Baaghi TV

Tag: ہتھکڑی

  • مینڈیٹ چوری کر کے خاتون وزیر اعلی بن رہی اسکو سلامی دی گئی،عمران ریاض

    مینڈیٹ چوری کر کے خاتون وزیر اعلی بن رہی اسکو سلامی دی گئی،عمران ریاض

    صحافی عمران ریاض کو عدالت پیش کر دیا گیا

    عمران ریاض خان کو ضلع کچہری پیش کردیا گیا،عمران ریاض کی گرفتاری اینٹی کرپشن نے ڈالی ہے،عمران ریاض اور انکے والد پر تھرابی جھیل کا ٹھیکہ اونے پونے داموں لینے کا الزام ہے،عمران ریاض کو جوڈیشل مجسٹریٹ عمران عابد کے روبرو پیش کیا گیا،عمران ریاض کو ہتھکڑی لگا کر عدالت پیش کیا گیا، اینٹی کرپشن حکام نے عمران ریاض کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی،

    عمران ریاض نے 1 گھنٹہ عدالت کے روبرو دلائل دئیے،اور کہا کہ جس ٹھیکے کا کہہ رہے ہیں کہ اونے پونے داموں لیا جھوٹ بول رہے ہیں، تھرابی جھیل کا گزشتہ ٹھیکہ 1 کروڑ 10 لاکھ کا تھا، ہم نے یہ ٹھیکہ 4 کروڑ سے زائد کا لیا،اینٹی کرپشن حکام میرے ایک سوال کا جواب نہیں دے سکے ہیں، یہ لوگ میرے گھر آئے میں نے خود گرفتاری دی، میں نے انہیں کہا کہ میرے گھر میں داخل نہیں ہونا، انہوں نے مجھے گاڑی میں بٹھایا پھر گھر میں داخل ہوئے،15 منٹ تک یہ میرے گھر کی تلاشی لیتے رہے ہیں، میں نے کچھ عرصہ قبل ایک زمین خریدی،،مجھے پراپرٹی ڈیلر نے بتایا کہ 13 کنال زمین اضافی آگئی ہے، ڈیلر نے بتایا کہ چالاکی سے ہم نے آپ کے نام کروا دی، میں نے کہا کہ میں 13 کنال کے لیے اپنی 2 گز زمین خراب نہیں کر سکتا، میں جیسے ہی واپس آیا میں نے کہا کہ 13 کنال اراضی جس کی ہے اسے ڈھونڈو، پتہ چلا کہ وہ شخص فوت ہوگیا، میں نے اسکے بیٹے سے رابطہ کیا،میں نے کہا آپکا ایک ایک پائی آپکو ملے گی،مجھ سے ڈیلر لڑتا رہا ہے کہ جب آپ کے نام پر زمین ہوچکی تو آپ کیوں رقم دے رہے ہیں مجھے ڈیلر کہتا ہے تم کسی اور دنیا کہ ہو، کون واپس کرتا ہے،مجھ پر جو الزام لگایا۔اسکا دس فیصد نہیں بنتا، میں چینل سے جو کمایا، اس پر 20 لاکھ تک انکم ٹیکس دیا،میں نے ہمیشہ کہا کہ میں پورا ٹیکس دیا،، جب بھی کوئی زمین خریدی پٹواری کو کہا پوری قیمت لگاؤ،میرا صرف سورس آف انکم ہے، جو چینل مجھے تنخواہیں دیتے ہیں وہ الگ ہے،میں نے وہاں جنگل لگایا ہے، 10 ہزار درخت لگائے، میں وہاں گاؤں کے لوگوں کو درخت تحفے میں دئیے،یہ مجھے ایک دیوار بتا دیں خلاف قانون بنی ہے تو خود ہتھوڑے سے جاکر گراؤں گا،میں نے 2 سال میں 25 مقدمے لڑے لیکن میری آنکھوں میں نمی نہیں آئی،میں صرف اللہ اور اس کرسی کے بھروسے ہوں،مجھ پر جو مقدمے بنائے گئے ان پر سزائے موت ہوتی ہے، میرے خلاف تو عثمان بزدار اور پرویز الہی خلاف تھا،آج میں کچھ ڈاون دیکھائی دے رہا ہوں، انہوں نے میرے والد پر الزمات لگائے ہیں، جن کی گواہی پورا شہر دیتا ہے،آج ایک مینڈیٹ چوری کر کے خاتون وزیر اعلی بن رہی ہے، یہ ایک سلامی دی ہےانہوں نے، انہوں نے میرے باپ کرپٹ کہا ہےمیرے دل کو یہ بات لگی ہے،

