Baaghi TV

Tag: ہندو

  • بھارت:مسلمانوں کے گھروں کی توڑ پھوڑ اور نذر آتش ناقابل برداشت:مذمت کرتے ہیں:پاکستان

    بھارت:مسلمانوں کے گھروں کی توڑ پھوڑ اور نذر آتش ناقابل برداشت:مذمت کرتے ہیں:پاکستان

    اسلام آباد:بھارت:مسلمانوں کے گھروں کی توڑ پھوڑ اور نذر آتش ناقابل برداشت ہے ، اطلاعات پاکستان نے بھارتی ریاست راجستھان میں انتہا پسندوں کی جانب سے مسلم کمیونٹی کے گھروں کی توڑ پھوڑ اور نذر آتش کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے ہندو انتہا پسند مقامی سیکیورٹی حکام کی ملی بھگت سے واقعے میں ملوث تھے۔ ریاستی مشینری کی بے حسی بھی اتنی ہی تشویشناک ہے جس نے غیر ارادی طور پر دوسری طرف دیکھا اور اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے اپنے بنیادی فرض میں ناکام رہی۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے ہندوستان میں اقلیتیں بالخصوص مسلمان خوف و ہراس میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ حالیہ تاریخ تکلیف دہ واقعات سے بھری پڑی ہے جو موجودہ بھارتی حکومت کی مسلمانوں کے خلاف گہری دشمنی کی عکاسی کرتی ہے۔ بی جے پی قیادت کی خاموشی اور ہندوتوا کے حامیوں کے خلاف قابل فہم کارروائی کی عدم موجودگی کو عالمی برادری میں خطرے کی گھنٹی بجانا چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ بی جے پی-آر ایس ایس کے کارکنوں نے مسلمانوں کے خلاف اپنی دشمنی پر باز آنے کے بجائے مظالم کو مزید تیز کر دیا ہے۔ گزشتہ اتوار کو ہریدوار کے بدنام زمانہ پجاری یتی نرسنگھن نے ایک بار پھر ڈھٹائی سے ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اپیل کی۔ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں بھارت میں اسلامو فوبیا کی تشویشناک سطح کا فوری نوٹس لے اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے بھارتی حکام پر زور دے اور تمام اقلیتوں کے تحفظ، سلامتی اور بہبود کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

  • تامل ناڈو کےاسلام قبول کرنےوالےمسلمانوں کی نوکریوں سے ہاتھ دھونے کی شکایت

    تامل ناڈو کےاسلام قبول کرنےوالےمسلمانوں کی نوکریوں سے ہاتھ دھونے کی شکایت

    چنئی:بھارتی ریاست تامل ناڈو میں دیگر مذاہب ترک کر کے اسلام قبول کرنے والے مسلمانوں نے افسوس ظاہر کیاہے کہ تامل ناڈو پبلک سروس کمیشن انہیں مخصوص کوٹے پر سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دینے کی اجازت نہیں دے رہاہے۔

    ریٹائرڈ جسٹس اکبر علی نے کہاہے کہ اسلام قبول کرنے والوں کا مخصوص کوٹہ بحال رکھا جانا چاہیے۔کمیونٹی رہنمائوں نے کہا کہ انہیں دیگرکیٹاگری میں شامل کیاگیا ہے جو کمیشن کے مطابق سرکاری ملازمتوں کے لیے ایک عام کوٹہ ہے۔مذہب تبدیل کرنے والے عیسائیوں کو پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تصور کیا جارہا ہے۔

    بھارتی ریاست بہار کے دارلحکومت پٹنہ میں جنتا دل یونائیٹڈ کے لیڈر دیپک مہتا کو گولی مار کرقتل کر دیا گیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پٹنہ میں پیر کی شب داناپور میونسپل کونسل کے نائب صدر اور جے ڈی یو رہنما دیپک کمار مہتا کو ان کے گھر کے باہی گولی مار کرقتل کر دیا گیا۔ دیپک کمار کے قتل کے بعد لوگوں نے علاقے میں زبردست ہنگامی آرائی اور توڑ پھوڑ کی اور انہوں نےگاندھی میدان مین روڈ بلاک کر دی۔ امن و امان کی صورتحال بگڑنے پر علاقے میں بھارتی پولیس کی بڑی تعداد کو تعینات کردیاگیا ہے۔

