Baaghi TV

Tag: ہندو انتہا پسند

  • پہلگام فالس فلیگ،مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو ہتھیار بانٹ دیے

    پہلگام فالس فلیگ،مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو ہتھیار بانٹ دیے

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت نے آگ مزید بھڑکانے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں اپنے انتہا پسند حامیوں مین ہتھیار بانٹ دیئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ مودی سرکار نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 40 ہزار سے زائد انتہا پسند ہندوؤں کو ہتھیار پہنچا دیئے ہیں۔مصدقہ اطلاعات کے مطابق نئی دہلی پر قابض نریندر مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے پیروکار انتہا پسند ہندوؤں کو ہتھیار پہنچا دئیے ہیں۔انتہا پسند ہندوؤں پر مشتمل یہ جتھے ویلیج ڈیفنس گارڈز کی آڑ میں پہلگام حملے کا بدلہ لینے کا نعرہ لگا کر مقبوضہ ریاست میں عام کشمیری مسلمانوں کو نشانہ بنائیں گے۔ہندو انتہا پسندوں کو دیئے گئے ہتھیاروں میں کلاشنکوف، بھارتی فوج میں استعمال ہونے والی INSAS رائفلیں شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرپرستی میں مقبوضہ وادی میں نام نہاد ویلیج ڈیفنس گارڈز کے 4 ہزار سے زائد گروپ کھڑے کئے ہیں۔ہر "ویلیج ڈیفنس گارڈ” گروپ 15 سے 20 انتہاء پسند ہندوؤں پر مشتمل ہے، ان میں ریٹائرڈ بھارتی فوجیوں کی اکثریت ہے۔ یہ انتہا پسند ہندو جتھے پہلے ہی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔ہندو انتہا پسندوں کے ان جتھوں کو بھارتی حکومت کی جانب سے تربیت اور تنخواہ بھی دی جاتی ہے۔بھارتی فوج ان گروہوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔ فوج کا مقصد فیک انکاؤنٹرز کے ساتھ ساتھ ان نام نہاد ویلیج ڈیفنس گارڈز کی آڑ میں زیادہ سے زیادہ کشمیری مسلمانوں کو شہید کرنا ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ انتہا پسند ہندو جتھے مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں آپریشنل بیس منتخب کرچکے ہیں۔ ان انتہا پسند ہندو جتھوں کا ہدف مقبوضہ کشمیر کے نوگام، اوڑی، پونچھ، راجوڑی اور نوشہرہ کے علاقے ہیں۔ ان کا بنیادی ہدف کشمیری مسلمانوں کو شہید کرنااور لوٹ مار کرنا ہ اور خوف و ہراس پھیلا کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی بالادستی قائم کرنا ہے۔ ان نام نہاد ویلیج ڈیفنس گارڈز کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے آبادی کے تناسب کو بھی متاثر کرنا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی انتہا پسند مرکزی حکومت پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ پاکستان کے اندر اپنی سپانسرڈ دہشتگردی سے دنیا کی توجہ ہٹا کر الٹا پاکستان پر الزام دھرنے کی بچگانہ کوشش کر رہی ہے، دوسری طرف نریندر مودی مقبوضہ ریاست میں اپنی بری طرح ہاری ہوئی بازی کو پلٹنے کا بچگانہ خواب دیکھ رہا ہے۔

    ‏مہنگائی نے عوام کو سولی پر لٹکا دیا.تحریر: زرلش کشمیری

    گلوکار سلمان احمد نے ایکس پر شیئر کیا جعلی خط،بھارتی اکاؤنٹس پر بھی پروپیگنڈہ

  • بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں  مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بھارتی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف عمل ہے— عبدالحفیظ چنیوٹی

    بدقسمتی سے اس وقت بھارت میں جہاں ایک طرف ہندتوا نظریات کا پرچار زد عام ہے وہیں دوسری طرف اسلاموفوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر بھی تشویش ناک ہے- بھارت میں مقدس گائے،حجاب، لو جہاد اور گھر واپسی کے نام پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے-

