Baaghi TV

Tag: ہتک عزت

  • لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کیخلاف سماعت 29 جولائی تک ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کیخلاف سماعت 29 جولائی تک ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ میں ہتک عزت قانون کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خالد اسحاق پیش ہوئے،اور کہا کہ درخواست گزار صرف اندازوں پر بات کر رہے ہیں کہ کچھ ہونے لگا ہے،ابھی تو اس قانون کے تحت درخواست گزاروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ،وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ باقی تینوں صوبوں میں ایسا کوئی قانون نہیں ، عدالت نے کہا کہ اگر کوئی شخص سندھ یا دوسرے صوبوں میں بیٹھ کر کرے تو کیا ہو گا ، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عدالت کے سوالات اہم ہیں ،ان سوالات کا جواب سپریم کورٹ میں زیر بحث ہے ، اگر کوئی متاثرہ شخص درخواست دائر کرے کہ کارروائی روکی جائے تو الگ بات ہے ، ابھی تک کسی ایک متاثرہ شخص نے درخواست دائر نہیں کی ,عدالت نے کہا کہ آپ متاثرہ شخص کے درخواست دائر کرنے کا کیوں کہہ رہے ہیں ، وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ جس طرح پیمرا پابندیاں لگا رہا ہے اس سے ملک کی جگ ہنسائی ہو گی ،ہم چاہتے ہیں کہ ملک کی بین الاقوامی طور پر بدنامی نہ ہو ،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ عدالت کے سامنے کوئی متاثرہ شخص نہیں جو عدالت کے سامنے ہو کہ اس کا بنیادی حقوق متاثرہو رہے ہیں ،

    وکیل اظہر صدیق نے بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت میں کہا کہ قانون کا اطلاق ابھی شروع نہیں ہوا، ابھی کوئی درخواست نہیں ، تو میں نے عدالت میں کہا کہ یہ صحافیوں کا کیس ہے ،ڈر اور خؤف ہے، پیمرا کا جو قانون ہے کہ عدالتی کاروائی کور نہیں کر سکتے، یہ قانون انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ اگر کسی کے خلاف کوئی کاروائی ہو تو وہ عدالت آ سکتا ہے،اظہر صدیق کا کہنا تھا کہ اس قانون کا آنے والی تاریخ تک اطلاق نظر نہیں آ رہا، اس قانون کے تحت کوئی کاروائی شروع ہوئی تو ہم دوبارہ عدالت سے رابطہ کریںگے.

    لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کا کہنا تھا کہ 29 جولائی تاریخ ملی ہے اب، ایڈوکیٹ جنرل کہہ رہے تھے کہ ابھی کوئی متاثرہ نہیں، ہم نے چیزیں بنانی ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ میں تاریخ ڈال دیتا ہوں، یہ بڑا خوفناک کام ہے، 29 جولائی کو تمام درخواستیں اکٹھی کر کے سماعت ہوگی، عدالت نے کہا کہ تحریری جواب دیں،

    سینیٹ قائمہ کمیٹی میں عمران خان اور مراد سعید کا تذکرہ

    ہتک عزت ایکٹ،فریقین کو نوٹس جاری،سماعت 4 جولائی تک ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    گورنر پنجاب کو چاہیے پہلے ہتک عزت قانون پڑھیں پھر تبصرہ کریں: عظمیٰ بخاری

  • ہتک عزت قانون ضروری، تنقید کی پرواہ نہیں ،وزیراعلیٰ پنجاب

    ہتک عزت قانون ضروری، تنقید کی پرواہ نہیں ،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اتحاد بین المسلمین کمیٹی پنجاب کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، مشائخ عظام اور علمی و دینی شخصیات نے شرکت کی، اجلاس میں محرم الحرام میں اتحاد بین المسلمین کیلئے تجاویز پیش کی گئیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھاکہ محترم علماء کرام، مشائخ سمیت تمام شرکاء کو اجلاس میں دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتی ہوں۔ مجھے ایسے لگتا ہے اپنی فیملی میں بیٹھی ہوں۔ میری پرورش ایک مذہبی گھرانے میں ہوئی۔ نواز شریف صاحب نے اتحاد بین المسلمین کمیٹی بنائی تھی۔ اتحاد بین المسلمین کمیٹی کے فعال کردار کی ضرورت جتنی آج ہے پہلے نہیں تھی۔ ہم سب کی کوشش ہے کہ دین کا خوبصورت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔آج کے حالات بطور وزیر اعلیٰ میرے لئے باعث تشویش ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس سال کی بجائے تین ماہ میں ایک بار ہونا چاہئے۔

    مدرسے میں بچے سے زیادتی کا جرم ثابت ہوا،کاروائی ہوئی تو مذہبی رنگ دے کر میرے خلاف سوشل میڈیا پر فتوے جاری کئے گئے،وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ سرگودھا واقعہ پر بہتر کارکردگی پر آئی جی پنجاب کو فون کرکے شاباش دی۔مقدس کتابوں کی بے حرمتی کی روک تھام کیلئے جامع منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ سوات میں جو ہوا وہ ہم سے کیلئے باعث فکر ہے۔اگر ہجوم قانون کو اپنے ہاتھ میں لے گا تو پھر کوئی نہیں بچے گا۔دین، نبی پاک سے محبت میرے خون میں شامل ہے۔ الیکشن مہم کے دوران چند افراد کی جانب سے مجھے الزامات کا سامنا کرنا پڑا جو انتہائی تکلیف دہ تھا۔ احسن اقبال صاحب کو بھی گولی ماری گئی۔کچھ بھی ہو ہمیں قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور فتوے صادر کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ میرا فرض قانون کی عملداری اور انصاف کرنا ہے۔ جب جرم ثابت ہوتا ہے تو مجرم کو سزا ملنی چاہئے۔ ساہیوال میں مدرسے میں بچے سے زیادتی کا جرم ثابت ہوا۔ جب پولیس نے کارروائی کی تو اسے مذہبی رنگ دے کر میرے خلاف سوشل میڈیا پر فتوے جاری کئے گئے۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہم مذہب کا روشن چہرہ لوگوں کے سامنے پیش نہیں کرتے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ہتک عزت کے قانون کی آج بہت ضرورت ہے،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کاغلط استعمال کیاجارہاہے ،ہتک عزت قانون سےمتعلق تنقید کی پرواہ نہیں ،ہتک عزت کے قانون پر اعتراض اور تنقید سمجھ سےبالاتر ہے،بغیر ثبوت کےالزامات لگائے جاتے ہیں،جن کے پاس مائیک ہے وہ سمجھتاہے عزت اچھالنے کی آزادی ہے،کیا لوگ چاہتےہیں ہتک کریں مگر سزانہ ملے ؟میڈیا بولے ہم غلط بیانی کریں اورپکڑے نہ جائے یہ نہیں ہوسکتا، ہتک عزت قانون کی پاکستان میں جتنی ضرورت آج تھی پہلے کبھی نہیں تھی، جس کے پاس مائیک ہے وہ سمجھتا ہے پوری آزادی ہےکہ پگڑی اچھال دوں، تہمت لگا دوں، کیا وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ہتک کریں اور سزا نہ دی جائے.

