Baaghi TV

Tag: ہندو انتہاپسند

  • ہندو انتہاپسندوں کا خوف: دلت نوجوان پولیس حصار میں دلہن بیاہنے پہنچ گیا

    ہندو انتہاپسندوں کا خوف: دلت نوجوان پولیس حصار میں دلہن بیاہنے پہنچ گیا

    نئی دہلی: بھارت میں دلت نوجوان انتہاپسندوں کے تشدد سے بچنے کیلئے درجنوں پولیس اہلکاروں کے پروٹوکول میں دلہن لانے پہنچ گیا-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق پولیس اہلکاروں کے حصار میں بارات لے جانے کا واقعہ بھارتی ریاست اترپردیش کے بلندشہر میں پیش آیا جہاں ایک دلت نوجوان نے ہندو انتہا پسندوں کے خوف سے پولیس تھانے میں بارات میں پروٹوکول دینے کی گزارش کی تھی۔

    بھارت میں اونچی ذات کے ہندوؤں نے دلت لڑکے کو پیرچاٹنے پرمجبورکردیا

    دلت نوجوان نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ آٹھ ماہ قبل علاقے ایک دلت نوجوان کو گھوڑے پر سوار ہوکر بارات لے جانے پر ٹھاکر برادری نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث وہ ہلاک ہوگیا تھا۔

    نوجوان نے پولیس کو بتایا کہ وہ شدید خوفزدہ ہے کہ اگر گھڑچڑھائی کی رسم کی تو اسے بھی مار دیا جائے گا لہذا پولیس مجھے پروٹوکول دے۔

    پولیس نے نوجوان کی خواہش پوری کی اور بارات لے جانے کےلیے بھاری نفری فراہم کی، جس کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھی جاسکتی ہے۔

    بی جے پی نے دہلی کے 40 گاؤں کے مسلم نام تبدیل کرنے کا منصوبہ بنا لیا

    دلت نوجوان کی درخواست پر پولیس کی بھاری نفری نے گھوڑے پر سوار دولہا اور باراتیوں کو اپنے حصار میں لے کر دلہن کے گھر تک پہنچایا-

    واضح رہے کہ قبل ازیں اترپردیش کے شہر رائے بریلی میں اونچی ذات کے ہندونے دلت لڑکے کواپنے پاؤں چاٹنے پرمجبورکردیا تھا سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دلت لڑکے کوکان پکڑ کرزمین پربیٹھے دیکھا گیا جبکہ موٹرسائیکل پربیٹھا انتہاپسند ہندودلت لڑکے کواپنے پاؤں چاٹنے کا حکم دیتا ہے جبکہ اس کے دیگرساتھی ہنستے رہے-

    پولیس نے دلت لڑکے کی شکایت پر7افراد کو گرفتار کرلیا تھا پولیس کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ 10 اپریل کو پیش آیا اور گرفتاریاں متاثرہ کی تحریری شکایت کے بعد کی گئیں۔ کیس کے کچھ ملزمان نام نہاد اونچی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔

    ایک سینئر پولیس اہلکار اشوک سنگھ نے کہا تھا کہ مشتعل طالب علم نے پولیس سٹیشن میں شکایت کی تھی جس کے بعد اس پر حملہ کرنے والوں کے خلاف یوپی پولیس نے قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا-

    دہلی فسادات،14 افراد گرفتار،بے گناہ مسلمان پھنسا دیئے گئے

  • انتہا پسند ہندوؤں کا دو مسلمان نوجوانوں پر تشدد،خنزیر کا گوشت کھلانے کی کوشش

    انتہا پسند ہندوؤں کا دو مسلمان نوجوانوں پر تشدد،خنزیر کا گوشت کھلانے کی کوشش

    نئی دہلی: بھارت میں ہندو انتہاپسند دہشتگردوں کے مسلمانوں پر مظالم جاری ہیں ،بھارت میں مسلمانوں پر سرِعام تشدد اور اُن کی تذلیل ایک معمول بن چکا ہے۔ ایسے واقعات کی ہندو نواز بھارتی حکومت مذمت کرتی ہے اور نہ ہی بلوائیوں کو عبرت ناک سزا دیتی ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی دارالحکومت سے متصل گروگرام میں ہندو انتہاپسندوں نے مبینہ طور پر دو مسلمان نوجوانوں کو مذہب کے نام پر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناڈالا۔

    گروگرام پولیس کے مطابق اتوار کے روز مبینہ طور پر دو مسلم نوجوانوں کے موبائل فون چھیننے کے بعد ان کے مذہب کو لے کر نازیبا الفاظ کہے اور تشدد کا نشانہ بنایا-

    بھارتی ڈاکٹر کا اپنے پالتو جانوروں کے بغیر یوکرین چھوڑنے سے انکار

    گروگرام پولیس نے بتایا کہ حملہ آوروں نے انہیں خنزیر کا گوشت کھلانے اور سفید پاؤڈر کھانے پر مجبور کیا، واقعہ سیکٹر 45 میں رماڈا ہوٹل کے نزدیک اس وقت پیش آیا جب رحمان اور اعظم مدرسے سے عطیہ جمع کرنے کے بعد اپنی موٹرسائیکل پر چکّر پور جارہے تھے دونوں مسلمان لڑکے بہار کے رہنے والے ہیں جن کی شناخت عبد الرحمان اور دوست محمد اعظم نام سے ہوئی ہے۔

    پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرکے سیکٹر 40 پولیس تھانہ میں ایک معاملہ درج کرلیا ہے جبکہ ایک ملزم امت کو گرفتار کرلیا ہے اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔

    چھٹی کے دن اسکول کے بچوں کے ساتھ تصویر،مودی سوشل میڈیا پر مذاق بن گئے

    دوسری جانب انتہاء پسند ہندو حملہ آور موبائل فون اور موٹرسائیکل لے کر فرار ہوگئے ہیں۔

    قبل ازیں بھارتی ریاست کرناٹک کے ضلع گدگ میں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے غنڈوں نے دو مسلمان نوجوانوں انیس سالہ سمیر اور اکیس سالہ شمشیر کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے شدید زخمی کر دیا تھا سمیر منگل کی صبح ہبلی کے کرناٹک انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا تھا جبکہ شمشیر کی حالت نازک تھی-

    ایک مقامی رہائشی حسین کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس کے کارکنوں نے سمیر کے سینے پر چاقو سے وار کیا۔ اور شمشیر پر بھی مہلک ہتھیار سے حملہ کیا گیادونوں پر یہ مہلک حملہ ناراگنڈ میں بجرنگ دل کی طرف سے منعقدہ ایک اجتماع کے فوراً بعد کیا گیا جہاں مسلمانوں کے خلاف نعرے لگائے گئے۔

    فلسطین میں بھارتی سفیر اپنے دفتر میں مردہ حالت میں پائے گئے