    موجودہ بھارت میں عوامی سطح پر مسلمانوں کے خلاف نفرت اور اشتعال انگیزی پر مبنی گفتگو کو فروغ دیا جا رہا ہے- مسلمانوں کے خلاف منفی پروپیگنڈا، غلط معلومات اور فیک نیوز کی بنیاد پر ہتھیاروں سے لیس جتھوں کو مسلمانوں پر تشدد اور قتل عام کیلئے اکسایا جاتا ہے- عام سیاسی اور مذہبی اجتماعات کے علاوہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جیسا کہ وٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ پر ویڈیوز اور میسیجز کی صورت میں نفرت انگیز مواد کی بھر مار ہے-

    نفرت انگیز تقاریر اور گفتگو کی سب سے بڑی حالیہ مثال 17 تا 19 دسمبر 2021ء کو ہونے والے ہری دوار شہر میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک اجتماع دھرم سنسد میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارنے کی ہے-

    بلکہ ایک انتہا پسند ہندو خاتون رہنما نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم دشمنی اور مذہبی منافرت و تعصب کا ثبوت دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ:

    ’’چندسو ہندو اگر مذہب کے سپاہی بن کر 20 کروڑ مسلمانوں کو ہلاک کر دیں تو وہ فاتح بن کر ابھریں گے- اس خاتون رہنما نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ ایسا کرنے سے ہندو مت کی اصل شکل ’’سناتن دھرم‘‘ کو تحفظ حاصل ہو گا‘‘-

    مزید تقاریر میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر 20لاکھ مسلمانوں کا قتل عام کردیا جائے تو بقیہ مسلمان بے چوں و چرا ’ہندو راشٹر‘ تسلیم کر لیں گے- مسلسل 3 دن اس اجتماع میں کھلے عام مسلمانوں کے قتل عام کیلئے تقاریر کی جاتی رہیں لیکن کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ہندتوا سرکار کی مرضی سے ہورہا تھا-

    ان اعلانات کے بعد مسلمانوں کے خلاف تشدد اور انتہا پسندی نے مزید شدت اختیار کی جس کی سب سے خوفناک مثال جہانگیرپوری میں ہنومان جینتی کے دن پرتشدد ہجوم کو ان جگہوں سے گزرنے دیا گیا جہاں زیادہ تر مسلمان رہتے ہیں- ہاتھوں میں تلوار، دیگر تیز دھار دار ہتھیاروں، پستول لہراتے ہوئے اور مسلمانوں کو گالی دیتے ہوئے اس پرتشدد ہجوم نے نماز کے وقت مسجد کے سامنے ہنگامہ برپا کیا-

    یہ بات دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں کہ 2014 ءکے بعد جب سے بی جے پی برسرِ اقتدار آئی ہے تب سے مسلم مخالف جذبات میں بھی شدت دیکھنے کو ملی ہے-

    2014ء کے بعد 2019ء میں دوبارہ نریندر مودی کا وزیر اعظم منتخب ہونا اور اسی طرح 2017ء کے بعد 2022ء میں بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہا پسند اور کٹر مسلم مخالف یوگی آدتیہ ناتھ

    (جس کو مرکز میں مودی کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے)

    کے دوبارہ وزیر اعلیٰ بننے سے واضح ہوتا ہے بھارت مکمل طور ہندو راشٹر بننے کی جانب گامزن ہے- حالیہ 5 میں سے 4 ریاستوں اترپردیش، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا میں بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار میں واپس آگئی ہے- عام طور پر یہی تاثر اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس فتح سے مسلمانوں کے حالات مزید بدتر ہونگے-