    عمران ریاض خان کے وکیل نے کہا کہ اینٹی کرپشن حکام کی گرفتاری آئین اور قانون کے برعکس ہے،عمران ریاض کو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ کی ججمنٹس موجود ہیں بغیر نوٹس کے گرفتار نہیں کیا جا سکتا ہے،یہ کیس واضح طور پر ڈسچارج کرنے کا ہے،جس انکوئری میں عمران ریاض کو گرفتار کیا گیا ہے اس انکوئری میں آخری مرتبہ 2022 میں انہیں بلایا گیا تھا اس کی بعد سے کبھی طلب نہیں کیا گیا اور نا ہی انکوئری آگے بڑھی ،مگر کل رات اچانک بغیر کسی نوٹس لے گرفتاری کے لیے پہنچ گئے ،عمران ریاض خان کو ثمن ایف آئی اے نے کیا اور گرفتاری اینٹی کرپشن والوں نے آکر کرلیا،عمران ریاض اور انکے والد کے پاس بتایا جائے کون سا سرکاری عہدہ ہے جس پر انہیں اینٹی کرپشن نے گرفتار کیا،یہ جاتی عمرہ کیوں نہیں جاتے وہاں جاتے اینٹی کرپشن کے پاؤں کیوں جلتے ہیں،عمران ریاض نے بتایا کہ کرپشن کیا ہے، مریم نواز نے کہا کرپشن میری ریڈ لائن ہے، عمران ریاض نے حقائق کے ساتھ بتایا، کیا اس وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے،

    ایڈوکیٹ رانا معروف نے کہا کہ یہ صرف یہ بتا دیں کہ اس مقدمہ میں کس دائرہ اختیار کے ساتھ گرفتار کیا ہے،اینٹی کرپشن حکام نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے عمران ریاض خان کو گرفتار کیا، انہوں نے لکھا کہ ریاض خان نے عمران ریاض اور عثمان ریاض کے ساتھ ملکر مبینہ ٹھیکہ لیا، یہ دیکھائیں کہاں معاونت کی دفعات لگی ہوئی ہیں، انہوں نے غیر قانونی طور پر گرفتار کیا ہے،، عدالت ڈسچارج کرنے کا حکم دے،2022 میں عمران ریاض کو انہوں نے بلایا،2021 میں مقدمہ درج ہوا، یہ صرف یہ بتا دیں کہ ابتک انہوں نے تحقیقات کیا کی ہیں، عمران ریاض پیش ہوئے اور اسکے بعد انہیں کلئیر قرار دے دیا گیا، ایڈوکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ عدالت کے روبرو تمام دستاویزات دیکھانے کےلیے تیار ہیں، انکم ٹیکس سمیت تمام دستاویزات دینے کےلیے تیار ہیں،7 سال سے چکوال کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے،، کوئی بے ضابطگی نہیں تھی اچانک جاتی عمراہ سے یہ بے ضابطگی نکال لائے ہیں،عمران ریاض کی گواہی دینے کےلیے کمرہ عدالت میں تمام افراد گواہی دینے کےلیے تیار ہے، عمران ریاض کسی کا ایک روپیہ دینے کا بھی روادار نہیں ہے،

    عمران ریاض خان کو جوڈیشل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے، عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی

    واضح رہے کہ گزشتہ شب عمران ریاض خان کو لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا، عمران ریاض کو نوٹس ایف آئی اےنے جاری کئے تھے تاہم انہیں اینٹی کرپشن نے گرفتار کیا تھا،

    قبل ازیں ایف آئی اے نے عمران ریاض کی طلبی کا نوٹس بھی جاری کیا تھاوفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عدلیہ مخالف مہم میں مبینہ طور پر ملوث ہونے پر یوٹیوبرز عمران ریاض خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ایجنسی کی جانب سے باضابطہ نوٹس جاری ہونے کے بعد عمران ریاض کو کو 23 فروری کو ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔عمران ریاض خان کو لاہور میں ایف آئی اے کے دفتر بلایا گیا تھا،جبکہ اسد طور کو اسلام آباد میں ایف آئی اے ہیڈ کوارٹر میں پیش ہونا ضروری ہے۔ ایف آئی اے کی کارروائی عدلیہ کی سالمیت اور آزادی کے لیے نقصان دہ سمجھی جانے والی سرگرمیوں میں ان کی مبینہ شرکت کے جواب میں آئی ہے۔عمران ریاض اور اسد طور، جو ممتاز یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا پر اثر انداز ہیں، دونوں کو باضابطہ نوٹس بھیجے گئے ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ حکام اس معاملے کو جس سنجیدگی کے ساتھ دیکھتے ہیں۔

