کے لیے لکڑیاں جمع کر رہے ہیں۔ اس سے لکڑی کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں نئی ​​کساد بازاری ریکارڈ کی جائے گی اور یہ 1750 یورو فی میگا واٹ گھنٹے تک پہنچ جائے گی۔
    جرمنی میں، بجلی کا سال آگے کا معاہدہ 995 یورو ($995) فی میگا واٹ گھنٹے تک پہنچ گیا جبکہ فرانسیسی مساوی 1,100 یورو سے آگے بڑھ گیا۔

    ملک کا دریائے رائن جو یورپ کے نقل و حمل کے نظام میں اہم کردار ادا کرتا ہے، بھی اس بحران میں حصہ ڈال رہا ہے، کیونکہ خشک سالی کی وجہ سے پانی کی سطح ریکارڈ حد تک کم ہو گئی ہے جس کی وجہ سے جہازوں کو پوری طرح سے دریا میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔

    دوسری جانب برطانیہ میں ٹرانسپورٹ، شپنگ اور پوسٹل انڈسٹریز میں گزشتہ ہفتوں کے دوران بڑے پیمانے پر ہڑتالیں دیکھنے میں آئی ہیں، کیونکہ مزدوروں نے اجرتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ وہ بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے قابل نہیں ہیں۔

    یورپ اب بھی سنگین صورتحال سے نمٹنے کے طریقے تلاش کر رہا ہے۔ یہ گیس کے استعمال کو کم کرنے کے اقدامات کو بھی نافذ کر رہا ہے اور ایک متبادل ذریعہ کے طور پر، جوہری توانائی پر بھی توجہ دینا شروع کر دی ہے۔

  • برطانیہ میں لوگوں کے لیے گیس بجلی کے بل پہنچ سے دور ہوگئے

    برطانیہ میں لوگوں کے لیے گیس بجلی کے بل پہنچ سے دور ہوگئے

    لندن :برطانیہ میں لوگوں کے لیے گیس بجلی کے بل پہنچ سے دور ہوگئے،اطلاعات کے مطابق پہلے کورونا اور اب روس یوکرین جنگ کی وجہ سے یورپ بھر میں توانائی کا ایک بحران ہے اور اس بحران میں سب سے زیادہ متاثر برطانیہ بھی ہوا ہے ،کہا جارہا ہے کہ برطانوی صارفین کے لیے توانائی کی قیمت اکتوبر سے 80 فیصد بڑھ جائے گی، برطانیہ کے ریگولیٹر نے کہا۔ اوسطاً سالانہ گھریلو بلز £3,549 (€4,204) تک بڑھ جائیں گے۔

    یوکے ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یہ اقدام برطانوی شہریوں پر قیامت بن کر گزرے گا ، اور افراط زر کو مزید ہوا دے گا اور حکومت پر عمل کرنے کے لیے دباؤ ڈالے گا۔

    Ofgem کے چیف ایگزیکٹیو جوناتھن بریرلی نے کہا کہ اس اضافے کا برطانیہ بھر کے گھرانوں پر "بڑے پیمانے پر اثر” پڑے گا، اور جنوری میں ایک اور اضافے کا امکان ہے، جو توانائی کی منڈیوں میں قیمتوں کے اہم دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو گھرانوں تک مزید مدد پہنچانے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا، "حکومتی امدادی پیکج ابھی مدد فراہم کر رہا ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ نئے وزیر اعظم کو اکتوبر اور اگلے سال آنے والے قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔”انہوں نے مزید کہا ، "ردعمل کو ہمارے سامنے موجود بحران کے پیمانے سے ملنے کی ضرورت ہوگی۔”

    وزیر خزانہ ندیم زہاوی نے کہا کہ وہ اگلی حکومت کے لیے تیار رہنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جس کا تقرر اس وقت کیا جائے گا جب 5 ستمبر کو لز ٹرس یا رشی سنک وزیر اعظم بنیں گے۔

    ریگولیٹر کا یہ اقدام گیس کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے درمیان سامنے آیا ہے، جو یوکرین میں روس کی جنگ کے آغاز کے بعد سے بڑھ گئی ہے جس نے ماسکو پر مغربی پابندیاں عائد کی ہیں۔

  • بجلی کے بعد ایل پی جی بھی عوام کی پہنچ سے دور

    بجلی کے بعد ایل پی جی بھی عوام کی پہنچ سے دور

    قصور
    مہنگائی کا نیا طوفان،بجلی کے بعد اب ایل پی جی ( لیکوئیڈ پیٹرولیم گیس) بھی مہنگی،عوام سخت پریشان