    بھارت میں ریاستی انتخابات سے قبل یہ تاثر زد عام تھا کہ اگر مخصوص قسم کا زعفرانی رنگ کا لباس پہننے والے یوگی آدتیہ ناتھ خصوصاً اتر پردیش میں دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے خلاف مبینہ ظلم و تشدد کا سلسلہ تیز ہو جائے گا- اگر ان کے پچھلے پانچ سالہ مسلم مخالف اقدامات کا ذکر کریں تو ان میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی، لو جہاد، گھر واپسی اور بین المذاہب شادیوں پر پابندی نمایاں ہے- ان کے 5 سالہ دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور ان کے خلاف نفرت بھری تقاریر سر عام ہوتی رہی ہیں- مغل دور کا تعمیر شدہ تاج محل اور بابری مسجد سے نفرت یوگی آدتیہ ناتھ کی مسلم مخالف جذبات کی ایک چھوٹی سی مثال ہے-

    نریندرا مودی کی مرکزی حکومت کے مسلم مخالف سینکڑوں واقعات میڈیا میں رپورٹ ہو چکے ہیں- جن میں نمایاں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد غیر قانونی اور غیر انسانی کرفیو کا نفاذ اور شہریت ترمیمی قانون کے تحت 30 لاکھ مسلمانوں کی بے دخلی کی راہیں ہموار کرنا شامل ہیں-

    یہ حقیقت ہے کہ آج نفرت اور انتہا پسندانہ سوچ کی وجہ سے بھارتی معاشرہ تقسیم ہوچکا ہے- سخت گیر ہندو آئے روز عوامی جلسوں میں مسلمانوں کا سیاسی، سماجی، معاشرتی اور معاشی سطح پر بائیکاٹ کا اعلان کر رہے ہیں-سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں واضح طور پر سنا جا سکتا ہے کہ ایک مجمع عام سے عہد لیا جا رہا ہے کہ :

    ’’ہم آج سے عہد کرتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی دکانوں سے کسی قسم کا کپڑا، جوتا اور دیگر سامان نہیں خریدیں گے اور نہ ہی انہیں کسی قسم کا سامان فروخت کریں گے‘‘-

    بھارت میں سوچی سمجھی سازش کے تحت ایک بیانیہ ’’ہندو خطرے میں ہیں‘‘ کو فروغ دے کر مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے- اس بیانیے پر کئی سوالات اٹھتے ہیں جن میں ایک سوال یہ قابل غور ہے کہ 15 فیصد والی اقلیت سے اکثریت کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ اسی بیانیہ کو فروغ دے کر بھارت میں اسلاموفوبیا کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں- حالیہ دنوں میں بھارت کی 9 ریاستوں میں مسلم مخالف تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے-یہ ریاستیں مدھیہ پردیش، گجرات، نئی دہلی، گوا، راجستھان، جھارکھنڈ، کرناٹک، مغربی بنگال، مہاراشٹر اور بہار ہیں- حال ہی میں ریاست کرناٹک کے سکولوں میں حجاب پہننے کو ایک سنگین مسئلے کے طور پر سامنے لایا گیا ہے-سکولوں میں حجاب کے مد مقابل ہندو طلبہ نے گلے میں کیسرانی رومال ڈالے ہوئے تھے-

    ان واقعات کا مقصد مذہبی منافرت کو فروغ دینا تھا جو اسلاموفوبیا کا منہ بولتا ثبوت ہے-اس کے علاوہ بی بی سی کی ایک ویڈیو رپورٹ میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس مسلمانوں کی حفاظت کی بجائے انتہا پسندوں کا ساتھ دیتے ہوئے حملے کر رہی ہے-

    بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور شعائر کی سرِ عام بے حرمتی کی جاتی ہے-اس کے علاوہ بھارت میں مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی اسلاموفوبیا کے مکروہ رجحان کی عکاسی کرتا ہے-بھارت میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا اور نفرت انگیزی مسلمانوں کی نسل کشی کی مترادف ہے- پاکستان نے ہمیشہ اس بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور اشتعال انگیزی کے خلاف اپنی آواز بلند کی ہے- حالیہ اسلام آباد اعلامیہ میں او آئی سی نے بھی بھارت کے ان اسلامو فوبک اقدامات کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