    میڈیا سمیت کسی کو عزت،پگڑی اچھالنے کی بغیر ثبوت کے اجازت نہیں دی جا سکتی، وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ قانون کو پڑھے بغیر تنقید کی جا رہی،ہر مہذب معاشرے میں ایسے قوانین موجود ہیں،میڈیا جب کہتا ہے کہ ہم ہتک کرنا نہیں چھوڑیں گے آپ قانون نہ لائیں، مجھے تکلیف ہوتی ہے، ہونا تو یہ چاہئے کہ ہتک پر سزا ملنی چاہئے، دین کیا کہتا ہے، آپ گناہ پر اصرار کر رہے ہیں کہ یہ جاری رہنا چاہئے، اگر یہ کہہ دیں کہ جھوٹ نہیں بولیں گے، جھوٹا الزام نہیں لگائیں گے، یہ نہیں کہنا ،اور ثبوت بھی نہیں دیتے، مجھے میڈیا کا بہت احترام ہے لیکن کس کو بھی میڈیا سمیت کسی کو عزت،پگڑی اچھالنے کی بغیر ثبوت کے اجازت نہیں دی جا سکتی، جتنی مرضی اس پر تنقید کریں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، کب تک اقتدار ہے، اللہ جانتا ہے،یہ صرف میرے لئے قانون نہیں ہے کل بھی جو کرسی پر ہو گا اسکے لئےبھی قانون ہے، قانون پڑھے بغیر لوگ بات کرتے ہیں.

    قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات زیادہ ہورہے ہیں جن پر دل تڑپتا ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات زیادہ ہورہے ہیں جن پر دل تڑپتا ہے دل کو تکلیف ہوتی ہے۔ ہم چاہیے ان واقعات کی روک تھام کیلئے مل کر بیٹھیں اور دیکھیں کہ کیا وجہ ہے کہ یہ واقعات بڑھ رہے ہیں۔اللہ تعالی نے مجھے اس کرسی پر بٹھایا ہے اور انصاف کرنا میرا فرض ہے۔ جب بھی کوئی ایسا معاملہ آتا ہے اور جرم کی تصدیق ہوجاتی ہے تو پھر وہ شخص مسلمان، سکھ، عیسائی یا کچھ اور نہیں رہتا وہ مجرم بن جاتا ہے اور اسکو اس کے کیے کی سزا ملنی چاہیے۔قرآن اور مذہب کی توہین کی بہت زیادہ شکایات آرہی ہیں جس پر ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے۔ ایسے واقعہ کی تفصیل میں جائے بغیر اچانک اعلان کردیا جاتا ہے اور پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی لوگوں کی جانب سے جلاو گھیراو قتل و غارت شروع ہوجاتی ہے۔ اس پر ہمیں بہت زیادہ توجہ دینے اور تدارک کرنے کی ضرورت ہے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ لڑکیوں کے سکول جانے کے حوالے سے ایک حضرت سوشل میڈیا پر فتوے جاری کررہے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے اس بارے میں کیا احکامات اور فرمان ہیں اور اس بارے کیا احادیث مبارکہ ہیں۔ اسکے مخالف جاکر فتوے جاری کرنا حکم جاری کرنا بذات خود ایک بڑا جرم ہے جسکی روک تھام ہمار فرض ہے،ہم سب کا مقصد ہے کہ ہمارے دین کا خوبصورت چہرہ سب تک پہنچے،آئی جی پنجاب نے مجھے بتایا ہے کہ 50 ہزار پیجز اور اکاؤنٹ ہم نے بلاک کیے ہیں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کہیں پہ ایسا مواد ہے جسے ہٹانے کی ضرورت ہے تو آپ ہماری رہنمائی فرمائیں،

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ محرم الحرام سے جڑے احساسات صرف اہل تشیع مکتبہ فکر کے جذبات نہیں ہم سب کے ہیں۔پولیس افسران کو علماء کرام سے ملاقات میں انکے مسائل جاننے اور انکو حل کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔مجالس کی سکیورٹی اور حفاظت پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہے۔ روائتی انتظامات سے بڑھ کر کچھ ایسا کرنا چاہتی ہوں جس سے احساس ہو کہ ہم اہل تشیع بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جلوس کے تمام روٹس پر میری طرف سے شربت کی سبیلیں لگانے کے احکامات دیئے ہیں۔ جلوس کے راستے پر کھانے اور نیاز کی تقسیم میں بھی حکومت پنجاب آپ کے ساتھ شامل ہوگی۔تمام ڈسٹرکٹ میں اور ایک سنٹرل کنٹرول روم بنایا جائے گا۔ قانون پر سپورٹ کرنے پر میں تمام علماء کی شکر گزار ہوں۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ پاکستان کو سلامتی اور استحکام عطاء فرمائے۔دعاہے محرم الحرام میں اللہ تعالیٰ امن و امان قائم رکھے۔اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن و سلامتی اور خوشحالی کیلئے دعائیں کی گئی۔

    پنجاب بھر کے ضلعی پولیس افسران کی وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ملاقات ہوئی ،وزیر اعلیٰ ہ مریم نواز شریف نے پولیس افسران کی کارکردگی جانچنے کے لئے ”کی پرفارمنس انڈیکیٹرز“ (KPI) مقرر کر دئیے – عوامی شکایات، ایف آئی آر، فرد جرم، نو گو ایریا، سرچ آپریشن اور دیگر اہم معاملات میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے پر نمبر ملیں گے -ٹریفک، پتنگ بازی اور فائرنگ کی روک تھام، سنگین جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری، کھلی کچہری سے بھی نمبر ملیں گے -اختراعی اورمنفرد اقدامات سے پولیس افسروں کو اضافی نمبر ملیں گے -ٹاسک پورا نہ ہونے پر پولیس افسروں کے نمبر کاٹ لئے جائیں گے -پولیس افسران کو ایس ایچ اوز اور دیگر افسران کی کڑی نگرانی کا ٹاسک مل گیا -محرم میں پولیس افسران کو متعلقہ علماء کے گھر جا کر ملنے کی ہدایت، مساجد میں نماز جمعہ کے بعد لوگوں سے ملنے کا حکم مل گیا،عوام میں احساس تحفظ اجاگر کرنے کے لئے گشت بڑھانے کی ہدایت کر دی گئی،بین الصوبائی چیک پوسٹوں پر اچھی ساکھ والے پولیس اہل کاروں کی تعیناتی کا حکم دیا گیا،