    تفصیلات کے مطابق قصور میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ گیا ہے جس کے باعث لوگ سخت پریشان ہو گئے ہیں
    کچھ بعید نہیں کہ گورنمنٹ کی نااہلی کے باعث لوگ بھوکے مرنے کیساتھ خودکشیاں کرنے پہ بھی مجبور ہو جائیں
    بار بار بجلی مہنگی کرنے کے بعد اب بہت زیادہ ضروری اور گھر کی بنیادی ضرورت ایل پی جی کو بھی مہنگا کر دیا گیا ہے
    ایل پی جی کی قیمت 230 روپیہ فی کلو سے بڑھا کر اچانک 280 روپیہ فی کلو کر دی گئی ہے جس سے لوگ چیخنے پر مجبور ہو گئے ہیں
    شہریوں نے گورنمنٹ سے رحم کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ خداراہ غربت میں ہی سہی میں جینے تو دیجئے خودکشیوں پر مجبور نا کیجئے

  • ایسےلگ رہا ہےکہ بہت جلد یورپ میں گیس کی شدید لوڈ شیڈنگ ہوگی :جوزپ بوریل

    ایسےلگ رہا ہےکہ بہت جلد یورپ میں گیس کی شدید لوڈ شیڈنگ ہوگی :جوزپ بوریل

    برسلز:ایسےلگ رہا ہےکہ بہت جلد یورپ گیس سے محروم ہوجائے گا:اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے خبردار کیا کہ سپلائی کی قلت کے درمیان آنے والے موسم سرما کے دوران یورپی یونین میں گیس ختم ہو سکتی ہے۔

    یورپی یونین کے خارجہ امور اور سلامتی کی پالیسی کے اعلیٰ نمائندے نے پیر کو یورپی یونین کی ڈپلومیٹک سروس کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک بلاگ میں لکھا ہے کہ "یورپ ایک بہترین طوفان کا سامنا کر رہا ہے: توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، اقتصادی ترقی میں کمی آ رہی ہے اور موسم سرما آ رہا ہے،”

    اس بارے میں "حقیقی غیر یقینی صورتحال” ہے کہ آیا یورپی یونین کے پاس کافی گیس ہوگی اور آیا وہ اسے برداشت کرنے کے قابل ہو گی، بوریل نے "یورپ کا انرجی بیلنسنگ ایکٹ” کے عنوان سے آنے والے موسم سرما کو "غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے اپنی پریشانی کا اظہارکیا

    بوریل نے متنبہ کیا کہ براعظم کے ممالک کو ماسکو کے ممکنہ کل کٹ آف کے لیے تیار ہونا چاہیے، اور تجویز کیا کہ یورپ نے روسی سپلائی کا متبادل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا ہے

    امریکا نے روسی صدر کی "گرل فرینڈ” سمیت دیگراہم روسی شخصیات پر نئی…

    انہوں نے لکھاہے کہ "سخت سچ یہ ہے کہ اس موسم سرما میں، ہم اس حد تک پہنچ رہے ہیں کہ ہم غیر روسی ذرائع سے کون سی اضافی گیس خرید سکتے ہیں۔ لہذا، زیادہ تر توانائی کی بچت سے آنا پڑے گا

    گزشتہ ماہ یورپی یونین نے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی جس کے تحت رکن ممالک رضاکارانہ طور پر اپنی گیس کی کھپت میں 15 فیصد کمی کریں گے، تاکہ بلاک کو موسم سرما سے قبل ایندھن جمع کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ ہنگامی صورت حال میں، رضاکارانہ کمی لازمی ہو سکتی ہے۔

    روس کےخلاف لڑائی کےلیےامریکہ کی یوکرین کو550 ملین ڈالرزکی تازہ امداد

    بوریل کے مطابق، بلاک نے مزید ایل این جی خرید کر اور ناروے، الجزائر اور آذربائیجان سے پائپ لائنوں کے ذریعے گیس حاصل کر کے، سال کے آغاز میں اپنی درآمدات میں روسی گیس کا حصہ 40 فیصد سے کم کر کے آج تقریباً 20 فیصد کر دیا ہے۔

    دوسری طرف روس نے بارہا کہا ہے کہ وہ ایک قابل بھروسہ سپلائر ہے اور اپنی معاہدہ کی ذمہ داریوں کا احترام کرتا ہے، لیکن یہ کہ بین الاقوامی پابندیاں پائپ لائن آپریٹر Gazprom کو مکمل گنجائش کے ساتھ یورپی یونین کو گیس فراہم کرنے سے روک رہی ہے