    ’’ہم بھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک اور عدم برداشت کی منظم اور وسیع پالیسی کی مذمت کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سیاسی، معاشی اور سماجی پسماندگی کا شکار ہوئے ہیں- ہم حجاب کو نشانہ بنانے والے امتیازی قوانین اور پالیسیوں سے ظاہر ہونے والے ہندوستان میں مسلم تشخص پر سب سے زیادہ نقصان دہ حملوں سے بہت پریشان ہیں-ہم ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے امتیازی قوانین کو فوری طور پر منسوخ کرے، ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق کو یقینی بنائے اور ان کی مذہبی آزادیوں کا تحفظ کرے‘‘-

    حالیہ کچھ دنوں میں سیکولر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر دیکھنے کو ملی ہے- مسلمانوں کے مذہبی مقامات اور آثارِ قدیمہ کو گرانے کے بعد ان کے کاروباروں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ تجاوزات کے نام پر بلڈوزر سیاست کے ذریعے گھروں کو مسمار کیا جا رہا ہے-

    یہ بات عیاں ہے کہ متنازع شہریت کے ان قوانین سے نہ صرف مسلمانوں میں خوف بڑھا ہے بلکہ اس کے عملی اقدامات بھی سامنے آئے ہیں- مثلاً سرکاری حکام کا شہریت ثابت کرنے کے لئے مسلمانوں کو تنگ کرنا، غیر قانونی گرفتاریاں، پر تشدد واقعات میں اضافہ اور گھروں کو مسمار کرنا شامل ہے-

    5 اگست 2019ء کو ظالم بھارتی سرکار نے عالمی قوانین، دو طرفہ معاہدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے برعکس غیر قانونی اقدامات کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے ساتھ کشمیریوں پر غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے شدید لاک ڈاؤن لگا کر انہیں کھلی جیل میں بند کر دیا-اس کے علاوہ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے 30 سے 40 لاکھ غیر کشمیریوں کو وادی کا ڈومیسائل جاری کردیا گیا – اس دوران کرونا وائرس کی عالمی وبا کی مشکلات میں بھی بھارت نے کشمیریوں کو جیلوں میں بند کرنے، انٹرنیٹ بند کرنا، جعلی اِنکاونٹر، عورتوں اور بچوں پر ظلم و تشدد ختم نہ ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہوا ہے- 10 لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں کشمیریوں پریہ غیر انسانی محاصرہ 1000 دنوں سے تجاوز کر چکا ہے-

    کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق سال 2021ء میں قابض بھارتی فوج نے 210 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 65 افراد کو جعلی ان کاؤنٹر میں شہید کیا گیا- اس دوران 44 معصوم بچے یتیم اور 16 خواتین بیوہ ہوئیں اور بھارتی فوج نے 67 عمارتوں کو مسمار بھی کیا- اس عرصے میں بھارتی فوج نے 2716 کشمیریوں کو گرفتار اور 487 افراد کو زخمی کیا- رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج نے صرف دسمبر 2021ء میں 31 افراد کو شہید کیا-

    کچھ عرصہ قبل کشمیری حریت لیڈر سید علی گیلانی کی وفات پر بھارت نے غیر انسانی رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے ان کی تدفین سخت سیکورٹی حصار میں کی گئی اور اہل خانہ کو جنازے میں بھی شامل نہیں ہونے دیا گیا- ماہِ رمضان المبارک میں بھی بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم جاری رہے حتیٰ کہ عید الفطر کے موقع پر مسلمانوں کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی-

