Baaghi TV

Tag: ہندوتوا نظریے

  • ہندوستانی خارجہ سیکریٹری اور  بیٹیوں پر ہندوتوا ٹرولز  حملہ، ایکس اکاؤنٹ پرائیویٹ کرنا پڑ گیا

    ہندوستانی خارجہ سیکریٹری اور بیٹیوں پر ہندوتوا ٹرولز حملہ، ایکس اکاؤنٹ پرائیویٹ کرنا پڑ گیا

    امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اچانک جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہندوستانی خارجہ سیکریٹری وکرم مصری کو ہندوتوا نظریات کے حامل سوشل میڈیا صارفین کی شدید تنقید اور حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق آن لائن ٹرولز نے نہ صرف وکرم مصری کو نشانہ بنایا بلکہ ان کی بیٹیوں کو بھی تنقید کا ہدف بنایا، جس کے بعد مصری کو مجبوراً اپنا ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پرائیویٹ کرنا پڑا۔ سوشل میڈیا پر جاری اس منظم مہم میں وکرم مصری پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ حالیہ سفارتی کوششوں میں قصوروار ہیں، جن کے نتیجے میں ٹرمپ کی جانب سے مبینہ "غیرمتوقع جنگ بندی” کا اعلان سامنے آیا۔

    یہ حملے اتنے شدید اور ذاتی نوعیت کے تھے کہ بھارتی دفتر خارجہ کو بھی اس صورتحال پر توجہ دینی پڑی، تاہم تاحال کسی سرکاری بیان میں ان حملوں کی مذمت یا وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔

    وکرم مصری بھارت کے تجربہ کار سفارت کار ہیں اور چین سمیت کئی اہم ممالک میں سفارتی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان پر اس قسم کے ذاتی حملے نہ صرف بھارتی سفارت کاری کے وقار کے لیے خطرہ ہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔

  • بھارت میں گائے کا کاروبار جرم بن گیا، تاجروں میں خوف و ہراس

    بھارت میں گائے کا کاروبار جرم بن گیا، تاجروں میں خوف و ہراس

    مودی سرکار کے تیسرے دورِ اقتدار میں اقلیتیں بالخصوص مسلمان مودی کے ہندوتوا نظریے کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں اور بی جے پی حکومت بھارت میں گائے کے تحفظ کے نام پر آئے روز متعصبانہ اور انتہا پسندانہ قوانین نافذ کرنا معمول بنا چکی ہے.

    حال ہی میں بی بی سی نے مسلمانوں اور دیگر گائے تاجروں پر گائے رکشکوں کے ہاتھوں ہونے والے ظلم و ستم کو بے نقاب کیا ہے.برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بھارت کی دودھ کی صنعت سب سے بڑی ہے مگر گائے کے تحفظ کے قوانین مسلمانوں کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔ بھارت کے بیشتر حصوں میں بیف کھانے پر پابندی جبکہ گائے ذبح کے خلاف کالے قوانین ہیں۔ 2014 میں ہندو قوم پرست بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد گائے کو سیاست کا واضح نشان بنا دیا گیا، بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں گائے تحفظ کے قوانین کی سختی بڑھ گئی ہے اور بی جے پی حکومت نے مسلمانوں کے گائے رکھنے پر قانون بنا کر 10 سال قید کی سزا اور 5 لاکھ تک جرمانہ بڑھا دیا۔

    رپورٹ کے مطابق سخت قوانین نے عید کے موقع پر بھی گائے کے ذبح کے خوف کو بڑھا دیا، گائے رکھشکوں کی جانب سے گائے کی نقل و حمل پر مسلمانوں پر حملے اور قتل معمول بن چکے ہیں، ان سب میں بھارتی پولیس بھی گائے کی نقل و حمل کرنے والوں کو پریشان کرنے میں ملوث ہے۔ گائے رکھشک، تاجروں بالخصوص مسلمان تاجروں کی گاڑیوں کو روک کر پولیس پر دباؤ ڈالتے ہیں کہ وہ گاڑی کو ضبط کر لیں گے اور گاڑیاں چھڑانے کے لیے وکیل کرنا پڑتا ہے جس پر 3 لاکھ روپے لاگت آتی ہے۔ اتر پردیش، بی جے پی کا گڑھ ہے اور وہاں ملک کے سخت ترین گائے تحفظ قوانین نافذ ہیں، حال ہی میں اتر پردیش کے ضلع کُشی نگر میں گائے ٹرانسپورٹر کو گائے اسمگلنگ کے جھوٹے الزام میں جیل بھیج دیا گیا۔ گائے ذبح قانون "Anti Cow Slaughter Act” کے تحت ضلعی انتظامیہ اور گائے رکھشکوں کو گاڑیاں ضبط کرنے کا کھلی چھوٹ حاصل ہے۔

    2020 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے گائے ذبح مخالف قانون کے بے گناہوں کے خلاف استعمال ہونے کا انکشاف کیا ہے اور 2023 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے گائے کی نقل و حمل "کوئی جرم نہیں” قرار دیا ہے۔ راجھستان میں ’گاؤ رکھشکوں’ کی جانب سے محض مویشیوں کے منتقلی کے شک کی بنیاد پر 4 مسلمان مردوں کو شدید زدوکوب کا نشانہ بنایا گیا اور آئے دن مودی سرکار کی جانب سے مسلمانوں پر حملوں اور جھوٹے مقدمات کے اندراج میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ کا کراچی میں 450 سے زائد مقامات پر سحر و افطار کا انتظام

    اسٹیل مل کے 1370ملازمین فوری بحال ، زیر التواء واجبات اداکیے جائیں ،منعم ظفر خان