Baaghi TV

Tag: ہم جنس پرست

  • پاکستانیوں سمیت دیگر کا برطانیہ میں رہائش کیلئے خود کو ہم جنس پرست ظاہر کرنے کا انکشاف

    پاکستانیوں سمیت دیگر کا برطانیہ میں رہائش کیلئے خود کو ہم جنس پرست ظاہر کرنے کا انکشاف

    بی بی سی کی خفیہ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ قانونی مشیر پناہ گزینوں کو ہم جنس پرستوں کے طور پر سیاسی پناہ حاصل کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

    بی بی سی کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق کچھ مشیر اور وکیل پناہ گزینوں کو سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے ہم جنس پرست ہونے کا جھوٹا دعویٰ کرنے کی ترغیب اور مدد دیتے ہیں یہ پناہ کے قوانین کو غلط استعمال کرنے کی ایک کوشش ہے۔

    تحقیقات میں سامنے آیا کہ پناہ کے متلاشی افراد کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ حکام کو بتائیں کہ انہیں ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے اپنے ملک میں خطرہ ہے، یہ مسئلہ ان پناہ کے متلاشیوں کے لیے قانونی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے جو واقعی خطرے کا شکار ہیں، برطانوی حکومت نے پناہ کے طریقہ کار میں سختی کی ہے، جس سے اس طرح کے معاملات پر مزید نظر رکھی جا رہی ہے۔

    اس کے بعد وہ ہم جنس پرست ہونے کا دعوی کرتے ہوئے پناہ کی درخواست دیتے ہیں اور اگر وہ پاکستان یا بنگلہ دیش واپس لوٹتے ہیں تو انہیں اپنی جانوں کا خطرہ ہے بی بی سی کی اس رپورٹ کے جواب میں ہوم آفس نے کہا کہ "جو کوئی بھی نظام کا استحصال کرنے کی کوشش کرتا پایا گیا اسے قانون کی پوری طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا، بشمول برطانیہ سے اخراج بھی۔”

    برطانیہ کا سیاسی پناہ کا عمل ان لوگوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے جو اپنے آبائی ممالک واپس نہیں جا سکتے کیونکہ وہ خطرے میں ہوں گے، مثال کے طور پر پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں جہاں ہم جنس پرستوں کا جنسی تعلق غیر قانونی ہے جن میں سب سے زیادہ تعداد پاکستانیوں کی تھی،پاکستانی طالب علم اور وزٹ ویزا رکھنے والے، وکلاء کی مدد سے، پناہ کے دعوے کرنے کے لیے "شواہد” جمع کرتے ہیں کہ وہ ہم جنس پرست ہیں-

    لیکن بی بی سی نیوز کی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ قانونی مشیروں کی طرف سے اس عمل کا منظم طریقے سے استحصال کیا جا رہا ہے جو ملک میں رہنے کے خواہشمند تارکین سے فیسیں لے رہے ہیں یہ اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے سٹوڈنٹ، ورک یا سیاحتی ویزے کی میعاد ختم ہو چکی ہوتی ہے، بجائے اس کے کہ وہ لوگ جو چھوٹی کشتیوں پر یا دوسرے غیر قانونی راستوں سے ملک میں پہنچے ہوں یہ گروپ اب تمام سیاسی پناہ کے دعووں کا 35% بناتا ہے، جو 2025 میں 100,000 سے اوپر تھا۔

    رپورٹ کے مطابق ابتدائی شواہد اکٹھے کرنے کے بعد، بشمول ٹپ آف، خفیہ رپورٹرز کو یہ تحقیق کرنے کے لیے بھیجا کہ امیگریشن ایڈوائزر کس طرح لوگوں کو پناہ کے جھوٹے دعوے کرنے میں مدد کرنے کے لیے تیار تھےرپورٹرز نے خود کو پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی طلباءظاہر کیا جن کے ویزے ختم ہونے والے تھے۔

    تحقیقات نے دریافت کیا ایک قانونی فرم نے سیاسی پناہ کا من گھڑت دعویٰ لانے کے لیے 7,000 پاؤنڈ تک چارج کیا اور وعدہ کیا کہ ہوم آفس کی طرف سے انکار کا امکان "بہت کم” ہے جعلی سیاسی پناہ کے متلاشی اپنے کیسوں کو تقویت دینے کے لیے طبی ثبوت حاصل کرنے کے لیے افسردہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے جی پیز کے پاس گئے، یہاں تک کہ ایک نے ایچ آئی وی پازیٹیو ہونے کا جھوٹ بھی بولا۔

    ایک امیگریشن ایڈوائزر نے فخر کیا کہ اس نے جعلی دعوے لانے میں مدد کرنے میں 17 سال سے زیادہ کا وقت گزارا ہے اور کہا کہ وہ کسی کو یہ دکھاوا کرنے کا بندوبست کر سکتی ہے کہ اس کے کسی کلائنٹ کے ساتھ ہم جنس پرستوں کے جنسی تعلقات ہیں خفیہ رپورٹر کو یہاں تک کہا گیا کہ وہ برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے بعد اپنی بیوی کو پاکستان سے لا سکتا ہے اور پھر وہ ہم جنس پرست ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔

    ایک اور فرم سے منسلک ایک وکیل نے ایک خفیہ رپورٹر کو بتایا کہ اس نے لوگوں کو ہم جنس پرست یا ملحد ہونے کا بہانہ کرنے میں کامیابی سے پناہ حاصل کرنے میں مدد کی تھی۔ اس نے £1,500 کی فیس کے لیے جعلی دعوے میں مدد کرنے کی پیشکش کی اور کہا کہ ثبوت بنانے کے لیے مزید £2,000-£3,000 خرچ ہوں گے جبکہ یہاں کوئی بھی ہم جنس پرست نہیں ہے’.

    مشرقی لندن کے بیکٹن کے ایک پُرسکون کونے میں واقع ایک کمیونٹی سنٹر میں منگل کی شام، 175 سے زیادہ لوگ ایک تقریب کے لیے جمع ہوئےکچھ نے Worcester LGBT کے زیر اہتمام ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے ساؤتھ ویلز، برمنگھم اور آکسفورڈ تک کا سفر کیا ہے، جو خود کو ہم جنس پرستوں اور ہم جنس پرست پناہ گزینوں کے لیے ایک معاون گروپ کے طور پر بیان کرتا ہے۔

    گروپ کی ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ صرف حقیقی ہم جنس پرستوں کو ہی پناہ دی جاتی ہے لیکن سب کچھ ویسا نہیں ہے جیسا لگتا ہےفہر نامی ایک شخص کا کہنا ہے کہ "یہاں زیادہ تر لوگ ہم جنس پرست نہیں ہیں ذیشان نامی شخص نے کہا کہ "یہاں کوئی بھی ہم جنس پرست نہیں ہے۔ 1٪ بھی ہم جنس پرست نہیں ہیں۔ 0.01٪ بھی ہم جنس پرست نہیں ہیں۔”

