Baaghi TV

Tag: ہندو

  • پاکستانی لالہ چمن لعل کا منفرد اعزازبین الاقوامی فیلوشپ کی ڈگری لینے والے پہلے پاکستانی ہندو

    پاکستانی لالہ چمن لعل کا منفرد اعزازبین الاقوامی فیلوشپ کی ڈگری لینے والے پہلے پاکستانی ہندو

    پاکستانی لالہ چمن لعل کا منفرد اعزاز، بین الاقوامی فیلوشپ کی ڈگری لینے والے پہلے پاکستانی ہندو

    پاکستان میں موجود ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے لالہ چمن لال، رحیم یار خان کے رہائشی ہیں اور 2016 سے مختلف مذاہب کے نوجوانوں کے ساتھ منسلک ہیں جبکہ امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ سے متعلق مختلف تربیتیں مکمل کر چکے ہیں۔

    لالہ چمن ملٹی کلچرل ازم کے فروغ کے لیے مختلف تنظیموں کے ساتھ "یوتھ یونایٹڈ فار سوشل چینج” اور "پیس از پوسیبل ٹوگیدر” جیسے پراجیکٹس میں کام کر چکے ہیں۔ قبولیت اور ملٹی کلچرل ازم کے فروغ کے لیے مختلف مذاہب میں موجود مماثلتوں کو اجاگر کرنے کے لیے وہ مختلف مذاہب کے نوجوانوں کے ساتھ مصروف عمل ہیں جبکہ اس وقت سماج سیوا فاونڈیشن کے چیرمین کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ حال ہی میں سعودی ولی عہد شہزادہ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز بین الاقوامی مرکز برائے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمہ (کائیسڈ) میں لالہ چمن لال کو ایک سالہ گریجویٹ کی ڈگری سے نوازا گیا- چمن لعل سعودی عرب کی تنظیم کائیسڈ سے بین الاقوامی فیلوشپ کی ڈگری لینے والے پہلے پاکستانی ہندو ہیں۔ کائیسڈ ایک بین حکومتی تنظیم ہے جو مملکت سعودی عرب، جمہوریہ آسٹریا، کنگڈم آف اسپین اور ہولی سی کے فاونڈنگ آبزرور کے طور پر چلتی ہے۔

    لالہ چمن لال کو اس سال شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز بین الاقوامی مرکز برائے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمہ میں 2022 کے بین الاقوامی فیلوز پروگرام کی فیلوشپ کے لیے منتخب کیا گیا جبکہ فیلوشپ میں دنیا سے کل 56 مندوبین بلائے گئے- ان مندوبین کا دنیا کے آٹھ مختلف مذاہب سے تعلق تھا- وہاں پرتگال میں مختلف مذاہب کے عبادتی جگہوں کا دورہ کروایا گیا- تنظیم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل المیڈا ریبیرو اور تمام سینئر عہدیداران کو چمن لال نے سندھی اجرک پہناتے ہوئے اپنے پاکستانی کلچر کو فروغ دیا اور سبز ہلالی پرچم کا دفاع کرتے ہوئے پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کی کاوشوں کو دنیا تک پہنچایا- لالہ چمن نے تنظیم کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل المیڈا ریبیرو کویقین دلایا کہ تنظیم کا ہر پیغام بین المذاہب اور بین الثقافتی جو کہ امن، پیار اور بھائی چارے کا ہے ملک کے طول و عرض میں پہنچایا جائے گا

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نشہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

  • ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار دیوالی انتہائی جوش و جذبے کیساتھ منایا:

    ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار دیوالی انتہائی جوش و جذبے کیساتھ منایا:

    حیدرآباد:ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار دیوالی انتہائی جوش و جذبے کیساتھ منایا:،اطلاعات کے مطابق حسب سابق اس مرتبہ بھی پولیس ملازمین میں دیوالی کے موقع پر مٹھائیاں اور تحائف تقسیم کیے گئے،پاکستان بھر میں ہندو برادری اپنا مذہبی تہوار دیوالی انتہائی جوش و جذبے کیساتھ مناتی ہے

