Baaghi TV

Tag: ہم آہنگی

  • مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں علماء کرام کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا،پرویزالہیٰ

    مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں علماء کرام کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا،پرویزالہیٰ

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت اتحادبین المسلمین کمیٹی پنجاب کااہم اجلاس منعقد ہوا.اجلاس میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، مشائخ عظام اور علمی و دینی شخصیات نے شرکت کی.اجلاس میں آرمی ہیلی کاپٹر کے المناک حادثے میں شہید کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی اور دیگر شہداء کے لئے خصوصی دعا کی گئی ،شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت اور صبر جمیل کی دعا کی گئی.

    بلوچستان، جنوبی پنجاب اور دیگر علاقوں میں سیلاب اور بارشوں سے جاں بحق ہونے والے افراد کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ،اتحادبین المسلمین کمیٹی کا نکاح نامے میں ختم نبوت صل اللہ علیہ والہ وسلم کے حلف نامے کو لازمی قرار دینے پر وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی کے احسن اقدام کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا گیا اور کہا کہ آپ کا یہ تاریخ ساز اقدام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آپ مجاہد وزیر اعلی ہیں۔ مولانا فضل رحیم نے دعا کرائی

    وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ علماء کرام اور مشائخ عظام نے ہمیشہ ہر موقع پر قوم کی رہنمائی کی ہے -پاکستان میں بھائی چارے، یکجہتی اور مذہبی رواداری کے فروغ میں علماء کرام کا کردار لائق تحسین ہے-مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں علماء کرام کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا- محرم الحرام کے دوران مذہبی رواداری اور قیام امن کیلئے ڈسٹرکٹ لیول پر خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔چودھری پرویزالٰہی
    کمیٹیوں میں انتظامی، پولیس اور علماء کرام کو شامل کیا گیا ہے۔

    چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر امن عامہ برقرار رکھنے کے لئے تمام فیصلے مشاورت سے کئے جائیں گے۔مذہبی منافرت پر مبنی لٹریچر کی اشاعت اور فروخت کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔مذہبی منافرت پر مبنی لٹریچر اشاعت اور فروخت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز ایکشن لیا جائے گا،سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف بھی بلاتفریق کارروائی ہوگی۔ اس ضمن میں سائبر کرائم ونگ سے کوآرڈینیشن کی جائے گی۔ وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی نے علماء کرام کے مسائل کے حل کیلئے راجہ بشارت کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی.

    مولانا فضل رحیم نے کہا کہ حکومت کے ساتھ تعاون کو اپنا قومی فرض سمجھتے ہیں – قاری حنیف جالندھری کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے دین اسلام کی خدمت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ مشائخ اور علماء کا کردار دلوں کو توڑنا نہیں جوڑنا ہے – علماء کرام اور مشائخ عظام نے مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے حکومتی اقدامات کو سراہا

    اجلاس میں اراکین پنجاب اسمبلی راجہ بشارت، حافظ عمار یاسر، فیاض الحسن چوہان، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، سابق پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلی پنجاب جی ایم سکندر اور متعلقہ حکام نےشرکت کی. مولانا فضل رحیم، قاری محمد حنیف جالندھری، مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد، پیر سید ناظم حسین شاہ، حافظ عبد الوہاب روپڑی، علامہ مولانا محمد حسین اکبر، محمد رشید ترابی، مولانا مشتاق جعفری اور علماء کرام و مشائخ عظام نھی اجلاس میں شریک ہوئے.

    علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی سے آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نیل ہاکنگس(Mr. Neil Hawkings) نے ملاقات کی.آسٹریلین ہائی کمشنر نے وزارت اعلی کا منصب سنبھالنے پر چودھری پرویزالٰہی کو مبارکباد دی

    دونوں رہنماوں نے باہمی دلچسپی کے امور، پاک آسٹریلیا دو طرفہ تعلقات کے فروغ، صحت، تعلیم،زراعت، لائیوسٹاک، سپورٹس اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا.آسٹریلین ہائی کمشنر نے اسٹیٹ آف آرٹ پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت کی تعمیر پر وزیر اعلی چودھری پرویزالٰہی کے ویژن کو سراہا ،ملاقات میں پولیس اور دیگر شعبوں کے افسروں کی تربیت کے لئے ایکسچینج پروگرام شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا.