  • جنوبی افریقہ میں دنیا کے پہلے ہم جنس پرست امام مسجد کا لرزہ خیز قتل

    جنوبی افریقہ میں دنیا کے پہلے ہم جنس پرست امام مسجد کا لرزہ خیز قتل

    کیپ ٹاؤن: جنوبی افریقہ میں دنیا کے پہلے ہم جنس پرست امام سمجھے جانے والے محسن ہینڈرکس کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ حملہ آوروں نے انہیں جنوبی شہر گیبرہ کے قریب نشانہ بنایا اور موقع سے فرار ہو گئے محسن ہینڈرکس ایک دوسرے شخص کے ساتھ گاڑی میں موجود تھے، جب ایک گاڑی ان کے سامنے آکر رک گئی دو نامعلوم حملہ آوروں نے گاڑی پر فائرنگ کی، جس میں محسن ہینڈرکس موقع پر ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کے ساتھ موجود ڈرائیور محفوظ رہا،

    اس کے بعد وہ جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے، اور ڈرائیور نے دیکھا کہ گاڑی کے پیچھے بیٹھے ہینڈرکس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا، قتل کے پیچھے اصل وجہ تاحال معلو م نہیں ہو سکی پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جو بھی اس کیس میں مدد فراہم کر سکتا ہو، وہ فوری طور پر آگے آئے۔

    محسن ہینڈرکس کا تعلق ایل جی بی ٹی کیو مسلم کمیونٹی سے تھا اور وہ 1996 میں ہم جنس پرست کے طور پر سامنے آئے تھے وہ جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن کے قریب الغربہ مسجد میں امامت کرتے تھے، جو ہم جنس پرست مسلمانوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ سمجھی جاتی تھی، یہ قتل جنوبی افریقہ میں ٹارگٹ کلنگ اور مذہبی آزادی کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دے رہا ہے، جبکہ ایل جی بی ٹی کیو تنظیموں نے محسن ہینڈرکس کے قتل کی مذمت کی ہے اور اس واقعے کو نفرت پر مبنی جرم قرار دیا ہے۔

    بین الاقوامی ہم جنس پرست،ابیلنگی، ٹرانس اور انٹرسیکس ایسوسی ایشن نے اس قتل کی مذمت کی ہے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر، جولیا اہرٹ نے ایک بیان میں کہا، "آئی ایل جی اے ورلڈ فیملی محسن ہینڈرکس کے قتل کی خبر پر گہرے صدمے میں ہے، اور حکام سے اس بات کی مکمل تحقیقات کرنے کا مطالبہ کرتا ہے کہ ہمیں خوف ہے کہ نفرت انگیز جرم ہو سکتا ہے۔”

  • بھارتی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستوں کی شادی فیصلے  پرنظر ثانی سے انکار

    بھارتی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستوں کی شادی فیصلے پرنظر ثانی سے انکار

    بھارتی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی حیثیت دینے کے اپنے 17 اکتوبر 2023 کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے اس سلسلے میں دائر نظر ثانی کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے میں کوئی قانونی خامی نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل بینچ نے اس معاملے کی بند چیمبر میں سماعت کی۔ بینچ کی سربراہی جسٹس بی آر گوائی کر رہے تھے، اور دیگر ججز میں جسٹس سوریہ کانت، بی وی ناگرتھنا، پی ایس نرسمہا اور دیپانکر دتہ شامل تھے۔ جن میں سے جسٹس نرسمہا وہ واحد جج ہیں جو 2023 میں سنائے گئے فیصلے کا حصہ تھے، جبکہ باقی چار ججز اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔نظر ثانی کی درخواستوں میں 13 درخواستیں دائر کی گئی تھیں، جن میں یہ موقف اپنایا گیا کہ شادی کوئی بنیادی حق نہیں ہے اور ہم جنس پرستوں کو اپنے ساتھی کا انتخاب کرنے اور ان کے ساتھ رہنے کا حق تو حاصل ہے، مگر حکومت ان کے رشتہ کو شادی کا درجہ دینے یا کسی اور طریقے سے قانونی حیثیت دینے کا حکم نہیں دے سکتی۔ درخواست گزاروں نے مزید کہا کہ حکومت ایسے جوڑوں کے تحفظات پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ ہم جنس پرست جوڑے بچوں کو گود نہیں لے سکتے۔ عدالت نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ حکومت اور پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور اس پر قانون سازی کے فیصلے کا اختیار انہیں دیا گیا ہے۔

    اس فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی عدالت نے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے بارے میں اس معاملے میں حکومت اور قانون سازوں کو فیصلہ سازی کا اختیار دیا ہے، اور عدالت نے اس اہم معاملے پر مزید قانونی بحث کی ضرورت نہیں سمجھی۔

    واضح رہے کہ 2023 میں بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے سے انکار کر دیا تھا تا ہم عدالت نے مودی سرکارکو حکم دیا کہ ہم جنس پرست کمیونٹی کے حقوق کو یقینی بنایا جائے،عدالت نے اس حوالہ سے قانون سازی کی بھی ہدایت کی ہے

    بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چندر چوڑ نے بھارت کی مرکزی حکومت اور تمام ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ یقینی بنائیں کہ ہم جنس پرستوں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کیا جائے،انکے حقوق بارے عوام کو آگاہی دی جائے،جن ہم جن پرستوں کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے انکو حکومت تحفظ فراہم کرے ،حکومت یہ بات بھی یقینی بنائے کہ مختلف جنس والے بچوں کو آپریشن پر مجبور نہ کیا جائے،

    بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے فیصلے میں کہا کہ جنسی رجحان کی بنیاد پر یونین میں داخل ہونے کے حق پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، متضاد تعلقات میں خواجہ سرا افراد کو موجودہ قوانین بشمول پرسنل لاز کے تحت شادی کرنے کا حق ہے،غیر شادی شدہ جوڑے، بشمول ہم جنس پرست جوڑے، مشترکہ طور پر بچے کو گود لے سکتے ہیں،مرکزی ھکومت ہم جنس پرستوں کی یونین کے حقوق اور اختیارات کے لئے کمیٹی تشکیل دے، ہم جنس جوڑوں کو راشن کارڈ میں بھی شامل کرنے پر غور کیا جائے،بینک اکاؤنٹس کھلوانے میں ان کے لئے مسائل نہ بنائے جائیں،عدالت قانون نہیں بنا سکتی بلکہ صرف اس کی تشریح کر سکتی ہے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنا سکتی ہے،

    بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اگر اسپیشل میرج ایکٹ کو ختم کر دیا جائے تو یہ ملک کو آزادی سے پہلے کے دور میں واپس لے جائے گا، اسپیشل میرج ایکٹ کے نظام میں تبدیلی کرنی چاہئے یا نہیں، اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا ہے، اس عدالت کو محتاط رہنا چاہیے کہ وہ قانون سازی کے میدان میں داخل نہ ہوں،ہم جنس پرستوں کا معاملہ دیہی یا شہری کا نہیں لوگ ہم جنس ہوسکتے ہیں چاہے ان کا تعلق کسی گاؤں یا شہر سے ہو، صرف انگریزی بولنے والا یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ ہم جنس پرست ہے یہ ایک کھیتوں میں کام کرنے والی عورت بھی ہوسکتی ہے،ہ ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قاعدے کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا

    سپریم کورٹ نے اس کیس میں بھارتی حکومت کا مؤقف بھی ریکارڈ کیا جس میں کہا گیا کہ حکومت ہم جنس پرستوں کو حقوق اور سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک کمیٹی قائم کرے گی جو ان چیزوں کا جائزہ لے گی،بھارتی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی تاہم حکومت نے اس درخواست کی مخالفت کی تھی۔

