Baaghi TV

Tag: ہماچل پردیش

  • ہماچل پردیش میں فوجی بس پر حملہ اور ہلاکتیں،  مودی سرکار نے حقائق  چھپا دئیے

    ہماچل پردیش میں فوجی بس پر حملہ اور ہلاکتیں، مودی سرکار نے حقائق چھپا دئیے

    ہماچل پردیش میں فوجی بس پر حملہ اور ہلاکتیں، مودی سرکار نے حقائق چھپا دئیے

    ذرائع کاکہنا ہے کہ ہماچل پردیش میں فوجی بس پر حملہ 26 مئی کو ہوا، بھارتی فوج نے ہلاکتوں کو چھپانے کا پرانا حربہ ایک بار پھر استعما ل کیا، کمار ہٹی ریلوے اسٹیشن کے قریب حملے میں کئی بھارتی فوجی مارے گئے، حسب روایت مودی سرکار نے گودی میڈیا کو فوجی ہلا کتوں کی خبر نشر کرنے سے روک دیا –

    ذرائع کاکہنا ہے کہ ’’ٹائمز آف انڈیا ‘‘ نے مودی کے حکم پر ویب سائٹ پر نشر ہونے والی خبر بھی ہٹا دی، یہ خبر صرف ایک بھارتی چینل پر نشر ہوئی جو کچھ دیر بعد ہٹا دی گئی، بھارتی فوج کے جوان بطور ہتھیار استعمال ہورہے ہیں ،مرنے کے بعد نام تک نہیں لیا جاتا، ہماچل واقعہ پر مودی سرکار کی خاموشی سے ثابت ہوتا ہے کہ "مودی سرکار حقائق چھپانے کی ماہر ہے-”

    آپریشن سندور کے دوران گودی میڈیا نے کراچی بندر گاہ کی تباہی کی جھوٹی خبریں بھی چلا دی تھیں،فیکٹ چیک کے بعد جب اس خبر کی تردید کی گئی تو تمام گودی میڈیا چینلز سے اس خبر کو ہٹا دیا گیا، معرکہ حق میں شکست کے بعد بھارتی فوج نے اپنے ہی میزائل کو د شمن کا کہہ کرایکس اکاؤنٹ پر شیئر کردیا، جھوٹ پکڑے جانے پر بھارتی فوج نے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے اس وڈیو کو بھی ڈیلیٹ کر دیا-

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق "این ڈی ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ پاکستانی ٹینک راجستھان کی طرف بڑھ رہے ہیں بعد میں اس خبر کو ہٹا دیا "،بھارتی میڈیا بالخصوص ٹائمز ناؤ، ریپبلک ورلڈ، نیوز نائن اور انڈیا ٹی وی نیوز نے جھوٹی رپورٹنگ کی،ان چینلز نے ایک پاکستانی پا ئلٹ کو گرفتار کرنے کی خبر چلائی جو جھوٹ نکلی، انڈیا ٹو ڈے اور دکن کرانیکلز نے جے ایف 17 اور ایف 16 مار گرائے جانے کی جھوٹی خبریں چلائیں، متعد د بھارتی نیوز چینلز نے جھوٹی خبریں شائع کرنے پر معافی بھی مانگی-

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار، بھارتی میڈیا کو محض اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہے، میڈیا پر کنٹرول اور سچ کا گلا دبانا بھارتی دفاعی پالیسی کی ناکامی کا اعتراف ہے-

  • بھارت: طوفانی بارشوں کے بعد دریائے بیاس بپھر گیا، پل، گاڑیاں اور گھر بہا لے گیا،ریڈ الرٹ جاری

    بھارت: طوفانی بارشوں کے بعد دریائے بیاس بپھر گیا، پل، گاڑیاں اور گھر بہا لے گیا،ریڈ الرٹ جاری

    بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں طوفانی بارشوں کے بعد دریائے بیاس بپھر گیا اور پل، گاڑیاں، گھر اور دیگر اشیاء اپنے ساتھ بہا لے گیا۔

    باغی ٹی وی:بھارتی میڈیا کے مطابق ملک کی شمالی ریاستوں میں طوفانی بارشوں کے باعث گزشتہ دو روز کے دوران کم از کم 12 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو چکے ہیں جب کہ بھارتی محکمہ موسمیات نے نئی دلی، ہماچل پردیش، ہریانہ، اتراکھنڈ، راجستھان، پنجاب اور مقبوضہ کشمیر میں مزید طوفانی بارشوں کی پیش گوئی بھی کی ہے۔


    ریاست ہماچل پردیش میں طوفانی بارش، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے مختلف حادثات میں 5 افراد ہلاک ہوئے، ریاستی انتظامیہ نے ہماچل پردیش کے 7 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے، نشیبی علاقوں میں سیلاب اور پہاڑوں سے لینڈ سلائیڈنگ کی وارننگ بھی جاری کی گئی ہے۔


