Baaghi TV

Tag: ہرمز

  • امریکی ناکہ بندی کے باوجود 24 گھنٹوں میں 20 جہاز آبنائےہرمز سے گزر گئے

    امریکی ناکہ بندی کے باوجود 24 گھنٹوں میں 20 جہاز آبنائےہرمز سے گزر گئے

    واشنگٹن: امریکی ناکہ بندی کے باوجود گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں-

    ایک امریکی جریدے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے باوجود گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 20 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں،جبکہ امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز پر سخت نگرانی اور کنٹرول کا دعویٰ کیا جا رہا ہے-

    سینٹ کام نے کہا تھا کہ ہرمز کی بندش کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں 6 بحری جہازوں کو واپس بھیج دیا گیا جبکہ کوئی بھی ایرانی جہاز اس راستے سے نہیں گزر سکا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے لیے 10 ہزار سے زائد سیلرز، میرینز اور ایئر مین تعینات کیے گئے ہیں، جو اس اہم بحری گزرگاہ پر مسلسل نگرانی کر رہے ہیں یہ پابندی خاص طور پر ایران کی بندرگاہوں کی طرف آنے جانے والے جہازوں پر لاگو ہےایران کے علاوہ خلیج کی دیگر تمام بندرگاہیں بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلی ہیں، تاہم ایران سے متعلق نقل و حرکت کو محدود کیا جا رہا ہے۔

  • آج 10 بجے سے  آبنائے ہرمز میں  ناکہ بندی کر دی جائے گی، سینٹکام

    آج 10 بجے سے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کر دی جائے گی، سینٹکام

    صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس مقصد کے لیے ایران کی فوجی اور بحری طاقت کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے،ہم ناکہ بندی کر رہے ہیں تاکہ ایران تیل نہ بیچ سکے اور اس عمل کا آغاز آج صبح سے ہو رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی بحریہ کے 158 جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں اور اب امریکا آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر رہا ہے تاکہ ایران اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں نہ بیچ سکے امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ناکہ بندی کے باقاعدہ وقت کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکی وقت کے مطا بق آج صبح 10 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے) سے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی آمدورفت بند کر دی جائے گی۔

    سینٹ کام کے مطابق، اس ناکہ بندی کا اطلاق تمام ممالک کے ان جہازوں پر یکساں طور پر ہوگا جو ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے یا وہاں سے آ رہے ہوں گے، تاہم سینٹ کام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ جو جہاز خلیج اور بحیرہ عمان کی دیگر غیر ایرانی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں گے، انہیں نہیں روکا جائے گااس حوالے سے تجارتی جہاز رانی کے اداروں کو باضابطہ نوٹس جاری کر دیے جائیں گے تاکہ وہ اپنی نقل و حمل کو اس کے مطابق ترتیب دے سکیں۔

    میڈیا سے گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے نہ صرف ایران بلکہ اپنے اتحادیوں اور مذہبی رہنماؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایاانہوں نے کہا کہ وہ نیٹو کے کردار سے بہت مایوس ہو چکے ہیں اس کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے مسیحی پیشوا پوپ لیو پر غیر معمولی سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں کمزور اور خوفناک قرار دے دیا، جرم کے معاملات میں پوپ لیو کا رویہ بہت نرم ہے اور وہ ان کے مداح نہیں ہیں۔

    دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ایران کی نیوی کو سمندر میں ڈبونے اور اب آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کرنے سے ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھے گا، جس سے اسے ایٹمی پروگرام سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جا سکے گا۔

    آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی اور حملوں کے بعد اس راستے پر بحری آمد و رفت میں نمایاں کمی آئی ہے-

  • بھارتی وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ

    بھارتی وزیراعظم کا ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطہ

    بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ میں ”امن، استحکام اور خوشحالی‘‘ پر زور دیا۔

    پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے خطے میں اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کی ہے، ایسے حملے علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور عالمی سپلائی چین کو متاثر کرتے ہیں۔

    بھارتی وزیراعظم نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے ’’سمندری راستوں کے تحفظ اور بحری گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت‘‘ پر زور دیاایران نے اس اہم سمندری گزرگاہ کو عملی طور پر بند کر رکھا ہے، جس کے باعث سینکڑوں تیل اور گیس بردار جہاز پھنسے ہوئے ہیں جب کہ بھارت اپنی توانائی ضروریات کے لیے اس راستے پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