    یورپ ہم جنس پرستی میں پاگل،پاکستان،روس اس پاگل پن کے مخالف ہیں،روسی سفیر

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    برطانیہ؛ہم جنس پرست جوڑے کو ہراساں کرنے والے باس پر کروڑوں روپے جرمانہ

    ہندوستان ایک ہم جنس پرست ملک ہے آیوشمان کھرانہ

    ہم جنس پرستی کو پاکستان میں قانونی تحفظ،مخالفت کریں گے،زاہد محمود قاسمی

    ہم جنس پرست خواتین ڈاکٹرز نے آپس میں منگنی کر لی

  • روس میں پولیس کا نائٹ کلب پر چھاپہ،  "ہم جنس پرستی کی حمایت” 7 گرفتار

    روس میں پولیس کا نائٹ کلب پر چھاپہ، "ہم جنس پرستی کی حمایت” 7 گرفتار

    روس میں پولیس نے ایک نائٹ کلب پر چھاپے کے دوران سات افراد کو مبینہ طور پر "کچھ زیادہ ہی ہم جنس پرست نظر آنے” کے الزام میں گرفتار کر لیا اور ان پر جرمانہ عائد کر دیا۔

    یہ واقعہ تولا شہر کے ایک نائٹ کلب میں پیش آیا، جس کی تفصیلات آزاد روسی میڈیا آؤٹ لیٹ کی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔ ان افراد پر روس میں گزشتہ ایک دہائی سے ممنوع "غیر روایتی جنسی تعلقات میں دلچسپی پیدا کرنے” کا الزام عائد کیا گیا۔روس کا یہ قانون بنیادی طور پر ایل جی بی ٹی مواد کی تشہیر پر لاگو ہوتا ہے، لیکن اس چھاپے کے دوران کلب میں موجود افراد کے لباس اور ظاہری شکل کو غیر روایتی جنسی تعلقات کو فروغ دینے کے طور پر دیکھا گیا۔ ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو فوجی طرز کے لباس اور ہیلمٹ پہنے ہوئے آٹھ افراد کو حراست میں لیتے ہوئے دکھایا گیا۔ ان میں سے ایک شخص نے اپنے سینے پر کالے ٹیپ سے بنے ہوئے کراس چپکائے ہوئے تھے، جبکہ اس نے خواتین کے طرز کا کارسیٹ بھی پہنا ہوا تھا۔ ایک دوسرے شخص نے چمکدار نارنجی بال، سرخ ٹیٹو سے سجے چہرے، گلابی موزے اور کھلا کیمونو پہن رکھا تھا۔ ایک اور شخص نے کروپ ٹاپ، سیاہ چمڑے کی شارٹس اور فش نیٹ ٹائٹس پہنے ہوئے تھے۔

    پولیس کی جانب سے ان افراد کے لباس اور ظاہری شکل کو روایتی جنسی رجحانات کے حامل مردوں کے امیج سے مطابقت نہ رکھنے والا قرار دیا گیا۔ حراست میں لیے گئے آٹھ افراد میں سے سات کو جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ ایک شخص — جو کہ ایک مرد بارٹینڈر تھا — اس دعوے کے ساتھ جرمانے سے بچ گیا کہ وہ عام فیشن کے لباس میں تھا اور اس کا کوئی جنسی رجحان نہیں تھا۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب روسی حکومت روایتی اقدار کو فروغ دینے کے لیے اپنی اینٹی ایل جی بی ٹی پالیسیوں کو مزید سخت کر رہی ہے۔ ان پالیسیوں میں "بچوں کے بغیر زندگی گزارنے کے طرزِ زندگی کی تشہیر” پر بھی پابندی شامل ہے۔ نومبر 2024 میں بھی روسی حکام نے ماسکو میں متعدد بارز اور نائٹ کلبز پر چھاپے مارے تھے اور انہیں ایل جی بی ٹی پروپیگنڈا کے خلاف قوانین کے تحت نشانہ بنایا تھا۔

    روس کی یہ پالیسیز اس وقت دنیا بھر میں تنازعہ کا باعث بنی ہوئی ہیں، جہاں ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور افراد کی ذاتی آزادیوں کے احترام کی کمی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کو ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے حقوق کے خلاف ایک حملہ سمجھا جا رہا ہے اور اس پر بین الاقوامی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے

    ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ

    ہم جنس پرست ٹورز کے آرگنائزر کی جیل میں پراسرار ہلاکت

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

  • ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ

    ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ

    چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کا عروج ایک غیر معمولی کہانی ہے، خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں ہم جنس پرست کمیونٹی کے افراد کے لیے کھل کر جینا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ 57 سالہ جن ژنگ چینی شو بز کی ایک نمایاں شخصیت ہیں اور ان کا شمار ٹرانسجینڈرز کے لیے چین میں کامیابی اور قبولیت کی ایک نایاب مثال کے طور پر کیا جاتا ہے حکومتی سطح پر بھی۔

    جن ژنگ نے نہ صرف اپنی محنت اور لگن سے ایک طویل کیریئر بنایا ہے بلکہ ان کی کامیابیوں کو کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔ وہ کنسرٹس کرتی ہیں، ٹی وی ٹاک شوز کی میزبانی کرتی ہیں اور ان کے ویبو پر 13.6 ملین فالوورز ہیں۔ اس کے علاوہ، چینی ریاستی میڈیا نے انہیں "چینی جدید رقص کی 10 عظیم شخصیات” میں شمار کیا ہے اور ان کے بارے میں مسلسل تعریفی پروفائلز شائع کیے ہیں۔لیکن حالیہ دنوں میں جن ژنگ کے شو کو مقامی حکام کی جانب سے اچانک اور غیر وضاحتی منسوخی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے کچھ افراد یہ خوف ظاہر کر رہے ہیں کہ چینی رہنما شی جن پنگ کے اقتدار کے مضبوط ہونے کے بعد حکومت ملک کی سب سے مشہور کھل کر ٹرانسجینڈرز شخصیت کے ساتھ سختی کر سکتی ہے۔

    چین میں ٹرانسجینڈرز اکثر سماجی دباؤ اور ادارہ جاتی امتیاز کا سامنا کرتے ہیں، خاص طور پر کام کی تلاش یا سڑکوں پر چلتے ہوئے نظر آنے کے حوالے سے ان پر شدید توہین کی جاتی ہے۔ جن ژنگ نے اس معاشرتی حقیقت کے باوجود ایک کامیاب کیریئر بنایا ہے جو تمام تر روایات کے برخلاف ہے۔ ان کی کامیابی اور مسلسل فعالیت ایک امید کی کرن بنی ہوئی ہے کہ شاید ایک دن چین اپنے ہم جنس پرست کمیونٹی کے اراکین کو بھی اتنی ہی قبولیت دے گا جتنی جن ژنگ کو ملی ہے۔لیکن حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی سطح پر جن ژنگ کی پذیرائی اب کم ہوتی جا رہی ہے۔ جنوبی چین کے شہر گوانگ ژو میں گزشتہ سال کے آخر میں جن ژنگ کے ڈانس تھیٹر کے شو کو مقامی حکام نے "نامکمل دستاویزات” کی وجہ سے منسوخ کر دیا تھا، اس کے بعد مختلف شہروں میں بھی ان کے شو منسوخ کیے گئے،