    ایم پی ایز ہمارا پاور ہاؤس ہیں لیکن میرٹ کے لئے ہم نے بہت سوں کو ناراض بھی کیا،وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پولیس افسران کو اپنی فرنٹ لائن فورس قرار دے دیا -اور کہا کہ "سیدنا عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کندھے پر خوراک کی بوری رکھ کر خود عوام کے پاس جاتے تھے – آج کوئی وزیر اعلیٰ کیوں عوام کے پاس نہیں جا سکتا؟” ہم سب عوام کے حقوق کے لئے اللّہ تعالیٰ کو جواب دہ ہیں””جرم سرزد ہونے سے پہلے ہی تدارک کے اسباب ضروری ہیں”؛ "سختی کا رویہ عوام نہیں ، مجرموں کے ساتھ اپنایا جائے”؛ "مجرم کو پتہ ہونا چاہیے کہ پکڑے گئے تو سزا سے نہیں بچ پائیں گے”؛ "کسی ایک ایس ایچ او کی بد عنوانی اور نااہلی کی وجہ سے پوری پولیس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے، ہر مقام پر اچھے افسر لگائے جائیں”؛”مجرموں کے ہاتھوں پریشان لوگ ترقیاتی منصوبوں ، مفت ادویات اور تمام سرکاری خدمات کو بھول کر حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں”؛ "گزشتہ چار ماہ میں کسی آر پی او، ڈی پی او اور ایس ایچ او کی سفارش نہیں کی، کسی رکن اسمبلی کے کہنے پر پولیس افسر نہیں لگائے”؛ "ایم پی ایز ہمارا پاور ہاؤس ہیں لیکن میرٹ کے لئے ہم نے بہت سوں کو ناراض بھی کیا”؛ "سرکاری محکموں میں سیاسی مداخلت سے خرابیاں جنم لیتی ہیں، بہت پریشر ایا، لیکن موجودہ حکومت نے فل سٹاپ لگا دیا ہے”؛ مانیٹرنگ کا مقصد کسی کو سزا دینا نہیں ، بل کہ کرائم ریٹ کو زیرو کرنا ہے”؛

    ہتک عزت ایکٹ،فریقین کو نوٹس جاری،سماعت 4 جولائی تک ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    گورنر پنجاب کو چاہیے پہلے ہتک عزت قانون پڑھیں پھر تبصرہ کریں: عظمیٰ بخاری

  • ہتک عزت ایکٹ،فریقین کو نوٹس جاری،سماعت 4 جولائی تک ملتوی

    ہتک عزت ایکٹ،فریقین کو نوٹس جاری،سماعت 4 جولائی تک ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ، ہتک عزت ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوے جواب طلب کر لیا ،عدالت نے ایکٹ پر عمل درآمد کو عدالتی فیصلے سے مشروط کر دیا ،عدالت نے کہا کہ دیکھنا ہے کونسی ہنگامی صورتحال تھی کہ قانون کا نفاد کر دیا گیا ،لاہور ہائیکورٹ نے درخواستوں پر سماعت 4 جولائی تک ملتوی کر دی، جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر قانون کافریم ہی غلط ہے تو قانون کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔بیس دن بعد ویسے ہی قانون بنناتھاتو اتنی ایمرجنسی کیاتھی کہ قائم مقام گورنرنے دستخط کردئیے۔

    کیا آپ نہیں سمجھتے یہ قانون ہونا چاہیے ،صبح صبح اٹھو تو عجیب عجیب وی لاگر وی لاگ کررہے ہوتے ہیں :جسٹس امجد رفیق
    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اس قانون کو لانے کا مقصد پروفیشنل صحافیوں کو کام سے روکنا ہے،جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ آپکو نہیں لگتا کہ اس طرح کا قانون ہونا چاہیے؟ وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ قانون پہلے سے موجود ہے اس قانون کو منظور کروانے کی ضرورت نہیں تھی ،یہ قانون آزاد عدلیہ کو بھی متاثر کررہا ہے ،جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ مطلب اس قانون کو بہتر کیا جاسکتا ہے ،کیا آپ نہیں سمجھتے یہ قانون ہونا چاہیے ،صبح صبح اٹھو تو عجیب عجیب وی لاگر وی لاگ کررہے ہوتے ہیں ،وکیل ابو ذر سلمان نیازی نے کہا کہ اس قانون کا مقصد فیک نیوز ختم کرنا نہیں بلکہ بنیادی حقوق ختم کرنا ہے،جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ ان درخواستوں میں بہت اہم نکات اٹھائے گئے ہیں، صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے کہا کہ ہم سے کہا گیا کہ مشاورت کے بعد قانون سازی کرینگے،پروفیشنل صحافی ذمہ داری کے ساتھ خبر دیتا ہے،جسٹس امجد رفیق نے سیکرٹری پی ایف یو جے اور ایمنڈ سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی

    ہتک عزت کے قانون میں پیش ہونے والے وکیل خواجہ طارق رحیم اور اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے مختصر تاریخ چار جولائی ڈالی ہے،عدالت کو تمام قانونی پہلوؤں پر آگاہ کردیا ہے عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیا ہے،یہ قانون غیر قانونی بنایا گیا ہے

    ہتک عزت کا قانون آزادی صحافت پر حملہ اور آئین پاکستان سے متصادم ہے.ارشد انصاری
    دوسری جانب ہتک عزت کے متنازعہ کالے قانون کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کال پر صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری کی قیادت میں پنجاب اسمبلی میں بھرپوراحتجاج کرتے ہوئے بجٹ سیشن سے واک آﺅٹ کیاگیا۔ صحافیوں نے ہتک عزت قانون 2024 کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے بجٹ سیشن کا بائیکاٹ کیا اور کالا قانون نہ منظور کے نعرے لگاتے ہوئے اسمبلی کی سیڑھیوں پربازوﺅںپرکالی پٹیاں باندھ کر بھرپور احتجاج کیا۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے کہا کہ ہتک عزت کا قانون آزادی صحافت پر حملہ اور آئین پاکستان سے متصادم ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ ہم نے اسے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے جبکہ صحافیوں کی تمام تنظیمیں اے پی این ایس، سی پی این ای ، پی ایف یوجے، ایمنڈ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کے خلاف متحد ہیں اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے اس قانون کے خلاف عدالت سمیت ہر فورم پر مل کر جدوجہد کررہی ہیںاور اپوزیشن کے ارکان بھی ہمارے ساتھ جدوجہد میں شریک ہیں۔ انھوں نے ہتک عزت بل پر پیپلز پارٹی کے دوہرے کردار اور گورنر پنجاب کی طرف سے بل کو اعتراض کے ساتھ واپس بھجوانے کی بجائے اپنے پاس رکھنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ارشد انصاری کا کہنا تھاکہ صحافی مادر پدر آزادی نہیں چاہتے، جو لوگ خبر کی بنیاد پر جھوٹ کا کاروبار کرتے ہیں انھیں قانون کے دائرے میں لانا چاہیے اس بارے میں اگر حکومت ہماری تجاویز کو شامل کر لیتی تو اس بل سے جھوٹ کو روکنے میں فائدہ ہو سکتا تھا۔انھوں نے مزیدکہا کہ ہم عدالت کے بعد اس قانون کے خلاف احتجاج کے دیگر طریقہ کار پربھی مرحلہ وارعمل کریں گے اور اعلان کیا کہ اب صحافی برادری اپنی تمام ڈیوٹی کالی پٹیاں باندھ کر انجام دے گی۔ ارشد انصاری نے کہا ہم اس بل کے خلاف عدالت میں ہیں،ہمیں امید ہے عدالت ہمیں انصاف اور تحفظ فراہم کرے گی۔ پریس گیلری کے سیکرٹری خواجہ حسان احمد نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہتک عزت قانون ناصرف آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی منافی ہے اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ اس موقع پر لاہورپریس کلب کے سیکرٹری زاہد عابد سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    گورنر پنجاب کو چاہیے پہلے ہتک عزت قانون پڑھیں پھر تبصرہ کریں: عظمیٰ بخاری

  • لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    لاہور ہائی کورٹ میں ہتک عزت قانون کیخلاف درخواست قابل سماعت قرار دے دی گئی

    لاہور ہائی کورٹ میں ہتک عزت کے قانون کیخلاف درخواست کی اسکروٹنی کا عمل مکمل ہو گیا،رجسٹرار آفس نے ہتک عزت قانون کیخلاف درخواست پر اعتراض ختم کردیا ،رخواست گزار کے وکیل نے قانون کے نوٹیفکیشن کی کاپی رجسٹرار آفس کو جمع کر وادی

    قبل ازیں لاہور ہائی کورٹ میں ہتکِ عزت قانون کے خلاف دائر درخواست پر اعتراض عائد کر دیا گیا تھا، ہائیکورٹ آفس نے درخواست گزار کو ہتک عزت قانون کی مصدقہ کاپی لگانے کی ہدایت کر دی ،ہائیکورٹ آفس بطور اعتراضی درخواست سماعت کے لیے مقرر کرے گا،درخواست جعفر بن یار نے ندیم سرور ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں درخواست گزار نے ہتکِ عزت قانون کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے،درخواست میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب اور پنجاب حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ہتکِ عزت قانون آئین اور قانون کے خلاف ہے، ہتکِ عزت ایکٹ کی موجودگی میں نیا قانون نہیں بن سکتا

    واضح رہے کہ 2 روز قبل پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والا ہتک عزت بل قانون بن گیا، قائم مقام گورنر ملک محمد احمد خان نے بل پر دستخط کیے تھے۔

    ہتک عزت بل کا پنجاب حکومت نے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا,فوری نفاذ
    ہتک عزت بل کا پنجاب حکومت نے گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا,ہتک عزت بل کے تحت ٹرائل سے قبل 30 لاکھ روپے تک ہرجانے کا نوٹس بھجوایا جا سکے گا،وزارت قانون نے پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 کا گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کیا۔ہتک عزت بل کے گزٹ نوٹیفکیشن کے بعد اس کا پنجاب میں فوری نفاذ ہو گا

    دوسری جانب گورنر پنجاب سلیم حیدر کا کہنا ہے کہ ہتک عزت قانون میں پیپلز پارٹی کا کوئی حصہ نہیں ہے، ہتک عزت بل آئین کی 18 ویں ترمیم کی وجہ سے پاس ہوا ، پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز نے ہتک عزت قانون کے موقع پر کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا اور میں نے بحیثیت گورنر بل کو روکنے کے لیے کوششیں کی تھیں میں نے بل پر دستخط نہیں کیے تھے، 15 دن بعد ہتک عزت بل ازخود منظور ہو جانا تھا،ہتک عزت بل 18 ویں ترمیم کی وجہ سے پاس ہوا۔

    پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    گورنر پنجاب کو چاہیے پہلے ہتک عزت قانون پڑھیں پھر تبصرہ کریں: عظمیٰ بخاری

  • ہتک عزت بل آمریت کی ابتدا ہے،احمد خان بھچر کا دورہ لاہور پریس کلب

    ہتک عزت بل آمریت کی ابتدا ہے،احمد خان بھچر کا دورہ لاہور پریس کلب

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر نے لاہور پریس کلب کا درہ کیا۔دورہ میں ارکان پنجاب اسمبلی امتیاز وڑائچ ، شیخ امتیاز اور قانونی ماہر ابوذر سلمان نیازی بھی موجود تھے ۔

    لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سینئر نائب صدر شیراز حسنات ، نائب صدر امجد عثمانی ، ممبر گورننگ باڈی راناشہزاد، عابد حسین اور سید بدر سعید نے معزز مہمانوں کو کلب آمد پر خوش آمدید کہا۔ اپو زیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ہتک عزت بل مخصوص ذہنیت کی عکاسی ہے جو ذہنوں کو صلب کرنے کے لیے بل پیش کیا گیا،ہتک عزت بل آمریت کی ابتدا ہے جو یہ مسلط کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں ہمارے ارکان بھی شامل کیے گئے لیکن جب بل کمیٹی میں گیا تو ہمارے ارکان کو نہیں بلایا گیا،کمیٹی نے بل میں کوئی ترمیم نہیں کی۔ انھوں نے کہاکہ یہ بل بنیادی قوانین کے آرٹیکل 12سے متصادم ہے۔  مسلط کیے گئے لوگوں کی طرف سے بل آیا ہے، ہر فورم پر اس بل کی مخالف کریں گے اس پر احتجاج کریں گے،یہ بل صرف پنجاب کا نہیں پورے پاکستان کے لیے ہے،اس بل کو پڑھیں گے تو سمجھ آئے گی اس بل میں خامیاں ہی خامیاں ہیں،اس بل میں خطرناک بات یہ ہے کہ اس میں قانون شہادت نہیں ہے ،آمریت چل رہی ہے 90 سے لے کر یہ اب تک پولیس کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلا رہے ہیں، اس کو ہم ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے۔  پی پی پی کو کہوں گا آپ وکٹ کے دونوں طرف مت کھیلیں،وفاق میں بھی آپ انکے ساتھ ہیں پنجاب میں آپکا گورنر ہے،بجٹ آرہا ہے آپ اس بل کے خلاف انکا ساتھ مت دیں تب ہم سمجھیں گے پی پی پی اس بل کے خلاف ہے ورنہ یہ ہے کہ پی پی پی دونوں طرف کھیل رہی ہے، اتنا ان کو مت ڈھانپیں کہ خود ننگے ہوجائیں  کابینہ ایک ایسے نام سے ڈر رہی ہے ،یہ ہتک عزت بل کی دوسری قسط ہے ،عمران خان پر پہلے دو سو مقدمات ہیں ،ہم آئی جی کے دفتر کے باہر بھی احتجاج کریں گے،پنجاب کابینہ کی اتنی اخلاقی حیثیت نہیں ،ہماری قانونی ٹیم اس کو دیکھ رہی ہے، ہمارے سنٹرل سیکرٹریٹ پر حملہ کیا گیا ،رو ف حسن پر حملہ آور ہوئے جب ہم خسروں تک پہنچ گئے ہیں تو سوچ لیں ،دنیا میں ہمارا تماشہ بن رہا ہے ،یو این او کے مشن کی موجودگی میں پولیس ہم پرحملہ آور ہوئی ،ٹک ٹاکر فارم سنتالیس کی حکومت کے چہرے سامنے آئے ہیں۔

