Baaghi TV

Tag: ہنگری

  • اسحاق ڈار کا ہنگری کے وزیرخارجہ سے رابطہ ، بھارتی بے بنیاد پروپیگنڈے کو مسترد کردیا

    اسحاق ڈار کا ہنگری کے وزیرخارجہ سے رابطہ ، بھارتی بے بنیاد پروپیگنڈے کو مسترد کردیا

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ہنگری کے وزیرخارجہ پیٹر زجارتو سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں اسحاق ڈار نے بھارتی بے بنیاد پروپیگنڈے کو مسترد کردیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ہنگری کے وزیر خارجہ اور تجارت پیٹر زجارتو سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں اسحاق ڈار نے ہنگری کے وزیرخارجہ کو موجودہ علاقائی صورتحال سے آگاہ کیا اسحاق ڈار نے پاکستان کے خلاف بھارت کے بے بنیاد پروپیگنڈے اور یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کو سختی سے مسترد کیا۔

    وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنا بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے، پاکستان ہر صورت قومی مفادات کا تحفظ کرے گا، امن اور استحکام کے فروغ بارے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ نائب وزیراعظم نے اپنے قومی مفادات کے تحفط کے لیے پاکستان کے عزم پر زور دیا۔

    بھارت کیجانب سے سندھ طاس معاہدےکی معطلی سے علاقائی سلامتی کو خطرہ ہے، برطانوی اخبار

    بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا نیٹ ورک چلا رہا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

    رانا ثنا اللہ خان سے امریکی سفارتخانے کے سیاسی مشیر کی ملاقات

    ہنگری کے وزیرخارجہ پیٹر زجارتو نے بات چیت اور مسائل کے پرامن حل کے ذریعے صورتحال کو کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ہنگری کے وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد کے بعد دو طرفہ تعلقات میں شاندار رفتار کو بھی سراہا۔

  • پاکستان کے ساتھ مزید مضبو ط تعلقات کے خواہاں ہیں،ہنگری وزیر خارجہ

    پاکستان کے ساتھ مزید مضبو ط تعلقات کے خواہاں ہیں،ہنگری وزیر خارجہ

    اسلام آباد: ہنگری وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک کو افغان سرزمین سے دہشت گردی کے فروغ پر تشویش ہے، ہم یوکرین جنگ کا بات چیت کے ذریعے خاتمہ چاہتے ہیں-

    پاکستان کے دورے پر موجود ہنگیرین وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کی، اس موقع پر اسحاق ڈار نے ہنگری کے وزیر خارجہ کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ جی ایس پی پلس کیلئے حمایت پر ہنگری کے شکر گزار ہیں،ہنگری کے سرمایہ کاروں کیلئے پاکستان میں وسیع مواقع موجود ہیں۔

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور ہنگری کے درمیان ثقافتی تعاون فروغ پارہا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں، ہنگری اور پاکستان میں مشترکہ کمیشن کا تیسرا اجلاس اہمیت کا حامل ہے،ہنگری سے ڈپلومیٹک پاسپورٹ پر ویزہ فری کا معاہدہ ہوا ہے مستقبل میں دونوں ممالک مل کر کام کرنے پر فائدہ اٹھائیں گے۔

    غزہ میں جنگ کے بعد بھی اسرائیلی فوج بفر زون میں موجود رہے گی،اسرائیلی وزیر دفاع

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہنگری کے وزیر خارجہ نےکہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کے فروغ پر تشویش ہے جبکہ غیرقانونی مقیم افراد کے معاملے پر گفتگو ہوئی ہے، سیاسی امور پر دونوں ملکوں کا مؤقف ایک ہے، ہم یوکرین جنگ کا بات چیت کے ذریعے خاتمہ چاہتے ہیں،انہوں نے شاندار میزبانی پر حکومت پاکستان کے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مزید مضبو ط تعلقات کے خواہاں ہیں اور پاکستان کو قابل اعتماد اتحادی سمجھتے ہیں۔

