Baaghi TV

Tag: ہائیکورٹ

  • 9 مئی کے جوڈیشل کمیشن قیام کی یادہانی،کے پی حکومت کا ہائیکورٹ کو  دوبارہ خط

    9 مئی کے جوڈیشل کمیشن قیام کی یادہانی،کے پی حکومت کا ہائیکورٹ کو دوبارہ خط

    پشاور: کے پی حکومت نے ہائیکورٹ کو 9 مئی کے جوڈیشل کمیشن قیام کی یادہانی کے لئے دوبارہ خط ارسال کردیا۔

    باغی ٹی وی: اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اتمانخیل نے بتایا کہ پشاور ہائیکورٹ کو 9 مئی جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے یادہانی لیٹر بھیج دیا ہے، 27 جون 2024ء کو صوبائی کابینہ نے 9 مئی واقعات کی انکوائری کے لئے جوڈیشل کمیشن قیام کی منظوری دی۔

    انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن قیام کے لئے ہم نے ہائیکورٹ کو دو خطوط بھیجے، کئی ماہ ہوگئے ابھی تک ہائیکورٹ کی جانب سے ہمیں جوڈیشل کمیشن قیام کے حوالے سے کوئی رسپانس نہیں ملا، پہلے خط پر ہائیکورٹ نے کہا کہ یہ مجاز اتھارٹی کی جانب سے نہیں آیا۔

    خیبرپختونخوا میں2 الگ کارروائیوں میں 9 خوارج دہشتگرد ہلاک،2 جوان شہید

    ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دوسرا لیٹر بھیجا، ابھی تک اس پر بھی ہائیکورٹ کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا، ہمیں ہائیکورٹ کے جواب کا انتظار ہے، ہم چاہتے ہیں کہ 9 مئی کے حوالے سے تمام حقائق عوام کے سامنے آجائے، ہائیکورٹ ہمیں کوئی جواب دیں تو اس کے بعد صوبائی حکومت آئندہ کا لائحہ عمل بنائے گی۔

    پاکستان نے قرض پروگرام کی شرائط پر سختی سے عملدرآمد کیا ،آئی ایم ایف

  • ہائیکورٹ کے ججز کی تنخواہوں اور ہاؤس رینٹ الاؤنس میں اضافہ

    ہائیکورٹ کے ججز کی تنخواہوں اور ہاؤس رینٹ الاؤنس میں اضافہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ہائیکورٹ کے ججز کی تنخواہوں اور ہاؤس رینٹ الاؤنس میں اضافہ کردیا-

    باغی ٹی وی : قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی کے دستخط شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی کورٹ کے ججوں کے ہاؤس رینٹ 65 ہزار سے بڑھا کر 3 لاکھ 50 ہزار روپے کر دیا گیا ہے ججوں کا اعلیٰ عدالتی الاؤنس بھی 3 لاکھ 42 ہزار 4 سو 31 روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ 90 ہزار روپے کردیا گیا۔

    تاہم نوٹیفکیشن میں ہائی کورٹس سے کہا کہ وہ گاڑیوں کے حوالے سے ایک پالیسی بنائیں جس میں ایندھن، دیکھ بھال، ڈرائیور اور بین بینچ سفر شامل ہیں، اعلیٰ عدالتی الاؤنس میں حالیہ اضافے سے ہائی کورٹ کے جج کی تنخواہ 20 لاکھ روپے سے تجاوز کر جائے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت قانون سے کہا تھا کہ وہ ججوں کے مکان کے کرایے کو 65,000 روپے سے بڑھا کر اسلام آباد میں گزشتہ برسوں کے دوران مکانات کے کرایوں میں اضافے کو دیکھتے ہوئے نظر ثانی کرے۔

    ایف بی آر کا بڑے خوردہ فروشوں کے خلاف کارروائیوں کا فیصلہ

    بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع

    دی سمارٹ سکول چونیاں کیمپس کی طالبہ کی انگلش تقریر میں پہلی پوزیشن

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،صحافیوں کو کوریج سے روکنے پر پی سی بی سے جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ،صحافیوں کو کوریج سے روکنے پر پی سی بی سے جواب طلب