    چین میں ہم جنس پرست کمیونٹی کے مسائل پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ جن ژنگ کی مقبولیت اور کامیابی نے انہیں حکومتی سطح پر حمایت فراہم کی تھی، تاہم حالیہ برسوں میں چینی حکومت کی طرف سے مغربی اقدار کے اثرات کے خلاف کریک ڈاؤن اورہم جنس پرست کمیونٹی کے خلاف سخت موقف اپنانے کے باعث ان کی پذیرائی میں کمی آئی ہے۔پروفیسر سیم ونٹر، جو کرٹین یونیورسٹی میں ایشیائی ٹرانسجینڈرز مسائل کے ماہر ہیں، کا کہنا ہے کہ "جن ژنگ کی حمایت انہیں ان کی طویل کامیابیوں کی وجہ سے حاصل ہوئی، جسے حکام نظرانداز نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں، اور شاید یہ لبرل ماحول کی طرف پیش رفت ہی مسئلہ بن گئی ہے۔”

    چین میں ہم جنس پرستی کو 1997 میں غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور اسے 2001 میں ذہنی بیماریوں کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔ کچھ سال پہلے تک ہم جنس پرست کمیونٹی کو شنگھائی میں سالانہ پرائیڈ پریڈ منانے کی اجازت تھی اور وی چیٹ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات کا تبادلہ کرنے کی آزادی تھی۔ تاہم، شی جن پنگ کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ تمام اقدامات اور آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔جن ژنگ کے حکام کے ساتھ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب گوانگ ژو کے کلچرل، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور سیاحت کے بلدیاتی ادارے نے ان کے شو کو "دستاویزات کی کمی” کے سبب منسوخ کر دیا۔ جن ژنگ نے اس فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ویبو پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے حکام سے وضاحت طلب کی اور کہا کہ "براہ کرم عوامی طاقت کا غلط استعمال نہ کریں!”

    چین میں حکام کے خلاف براہ راست چیلنجز کرنا نایاب اور خطرے سے بھرا ہوا عمل ہے۔ جن ژنگ کی اس پوسٹ کے بعد ان کے شو چینی شہروں فوشان، سوژو اور شنگھائی میں بھی منسوخ کر دیے گئے، جن میں سے کچھ کو کسی وضاحت کے بغیر ختم کر دیا گیا۔چینی حکام نے ان الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ ان کے شو کی منسوخی دستاویزات کی کمی کی وجہ سے ہوئی تھی۔ تاہم، جن ژنگ کی حالیہ ویبو پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ وہ اس فیصلے سے خاصی پریشان ہیں، کیونکہ انہیں 40 سالوں سے چین میں پرفارم کرنے کی اجازت تھی۔

    ویبو پر کچھ صارفین نے قیاس کیا کہ جن ژنگ نے شاید کسی ناپسندیدہ لکیریں عبور کر لی ہوں، خاص طور پر جب وہ ایک پچھلے شو کے دوران ایک رنگین پرچم اٹھائے ہوئے نظر آئیں جس پر "محبت محبت ہے” کا نعرہ لکھا تھا، جو کہ ہم جنس پرست کمیونٹی کا عالمی علامت ہے۔چینی حکام کے لیے رنگین پرچم کی یہ علامت ایک حساس موضوع بن چکی ہے، اور ان کے لیے یہ کسی بھی قسم کی آزادی یا اختلاف رائے کی علامت سمجھا جاتا ہے جو حکومت کی پالیسی کے خلاف ہو۔

    ہم جنس پرست ٹورز کے آرگنائزر کی جیل میں پراسرار ہلاکت

    ہم جنس پرست جوڑے کو گود لیے بچوں سے جنسی زیادتی پر 100 سال قید کی سزا

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

  • ہم جنس پرست جوڑے کو گود لیے بچوں سے جنسی زیادتی پر 100 سال قید کی سزا

    ہم جنس پرست جوڑے کو گود لیے بچوں سے جنسی زیادتی پر 100 سال قید کی سزا

    جارجیا: امریکی ریاست جارجیا میں ایک ہم جنس پرست جوڑے نے دو گود لیے بچوں کو 10 اور 12 سال کے ہونے پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

    باغی ٹی وی : نیویارک پوسٹ نے والٹن کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہم جنس پرست جوڑے 34 سالہ ولیم اور 36 سالہ زچری زولک نے پہلے دو بھائیوں کو ”کرسچن اسپیشل نیڈز ایجنسی“ سے گود لیا،اور بچوں کی پرورش اٹلانٹا کے ایک متمول مضافاتی علاقے میں ایک خوش کن خاندان کی آڑ میں کی، اس کے بعد ان بچوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور اس جرم میں اب یہ جوڑا اپنی بقیہ زندگی پیرول کے بغیر جیل میں گزارے گا۔

    نیو یارک پوسٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ اٹارنی رینڈی میک گینلی نے کہا کہ انسانی حقوق کی آڑ میں انہوں نے بچوں کا جو استحصال کیا ہے وہ انتہائی دردناک جرم ہے، قانون نے انہیں 100 سال قید کی سزا سنائی ہے ولیم اور زچری نے حقیقت میں ایک خوفناک کھیل کھیلا ہے اور اپنی بدترین خواہشا ت کو ہر چیز سے بالاتر رکھا، مجرم خواہ کتنا ہی گھناؤنا کھیل کیوں نا کھیلے، انصاف کے لیے لڑنے والوں کے عزم اور طاقت سے اوپر نہیں ہے۔
    کم عمری کی شادیاں اور چائلڈ لیبر ، محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کے حیران کن اعدادو شمار جاری
    ڈسٹرکٹ اٹارنی نے کہا کہ پچھلے دو سال کے دوران جوڑے کو ان دونوں بچوں کے خلاف جو برائی اور ظلم پر عمل پیرا دیکھا ہے وہ واقعی حیران کن اور نہایت افسوسناک ہے مجرم زچری بینکنگ سیکٹر میں کام کرتا ہے اور ولیم ایک سرکاری ملازم کے طور پر کام کرتا ہے۔

    یہ ہم جنس پرست جوڑا اپنی بہترین زندگی گزار رہا تھا، اس کے باوجود دونوں نے نوجوان بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور یہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پیڈو فائل پورنوگرافی بھی فلمائی،ولیم اور زچری کو 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا۔
    چیمپئینز ٹرافی،برطانوی اخبار نے انڈیا کرکٹ بورڈ کا پول کھول دیا
    جوڑے کے دوستوں میں سے ایک نے پولیس کو بتایا کہ زچری نے ایک بار سنیپ چیٹ پر ایک لڑکے کے ساتھ بدسلوکی کرتے ہوئے اپنی تصاویر شیئر کیں اور لکھا کہ میں آج رات اپنے بیٹے کو ریپ کرنے جا رہا ہوں، دیکھتے رہو۔