    چودھری پرویز الٰہی نے کہا کہ پاکستان او رآسٹریلیا کے درمیان بہترین دوستانہ تعلقات موجود ہیں، میرے سابقہ دور میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں انقلابی اصلاحات کی گئیں، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں آسٹریلیا کے تعاون کا خیرمقدم کریں گے ، دونوں ملکوں کے مابین وفود کے زیادہ سے زیادہ تبادلوں سے معاشی و سماجی شعبوں میں تعاون فروغ پائے گا، زراعت، ڈیری ڈویلپمنٹ اور لائیوسٹاک میں آسٹریلیا کو بہت مہارت حاصل ہے۔ ان شعبوں میں آسٹریلین ماڈل سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سیاحت کے شعبوں میں بھی آسٹریلیا کے لئے سرمایہ کاری کیلئے گراں قدر مواقع موجود ہیں۔ پاکستان اور آسٹریلیا کے کلچرل وفود کے تبادلوں سے بھی تعلقات میں اضافہ ہو گا۔

    ۔آسٹریلین ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت سے ہر ممکن تعاون کریں گے اور شراکت داری بڑھائیں گے ۔پنجاب کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کریں گے۔ملاقات میں رکن قومی اسمبلی مونس الٰہی، چیف سیکرٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، انسپکٹر جنرل پنجاب، چیف ایگزیکٹو آفیسر پنجاب سرمایہ کاری بورڈ اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے.

  • عید  کا  پیغام، پروفیسر زید حارث

    عید کا پیغام، پروفیسر زید حارث

    اللہ تعالی کے بندوں کو ایک پر مشقت عبادت کے بعد خوشی کا ایک دن میسر کیا گیا تا کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں اور اللہ کی تعریف کریں ۔ ولتكبروا الله على ما هداكم ولعلكم تشكرون: اللہ کی تعریف کہ اس نے ہم کو یہ مشقت و تعب والی عبادت کی توفیق دی اور اس بات پہ شکر کہ اس نے اہل اسلام کو کھلے میدانوں میں جمع ہونے کا حکم دے کر ہمیں محبت ومودت کی خوبصورت لڑی میں پرو دیا۔عید کا دن پیغام ہے ہر اس روزے دار کے لئے جس کے لئے کہ یہ دن واقعی جہنم سے آزادی کا دن قرار پا گیا ۔جس روزہ دار نے اپنے گناہ معاف کروا لئے۔جو اللہ کا ویسا بندہ بن گیا جیسا رمضان بنانا چاہتا تھا ۔جس کو رمضان نے حلیم و بردباری، عفو ودرگزر، تواضع و عاجزی اورعبادت و ریاضت کا پابند بنا دیا۔ جس روزہ دار کے دن اطاعت و فرمانبرداری سے اور راتیں قیام سے مزین ہو گئیں اور جو یہ سب نہ کما سکا وہ اپنا محاسبہ کر لے ۔ ابھی زندگی کی رونق باقی ہے۔ابھی سانس چل رہے ہیں ۔ ابھی تبدیلی کا امکان باقی ہے۔ صرف نئے کپڑے پہن کر عید کی خوشیوں میں شریک ہونے والا مسلمان یاد رکھے کہ حقیقی خوشی تو اس کی ہے جس کا دل اللہ کی محبت سے بھر چکا ہے جس کے دل میں گناہ سے نفرت کا مضبوط بیج بویا جا چکا ہے۔ عید کا دن مساکین وفقراء کے لئے خیر کاپیغام لے کر آیا ہے۔ہر روزے دار اپنے روزے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک ایسا کام کرے گا کہ اس کے روزے کی کمی بھی پوری ہو جائے اور مسلمانوں کے معاشرے کا ہر فرد اس خوشی میں بھی شریک ہو جائے۔