    جب یہ حکومت میں آتے ہیں تو صحافیوں کے گلے پکڑلیتے ہیں،ارشد انصاری
    لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے ہتک عزت بل 2024 کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ تمام سٹیک ہولڈرز سے ہماری ملاقات ہوئی ،اپوزیشن کے اعتراضات اورمخالفت کے باوجود یہ بل پاس کیاگیا، حکومت سے ہمارے طویل مذاکرات ہوئے تھے ، ہم نے تجویز دی تھی کہ دوبارہ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجاجائے لیکن حکومت نے ہماری ایک نہ سنی ، رات کی تاریکی میں کالاقانون پاس کیاگیا، ہم اپوزیشن کے مرکزی قائدین سے ملاقاتیں کررہے ہیں اور حکومتی کوریج کے بائیکاٹ کی بھی تجویز بھی زیرغور ہے، ہم پنجاب اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں بائیکاٹ کریں گے ، صحافت کے کچھ قواعد ہیں جس کی پاسداری ہم سب پر لازم ہے ، ہمارا مطالبہ تھاکہ سب سے ان پٹ لیاجائے ، جب یہ حکومت میں آتے ہیں تو صحافیوں کے گلے پکڑلیتے ہیں اور جب اپوزیشن میں آتے ہیں تو آزادی صحافت کے چیمپیئن بن جاتے ہیں، تحریک انصاف سمیت تمام جماعتیں اس بل کی مخالف ہیں۔پروگرام کے اختتام پر معزز مہمان کو کلب کی جانب سے پھول پیش کئے گئے۔

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    گورنر پنجاب کو چاہیے پہلے ہتک عزت قانون پڑھیں پھر تبصرہ کریں: عظمیٰ بخاری

  • ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    پنجاب حکومت کی جانب سے ہتک عزت قانون، پیکاایکٹ اور کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی کے خلاف ملک بھر میں صحافیوں کا احتجاج جاری ہے

    احتجاج کی کال پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے دی،وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر صحافیوں نے احتجاج کیا،اس موقع پر صدر پی ایف یو جے افضل بٹ کا کہنا تھا کہ آزادی اظہار رائے کے خلاف ڈکٹیٹروں کے قوانین کے خلاف بھی جدوجہد کی، موجودہ حکمرانوں کو بھی کالےقانون کو واپس لینا پڑے گا۔

    کراچی پریس کلب کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اپیل پر صحافیوں نے یوم سیاہ مناتے ہوئے کراچی پریس کلب کی عمارت پر سیاہ پرچم لہرایا،کراچی کے صحافیوں نے پیکا قوانین اور پنجاب حکومت کے ہتک عزت قانون میں ترامیم فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کوئٹہ پریس کلب کی بندش کو آزادی صحافت پر قدغن قرار دیا،بہاولپور پریس کلب پر صحافیوں نے بھی احتجاج کرتے ہوئے ہتک عزت بل واپس لینے اور کوئٹہ پریس کلب کھولنے کا مطالبہ کیا۔

    آزادی اظہار رائے ہماراحق ،ملک گیر تحریک چلائیں گے، ارشد انصاری
    لاہورپریس کلب میں ہتک عزت بل 2024 اور کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں پنجاب یونین آف جرنلسٹس ، ایپنک ،پنجاب اسمبلی پریس گیلری کمیٹی ، فوٹوجرنلسٹس ایسوسی ایشن سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر لاہورپریس کلب میں احتجاجاسیاہ پرچم لہرائے گئے اور صحافیوں نے بازﺅوں پرکالی پٹیاں باندھی۔لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صحافیوں کو ان کے فرائض منصبی سے روکنے کے لئے ہرطرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں ، حکومت کی جانب سے ہتک عزت بل 2024 کو تمام صحافتی تنظیموں اور اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود پاس کرالیاگیااور کوئٹہ پریس کلب کو تالہ لگاکر تمام صحافتی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کردی گئیں جو کھلم کھلا آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے ،حکومت کا اس طرح کارویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، آزادی اظہار رائے ہماراحق ہے اور اس کے لئے ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور بہت جلد ملک بھر کے صحافی صحافتی تنظیموں کے ساتھ ملکر ملک گیر تحریک چلائیں گے ۔ احتجاجی مظاہرے سے لاہورپریس کلب کے سیکرٹری زاہد عابد، جوائنٹ سیکرٹری جعفربن یار، فنانس سیکرٹری سالک نواز،ممبر گورننگ باڈی رانا شہزاد ، عابد حسین ،پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر زاہد رفیق بھٹی ، ایپنک کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل نواز طاہر، پی یوجے کے جنرل سیکرٹری حسنین ترمذی، پریس گیلری کمیٹی کے سیکرٹری خواجہ حسان ، سینئرصحافی شفیق اعوان ، نعمان یاور، قمرالزمان بھٹی ، رفیق خان ،خواجہ نصیر ،صلا ح الدین بٹ ، حامد نواز، فرازفاروقی ،مجتبی باوجوہ، عمرشریف ، امریز خان ، پرویز الطاف ،منصوربخاری،ذوالفقارچوہدری، یوسف رضا عباسی، عبدالقیوم زاہد، غلام مرتضی باجوہ ، اویس قرنی ، قاسم رضا، جمال احمد، نعیم عباس، عمران علی، مقصود خالد، طارق شاہد ستی،طارق سعید، عدنان شیخ ، عمر فاروق، نصراللہ ملک،راحیل سید،ندیم احمد، تنویر احمد، محمد اکمل، طارق سعید، گل نواز، لیاقت علی نے خطاب کرتے ہوئے ہتک عزت بل 2024 کو کالاقانون قراردیااور کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کامطالبہ کیا۔

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    ہتک عزت بل 2024 :ہتک عزت بل 2024کا اطلاق پرنٹ، الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر ہوگا، پھیلائی جانے والی جھوٹی، غیر حقیقی خبروں پر ہتک عزت کا کیس ہو سکے گا یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی جعلی خبروں پر بھی بل کا اطلاق ہوگا، ذاتی زندگی،عوامی مقام کو نقصان پہنچانے کے لیے پھیلائی جانے والی خبروں پر بھی کارروائی ہو گی، ہتک عزت کےکیسز کے لیے ٹربیونل قائم ہوں گے جو کہ 6 ماہ میں فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

    ہتک عزت بل کے تحت 30 لاکھ روپے کا ہرجانہ ہوگا، آئینی عہدوں پر موجود شخصیات کے خلاف الزام پر ہائی کورٹ بینچ کیس سن سکیں گے، خواتین اور خواجہ سراؤں کو قانونی معاونت کے لیے حکومتی لیگل ٹیم کی سہولت میسر ہوگی-