    نیو یارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، اس ہم جنس پرست جوڑے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کرتے ہوئے بھائیوں کو ایک مقامی پیڈو فائل سیکس رِنگ کے کم از کم دو مردوں کے ساتھ جسم فروشی میں کے لیے بھرتی بھی کیا،گینگ کے ایک مبینہ رکن کو پولیس نے چائلڈ پورنوگرافی ڈاؤن لوڈ کرتے ہوئے گرفتار کیا اور اس جوڑے تک پہنچ گئے، گرفتار شخص نے بعد میں تفتیش کاروں کویہ بھی بتایا کہ ولیم اور زچری اپنے گھر میں رہنے والے اپنے دو نوجوان گود لیے ہوئے بچوں کے ساتھ کس طرح اکثر فحش ویڈیوز بناتے تھے،عدالت میں، دونوں مجرموں نے بچوں کے جنسی استحصال کا جرم قبول کیا۔
    غزہ میں اسرائیلی فوج کے 2 افسر اور ایک سپاہی ہلاک

  • ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    سعودی عرب نے فیفا ورلڈ کپ کے لیے ہم جنس پرستوں کو بھی سعودی عرب آنے کی اجازت دے دی ہے

    انگلینڈ کی فٹ بال ایسوسی ایشن (ایف اے) نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے 2034 کے ورلڈ کپ کے دوران ہم جنس پرست مداحوں کی حفاظت اور ان کے خیرمقدم کے حوالے سے ضمانتیں دی ہیں۔ایف اے کی چیئرپرسن، ڈیببی ہیوِٹ، نے کہا کہ سعودی عرب کی بولی کی حمایت کرنے کا فیصلہ "مشکل نہیں تھا”، اور منتظمین کی طرف سے کئی اہم وعدوں کا حوالہ دیا۔بی بی سی ریڈیو 5 لائیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں ہیوِٹ نے وضاحت کی کہ ایف اے نے بولی کی حمایت سے قبل "کئی سوالات” کیے تھے۔ انہوں نے کہا، "یہ فیصلہ مشکل نہیں تھا – یہ ایک جامع عمل تھا۔””ہم نے تفصیل سے سوالات کیے، اور سعودی عرب نے کافی وقت اور وعدے فراہم کیے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اگلے دس سالوں تک ان کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ یہ وعدے دونوں فریقوں کی طرف سے پورے کیے جائیں”،

    پچھلے ماہ، ایف اے نے سعودی عرب فٹ بال فیڈریشن (ایس اے ایف ایف) کے ساتھ ایک ملاقات کی تھی تاکہ بولی کی تفصیلات پر مزید بات چیت کی جا سکے۔ انہوں نے سعودی عرب کی فٹ بال فیڈریشن کی اس عزم پر اعتماد ظاہر کیا کہ وہ تمام مداحوں کے لیے، بشمول ہم جنس پرست کمیونٹی کے، ایک محفوظ ماحول فراہم کرے گی۔ہیوِٹ نے کہا، "ہمیں جو جوابات ملے ان سے ہم پُرعزم ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ یہ شراکت داری قائم کرنے کا معاملہ ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایف اے منتظمین کو صحیح گروپوں کی نشاندہی کرنے میں مدد فراہم کرے گا تاکہ مشاورت کی جا سکے۔

    گزشتہ ہفتے فیفا نے اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب 2034 میں مردوں کا فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی کرے گا۔ سعودی عرب کی بولی کو کسی بھی حریف کی جانب سے مخالفت کا سامنا نہیں ہوا، اور فیفا کے کانگریس نے اسے ایک ورچوئل اجلاس میں منظور کیا۔

    سعودی عرب میں ہم جنس پرستی کے خلاف سخت قوانین ہیں اور اس ملک میں ہم جنس تعلقات کی سزا سزائے موت ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت تقریباً دو درجن انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ سعودی عرب کو 2034 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی دینے سے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں اضافہ ہوگا۔ بیان میں کہا گیا، "یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ فیفا نے سعودی عرب میں جاری نسل پرستی، مزدوروں کے استحصال، اور شہریوں کو جبراً بے دخل کرنے جیسے مسائل کو نظر انداز کیا۔”

    ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اسٹیو کاک برن نے کہا، "فیفا کا سعودی عرب کی بڈ کی اس طرح سے حمایت کرنا اس ملک کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو سفید بنانے کے مترادف ہے۔ فیفا کے اس فیصلے سے سعودی عرب میں محنت کشوں کا استحصال، شہریوں کی جبری بے دخلی اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے سلسلے میں مزید شدت آئے گی۔” سعودی عرب میں ہم جنس پرستوں کے لیے حالات انتہائی سنگین ہیں۔ ایک سعودی خاتون کارکن نے کہا، "ہم سعودی عرب کو ‘معتدل خطرہ’ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ یہ ملک ایک خالص پولیس اسٹیٹ بن چکا ہے جہاں انسانی حقوق کی پامالی معمول بن چکی ہے۔”

    ہم جنس پرست امریکی سے اب پی ٹی آئی کو امیدیں

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    بھارتی میڈ یا کا نیا شوشہ، اداکارہ ریکھا کو ہم جنس پرست قرار دیدیا

    ہم جنس پرستی بارے گفتگو پر یونائیٹڈ ایئر لائن کا فلائٹ اٹینڈنٹ برطرف

    پی ٹی آئی کا ناروے کی ہم جنس پرستی کی حامی پارٹی سے رابطہ

  • عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

    امریکا کے نو منتخب صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھی ،ہم جنس پرست اور نیشنل انٹیلی جنس کے سابق قائم مقام ڈائریکٹر، رچرڈ گرینل کو "ایلچی برائے خصوصی مشنز” مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    رچرڈ گرینل، جو کہ ایک معروف ہم جنس پرست شخصیت ہیں، کچھ دن پہلے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی کر چکے ہیں۔ 26 نومبر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پی ٹی آئی کے احتجاج کے حوالے سے بلوم برگ کی ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے رچرڈ گرینل نے لکھا کہ "عمران خان کو رہا کیا جائے”۔ ان کے اس مطالبے پر پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری نے شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

    رچرڈ گرینل ماضی میں کئی تنازعات کا شکار رہے ہیں جن میں خواتین کے حوالے سے بے ہودہ ٹوئٹس، ان کی ہم جنس پرستی اور بعض سیاسی مخالفین پر ذاتی حملے شامل ہیں۔ ان کا سیاسی سفر خاصا متنازعہ رہا ہے۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران جرمنی میں امریکا کے سفیر رہے، اور اس دوران ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے اپنے عہدے کو یورپ میں دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔

    امریکی اخبار کے مطابق، رچرڈ گرینل وزیر خارجہ بننے کی امید رکھتے تھے اور انہیں ٹرمپ کی طرف سے وزارت خارجہ میں بڑی پوزیشن دینے کی توقع تھی۔ وہ اقوام متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان بھی رہ چکے ہیں، جہاں ان کے بیانات اور ٹوئٹس نے انہیں متعدد بار تنازعات میں گھیر لیا۔

    ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ رچرڈ گرینل وینزویلا اور شمالی کوریا جیسے عالمی سطح پر اہم مقامات پر کام کریں گے۔ گرینل نے 2018 سے 2020 تک جرمنی میں امریکا کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں، اور انہیں خاص طور پر مشرق وسطیٰ اور یورپ میں امریکا کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے جانا جاتا ہے۔یاد رہے کہ گرینل کو وینزویلا کے لیے بطور ایلچی اہم ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں، خاص طور پر 2023 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے تناظر میں، جنہیں وسیع پیمانے پر دھوکہ دہی پر مبنی سمجھا گیا تھا۔