    ڈسٹرکٹ پولیس حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ہندو برادری کے تمام ملازمین بھی اپنا مذہبی تہوار دیوالی روایتی طور طریقے سے مناتے ہیں

    ڈسٹرکٹ پولیس حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ہندو برادری کے تمام ملازمین کے مذہبی تہوار دیوالی کی خوشیوں کو مزید بڑھانے کیلئے ایس ایس پی حیدرآباد امجد احمد شیخ صاحب کی ہدایت پر ایس پی ہیڈکوارٹر انیل حیدرآباد منہاس صاحب اور تمام پولیس افسران نے ہندو برادری سے منسلک تمام ملازمین کو انکے مذہبی تہوار دیوالی کے موقع پر دیوالی کی مبارکباد پیش کی اور انہیں مٹھائیاں، تحفے و تحائف بھی دیے گئے

    اس سب کا مقصد ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے تمام پولیس ملازمین کو یہ احساس دلانا کہ ہم سب مسلمان اور ہندو یا دیگر تمام مذاہبِ سے تعلق رکھنے والے سب یکساں، متحد اور پاکستانی ہیں اور اہم ایک دوسرے کی خوشی و غم میں برابر کے شریک ہیں

    ادھروزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ ہندو برادری سمیت تمام اقلیتوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں، اقلیتوں سے بہتر سلوک اور احترام دین اسلام کا خاصہ ہے۔

    بھارت نوازایمپائرنگ:بھارت کیخلاف آخری اوور میں نواز کی نوبال متنازع ہوگئی، سابق…

    دیوالی کے تہوار کی مناسبت سے وزیراعلیٰ آفس میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، چودھری پرویز الٰہی مہمان خصوصی تھے نے ہندو اور دیگر اقلیتی برادریوں کے ساتھ مل کر کیک کاٹا اور پاکستان میں مقیم ہندو برادری کو مبارکباد دی جبکہ ہندو اور دیگر اقلیتی برادریوں کی جانب سے وزیراعلیٰ کو اجرک کا تحفہ دیا گیا۔

    ’‘ ڈالر کی قیمت میں لائی گئی کمی "آنکھ کا دھوکہ:یعنی مصنوعی ہوگی’’:ماہرین…

    اس موقع پر وزیر وزیراعلیٰ نے کہا کہ دیوالی پر ہندو برادری کی خوشیوں میں شریک ہیں، اقلیتی برادری کے طلباء کو سرکاری تعلیمی اداروں میں میٹرک سے پی ایچ ڈی تک سکالر شپ دیئے جا رہے ہیں، اقلیتی برادری کیلئے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں 2 فیصد کوٹہ مقرر کیا ہے، ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹے پر عملدرآمد کیلئے ہدایات جاری کر دی ہیں، اقلیتی طلباء کیلئے ایجوکیشنل سکالر شپ سکیم میں 50 فیصد سنٹرل پنجاب، 35 فیصد، جنوبی پنجاب شمالی پنجاب کے طلباء کو 15 فیصد دیئے جا رہے ہیں، میٹرک سے اعلیٰ تعلیم تک 50 فیصد نمبر حاصل کرنے والے ا قلیتی طلباء کو 50 ہزار روپے تک سکالر شپ دے رہے ہیں۔

    فیض آباد:پولیس تشدد، پی ٹی آئی کارکنوں کی درخواست پرمقدمہ درج نہ ہوسکا:رکاوٹ…

    ان کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شرکت سے رواداری اور بھائی چارے کو فروغ ملتا ہے، اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے، ہندو برادری سمیت تمام اقلیتوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں، ہندو اور دیگر اقلیتی برادریوں کو تعلیم کیلئے مساوی مواقع فراہم کئے جا رہے ہیں۔

  • پاکستان کا بھارت سے میچ جیتنا مہنگا پڑگیا:برطانیہ میں مسلمانوں پر حملے:حالات بہت زیادہ خراب

    پاکستان کا بھارت سے میچ جیتنا مہنگا پڑگیا:برطانیہ میں مسلمانوں پر حملے:حالات بہت زیادہ خراب