    بی جے پی اور آر ایس ایس کے اقتدار میں آئے روز مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم کو لکھنے کیلئے الفاظ کم پڑ جائیں، اس تحریر میں اس بات کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کس طرح بھارت میں مختلف غیر انسانی اقدامات سے 220 ملین مسلم آبادی کا نسلی صفایا اور قتلِ عام کیا جارہا ہے-یہ عمل صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہندو راشٹر کے قیام کےلئے دیگر اقلیتیں بھی ہندتوا سوچ اور مذموم عزائم کے نشانے پر ہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ بھارت تاریخ میں انسانیت کے سب سے بڑے دشمن کے طور پر یادرکھا جائے گا-

    پوری دنیا خاص کر بھارت میں اسلاموفوبیا خوفناک شکل اختیار کرچکا ہے جس کی ہر قیمت پر روک تھام کیلئے عالمی برادری کو اپنا غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے- ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خصوصاً اقوام متحدہ اور انصاف کے عالمی اداروں نے اگر بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات سے مزید غفلت برتی اور بھارت کے ظالمانہ اقدامات کا ایکشن نہ لیا تو اس ظلم کے نتائج پوری انسانیت کو بھگتنا پڑیں گے-

  • کرینہ کپورایک بار پھر ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر

    کرینہ کپورایک بار پھر ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر

    ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ کرینہ کپورایک بار پھربھارتی ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر آ گئیں-

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق کرینہ کپور کے ماتھے پر بندی نہ لگانے پر ہندو انتہا پسند آپے سے باہر ہوگئے اور اس عمل کو ہندو رسم ورواج ختم کرنے کی سازش قرار دے دیا اور عوام سے اداکارہ کا بائیکاٹ کرنے کا مطالنہ کیا-

    سوشل میڈیا پرشدید تنقید،اکشے کمارنےگٹکےکےاشتہارمیں کام کرنے پرمعذرت کر لی

    بھارتی میڈیا کے مطابق بالی ووڈ اداکارہ نے جیولری کے برانڈ کے لیے ایک اشتہار میں کام کیا اور اس دوران وہ پوسٹر میں بغیر بندی کے نظر آئیں جس پر انتہا پسند آگ بگولہ ہوگئے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق برانڈ کی مارکیٹنگ کے لیے اشتہار میں کرینہ کپور نے مختلف رنگ کا عروسی لہنگا زیب تن کیا اور سونے کی جیولری پہنی۔


    https://twitter.com/Kunal_Thakur1/status/1517363355111272448?s=20&t=xMdZXLwqQ4FOAQhxabZf2w

    سونم کپور کے گھر کروڑوں کی چوری میں ملوث ملزمہ گرفتار

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی بیٹوں کے نام مسلمان بادشاہوں کے ناموں پر رکھنے کی وجہ سے اداکارہ کئی مرتبہ ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر آ چکی ہیں-

  • بھارت: ہندوانتہا پسندوں نےمسلمان ڈرائیوروں کے خلاف مہم شروع کر دی

    بھارت: ہندوانتہا پسندوں نےمسلمان ڈرائیوروں کے خلاف مہم شروع کر دی

    بنگلورو:ہندو انتہا پسندوں کی مسلم دشمنی دن با دن تجاوز کرتی جا رہی ہے اور مسلمانوں پر آئے دن نئی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں حال ہی میں مندروں اور مذہبی میلوں میں حلال، مسلم تاجروں پر پابندی اوراذان کے بعد لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کے مطالبے کے بعد، ہندوانتہاتنظیموں نے اب مسلمان ڈرائیوروں کے خلاف مہم شروع کر دی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق جمعہ کے روز انتہا پسند ہندو تنظیموں کی جانب سے ہندوؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ مندر کی سیر اور یاترا کے لیے جاتے وقت مسلم ڈرائیوروں اور مسلم ملکیتی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کا استعمال نہ کریں۔

    تنظیم نے زور دیا کہ تمام ہندو تنظیمیں ان کی کال کی حمایت کریں اور اس سلسلے میں لوگوں میں بیداری لائیں سری رام سینا نے اس کال کی حمایت کی۔