    اسلام آباد ہائیکورٹ،پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے صحافیوں کو کوریج سے روکنے کے کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان کرکٹ بورڈ سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر یدے,عدالت نےاسپورٹس جرنلسٹس کو ایکریڈیشن کارڈ جاری نہ کرنے پر پی سی بی سے جواب طلب کر لیا،جسٹس بابر ستار نے سیکرٹری پاکستان کرکٹ بورڈ کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، دوران سماعت جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوریج کرنا صحافیوں کا بنیادی حق ہے,رپورٹنگ کرنا اور تجزیہ کرنا آئین کے تحت بنیادی حق ہے،

    سماعت کے بعد وکیل نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ صحافیوں کو کوریج سے روکنے کا معاملہ عدالت میں اٹھایا گیا، کوریج سے صحافیوں کو نہیں روکا جا سکتا یہ اس کا بنیادی حق ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کل سیکرٹری بورڈ کو طلب کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بنیادی حق ہے ،میڈیا کی آزادی ایک جمہوری ملک میں بنیادی آزادیوں میں سے ہے،

    کرکٹ ٹیم کی پرفارمنس پر تنقید صحافیوں کو بھی مہنگی پڑ گئی،صحافی عدالت جا پہنچے
    واضح رہے کہ پی سی بی کی جانب سے صحافیوں کو میچز کی کوریج سے روکنے کے معاملے پر اسپورٹس جرنلسٹس نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے،صحافیوں نے پی سی بی کے خلاف درخواست عبدالواحد قریشی ایڈوکیٹ کے ذریعے دائر کی ہے، درخواست میں وفاق،پیٹرن انچیف وزیر اعظم ،سیکرٹری کابینہ کو فریق بنایا گیا ہے، پی سی بی کے چئیرمین محسن نقوی کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہم متعدد نیشنل اور انٹرنیشنل کرکٹ مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں،کئی ورلڈکپ ، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اور چیمپئنز ٹرافیز کو بھی کور کیا ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ نے کوریج کے آئینی حق سے محروم کر دیا ہے، پی سی بی کی جانب سے صحافیوں کو کوریج سے روکنا آئین کی خلاف ورزی ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ پر ٹیم پرفارمنس کے بعد ہونے والی تنقید گراں گزری ،صحافیوں کو کوریج سے روکنا آزادی صحافت کے خلاف ہے ،درخواست گزار صحافی بطور رپورٹرز اور اینکر صحافتی خدمات سرانجام دے رہے ہیں، درخواست گزاروں کو پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش پہلے ٹیسٹ میچ کی کوریج سے روکا گیا جبکہ آرٹیکل 19 اور 19اے ، آزاری اظہار رائے کا حق دیتا ہے،پی سی بی صحافیوں کو صحافتی ذمہ داری ادا کرنے سے نہیں روک سکتا ، صرف تنقید کی بنیاد پر صحافیوں پر کرکٹ کی کوریج پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں صحافیوں کی جانب سے دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ درخواست گزاروں کو ایکریڈیشن کارڈز جاری کر ہدایت کی جائے ، صحافیوں کو ایکریڈیشن کارڈ جاری نہ کرنے کا عمل غیر قانونی قرار دیا جائے، اسلام آبادہائیکورٹ میں درخواست سنئیر صحافی ایاز اکبر، محسن علی ، حسنین لیاقت، نوید گلزار اور احمر نجیب کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    پشاور اسٹیڈیم کے انتظامات کیلئے کے پی حکومت سے بات چل رہی ہے،محسن نقوی

    پیرس اولمپکس،مختصر لباس پہن کر کھلاڑیوں کو توجہ بھٹکانے والی خوبصورت خاتون کو بڑا جھٹکا

    پاکستانی ایتھلیٹ کے ساتھ ناروا سلوک،ثمر خان کسٹم حکام پر پھٹ پڑیں

    وقار یونس کی تقرری کے خلاف دائر درخواست پر ملتوی

    محسن نقوی کیخلاف مہم چلانیوالے کرکٹر کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ

    پاکستان میں ہونے والی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا بجٹ تیار