    رچرڈ گرینل کے حوالے سے کئی تنازعات نے سر اٹھایا ہے، جن میں ان کی خواتین کے بارے میں کی جانے والی بے ہودہ ٹوئٹس شامل ہیں۔ 2012 میں جب وہ خارجہ پالیسی کے مشیر بنے، تو ان کی ٹوئٹس کی وجہ سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان ٹوئٹس میں خواتین خصوصاً ڈیموکریٹس اور لبرلز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس پر ان کو بعد میں یہ ٹوئٹس ڈیلیٹ کرنا پڑے۔ان کے ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے قدامت پسند حلقوں میں شدید ردعمل بھی دیکھنے کو ملا، اور ان کی تقرری پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ تاہم، گرینل نے ہمیشہ اپنی جنسیت کو کھل کر تسلیم کیا ہے اور اپنے موقف کا دفاع کیا ہے۔

    رچرڈ گرینل کی نئی ذمہ داریوں پر امریکی سیاست میں مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض حلقے ان کی تقرری کو ٹرمپ کی جانب سے ایک اور متنازعہ قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کو سراہ رہے ہیں۔ڈیموکریٹک نیشنل سکیورٹی لیڈر سوزن ای رائس نے گرینل کو سب سے زیادہ "خراب بے ایمان” افراد میں سے ایک قرار دیا ہے، جو کہ ان کے سیاسی مخالفین کی نظر میں گرینل کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔

  • ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    ڈیٹنگ ایپس ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں،ہم جنس پرستوں کو ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے لالچ، لوٹ مار، حملہ اور متعدد واقعات میں دھمکیاں بھی دی گئی ہیں

    معصوم افراد کو دھوکہ دینے کے لیے ڈیٹنگ ویب سائٹس کا استعمال بہت عام ہے۔بھارت کے ضلع گجرات میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس میں ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ہم جنس پرست کو نہ صرف لوٹا گیا بلکہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، برہنہ ویڈیو بھی بنائی گئی اور اسے وائرل کرنے کی بھی دھمکی دی گئی ،احمد آباد مرر کی ایک خصوصی رپورٹ نے ایک ایسے کیس کا انکشاف کیا جس میں ایک نوجوان ہم جنس پرست کے ساتھ زیادتی ہوئی، 21 اگست کو، شہر کے سیٹلائٹ علاقے میں رہنے والے ایک 32 سالہ شخص نے سیٹلائٹ پولیس اسٹیشن کو اطلاع دی کہ اسے ایک ایسے شخص نے لوٹ لیا جس کا تعلق ہم جنس پرست کمیونٹی سے ہے۔ عام طور پر جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو ہم جنس پرستوں نے سماجی دباؤ کو دیکھتے ہوئے خاموش رہنے کا انتخاب کیا، لیکن اس معاملے میں، متاثرہ نے بہادری سےمقدمہ درج کروانے کا فیصلہ کیا.

    اس معاملے میں متاثرہ نے Grindr ایپ کا استعمال کیا، جو ہم جنس پرست لوگوں کے لیے ایک خصوصی ڈیٹنگ ایپ ہے۔ اس ایپ کے ذریعے اس کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جس نے خود کو ہم جنس پرستوں کا روپ دھارا ہوا تھا،مدعی مقدمہ کا کہنا تھا کہ "تقریباً پندرہ دن پہلے، خاص طور پر ہم جنس پرست کمیونٹی کے لیے ایک ایپ کو براؤز کرتے ہوئے، میری ملاقات ایک ایسے لڑکے سے ہوئی جس نے ہم جنس پرست ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔ ہم نے بات چیت کی، اور وہ اچھا اور دیکھ بھال کرنے والا لگ رہا تھا۔ تقریباً ایک ہفتہ قبل اس نے مجھے اپنے گھر بلایا جو میرے پڑوس میں تھا۔ میں وہاں گیا، لیکن مجھے صدمہ پہنچا کہ وہاں چار اور نوجوان موجود تھے،” ملزمان نے اسے برہنہ کیا اور مارنا پیٹنا شروع کر دیا جس کے بعد انہوں نے ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے متاثرہ کو یہ دھمکی بھی دی کہ اگر وہ ایک لاکھ روپے دینے میں ناکام رہے تو وہ معاشرے میں اس کا جنسی رجحان ظاہر کردیںگے اور بتا دیں گے کہ وہ ہم جنس پرست ہے،

    متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ "میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے۔ آخرکار 20,000 روپے میں وہ مان گئے ،انہوں نے میرا اے ٹی ایم کارڈ لے لیا، کپڑے اتارے ہوئے مجھے قید کر لیا، قریبی اے ٹی ایم سے رقم نکال لی، اور پھر مجھے جانے دیا۔ انہوں نے میری تصویریں کھینچیں اور دھمکی دی کہ اگر میں نے واقعے کی اطلاع دی تو وہ وائرل کر دیں گے۔

    احمد آباد سے ماضی میں ایسے ہی واقعات پیش آئے
    قابل ذکر ہے کہ احمد آباد میں اس طرح کا واقعہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ سائبر کرائم کے متاثرین کی مدد کرنے والی ایکٹوسٹ ایوشی شاہ کے مطابق، معاشرے میں غالب مرد تابعدار مردوں کو نشانہ بناتے ہیں اور انہیں معاشرے میں بے نقاب ہونے کی دھمکی دیتے ہیں۔ "یہاں، غالب مرد تابعدار کا استحصال کرتا ہے، اور اگر ایسے عناصر کو بے نقاب نہ کیا گیا، تو یہ سائبر کرائم کا ایک اور رجحان بن جائے گا جو خطرناک حد تک پہنچ سکتا ہے،”

    اس سے قبل، سال 2022 میں، احمد آباد پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا جنہوں نے ایک ہم جنس پرستوں کو ایک گی ڈیٹنگ ایپ کا استعمال کرتے ہوئے پھنسایا اور لوٹا تھا۔ یہ واقعہ بھی گرائنڈر ایپ کے ذریعے ہوا۔ پولیس کے مطابق، ملزمان نے پھر اعتراف کیا کہ انہوں نے اسی ایپ کا استعمال کرتے ہوئے مزید 15-20 ہم جنس پرستوں کو پھنسایا اور لوٹا تھا۔اس کے علاوہ، سال 2019 میں، احمد آباد پولیس نے ڈیٹنگ ایپ کا استعمال کرتے ہوئے ہم جنس پرستوں کو 50,000 روپے لوٹنے کے الزام میں 5 افراد کو گرفتار کیا۔ "ملزمان نے ایک ہی طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے کئی متاثرین کو لوٹنے کا اعتراف کیا ہے۔

    اس کے بعد گرائنڈر ایپ نے نوٹس لیتے ہوئے نسل پرستی، ٹرانس فوبیا، اور امتیازی سلوک کی دیگر اقسام کے خلاف "زیرو ٹالرنس پالیسی” کا اعلان کیا تھا اور آن لائن بدسلوکی کو کم کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم، چیزیں مشکل سے بدلی ہوئی نظر آتی ہیں۔