    دیپک کمار مہتا رات کا کھانا کھانے کے بعد تقریبا ساڑھے نو بجے شب اپنی رہائش گاہ کے باہر چہل قدمی کر رہے تھے جب دو موٹر سائیکلوںپر سوار چار سے پانچ حملہ آروں نے انہیں گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا ۔ گولیاں دیپک کے سر اور سینے میں لگنے سے وہ شدید زخمی ہو گئے ۔ انہیں تشویشناک حالت میں فوری طور پرقریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے دیپک کو مردہ قرار دے دیا۔

  • مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :فواد چوہدری

    مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :فواد چوہدری

    اسلام آباد: مودی یاد رکھ حجاب مسلمان خواتین کا حق ہے:با حجاب طالبات پرحملوں کی مذمت کرتے ہیں :اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بھارت کا معاشرہ غیر مستحکم قیادت میں تیزی کے ساتھ زوال کی طرف جا رہا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھارتی ریاست کرناٹک میں مسلمان طالبات کے حجاب پہننے پر ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

     

     

     

    فواد چوہدری نے مودی کی انتہا پسندانہ سوچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کے بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ خوفناک ہے، حجاب پہننا کسی بھی دوسرے لباس کی طرح ذاتی پسند ہے۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کو حجاب کے انتخاب میں آزادی ہونی چاہیے۔

    فواد چوہدری نے بھارتی حکومت کو خبردار کرتےہوئے کہا ہےکہ مسلمان خواتین کے خلاف نفرت پھیلانے کو اس قسم کی گھٹیا حرکتوں سے باز رہنا چاہیے پاکستان اپنے مسلمان بہن بھائیوں‌ پرہونے والے مظالم کی مذمت کرتا ہے اور اس قسم کی انتہا پسندی کو کبھی بھی قبول نہیں کرے گا

    یاد رہے کہ آج بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں نے باحجاب طالبات پر زندگی تنگ کردی ۔

    کرناٹک میں سڑک سے گزرتی اکیلی طالبہ کو زعفرانی رنگ کے مفلر پہنے انتہا پسندوں کی جانب سے تنگ کرنے کی ایک ویڈیو بھی وائرل ہورہی ہے۔

     

     

    کالج جانے والی طالبہ کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا۔

    نہتی مسلمان لڑکی ہندو انتہا پسندوں کے سامنے ڈٹ گئی، ویڈیو میں کالج میں ایک لڑکی کو جے شری رام کا نعرہ لگانے والے ہجوم کی طرف سے ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ہجوم میں شامل لوگ آگے بڑھے اور لڑکی کے سامنے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے، لڑکی نے اس دوران مشتل ہجوم سے ڈرنے کے بجائے ان کا بھرپور مقابلہ کیا اور اونچی آواز میں ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا۔

  • بھارت :کالج میں انتہا پسند جتھے کے سامنے ڈٹ جانیوالی طالبہ کیلئے انعام کا اعلان

    بھارت :کالج میں انتہا پسند جتھے کے سامنے ڈٹ جانیوالی طالبہ کیلئے انعام کا اعلان

    کرناٹک :بھارت :کالج میں انتہا پسند جتھے کے سامنے ڈٹ جانیوالی طالبہ کیلئے انعام کا اعلان،اطلاعات کے مطابق جمعیت علماء ہند نے بھارتی ریاست کرناٹک کے کالج میں انتہا پسند جتھے کے سامنے ڈٹ جانیوالی طالبہ مسکان خان کیلئے انعام کا اعلان کردیا۔بھارتی ریاست کرناٹک میں ہندو انتہا پسندوں نے باحجاب طالبات پر زندگی تنگ کردی۔

    کرناٹک میں کالج جانے والی طالبہ کو انتہا پسندوں نے ڈرایا دھمکایا لیکن طالبہ نے بھی ڈٹ کر ہراساں کرنے والوں کا مقابلہ کیا۔

     

     

     

    واقعے کی وائرل ویڈیو میں کالج میں ایک لڑکی کو جے شری رام کا نعرہ لگانے والے ہجوم کی طرف سے ہراساں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

     

     

     

    ہجوم میں شامل لوگ آگے بڑھے اور لڑکی کے سامنے ’جے شری رام‘ کے نعرے لگائے، لڑکی نے اس دوران مشتل ہجوم سے ڈرنے کے بجائے ان کا بھرپور مقابلہ کیا اور اونچی آواز میں ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا۔اب جمعیت علماء ہند نے کالج میں انتہا پسند جتھے کے سامنے ڈٹ جانیوالی طالبہ کیلئے انعام کا اعلان کیا ہے۔

     

     

    جمعیت علماء ہند کے سربراہ مولانا محمود مدنی نے طالبہ مسکان خان کیلئے 5 لاکھ بھارتی روپے انعام کا اعلان کیا۔

    انتہاپسند جتھے کے سامنے ڈٹ جانے والی طالبہ کا نام مسکان خان ہے اور وہ مہاتما گاندھی میموریل کالج اودوپی کی طالبہ ہیں۔مسکان آج بھی کالج اسائمنٹ جمع کرانے گئیں تھیں جہاں انتہاپسند جتھے نے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ طالبہ نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں بتایا کہ جتھے میں موجود لڑکے میری طرف گندے اشارے بھی کرتے رہے۔

  • بھارت:پولیس کی موجودگی میں ہندو بلوائیوں کامسلمان    نوجوانوں پرحملہ:عمران خان کی مودی کووارننگ

    بھارت:پولیس کی موجودگی میں ہندو بلوائیوں کامسلمان نوجوانوں پرحملہ:عمران خان کی مودی کووارننگ

    نئی دلی :بھارت :پولیس کی موجودگی میں ہندتوا بلوائیوں کا مسلمان نوجوانوں پر حملہ ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکا کے ضلع کولار میں پولیس کی موجودگی میں لاٹھیوں اور سلاخوں سے مسلح ہندوتوا بلوائیوں کے حملے میں چھ مسلمان شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پولیس نے کولار اسٹیشن میں واقعے کے سلسلے میں تین مقدمات درج کیے ہیںجن میں سے دو ہندوئوں اور ایک مسلمانوں کے خلاف درج کیاگیا ہے ۔زخمی ہونے والے پانچ مسلمان ایک سرکاری ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب تین خواتین اور دو مردوں پر مشتمل ایک مسلمان خاندان صوفی بزرگ حضرت خواجہ عثمان شا ولی کی درگاہ پر حاضری کے بعد واپس جارہے تھے کہ جب تراہلی گائوں کے قریب ہندو توا بلوائیوں نے ان سے بدتمیزی کی اور مسلمانوں کے خلاف توہین آمیز کلمات ادا کئے ۔

    واقعے کے بعد پولیس نے مسلمانوں کے ایک گروپ کے ہمراہ حملہ آوروں کی شناخت کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ لیکن جیسے ہی وہ جائے وقوعہ پر پہنچے توحملہ آور جنگل میں فرار ہو گئے ۔جنگل میں ان کا تعاقب کرنے پر لاٹھیوں اور سلاخیوں سے لیس مرد و خواتین کے ایک بڑے گروپ نے انہیں گھیرے میں لیکر حملہ کر دیا جس سے چھ مسلمان افراد زخمی ہو گئے ۔

    ادھر کل وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دسمبر میں ہندوتوا شدت پسندوں کے ایک اجتماع میں اقلیتوں خصوصاً 20 کروڑ مسلمانوں کے قتل عام کیلئے اپیل کی گئی تھی۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے قتل عام کے لیے کی گئی اپیل پر مودی سرکار کی خاموشی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

     

     

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کے یہ شدت پسندانہ عزائم ہمارے علاقائی امن کیلئے حقیقی خطرہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندوتوا جتھے پوری ڈھٹائی اور آزادی سے مذہبی اقلیتوں پر حملہ آور ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وقت کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری اس کا نوٹس لے اور کارروائی کرے۔

  • بھارت:ہندوؤں کے مقدس درخت کو کاٹنے پر نوجوان کو زندہ جلا دیا گیا

    بھارت:ہندوؤں کے مقدس درخت کو کاٹنے پر نوجوان کو زندہ جلا دیا گیا

    نئی دہلی: بھارت کی مشرقی ریاست میں ہندؤوں کے ’مقدس‘ درخت کو کاٹنے کے الزام میں مشتعل ہجوم نے 34 سالہ شخص پر بدترین تشدد کیا اور زندہ جلادیا۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جھارکھنڈ میں گزشتہ سال اکتوبر میں ’مقدس‘ درخت کو کاٹ دیا تھا۔

    بعدازاں پولیس نے سنجو پردھان کی جلی ہوئی لاش برآمد کی، ہلاک ہونے شخص کا تعلق ریاست کے سمڈیگا ضلع کے چپریدیپا گاؤں سے تھا۔

    برادری کی روایات کے مطابق کٹا گیا درخت مقدس تھا جسے سنجو پردھان کو زبردستی کاٹ دیا تھا۔پولیس افسر رامیشور بھگت نے بتایا کہ گاؤں والوں نے سنجو پردھان کے علاقے میں دیگر درختوں کو کاٹنے پر بھی ناراضگی ظاہر کی تھی۔

    پولیس نے بتایا کہ سنجو پردھان کو مشتعل دیہاتیوں نے گھر سے گھسیٹ کر قریبی بیسراجرا گاؤں لے گئے اور اس کو قتل کر دیا گیا۔

    دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بھارت بنیادی طور پر اپنے آئینی ، قانونی اور سیاسی فریم ورک میں ایک سیکولر ریاست ہے ۔لیکن عملی طور پر اس وقت بھارت کی جو تصویر ہم کو دنیا بھر میں نظر آ رہی ہے یا بالادست ہے وہ ہندواتہ کی بنیاد پر سیاست اور انتہا پسندی پر مبنی رجحانات ہیں۔بی جے پی ، آر ایس ایس سمیت دیگر ہندو انتہا پسند جماعتوں کی سیاست نے مودی کی قیادت میں اقلیتوں کے لیے سنگین مشکلات پیدا کردی ہیں ۔انتہا پسندی پر مبنی یہ رجحان محض بھارت کے لیے ہی نہیں بلکہ خطہ کی مجموعی سیاست کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے ۔

    خود بھارت میں موجود سیکولر سیاست سے جڑے افراد یا ادارے مودی کی انتہا پسندی کی سیاست پر بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھا رہے ہیں او ران کے بقول اگر مودی کی انتہا پسندی پر مبنی پالیسی کا یہ عمل جاری رہا تو ہم داخلی محاذ پر خود کو تنہا محسوس کریں گے ۔اس وقت بھارت میں انتہا پسندوں اور سیکولر طبقہ کے درمیان جاری سیاسی رسہ کشی ظاہر کرتی ہے کہ اس بحران نے مودی کی حکمرانی اور طرز عمل کو بھی چیلنج کیا ہے ۔

  • بھارت میں مسیحیوں کو ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے: امریکی میڈیا بھی چیخ اُٹھا

    بھارت میں مسیحیوں کو ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے: امریکی میڈیا بھی چیخ اُٹھا

    نیو یارک:بھارت میں مسیحیوں کو ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے: امریکی میڈیا بھی چیخ اُٹھا ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں مسیحی برادری پر مظالم کے تہلکہ خیز انکشافات امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز سامنے لے آیا، ہندو انتہا پسند مسیحی کمیونٹی کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ، زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

     

    امریک یاخبار دی نیو یارک ٹائمز میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کے مطابق ہندو انتہا پسند عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچاتے اور ان کو عبادت سے روکتے ہیں، عیسائیوں پر بڑھتے ظلم کی وجہ ہندو انتہا پسندانہ سوچ ہے جس کی وجہ سے اقلیت خود کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں، ہندو انتہا پسند بھارت میں رہنے والے عیسائیوں کو زبردستی ہندو مذہب اختیار کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

     

    نیو یارک ٹائمز کے مطابق موت کے خوف سے عیسائیوں خود کو ہندو ظاہر کرنا شروع کر دیا، عیسائیوں کے زیر تسلط چلنے والے خیراتی ادارے کو ہندو انتہا پسند وکلا نے بند کروانے کیلئے متعدد بار شکایت درج کروائیں، ہندو انتہا پسندبھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی مسلمانوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ عیسائیوں کی نسل کشی پر بھی خاموش۔