    چیمپئنز ٹرافی کھیلنے کے لیے بھارتی ٹیم کا پاکستان آنے سے انکار

  • ہمارا معاشرہ ایسا ، پیار کی بجائے غصہ کی بات زیادہ سمجھتے ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    ہمارا معاشرہ ایسا ، پیار کی بجائے غصہ کی بات زیادہ سمجھتے ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا ہے کہ کسی وکیل کی سرزنش کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں بلکہ سکھانا ہوتا ہے کیونکہ یہ پروفیشنل ازم اور اصولوں کا معاملہ ہوتا ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ ہم فیصلہ لکھتے ہوئے نہیں سوچتے کہ روسٹرم پر کن جملوں کا تبادلہ ہوا، غصے میں دیا گیا فیصلہ صحیح فیصلہ نہیں ہوتا، میرا اسٹاف گواہی دے گا کہ میں نے اپنے کیریئر میں کبھی غصے میں فیصلہ نہیں دیا، ہم نے خیال کرنا ہے کیونکہ لوگ انصاف کے لیے ہماری طرف دیکھتے ہیں ،میں غصہ کرتا ہوں،یہ ذاتی نہیں، پروفیشنل ہوتا ہے،ہمارا معاشرہ ایسا ہے پیار کے بجائے غصہ کی بات زیادہ سمجھتے ہیں،

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ نوجوان وکلاء کی رہنمائی کے لیے بار کونسلز کو کردار ادا کرنا ہوگا، نوجوان وکلاء کو کیس کی تیاری کےعلاوہ اچھے آداب کےساتھ عدالت میں پیش ہوناچاہیے، ہمارے وقت وکلا نے کیس کی فائل نہیں پڑھی ہوتی تھی تو عدالت سے ڈانٹ پڑتی تھی، نوجوان وکلاء سے درخواست ہے کہ مقدمات کی فائلیں پڑھ کر آئیں،ہ اچھی بار ہی اچھا بینچ بناتی ہے، ہم سب نے اپنا کردار ادا کر کے چلے جانا ہے اور نوجوانوں نے ان سیٹوں پر بیٹھنا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے انکشاف کیا کہ میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے چیمبر کا حصہ رہا ہوں، میاں ثاقب نثار اور اُن کے والد میاں نثار دونوں وہ چیمبر چلاتے تھے۔

    تحریک انصا ف،یہودی صیہونی لابی کا گٹھ جوڑ،ثبوت سامنے آ گئے

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

  • گندم کی خریداری کیلیے مختص باقی ماندہ رقم فلاحی کاموں میں خرچ کریں گے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    گندم کی خریداری کیلیے مختص باقی ماندہ رقم فلاحی کاموں میں خرچ کریں گے،وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی عدالت کے طلب کرنے پر بلوچستان ہائی کورٹ میں پیش ہو گئے ہیں

    بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد ہاشم کاکڑ اور جسٹس شوکت رخشانی پر مشتمل بینچ نے گندم خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی، دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا،محکمہ خوراک کی جانب سے ملازمین کے اخراجات سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی،

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ” ایک لاکھ 50 ہزار بوری کسانوں کو دے چکے ہیں، باردانہ کی خریداری پر 4 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ ہوچکے ہیں، حکومت کو 1 لاکھ 50 ہزار بوری گندم کی خریداری کی اجازت دی جائے، گندم کی خریداری کے لیے مختص باقی ماندہ رقم فلاحی کاموں میں خرچ کریں گے”۔بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو بار دانہ دے چکے اسے چھوڑ دیں زیادہ نقصان نہیں ہے، اس مد میں مختص باقی رقم بچا لیں، محکمہٗ خوراک کی جانب سے خریدی گئی گندم افغانستان اسمگل ہو جاتی ہے یا گوداموں میں سڑ جاتی ہے، محکمہ خوراک والے اتنے ظالم ہیں کہ ایک بوری وزیرِ اعلیٰ کو بھی نہیں دیتے،وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عدالت میں کہا کہ” جعفر آباد اور نصیر آباد میں گندم کی باقی ماندہ رقم سے فلاحی کام کریں گے، رقم سے نصیر آباد اور جعفر آبادمیں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر ٹیکنیکل کالج قائم کیا جائے گا، نصیر آباد اور جعفرآباد میں پینے کے صاف پانی کے منصوبے شروع کیے جائیں گے”۔