    ایسٹر:پاکستان کا بھارت سے میچ جیتنا مہنگا پڑگیا:برطانیہ میں مسلمانوں پر حملے:حالات بہت زیادہ خراب ،اطلاعاتکے مطابق ہفتے کے روز لیسٹر میں بڑے پیمانے پر پیدا ہونے والے فسادات میں شدت آگئی ہے دوسری طرف مسلم رہنماوں نے مسلمانوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے

    کہا جارہا ہے کہ اس کشیدگی کے درمیان ہجوم کو روکنے کی پولیس نے کوشش کی جس میں بنیادی طور پر مسلم اور ہندو برادریوں کے نوجوان شامل تھے۔

    یہ 28 اگست کو ہندوستان اور پاکستان کے کرکٹ میچ کے بعد تشدد سمیت کئی واقعات میں سے تازہ ترین واقعہ ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس علاقے میں ایک اہم پولیس آپریشن جاری رہے گا۔

    اتوار کو کشیدگی برقرار رہی جب پولیس نے کہا کہ اس نے سڑکوں پر اپنی موجودگی بڑھا دی ہے اور نوجوانوں کو مزید تصادم میں پڑنے سے روکنے کے لیے اسنیپ چیکنگ شروع کر دی ہے۔

    ہفتے کی شام لوگوں نے سوشل میڈیا پر ایک ہجوم کی فوٹیج اور تصویریں شیئر کیں جو "جئے شری رام” (بھگوان رام کی فتح) کے نعرے لگا رہے تھے جب یہ شہر میں ایشیائی کمیونٹی کے مرکز بیلگریو روڈ سے مارچ کر رہا تھا۔

    سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں درجنوں نقاب پوش افراد کو مارچ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب پولیس اہلکار انہیں لائن میں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    انادولو ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ بیلگراو روڈ پر جمع ہونے والے ہجوم کے درمیان کچھ لوگوں نے مسلم مخالف مظاہرین پر شیشے کی بوتلیں پھینکیں۔

  • خیرپور پولیس کی اہم  اور کامیاب کارروائی، اغوا شدہ ہندو خاتون ایک گھنٹہ میں بازیاب

    خیرپور پولیس کی اہم اور کامیاب کارروائی، اغوا شدہ ہندو خاتون ایک گھنٹہ میں بازیاب

    خیرپور: پولیس کی اہم اور کامیاب کارروائی، اغوا شدہ ہندو خاتون ایک گھنٹہ میں بازیاب کرالیا گیا ، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پولیس کو اطلاع موصول ہوئی کہ تھانہ اے سیکشن کی حدود میں اغوا شدہ ہندو خاتون مسمات ( د) کے شوہر پپو نے سود خور ملزمان غلام مصطفيٰ رند اور لالو میربحر سے سود پر پئسے لیے تھے جو وقت پر ادائیگی نا کرنے پر ملزمان نے پپو کی اہلیہ کو اغواء کرلیا تھا

    اطلاعات کے مطابق واقہ کا ایس ایس پی خیرپور جناب میر روحل خان کھوسو صاحب نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ٹیم تشکیل دے کر مغوی خاتون کی بازیابی اور ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کیے احکامات پہ عملدرآمد کرتے ہوئے چھاپہ مار ٹیم نے کاروائی کرکے خاتون کو ملزمان کہ قبضے سے ایک گھنٹے کے اندر بازیاب کرالیا

    ایس ایس پی میر روحل کھوسو کہتے ہیں کہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے تشکیل شدہ ٹیم کے چھاپے جاری ہیں، ملزمان کو جلد قانون کے کٹھرے میں لاکر خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، خیرپور پولیس اقلیتی برادری کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے حفاظتی اقدامات پہ مکمل عمل پیرا ہے،

    ایس ایس پی میر روحل کھوسو کامزید کہنا تھا کہ خاتون کی بازیابی پہ ہندو کمیونٹی کی جانب سے ایس ایس پی میر روحل خان کھوسو کے حق میں ریلی نکالی اور خیرپور پولیس زندہ باد کہ نعرے لگائے.شرکاء ایس ایس پی آفیس پہنچ کر ایس ایس پی میر روحل خان کھوسو صاحب کا شکریہ ادا کیا اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں سندھی ٹوپی اجرک پہنائے اور پھولوں نچھاور کیے.