    دریں اثنا، سری رام سینا تنظیم کے بانی نے زور دیا کہ مزری محکمہ کو شمالی کرناٹک کے بیلگاوی ضلع کے مشہور ساوادتی یالما زیارت گاہ میں مسلم تاجروں اور دکانداروں کو نوٹس جاری کرنا چاہیے اگر دکانیں خالی نہیں کی گئیں تو شری رام سینا کے کارکن وزیر ششیکلا جولے سے ملاقات کریں گے اور انہیں خالی کرانے کا مطالبہ کریں گے۔

    بھارت: ہندوانتہا پسندوں کی مسجد پر ہندو توا کا پرچم لہرانےاور’جے شری رام‘ کے نعرے…

    قبل ازیں سری رام سینا تنظیم کے بانی نے ڈپٹی اسپیکر اور بی جے پی ایم ایل اے آنند ممانی سے ملاقات کی تھی اور اس بات پر زور دیا تھا کہ غیر ہندو تاجروں کو ساوادتی یلما یاتری مرکز کے احاطے سے خالی کر دیا جائے اس نے کہا تھا کہ لاکھوں یاتریوں نے مندر کا دورہ کیا اور یہاں 50 فیصد سے زیادہ مسلمان تاجر اپنا کاروبار کر رہے ہیں-

    مہاراشٹر،کرناٹک:مساجدمیں لاؤڈ اسپیکر کی آوازکی حدمقرر، آوازناپنےوالی مشینیں نصب…

    بھارتی گلوکارہ کا اذان کیلئے لاؤڈ اسپیکر پر پابندی کا مطالبہ

    انتہاپسند اینکرپروڈکٹ کا اردومیں نام دیکھ کرآگ بگولہ،مینیجرکا منہ توڑ جواب ،…

    بھارت میں مساجد کے باہر اذان کے وقت ’رام بھجن اور شیو بھجن‘ کا اعلان

  • بھارت: حجاب کےخلاف نفرت انگیز تقریر کرنے پر 19 سالہ لڑکی پر مقدمہ درج

    بھارت: حجاب کےخلاف نفرت انگیز تقریر کرنے پر 19 سالہ لڑکی پر مقدمہ درج

    بنگلورو: بھارت کی مذہبی تشدد پسند اور عسکریت پسند،ہندوتوا اور ہندو قومیت کے نظریے پر مبنی تنظیم بجرنگ دل کی رکن 19 سالہ لڑکی نے مبینہ طور پر حجاب کےخلاف نفرت انگیز تقریر کی ہےتقریرسوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے اس لڑکی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق اس لڑکی نے 23 فروری 2022 کو وجئے پورہ میں مختلف تنظیموں کی طرف سے منعقدہ ایک احتجاج میں تقریر کی تھی، لیکن اس ویڈیو کے سوشل پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نےآ ئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت اس کے خلاف از خود مقدمہ درج کرلیا ہے لڑکی کا نام پوجا بتایا جاتا ہے-

    حجاب تنازع: عدالت سے رجوع کرنے والی طالبہ کےبھائی پر حملہ

    مظاہرے کی جگہ پر ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے اس لڑکی پوجا نے کہا تھا کہ اگرآپ پانی مانگیں گے تو ہندوستانی آپ کو جوس دیں گے۔ اگر آپ دودھ مانگیں گے تو ہم آپ کو چھاچھ دیں گے لیکن، اگر آپ پورے ہندوستان میں حجاب چاہتے ہیں، تو ہم آپ سب کو شیواجی کی تلوار سے کاٹ دیں گے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق پوجا نے اپنی تقریر کو یہ کہہ کر درست ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ بیان تمام مسلمانوں کے لیے نہیں تھا۔ اور ’’شیواجی کی تلوار‘‘ کا بیان غصے میں دیا گیا تھا۔

