Baaghi TV

Tag: ہٹلر

  • ہٹلر کی خودکشی

    ہٹلر کی خودکشی

    ہٹلر کی خودکشی

    30 اپریل 1945 کو دنیا نے ایک عجیب و غریب واقعہ سنا جب ایڈ وولف ہٹلر نے ایوا این پاؤلا براؤن (Eva Anna Paula Hitler) کے ساتھ شادی کی اور اسی رات دونوں نے خود کشی کر لی ۔

    دوسری جنگ میں شکست کے خوف سے 22 اپریل 1945 کو ہٹلر نے اپنے تمام قریبی ساتھیوں سے کہا کہ تم لوگ چاہو تو برلن چھوڑ کر جا سکتے ہو ، اُن کی گرل فرینڈ ایوا براؤن نے سب سے پہلے کہا کہ ’تم جانتے ہوں میں تمھیں چھوڑ کر نہیں جانے والی ، میں یہیں رہوں گی۔

    ہٹلر کے بارے میں کتاب "دی لائف اینڈ ڈیتھ آف ایڈولف ہٹلر” کے مصنف رابرٹ پائن نے لکھا ہے کہ ان کی شادی کے سرٹیفکیٹ پر 29 اپریل کی تاریخ درج تھی لیکن یہ تاریخ غلط تھی کیونکہ رات کے 12 بج کر 25 منٹ کا وقت تھا ، لہذا اسے 30 اپریل ہونا چاہیے تھا۔

    ایوا براؤن کی ہٹلر سے پہلی ملاقات اُس وقت ہوئی جب وہ صرف 17 سال کی تھی، اُس کے دو سال کے بعد ان کی اکثر ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ہٹلر سے تعلقات کے ابتدائی دنوں میں ایوا براؤن نے دو بار خود کشی کرنے کی کوشش کی تھی تاہم 1936 تک ایوا براؤن ہٹلر کی رہائشگاہ برگ اوف کا ایک حصہ بن گئی تھی۔

    منقول

  • اسرائیل نے روسی وزیر خارجہ کے ہٹلرسے متعلق بیان کو’ناقابل معافی‘ قراردے دیا، روسی سفیرطلب

    اسرائیل نے روسی وزیر خارجہ کے ہٹلرسے متعلق بیان کو’ناقابل معافی‘ قراردے دیا، روسی سفیرطلب

    تل ابیب: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ہٹلر کو یہودی قرار دیئے جانے کے تازہ بیان پر اسرائیل نے شدید برہمی کیا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی اخبارواشنگٹن پوسٹ کےمطابق 24 فروری کو یوکرین پرروس کے حملے کے بعد سے اسرائیل نے دونوں فریقوں کے درمیان نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن روسی وزیرخارجہ کی جانب سے اطالوی چینل پرتبصرے نے اسرائیل میں غم و غصے کوجنم دیا ہے روس کئی مرتبہ یہ کہہ چکا ہے کہ وہ یوکرین کو’’غیرفوجی‘‘اور’’نازی ازم‘‘ سے پاک کرنا چاہتا ہے۔

    پیوٹن کوکینسرہوگیا، اختیارات سابق انٹیلی جنس چیف کو ملنے کا امکان

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے استفسار کیا گیا کہ روس کس طرح کہہ سکتا ہے کہ اسے یوکرین کو نازی اثرورسوخ سے پاک کرنے کی ضرورت ہے ملک کے صدر ولادیمیر زیلینسکی تو یہودی ہیں؟ تو انہوں نےکہا کہ جب وہ کہتےہیں کہ ہم تو خود یہودی ہیں تو کس طرح سے یہ نازی ازم ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ ایڈولف ہٹلر بھی یہودیوں سے تعلق رکھتا تھا اسی لیے ان کی بات کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

    سرگئی لاوروف نے مترجم کے ذریعے بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تو کافی عرصے سے ہم عقلمند یہودی لوگوں کو یہ کہتے ہوئے بھی سن رہے ہیں کہ یہود مخالف سب سے بڑے خود یہودی ہیں۔

    دوسری جانب روسی وزیر خارجہ کے اس انٹرویو پر اسرائیل نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے جھوٹ کا مقصد یہودیوں کے اپنے خلاف ہونے والے تاریخ کے سب سے بڑے اور ہولناک جرائم کا الزام خود یہودیوں پر ہی لگانا ہے اس ردعمل کا اظہار خود اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کیا ہے۔

    اگرامریکا اورنیٹویہ چاہتےہیں تویہ کام کریں:روس

    اسرائیل کے وزیر اعظم نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے یہودیوں کے ہولوکاسٹ کا استعمال فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

    اسرائیل نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے انٹرویو پر معافی مانگیں اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس کے لیے روسی سفیر کو بھی طلب کیا۔

    اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق سر گئی نے ’’ناقابل معافی، لعنت آمیز بیان‘‘دیا ہے ایڈولف ہٹلر کو یہودی قرار دینا ایسا ہی ہے جیسے یہ کہا جائے کہ یہودیوں نے خود کو ہلاک کیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق یہودیوں پر یہود مخالف ہونے کا الزام لگانا نسل پرستی کی سب سے گری ہوئی سطح ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے تاحال اپنے ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق ہولوکاسٹ میں مارے جانے والے 60 لاکھ یہودیوں کی یادگار ید واشیم کے چیئرمین دانی دیان کا کہنا ہے کہ روسی وزیر خارجہ کے ریمارکس حقیقی نازی ازم کے متاثرین کی توہین اور ان کے لیے بڑا دھچکہ ہیں۔

    یوکرین میں کسی بھی مغربی ہتھیار کی کھیپ روسی افواج کیلئے ایک جائز ہدف ہو گی،سرگئی…

    امریکی اخبار کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ نازی حامی عناصر یوکرین کی حکومت اور فوج پر تسلط رکھتے ہیں اسرائیلی وزیر خارجہ جن کے دادا بھی ہولو کاسٹ میں مارے گئے تھے ان کا کہنا تھا کہ یوکرینی نازی نہیں ہیں، صرف نازی ہی نازی تھے اور صرف انہوں نے یہودی لوگوں کی منظم نسل کشی کی۔

    جرمن حکومت کے ترجمان نے اس معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایڈولف ہٹلر کے بارے میں سرگئی لاوروف کا تبصرہ مضحکہ خیز پروپیگنڈہ تھا۔

    مارچ کے آخر میں اسرائیلی پارلیمان سے خطاب میں زیلنسکی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ روس کے خلاف یوکرین کی حمایت کا’’انتخاب‘‘کرے اور یہودی ریاست سے کہا تھا کہ وہ اسے ہتھیار بھی مہیا کرے۔

    اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے یوکرینی امدادی کارکنوں کو ہیلمٹ اور بلٹ پروف واسکٹ مہیا کی ہیں لیکن حال ہی میں اس نے جنگ زدہ ملک کو کوئی ہتھیار مہیا نہیں کیے ہیں۔

    جرمنی میں یوکرینی فوجیوں کی تربیت شروع:روس سخت ناراض