    بھارت میں ہم جنس پرستوں کی جنسیت اب کوئی جرم نہیں ہے، لیکن معاشرے کی طرف سے بے دخل کیے جانے یا ان کا مذاق اڑائے جانے کا خوف جنوبی ایشیائی ہم جنس پرست کمیونٹی کے بہت سے اراکین کو اپنی جنسی حیثیت چھپانے پر مجبور کرتا ہے، جس سے وہ بےایمانوں کے لیے آسان ہدف بن جاتے ہیں۔2009 میں لانچ کرنے کے بعد سے، Grindr کا دعویٰ ہے کہ وہ ہم جنس پرستوں، دو، ٹرانس، اور عجیب لوگوں کے لیے سب سے بڑی سوشل نیٹ ورکنگ ایپ بن گیا ہے۔ آج لاکھوں صارفین اس ایپ سے وابستہ ہیں، جنہیں اگلا ممکنہ شکار بننے کے خوف کا سامنا ہے۔ ایسے واقعات کی تفصیلی پولیس تحقیقات کی ضرورت ہے جو انصاف کی یقین دہانی کرائے گی۔

    ڈرامہ "برزخ” میں ہم جنس پرستی کا فروغ،عوام بائیکاٹ کرنے لگی

    نجم سیٹھی کا بیٹا گلوکار علی سیٹھی ہم جنس پرستی کو فروغ دینے لگا

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا ردعمل

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    یورپ ہم جنس پرستی میں پاگل،پاکستان،روس اس پاگل پن کے مخالف ہیں،روسی سفیر

    ہم جنس پرستی کو پاکستان میں قانونی تحفظ،مخالفت کریں گے،زاہد محمود قاسمی

    ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے، تنظیم اسلامی

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    مجھے نہیں لگتا کہ وفاقی حکومت ہم جنس پرستی کی حمایت کرے گی ؟جسٹس سید محمد انور

    ہم جنس پرست خواتین ڈاکٹرز نے آپس میں منگنی کر لی

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    شادی کیوں کر رہے؟ ہم جنس پرست حکیم نے دوستوں کو قتل کر کے اعضا کھا لئے

  • ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لئے ڈی سی ایبٹ آباد کو درخواست دی گئی ہے

    ہم جنس پرست کلب کے قیام کے لئے درخواست ڈی سی آفس میں 8 مئی 2024 کو دی گئی، درخواست LORENZO GAY CLUB کے لیے این او سی حاصل کرنے کے لیے جمع کروائی گئی ہے، ہم جنس پرست کلب کے قیام کے لئے درخواست پریٹم گیانی نامی ایک مقامی شہری کی جانب سے جمع کروائی گئی جو خود کو گلستان کالونی ایبٹ آباد کا رہائشی بتلاتا ہے،لورینزو گے کلب کے نام سے جمع کی جانے والی درخواست کے مندرجات میں یہ یقین دہانی کروائی جارہی ھے کہ کلب میں گے یا نان گے ممبرز کو بوس و کنار کے علاوہ سیکس نہ کرنے کی باقاعدہ وارننگ دیوار پر آویزاں کی جائینگی اور اس کلب کا قیام باقاعدہ طور پر بنیادی انسانی حقوق سے ہم آہنگ ہے،اراکین اور غیر اراکین دونوں کے لیے یہ کلب کھلا رہے گا جس میں اراکین کو قدرتی طور پر زیادہ سہولیات دستیاب ہونگی یہ کلب ایبٹ آباد اور ملک کے دیگر حصّوں میں رہنے والے کچھ ہم جنس پرست لوگوں کے لیے ایک بڑی عملی سہولت اور وسیلہ بنے گا۔

    ڈپٹی کمشنر آفس ایبٹ آباد کی جانب سے اس درخواست کی وصولی کی تصدیق کی گئی ہے تاہم زبانی طور پر ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے یہ کہا جا رہاہے کہ ایسی کسی درخواست پر عمل درآمد نہیں کیا جائیگا تاہم اس زبانی بیان کے باوجود یہ درخواست بجائے مسترد کرنے کے آگے فارورڈ کردی گئی ۔

    خیبر پختونخواہ کے شہر ایبٹ آباد میں ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا رد عمل سامنے آیا ہے

    جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ہی شرمناک ہے قوم کے لئے،انہی اعمال پر اللہ تعالیٰ نے بستیاں الٹ دی تھی، پتھروں کی بارش ہوئی تھی اور عذاب آیا تھا، اب ہم اس حد تک گر چکے ہیں کہ معاشرے میں ہم جنس پرستی کے کلب قائم کرنے کی اجازت مانگی جا رہی ہے،یہ معاملہ صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ کچھ افراد کی حد تک بات ہے، جب ٹرانس جینڈر ایکٹ آیا اسوقت جماعت اسلامی کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ یہ عالمی ایجنڈہ ہے اور تباہی ہمارے معاشرے کی طرف بڑھ رہی ہے ہم معیشت کو ٹھیک کرنے، سود ختم کرنے کی طرف قدم بڑھانے کی بجائے آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کا راستہ اختیار کر رہے ہیں تو یہ الحاد اور بے دینی اس کا حصہ ہے، وہ چاہتے ہیں ہم اسکو اپنا لیں اور اللہ کے غضب کو دعوت دیں،

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست ،ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنایا جائے، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
    ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا کہنا تھا کہ ضروری تھا کہ جیسے ہی ڈی سی کے پاس درخواست آئی تھی تو ایسے لوگوں کی گرفتاری کی جاتی، ان پر دہشت گردی کا پرچہ کروایا جاتا اور انکو جیلوں میں ڈالا جاتا، حکومت کو چاہئے کہ مکمل چھان بین کرے، کسی طرح علماء کرام معاشرے میں اس طرح کے کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، میڈیا بھی اس ضمن میں کردار ادا کرے، اس برائی کے خاتمے کے لئے سب کو کردار ادا کرنا ہو گا، کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، انہوں نے ریاست مدینہ کا نعرہ لگایا تھا اب انہیں اس سلسلے میں اپنا ایک کردار ادا کرنا چاہئے، جو بھی اسکے ذمہ دار ہیں انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے.

    پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ہم جنس پرست کلب کے قیام کی درخواست پر سوشل میڈیا پر صارفین کا ردعمل سامنے آیا ہے،ایک صارف قمر سہیل کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسیوں کے لیے خوشخبری۔ایبٹ آباد میں "گے” کلب کھولنے کی اجازت کے لیے درخواست دائر کر دی گئی۔ عنقریب دوسرے شہروں میں بھی اسکی برانچیں لانچ ہوں گی تا مسلمانوں کے ملک میں قوم لوط کے پیروکار اپنی غلاظت زدہ ذندگی انجوائے کر سکیں۔ پریتم گھانی سے مجھے شکایت نہیں۔ مجھ شکایت مولانا ابتسام جیسے دین کے ٹھیکیداروں سے ہے۔ ویسے امید ہے اس شکایت کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ جب گے ملک کا وزیراعظم ہو گا تب ملک میں لوطی کلب ہی کھلیں گے نمل اور قادر جیسی یونیورسٹیاں نہیں۔

    شہاب الدین نے ٹویٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اسلامی، آئینی و قانونی نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایبٹ آباد انتظامیہ نے ہم جنس پرست افراد کے لیے کلب قائم کرنے کی درخواست کو خارج کرکے فائل بند کر دیا. اس سلسلے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد عباس آفریدی نے مذکورہ درخواست کو اسلامی، آئینی و قانونی تناظرمیں خارج کردیا۔

