Baaghi TV

Tag: ہندوستان

  • دانش صدیقی کی موت:طالبان کے خلاف تحقیقات کے لیےانٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست

    دانش صدیقی کی موت:طالبان کے خلاف تحقیقات کے لیےانٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست

    گذشتہ سال افغانستان میں ہلاک ہونے والے انڈین فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کے اہل خانہ نے ان کی موت کی تحقیقات کے لیے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (جرائم کی بین الاقوامی عدالت) سے رجوع کیا ہے۔

    دانش صدیقی گذشتہ سال 16 جولائی کو اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ افغان سپیشل فورسز کی ایک یونٹ کے ساتھ قندھار شہر کے جنوب مشرق میں سپن بولدک کے علاقے میں طالبان اور اس وقت کی حکومت کے درمیان لڑائی پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔

    دانش صدیقی کے خاندان کے مطابق انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو دی گئی درخواست میں طالبان کی سینیئر قیادت اور اس خطے کے مقامی کمانڈروں کے اس کیس میں کسی قسم کے کردار سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی (Danish Siddiqui) کے والدین گزشتہ سال افغانستان (Afghanistan) میں صدیق کی ہلاکت پر آج طالبان (Taliban) کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (International Criminal Court) میں جائیں گے۔ وہ گزشتہ جولائی میں قندھار شہر کے ضلع اسپن بولدک میں افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان تصادم کے درمیان جھڑپ کی کوریج کے دوران مارا گیا تھا۔

    خاندان نے ایک بیان میں کہا کہ منگل 22 مارچ 2022 کو دانش صدیقی کے والدین، اختر صدیقی اور شاہدہ اختر دانش صدیقی کے قتل کی تحقیقات کے لیے قانونی کارروائی شروع کریں گے اور ذمہ داروں بشمول اعلیٰ سطحی کمانڈروں اور طالبان کے رہنماؤں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔

    اس کے قتل کو انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرم قرار دیتے ہوئے بیان میں کہا گیا کہ 16 جولائی 2021 کو پلٹزر ایوارڈ یافتہ ہندوستانی فوٹو جرنلسٹ دانش صدیق کو طالبان نے غیر قانونی طور پر حراست میں لیا، تشدد کر کے قتل کر دیا اور ان کی لاش کو مسخ کر دیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اور یہ قتل نہ صرف ایک قتل ہے بلکہ انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرم ہے۔ یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا۔ طالبان کے فوجی ضابطہ اخلاق جسے لیہہ کے نام سے شائع کیا گیا ہے، صحافیوں سمیت عام شہریوں پر حملہ کرنے کی پالیسی رکھتا ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے طالبان سے منسوب 70,000 شہری ہلاکتوں کی دستاویز کی ہے۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ دانش صدیقی نے اپنے کیرئیر کا آغاز ٹیلی ویژن نیوز کے نمائندے کے طور پر کیا اور بعد میں فوٹو جرنلزم کا رخ کیا۔ وہ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے فوٹو جرنلسٹ تھے اور ستمبر 2008 سے جنوری 2010 تک انڈیا ٹوڈے گروپ کے ساتھ نامہ نگار کے طور پر کام کرتے تھے۔

  • ہندوستانOIC کےانعقادکامخالف:بلاول بھی دھمکیاں دے رہا ہے:ٹائمنگ ایک ہے:اللہ خیرکرے:شاہ محمود قریشی

    ہندوستانOIC کےانعقادکامخالف:بلاول بھی دھمکیاں دے رہا ہے:ٹائمنگ ایک ہے:اللہ خیرکرے:شاہ محمود قریشی

    اسلام آباد :ہندوستان او آئی سی کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈال رہا ہےاوربلاول بھی دھمکیاں دے رہےہیں،اللہ خیرکرے:شاہ محمود قریشی نے پاکستان کے خلاف سازش کا انکشاف کردیا ،اطلاعات کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بلاول کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میری نظر میں بلاول کا بیان انتہائی ناسمجھداری والا بیان ہے، پریشان ہمیں ہوناچاہیے جبکہ پریشان یہ خود ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد تو ابھی جمع کروائی گئی ہے، او آئی سی کے سنتالیسویں اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ پاکستان اڑتالیسویں اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ زبردستی نہیں کریں گے اپنامینڈیٹ اراکین کو یاد کرائیں گے اور کسی رکن اسمبلی کو ووٹ دینے سےنہیں روکیں گے جبکہ تحریک کا آئینی اور قانونی انداز میں مقابلہ کریں گے۔

    شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ 27 او آئی سی کا اجلاس حکومت کا نہیں ریاست پاکستان کا ایونٹ ہے،ستمبر کو میرے خطوط او آئی سی وزرائے خارجہ کو بھجوائے جا چکے ہیں اور آج صبح سے مہمان آنا شروع ہو گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مصر کے وزیر خارجہ کل آ رہے ہیں جبکہ 21 تاریخ کو ایک اور اہم وزیر خارجہ پاکستان تشریف لا رہے ہیں، میں بطور وزیر خارجہ قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہندوستان اس کانفرنس کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، مجھے امید ہے بلاول ہندوستان کے ایجنڈے کا حصہ نہیں بنیں گے۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ بچہ گھبراہٹ کا شکار دکھائی دے رہا ہے، آپ کے پاس نمبرز پورے ہیں تو پھر آپ گھبراہٹ کا شکار کیوں ہو رہے ہیں؟

    وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی صفوں میں یکسوئی نہیں ہے کیونکہ یہ بنانے کیلئے نہیں گرانے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں جبکہ یہ مثبت نہیں منفی اتحاد ہے، ان کے اندر یکسوئی نہیں ہے یہ مختلف مفادات والے لوگ عمران خان کو گرانے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد ضرور کریں ہم اپنے ممبران کو منانے کی کوشش کریں گے لیکن زبردستی نہیں کریں گے جبکہ ہم تحریک عدم اعتماد کا مقابلہ قانونی، جمہوری اور سیاسی انداز میں کریں گے۔

    شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ ن لیگ کے اندر مسائل سامنے آ رہے ہیں جبکہ ن لیگ کے اندر دو سوچیں ہیں ، ایک سوچ تحریک عدم اعتماد کی پشت پناہی کر رہی ہے اور ایک اس کے برعکس بھی ہے۔ کیا عدم اعتماد کی تحریک انہوں نے سوچ سمجھ کے پیش نہیں کی تھی ؟

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ اب ان کو گھبراہٹ کس بات کی ہے، یہ تو پچھلے اڑتالیس گھنٹوں میں 190/200 ووٹوں کی بات کر رہے تھے تو پھر آج بوکھلاہٹ کا شکار کیوں ہو گئے؟

    واضح رہے اس سے قبل اسلام آباد میں شہباز شریف کی رہائش گاہ پر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ اگر پیر تک اجلاس نہ بلایا گیا تو ہم ایوان میں دھرنا دیں گے۔

    بلاول بھٹو کا یہ بھی کہنا تھا کہ دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتےہیں، جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے، کوشش کی جارہی ہے کہ ارکان اپنا ووٹ استعمال نہ کریں، تاثر دیا جارہا ہے وہ نہیں کھیلے گا تو کوئی نہیں کھیلے گا۔

    پیپلز پارٹی کے چیئر مین کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ چاہتا ہے آئینی بحران پیدا ہو اور تیسری قوت کو موقع ملے، عمران خان نے شکست دیکھ کر غیرجمہوری عمل اختیار کیا، حکومت طاقت کے استعمال پر اتر آئی، پہلے پارلیمان پھر سندھ ہاؤس پر حملہ کیا گیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان آئیں مقابلہ کریں، عمران نیازی زندگی بھر کھلاڑی رہے، آخرمیں بال ٹیمپرنگ نہ کریں، ہم ذمہ داری کے ساتھ آج تک چل رہے ہیں، حکومت چاہتی ہے آئینی بحران پیدا ہو۔

    بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ اسپیکر نے غیر جمہوری سوچ اپنائی تو ساری اپوزیشن کو مناؤں گا، اسپیکر پیر تک عدم اعتماد نہ لائے تو ایوان میں دھرنا دیں گے، دیکھتے ہیں آپ قومی اسمبلی ہال میں او آئی سی کانفرنس کیسے کرتے ہیں۔

    بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ عمران اکثریت کھو چکا ہے، عمران شکست دیکھ کر غیر جمہوریہ اپنا رہا ، جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا ہم بیٹھے رہیں گے۔

  • ہندوانتہا پسندوں‌ کی سکھ لڑکیوں سے زیادتیاں:تلنگانہ میں سکھ لڑکی سے زیادتی:احتجاج جاری

    ہندوانتہا پسندوں‌ کی سکھ لڑکیوں سے زیادتیاں:تلنگانہ میں سکھ لڑکی سے زیادتی:احتجاج جاری

    تلنگانہ :ہندوانتہا پسندوں‌ کی سکھ لڑکیوں سے زیادتیاں:تلنگانہ میں سکھ لڑکی سے زیادتی:احتجاج جاری،اطلاعات کے مطابق سکھ تنظیموں کا حیدر آباد میں سکھ لڑکی کی آبروریزی کے واقعے نے سکھوںمیں شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔ سکھ تنظیموں نے بہیمانہ واقعے کے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پنجاب کے شہر جالندھر میںمنعقدہ سکھ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں حیدرآباد میں ہونے والے واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔ کمیٹی کے سربراہ تیجندر سنگھ پردیسی، ہرپال سنگھ چڈھا، ہرپریت سنگھ نیتو، گرویدر سنگھ سدھو اور وکی خالصہ نے اس موقع پر کہا کہ اس طرح کے واقعات سے سکھ برادری میں کافی غصہ پایا جاتا ہے۔

    خبر رساں ادارے ساوتھ ایشین وائر کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ سکھ رہنماﺅں کہا کہ بھارت میں امن و امان مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، خواتین محفوظ نہیں ہیں۔ انہوںنے آبروریزی کے ملزموں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔

    اجلاس میں ہرویندر سنگھ چٹکارا، ہرپریت سنگھ سونو، گرجیت سنگھ ستنامیاں، ہرپال سنگھ پالی چڈا، لکھبیر سنگھ لکھا، گرودیپ سنگھ لکی، منمیدر سنگھ بھاٹیہ، گرویدر سنگھ ناگی، ہرپریت سنگھ رابن، امندیپ سنگھ بگا، پربھجوت سنگھ خالصہ، جتندر سنگھ کوہلی، ہرجیت سنگھ۔ سنگھ بابا، سربجیت سنگھ کالدا، منجیت سنگھ وکی، کلدیپ سنگھ ویردی، پلویدر سنگھ بابا، ابھیشیک سنگھ، نوجوت سنگھ، ہرویدر سنگھ ببلو، سنی اوبرائے، تیجندر سنگھ سنت نگر، کملجیت سنگھ دھونی اور اوتار سنگھ اور دیگر موجود تھے۔

    خیال رہے کہ بھارتی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں ہر 15 ویں منٹ میں ایک خاتون کہیں نہ کہیں ’ریپ‘ کا شکار بن رہی ہے، جب کہ ملک کی کوئی ایسی ریاست نہیں جہاں خواتین محفوظ ہوں۔جبکہ غیرجانبدارذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہر 10 منٹ بعد خاتون ریپ کا نشانہ بن رہی ہے بھارت میں خواتین پر تشدد اور ریپ کے واقعات میں تقریبا 10 فیصد اضافہ ہوا۔