    تکلیف زیادہ تب ہوتی ہے جب کوئی اپنا مارتا ہے،صحافی عمران ریاض

    آئی جی پنجاب کے بیان کی تعریف پر توہین آئی جی کا مقدمہ بنا دیا،وکیل عمران ریاض

    بالآخر عمران ریاض بول ہی پڑے، کیا کہا ؟ پی ٹی آئی کا جلسہ، عمران خان کا خطاب تیار

    عمران ریاض خان کی رہائی کیسے ہوئی؟ پنکی کے سابق شوہر کی گرفتاری

    بولنے میں دشواری،وزن کم،عمران ریاض کو کیا ہوا؟

    عمران ریاض خان پر ایک اور مقدمہ درج

    عمران ریاض کا پتا چل گیا۔ جان کو خطرہ ،عمران خان پر کڑا وار ،سیاست دفن

    وزارت دفاع کے نمائندے کا کہنا تھا عمران ریاض کی بازیابی کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں ۔

  • ہتھکڑی لگا کر شاہ محمود قریشی کی عدالت پیشی،ایس ایچ او نے مکے مارے،گالیاں دیں،قریشی

    ہتھکڑی لگا کر شاہ محمود قریشی کی عدالت پیشی،ایس ایچ او نے مکے مارے،گالیاں دیں،قریشی

    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کر دیا گیا

    شاہ محمود قریشی کو پولیس اہلکاروں نے ہتھکڑیاں لگا کر عدالت پیش کیا ،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل کمپلیکس راولپنڈی پہنچا یا گیا،شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی دروازے سے بخشی خانے منتقل کیا گیا،شاہ محمود قریشی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیر علی کی عدالت میں پیش کیاگیا،جوڈیشل کمپلیکس کے اندر راولپنڈی پولیس کی بھاری نفری موجودتھی

    شاہ محمود قریشی نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں اسٹیٹ منٹ ریکارڈ کرانا چاہتا ہوں، مجھے سپریم کورٹ کے قائم مقام جسٹس سمیت تین جسٹس صاحبان نے مجھے ضمانت دی، مچلکہ جمع کرا کر مجھے ضمانت کا حکم دیا گیا، میری رہائی کا روبکار جاری ہوتے ہی تھری ایم پی او جاری کیا گیا،میں کیسے عوام کے لیئے خطرہ ہوں؟میں کئی ماہ سے اڈیالہ جیل میں قید ہوں، مجھے رات آکر کہا گیا کہ تھری ایم پی او واپس لیتے ہیں ،شاہ محمود قریشی نے ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے تھری ایم پی او کا آرڈر پیش کر دیا،اور کہا کہ چھبیس تاریخ کو تھری ایم پی او کا آرڈر دیا گیا ،پھر واپس لے لیا گیا،ہاتھ سے چھبیس تاریخ کاٹ کر 27 کر دیا گیا،مجھے غیرقانونی طور پر رکھا گیا،میں جیل کی حدود میں تھا وہاں پنجاب پولیس گرفتار کرنے پہنچی،میں پانچ بار ممبر پارلیمنٹ رہ چکا ہوں، ایس ایچ او جمال نے مجھے مکے لاتیں ماریں،ایس ایچ او اشفاق چیمہ نے گالیاں دیں،میری چھاتی میں درد تھا ،کل رات ٹھنڈے کمرے میں رکھا گیا، سونے نہیں دیا، لائٹیں جلا کر بار بار جگایا گیا، شورمچایا گیا، مجھے ذہنی اورجسمانی طورپر ٹارچرکیا گیا، ایک ٹیم آئی کہ 9 مئی کےلئے بیان ریکارڈ کرنا ہے، یہ مجھے 9 مئی واقعات میں ملوث کرنا چاہتے ہیں، اُس دن تو میں کراچی تھا، میری بیگم کی سرجری ہوئی تھی،میں نے پاکستان کی نمائندگی کی ہر جگہ پاکستان کی صفائیاں دیں، میرے ساتھ اب یہ سلوک کیا جا رہا ہے اور میں کئی ماہ سے جیل میں ہوں، کیا یہ انصاف ہے مجھ پر تشدد ہوا، اوپر اللّٰہ نیچے آپ کا قلم ہے،میں نےپاکستان کا عالمی سطح پر مقدمہ لڑا،میں پاکستان اور اداروں کی عالمی دنیا میں صفائیاں دیتا رہا ہوں،کیا یہ انصاف ہے،شاہ محمود قریشی عدالت میں آبدیدہ ہوگئے،کہا قرآن پاک پر حلف دیتا ہوں میں 9 مئی کو راولپنڈی کیا، پنجاب میں بھی نہیں تھا،میری تقریر کا حوالہ دیا مکمل بات نہیں کر رہے میں نے کہا قانون کو ہاتھ میں نہیں لینا ویڈیو عدالت منگوا لے،کہا پر امن احتجاج عوام کا حق ہے،بہت ذمہ دار شخص نے کہا کہ میں 9 مئی میں صاف ہوں، کہیں گے تو میں آپ کو نام دے دوں گا، علیحدگی میں چاہیں گے تو بتا دونگا،