    روسی صدر نے امریکا کو بڑا دشمن قرار دے دیا

  • پٹرول 10 اور ڈیزل 17 روپے فی لٹر مہنگا ہونے کا امکان

    پٹرول 10 اور ڈیزل 17 روپے فی لٹر مہنگا ہونے کا امکان

    اسلام آباد: غریب عوام پر ایک اور بوجھ ڈالنے کی تیاری کرلی گئی، پٹرول 10 اور ڈیزل 17 روپے فی لٹر مہنگا ہونے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق یکم اگست سے پڑویم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 10 سے 17 روپے فی لٹر تک اضافے کی سمری بھجوا دی گئی ہے۔

    پٹرولیم ڈیلرز کا مارجن بھی بڑھنے کے بعد قیمتوں میں ردوبدل ہونے کا امکان ہے، پٹرول کی قیمت میں 10 روپے اور ڈیزل کی قیمتوں میں 17روپے تک اضافہ ہوسکتا ہے۔اس حوالے سے ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ وزارت خزانہ وزیر اعظم کی منظوری کے بعد نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔

    مذاکرات کامیاب،پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی کال واپس لے لی

    عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر آسمان سے باتیں کرنے لگیں، امریکی خام تیل کی قیمت میں ایک ہی دن پانچ فیصدسے زائد اضافہ ہوا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں امریکی خام تیل کی قیمت پانچ اعشاریہ ایک فیصد اضافے کے ساتھ ایک سو ایک ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

    پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا 18 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

    برطانوی خام تیل کی قیمت میں تین اعشاریہ ایک فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل ایک سو دس اعشاریہ تینتالیس ڈالر فی بیرل میں فروخت ہورہا ہے۔

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کوپٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کی سفارش کردی

  • پولینڈ کے تیل اور گیس کے شعبوں میں مہارت سے مستفید ہونا چاہتے ہیں،مصدق ملک

    پولینڈ کے تیل اور گیس کے شعبوں میں مہارت سے مستفید ہونا چاہتے ہیں،مصدق ملک

    پاکستان میں پولینڈ کے سفیر میسیج پیسارسکی نے پولش آئل اینڈ گیس کمپنی (پی او جی سی) کے وفد کے ہمراہ وزیر مملکت برائے پٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک سے منگل کو ملاقات کی اور تیل و گیس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔

    پولش وفد کی سربراہی رابرٹ پرکووسکی، نائب صدر و چیف آپریٹنگ آفیسر اور مینجمنٹ بورڈ کے نائب صدر مسٹر آرتھر کر رہے تھے۔وزیر مملکت نے تیل اور گیس کے شعبے میں پولینڈ کی تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھانے میں پاکستان کی دلچسپی کا اظہارکیا۔

    پولینڈ کا شمار یورپ میں سب سے پہلے پیٹرولیم ذخائر کی دریافت کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ پولش سفیر نے تیل اور گیس کے شعبہ میں شراکت کو پاک پولش تعلقات کا اہم ستون قرار دیا اور پاکستان میں تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری اور ترقی میں پولینڈ کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔

    وفد نے وزیر مملکت کے تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پی جی این آئی جی گروپ کی انتظامیہ حکومت پاکستان اور حکام کی جانب سے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ انہوں نےکہا کہ پی جی این آئی جی پرامید ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول میں بہتری آئے گی اور وہ پاکستان کی انرجی سیکیورٹی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے پرعزم ہے۔

    پی جی این آئی جی جسے پولش آئل اینڈ گیس کمپنی (پی او جی سی) بھی کہا جاتا ہے پاکستان میں 1997 سے پی جی این آئی جی گروپ پولینڈکے برانچ آفس کے طور پر کام کر رہا ہے۔ پاکستان کے پہلے ٹائٹ گیس کے ذخائر کی دریافتوں کا سہرا بھی اسی کمپنی کے سر ہے۔

  • امریکہ نےگرین ہاوس گیسوں کےاخراج کےاثرات سےدنیا2ٹریلین ڈالرزکانقصان پہنچایا

    امریکہ نےگرین ہاوس گیسوں کےاخراج کےاثرات سےدنیا2ٹریلین ڈالرزکانقصان پہنچایا

    لاہور:امریکہ نےگرین ہاوس گیسوں کےاخراج کےاثرات سےدوسری دنیا کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ، اس حوالے سے تازہ رپورٹ مین نکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ نے اپنے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے اثرات سے دوسرے ممالک تقریبا 2 ٹریلین امریکی ڈالرز کے لگ بھگ نقصان پہنچایا، ایک نئے تجزیے کے مطابق جس نے موسمیاتی بحران کو روکنے میں اقوام کی ذمہ داری کی پہلی عالمی رپورٹ پیش کی ہے ،

    سیارے کو گرم کرنے والی گیسوں کی بڑی مقدار جو کہ سب سے بڑا تاریخی اخراج کرنے والا امریکہ ہے، نے گرمی کی لہروں، فصلوں کی کم پیداوار اور دیگر نتائج کے ذریعے دوسرے، زیادہ تر غریب ممالک کو اس قدر نقصان پہنچایا ہے کہ دنیا ہل کر رہ گئی ہے

    ین نے رپورٹ کیا.