    وہ فطرانہ ادا کرے گا جس کا ایک بنیادی مقصد حدیث میں کچھ یوں بیان کیا گیا کہ (طعمة المساكين) مساكین کے لئے کھانا بن جائے۔معزز مائیں اور بہنیں یاد رکھیں کہ یہ عید کا دن صرف میرے اور آپ کی تزیین وزیبائش کے لئے نہیں ہے ، ہم ایسے دین کے ماننے والے ہیں جو ہمیں اپنی ذات سے زیادہ دوسرے کی خواہش کے احترام کی تربیت دیتا ہے۔وہ مسکین جو آپ کے نئے کپڑے اور خوبصورت حالت وہیئت کو دیکھ کر آپ سے حسد شروع کر دیتا ہے خدارا اس کی مدد کر کے، اس کو اپنی خوشی میں شریک کر کے اس کو حسد سے محفوظ کیجئے اور اس کی دعاؤں کے مستحق بن جائیے جو کہیں بھی آپ کے لئے ایک مضبوط قلعہ ثابت ہو سکتی ہیں ۔عید کا پیغام ہے کہ ہم نے جس طرح رمضان میں اللہ کے حکم پہ حلال چیزوں کو اپنے لئے حرام کیے رکھا ،اب سرکش شیطانوں کے کھل جانے پہ کہیں ہم اپنے لئے حرام کو بھی حلال نہ کر لیں ۔عید کے تین دنوں میں رشتہ دار و اقارب کی دعوتوں پہ اسراف سے اجتناب کیجئے ۔ سارا مہینہ تو ہم اس بات پہ خوش رہے کہ شیطانوں کو جکڑ دیا گیا ہے لیکن ان تین دن کی دعوتوں کہیں ہم اس آیت کا مصداق تو نہیں بن جاتے "إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين” یقینا فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں ۔رمضان نے شیطان سے نفرت کا جو جذبہ پیدا کیا تھا۔ اپنے عمل اور کردار سے اس نفرت کا ثبوت دیجئے۔ دعوت ضرور کیجئے لیکن اعتدال اور میانہ روی کا دامن نہ چھوٹنے پائے اور اپنے دستر خوانوں پہ مساکین کی جگہ ضرور رکھئے ۔اللہ ان میں برکتیں ڈال دے گا۔عید الفطر کا ایک اہم پیغام کہ تمام مسلمانوں کو ایک میدان میں جمع کر کے،عورتوں کو بھی نماز عید میں شامل ہونے کا حکم دے کر، نماز نہ پڑھنے والی عورتوں کو بھی مسلمانوں کی عید گاہ میں پہنچنے کا حکم دے کر اتفاق واتحاد کو عملی جامہ پہنانا ہے ۔اتفاق واتحاد کی ایک اعلی مثا ل پیدا کرنی ہے۔باہمی کدورتیں اور نفرتیں، قبائلی و علاقائی تعصبات، مسلکی وسیاسی تفریقات اور افتراقات کو بھلا کر ایک میدان میں اکٹھے ہو کر اہل اسلام کی یگانگت کا عملی مظاہرہ کیا جائے ۔اس قدر خوبصورت معاشرتی اقدار رکھنے والے دین کے پیروکار عید کے اس پر مسرت موقع پہ لسانیت و قومیت کا گھناؤنا کھیل کھیل کر ایک اسلامی ملک کے تشخص کو مسخ کرنا چاہتے ہیں یا اپنے کامل دین اسلام کی خوبصورت تصویر کو دنیا میں بدنما کرنا چاہتے ہیں یا ملک و ملت کے دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں؟ آئیے رمضان کے آخر میں عید کے پر مسرت موقع پہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے اپنی قوم کے سر کو فخر سے بلند کیجیے۔