  • مسکان نے دنیا کو دو قومی نظریہ سمجھا دیا ہے، ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی

    مسکان نے دنیا کو دو قومی نظریہ سمجھا دیا ہے، ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی

    مسکان نے دنیا کو دو قومی نظریہ سمجھا دیا ہے، ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی
    تحریک لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے بھارتی ریاست کرناٹک میں انتہاء پسند ہندوؤں کی طرف سے مسلم طالبات کے خلاف شرانگیزیوں پر ردِّ عمل کا اظہا رکرتے ہوئے کہا: ”جے شری رام“ کے نعرے کے مقابلے میں ”اللہ اکبر“ کی صدا بلند کر کے مسکان نے دنیا کو دو قومی نظریہ سمجھا دیا ہے۔

    بھارت کی نڈر مسلم طالبہ مسکان نے ہندو توا کے دانت کھٹے کر دئیے ہیں۔ مسلم طالبہ مسکان نے واضح کر دیا ہے کہ یہ دور ”جے شری رام“ کا نہیں، ”غلبہئ اسلام“ کا ہے۔ دو قومی نظریے کی دلیلیں مانگنے والوں کو ہندو توا کے غنڈوں کے درمیان گھری بھارتی مسلم طالبہ کے جذبات کو دیکھنا چاہیے۔ پاکستان میں حجاب کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والے لبرلز کے لیے یہ عبرت کی مثال ہے۔ مملکت خدا داد پاکستان میں آزاد رہتے ہوئے حجاب پر تنقید کرنے والی بعض مغرب نواز عورتوں کو اس واقعہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔نڈر بھارتی طالبہ نے غیرت مند لہجے میں ”اللہ اکبر“ کہہ کر واضح کر دیا ہے کہ اسلام دبانے سے دبتا نہیں ہے، بلکہ مزید ابھر کے سامنے آتا ہے۔ بھارت میں اسلام اور حجاب کے خلاف کاروائیاں ناقابلِ برداشت ہیں۔ باحجاب طالبات کو سکولوں میں داخلے سے روکنا بھارتی دہشت گردی اور بھارت کے سیکولر سٹیٹ ہونے کے دعوے کی نفی ہے۔ آج چودہ صدیاں بعد بھی دنیا نے دیکھ لیا کہ اسلام کی بیٹی عفت اور حمیت کا حوالہ ہوتی ہے۔ اس واقعے پر مسلم حکمرانوں اور انسانی حقوق کے دعویداروں کی خاموشی بہت بڑا اَلمیہ ہے۔

    قبل ازیں ہندوستان میں مسلمان طالبات پر حجاب کی آڑ میں تعلیم کے دروازے بند کرنے کی مکار ہندو کی سازشوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں حجاب کے نام پر بچیوں کو تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں اس واقعے پر خاموش نہ رہیں، ہندوستان میں زیر تعلیم ان بچیوں کے لیے آواز اٹھائیں۔

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہماری تشویش اب مقبوضہ جموں و کشمیر تک محدود نہیں رہی، کشمیر میں مظالم کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کرواتے آرہے ہیں۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کہہ چکے ہیں اسلامو فوبیا کے بڑھتے رجحان پر تشویش ہے، پاکستان نے اسلامو فوبیا کے بڑھتے رجحان کے خلاف آواز بلند کی، ہمارےخدشات آج حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں، کرناٹک کا واقعہ اس کا واضح ثبوت ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی برادی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں حجاب کے نام پر بچیوں کو تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے، ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ مسلسل ناروا سلوک برتا جا رہا ہے، ہندوستان خود کو جمہوریت کا علمبردار کہلواتا ہے، کرناٹک میں جو ہوا مسلمانوں کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔

    وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسلمان دب کر خاموش بھی رہے تو ظلم کا سلسلہ بند نہیں ہوگا، انہیں اپنے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ میں کرناٹک میں پیش آنے والے واقعے کی شدید مذمت کرتا ہوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ اس واقعے کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں، آج خاموش مت رہیئے، ہندوستان میں زیر تعلیم ان بچیوں کے لیے آواز اٹھائیں۔

    وزیر خٓرجہ کا مزید کہنا تھا کہ او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کا 48 واں اجلاس منعقد ہوگا جس میں فلسطین، کشمیر اور اسلامو فوبیا سمیت مسلم امہ کو درپیش چیلنجز زیر بحث آئیں گے

    بھارت: وزیر تعلیم کامدھیہ پردیش میں بھی طالبات کےحجاب پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ

    بھارت میں حجاب پرپابندی کے خلاف احتجاج ، تعلیمی ادارے3 روز کے لئے بند

     مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں

    :بھارتی تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی، ملالہ نےہندووں کی مذمت کی بجائے حمایت کردی 

    ہندو انتہا پسندوں کی باحجاب نہتی مسلمان طالبہ کو ہراساں کرنے کی کوشش، لڑکی کے اللہ اکبر کے نعرے

    بھارتی ریاست کرناٹک کے ایک اورسرکاری کالج میں باحجاب طالبات کوداخل ہونے سے روک دیا گیا۔

     بھارت میں مسلمانوں کی زندگیاں اجیرن ،طالبات پولیس کیڈٹ کے حجاب کرنے پرپابندی

    گجرات کا "قصائی” مودی دہلی میں مسلمانوں پر حملے کا ذمہ دار ،بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنے لگیں

    دہلی میں پولیس بھی ہندوانتہا پسندوں کی ساتھی، زخمی تڑپتے رہے، پولیس نے ایمبولینس نہ آنے دی