    اتوار کو دیر رات کی جانے والی کارروائی میں نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (این ڈی آر ایف) نے چھ لوگوں کو بچایا جو منڈی ضلع کے ناگوین گاؤں کے قریب دریا کے پانی کی سطح میں اضافے کی وجہ سے پھنسے ہوئے تھے۔


    دریں اثنا، ہماچل پردیش میں اتوار کو طوفانی بارشوں کے نتیجے میں پانچ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، بارشوں سے ہونے والی تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے نتیجے میں مکانات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا اور عام زندگی درہم برہم ہوگئی۔


    ریاست کے ایمرجنسی اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران ہماچل پردیش کے 12 میں سے 10 اضلاع میں 204 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، اس دوران لینڈ سلائیڈنگ کے 14 بڑے واقعات اور 13 مقامات پر سیلابی کیفیت رپورٹ ہوئی جبکہ ریاست میں 700 سڑکوں کو بند کر دیا گیا۔


    سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شدید بارشوں کے باعث ریاست ہماچل پردیش میں مختلف پلوں کو نقصان پہنچا اور دریائے بیاس کے قریب آبادیوں میں بھی پانی داخل ہو گیا مقامی حکام نے ہنگامی صورتحال پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اسکولوں اور کالجوں کو اگلے دو دنوں کے لیے بند کرنے کا حکم دیا ہے راوی، بیاس، ستلج، سواں اور چناب سمیت خطے کے تمام بڑے دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہے۔

    دوسری جانب بھارت کے محکمہ موسمیات نے انتہائی بارشوں کے لیے ایک نیا ریڈ الرٹ جاری کیا ہے، جس کے مطابق 10 سے 12 اضلاع میں 204 ملی میٹر سے زیادہ بارش متوقع ہے ریاستی حکومت نے احتیاطی اقدامات اٹھاتے ہوئے ریاست سے منسلک تمام سرکاری اور نجی اسکولوں اور کالجوں کو 10 جولائی سے 11 جولائی تک دو دن کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔

  • ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار

    ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار

    نئی دہلی:ارے بابا وہ ہمیں بہت ماریں گے،چینی فوج کی لداخ میں نقل وحرکت پردہلی میں چیخ وپکار ،اطلاعات کے مطابق نئی دہلی میں بھارتی فوج کی ایک اعلیٰ‌سطحی اہم میٹنگ میں ہونے والی آہ و بکا کی آوازیں بیجنگ اور اسلام آباد تک سنائی دی جانے لگی ہیں ، اطلاعات ہیں کہ اس اہم اجلاس میں لداخ اورکشمیر میں ماموراعلیٰ بھارتی جرنیلوں نے بھارتی حکومت اور فوجی قیادت سے یہ شکوہ کیا ہے کہ چین لداخ میں کچھ کرنے جارہا ہے اورجس کا نتیجہ وہاں پھربھارتی افواج کو ذلت آمیزرسوائی کی صورت میں اٹھانا پڑے گا

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اہم اجلاس میں اسی دوران چینی فوج کی نقل وحرکت اور دیگرسرگرمیوں کے حوالےسے واویلا کیا گیا ، دوسری طرف بھارتی فوج کے اہم اجلاس سے کچھ اہم باتیں کے حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ چین نے2020ءمیں مشرقی لداخ میں جس بھارتی علاقے پر قبضہ کیاتھا وہاں چینی فوج اپنے لیے نئے مسکن، ہائی ویز اور سڑکیں بنا رہی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس پیشرفت سے بھارت کے سابق فوجی افسروں اور سکیورٹی ماہرین میں خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں کہ چین شاید اس علاقے پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اوروہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پرنئے سٹیٹس کوکا اعلان کر سکتا ہے۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ میں بھارت کی وزارت داخلہ کے ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیاکہ انٹیلی جنس رپورٹس بتاتی ہیں کہ چینی فوج مشرقی لداخ میں مزید شاہراہیں اور سڑکیں بنا کر اپنی فوجی پوزیشنوں میں اضافہ کررہی ہے اور اس نے اپنے فوجیوں کے لیے بھارتی علاقے کے اندرر نئے مسکن بنائے ہیں۔

    بھارت اورچین کی فوجیں گزشتہ سال مئی سے لداخ کے متعدد مقامات پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ چین نے اب تک ہاٹ اسپرنگس اور ڈیپسانگ کے میدانی علاقے چھوڑنے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے جبکہ وادی گلوان، پینگونگ جھیل اور گوگرا سے اپنی شرائط پرجزوی واپسی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تینوں جگہوں پر دونوں فوجیں یکساں فاصلے کے ساتھ پیچھے ہٹ گئی ہیں تاہم چینی فوج اب بھی بھارت کے دعویٰ کردہ علاقے میں موجود ہے اور بھارت اپنے ہی علاقے میں پیچھے ہٹ گیا ہے جس کی وجہ سے اس پر چین کومزید زمین دینے کے الزامات لگ رہے ہیں۔