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • مسلم، ہندو اور عیسائیوں کامشترکہ قبرستان

    مسلم، ہندو اور عیسائیوں کامشترکہ قبرستان

    صوبہ خیبر پختونخواہ کا ضلع ڈیرہ اسماعیل خان جو ماضی میں  کئی بار  دہشتگردوں کے نشانہ پر رہا اور یہاں شدت پسندی کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں وہاں مسلم، ہندو اور عیساؤں کا مشترکہ قبرستان مذہبی ہم آہنگی کی ایک منفرد مثال ہے۔

     ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک قبرستان میں مسلمانوں کے ہمراہ  ہندوؤں عسائیوں کی تدفین بھی کی گئی ہے اور صدیوں بعد بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔

      چاہ سید منور نامی اس  قبرستان میں مسلمانوں کی قبروں پر مقدس  قرآنی آیات، عیسائیوں کی قبروں پر صلیب کا نشان جبکہ ہندوؤں کی قبروں کے رنگ گلابی اور انکے مذہبی کلمات لکھے ہوئے ہیں۔
     
    ماضی میں یہاں ایک شمشان گھاٹ تھا جہاں ہندو برادری اپنے مُردوں کی آخری رسومات ادا کرتی تھی لیکن پاکستان بننے کے بعد یہ شمشان گھاٹ پر محمکہ اوقاف کی ملکیت بن گیا۔ تاہم اب ہندو مذہب کے پیروکار اپنے مُردے جلاتے نہیں بلکہ انھیں مجبوراً چاہ سید منور قبرستان میں دفنا دیتے ہیں۔

    ایک اندازے کے مطابق مسلمانوں کی بڑی آبادی کے علاوہ  ہندو برادری کے سیکنڑوں جبکہ کرسچن برادری کے ہزاروں گھر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں موجود ہیں اور  انھیں اپنی دیگر مذہبی رسومات ادا کرنے میں بھی کوئی مشکلات پیش نہیں آتیں ماسوئے مردہ کو جلانے کے۔

  • ہندو انتہاپسند رہنماؤں کا دباؤ:مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز کی آواز کم کردی گئی

    ہندو انتہاپسند رہنماؤں کا دباؤ:مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز کی آواز کم کردی گئی

    نئی دہلی : ہندو انتہاپسند رہنماؤں کا دباؤمسلمانوں اوراسلام کے خلاف بھارتی سرکار اقدامات اٹھانے لگی ،اطلاعات کے مطابق ہندو انتہاپسند رہنماؤں کے مطالبے اور پولیس میں درج کرائی گئی شکایات پر ممبئی کی مساجد انتظامیہ نے اذان کے دوران لاؤڈ اسپیکرز کی آواز کو کم رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    بھارت کی 200 ملین کی مسلم آبادی اس فيصلے کو انتہاپسند ہندوؤں کی طرف سے ان کی مذہبی آزادی اور حقوق کو محدود کرنے کی ایک اور مذموم کوشش کے طور پر دیکھتی ہے۔

    بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے سینیئر مسلم مذہبی رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ ریاست کے مغربی حصے میں واقع 900 مساجد میں اذان کے دوران لاؤڈ اسپیکر کی آواز کم رکھی جائے گی۔

    ممبئی کی سب سے بڑی مسجد کے امام محمد اشفاق قاضی کہتے ہیں کہ بھارت میں اذان کی آواز ایک سیاسی مسئلہ بن گئی ہے لیکن مسلم کمیونٹی نہیں چاہتی کہ يہ معاملہ مذہبی رُخ اختیار کرے۔