    دہلی جل رہا تھا ،کیجریوال سو رہا تھا، مودی سن لے،ظلم و تشدد ہمیں نہیں ہٹا سکتا، شاہین باغ سے خواتین کا اعلان

    دہلی میں ظلم کی انتہا، درندوں نے 19 سالہ نوجوان کے سر میں ڈرل مشین سے سوراخ کر دیا

    دہلی تشدد ، خاموشی پرطلبا نے کیا کیجریوال کے گھر کا گھیراؤ، پولیس تشدد ،طلبا گرفتار

    امریکا سمیت متعدد ممالک کی دہلی بارے سیکورٹی ایڈوائیزری جاری

    دہلی فسادات، 42 سالہ معذور پر بھی مسجد میں کیا گیا بہیمانہ تشدد

    دہلی فسادات کا ذمہ دار کون؟ جمعیت علماء ہند نے کی نشاندہی

    دہلی فسادات اور 2002 کے گجرات فسادات میں گہری مماثلت،ہندوؤں کی دکانیں ،گھر کیوں محفوظ رہے؟ سوال اٹھ گئے

    دہلی فسادات، کوریج کرنیوالے صحافیوں کی شناخت کیلیے اتروائی گئی انکی پینٹ

    دہلی، اجیت دوول کا دورہ مسلمانوں کو مہنگا پڑا، ایک اور نوجوان کو مار دیا گیا

    دہلی فسادات میں امت شاہ کی پرائیویٹ آرمی ملوث،یہ ہندوآبادی پر دھبہ ہیں، سوشل ایکٹوسٹ جاسمین

    دہلی فسادات،مسلمان جی رہے ہیں خوف کے سائے میں، مذہبی شناخت چھپانے پر مجبور،خواتین نے حجاب اتار دیا

    حجاب کیوں پہنا؟ طالبات کو سرکاری سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

    گھونگھٹ ، جینز یا حجاب یہ فیصلہ کرنا خواتین کا حق ہے،مسکان کو خراج تحسین

  • سعودی محقق کی سعودی عرب اور ہندوستان کے تعلقات پر ایک تحقیقی کتاب کی اشاعت

    سعودی محقق کی سعودی عرب اور ہندوستان کے تعلقات پر ایک تحقیقی کتاب کی اشاعت

    سعودی عرب کے ’سینٹر فار ریسرچ اینڈ نالج کمیونیکیشن‘ نے "سعودی ،ہندوستانی تعلقات کا ایک تحقیقی مطالعہ جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے ” العربیہ” نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ موجودہ صورتحال اور مستقبل کی پیشن گوئی” کے عنوان سے اسے محقق اسامہ یوسف الادریسی نے کتابی شکل دی ہے اس مطالعہ کا مقصد سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان موجودہ تعلقات کا تجزیہ اور اس کے تاریخی تناظر کو دیکھتے ہوئے دونوں ممالک جن حالات سےگزرے ہیں اور موجودہ حالات ، اقتصادی اور سیاسی واقعات کی بنیاد پر ان کے درمیان تعلقات کے مستقبل کا اندازہ لگانے کی کوشش کرنا ہے۔

    حوثی رہنما نےاپنے بچوں سمیت گھر کے 8 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا

    محقق کا خیال ہے کہ مطالعہ کی اہمیت خطے میں ہونے والی تبدیلیوں، ایک طرف مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک کے آپس میں اور دوسری طرف ان کے اور ان کے اتحادیوں کے درمیان طاقت کے توازن میں فرق اور سعودی رجحان سے ملتی ہے سعودی عرب کا جھکاؤ مشرق کی طرف ہےاور اس رجحان کے اثرات دیگر ممالک کے ساتھ مملکت سعودی عرب کے تعلقات پر پڑتے ہیں اس کی اہمیت اس لیے اور بڑھ جاتی ہے کہ ہندوستان سعودی عرب کے لیے اقتصادی اور جغرافیائی طور پر ایک اہم ملک ہے۔

    اس تحقیق میں سعودی عرب اور ہندوستان تعلقات کی حقیقت پر بات کی گئی ہے خلیج عرب کے خطے میں ہندوستان کی موجودگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کی تاریخ، موجودہ تبدیلیاں، ہندوستانی معیشت کے حجم کی تعریف، سب سے اہم سعودی مواقع اور فوائد، متوقع چیلنجز، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو متاثر کرنے والے اہم ترین نکات کے علاوہ تعلقات کے مستقبل کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔

    العربیہ کی ررپورٹ کے مطابق اپنے مطالعے میں محقق اسامہ الادریسی نے کئی نتائج اخذ کیے ہیں۔ ان میں سے سب سے اہم تحقیق اور مطالعہ کی کمی اور حتیٰ کہ عرب رپورٹس جو سعودی ہندوستان تعلقات میں مواقع اور چیلنجوں کے مسئلے سے نمٹتی ہیں، خاص طور پر اس مسئلے پر سعودی نقطہ نظر۔ تجزیہ اور دور اندیشی کے بارے میں تحقیق کی کمی دکھائی دیتی ہے۔

    کھلے پیسے نہیں ہیں توکیا ہوا،بھارت کے ڈیجیٹل بھکاری نےآن لائن بھیک…

    کتاب کے مصنف کا خیال ہے کہ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے معاشی عروج کے لیے توانائی کے ذرائع کے حصول کی خاطر اس کی دلچسپی اور انھیں محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر متبادل یا صاف توانائی جو اس توانائی کے اہم ترین ذرائع میں سے ایک کے طور پر سعودی عرب کے لیے ایک اچھا موقع ہے۔