    ہتک عزت کے قانون کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے،عظمیٰ بخاری
    واضح رہے کہ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ہتک عزت کے قانون میں جج تاریخ نہیں دیگا بلکہ جس پر الزام لگاہوگا اسے 21 روز میں خود ہی 3 تاریخیں دینے کیلئے کہا جائیگا جس میں جواب جمع کروانا ہوگا۔ الزام ثابت ہونے پر نہ پولیس کے پاس جانا ہوگا نہ ہی گرفتاری ہوگی بلکہ 30 لاکھ کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔ہتک عزت کالا قانون ہے، بے بنیاد الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے،اسمبلی میں ہتک عزت کا نیا قانون لایاجارہا ہے،یہ ایک صوبے کا قانون ہے، میں چاہتی ہوں کوئی بھی وزیراعلیٰ آئے اس کی توہین جھوٹی خبر بناکرنہیں ہونی چاہیے، لوگ صحافی نہیں اپنے لئے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں، کچھ لوگ ایک ایجنڈے کے تحت صبح اٹھتے ہیں،اب ایسا نہیں ہوگا، میری بہن کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا،عزت اس وقت ہی ہوگی جب کرائیں گے ،ون سائیڈ عزت نہیں ہوگی، یہ اچھا ہوا کہ پہلا کیس میں خود لے کر جاؤں گی، نیا قانون سیاسی مقاصد کے لیے نہیں استعمال کرنا چاہتے,180 دن میں ہتک عزت کے کیس کو مکمل کرنا ہوگا، ہتک عزت کے قانون کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے، ہتک عزت کا الزام ثابت ہونے پر 30 لاکھ روپے کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا، ملزم کی گرفتاری نہیں ہوگی لیکن اس کو ہرجانہ دینا ہوگا،اگر کسی کو لگے کہ اس کی ہتک 30 لاکھ سے زیادہ ہوئی یا اس کی ہتک کی نوعیت زیادہ تھی تو پھر اسے اپنا کیس پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، اس پر تنقید کی جارہی ہے کہ صحافیوں کو عدالت میں زیر سماعت کیسز پر بولنے کی اجازت نہیں تو عدالتی معاملات کے حوالے سے بولنے کی اجازت پوری دنیا میں ہی نہیں ہوتی

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

  • لاہور پریس کلب نے  پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024  مسترد کر دیا

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    لاہور پریس کلب کے صدرارشد انصاری،سینئر نائب صدر شیراز حسنات ، نائب صدر امجد عثمانی ، سیکرٹری زاہد عابد ، جوائنٹ سیکرٹری جعفربن یار ، فنانس سیکرٹری سالک نواز اور اراکین گورننگ باڈی نے پنجاب حکومت کے مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 کو مسترد کر دیا ہے۔

    لاہور پریس کلب کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ ہم سچ کہنے، سچ دکھانے اور سچ چھاپنے پر یقین رکھتے ہیں لیکن صحافیوں کی آنکھیں اور زبانیں بند کرنے کے لئے پنجاب حکومت آمرانہ ڈگر پر چل پڑی ہے۔ ہتک عزت قانون 2024کی برق رفتاری سے منظوری کرانے اور لاگو کرنے کی کوشش پنجاب حکومت کو مہنگی پڑے گی کیونکہ ان سے پہلے پرویز الٰہی کے ماضی قریب کے مختصر سے دور اور اس سے قبل بھرپور آمرانہ ادوار میں بھی آزادی صحافت پر ایسا شب خون مارنے کی کئی مرتبہ کوشش کی گئی تھی جو صحافیوں نے اپنے اتحاد سے ناکام بنائی تھی ۔

    اراکین گورننگ باڈی کا کہنا ہے کہ صحافت اور صحافیوں کا گلہ دبانے کی بجائے حکومت گورننس پر توجہ دے تو اضافی درآمدی گندم میں اربوں کے گھپلوں اور پھر کسانوں سے گندم نہ خرید سکنے کی ناکامی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔گورننگ باڈی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ اب ہر وقت ہائیکورٹ ،ٹربیونل،جرمانے،گرفتاریوں کا خوف ڈال کر صحافیوں کی زبان بندی کی کوشش کی گئی ہے اور افسوس ہے کہ مختلف ادوار میں اپوزیشن کا کردار ادا کرنے والی مسلم لیگ ن یہ بوجھ اپنے کندھے پر اٹھانے کو تیار ہے بظاہر اس نئے قانون کے تحت ڈان لیکس جاری کرنے والوں اور ڈان لیکس چھپوانے والوں کو بھی بچنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ آزادی صحافت کی بات کرنے والی پنجاب حکومت کی اتحادی پیپلز پارٹی بھی اس کے خلاف آواز اٹھائے گی ۔

    گورننگ باڈی مطالبہ کرتی ہے کہ آزاد صحافت سے خوفزدہ ہونے کی بجائے اس سے رہنمائی لینے کا کام لیا جائے تو اس سے اصلاح ہو گی اور کوئی بھی قانون سازی تمام فریقین کی مشاورت سے کی جائے تو مثبت اور دیرپا نتائج حاصل ہوں گے لیکن صرف دو روز میں کمیٹی اور اسمبلی سے منظور ہونے والے کسی قانون کو صحافی برادری کسی صورت تسلیم نہیں کرے گی اور ماضی کی روایات کے مطابق اس بل کو ردی کی ٹوکری میں پھینکے گی۔

    پنجاب حکومت جوش کی بجائے ہوش سے کام لے،ارشد انصاری
    لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت جوش کی بجائے ہوش سے کام لے اور اس کام کو عجلت میں رات کی تاریکی میں کرنے کی کوشش نہ کرے۔لاہور پریس کلب اس سلسلے میں تمام صحافی تنظیموں، سیاسی جماعتوں،سول سوسائٹی سے رابطے میں ہے جلد ہی اس مجوزہ کالے قانون کے خلاف حکمت عملی طے کر لی جائے گی اور تمام صحافی تنظیموں کو لاہور پریس کلب کے متفقہ پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے تحریک کا آغاز کیا جائے گا اور حالات کی ذمے داری حکومت پنجاب پر ہو گی۔اس لئے اب بھی وقت ہے کہ دھونس اور جبر کی بجائے جمہوری انداز سے معاملات آگے بڑھائے جائیں تاکہ سسٹم کا پہیہ چلتا رہے۔