    مہاراشٹرا کی 288 رکنی ریاستی اسمبلی میں صرف ایک نشست رکھنے والی انتہاپسند ہندو جماعت مہاراشٹرا نونیرمان سینا کے رہنما راج ٹھاکرے نے گزشتہ ماہ مساجد اور عبادات کے دیگر مراکز کو اس بات کا پابند کرنے کا مطالبہ کیا تھا کہ وہ شور کو ایک حد کے اندر رکھیں۔ انہوں نے دھمکی بھی دی تھی کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ان کے حامی مساجد کے باہر ہندو مذہبی نعرے لگائیں گے۔

    مہاراشٹرا کے ریاستی دارالحکومت ممبئی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے راج ٹھاکرے کا کہنا تھا کہ اگر مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے تو پھر مسلمانوں کو سال کے 365 دن لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت کیوں ہے۔

    بھارت میں حکمراں ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے مسلم کمیونٹی کے حقوق پر شب خون مارنے کا سلسلہ تھمنے میں نہیں آرہا۔ حالیہ ہفتوں میں ایک سینیئر بی جے پی رہنما نے شادی اور وراثتی قوانین میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    اُن کا مطالبہ ہے کہ اِن قوانین کو مذہب کی بجائے ایک یکساں سول کوڈ کے مطابق تشکیل دیا جائے۔ دراصل اُن کا مقصد مسلم مردوں کو حاصل چار شادیوں کے حق کو نشانہ بنانا ہے۔

  • بھارت:جنونی ہندوؤں نے عید گاہ پر دھاوا بول دیا:علاقے میں کرفیو

    بھارت:جنونی ہندوؤں نے عید گاہ پر دھاوا بول دیا:علاقے میں کرفیو

    راجھستان :جنونی ہندوؤں نے عید گاہ پر دھاوا بول دیا:علاقے میں کرفیو،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست راجھستان کے شہر جودھ پور میں جاری ہندو مسلم فسادات عید کے دن بھی تھم نہ سکے، جنونی ہندوؤں نے عید گاہ سے لاؤڈ اسپیکر اتار دیا۔اس سے قبل جنونی ہندؤوں نے مسلم اکثریتی علاقے میں ہندو جماعت کا جھنڈا لگا کر شرپسندی کو ہوا دی۔

    انتہا پسند ہندوؤں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آج عید کے دن عید گاہ پر لگے جھنڈے کا اتار کر اپنا جھنڈا لگا دیا اور لاؤڈ اسپیکر اتار کر اپنے ساتھ لے گئے۔

    جنونی ہندوؤں کی اشتعال انگیز حرکت پر عید کی نماز پڑھنے کے لئے آنے والے مسلمانوں میں اشتعال پھیل گیا، مسلمانوں نے عید کی نماز کے بعد اس واقعے پر احتجاج کیا۔مظاہرین نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی ایم ایل اے کے گھر پر کھڑی موٹر سائیکل کو آگ لگا دی۔

    پولیس نے احتجاج کرنے والے نہتے مسلمانوں پر لاٹھیوں کی بارش کر دی اور آنسو گیس کی شیلنگ کی، پولیس کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا تھا، پولیس نے 10 افراد کو حراست میں لے لیا۔اس واقعہ کے بعد علاقے میں سخت کشیدگی برقرار ہے ، انتظامیہ نے علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا ہے اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔

    اس افسوسناک واقعہ کے بعد ابھی تک حکمراں جماعت بی جے پی کا موقف سامنے آیا ہے اور نہ ہی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے اس ظلم پر کوئی بیان دیا ہے۔

  • بھارت:ہندو لڑکی کے اغوا کے الزام میں مسلمانوں کے گھر جلادیے گئے

    بھارت:ہندو لڑکی کے اغوا کے الزام میں مسلمانوں کے گھر جلادیے گئے

    اترپردیش:بھارت میں ہندو لڑکی کے اغوا کے الزام میں مسلمانوں کے گھر جلادیے گئے،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر آگرہ میں ہندوتوا ہجوم نے لڑکی اغوا کرنے کے الزام میں مسلمانوں کے دو گھروں کو نذر آتش کر دیے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک انتہا پسند مشتعل گروہ نے ہندوخاتون کے اغوا کا الزام لگا کر ایک مسلمان شخص کے دو گھروں کو آگ لگا دی ہے۔