    ہندو انتہا پسندوں کی باحجاب نہتی مسلمان طالبہ کو ہراساں کرنے کی کوشش، لڑکی کے…

    رپورٹ کے مطابق محقق اسامہ الادریسی نے نشاندہی کی کہ چین- ہندوستان دشمنی کی نوعیت، امریکی کیمپ میں ہندوستان کی طرفداری کے ساتھ ایک ایسے توازن کی ضرورت ہے جو مملکت کو اس باہم جڑے ہوئے تعلقات سے فائدہ اٹھانے کی ضمانت دیتا ہے، جو ایران کے ساتھ ہندوستان کے اچھے تعلقات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

    تحقیق میں سعودی عرب اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں سرمایہ کاری کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور مصنف کو توقع ہے کہ اگر یہ بہت سے عوامل اور تحفظات کو مدنظر رکھا جائے جن کا تحقیق میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے تو ان تعلقات کا مستقبل اچھا ہوگاساتھ ہندوستان کی توانائی کی مضبوط ضرورت کو پورا کرنے اور اس میدان میں اس کے ساتھ شراکت داری میں داخل ہونے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    کریش لینڈنگ کیوں کی ؟ بھارتی حکومت نے مسلمان پائلٹ کو85 کروڑ کا بل بھیج دیا

  • ہندوستان میں اقلیتوں پر ظلم علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے ،وزیراعظم

    ہندوستان میں اقلیتوں پر ظلم علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے ،وزیراعظم

    بیجنگ: وزیراعظم آفس کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کی چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ اکتوبر 2019 میں وزیراعظم کے دورہ چین کے بعد دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی ملاقات تھی، جس میں دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوطرفہ تعاون کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا، اور خوشگوار ماحول میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ وزیراعظم عمران خان نے بیجنگ میں 24 ویں اولمپک سرمائی کھیلوں کی کامیاب میزبانی پر چین کی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی، اور چینی نئے قمری سال پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    وزیرخارجہ کا بیجنگ میں پاکستانی طلباء اور پروفیشنلز کی سہولت کیلئے بنائے گئے پورٹل…

    اعلامیے میں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے بھارت کےغیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کی ہندوتوا ذہنیت، ہندوستان میں اقلیتوں پر ظلم علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے، بھارت میں تیزی سے پھیلتی عسکریت پسندی علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین پاکستان کا ثابت قدم ساتھی، بہترین حامی اور آئرن برادر ہے، پاکستان اور چین کے درمیان تزویراتی تعاون پر مبنی شراکت داری نے وقت کی آزمائشوں کا مقابلہ کیا، دونوں ممالک امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کی مشترکہ امنگوں کو عملی جامہ پہنانے میں شانہ بشانہ کھڑے رہے وزیراعظم نے پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، آزادی اور قومی ترقی کے لیے چین کی غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان شراکت داری خطے میں امن و استحکام کی عکاس ہے-

    وزیر اعظم چینی صدرسے اہم ملاقات کے بعد واپس وطن روانہ ہوچکے

    اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو پائیدار ترقی، صنعتی ترقی، زرعی جدید کاری اور علاقائی رابطوں کے لیے اپنی حکومت کی پالیسیوں سے آگاہ کیا، اور پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے چین کی مسلسل حمایت اور مدد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے سی پیک کی اعلیٰ معیار کی ترقی سے بہت فائدہ اٹھایا۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں بڑھتے ہوئی پولرائزیشن سے عالمی ترقی اور ترقی پذیر ممالک کو سنگین خطرات لاحق ہیں، موسمیاتی تبدیلی، صحت کی وبائی امراض اور بڑھتی ہوئی عدم مساوات ناقابل تسخیر چیلنجز ہیں، ان چیلنجز سے صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام اقوام کے تعاون کے ساتھ ہی نمٹا جا سکتا ہے۔

    روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    اعلامیے میں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے چین کے بنیادی مفاد کے تمام امور پر پاکستان کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا، دونوں رہنماؤں نے تسلیم کیا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان خطے میں اقتصادی ترقی اور رابطوں کو فروغ دے گا، اور دونوں رہنماوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی تباہی کو روکنے میں افغان عوام کی فوری مدد کرے پاک چین سربراہان نے صنعتی تعاون، خلائی تعاون، اور ویکسین کے تعاون پر مشتمل متعدد معاہدوں پر دستخط کی تعریف کی۔ دونوں رہنماؤں نے نئے دور میں مشترکہ مستقبل کے لیے پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کو جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔

    واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

  • مسلمان طلبا سوریہ نمسکار پروگرام میں ہرگز شامل نہ ہوں،آل انڈیامسلم لا بورڈ

    مسلمان طلبا سوریہ نمسکار پروگرام میں ہرگز شامل نہ ہوں،آل انڈیامسلم لا بورڈ

    نئی دہلی:مسلمان طلبا سوریہ نمسکار پروگرام میں ہرگز شامل نہ ہوں،آل انڈیامسلم لاء بورڈ ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مودی کی سربراہی میں 75ویں یوم آزادی کے موقع پر سکولوں میں ” سوریہ نمسکار”کا پروگرام منعقد کرنے کے مودی حکومت کی ہدایت کی مخالفت کرتے ہوئے مسلمان طلباء سے اس پروگرام کا بائیکاٹ کرنے کو کہا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک بیان میں کہاہے کہ سوریہ نمسکار سورج کی پوجا کرنے کے مترادف ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔انہوں نے مسلمان طلباء سے کہاکہ ا س پروگرام میں ہرگز شامل نہ ہوں ۔

    مودی حکومت کی ہدایات پر 75ویں یوم آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں سوریہ نمسکار کا پروگرام بھارت بھرکے سکولوںمیں یکم سے سات جنوری تک منعقد کئے جارہے ہیں۔ خالد رحمانی نے کہا کہ مسلمان سورج کو بھگوان نہیں مانتے لہذا مسلم بچوں کو اس طرح کے پروگرام میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔

    ادھربھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنا سے ‘بلی بائی’نامی ایک ایپ کے ذریعے مسلمان خواتین کی آن لائن نیلامی کے گھنائونے واقعے کا نوٹس لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کنسرنڈ سٹیزنز کی طرف سے بھارت کے عوام سے اس سلسلے میں توثیق کیلئے ایک آن لائن خط جاری کیاگیا ۔ خط میں بھارتی چیف جسٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ملک میں سلی ڈیلز اور بلی بائی جیسی آن لائن ایپس کے ذریعے مسلم خواتین کو غیر قانونی اور غیر آئینی طورپر بدسلوکی کا نشانہ بنائے جانے کا اذ خود نوٹس لیں ۔

    خط میں این وی رمنا سے مزید کہاگیا ہے کہ وہ ا ن گھنائونے واقعات کے سلسلے میں درج مقدمات کی تحقیقات کی خود نگرانی کریں اوران میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کو یقینی بنائیں۔ خط میں چیف جسٹس سے متعلقہ حکام کو ٹویٹر اور گٹ حب جیسی سوشل میڈیا ایپس کا اقلیتی مسلمان خواتین کو بدنام کرنے کے مذموم مقاصد کیلئے استعمال روکنے کی ہدایت کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے ۔

    کنسرنڈ سٹیزنز نے چیف جسٹس سے متاثرہ خواتین کو مناسب معاوضے کی ادائیگی اور مناسب اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے فرقہ وارانہ نفرت کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کی فرقہ وارانہ نفرت اور خواتین کو بدنام کرنے گھنائونے واقعات سے خواتین کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان واقعات کو روکنے میں حکومت کی ناکامی کے پیش نظر خواتین کے حقوق کا تحفظ بھارتی سپریم کورٹ کی ذمہ داری ہے ۔

    واضح رہے کہ بھارت میں گزشتہ دنوں آن لائن ایپ ‘بلی بائی’ کے ذریعے حال ہی میں مسلم خواتین کی تصاویر اپ لوڈ کر کے انہیں فروخت کیلئے پیش کیاگیا ہے جبکہ گزشتہ سال جولائی میں ‘سلی ڈیلز’ نامی ایپ کے ذریعہ مسلم خواتین کی بولی لگائی گئی تھی۔

  • کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون اوراب فلورونا:بھارت کے بندہونے کا خطرہ:دہلی میں لاک ڈاون شروع

    کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون اوراب فلورونا:بھارت کے بندہونے کا خطرہ:دہلی میں لاک ڈاون شروع

    نئی دہلی. ملک میں کورونا کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے ایک بار پھر پابندیوں کا دور شروع ہو گیا ہے۔ خود راجدھانی دہلی میں بھی مسلسل بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے پیش نظر پابندیاں دوبارہ سخت کر دی گئی ہیں۔

    اس کے تحت ویک اینڈ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری دفاتر میں گھر سے کام کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے جبکہ پرائیویٹ دفاتر میں اہلکاروں کی حاضری پچاس فیصد رکھی گئی ہے۔

    ہلاکت خیز کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کو دیکھتے ہوئے دہلی حکومت نے ویک اینڈ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ہفتہ اور اتوار کو رات کے کرفیو کے علاوہ دن کا کرفیو بھی ہوگا

    دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے منگل کو یہ اطلاع دی انہوں نے کہا کہ ویک اینڈ کرفیو لگانے کا فیصلہ ڈی ڈی ایم اے کے اجلاس میں کیا گیا انہوں نے کہا کہ ضروری خدمات کے علاوہ باقی سب پر کرفیو کا نفاذ ہوگا

    انہوں نے کہا کہ میٹرو اور بس کو 50 فیصد گنجائش پر چلانے کے فیصلے کے بعد دیکھا گیا کہ بس اسٹاپ اور میٹرو اسٹیشن کے سپر اسپریڈر بننے کاخدشہ ہے اس لیے اب بس اور میٹرو صد فیصد گنجائش کے ساتھ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بس اور میٹرو میں ہر ایک کے لیے ماسک پہننا لازمی ہو گا۔

    نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے اب گھر سے کام کریں گے، جب کہ 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ پرائیویٹ دفاتر کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور ضرورت کے وقت ہی گھروں سے باہر نکلیں۔ کورونا کے گائیڈ لائن پر سختی سے عمل کریں اور ماسک پہنیں۔

    ممبئی میں بھی کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے پیش نظر ممبئی کے میئر کشاری پیڈنیکر نے واضح کیا ہے کہ اگر کیس 20 ہزار سے اوپر جاتے ہیں تو لاک ڈاؤن نافذ کر دیا جائے گا۔ یہاں وبا کی وجہ سے کچھ عرصہ قبل کھلنے والے سکول دوبارہ بند کیے جا رہے ہیں۔

    مہاراشٹر میں بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے اسکولوں کو ایک بار پھر بند کرنا پڑا ہے۔ ایک طالب علم کی ماں نے بتایا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ اسکول بند کر دیا گیا ہے۔ سمارٹ فون نہ ہونے کی وجہ سے ان کا بیٹا آن لائن کلاسز لینے سے قاصر ہے۔ اس سے اس کی پڑھائی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ دہلی میں بڑھتی سردی اور کورونا کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے اسکول پہلے ہی بند کر دیے گئے ہیں۔

    دہلی میں اومیکرون کے بڑھتے ہوئے کیس بھی اس کی وجہ بن گئے ہیں۔ ملک میں جس طرح سے کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں، اس کا نیا ویریئنٹ اومیکرون بھی اس میں شامل ہے۔ اس کی منتقلی کی رفتار اب تک سامنے آنے والے تمام ویریئنٹس سے بہت زیادہ ہے۔