    ہتک عزت کے قانون کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے،عظمیٰ بخاری
    واضح رہے کہ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ہتک عزت کے قانون میں جج تاریخ نہیں دیگا بلکہ جس پر الزام لگاہوگا اسے 21 روز میں خود ہی 3 تاریخیں دینے کیلئے کہا جائیگا جس میں جواب جمع کروانا ہوگا۔ الزام ثابت ہونے پر نہ پولیس کے پاس جانا ہوگا نہ ہی گرفتاری ہوگی بلکہ 30 لاکھ کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔ہتک عزت کالا قانون ہے، بے بنیاد الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے،اسمبلی میں ہتک عزت کا نیا قانون لایاجارہا ہے،یہ ایک صوبے کا قانون ہے، میں چاہتی ہوں کوئی بھی وزیراعلیٰ آئے اس کی توہین جھوٹی خبر بناکرنہیں ہونی چاہیے، لوگ صحافی نہیں اپنے لئے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں، کچھ لوگ ایک ایجنڈے کے تحت صبح اٹھتے ہیں،اب ایسا نہیں ہوگا، میری بہن کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا گیا،عزت اس وقت ہی ہوگی جب کرائیں گے ،ون سائیڈ عزت نہیں ہوگی، یہ اچھا ہوا کہ پہلا کیس میں خود لے کر جاؤں گی، نیا قانون سیاسی مقاصد کے لیے نہیں استعمال کرنا چاہتے,180 دن میں ہتک عزت کے کیس کو مکمل کرنا ہوگا، ہتک عزت کے قانون کا سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے، ہتک عزت کا الزام ثابت ہونے پر 30 لاکھ روپے کا ہرجانہ ادا کرنا ہوگا، ملزم کی گرفتاری نہیں ہوگی لیکن اس کو ہرجانہ دینا ہوگا،اگر کسی کو لگے کہ اس کی ہتک 30 لاکھ سے زیادہ ہوئی یا اس کی ہتک کی نوعیت زیادہ تھی تو پھر اسے اپنا کیس پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، اس پر تنقید کی جارہی ہے کہ صحافیوں کو عدالت میں زیر سماعت کیسز پر بولنے کی اجازت نہیں تو عدالتی معاملات کے حوالے سے بولنے کی اجازت پوری دنیا میں ہی نہیں ہوتی، ہتک عزت قانون کی کسی شق پر اگر کسی کو اعتراض ہے تو اتوار تک تحریری جواب داخل کریں، اس پر ہم گفتگو کریں گے، یہ وزیر اعلی کی ہدایت ہے، لیکن مزے کیلئے کسی کی تضحیک کرنا غلط ہے

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

    سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

  • مصدقہ نقول درخواست کے ساتھ نہ لگانے پر عدالت کا اظہار برہمی

    مصدقہ نقول درخواست کے ساتھ نہ لگانے پر عدالت کا اظہار برہمی

    لاہور ہائیکورٹ ,چیئرمین پی ٹی آئی کی وزیر اعظم شہباز شریف کے ہتک عزت دعوے کے اخراج کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    عدالت نے مصدقہ نقول درخواست کے ساتھ نہ لگانے پر اظہار برہمی کیا، عدالت نے کہا کہ اب یہ بھی عدالت نے بتانا ہے کہ مصدقہ نقول درخواست کے ساتھ لگانا ہیں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جلدی میں درخواست دائر کی اس لئے مصدقہ نقول نہیں لگا سکے،عدالت نے درخواست کے ساتھ مصدقہ نقول لگانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی جسٹس مسعود عابد نقوی نے درخواست پر سماعت کی

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ماتحت عدالت میں شہباز شریف نے چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف دس ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے،دعویٰ میں اٹھائے گئے سوالات کے جوابات نہیں دئیے گئے، درست جوابات دینے پر معاملہ ماتحت عدالت میں ابتداء میں حل ہو جانا تھا شہباز شریف کی جانب سے جوابات داخل کرنے میں تاخیری حربے استعمال کیے گئے،ٹرائل کورٹ نے بھی حقائق کے برعکس ہمارے خلاف فیصلہ جاری کیا،عدالت پانچ مئی کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو کلعدم قرار دے،عدالت شہباز شریف کے دس ارب ہتک عزت دعویٰ کو خارج کرنے کا حکم دے

  • شہباز شریف کا عمران خان کیخلاف 10 ارب ہرجانے کا دعوی،سماعت ملتوی

    شہباز شریف کا عمران خان کیخلاف 10 ارب ہرجانے کا دعوی،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ،شہباز شریف کا عمران خان کے خلاف ہتک عزت پر 10 ارب ہرجانے کا دعوی ٰکیس کی سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے دفاع کا حق ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ،تین رکنی فل بینچ نے عمران خان کی درخواست پر سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت کی، سپریم کورٹ لاہوررجسٹری نے عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کو کل دلائل دینے کی ہدایت کر دی، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سے جواب مانگا ، نہ دینے پر ٹرائل کورٹ نے حق دفاع ختم کر دیا،بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے دیکھنا تھا کہ سوالات کیس سے متعلقہ تھے یا نہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ آپکو بار بار موقع دیتی رہی لیکن آپ نے جواب داخل نہیں کیا اسطرح تو آپ دوران ٹرائل جواب لے کر آ جاتے، ہمارے سامنے تو یہ آ رہا ہے کہ ٹرائل کورٹ بار بار جواب مانگ رہی تھی جو نہیں دیا،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا جواب آنے کے باوجود ٹرائل عدالت نے اس پر غور کیوں نہیں کیا،ٹرائل عدالت نے اپنے فیصلے میں بھی عمران خان کےجواب کا ذکرنہیں کیا،وکیل علی ظفر نے کہا کہ ٹرائل عدالت نے عمران خان کا حق دفاع غیر قانونی طور پرختم کیا،ٹرائل عدالت کو حق دفاع ختم کرنے کا ازخود کوئی اختیار حاصل نہیں عمران خان کی طرف سے 9 مئی کو عدالت میں جواب جمع کرادیا تھا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم یہی جاننا چاہتے ہیں کہ ٹرائل عدالت نے جواب کو زیرغور کیوں نہیں سمجھا،علی ظفر نے کہا کہ عمران خان پرحملے کےبعد زخمی ہونے کی وجہ سے جواب کے لیے مہلت مانگی، مصطفیٰ رمدے نے کہا کہ ٹرائل عدالت نے باربار وقت مانگنے پر قانون کےمطابق فیصلہ سنایا

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ٹرائل کورٹ نے حق دفاع ختم کیا جسے ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا، ہائیکورٹ نے بھی دفاع کا حق ختم کرنے کے خلاف درخواست خارج کر دی،سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے اور حق دفاع بحال کرنے کا حکم دے ،شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف 10 ارب ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے عمران خان نے شہباز شریف پر پانامہ کے معاملے پر رشوت کی افر کا الزام لگایا تھا

     شہباز شریف کی جانب سے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے کے ہتکِ عزت کے دعوے پر سماعت

     عمران خان نے شہباز شریف کے ہتک عزت کے دعوے کا جواب جمع کروا دیا 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • جونی ڈیپ نے امبر ہرڈ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا

    جونی ڈیپ نے امبر ہرڈ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا

    ہالی ووڈ کے معروف اداکار جونی ڈیپ اور ان کی سابقہ اہلیہ امبر ہرڈ کے کیس کا فیصلہ آگیا-

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق جونی ڈیپ نے بدھ کو اپنی سابقہ ​​بیوی امبر ہرڈ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ جیت لیا جب ایک جیوری نے پایا کہ اس نے ڈیپ کو یہ کہہ کر بدنام کیا ہے کہ اس نے ان کے تعلقات کے دوران اس کے ساتھ بدسلوکی کی تھی۔

    سابق شوہر نے شراب کی بوتل کے ساتھ جنسی زیادتی کی،ہالی ووڈ اداکارہ پھوٹ پھوٹ کر رو…