    ہم نے بہت پیسا جمع کر لیا ہے، خیبر پختونخوا امیر ترین صوبہ ہے،علی امین گنڈا پور

  • وفاقی وزیر داخلہ کی ہنگری کے ہم منصب سے ملاقات

    وفاقی وزیر داخلہ کی ہنگری کے ہم منصب سے ملاقات

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے ہنگری کے وزیر داخلہ سنیڈور پنٹیرکی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات کے دوران اتفاق ہوا کہ غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام اور قانونی امیگریشن کی حوصلہ افزائی کیلئے ہنگری کا وفد پاکستان آئے گا، اعلی سطح وفد کو جلد پاکستان بھجوانے کی یقین دہانی کروا دی،ہنگری غیر قانونی امیگریشن،انسانی سمگلنگ اور نادرا سی آر ایم ایس سے متعلق معاونت فراہم کریگا،وزیرداخلہ محسن نقوی نے ہنگری کے وزیر داخلہ کو بھی دورہ پاکستان کی دعوت دی.ہنگری کے وزیر خارجہ بھی رواں برس دسمبر میں پاکستان کا دورہ کریں گے.پاکستان اور ہنگری میں سفارتی تعلقات کی 60ویں سالگِرہ بھرپور طریقے سے منانے پر اتفاق .

    محسن نقوی نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ہنگری کے وزیراعظم کو دورہ پاکستان کی دعوت دی .وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ہنگری کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کیا. وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان ہنگری کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے.دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لئے وفود کے تبادلے ضروری ہیں،

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

  • ہنگری کے تعاون سے ماحولیاتی اثرات پر قابو پانے میں مدد مل سکے گی: آرمی چیف

    ہنگری کے تعاون سے ماحولیاتی اثرات پر قابو پانے میں مدد مل سکے گی: آرمی چیف

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہنگری کے تعاون سے ماحولیاتی اثرات پر قابو پانے میں مدد مل سکے گی۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہنگری کا دورہ کیا اور ہنگری کے وزیر خارجہ سے دارالحکومت بڈاپاسٹ میں ملاقات کی، اس دوران انہوں نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا۔

    ہنگرین وزیر خارجہ نے پاکستانی طلباء کیلئے سکالرشپ 200 سے بڑھا کر 400 کر دیئے جبکہ سپہ سالار نے دوست ممالک کے نیک جذبات اور تعاون پر تشکر کا اظہار کیا۔

    ملاقات کے دوران ہنگری نے تجارت، زراعت اور آبی وسائل کی مینجمنٹ ٹیکنالوجی میں تعاون کی پیشکش کی۔اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہنگری کے تعاون سے ماحولیاتی اثرات پر قابو پانے میں مدد مل سکے گی۔

    بعد ازاں جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہنگرین کمانڈر ڈیفنس فورسز سے بھی ملاقات کی، اس دوران باہمی اور پیشہ وارانہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

  • ہنگری : محکمہ موسمیات کا سربراہ غلط پیش گوئی پرملازمت سے برطرف

    ہنگری : محکمہ موسمیات کا سربراہ غلط پیش گوئی پرملازمت سے برطرف

    یورپین ملک ہنگری میں موسم کی غلط پیشگوئی کرنے پر محکمہ موسمیات کے سربراہ کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے "بی بی سی” کے مطابق ہنگری کے دو سرفہرست موسمی ماہرین کو موسم کی غلط پیش گوئی پر برطرف کر دیا گیا ہے جس نے سیاسی ہنگامہ برپا کر دیا تھا-

    سوڈان میں طوفانی بارشوں سے تباہی،80 افراد جاں بحق متعدد زخمی،ہزاروں گھرتباہ،6…

    ملک میں سینٹ اسٹیفن ڈے کے موقع پر سرکاری تعطیل تھی اور اس روز ایک ایونٹ میں یورپ کا سب سے بڑا آتش بازی کا مظاہرہ ہونا تھا لیکن مقررہ وقت سے 7 گھنٹے قبل محکمہ موسمیات نے موسم کی شدید خرابی کی وارننگ دی جس کے باعث تقریب ملتوی کردی گئی تاہم، موسم پرسکون رہا جس کے نتیجے میں موسمی خدمات کے سربراہ اور نائب سربراہ کو برطرف کر دیا گیا-