    اترپردیش کے شہر آگرا میں جمعے کو ایک جم کے مالک ساجد نامی شخص پر الزام لگایا کہ اس نے ایک 22 سالہ لڑکی کے اغوا کیا ہے اس لیے اس کے دونوں گھروں کو لگا دی گئی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق تاحال اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق ساجد اور لڑکی کے درمیان گہری دوستی ہے، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں اس لڑکی نے کہا کہ میں بالغ ہوں اور ساجد کے پاس اپنی مرضی سے آئی ہوں۔

    دوسری جانب علاقے کے سینیئر پولیس آفسر نے بھی تصدیق کی ہے کہ دونوں افراد اپنی مرضی سے ساتھ رہ رہے ہیں اور پولیس جلد ہی دونوں کو عدالت لے کر آئے گی۔

    علاوہ ازیں پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے والے گروہ کا تعلق ’دھرم جگران سمانوے سنگھ‘ سے ہے اور اسی گروہ نے جمعے کو علاقے میں زبردستی دکانیں بند کروائیں تھیں۔

    دھرم جگران سمانوے سنگھ گروہ کے خلاف کارروائی نہ کرنے پرعلاقے کے ایس ایچ او کو معطل کردیا گیا ہے۔

  • ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے معاشی قتل پر تُل گئے:حملوں میں اچانک تیزی آگئی

    ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے معاشی قتل پر تُل گئے:حملوں میں اچانک تیزی آگئی

    نئی دہلی :ہندو انتہا پسند مسلمانوں کے معاشی قتل پر تُل گئے:حملوں میں اچانک تیزی آگئی ،اطلاعات کے مطابق کرناٹک میں حجاب تنازعے کے بعد انتہا پسندوں نے اب مسلمان ٹیکسی ڈرائیوروں، ٹور اینڈ ٹریول آپریٹرز اور پھل فروشوں کے بائیکاٹ کیلیے ہندوؤں پر دباؤ بڑھا دیا گیا ہے۔

    بھارت میں انتہا پسندی میں تمام حدود پار کررہا ہے بالخصوص مسلم دشمن اقدامات نے دنیا بھر میں اس کے نام نہاد سیکولر ازم کا بھانڈا پھوڑ کر رکھ دیا ہے۔

    کرناٹک جہاں رواں سال کے آغاز پر اسکولوں میں حجاب تنازع نے جنم لیا تھا وہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلم دشمنی میں ہندو انتہا پسند اقدامات بڑھتے جارہے ہیں اور اب انہوں نے مسلمانوں کو معاشی بدحال کرنے کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے۔

    کرناٹک میں دائیں بازو کے انتہا پسند گروپ بھارت رکھشنا ویدیکے نے ہندوؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلمان ٹیکسی ڈرائیوروں، ٹور اور ٹریول آپریٹرز کی خدمات نہ لیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت رکھشنا ویدیکے گروپ کے اراکین نے بنگلورو سمیت کرناٹک کے مختلف علاقوں میں گھروں کا دورہ کیا اور لوگوں سے کہا کہ وہ مسلم ٹیکسی ڈرائیوروں کی خدمات استعمال نہ کریں، خاص طور پر ہندو مندروں یا یاترا کے لیے اور اسی کے ساتھ مسلمان ٹور اور ٹریول آپریٹرز کی خدمات بھی حاصل نہ کریں۔

    اس حوالے سے پوچھے جانے پر بھارت رکھشنا ویدیکے کے سربراہ بھرت شیٹی نے انوکھا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی عالمی وبا میں لاک ڈاؤن کے دوران بہت سے ہندو ڈرائیور مالی مشکلات کے باعث اپنی ٹیکسیاں بیچنے پر مجبور ہوئے۔ اکثریتی برادری کا فرض ہے کہ وہ پہلے اپنے لوگوں کا خیال رکھیں۔