    عمران خان نے شیر افضل مروت کو ملنے سے انکار کر دیا

    پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے راجواڑہ نہیں،شیر افضل مروت پھٹ پڑے

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    حامد رضا کا تحریک انصاف کو اسمبلیوں سے استعفوں کا مشورہ

    شیر افضل مروت کے بھائی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے عہدے سے ہٹا دیا

    سعودی عرب بارے بیان پر عمران خان نے میری سرزنش کی،شیر افضل مروت

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    میرا بیان میرے ذاتی خیالات پرمبنی تھا،شیر افضل مروت

    کھینچا تانی ہو رہی، شیر افضل مروت بیرسٹر گوہر کے سامنے صحافی کے سوال پر پھٹ پڑے

    پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے اور اسلام میں ہم جنس پرستی حرام ہے، تحقیقاتی ادارے خیبر پختونخواہ کے ضلع ایبٹ آباد کے اندر ہونے والی ان سرگرمیوں اور اس مزکورہ شخص پرٹم گیانی اور اس کے پس پشت تنظیموں یا افراد سے مکمل تحقیقات اور چھان بین کریں اور ایسے کسی بھی امور کی اجازت دے کر عذاب الہیٰ کو دعوت نہ دیں.

    سوتیلے باپ نے لڑکی کے ساتھ کی زیادتی، ماں‌نے جرم چھپانے کیلیے کیا تشدد

    کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے شوقین جعلی عامل کو عدالت نے سنائی سزا

    کاروبار کے لئے پیسے نہ لانے پر بہو کو کیا گیا قتل

    16 خواتین کو نازیبا و فحش ویڈیو ،تصاویر بھیج کر بلیک میل کرنے والا گرفتار

    دوران پرواز 16 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنیوالے کو ملی سزا

    کپڑے اتارو،مجھے…دکھاؤ، اجتماعی زیادتی کا شکار لڑکی کو مرد مجسٹریٹ کا حکم

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    برطانیہ؛ہم جنس پرست جوڑے کو ہراساں کرنے والے باس پر کروڑوں روپے جرمانہ

    ہندوستان ایک ہم جنس پرست ملک ہے آیوشمان کھرانہ

    ہم جنس پرست خواتین ڈاکٹرز نے آپس میں منگنی کر لی

    ہم جنس پرستی یا دو ہم جنس افراد کے درمیان جنسی تعلق قائم کرنا پاکستانی قوانین کے مطابق جرم ہے،تعزیراتِ پاکستان کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین کے تحت بھی ایسے افراد کے لیے سزائیں مقرر کی گئی ہیں،عام طور پر پاکستان میں موجود ہم جنس پرست افراد اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے۔ اللہ تعالی نے انسان میں جنسی خواہش رکھی اور اس کو پورا کرنے کا طریقہ بھی بتایا، یعنی مرد عورت ایک دوسرے سے نکاح کرکے ایک دوسرے سے جنسی تسکین حاصل کریں اور اپنی زندگی پاک دامنی کےساتھ گزاریں، اللہ تعالی نے اس نکاح کو باعث اجر بنایا ہے اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نصف دین کی تکمیل بتایا ہے ، اللہ تعالی نے اس کے علاوہ ہر قسم کے غیر شرعی طریقہ کو حرام قرار دیا ہے اور آخرت کے سخت عذاب کا مستوجب قرار دیا ہے اورجنسی تسکین کے غیر شرعی طریقوں پر شریعت میں دنیاوی سزائیں بھی متعین ہیں،ہم جنس پرستی جنسی خواہش کے پورا کرنے کا غیر شرعی اور غیر فطری طریقہ ہے، اسی گناہ کی بناء پر لوط علیہ السلام کی قوم کو اللہ تعالی نے سخت عذاب دیا تھا اور شریعت میں بھی ہم جنس سے استمتاع کرنے والے کے لیے سخت سزا متعین کی گئی ہے لہذا ہم جنس پرستی سخت حرام اور بہت بڑا گناہ ہے اس سے کامل اجنتاب کرنا ضروری اور لازم ہے۔

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

    ہم جنس پرستی جس طرح انسان کی روحانی زندگی کے لیے سم قاتل ہے، ایسے ہی انسان کی جسمانی زندگی کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ اور خطرناک ہے۔ جدید طبی تحقیقات کے مطابق ایڈز ایک ایسی بیماری ہے جو اس بد چلنی کی وجہ سے پھیلتی ہے ،یہ ہمارے جسم کے دفاعی نظام کو کمزور کر دیتی ہے، اس بیماری نے حال ہی میں ان تمام ممالک میں تہلکہ مچادیا ہے جن میں ہم جنس پرستی اور فحاشی کو برا نہیں جاناجاتا ہے

    یورپ ہم جنس پرستی میں پاگل،پاکستان،روس اس پاگل پن کے مخالف ہیں،روسی سفیر

    ہم جنس پرستی کو پاکستان میں قانونی تحفظ،مخالفت کریں گے،زاہد محمود قاسمی

    ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے، تنظیم اسلامی

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    مجھے نہیں لگتا کہ وفاقی حکومت ہم جنس پرستی کی حمایت کرے گی ؟جسٹس سید محمد انور

    ہم جنس پرست خواتین ڈاکٹرز نے آپس میں منگنی کر لی

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    ہم جنس پرستی حرام، لیکن افسوس کے ساتھ پاکستان کے مدارس میں ہم جنس پرستی، بچوں کے ساتھ بدفعلی کے واقعات سب سے زیادہ دیکھنے میں آئے ہیں آئے روز کوئی نہ کوئی ایسی خبر سامنے آتی ہے کہ مدرسے میں مولانا نے بچے کے ساتھ بدفعلی کی، بلکہ ابھی چند دن قبل تو حد ہی ہو گئی، لاڑکانہ میں ایک مولانا مسجد کے محراب میں بچے کی ٹانگیں اٹھا کر بدفعلی کر رہے تھے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو مولانا کو گرفتار کر لیا گیا، لاہور میں مفتی عبدالعزیز کا کیس کافی مشہور ہوا تھا جس میں‌مفتی عبدالعزیز نے مدرسے میں پڑھنے والے ایک طالب علم کے ساتھ کئی بار بدفعلی کی اور اسکی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھیں،کالج و یونیورسٹی میں تو بے راہ روی کے نتائج ہیں لیکن ایسا کیوں ہے کہ مدارس میں بھی ایسا کام ہو رہا ہو؟تو اسکی وجہ یہ ہے کہ ان مدارس کے وہ معلم خود اس گناہ میں ملوث ہیں جو طلبا کو اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کی لیے استعمال کرتے ہیں اور ظلم عظیم کہ خانہ خدا میں ایسے قبیح کام کرتے ہیں رفتہ رفتہ طلبا عادی ہونے لگتے ہیں اور وہ بھی اس گناہ کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں،

    شادی کیوں کر رہے؟ ہم جنس پرست حکیم نے دوستوں کو قتل کر کے اعضا کھا لئے

    ٹاٹا موٹرز کی کینٹین میں سموسوں سے کنڈوم،تمباکو،پتھرنکل آئے،مقدمہ درج

    شادی کی ضد مہنگی پڑ گئی،ملزم نے خاتون کو پارک میں زندہ جلا دیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار