Baaghi TV

Tag: ہندوانتہاپسند

  • بھارت: تاج محل، قطب مینار ہندو انتہاپسندوں کے کا خصوصی ہدف بن گئے

    بھارت: تاج محل، قطب مینار ہندو انتہاپسندوں کے کا خصوصی ہدف بن گئے

    آگرہ: تاج محل، قطب مینار ہندو انتہاپسندوں کے کا خصوصی ہدف بن گئے ہیں اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بھارتیہ جنتاپارٹی کے رہنما ﺅں نے الہ آباد ہائیکورٹ کے لکھنو بنچ میں ایک عرضداشت دائر کر دی ہے جس میں تاج محل میں بند پڑے 22کمروں کو کھلوانے اور ان کی جانچ کرانے کے حکامات جاری کرنے کی استعدا کی گئی ہے۔عرضداشت پر کل(جمرات ) کو سماعت ہو گی۔

    کشمیر میڈیاسروس کے مطابق عرضداشت داخل کیے جانے جانے بعد ہندﺅں میں خوشی کی لہر ڈوڑ گئی ہے اور ایک ہندو توا رہنما سنجے جاٹ نے پیر کے روز تاج محل پہنچ کر لڈو تقسیم کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں اور انکے ساتھ آئے ہوئے دیگر ہندو جنونیوں کو بیریکیڈنگ سے آگے نہیں بڑھے دیا۔ عرضداشت میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تاج محل میں ان بند کمروں میں دیوی دیوتاﺅں کی مورتیاں رکھی ہوئی ہیں۔ ہندو توا رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ ا ب عدالت کے ذریعے یہ طے ہو جائے گا کہ یہ تاج محل ہے یا تیجومہالیہ۔

    دوسری جانب ہندو تو ا جنونیوں کی قطب مینار کےخلاف بھی سرگرمی بڑھ گئی ہے ۔ ہندو توا تنظیموں کے تقریباًدو درجن کارکنوں نے قطب مینار کے قریب نہ صرف ہنو مان چالیسہ کیابلکہ مینار کا نام بدل کر ”وشنوا ستمبھ“ رکھنے کا بھی مطالبہ کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطا بق ہندو توا تنظیم مہا کال مانو سیوا اور یونائیٹڈ ہندو فرنٹ کا کہنا ہے کہ قطب مینار کو مغلوں نے ہم سے چھینا تھا اور اب ہمار امطالبہ ہے کہ اسکا نام بدل کر وشنوا ستھبھ رکھا جائے ۔ ہندو تو جنونیوں نے قطب مینا ر کے باہر مظاہرے کے دوران جے شری رام کے نعرے بلند کیے۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ پہلے قطب مینار کا نام وشنو استمبھ تھا لیکن مغلوں نے اس کا نام بدل کر قطب مینار کھ دیا۔ ہندو تو ا بریگیڈ کے مظاہرے کو دیکھتے ہوئے قطب مینا ر کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔

  • ہندوانتہاپسند وں کا مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا مطالبہ

    ہندوانتہاپسند وں کا مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا مطالبہ

    ممبئی: بھارت میں اذان کیخلاف مہم چلائی جارہی ہے ہندوانتہاپسند تنظیم نے مساجد میں اذان دینے کے لئے لاؤڈاسپیکرز ہٹانے کی دھمکی دے دی۔

    باغی ٹی وی : بھارت میں ہندوانتہاپسندوں نے مسلمانوں کا جینا مشکل کردیا ہے حجاب کے خلاف بھی باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے اورباحجاب طالبات کے تعلیمی اداروں میں جانے اورکلاسز اٹینڈ کرنے پرپابندی عائد کی جاچکی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مسلمان اورپاکستان دشمن بال ٹھاکرے کے بھتیجے کی ہندوانتہاپسند تنظیم نے ریاست مہاراشٹرمیں مساجد میں اذان کے لئے نصب لاؤڈاسپیکرز3مئی تک ہٹانےکی دھمکی دے دی۔

    انتہاپسند تنظیم کا کہنا ہے اگرمساجد سے لاؤڈاسپیکرنہ ہٹائے گئے تومساجد کے باہرلاؤڈاسپیکررکھ کر ہندوکے مذہبی گیت اوراشلوک بجائے جائیں گے۔

    بھارت : ہندوانتہا پسندوں نےمسجد کوآگ لگا کرشہید کردیا

    ٹھاکرے نے اسے ایک سماجی مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ وہ اس معاملے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ایم این ایس کے سربراہ نے کہا، یہ ایک سماجی مسئلہ ہے، مذہبی نہیں، میں ریاستی حکومت کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اس میں پیچھے نہیں ہیں۔ جو کرنا چاہتے ہو کرو۔”

    اس کے ساتھ ہی ٹھاکرے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے ممبئی کے مسلم علاقوں میں مساجد پر چھاپے مارنے کا مطالبہ کیا کہا کہ وہاں رہنے والے لوگ ’’پاکستان کے حامی‘‘ ہیں۔

    نئی دہلی: گائے ذبح کرنے کا الزام،مسلمان بزرگ تشدد سے جانبحق،کرناٹک:مسلمان پھل فروش…

    انہوں نے کہا میں پی ایم مودی سے مسلمانوں کی کچی آبادیوں میں مدرسوں پر چھاپہ مارنے کی اپیل کرتا ہوں۔ پاکستانی حامی ان جھونپڑیوں میں رہ رہے ہیں ممبئی پولیس جانتی ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ ہمارے ایم ایل اے انہیں ووٹ بینک کے لیے استعمال کر رہے ہیں ایسے لوگوں کے پاس آدھار بھی نہیں ہے، لیکن ایم ایل اے وہی بنواتے ہیں۔

    دوسری جانب مساجد میں لاؤڈ اسپیکرکے معاملے پر مہاراشٹر حکومت کے وزیر آدتیہ ٹھاکرے نے جمعہ کو مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے کو نشانہ بنایا-

    بھارتی میڈیا کے مطابق ممبئی میں نامہ نگاروں نے ٹھاکرے سے بی جے پی اور ایم این ایس کے مفت لاؤڈ اسپیکر تقسیم کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا یہ ٹھیک ہے، لاؤڈ اسپیکر کو ہٹانے کے بجائے، اسے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بارے میں بات کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے ہمیں بغیر پیچھے ہٹے ڈیزل، سی این جی کی قیمتوں کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔آئیے بات کرتے ہیں کہ پچھلے دو تین سالوں میں کیا ہوا۔

    بھارت: ہندوانتہا پسندوں نےمسلمان ڈرائیوروں کے خلاف مہم شروع کر دی

  • بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر، بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا

    بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر، بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا

    نئی دہلی: بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر ریاست بہارمیں ایک بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست بہارکے ایک بینک میں کیشئیرنے حجاب پہننے والی خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا۔ کیشئیرنے خاتون سے کیش حاصل کرنے کے حجاب اتارنے کا مطالبہ کیا باحجاب خاتون نے حجاب اتارنے سے انکارکردیا خاتون اوران کے والد کے شدید احتجاج پربینک کوانہیں رقم دینے پرمجبورہونا پڑا۔

    باحجاب خاتون کا کہنا تھا کہ انہیں حجاب کرنے کی وجہ سے اپنے ہی اکاؤنٹ سے پیسے نکالنے سے روک دیا گیا۔

    دوسری جانب گیسٹ فیکلٹی کے طور پر کام کرنے والی ایک انگلش لیکچرر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے کیونکہ کرناٹک کے تماکورو ضلع میں پڑھاتے ہوئے انہیں حجاب سے پرہیز کرنے کو کہا گیا تھا انہوں نے کہا کہ یہ میری عزت نفس کا معاملہ ہے میں حجاب کے بغیر پڑھا نہیں سکتی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تین سالوں سے میں جین پی یو کالج میں بطور گیسٹ لیکچرر کام کر رہی ہوں۔ ان تین سالوں میں مجھے کوئی پریشانی نہیں ہوئی اور میں نے آرام سے کام کیا۔ لیکن، کل میرے پرنسپل نے مجھے فون کیا اور بتایا کہ کلاسز کا انعقاد حجاب یا کسی مذہبی علامت کے بغیر ہونا چاہیے۔-

    انہوں نے کہا کہ پچھلے تین سالوں سے، میں حجاب پہن کر لیکچر دے رہی ہوں، اس سے میری عزت نفس مجروح ہوئی ہے اور میں اس کالج میں مزید کام نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے، میں نے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیا مذہب کا حق ایک آئینی حق ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کے غیر جمہوری عمل کی مذمت کرتی ہوں۔

    کالج انتظامیہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ دریں اثنا، اس کے استعفیٰ کے خط پر آنے والے بہت سے الفاظ نے لیکچرر کی زبان کی مہارت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق انچ سو سے زائد قانون کے طالب علموں، قانونی ماہرین اور وکلاء نے حجاب کے معاملے پر ایک کھلا خط لکھا خط میں مسلم لڑکیوں کو حجاب پہننے پر تعلیمی اداروں میں داخلے سے روکنے کی شدید مذمت کی گئی ہے خط میں ایسی کاروائی کو آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق خط پر دستخط کرنے والوں میں سابق ہائی کورٹ ججز،سابق چیئرمین کرناٹک اسٹیٹ بیک ورڈ کلاس کمیشن، سینئر ایڈوکیٹس، پروفیسر اور مصنفین ،سپریم کورٹ ایڈوکیٹس، جندل گلوبل لاء اسکول کی پروفیسر، ایکٹوسٹ اور لاء گریجویٹ،پارٹنر، ڈائیلاگ پارٹنرز لیبر ایڈووکیٹس اور ماہر قانون شامل ہیں-