    تاہم، دہلی میں ایمس نے اپنے تمام فیکلٹی ممبران کو فوری طور پر ڈیوٹی میں شامل ہونے کو کہا ہے۔ ایمس نے موسم سرما کی چھٹیوں کے باقی دنوں (5 جنوری سے 10 جنوری) کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔

  • چین کی بحری ناکہ بندی کامنصوبہ مکمل:پاکستان بھی نشانہ:بھارتی بحریہ کوجنگی طیاروں کی فراہمی جاری

    چین کی بحری ناکہ بندی کامنصوبہ مکمل:پاکستان بھی نشانہ:بھارتی بحریہ کوجنگی طیاروں کی فراہمی جاری

    لاہور(……9251 +)ہندوستان نے اپنی بحریہ کومزید 57 رافیل جنگی طیاروں سے لیس کرکےپاکستان اورچین کوپیغام بھیج دیا،اطلاعات ہیں‌ کہ ہندوستانی بحریہ کل اپنی بحریہ کو مزید مضبوط کرنے کے لیے بڑی تعداد میں جنگی طیاروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کچھ کرنے جارہا ہے ، اس حوالے سے ہندوستانی دفاعی حکام کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان اپنی بحریہ کومزید مضبوط کرکے پاکستان اور چین کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ ہندوستان سے کبھی بھی نہ ٹکرانا

    ادھرہندوستانی افواج کی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان اپنے نئے مقامی طور پر تیار کردہ طیارہ بردار بحری جہاز کے لیے ملٹی رول کیریئر پر مبنی جنگی طیاروں کی تلاش میں ہے جو اس وقت بھارت کی سمندری حدود میں آزمائش کے مرحلے میں ہے اور کارکردگی چیک ہونے کے بعد اس کو شامل کیا جائے گا
    ادھر ہندوستانی بحریہ نے اشارہ کیا ہے کہ وہ MiG-29K کو تبدیل کرنے کے لیے جڑواں انجن والا طیارہ حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہے جو فی الحال INS وکرمادتیہ سے چل رہا ہے۔

     

     

    ہندوستانی بحریہ 6 جنوری سے گوا میں آئی این ایس ہنسا میں ساحل پر مبنی ٹیسٹ سہولت میں رافیل لڑاکا طیاروں کے بحری ورژن کی فلائٹ ٹیسٹنگ کرے گی تاکہ 40,000 ٹن وزنی کیریئر آئی این ایس وکرانت کے مطابق بہترین جنگی طیارے کا تعین کیا جا سکے۔

    شاید اسی طاقت کے بل بوتے پر ہندوستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرمبیر سنگھ نے کہا تھا کہ ہندوستانی بحریہ ہندوستانی فضائیہ کے ساتھ جنگجوؤں کے مشترکہ حصول کا پیچھا کر سکتی ہے۔

    یہ بھی یاد رہے کہ روسی ساختہ جنگی طیاروں خاص کر میگ 29 کے متبادل کے طور پر ہندستانی بحریہ نے ڈائریکٹوریٹ آف نیول ایئر اسٹاف کی طرف سے جنوری 2017 میں ملٹی رول کیریئر برن فائٹر کے لیے معلومات کی درخواست (RFI) جاری کی گئی تھی کیونکہ فی الحال آپریشنل Mig-29K کو 2034 میں مرحلہ وار ختم کیا جانا ہے۔

    ہندوستانی بحریہ نے اپنے بحری بیڑوں کو مضبوط سے مضبوط تربنانے کےلیے مبنی جڑواں انجن لڑاکا طیاروں کے لیے عالمی ٹینڈر کا جائزہ لینے کا انتخاب کیا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ مقامی طور پر تیار کردہ ٹوئن انجن ڈیک بیسڈ فائٹر (ٹی ای ڈی بی ایف) 2032 تک پہنچنا ہے۔

    یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کل ہونے والے جنگی مظاہروں کے بعد اگرکوئی صورت حال تسلیٰ‌ بخش ہوتی ہے تو پھر ہندوستانی بحریہ اسی مقام پر رافیل-ایم (میرین) طیارے کے متبادل کے طور پر امریکی F-18 سپر ہارنٹس کی جانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ بوئنگ F-18 سپر ہارنیٹ امریکی بحریہ کے لیے ایک آزمائشی اور ہندوستانی بحریہ کی ڈیمانڈ پر مبنی ملٹی رول فائٹر ہے، جس میں 1991 کی خلیجی جنگ سے متعلق حیرت انگیز مشنز ہیں۔

     

    بھارتی دفاعی حکام کے درمیان چلنے والی گفتگو اور باہمی پیغام رسانی سے یہ بھی چیزیں‌ سامنے آئی ہیں‌کہ IAC-1 کو INS وکرانت کے طور پر 15 اگست 2022 کو ہندوستان کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پرہندوستانی بحری بیڑوں میں آپریشنل کرنے کا پروگرام ہے ۔ ہندوستانی بحریہ طیارہ بنانے والی فرانسیسی کمپنیوں سے 2022 میں چار سے پانچ Rafale-M طیارے لیز پرلینے کا پروگرام بنا چکی ہے تاکہ طیارہ بردار جہاز کو آپریشنل بنایا جا سکے۔

    ہندوستان میں امبالہ ایئربیس پر پہلے ہی رافیل کی دیکھ بھال اور پرواز کی تربیت کی سہولت موجود ہے۔ بحریہ کے ہوا بازوں کو آئی این ایس ہنسا میں تربیت دی جائے گی۔