    جیوری نے فیصلے میں امبر ہرڈ کو بڑی مجرمہ اور جونی ڈیپ کو چھوٹے مجرم قرار دے دیا ہے 100 ملین ڈالر ہرجانے کے جونی ڈیپ بمقابلہ امبر ہرڈ ہتک عزت کے مقدمے میں سابقہ میاں بیوی ایک دوسرے کو بدنام کرنے کے مجرم قرار پائے۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی ریاست ورجینیا کی جیوری نے کیس کا فیصلہ سنایا۔ جونی ڈیپ کو بہت بدنام کرنے پر ہرڈ 15 ملین ڈالر جرمانہ دیں گی جبکہ امبر ہرڈ پر غلط الزام لگانے پر ڈیپ سابقہ بیوی کو 2 ملین ڈالر دیں گے۔

    36 سالہ ایمبر ہرڈ نے 58 سالہ ڈیپ کے خلاف دائر کردہ تین دعوؤں میں سے ایک جیتا ہے اور انھیں اس کی مد میں 20 لاکھ ڈالر ہرجانے کی صورت میں ادا کیے جائیں گے۔ تاہم ججز نے باقی مقدمات میں جونی ڈیپ کو سچا قرار دیا ہے اور اب ایمبر ہرڈ ہرجانے کی مد میں انہیں ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر (12 ملین پاؤنڈ) ادا کریں گی۔

    جیوری نے متفقہ طور پر پایا کہ ہرڈ ڈیپ کے خلاف اپنے الزامات کو ثابت نہیں کر سکی ہے اور وہ جانتی تھی کہ جب اس نے اپنا 2018 کا مضمون شائع کیا تو اس کے بدسلوکی کے دعوے غلط تھے۔

    پاکستانی گانے "پسوڑی” پر بھارتی اداکارہ کے ڈانس کے انٹرنیٹ پر چرچے

    فیئر فیکس، ورجینیا کی عدالت میں چھ ہفتوں تک دونوں کا کیس چلتا رہا جس میں 5 ججز کی جیوری، جن میں 3 مرد اور 2 خواتین تھیں، نے دونوں کی شادی کے دوران ان کے ناخوشگوار تجربات کے حوالے سے تفصیلات سنیں۔

    دو دن کے مشاروت کے بعد جیوری کے اراکین نے فیصلہ سنایا ہے کہ ہرڈ کے اپنی شادی کے بارے میں بیانات ’بددیانتی‘ پر مشتمل ہیں۔
    دونوں ہالی ووڈ اداکاروں کے درمیان سنہ 2017 میں طلاق ہو گئی تھی، اس فیصلے کے بعد جہاں ہالی ووڈ اسٹار جونی ڈیپ اپنی جیت پر خوش ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سچ کبھی چھپ نہیں سکتا، یوری نے مجھے میری زندگی لوٹا دی۔ میں بہت شکر گزار ہوں۔

    جبکہ ایمبر ہرڈ نے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا دل ٹوٹ گیا ہے، انھوں نے دعویٰ کیا کہ جیوری نے ان کی جانب سے دیے گئے شواہد کو نظر انداز کیا ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ بطور امریکی میرا خیال تھا کا آزادی رائے کا حق میرے پاس ہے لیکن وہ میں نے کھو دیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مجھے اس سے بھی زیادہ مایوسی اس بات پر ہے کہ اس فیصلے کا دوسری خواتین پر کیا اثر ہو گا۔ ہم واپس وہیں چلے گئے جب ایک خاتون کو آزادی سے بولنے پر عوامی طور پر تضحیک کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    یاد رہے اس مقدمے کی کوریج کو ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا اور سوشل میڈیا پر لائیو سٹریم کیا گیا تھا جسے اربوں افراد نے دیکھا اور اس حوالے سے تبصرے بھی کیے۔

    ڈیپ، جو پہلے سے طے شدہ کام کی وابستگی کی وجہ سے بدھ کے روز عدالت میں نہیں تھے، نے واشنگٹن پوسٹ میں ہرڈ کے 2018 کے رائے شماری کے ادارتی مضمون پر 50 ملین ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا، جس میں اس نے کہا کہ وہ ایک "عوامی شخصیت بن گئی ہے جو گھریلو زیادتی کی نمائندگی کرتی ہے۔ ” اگرچہ اس مضمون میں ڈیپ کا نام لے کر کبھی ذکر نہیں کیا گیا، لیکن اس کے وکلاء نے کہا کہ اس نے بالواسطہ طور پر ان الزامات کا حوالہ دیا ہے جو اس نے ان کی 2016 کی طلاق کے دوران ان پر لگائے تھے۔

    ڈیپ نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ شروع سے ہی، اس کیس کو لانے کا مقصد سچائی کو ظاہر کرنا تھا، نتائج سے قطع نظر۔” "سچ بولنا ایک ایسی چیز تھی جس کا میں اپنے بچوں اور ان تمام لوگوں کا مقروض تھا جو میری حمایت میں ثابت قدم رہے ہیں۔ مجھے یہ جان کر سکون محسوس ہوتا ہے کہ میں نے آخر کار اسے پورا کر لیا ہے۔”

    سہیل خان کا شادی کے 24 سال بعد اہلیہ سیما خان سے علیحدگی کا فیصلہ

    ڈیپ نے کہا کہ "جیوری نے مجھے میری زندگی واپس دی۔ میں واقعی عاجز ہوں۔”

    ہرڈ نے 100 ملین ڈالر کا مقدمہ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ڈیپ کے ساتھ صرف اپنے دفاع یا اپنی چھوٹی بہن کے دفاع میں متشدد تھی۔ ہرڈ کا جوابی مقدمہ ڈیپ کے سابق اٹارنی ایڈم والڈمین کے 2020 میں ڈیلی میل کو دیے گئے تین بیانات کے گرد مرکوز تھا، جس میں اس نے ہرڈ کے بدسلوکی کے الزامات کو "جھوٹا” قرار دیا تھا۔

    جیوری نے پایا کہ ڈیپ نے والڈمین کے ذریعے ہرڈ کو ایک شمار پر بدنام کیا۔ جیوری نے ہرڈ کو 2 ملین ڈالر معاوضہ کے ہرجانے میں لیکن 0 ڈالر جرمانہ کے طور پر دیے۔

    واضح رہے کہ جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ 11 اپریل کو ورجینیا میں شروع ہونے والے ہتک عزت کے مقدمے میں ایک دوسرے پر جسمانی اور جذباتی زیادتی کا الزام لگارہے تھے امبر ہرڈ کا الزام تھا کہ ان کے سابق شوہر جونی ڈیپ انہیں تشدد کا نشانہ بناتے تھے جبکہ جونی ڈیپ کا دعویٰ ہے کہ امبر ہرڈ جھگڑالو بیوی تھی جس نے بوتل مار کر ان کی انگلی کاٹ دی تھی۔

    مسلم مخالف بھارتی فلم’دی کشمیر فائلز‘ پر سنگاپور میں پابندی عائد