     

     

    امریکی اخبار کے مطابق اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بھارتی وزیر اعظم کی خاموشی پر عالمی برادری کو شدید تحفظات ہیں، ہندو انتہا پسند مودی ہندوستان کو قوم پرست ملک بنانے کے خواہ ہیں۔

  • بھارت :2 لاکھ مسلمانوں کو مارنے کیلئے 100 رضاکار درکار، ہندو انتہا پسند آپے سے باہر

    بھارت :2 لاکھ مسلمانوں کو مارنے کیلئے 100 رضاکار درکار، ہندو انتہا پسند آپے سے باہر

    نئی دہلی: 2 لاکھ مسلمانوں کو مارنے کیلئے 100 رضاکار درکار، ہندو انتہا پسند آپے سے باہر،اطلاعات کے مطابق بھارت میں ہندو انتہا پسندآپے سے باہر ہوگئے اور لوگوں کو مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارتے ہوئے کہنے لگے کہ 2 لاکھ مسلمانوں کو مارنے کے لیے صرف 100 رضاکار درکار ہیں۔

    بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کے تین روزہ کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں مقررین شرکاء کو مسلمانوں کے قتل عام پر ابھارتے رہے ،کنونشن میں بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما بھی شریک تھے۔

    کنونشن میں ہندو انتہا پسند لیڈر دھرم داس نے کہا کہ منموہن سنگھ نے کہا تھا وسائل پر پہلا حق اقلیتوں کا ہے، میں پارلیمنٹ میں ہوتا تو منموہن سنگھ کے سینے میں 6گولیاں اتار دیتا۔

    ایک اور انتہا پسند لیڈر انا پرنا نے کہا کہ 2 لاکھ مسلمانوں کو مارنے کے لیے صرف 100 رضاکار چاہیے، اگر انہیں ختم کرنا چاہتے ہو تو انہیں قتل کردو اور جیل جاؤ۔

    آنند سواروپ کا کہنا تھا کہ اس سال ہم مسلمانوں اور مسیحیوں کو مذہبی تہوار نہیں منانے دیں گے جبکہ ساگر سندھو راج نے کہا کہ موبائل چاہے 5 ہزار کا ہو، ہتھیار ایک لاکھ روپے والا رکھ لو، مسلمانوں کی جائیدادیں خریدو اور اپنے گاؤں مسلمانوں سے پاک کردو، جو ہندو بن جائے اسے چھوڑ دو جو نہ بنے اسے پتہ ہونے چاہیے کہ وہ مارا جائے گا۔

    پربھوآنند نے کہا کہ قتل کرو یا قتل ہونے کے لیے تیار ہوجاؤ ،کوئی دوسرا راستہ نہیں، مسلمانوں کو ایسے نکالو جیسے میانمر سے روہنگیا مسلمانوں کو نکالا گیا تھا۔

  • مودی کو کس نے سکھائےدھاندلیوں کے گُر؟:مقبوضہ کشمیرمیں ہندووزیراعلیٰ لانے کےلیےدھاندلی کا منصوبہ

    مودی کو کس نے سکھائےدھاندلیوں کے گُر؟:مقبوضہ کشمیرمیں ہندووزیراعلیٰ لانے کےلیےدھاندلی کا منصوبہ

    نئی دہلی :مودی کو کس نے سکھائےدھاندلیوں کے گُر؟:مقبوضہ کشمیرمیں ہندووزیراعلیٰ لانے کےلیےدھاندلی کا منصوبہ ،اطلاعات کے مطابق غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مودی کی فسطائی بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں ہندو زیر اعلیٰ لانے کیلئے انتخابات سے قبل دھاندلی میں مصروف ہے ۔دوسری طرف کشمیری مودی کی ان سازشوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں‌