    یہ امریکہ کو چین سے آگے رکھتا ہے، جو اس وقت دنیا کا سب سے بڑا اخراج کرنے والا ملک ہے، روس، ہندوستان اور برازیل بھی شامل ہیں ، تاہم ان پانچ سرکردہ ملکوں نے 1990 سے اب تک دنیا بھر میں مجموعی طور پر 6ٹریلین سے زائد یا سالانہ عالمی GDP کا تقریباً 11%، ماحولیاتی خرابی کو ہوا دے کر نقصان پہنچایا ہے۔

    "یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے،” ڈارٹ ماؤتھ کالج کے ایک محقق اور مجموعی معاشی نقصان کے مطالعہ کے سرکردہ مصنف کرس کالہان ​​نے کہا، "یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ امریکہ اور چین اس فہرست میں سب سے اوپر ہیں لیکن نمبر واقعی بہت حساس ہیں

    ہم یہ ظاہر کر سکتے ہیں کہ کسی ملک کے اخراج کو مخصوص نقصان کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔”ڈارٹ ماؤتھ کے محققین نے متعدد مختلف ماڈلز کو یکجا کیا، جن میں اخراج، مقامی آب و ہوا کے حالات اور اقتصادی تبدیلیوں جیسے عوامل کو دکھایا گیا، تاکہ موسمیاتی بحران میں کسی فرد ملک کی شراکت کے صحیح اثرات کا پتہ لگایا جا سکے

    کولمبیا لا سکول میں سبین سنٹر برائے موسمیاتی تبدیلی کے قانون کے ڈائریکٹر مائیکل جیرارڈ نے کہا، "ایک ملک کی طرف سے آب و ہوا کو پہنچنے والے نقصانات کے لیے دوسرے ملک کے دعووں میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی سائنسی بنیاد نہیں ہے، یہ ان کی قانونی بنیاد ہے۔” زیادہ تر قسم کے مقدمات کے خلاف خود مختار استثنیٰ جب تک کہ وہ اسے معاف نہ کر دیں۔”

    اس تعطل کا مطلب ہے کہ کسی قسم کی بات چیت کا معاہدہ سب سے زیادہ ممکنہ طریقہ ہے کہ آب و ہوا کے اثرات کی عدم مساوات کو کم کیا جائے۔

    یاد رہے کہ برطانوی اخبار "گارجیئن” نے پچھل سال بھی اپنی 10جنوری کی رپورٹ میں بتایا کہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 2021 میں تیزی سے اضافہ ہوا، جو کہ 2020 کے مقابلے میں 6.2 فیصد زیادہ ہے۔ وبا کے بعد جیسے ہی زندگی معمول پر آئے گی، یہ اخراج معیشت سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھے گا۔

    روڈیم گروپ نامی ایک امریکی تحقیقی فرم کی رپورٹ کے مطابق گیسز کا اخراج متعدد وجوہات کی بناپر بڑھ رہا ہے، بشمول کووڈ-۱۹ کی وبا کاپھیلاو جس کی وجہ سے لوگوں کے معمولات اور رویوں میں تبدیلی آئی ہے۔ وبا کے پہلے سال میں بہت سے لوگ جو گھروں میں رہے، انہوں نے بڑی مقدار میں فوسل فیولز کا استعمال کیا ۔اس کے علاوہ ایک ہی وقت میں، اشیائے صرف کی زیادہ مانگ نے نقل و حمل میں بھی اضافہ کیا ہے۔

    گلوبل وارمنگ نے موسموں کی شدت کو بے حد بڑھا دیا ہے اور یہ صورتِ حال بار بار وقوع پذیر ہو رہی ہے ۔ 10 جنوری کو امریکہ کی قومی بحری و ماحولیاتی انتظامیہ کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، 2021 شدید موسمی صورتِ حال اور موسمیاتی آفات کے لیے بدترین سالوں میں سے ایک تھا، جس میں 20 مختلف قدرتی آفات میں 688 افراد ہلاک اور مجموعی طور پر 145 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