    ہندوانتہا پسندوں نے گائے کا گوشت کھانے پرمسلمان شخص کو قتل کر دیا

    واضح رہے کہ کرناٹک کے شہر اڈوپی میں حجاب پر عائد پابندی کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کرنے والی طالبہ کے والد کے ہوٹل پر ایک انتہا پسند جتھے نے حملہ کر دیا تھا اڈوپی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس این وشنووردھن نے تصدیق کی تھی کہ کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع کرنے والی چھ میں سے ایک طالبہ شفاء کے والد کے ہوٹل پر ایک گروہ کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا جس سے ہوٹل کی ایک کھڑکی بھی ٹوٹ گئی تھی گروہ میں شامل افراد کی جانب سے شفاء کے بھائی سے بحث کی گئی اور انہیں تھپڑ بھی مارا گیا پولیس نے موقع پر پہنچ کر جتھے کو منتشر کردیا تھا اور ایک مقدمہ بھی درج کرلیا گیا تھا-

    بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پر، بینک نے باحجاب خاتون کوکیش دینے سے انکارکردیا

  • حجاب کے خلاف مہم: ہندو انتہا پسندوں نےاترپردیش میں بھی باحجاب طالبہ کوکلاس سے نکال دیا

    حجاب کے خلاف مہم: ہندو انتہا پسندوں نےاترپردیش میں بھی باحجاب طالبہ کوکلاس سے نکال دیا

    نئی دہلی: بھارت میں مودی سرکار کے جھنڈے تلے ہندوانتہاپسندی عروج پر کرناٹک کے بعد اب اترپردیش کے ایک کالج سے بھی حجاب پہننے والی طالبہ کونکال دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق اترپردیش کے شہرجون پورکے ایک کالج میں مسلمان طالبہ کوحجاب کرکے کالج آنے پرکلاس سے نکال دیا گیا۔پرنسپل اوراساتذہ نے بھی طالبہ کی مدد کرنے کے بجائے یونیفارم کے اصولوں کی پابندی کرنے کو کہا۔

    کالج پرنسپل کا کہنا ہے کہ کالج میں سب کویکساں نظرآنے کے لئے اصولوں کی پابندی کرنا ہوگی۔

    بھارت: وزیر تعلیم کامدھیہ پردیش میں بھی طالبات کےحجاب پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ

    قبل ازیں انتہا پسند ہندوؤں نے بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے اسکولوں میں بھی طالبات کے حجاب پہننے پر پابندی عائد کرنے کا عندیہ دیا تھا بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے وزیر تعلیم اندر سنگھ پرمار نے کہا تھا کہ ریاستی طور پرجلد حجاب پہننے پر پابندی عائد کردی جائے گی کیونکہ یہ یونیفارم کا حصہ نہیں ہے ہر اسکول کا اپنا ڈریس ہے، اسکول کا ڈریس پہن کر بچے اسکول آئیں تو ہی ان کی پہچان ہوتا ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں وزیر تعلیم نے کہا تھا کہ حجاب پہننے پر ملک میں کوئی پابندی نہیں ہے لیکن جنہوں نے حجاب پہننا ہے وہ اپنے گھروں میں پہنیں، بازار میں پہنیں اور یا پھر دیگر مقامات پہ پہنیں کوئی پابندی نہیں ہے مگر اسکول میں آنے کے لیے یونیفارم ہی پہننا پڑے گا۔

    مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :فواد چوہدری

    ریاست مدھیہ پردیشن کے وزیر تعلیم کی جانب سے جاری کردہ بیان کو اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے افسوسناک قرار دیا گیا جب کہ مسلمان تنظیموں کی جانب سے بھی واضح طور پر سخت برہمی ظاہر کی جا رہی ہے۔

    خیال رہے کہ کرناٹک میں تعلیمی اداروں میں باحجاب طالبات کے داخل ہونے پرپابندی عائد کردی گئی ہے۔حجاب پرپابندی کیخلاف بھارت کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا جارہا ہے طالبات کے احتجاج کوروکنے کے لئے کرناٹک کے تعلیمی ادارے 16 فروری تک بند کردئیےگئے ہیں۔

