Baaghi TV

Tag: ہاؤس آف لارڈز

  • برطانوی پارلیمنٹ میں شہباز شریف کی امن کوششوں کو خراج تحسین

    برطانوی پارلیمنٹ میں شہباز شریف کی امن کوششوں کو خراج تحسین

    برطانوی پارلیمنٹ میں پاکستان کی سفارتی کامیابی کا اعتراف کیا گیا ہے جبکہ ہاؤس آف لارڈز کے ارکان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے قیام کی کوششوں میں پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا ہے-۔

    پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جہاں ارکان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور امن عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کے کردار کو سراہا ارکانِ پارلیمنٹ نے کہا کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔

    لارڈ احمد آف ومبلڈن نے پاکستان کا کردار سراہتے ہوئے اردو میں "پاکستان کا بہت بہت شکریہ” ادا کیا برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا لارڈ احمد نے پاکستان اور قطر کی قیادت کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی مسلسل حمایت اور سفارتی کوششوں نے خطے میں امن و استحکام کے قیام میں اہم کردار ادا کیا،جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی سفارتکاری کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا برطانوی حکومت کا کہناتھا کہ امریکا اور ایران کو موجودہ مقام تک پہنچانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا۔

    لارڈ باربر آف چٹل ہیمپٹن نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کو ان کی امن کوششوں پر باضابطہ مبارکباد پیش کرےان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی خدمات قابلِ ستائش ہیں اور انہیں اس کا مناسب اعتراف ملنا چاہیے۔

    اس موقع پر بیرونس چیپمین نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو اس مقام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا جہاں جنگ بندی اور امن معاہد ے کی جانب پیشرفت ممکن ہوئی،انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی سفارتی کوششوں کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تعریف اور تحسین کے مستحق ہیں پاکستان کی سفارتی سرگر میوں نے امریکا اور ایران کے درمیان مکالمے اور اعتماد سازی کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا، جبکہ یہ امن معاہدہ مستقبل میں دونوں ممالک کو مزید قریب لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    برطانوی پارلیمنٹ میں ہونے والی اس بحث کے دوران مجموعی طور پر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت اور امریکا و ایران کے درمیان مذاکرات اور جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو عالمی امن کے لیے ایک مثبت اور اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