    اس موقع پر یہ بھی بتا دوں کہ چند دن پہلے اپنے حالیہ دورہ ہندوستان میں، فرانسیسی وزیر دفاع نے بھی ہندوستان کو کیرئیر پر مبنی رافیل کی فراہمی پر آمادگی ظاہر کی تھی۔فرانسیسی وزیردفاع کا کہا تھا – "ہمیں معلوم ہے کہ طیارہ بردار بحری جہاز جلد ہی پہنچ جائے گا…اور اس کے لیے مزید طیاروں کی ضرورت ہوگی۔ اگر ہندوستان دوسرا رافیل خریدنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم اسے دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس وقت، اس نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اگر ہندوستان کو ضرورت ہو تو فرانس ہندوستانی فضائیہ کے ذریعہ حاصل کیے جانے والے 36 سے زائد رافیل لڑاکا طیارے فراہم کرے گا۔

     

    2016 میں فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے بھی، Dassault Aviation بحریہ کے ساتھ Rafale کے بحری قسم کی فروخت کے بارے میں بات چیت کر رہی تھی۔

    ہندوستانی بحریہ کو بوئنگ کا جڑواں سیٹوں والا F/A-18 بلاک III سپر ہارنیٹ اس کے RFI کے جواب میں 57 ملٹی رول کیریئر پر مبنی فائٹرز کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ سپر ہارنیٹ بلاک III سپر ہارنیٹ کا سب سے نفیس قسم ہے اور چوتھی نسل کی لڑاکا صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑتا ہے۔

    ٹچ اینڈ گو لینڈنگ Rafale-M – امریکی بحریہ کے ذریعےیہ طیارہ "اسکی جمپ” ریمپ سے چل سکتا ہے اور اسے ہندوستانی تجزیہ کاروں کے ذریعہ "محفوظ ہند-بحرالکاہل کے لئے فعال کرنے والا” کا نام دیا گیا ہے، جنہوں نے سپر ہارنٹس کی صلاحیتوں اور ہندوستانی بحریہ کے لئے موزوں ہونے پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جیسا کہ پہلے رپورٹ کیا گیا تھا۔ یورو ایشین ٹائمز

    "F/A-18 سپر ہارنیٹ بلاک III ہندوستانی بحریہ (IN) کو پیش کش پر ہے جو امریکی بحریہ (USN) کا سب سے جدید، کثیر کردار، فرنٹ لائن لڑاکا ہے اور یہ بیڑے کے لیے ورک ہارس ہے، اور ایسا ہی رہے گا۔ ،‘‘ انکور کناگلیکر، ہیڈ انڈیا فائٹرز سیلز، بوئنگ ڈیفنس، اسپیس اینڈ سیکیورٹی، نے پہلے فنانشل ایکسپریس کو بتایا۔

    فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ رافیل میرین فائٹرز کو سپر ہارنٹس پر برتری حاصل ہے کیونکہ فرانس اور ہندوستانی حکومت کے درمیان 36 رافیل ڈبلیو کے لیے 8.7 بلین ڈالر کی ایک میگا ڈیل طے پائی تھی۔

    ادھر بھارتی فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی گفتگو سے جو نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی بحریہ ایک طرف پاکستان کوجواب دینے کے لیے تیار ہے تو دوسری طرف بھارت ، جاپان ،آسٹریلیا اور امریکہ کے ساتھ ملکر جنوبی چین اور کواڈ ممالک کے درمیان ہونے والے جنگی معاہدوں کے مطابق چین کے بحری راستوں کی ناکہ بندی کے لیے استعمال ہوں گے جس کا مقصد چین کی بحری ناکہ بندی کرکے چین کومعاشی طورپرکمزوراور تباہ حال کرنا ہے

  • بھارت کی بگڑتی ہوئی صورت حال چند سالوں میں9لاکھ کے قریب ہندوستانیوں نے ملک چھوڑدیا

    بھارت کی بگڑتی ہوئی صورت حال چند سالوں میں9لاکھ کے قریب ہندوستانیوں نے ملک چھوڑدیا

    نئی دہلی :بھارت کی بگڑتی ہوئی صورت حال چند سالوں میں 9 لاکھ کے قریب ہندوستانیوں نے ملک چھوڑدیا ،اطلاعات کے مطابق ہندوستانی حکومت نے لوک سبھا کو بتایا کہ 2017 سے اب تک 8,81,254 ہندوستانی شہریوں نے اپنی شہریت چھوڑ دی ہے۔

    مرکزی وزیر مملکت برائے امور داخلہ نتیانند رائے نے یکم دسمبر کو پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ گزشتہ سات سالوں میں 20 ستمبر تک 6,08,162 ہندوستانیوں نے اپنی شہریت ترک کی ہے۔ ان میں سے 1,11,287 لوگوں نے اس سال ستمبر تک اپنی ہندوستانی شہریت ترک کردی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ 10,645 غیر ملکی شہریوں نے، جن میں سے زیادہ تر پاکستان (7,782) اور افغانستان (795) سے ہیں، نے 2016 اور 2020 کے درمیان ہندوستانی شہریت کے لیے درخواست دی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت 100 لاکھ سے زیادہ ہندوستانی بیرون ملک مقیم ہیں۔

    مذکورہ اعداد و شمار کیرالہ سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ہیبی ایڈن کے سوال کے جواب میں وزارت داخلہ نے لوک سبھا کو فراہم کیے تھے۔

    یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مرکزی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے پین انڈیا نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (NRC) بنانے کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ مرکزی وزیرنے کہا کہ یہ قانون 10 جنوری 2020 کو نافذ ہوا، دسمبر 2019 میں اس کے ابتدائی نوٹیفکیشن کے فوراً بعد پورے ملک میں زبردست مظاہرے ہوئے۔