    رپورٹ کے مطابق تقریب میں 40 ہزار فائر ورکس جلائے جانے تھے جو کہ تقریب کے مقام سے 500 کلومیٹر دور فاصلے پر تیار تھے، اس آتش بازی کا نظارہ 20 لاکھ افراد سے زیادہ نے کرنا تھا حکومت نے شدید موسم کی وارننگ ملنے کی وجہ سے ایونٹ کو ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دیا۔

    تاہم محکمہ موسمیات کی وارننگ کے باوجود موسم بالکل ٹھیک رہا جس پر حکومت نے سربراہ اور نائب سربراہ کو برطرف کر دیا بعد ازاں محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی کہ بارشوں اور طوفان کا رخ بدل گیا ہے لیکن اس وقت تک بہت دیر ہوچکی ہے۔

    سوشل میڈیا پر پوسٹ دیکھنے کے بعد اجنبی نے خاتون کی سمندر میں کھوئی انگوٹھی ڈھونڈ نکالی

    سروس نے اتوار کو اپنے فیس بک پیج پر عوامی معافی نامہ شائع کیا، جس میں بتایا گیا کہ "کم سے کم امکان” نتیجہ ہوا، اور یہ غیر یقینی صورتحال موسم کی پیشن گوئی کا حصہ ہے۔

    ہنگری میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے تقریباً 100,000 لوگوں نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے تھے، جس میں ہمسایہ ملک یوکرین میں جنگ کے وقت آتش بازی کو منسوخ کرنے اور گھر میں کفایت شعاری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    حکومتی حامی، تاہم، پیشن گوئی کرنے والوں کی نا اہلی پر غصے میں تھے، اور امید ہے کہ ڈسپلے اب اگلے ہفتہ کو منصوبہ بندی کے مطابق آگے بڑھے گا۔

    منگیتر کی امتحانات میں ناکامی کا بدلہ لینے کیلئے لڑکے نے سکول کو آگ لگادی

  • آرمی چیف سے ہنگری کے سفیر کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال

    آرمی چیف سے ہنگری کے سفیر کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال

    راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہنگری کے سفیر نے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہنگری کے سفیر بیلا فازیکاس نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں ملاقات کی، اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، خطے کی مجموعی صورتحال پر بات چیت ہوئی، دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے کے اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان ہنگری کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔

    ہنگری کے سفیر نے علاقائی امن و استحکام کے لئے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے کام جاری رکھنے کا عہد کیا۔

  • روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    ماسکو:روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی،اطلاعات کے مطابق امریکا نے کہا ہے کہ روس یوکرین پر آئندہ چند ہفتوں میں حملہ کرسکتا ہے جس کے لیے اس نے 70 فیصد تک تیاری مکمل کرلی ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے انہیں بتایا کہ یوکرین تنازع پر روس حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، وہ جنگی تیاریوں کے لیے فروری کے وسط تک مزید بھاری ہتھیار اور سامان یوکرین کی سرحد تک منتقل کرسکتا ہے۔

    اس حوالے سے دو امریکی حکام نے عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 15 فروری سے مارچ کے اختتام تک کا موسم روس کو بھاری جنگی سازو سامان سرحدوں تک منتقلی کے لیے پیک ٹائم ہوگا۔
    امریکی حکام نے اپنے الزامات کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے اور کہا کہ یہ معلومات خفیہ اطلاعات کے سبب حاصل ہوئی ہیں، معاملہ حساس ہونے کے سبب وہ امریکی میڈیا کو اس ضمن میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کرسکتے۔

    واضح رہے کہ روس نے یوکرین کی سرحد کے نزدیک ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کررکھے ہیں تاہم روس نے یوکرین پر حملے کے خدشے کو مسترد کردیا ہے۔

    ادھر امریکا نے بھی اس جنگ میں کودنے کا فیصلہ کرلیا ہے،یوکرائن تنازع کے چلتے امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ مزید دستے بھی جلد بھیجے جائیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی اتحادی ممالک کی مدد کے لیے مشرقی یورپ میں مزید امریکی فوجی روانہ کریں گے۔

    وا ضح رہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یورپ کے لیے فوجی روانہ کریں گے۔ مغربی ممالک کو یقین ہے کہ روس یوکرائن پر ایک نیا حملہ کرنے والا ہے۔

    دریں اثناء پولش آرمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ ہفتے کے دن وارسا پہنچ گیا ہے۔

    یہ امریکی فوجی مشرقی یورپ میں پہلے سے ہی تعینات مغربی عسکری دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجیوں میں شامل ہو جائیں گے ۔ جب کہ مزید سترہ سو امریکی فوجی جلد ہی پولینڈ روانہ رہے ہیں۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان فوجیوں کی رہائش کا انتظام جاسیوانکا میں کیا گیا ہے، جہاں عارضی شیلٹر ہاؤسز بنائے گئے ہیں۔ علاقے کو رکاوٹیں لگا کر عام شہریوں کی آمدورفت کے لیے بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے، پولینڈ میں پہلے سے تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریبا ساڑھے چار ہزار بنتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق مشرقی یورپ میں نیٹو اتحادی ممالک کی عسکری مدد کے لیے مزید تین ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ روانہ کیا جائے گے۔

    امریکی اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کا دعویٰ ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحد پر ایک لاکھ کے لگ بھگ فوجی تعینات کر رکھے ہیں او وہ یوکرائن میں فوجی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    تاہم ماسکو حکومت مسلسل ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے مفادات پر سمجھوتا بھی نہیں کرے گا۔ روسی صدر نے اسی ہفتے کہا کہ مغربی ممالک کے اقدامات ان کو جنگ پر مجبور کررہے ہیں۔

    یوکرائنی صدر وولودومیر زیلنسکی نے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ مغربی ممالک روسی حملے کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جو غلط ہے۔ اسی طرح ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی اپنے دورہ یوکرائن کے بعد اسی ہفتے کہا تھا کہ یوکرائن پر روسی حملوں کے خطرات کے امریکی تجزیوںکے باعث تناؤمیں شدت آرہی ہے۔

    ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ مغربی ممالک نے یوکرائنی بحران کو زیادہ سنگین بنایا ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن اس تناظر میں مناسب ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

  • یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ کے خلاف مظاہرے

    یوکرائن تنازع، امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا:بلجیئم میں‌ ممکنہ جنگ کے خلاف مظاہرے

    یوکرائن تنازع کے چلتے امریکی فوجی کمک  کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ مزید دستے بھی جلد بھیجے جائیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی اتحادی ممالک کی مدد کے لیے مشرقی یورپ میں مزید امریکی فوجی روانہ کریں گے۔

    وا ضح رہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یورپ کے لیے فوجی روانہ کریں گے۔ مغربی ممالک کو یقین ہے کہ روس یوکرائن پر ایک نیا حملہ کرنے والا ہے۔

    دریں اثناء پولش آرمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ ہفتے کے دن وارسا پہنچ گیا ہے۔

     

    یہ امریکی فوجی مشرقی یورپ میں پہلے سے ہی تعینات مغربی عسکری دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجیوں میں شامل ہو جائیں گے ۔ جب کہ مزید سترہ سو امریکی فوجی جلد ہی پولینڈ روانہ رہے ہیں۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان فوجیوں کی رہائش کا انتظام جاسیوانکا میں کیا گیا ہے، جہاں عارضی شیلٹر ہاؤسز بنائے گئے ہیں۔ علاقے کو رکاوٹیں لگا کر عام شہریوں کی آمدورفت کے لیے بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے، پولینڈ میں پہلے سے تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریبا ساڑھے چار ہزار بنتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق مشرقی یورپ میں نیٹو اتحادی ممالک کی عسکری مدد کے لیے مزید تین ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ روانہ کیا جائے گے۔

    امریکی اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کا دعویٰ ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحد پر ایک لاکھ کے لگ بھگ فوجی تعینات کر رکھے ہیں او وہ یوکرائن میں فوجی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    تاہم ماسکو حکومت مسلسل ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے مفادات پر سمجھوتا بھی نہیں کرے گا۔ روسی صدر نے اسی ہفتے کہا کہ مغربی ممالک کے اقدامات ان کو جنگ پر مجبور کررہے ہیں۔

    یوکرائنی صدر وولودومیر زیلنسکی نے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ مغربی ممالک روسی حملے کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جو غلط ہے۔ اسی طرح ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی اپنے دورہ یوکرائن کے بعد اسی ہفتے کہا تھا کہ یوکرائن پر روسی حملوں کے خطرات کے امریکی تجزیوںکے باعث تناؤمیں شدت آرہی ہے۔

    ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ  مغربی ممالک نے یوکرائنی بحران کو زیادہ سنگین بنایا ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن اس تناظر میں مناسب ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    یوکرائن بحران پر نیٹو اور روس کے درمیان کشیدگی کے خلاف یورپی جنگ مخالف اتحاد کی جانب سے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔

    مظاہرین نے ممکنہ یوکرائن جنگ اور نیٹو کے خلاف جبکہ ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے نعروں پر مبنی بینر اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔مظاہرے کے شرکاء کا کہنا تھا کہ یوکرائن کے مسئلے پر متوقع جنگ امریکی، یورپی اور روسی سامراج کی سازش ہے۔

    احتجاج میں شریک ایک شخص نے کہا کہ یہ جنگ عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے عوام دشمن معاشی مفادات کو بے نقاب کر رہی ہے۔ اُنہوں نے الزام عائد کیا کہ دراصل یہ اسلحے کی فروخت کے لیے کی جانے والی جنگ ہے۔

    مظاہرے میں شامل ایک خاتون نے کہا کہ اربوں ڈالرز جنگ کی بجائے اسکولوں، ہسپتالوں اور ویکسینیشن کی تحقیق پر خرچ کرنے چاہئیں اور یوکرائن تنازع بات چیت سے حل کیا جانا چاہیے۔

    روس کی تقریباً ایک لاکھ فوج بھاری فوجی ساز و سامان کے ساتھ یوکرائن کی مشرقی سرحد کے گرد جمع ہے۔ یوکرائن کے مشرقی سرحدی علاقوں میں روسی بولنے والوں کی اکثریت آباد ہے اور وہاں یوکرائن حکومت کے خلاف 2014ء سے شورش جاری ہے۔

    دوسری جانب امریکا اور برطانیہ نے مشرقی یورپ میں نیٹو افواج کو متحرک کرنا شروع کر دیا ہے اور اسٹونیا میں آرٹلری اور جدید جنگی طیارے پہنچا دیے ہیں تاکہ روس کے خلاف کسی ردعمل کے لیے تیار رہا جائے۔

    اِسی تناظر میں مظاہرین کو خدشہ ہے کہ یورپ میں ایک بڑی جنگ کا آغاز ہوسکتا ہے۔

    یورپی جنگ مخالف محاذ کے مظاہرے میں شامل دوسری جنگ عظیم سے متاثرہ ایک شخص کا کہنا تھا کہ مظاہرے میں شرکت کا مقصد یورپی رہنماؤں کو یہ باور کرانا ہے کہ جنگ تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں لاتی۔

    مظاہرے میں بچوں سمیت شریک ایک خاندان کا کہنا تھا یورپ دو بڑی جنگوں کا خمیازہ بھگت چکا ہے اور اب مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