    بلوچستان ہائیکورٹ چیف جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی تجاویز قابل تعریف ہیں، سرکاری گاڑی کی الاٹمنٹ گریڈ پر کی جائے، ٹرانسفر پوسٹنگ تک وہی گاڑی افسران کے ساتھ رہے، مشاہدے میں آیا ہے سرکاری گاڑیوں کا غیر ضروری استعمال کیا جا رہا ہے، گندم کی نقل و حمل پر دفعہ 144 ختم کی جائے، نصیر آباد ڈویژن میں سالانہ 1 کروڑ 20 لاکھ گندم کی پیداوار ہوتی ہے، حکومت دفعہ 144 نافذ کر کے صرف 5 لاکھ بوری گندم کی خریداری کرتی ہے، 95 لاکھ بوری لوگوں کے گھروں میں پڑی خراب ہو جاتی ہے، چیف سیکریٹری بلوچستان سے متعلق بہت سی شکایات ہیں، چیف سیکریٹری کی جو کارکردگی خیبر پختونخوا میں تھی وہ یہاں نہیں رہی، وزیرِ اعلیٰ کی تجاویز اچھی ہیں لیکن فیصلے میں عدالت بھی تجاویز دے گی.

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

  • الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس اور الیکشن کمیشن کی کارروائی کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس اور الیکشن کمیشن کی کارروائی کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس اور الیکشن کمیشن کی کارروائی کےخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر کرلی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعتراض کے باوجود درخواستوں کو کل سماعت کیلئے مقرر کیا، جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کل تینوں درخواستوں پر سماعت کریں گے،رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نےاعتراضات کےساتھ درخواست کو کل سماعت کےلیےمقررکردیا، مذکورہ درخواستیں پی ٹی آئی کے رہنما اور امیدوارشعیب شاہین،علی بخاری،عامرمغل نے دائر کیں جس میں الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    اُدھر الیکشن کمیشن نے الیکشن ٹریبونل کے خلاف کارروائی غیر قانونی قرار دینے کی استدعا کررکھی ہےدرخواست میں کہا گیا ہے کہ جب تک کیس زیرالتواہے اُس وقت تک الیکشن ایکٹ آرڈیننس پرحکم امتناع دیا جائے اور الیکشن کمیشن کو کارروائی سے روکا جائے۔

  • نیب ترامیم کیس: عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری

    نیب ترامیم کیس: عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے نیب ترامیم انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت 30 مئی کی عدالتی کارروائی کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔

    تحریری حکم نامے میں قرا ر دیا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کی درخواست دی گئی، درخواست میں ایک جواز یہ پیش کیا گیاکہ دیگر کیسز کے مقابلے میں اس کیس کی عدالتی کارروائی براہ راست نشر نہ کرنا امتیازی سلوک ہے۔

    تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ کے پی حکومت کا جواز حقائق سے منافی ہے کیونکہ بہت کم مقدمات کی کارروائی براہ راست دکھائی گئی، کچھ مقدمات کی براہ راست نشریات دکھائی گئی لیکن بعد میں انصاف کی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے نشریات روک دی گئی، خیبرپختونخوا حکومت کی درخواست میں کوئی قانونی نقطہ بیان نہیں کیا گیا ہے، یہ نہیں بتایا گیا خیبر پختونخوا حکومت کے بنیادی حقوق سے کیسے انحراف کیا جا رہا ہے؟ لہٰذا براہِ راست نشریات دکھانے کی خیبرپختونخوا حکومت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

    غیر مناسب رویے پر توہین عدالت کی سزا ،وفاقی سیکرٹری غیر مشروط …

    حکم میں مزید کہا گیا کہ 18 ستمبر 2023 کی فل کورٹ میٹنگ میں عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کے لیے پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا گیا، عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کے لیے میکانزم طے کرنے کے لیے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی، ججز کمیٹی نے 16 اکتوبر 2023 کی رپورٹ میں براہ راست اسٹریمنگ کے لیے قواعد بنانے کی تجویز دی، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل کمیٹی تا حال لائیو اسٹریمنگ دکھانے کے قواعد طے نہ کر سکی، اب تک 40 مقدمات کی سماعت عدالتی کارروائی کو براہ راست دکھایا گیا۔

    تحریری حکم کے مطابق لائیو عدالتی کارروائی کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا، بانی پی ٹی آئی نیب ترمیم کے خلاف دائر کی گئی درخواست میں کبھی عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے، نیب ترامیم کیس میں بانی پی ٹی آئی نے خواجہ حارث کی خدمات بطور وکیل حاصل کیں، بانی پی ٹی آئی نے اپنی درخواست میں کے پی کے حکومت کو فریق نہیں بنایا۔