    دوران سماعت شاہ محمود قریشی نے عدالت میں ہتھکڑی لگے ہاتھ لہرا دیئے،تیمور ملک نے جج سے شاہ محمود قریشی کی ہتھکڑیاں کھولنے کی درخواست کی جس کے بعد ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیر علی نے شاہ محمود قریشی کی ہتھکڑیاں کھولنے کا حکم دے دیا

    پولیس نے عدالت میں شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی،پولیس نے کہا کہ ہمارے پاس بہت ٹھوس شواہد ہیں، پراسیکیوٹر نے شاہ محمود قریشی کا 2 جنوری تک ریمانڈ مانگ لیا ،شاہ محمود قریشی کے وکلا نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کر دی،وکیل علی بخاری نے عدالت میں کہا کہ شاہ محمود قریشی کو 24 گھنٹے تک غیر قانونی تحویل میں رکھا گیا،مقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے، جج کو ریمانڈ دینے کی وجوہات دینی ہوں گی،جی ایچ کیو حملہ کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت 12 ملزمان کو ڈسچارج کر چکی ہے،جن کے نام ایف آئی آر میں شامل تھے ان کی ہائی کورٹ سے ضمانت منظور ہوچکی ہے. شاہ محمود قریشی کو کیس سے ڈسچارج کیا جائے،شاہ محمود کا عدالت میں پیش کردہ بیان 16 ستمبر کا ہے 9 مئی کا نہیں،کیس سے شاہ محمود کو ڈسچارج کرنا بنتا ہے، وجن لوگوں کا جی ایچ کیو حملہ کیس میں نام تھا وہ ڈسچارج ہوئے،

    عدالت نے شاہ محمود قریشی کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا،عدالت نے پراسیکیوٹر کی شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی.جوڈیشل کمپلیکس میں وکلاء کی جانب سے شاہ محمود قریشی کے حق میں نعرے بازی کی گئی،پولیس بکتر بند گاڑی میں شاہ محمود قریشی کو لے کر روانہ ہو گی

    نومئی کے پنڈی میں 12 مقدمات،شاہ محمود قریشی کی گرفتاری ڈال دی گئی
    شاہ محمود قریشی کے خلاف سانحہ 9 مئی کے ضلع راولپنڈی میں 12 مقدمات درج،پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ تمام مقدمات میں ایک ساتھ تفتیش کی اجازت دی جائے،تمام 12 مقدمات میں 6 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی،جی ایچ کیو، آرمی میوزیم حملہ، حساس ادارہ دفتر حملہ میٹرو بس اسٹیشن جلانے مقدمات میں بھی شاہ محمود قریشی ملزم نامزدکر دیئے گئے،شاہ محمود قریشی کی 12 مقدمات میں گرفتاری ڈال دی گئی

    میڈیا داخلے پر پابندی کے خلاف شاہ محمود قریشی کے وکیل نے درخواست دائر کر دی،بیرسٹر تیمور ملک نے کہا کہ جوڈیشل کمپلیکس میں میڈیا کے داخلے پر پابندی کسی صورت قبول نہیں، میڈیا کو جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے کی اجازت دی جائے، ڈیوٹی مجسٹریٹ سید جہانگیر علی نے میڈیا کو جوڈیشل کمپلیکس میں داخلے کی اجازت دے دی