    بھارت میں حجاب پرپابندی کے خلاف احتجاج ، تعلیمی ادارے3 روز کے لئے بند

  • مدھیہ پردیش میں ہندو انتہا پسندوں کا عیسائی سکول پر حملہ

    مدھیہ پردیش میں ہندو انتہا پسندوں کا عیسائی سکول پر حملہ

    نئی دہلی: بھارت میں ہندوانتہاپسندی عروج پرمدھیہ پردیش میں ہندوانتہاپسندوں نے عیسائی انتظامیہ کے زیرنگرانی چلنے والے اسکول پردھاوا بول دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیہ پردیش میں عیسائی انتظامیہ کے تحت چلنے والے ایک اسکول پرہندوانتہاپسندوں نے دھاوا بول دیا۔ پتھراؤ کیا اسکول میں گھس کرتوڑپھوڑ کی اوراساتذہ اوردیگرعملے کودھمکیاں دیں –

    کترینہ اور وکی کی شادی کی تقریبات کا آغاز آج سے شروع

    ہندوانتہاپسندوں کے حملے کے وقت اسکول میں امتحانات ہورہے تھے۔ہندوانتہاپسندوں کے حملے سے خوفزدہ بچے ڈیسک کے نیچے چھپ گئے اوربمشکل جان بچائی۔

    ہندوانتہاپسندوں نےزبردستی مذہب تبدیل کرانے کا الزام لگا کراسکول پرحملہ کیا تھا۔ بھارتی پولیس نے حسب روایت انتہاپسندوں کا ساتھ دیتے ہوئے کسی کوگرفتارنہیں کیا۔

    دوسری جانب کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی ریاست ودیشا ضلع کے گنج باسودہ قصبے میں بجرنگ دل سے وابستہ ہندو انتہا پسندوں کے عیسائی مشنری اسکول پر حملے کے بعد مدھیہ پردیش میں حالات کشیدہ ہیں۔

    روزانہ 500 گرام ریت کھانے والی 80 سالہ خاتون

    بجرنگ دل کے کارکنان سینکڑوں مقامی لوگوں کے ساتھ اسکول میں گھس گئے اور عیسائی مشنری ادارے کی طرف سے طلباء کے مبینہ مذہب تبدیل کرنے کے خلاف عمارت پر پتھراؤ کیا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب 12ویں جماعت کے طلباء ریاضی کے امتحان میں بیٹھے تھے۔

    این ڈی ٹی وی کے مطابق، ودیشا ضلع کے گنج بسودا قصبے میں سینٹ جوزف اسکول کو سوشل میڈیا پر الزامات کے بعد نشانہ بنایا گیا تھا کہ انتظامیہ کی طرف سے آٹھ طلباء کے مذہب کو تبدیل کیا گیا تھا۔

    فرانس: معمر شخص کے گھر سے 100 بلیوں کی لاشیں، گلہریوں اور چوہوں کی باقیات برآمد

    سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمارت کے باہر ایک بہت بڑا ہجوم اسکول انتظامیہ کے خلاف نعرے لگا رہا تھا۔ایک طالب علم نے کہا، "کہ حملے کی وجہ سے ہمارا پیپر ادھورا رہ گیا تھا، ہم چاہتے ہیں کہ امتحان دوبارہ ہو”۔

    اسکول کے مینیجر برادر انٹونی نے کہا ہے کہ انہیں ایک روز قبل مقامی میڈیا کے ذریعے حملے کی اطلاع ملی تھی جس کے بعد انہوں نے پولیس اور ریاستی انتظامیہ کو الرٹ کر دیا تھا۔ انہوں نے پولیس پر مناسب حفاظتی انتظامات نہ کرنے کا الزام لگایا انہوں نے مذہب کی تبدیلی کے دعووں کی بھی تردید کی-

    شہری کا گرل فرینڈ کو مہنگا تحفہ دینے کیلئے انوکھا اقدام