    ایک اور خبر کے مطابق کرناٹک میں شدت پسند ہندو تنظیموں نے مسلم پھل فروشوں کے بائیکاٹ کی اپیل بھی کی ہے اور ہندوؤں سے کہا ہے کہ وہ مسلمان پھل فروشوں سے خریداری نہ کریں تاکہ پھلوں کے کاروبار پر مسلمانوں کی مبینہ اجارہ داری ختم ہوسکے۔

    اس حوالے سے ہندو جاگرتی سمیتی کے کوآرڈینیٹر چندرو موگر کا ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں ںے ہندوؤں سے اپیل کی کہ وہ صرف ہندو دکانداروں سے ہی پھل خریدیں۔

    دوسری جانب حکومت نے اس اپیل سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے تاہم ایم آئی ایم اورجے ڈی ایس نے بومئی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ ایم آئی ایم چیف اسد الدین اویسی نے مسلم پھل فروشوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مسلم پھل فروشوں کا بائیکاٹ کی اپیل کو مسلمانوں کو اچھوت بنانے کی کوشش سے تعبیرکیا ہے جب کہ جے ڈی ایس لیڈر ایچ ڈی کماراسوامی نے بائیکاٹ کی اپیل کو ملک سے غداری قرار دیا ہے۔

  • زیادہ بچے پیدا کریں، ورنہ ہندوستان سے ہندوختم ہو جائیں گے

    زیادہ بچے پیدا کریں، ورنہ ہندوستان سے ہندوختم ہو جائیں گے

    متھرا: ہریدوار نفرت انگیز تقریر کیس میں ضمانت پر باہر آنے والے متنازعہ شخصیت نرسنگھ نند نے ہندوؤں پر زور دیا ہے کہ وہ آنے والی دہائیوں میں ملک کو ہندو کم ہونے سے روکنے کے لیے زیادہ بچے پیدا کریں۔

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کے مطابق متنازعہ شخصیت نرسنگھ نند نے کہا کہ ریاضی کے حساب سے کہا گیا ہے کہ 2029 میں ایک غیر ہندو وزیر اعظم بنے گا، غازی آباد کے ڈاسنا مندر کے بڑے پجاری نے جمعرات کو گووردھن میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ اس نتیجے پر کیسے پہنچا-

    بھارت میں مساجد کے باہر اذان کے وقت ’رام بھجن اور شیو بھجن‘ کا اعلان

    اس نے کہا کہ اگر ایک بار کوئی غیر ہندو وزیر اعظم بن جاتا ہے تو 20 سالوں میں یہ ملک ‘ہندو وہین’ (ہندو سے کم) قوم بن جائے گاہندوتوا کو بیدار کرنے کے لیے متھرا-گووردھن خطہ میں 12 اگست سے 14 اگست تک دھرم سنسد کا انعقاد کیا جائے گا۔

    نرسنگھ نند کو گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا جب اس نے مبینہ طور پر گزشتہ سال 17 سے 19 دسمبر تک ہریدوار میں دھرم سنسد کا اہتمام کیا تھا، جہاں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریریں کی گئی تھیں۔

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے…

    اس نے قبل ازیں دہلی کے بروری گراؤنڈ میں ایک ‘ہندو مہاپنچایت’ میں بھی حصہ لیا اور کہا تھا کہ ہ اگر بھارت میں کوئی مسلمان وزیر اعظم بن جاتا ہے، تو آئندہ بیس برس کے دوران آپ میں سے 50 فیصد اپنا عقیدہ بدل دیں گے اور باقی 40 فیصد ہندو مار دیئے جائیں گے جس کے بعد اس نے مزید کہا تھا کہ تو یہ ہے ہندوؤں کا مستقبل، اگر آپ اسے بدلنا چاہتے ہیں تو مرد بنو۔ اور مرد ہونا کیا ہے؟ وہ شخص جو ہتھیاروں سے لیس ہو۔

    انتہاپسند اینکرپروڈکٹ کا اردومیں نام دیکھ کرآگ بگولہ،مینیجرکا منہ توڑ جواب ،…