    الیکشن ٹربیونل میں ریٹائرڈ ججوں کی تقرری کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ 15 ستمبر 2023 کے نیب ترامیم فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر ہوئیں، انٹرا کورٹ اپیلوں پر بانی پی ٹی آئی کو جیل میں نوٹس بھیجا گیا، بانی پی ٹی آئی کی نمائندگی کی درخواست پر انہیں ویڈیو لنک کی سہولت کی اجازت دی گئی، بانی پی ٹی آئی نے وکلا سے ملاقات کی اجازت مانگی جو عدالت کی جانب سے دے دی گئی، اگرچہ بانی پی ٹی آئی کی نمائندگی اب وکلا کریں گے لیکن اس کے باوجود بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کی سہولت موجود رہے گی، عوام نے نیب ترامیم کے کیس کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی، جب ایک سیاسی جماعت کا سربراہ کہے اس کو سنا جائے تو اس بات کو امکان ہوتا ہے، عدالتی کارروائی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے، ان وجوہات پر عدالت لائیو اسٹریمنگ کی درخواست کو مسترد کرتی ہے۔

    01 جون تاریخ کے آئینے میں

    تحریری حکم میں قرار دیا گیا کہ اس مقدمے میں لائیو اسٹریمنگ کی درخواست ناقابل سماعت اور میرٹ پر نہیں ہے، نیب ترامیم مرکزی کیس کی 53 سماعتیں ہوئی، 53سماعتوں میں بانی پی ٹی آئی ایک مرتبہ بھی سپریم کورٹ پیش نہیں ہوئے، 53 عدالتی سماعتوں میں بانی پی ٹی آئی نے عدالتی کارروائی کی براہ راست نشریات کی درخواست کی نہیں کی، نہ ہی کے پی حکومت نے کبھی عدالتی کارروائی براہ راست دکھانے کی درخواست کی، کے پی حکومت اس کیس میں فریق ہی نہیں ہے۔

    ایک کروڑ روپے تاوان کیلئے تاجراغوا،دو پولیس اہلکار اور ایک ریلوے ملازم گرفتار

    تحریری حکم کے مطابق سیاسی جماعت کا وہ سربراہ جو وکیل بھی نہ ہو اگر وہ کہے اسے سنا جائے تو اس سے یہ قوی امکان پیدا ہوتا ہے کہ عدالتی کارروائی سیاسی مقاصد اور پوائنٹ اسکورنگ کیلئے استعمال ہو سکتی ہے، ہمارے خدشات اس وقت درست ثابت ہوئے جب بانی پی ٹی آئی نے 30 مئی کو عام انتخابات کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کی تشکیل اور دیگر ایسے مقدمات کا ذکر کیا جو اس وقت ہمارے سامنے سماعت کیلئے مقرر ہی نہیں تھے، وہ فریق جو ہمارے سامنے ہی نہیں ان کے بنیادی حقوق متاثر ہونے کا امکان ہے۔

  • ایسا لگتا ہے  عدالت مخصوص ذہن کیساتھ کارروائی چلا رہی ہے،رضوان عباسی کا جج سے مکالمہ

    ایسا لگتا ہے عدالت مخصوص ذہن کیساتھ کارروائی چلا رہی ہے،رضوان عباسی کا جج سے مکالمہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ،شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار خان کے خلافِ قانون گرفتاری پر ڈپٹی کمشنر اور پولیس افسران کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کی،ڈپٹی کمشنر راولپنڈی اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالتی حکم پر عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس بابر ستار نےڈپٹی کمشنر راولپنڈی سے استفسار کیا کہ میرے حکم پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے کہا کہ ریکارڈ کیپر چھٹی پر تھا اس لئے تاخیر ہو گئی، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ تو آپ خود ریکارڈ دے آتے، ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا، یہ کیسے ہو سکتا ہے ہائیکورٹ آرڈر کرے اور اس پر عملدرآمد نہ ہو، جاسلام آباد والے بھگت رہے ہیں کیا آپ بھی بھگتنا چاہتے ہیں؟یقینی بنائیں کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد ہو اسی لیے ہائیکورٹس یہاں بیٹھی ہیں،

    ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی آپریشنز کے وکلاء نے جسٹس بابر ستار پر اعتراض اٹھا دیا ،وکیل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پراسیکیوٹر نے عدالت میں جو ریکارڈ پیش کیا اس کی کاپی ہمارے پاس نہیں،وکیل ایس ایس پی نے کہا کہ میری جانب سے بھی اعتراض ہے عدالت کے سامنے رکھنا ہے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ اس عدالت کی کارروائی میں یہ تکنیکی چیزیں نہیں ہونگی، وکیل شاہ خاور نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ کیس دوسری عدالت کو منتقل کر دیا جائے،پراسکیوٹر کی جانب سے جو دستاویزات پیش کی گئی وہ ہمیں فراہم نہیں کی گئیں ،یہ دستاویزات ہمیں پہلے سے فراہم کی جانی چاہئیے تھیں،تاکہ اعتراضات اٹھا سکتے، وکیل ایس پی سٹی نے کہا کہ دنیا میں کہیں نہیں ہوتا کہ پراسکیوٹر خود گواہ کا ریکارڈ پیش کرے،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ کریمنل ٹرائل نہیں ہے ،اس میں کوئی پرائیویٹ ڈاکیومنٹ نہیں ہے ،سارا سرکاری ریکارڈ ہے،کوئی تکنیکی معاملات میں نہیں جائیں گے ،ہم آپ کے اعتراضات سنیں گے،وکیل شاہ خاور نے کہا کہ ہم اس حوالے سے باقاعدہ درخواست نہیں دینا چاہتے لیکن یہ ہماری استدعا ہے ،

    ایس ایس پی جمیل ظفر کے وکیل ایڈووکیٹ شاہ خاور نے کیس دوسری عدالت کو ٹرانسفر کرنے کی استدعا کردی، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ ایک سادہ سا کیس ہے ،رول آف لا کا معاملہ ہے،اس کیس کو کسی اور جج کو ٹرانسفر نہیں کررہے ، آپ دلائل دیں، اگر ان کے ایم پی او آرڈرز ٹھیک تھے تو فیصلہ آجائے گا، انہوں نے کئی دن تک اس ملک کے شہریوں کو جیل میں رکھا ہے،عدالتی آرڈرز موجود ہیں ان کا کوئی ایم پی او آرڈر برقرار نہیں رہا ،ایڈوکیٹ شاہ خاور نے کہا کہ مشکل حالات میں ڈیوٹی کررہے ہوتے ہیں ،ان پر بھی کئی قسم کے دباؤ ہوتے ہیں جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ہم اب یہ کہیں کہ پولیس آفیسر اور دیگر کسی گریٹ گیم میں مہرے بن جائیں ؟ رضوان عباسی ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ عدالت ایک مخصوص ذہن کیساتھ کارروائی چلا رہی ہے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ نے اعتراضات اٹھائے تو ہم نے نوٹ کرادیئے ، شہادتیں ریکارڈ کرلیتے ہیں ،پھر تمام کاپیاں آپ کو بھی فراہم کردیں گے،شہادتیں مکمل ہونے کے بعد سماعت انتخابات کے بعد کرلیں گے ،عدالت نے مکمل ریکارڈ کی فراہمی کے لیے کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی

    پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    بھارتی طیارے کی کراچی ایئر پورٹ پر ہنگامی لینڈ نگ ہوئی ہے

    لاہور ائیرپورٹ پر دھند کے باعث فضائی آپریشن متاثر ہوا ہے

    پرواز میں تاخیر، مسافر نے پائلٹ کو تھپڑ مار دیا

  • پی ٹی آئی کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم،وزارت قانون کا ردعمل سامنے آگیا

    پی ٹی آئی کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم،وزارت قانون کا ردعمل سامنے آگیا

    اسلام آباد: وزارت قانون و انصاف کی جانب سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف سوشل میڈیا پر ٹرولنگ پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے-

    باغی ٹی وی: سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پروزارتِ قانون کے آفیشل اکاؤنٹ سے چیف جسٹس کیخلاف پوسٹس پر ٹویٹ جاری کی گئی ٹویٹ میں کہا گیا کہ سیاسی جماعتیں ملکی اداروں پر حملے سے باز رہیں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ پر سیاسی جماعت کا سوشل میڈیا پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے حال ہی میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق پر تنقید کی گئی تھی پی ٹی آئی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ چیف جسٹس کا ہر فیصلہ پہلے فیصلے سے متصادم ہوتا ہے، ان فیصلوں سے حکومت کو فائدہ ہوتا ہے چیف جسٹس پر کی جانے والی تنقید کے بعد قانونی ماہرین نے اسے عدلیہ کو زیر کرنے اور پریشر ڈالنے کا گھناؤنا ہتھکنڈا قرار دیا تھا۔

    ججز کیخلاف پی ٹی آئی کی مہم،قانونی ماہرین چیف جسٹس عامر فاروق کی حمایت میں …

    قانونی ماہرین کا کہنا کہ پی ٹی آئی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کیخلاف مہم میں دوہرے معیار کا الزام لگایا، یہ مہم صرف پاکستان سے نہیں بلکہ پوری دنیا سے چلائی جا رہی ہےسوشل میڈیا مہم امریکا، کینیڈا اور برطانیہ سمیت دیگر ملکوں سے چلائی جا رہی ہے جس کے لیے منظم مہم میں قابل اعتراض ہیش ٹیگ کا استعمال کیا جا رہا ہے سوشل میڈیا مہم میں مختلف پوسٹرز اور ویڈیوز بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔

    نوجوانوں کے پاکستان چھوڑنے کے بیان پر نگران وزیراعظم کی وضاحت

    سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ جتنی مرضی ججز پر کیچڑ اچھالیں، ججز پر ایسی تنقید سے فرق نہیں پڑتا امید ہے کہ ججز تمام تر تنقید کے باوجود حلف کی پاسداری کریں گے وتیرہ بنتا جارہا ہے آپ اونچا بولیں گے تو دوسرے پر حاوی ہوجائیں گے، سب سے اونچی آواز گدھے کی ہوتی ہے مگر اس کے پاس کوئی مواد نہیں ہوتا۔

    الیکشن کرانا کسی پارٹی یا حکومت کے اختیار میں نہیں،شاہد خاقان

  • ججز کیخلاف پی ٹی آئی کی مہم،قانونی ماہرین چیف جسٹس عامر فاروق کی حمایت میں سامنے آ گئے

    ججز کیخلاف پی ٹی آئی کی مہم،قانونی ماہرین چیف جسٹس عامر فاروق کی حمایت میں سامنے آ گئے

    قانونی ماہرین اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف سوشل میڈیا مہم سے متعلق پی ٹی آئی کی مہم پر حمایت میں سامنے آگئے-

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کیخلاف مہم میں دوہرے معیار کا الزام لگایا، یہ مہم صرف پاکستان سے نہیں بلکہ پوری دنیا سے چلائی جا رہی ہےسوشل میڈیا مہم امریکا، کینیڈا اور برطانیہ سمیت دیگر ملکوں سے چلائی جا رہی ہے جس کے لیے منظم مہم میں قابل اعتراض ہیش ٹیگ کا استعمال کیا جا رہا ہے سوشل میڈیا مہم میں مختلف پوسٹرز اور ویڈیوز بھی استعمال کی جا رہی ہیں۔

    سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ جتنی مرضی ججز پر کیچڑ اچھالیں، ججز پر ایسی تنقید سے فرق نہیں پڑتا امید ہے کہ ججز تمام تر تنقید کے باوجود حلف کی پاسداری کریں گے وتیرہ بنتا جارہا ہے آپ اونچا بولیں گے تو دوسرے پر حاوی ہوجائیں گے، سب سے اونچی آواز گدھے کی ہوتی ہے مگر اس کے پاس کوئی مواد نہیں ہوتا۔

    واپڈا کے گریڈ 17 سے 22 تک افسران کیلئے فری یونٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    راجہ خالد ایڈووکیٹ مے کہا کہ ججز پر ایسے حملے انتہائی شرم ناک، افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہیں یہی چیف جسٹس اس وقت بہت بڑے اور اچھے جج تھے، جب انہوں نے پی ٹی آئی کو درجنوں کیسز میں ریلیف دیا جو جج پی ٹی آئی کی ڈکٹیشن اور ان کی مرضی پر نہیں چلتا، یوتھیا نہیں بن جاتا، اس کا مقدر گالم گلوچ ہوجاتا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے خلاف پوسٹیں شیئر کی گئی اور ساتھ ہی ان پر منافقت کا الزام لگادیا پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جسٹس عامر فاروق کے خلاف کئی پوسٹیں شیئر کی گئیں۔

    جماعت اسلامی کا بجلی کے بلوں کے خلاف پرامن ہڑتال کا اعلان