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی جانیوالی ایک رپورٹ میں سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مسلم اکثریتی مقبوضہ کشمیر میں ایک ہندو وزیر اعلیٰ لانا ہندوتوا طاقتوں کا دیرینہ خواب رہا ہے کیونکہ مقبوضہ علاقے میں ہمیشہ ایک مسلمان ہی کسی منتخب حکومت کا سربراہ رہا ہے۔ آر ایس ایس اوربی جے پی کا کٹھ جوڑ مقبوضہ علاقے میں انتخابات کے ذریعے اپنے منصوبوں پر عمل پیرا ہے ۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی اور اس کے ساتھی مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے کیلئے حلقہ بندی کمیشن کو استعمال کر رہے ہیں اور حلقہ بندیوںکا مقصد ہندو اکثریتی خطے جموں کو زیادہ سیٹیں دینا ہے۔بی جے پی کی بھارتی حکومت نے جموںو کشمیرمیں آبادی کا تناسب بگاڑنے کیلئے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیرمیں آر ایس ایس کے حمایت یافتہ ہندوتوا نظریہ کو فروغ دینے کیلئے لاکھوں غیر کشمیریوں کوڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کئے گئے ہیں اور ووٹرلسٹوں میں ان کا اندراج کیاگیا ہے ۔

    بھارتی حکومت جموں و کشمیر میں مسلمانوں سے منسوب اہم مقامات کو ہندوئوں کے ناموں سے بدل رہی ہے ۔رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ مودی حکومت کا واحد مقصد مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی شناخت کو مٹانا اور وہاں ہندو تہذیب قائم کرنا ہے ۔رپورٹ کے مطابق کشمیری عوام کو مودی حکومت کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کیلئے ہوشیار رہنا چاہیے ۔ سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے مزیدکہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوتوا طاقتوں کے احکامات کی تکمیل کیلئے سرگرم لوگ کشمیریوں سے غداری کر رہے ہیں۔کشمیری عوام مقبوضہ علاقے میںہندوتوا کے عزائم کو آگے بڑھانے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور وہ بھارت اور اس کے آلہ کاروں کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھیں گے۔

  • اسلام سے لبرل ازم اورپھرلبرل ازم سے ہندوازم:بھارتی فلم ساز نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرلیا

    اسلام سے لبرل ازم اورپھرلبرل ازم سے ہندوازم:بھارتی فلم ساز نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرلیا

    نئی دہلی :اسلام سے لبرل ازم اورپھرلبرل ازم سے ہندوازم:بھارتی فلم ساز نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرلیا،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ کے معروف فلم ساز علی اکبر نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کرلیا۔

    انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق علی اکبر نے سوشل میڈیا پر بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف (سی ڈی ایس) بپن راوت کے خلاف نفرت انگیز پوسٹ دیکھ کر اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز علی اکبر نے مذہب تبدیل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے۔

    علی اکبر نے بتایا کہ مذہب تبدیل کرنے کے بعد اس کا نیا نام ’راماسمہن‘ ہوگا کیوں کہ راما سمہن ایک ایسا شخص تھا جو اپنی ثقافت کے حق میں کھڑا ہوا تھا اور مار دیا گیا تھا۔

    راما سمہن (سابق نام علی اکبر) نے مذہب بدلنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اُس کا مذہب سے اعتماد اُٹھ گیا ہے اسی لیے وہ اپنی اہلیہ لوسیما سمیت ہندو ہوگیا۔

    فلم ساز کے مطابق وہ اپنی بیٹیوں پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے کسی قسم کی زبردستی نہیں کرے گا، اس کی بیٹیاں خود فیصلہ کرسکتی ہیں کہ وہ کس مذہب کے تحت اپنی زندگی گزاریں گی۔

    تاہم اس سے قبل بپن راوت کی موت کے بعد راما سمہن نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ جنرل کی موت کی خبر پر سوشل میڈیا صارفین نے جس ردعمل کا اظہار کیا وہ توہین آمیز تھا۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں متنازع شخصیت وسیم رضوی جسے توہین مذہب اور گستاخی کا مرتکب ہونے پر دائرہ اسلام سے خارج کردیا گیا تھا، اب ہندو مذہب اپنا ۔

     

     

    اتر پردیش شیعہ وقف بورڈ کے سابق چیئرمین وسیم رضوی نے غازی آباد کے ایک مندر میں اپنے ہندو دوست نار سنگھ آنند سروسوتی کے ہاتھوں ہندو مذہب اختیار کیا اور اس کا نیا نام جتندر نارائن سنگھ تیاگی ہوگا۔