    ہم نے آبنائے ہرمز کو بند نہیں کیا، ہمارے خیال میں یہ کھلی ہے، ایرانی وزیر خارجہ

    دونوں رہنماؤں کی گفتگو کے دوران نریندر مودی نے ایرانی صدر کوعید الفطر کی مبارک باد بھی دی، جو مسلمانوں کے لیے رمضان المبارک کے اختتام کی علامت ہے۔یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی توانائی سپلائی شدید دباؤ کا شکار ہے-

    تقریباً ایک تہائی خام تیل اور دو تہائی ایل این جی یا مائع قدرتی گیس اسی راستے سے بھارت پہنچتی ہے۔ اس صورت حال کے باعث بھارت اب متبادل ذرائع تلاش کرنے میں مصروف ہےبھارتی بحریہ آبنائے ہرمز میں پھنسے بھارتی پرچم بردار جہازوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے حفاظتی حصار فراہم کر رہی ہے تاہم یہ عمل ایران کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ہی ممکن ہو رہا ہے-

    وزیراعظم کی ترکمانستان کے صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، عیدالفطر کی مبارکباد

    واضح رہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ بات چیت ایک ایسے موقع پر ہوئی، جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ 22 ویں دن میں داخل ہو چکی ہے،

  • خلیجی پانیوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ

    خلیجی پانیوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ

    خلیج کے پانیوں میں متعدد بحری جہازوں پر حملوں کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہوگئی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراق کے قریب خلیجی پانیوں میں کم از کم چھ جہازوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو آئل ٹینکروں میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور ایک غیر ملکی عملے کے رکن کی ہلاکت کی اطلاع ہے نشانہ بننے والے جہازوں میں مارشل آئی لینڈ کے جھنڈے تلے چلنے والے آئل ٹینکر ’سیف سی وشنو‘ اور ’زیفیروز‘ شامل ہیں، جو عراق سے ایندھن لے کر روانہ ہوئے تھے، عراقی بندرگاہ حکام کے مطابق حملے کے بعد دونوں جہازوں میں آگ لگ گئی جبکہ امدادی ٹیموں نے متعدد عملے کے ارکان کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔حملے کے بعد ملک کے آئل ٹرمینلز کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں، تاہم تجارتی بندرگاہیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔

    نیتن یاہو ہولوکاسٹ کے بعد اسرائیلیوں کے لیے سب سے بڑی آفت بن چکے ہیں،ترک صدر

    ادھر اطلاعات ہیں کہ حملوں میں دھماکہ خیز مواد سے لیس بغیر عملے کی کشتیوں اور سمندری بارودی سرنگوں کا استعمال کیا گیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران نے اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

    اسی دوران مختلف ممالک کے کئی جہازوں پر بھی حملوں کی اطلاعات ملی ہیں تھائی لینڈ کے کارگو جہازکو دو نامعلوم میزائل نما اشیاء نے نشانہ بنایا جس سے جہاز کے انجن روم میں آگ لگ گئی جبکہ تین عملے کے ارکان لاپتا بتائے جا رہے ہیں،اسی طرح جاپانی کمپنی کے کنٹینر جہاز ’ون مجیسٹی‘ اور ایک اور بحری جہاز ’اسٹار گینتھ‘ کو بھی نامعلوم پروجیکٹائل سے نقصان پہنچا، تاہم ان کے عملے کے ارکان محفوظ رہے۔

    نیتن یاہو ہولوکاسٹ کے بعد اسرائیلیوں کے لیے سب سے بڑی آفت بن چکے ہیں،ترک صدر

    دوسری جانب رپورٹس کے مطابق عالمی شپنگ کمپنیوں کی درخواستوں کے باوجود امریکی نیوی نے ابھی تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو فوجی سکیورٹی فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ موجودہ صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق خلیج میں حالیہ حملوں کے بعد عالمی تیل سپلائی اور سمندری تجارت کے لیے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں کیونکہ دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس اسی اہم گزرگاہ سے گزرتا ہے۔

    نیتن یاہو ہولوکاسٹ کے بعد اسرائیلیوں کے لیے سب سے بڑی آفت بن چکے ہیں،ترک صدر