    واضح رہے کہ اڈیالہ جیل سے گزشتہ روز رہائی کے فوراً بعد راولپنڈی پولیس نے شاہ محمود قریشی کو تھانہ آر اے بازار کے مقدمے میں گرفتار کیا۔شاہ محمود قریشی کی مقدمہ نمبر 981 اور 708 میں گرفتاری ڈالی گئی ہے، شاہ محمود قریشی کو اڈیالہ جیل سے تھانہ آر اے بازار منتقل کردیا گیا تھا،

    شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں ضمانت سپریم کورٹ نے منظور کی تھی، عمران خان کی بھی ضمانت منظور ہوئی تھی تا ہم عمران خان کی رہائی نہیں ہو سکے گی کیونکہ وہ القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ کیس میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    سائفر کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی 

    سائفر کیس، آج مایوسی ہوئی، عدالت کو کہا فیصلے کو منوائیں، وکیل عمران خان

    سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کا جیل ٹرائل کالعدم قرار

    سائفر کیس،لگی دفعات میں سزا،عمر قید،سزائے موت ہے،ضمانت کیس کا فیصلہ

    دوسری جانب سابق وزیراعظم ، پیپلز پارٹی کے رہنما سید یوسف رضا گیلانی نے شاہ محمود قریشی کے ساتھ پولیس گردی کی مزمت کی اور کہا کہ شاہ محمود قریشی سمیت کسی بھی سیاستدان کے ساتھ ایسا برتاؤ قابل افسوس ہے، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ ریاستی جبر کا مقابلہ کیا، ہم کبھی جبر و تشدد پر یقین نہیں رکھتے، شاہ محمود کسی مقدمے میں مطلوب تھے تو گرفتاری اخلاقی اقدار میں رہتے ہوئے کرنی چاہیے تھی.

  • شہریار آفریدی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    شہریار آفریدی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد ،سیاسی رہنما شہریار آفریدی کے خلاف 9 مئی کے واقعات پر تھانہ آئی نائن میں درج مقدمہ شہریار آفریدی کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا ،جوڈیشل مجسٹریٹ نوید خان نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد ، تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی کے خلاف 9 مئی کے واقعات پر تھانہ آئی نائن میں درج مقدمہ کیس کی سماعت ہوئی شہریار آفریدی کو عدالت میں پیش کیا گیا،تفتیشی افسر کی جانب سے شہریار آفریدی کے 5 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی،شہریار آفریدی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا، تفتیشی افسر نے کہا کہ شہریار آفریدی کا فوٹوگرامیٹک اور وائس میچنگ کروانی ہے، شہریار افریدی کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی اور کہا کہ شہریار آفریدی کی ویڈیوز سوشل میڈیا سے حاصل کی گئیں تو فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کی ضرورت نہیں،

    کمرہ عدالت میں ہی فیملی سے ملاقات کی اجازت

    شہر یار آفریدی کی فیملی سے ملاقات کروانے کی استدعا کی گئی،عدالت نے شہریار آفریدی کمرہ عدالت میں ہی فیملی سے ملاقات کی اجازت دے دی ،شہریار آفریدی کو جوڈیشل مجسٹریٹ نوید خان کی عدالت میں پیش کیا گیا،شہریار آفریدی روسٹرم پر آ گئے اور جذباتی ہو گئے، شہر یار آفریدی نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ میرا بھائی فوت ہوا مجھے جنازے میں شریک ہونے نہیں دیا گیا ،میں نے یونیورسٹی اور کالجز میں جا کے پاکستانیت پر لکچر دیئے، احتجاج کرنا میرا آئینی حق ہے میں نے قانون کو ہاتھ میں نہیں لیا،

    عدالت پیشی کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ مختصر بات کرتے ہوئے شہر یار آفریدی کا کہنا تھا کہ اللّہ سے ہونے کا یقین جن کو ہوتا ہے اللّہ انکو سرخرو کرتا ہے،اللّہ میری دھرتی ماں کو قائم رکھے اللّہ آپکو آزماتا ہے جب آپ حق و سچ پر ہوں رب آپکے لئے کافی ہوتا ہے

    صحافیوں نے سوال کیا کہ آپ کے ساتھی چھوڑ گئے ہیں اس بارےمیں کیا کہیں گے، جس کے جواب میں شہر یار آفریدی نے کہا کہ میں کسی کے بارے میں کچھ نہیں کہوں گا، کیوں چھوڑا کس حالت میں چھوڑا یہ تو رب جانتا ہے،صحافی نے سوال کیا کہ جیل میں کیسا برتاؤ کیا جارہا ہے، جس کا جواب دینے کی بجائے شہریار آفریدی خاموش رہے اور کہا کہ آزمائشیں آتی ہیں اللہ ہم سب کو سرخرو کرے ،

     پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

     شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا یے

    واضح رہے کہ شہریار آفریدی کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا ،عدالت نے شہریار آفریدی کو 15 روز کی نظر بندی کے بعد رہا کردیا تھا تاہم انہیں رہا ہوتے ہی راولپنڈی پولیس نے گرفتار کرلیاپولیس کا کہنا ہے کہ شہریار آفریدی کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

  • حکم عدولی پر ایس ایچ او عدالتی حکم پر گرفتار،مانگی معافی

    حکم عدولی پر ایس ایچ او عدالتی حکم پر گرفتار،مانگی معافی

    اسلام آباد سے گھریلو 16 سالہ ملازمہ کی مبینہ اغوا کا کیس ،سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کی

    پولیس رپورٹ کے مطابق اسلام آباد پولیس نے 16 سالہ لڑکی کو پنجاب کے شہر لودھراں میں جیو فینسنگ کے ذریعے برآمد کیا تھا،اسلام آباد پولیس نے اغواء شدہ لڑکی کو برآمدگی کے بعد متعلقہ تھانے سے ضروری کارروائی کیلئے رجوع کیا لودھراں کے متعلقہ پولیس تھانے نے برآمدہ شدہ لڑکی کو لے جانے کی اجازت نہیں دی، جسٹس محسن اختر کیانی نے لودھراں سٹی پولیس کے ایس ایچ او سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جب اسلام آباد ہائیکورٹ نے گزشتہ سماعت پر لڑکی کو عدالت پیش ہونے کا حکم دیا اور تم آگئے، عدالتی حکم کے باوجود لڑکی کو پیش نہ کرنا تو حکم عدولی ہے،

    عدالت نے نائب کورٹ کو حکم دیا کہ ایس ایچ او لودھراں کو عدالت سے گرفتار کر لیں عدالتی حکم پر نائب کورٹ نے ایس ایچ او لودھراں کو گرفتار کر لیا،ایس ایچ او سٹی لودھراں کی عدالت سے معذرت ،عدالت نے معافی قبول کرلی سرکاری وکیل نے آئندہ سماعت میں اغوا شدہ لڑکی کو پیش کرنے کی یقین دہانی کرا دی ،ایس ایچ او لودھراں سٹی کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم دیر سے ملنے کی وجہ سے تعمیل نہیں ہو سکی، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت میں لڑکی کو پیش نہ کیا تو آئی جی کو طلب کریں گے،پنجاب پولیس بدمعاش بنی ہوئی ہے، عدالت نے سماعت 6 جون تک کیلئے ملتوی کر دی۔

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

  • خون سفید ہو گیا،سگا بیٹا و بھائی ہی قاتل نکلے

    خون سفید ہو گیا،سگا بیٹا و بھائی ہی قاتل نکلے

    قصور
    خون سفید ہو گیا،گزشتہ ماہ قتل ہونے والے 42 سالہ شحض کا قاتل سگا بیٹا اور سگا بھائی ہی نکلا،ملزمان کا اعتراف جرم

    تفصیلات کے مطابق خون سفید ہونے کی واضع نشانی عملی طور پہ قصور کے علاقے میں دیکھنے کو ملی
    قصور کی تحصیل چونیاں کے تھانہ چھانگا مانگا کی حدود چکوکی سے 29 نومبر کو 42 سالہ جاوید اقبال کی لاش برآمد ہوئی جسے نامعلوم افراد نے قتل کر کے پھینک دیا تھا
    واقعہ کی اطلاع پا کر ایس ایچ او تھانہ چھانگا مانگا افتخار حسین نے لاش کو قبضہ میں لے کر قانونی کاروائی کا آغاز کیا اور تفتیش کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے مقتول کے سگے بیٹے شاہد اور بھائی حسیب کو شامل تفتیش کیا تو پتہ چلا کہ ملزمان نے جائیداد کی خاطر جاوید اقبال کو قتل کیا ہے
    ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا
    قلیل وقت میں اندھے قتل کا سراغ لگانے پر ڈی پی او قصور سید عمران کرامت نے ایس ایچ او تھانہ چھانگا مانگا اور ان کی ٹیم کو شاباش دی