    خط میں کہا گیا ہے کہ ہم کرناٹک ہائی کورٹ کے عبوری حکم سے یکساں طور پر فکر مند ہیں، جس میں طلبہ کو چاہے ان کا مذہب کوئی بھی ہو، اسکارف، حجاب،پہننے سے روکا گیا ہے کورٹ کے عبوری حکم کے بعد، ہم مسلم طلباء اور عملے کی سرعام تذلیل کا مشاہدہ کر رہے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر ضلع انتظامیہ کی ہدایات پر اسکولوں اور کالجوں میں داخلے سے قبل اپنے حجاب کو اتارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    مسلم لڑکیوں اور خواتین کی یہ بے عزتی غیر انسانی، عوامی نظر میں آئین کی توہین اور پوری کمیونٹی کی عوامی تذلیل کے مترادف ہے۔ عزت کے ساتھ زندگی کے ان کے بنیادی حق کا تحفظ کرنے میں ناکامی پر ہم شرم سے سر جھکا لیتے ہیں قانونی برادری کے ارکان کے طور پر، ہم جانتے ہیں کہ داؤ پر لگے حقوق کی تفہیم کے لیے کسی مسئلے کا تعین انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

    اس میں مزید کہا گیا ہے کہ،اس طرح کے فیصلے کا اثر مسلم خواتین کو تعلیم سے دور کرنا اور ہمارے ملک میں تعلیمی بحران کو بڑھانا ہے۔ صرف حجاب پہننے کی بنیاد پر خواتین کو تعلیم سے روکنا مناسب نہیں ہے۔ مسلم خواتین کی خودمختاری، پرائیویسی اور وقار کے خلاف مطلق یکسانیت مسلط کرنا غیر آئینی ہے۔ اس بنیاد پر خواتین کو حجاب پہننے کا حق حاصل ہے اور اسی طرح حجاب نہ پہننے کا حق بھی ہےتاہم، مسلم خواتین کے حقوق پر موجودہ حملہ کوئی نیا یا الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ اسے اس کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔اس سے کرناٹک اور پورے ملک میں فرقہ وارانہ پولرائزیشن ہورہا ہے۔

  • بھارت میں ہندوانتہاپسندمودی سرکارکی سرپرستی میں قابوسےباہرہوگئے،مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سےروکنےکا ایک اورواقعہ

    بھارت میں ہندوانتہاپسندمودی سرکارکی سرپرستی میں قابوسےباہرہوگئے،مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سےروکنےکا ایک اورواقعہ

    نئی دہلی: بھارت میں ہندوانتہا پسند ہندوؤں نے کرناٹک کے ایک سکول میں مسلمان طلبا کونماز جمعہ کی ادائیگی سے روک دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق کرناٹک کے ایک سکول میں ہندوانتہا پسندوں کی جانب سے طلبا کوزبردستی نمازجمعہ کی ادائیگی سے روکنے کا واقعہ سامنے آگیا۔

    کرناٹک کے ایک سرکاری سکول میں ہندوانتہاپسندوں نے اس وقت دھاوا بول دیا جب 20 مسلمان طلبا نماز جمعہ ادا کررہے تھے۔ ہندوانتہاپسندوں نے طلبا کونماز پڑھنے سے روک دیا سکول میں توڑ پھوڑ کی اورپرنسپل کو برا بھلا کہا اوردھمکیاں دیں۔

    دھمکیوں کے بعد سکول پرنسپل نے نماز کی ادائیگی کی اجازت منسوخ کردی لیکن ہندوانتہا پسندوں کی سرپرست انتظامیہ نے پھربھی اسکول پرنسپل کے خلاف انکوائری شروع کردی۔

    اماراتی شہزادی کا بھارتی انتہا پسندوں پرشکنجہ کسنےکا فیصلہ،متعدد شکایتوں پردبئی کی…

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کی شہزادی شیخہ ہندہ بنت فیصل نے بھارتی انتہا پسندوں پر شکنجہ کسنے کا فیصلہ کر لیا ہے یو اے ای کی شہزادی نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی بھارتی انتہا پسند مسلمانوں کے خلاف اور اسلام کے خلاف بات کرتا نظر آئے تو فوراً ہمیں رپورٹ کرے ہم ا س کے خلاف یو اے ای میں فوراً کاروائی کریں گے جس کے نتیجے میں ملک سے بے دخلی ویزا کینسلیشن اور دبئی میں داخلے پر پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے-

    سعودی عرب میں پاکستانی شہری فحاشی کا اڈہ چلانے کے الزام میں گرفتار

    یو اے ای کی شہزادی کے اعلان کے ساتھ ہی ہندو انتہا پسندوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور متعدد شکایتوں کے بعد دبئی کی پولیس نے بھارتی انتہا پسندوں کے خلاف کاروائی کا آغاز کر دیا ہے واضح رہے کہ بھارت میں ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ شروع کر دیا ہے گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کا قتل عام ہو موبلنچنگ ہو یا لو جہاد یا کورونا جہاد کے نام پر مسلم مخالف مہم چلانا ہو تو ان سب پر دنیا بھر میں آ وازیں اٹھنے لگی ہیں یہاں تک کہ بھارتی مسلمانوں پر جمعے کی نماز پر پابندی کی مہم ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے چلائی جا رہی ہے-

    مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی