برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ہیلی کاپٹر حادثے میں مشہور امریکی گلوکار اوولیور ٹری سمیت 6 افراد ہلاک ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق دو ہیلی کاپٹرز فضا میں آپس میں ٹکرائے جس سے دونوں ہیلی کاپٹرز میں موجود 6 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں امریکی گلوکار، نغمہ نگار اولیور ٹری نکل، ارجنٹائن کے یوٹیوبر گیسپی اور چار دیگر شامل ہیں ایک ہیلی کاپٹر الیکٹرک کار پارکنگ پر گرا جس سے وہاں پر موجود 20 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، حکام نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حکام نے مسافروں کے مینی فیسٹ اور برازیلین سول پولیس کی رپورٹوں سے چھ متاثرین کی شناخت کی: اولیور ٹری نکل 32 سالہ امریکی الیکٹرو پاپ گلوکار اور انٹرنیٹ شخصیت گاسپر پریم ڈیاز ("گاسپی”) 23 سالہ مقبول ارجنٹائنی یوٹیوبر اور مواد کے تخلیق کار، لوکاس اے ویگنیٹو اور اسکرین رائٹر۔ برازیلی میوزک پروڈیوسر اور الیگزینڈر سوزا پائلٹ شامل ہیں-
پاک فوج کا ایک Mi-17 ہیلی کاپٹر مظفرآباد کے قریب ٹیک آف کے دوران تکنیکی خرابی کے باعث حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام اہلکار شہید ہو گئے-
آئی ایس پی آر کے مطابق حادثہ آج اس وقت پیش آیا جب آرمی ایوی ایشن کا Mi-17 ہیلی کاپٹر معمول کی پرواز کے دوران ٹیک آف کر رہا تھا کہ تکنیکی خرابی کے باعث کنٹرول برقرار نہ رہ سکا اور ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا،حادثے کے فوراً بعد ریسکیو اور ریلیف ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں، تاہم تمام اہلکاروں کی شہادت کی تصدیق کر دی گئی ہے، واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے بورڈ آف انکوائری تشکیل دے دیا گیا ہے جو تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گا۔
پاک فوج کے سربراہ (COAS) اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CDF) سمیت تمام رینکس نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شہید ہونے والے اہلکاروں کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔
قطر کی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ایک قطری ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا ہے۔
وزارت کے مطابق یہ حادثہ اتوار کے روز معمول کی ڈیوٹی کے دوران پیش آیا، جب ہیلی کاپٹر ملک کی سمندری حدود میں پرواز کر رہا تھا حادثے کے بعد عملے کے ارکان کی تلاش کے لیے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ تکنیکی خرابی کا نتیجہ ہے اور فی الحال کسی دشمنانہ کارروائی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور حالیہ ہفتوں کے دوران قطر کو سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا رہا ہے،حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ریسکیو آپریشن جاری رکھا جائے گا۔
تنزانیہ کا ریسکیو مشن کے لیے جانے والا ایک ہیلی کاپٹر براعظم افریقا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ کلیمنجارو پر حادثے کا شکار ہو گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر بلند ترین پہاڑی پر پھنسے دو غیرملکی سیاحوں کو نکال کر واپس آرہا تھا اور خود حادثے کا شکار ہوگیااس حادثے میں ہیلی کاپٹر میں موجود تمام 5 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جن میں دونوں غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں، جن کا تعلق چیک جمہوریہ سے تھا،ہیلی کاپٹر حادثے میں غیر ملکیوں کے ساتھ ہلاک ہونے والے مقامی ڈاکٹر، ٹور گائیڈ اور پائلٹ بھی شامل ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق یہ حادثہ کلیمنجارو کے مشہور سیاحتی راستے پر بارافو کیمپ اور کیبو سمٹ کے درمیان پیش آیا جہاں بلندی 13 ہزار 100 فٹ سے زائد ہےمقامی پولیس کمانڈر نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر کلیمنجارو ایوی ایشن کمپنی کا تھا جو طبی امداد کی خدمات فراہم کرتی ہے۔
تاہم اس کمپنی کی جانب سے ہیلی کاپٹر حادثے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیاتاحال ہیلی کاپٹر حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی تاہم تنزانیہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی حفاظتی ضوابط کے تحت تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ تقریباً 20 ہزار فٹ بلند ماؤنٹ کلیمنجارو پر ہر سال تقریباً 50 ہزار سیاح آتے ہیں کیوں کہ اس کی چڑھائی تکنیکی طور پر زیادہ مشکل نہیں ہےاس سے قبل نومبر 2008 میں بھی اس چوٹی پر ایک حادثے میں 4 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے علاقے چلاس میں پاک فوج کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا، حادثے میں پائلٹ اور معاون پائلٹ سمیت عملے کے 5 ارکان شہید ہوگئے ۔
آئی ایس پی آر گلگت بلتستان نے دیامر میں آرمی ہیلی کاپٹر گرنے اور 5 شہادتوں کی تصدیق کی ہےکہ پاک فوج کا ایم آ ئی 17 ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا ہے جس کے نتیجے میں 2 پائلٹ سمیت عملے کے 5 ارکان شہید ہو گئے صوبائی حکومت نے دیامر ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور طبی عملے کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے، وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور گورنر نے دیامر میں ہیلی کاپٹر گرنے کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراقی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ ہمارا ایک ہیلی کاپٹر تھور، چلاس میں گر کر تباہ ہو گیا ہے،ہیلی کاپٹر میں دو پائلٹ اور تکنیکی عملے کے 3 ارکان سوار تھے، دیامر کے ایس ایس پی نے ایک بیان میں کہا کہ ’اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر حادثے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، ہیلی کاپٹر ایک مجوزہ نئے ہیلی پیڈ پر ٹیسٹ لینڈنگ کر رہا تھا، انہوں نے بتایا کہ دیامر پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
بھارت کے شہر کیدرناتھ میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہونے کے نتیجے میں 7 افراد ہلاک ہو گئے۔
بھارت میں فضائی مسافروں کی مشکلات کم نہ ہو سکی، مسافر جہاز کے حادثہ کے بعد ہیلی کاپٹر کیدرناتھ میں گر کر تباہ ہو گیا جس سے ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے۔
انڈین میڈیا کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر نے دہرادون سے اڑان بھری تھی اور اس سے کچھ دیر قبل ہی ائیر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا، گوری کنڈ کے قریب لاپتہ ہو گیا، جو ہمالیائی مندر کے قریب اونچائی پر واقع ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ہیلی کاپٹر میں سوار تمام 7 افراد ہلاک ہو گئے، حکام نے ٹریجوگینرائن اور گوری کنڈ کے درمیان ملبے کو تلاش کیا، ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہیلی کاپٹر کو حادثہ خراب موسم کے باعث پیش آیا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ پرسوں رات کو ایک بڑا خوفناک حادثہ ہوا واشنگٹن ڈی سی میں جس میں آرمی ہیلی کاپٹر اور مسافر طیارہ آپس میں ٹکرا گئے اور دریا میں گر گئے، 67 افراد دونوں پر سوار تھے اور کوئی بھی زندہ نہیں بچا
مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کل میں بیٹھا تھا تو لوگ کہہ رہے تھے ایکٹ آف ٹیرارزم تھا، یہ پتہ کریں کہ ائر ٹریفک کنٹرولر کون تھا مسلمان تھا کالا تھا گورا، یا ایل جی بی ٹی کیو کا ممبر، یہ سب بیکار کی باتیں، واشنگٹن ڈی سی ہے، پوری دنیا کا یہ پاور ہاؤس ہے، پوری دنیا یہ جگہ کنٹرول کرتی ہے،ہوا کیا ، ایک پرواز جو ٹیک آف ہوئی اس نے واشنگٹن ڈی سی میں آنا تھا، کبھی آپ واشنگٹن ڈی سی گئے ہیں دیکھا ہو تو…میں جب پہلی بار گیا تھا تو 23 برس کا تھا، مجھے دوست نے دکھایا اور کہا کہ دیکھیں دریا کے پاس رن وے ہے، ایئر پورٹ ہے، پل کے اوپر جہاز جاتے ہوئے نظر آ رہے ہوتے ہیں، واشنگٹن ڈی سی کا ایئر پورٹ رات دس یا گیارہ بجے نو فلائی زون بھی ہو جاتے ہیں کیونکہ وہاں وائیٹ ہاؤس بھی ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جو ہوا وہ تو بڑی انہونی بات ہے، بہت بڑا حادثہ ہے، جب یہ جہاز آ رہا تھا تو ایئر ٹریفک کنٹرولر کی آڈیو جو جہاز اور ہیلی کاپٹر والے سے ہوئی، اسکو پہلے دن ہی ریلیز کر دیا گیا تھا، وہ ہمارے سول ایوی ایشن والوں کی طرح نہیں کہ ہم صرف قیاس آرائیاں کرتے رہیں،بلیک ہاک یہ ایک کوریڈور راؤڈ فور کہتے ہیں وہ ایئر پورٹ کے ساتھ ہے وہاں درجنوں ہیلی کاپٹر اڑ رہے ہوتے ہیں، پولیس کے ہیلی کاپٹر، ایمبولنسز وہ وہاں سے اڑ رہے ہوتے ہیں، ایئر کرافٹ میں ایسا سسٹم ہوتا ہے جو کسی جہاز کے قریب آنے پر وارننگ دیتا ہے اور گائیڈ بھی کرتا ہے دائیں بائیں یا اوپرنیچے مڑیں، چند سیکنڈ میں حادثہ ہوناہوتا ہے، ہزار فٹ تک ،15 سو پر بھی گائیڈ کیا جاتا ہے لیکن اس کے بعد 1000 فٹ سے نیچے سسٹم گائیڈ نہیں کرتا،کیونکہ جہاز فائنل پر ہوتا ہے، لینڈنگ گیئر کھلا ہوتا ہے، فیلڈ ان سائٹ ہے، اس وقت سسٹم جو نیچے لگا ہے وہ ممکنہ طور پر بتائے کہ نیچے کوئی ہے، لیکن پائلٹ کے لئے ممکن نہیں کیونکہ اس کا فوکس رن وے پر ہوتا ہے جہاں لینڈ کر رہا ہوتا ہے.جہاز جب ایئر پورٹ کی حدود میں آ جاتا ہے اور ایئر پورٹ کا ٹاور کنٹرول کرتا ہے تو نیچے جہاز بہت ہوتے ہیں، ٹی کیٹ سسٹم الرٹ کر رہا ہو تو دس جہاز بھی ہوں تو وہ وارننگ دے رہا ہو گا،لیکن پھر قریب لینڈنگ کے وہ کام نہیں کرتا، لیکن فوجی ہیلی کاپٹر کے اندر ایک سسٹم ہوتا ہے اے ڈی ایس بی جس کے اندر جی پی ایس بھی ہوتا ہے ،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہیلی کاپٹر کا ٹرانسپانڈر بند تھا جو سگنل دے رہا تھا،ٹرانسپانڈر کیوں بند تھا ،وہ اس وقت بند ہوتا ہے جب لا انفورسمنٹ والے فلائی کر رہے ہوتے ہیں ،کوئی ایکٹوٹی ہو تو بند کر دیتے تا کہ ٹریک نہ ہو، کسی کو پتہ نہ چلے کہ اس ڈائریکشن پر ہیلی آ رہا، اس کی سیلنگ ہے، اس کو 300 فٹ سے اوپر نہیں ہونا چاہئے تھا، اس نے چھ بار کورس بدلا،مجھے لگ رہا ہے کہ ہیلی کاپٹر کا پائلٹ ٹرینی تھا،یہ ٹریننگ کر رہا تھا اور ٹرانسپانڈر آف کرنا ، اس کا روٹین ٹریننگ کا حصہ تھا، اتنے مصروف ایئر پورٹ پروہ کیوں ٹریننگ کر رہے ہیں یہ میری عقل سے باہر ہے، میرا خیال ہے اور کوئی بات بنتی نہیں ہے،ایئر ٹریفک نے کہا کہ ایئرکرافٹ دیکھ رہے ہو تو اس نے کہا کہ ہاں مجھے نظر آ رہا یہاں پر ایک ہیومن ایرر ہے، اس لئے کہ واشنگٹن ڈی سی رات کے وقت جگمگا رہا ہوتا ہے، اس علاقے میں ہر طرح کی لائٹ ہوتی ہے،سب کچھ جل رہا ہے، ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے شاید دوسرے جہاز کو دیکھا اور سمجھا کہ مجھے اس بارے الرٹ کیا گیا، اسکے دس سیکنڈ بعد دونوں آپس میں ٹکرا گئے،جہاز کے تو تین حصے ہو گئے، ہیلی کاپٹر الٹا ہو کر نیچے گرا، وہاں ٹھنڈ ہے،پانی میں برف جمی ہوئی، مائنس ون ڈگری درجہ حرارت، اگر کوئی بچا بھی ہوتو اس ٹھنڈے پانی میں زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتا، اتنی ٹھنڈ ہے کہ دس دن قبل ٹرمپ کی حلف برداری اسی علاقے میں اوپن ہونی تھی لیکن پھر ٹھنڈ کی وجہ سے ان ڈور کر دی گئی،
بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال اٹھنے لگے
5 جنوری 2025ء کوبھارتی ریاست گجرات میں کوسٹ گارڈ ہیلی کاپٹر تباہ ہوا،ہیلی کاپٹر حادثے میں تین افراد ہلاک ہوئے،بھارتی پولیس کے مطابق ”ہیلی کاپٹر معمول کی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوا” "عملے کے 3 افراد کو شدید زخمی حالت میں ریسکیو کیا گیا“
مودی کے دور اقتدار میں دیگر شعبوں میں نااہلی کے ساتھ شعبہ ہوا بازی میں بھی آئے روز حادثات ہو رہے ہیں ،کبھی بھارت کے جنگی طیارے تباہ ہوتے ہیں، کبھی بحریہ کے جہازوں کو حادثات پیش آتے ہیں اور کبھی ہیلی کاپٹر موت بن جاتے ہیں ،اس کی بڑی وجہ کرپشن اور اہم شعبوں میں رشوت کے عوض نااہل افراد کی بھرتیاں ہیں،بھارت میں ہیلی کاپٹر حادثات کی ایک لمبی فہرست ہے،گزشتہ دو سالوں کے دوران بھارت میں کئی ہیلی کاپٹر حادثات ہوچکے ہیں جن میں فوجی اور نیم فوجی ہیلی کاپٹر شامل ہیں
16 مارچ 2023ء کو آرمی چیتا ہیلی کاپٹر ریاست ارونا چل پردیش میں گر کر تباہ ہوا جس میں دونوں پائلٹ ہلاک ہوئے، اپریل 2023 میں ہندوستانی بحریہ کو ALH Dhruv ہیلی کاپٹر کوممبئی میں تکنیکی خرابی کے باعث ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی، مئی 2023 میں ہندوستانی کوسٹ گارڈ کا ALH دھروہیلی کاپٹر بحیرہ عرب میں دوران آپریشن تباہ ہوا ،اس حادثے نے آپریشنل حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھا دئیے، اکتوبر 2023 میں ہندوستانی فضائیہ کے ALH دھرو ہیلی کاپٹرکو ریاست بہار میں امدادی مشن کے دران ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی،اس حادثے نے آپریشنل صلاحیتوں پر سوال اٹھادئیے،4 نومبر2023 کو کوچی میں چیتک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا جس میں ایک ہلاکت ہوئی ، مارچ 2024 میں پوربندر میں کوسٹ گارڈ ALH دھرو ہیلی کاپٹر گجرات میں لینڈنگ کے دوران تباہ ہوا جس میں عملے کے تین افراد ہلاک ہوئے،2 ستمبر 2024 کو بحیرہ عرب میں ایک اور کوسٹ گارڈ ALH Dhruv ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشن کے دوران تباہ ہوا،ایک سال میں دوسرے حادثے نے طیاروں کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھائے
بھارتی فضائی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں آئے روز ہیلی کاپٹرز کے حادثات نے عملے کی صلاحیتوں پر سوالات اٹھادئیے،ہیلی کاپٹرز کے آئے روز حادثات کے باعث ان کا کسی بھی ریسکیو آپریشن میں استعمال بھی اب خطرناک بن چکا ہے، اس طرح کے ہیلی کاپٹر حادثات دراصل مودی سرکار کی کرپشن اور میرٹ سے ہٹ کر تعیناتیوں کا نتیجہ ہیں،
ریاست گجرات میں بھارتی کوسٹ گارڈ کا ہیلی کاپٹر زمین بوس ہوگیا اور اس میں آگ بھڑک اُٹھی۔
باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست گجرات کے علاقے پوربندر میں انڈین کوسٹ گارڈ کے ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹر نے معمول کی تربیتی پرواز بھری تھی، ہیلی کاپٹر میں 5 افراد موجود تھے پرواز بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد ہیلی کاپٹر کا کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا تھا سرچ آپریشن کے لیے بھیجی گئی ٹیم کو کچھ ہی دوری پر ہیلی کاپٹر کا ملبہ مل گیا ملبے سے تین لاشیں اور دو زخمیوں کو نکالا گیا۔
بھارتی کوسٹ گارڈ کے ترجمان نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاہم ابتدائی طور پر لگتا ہے کہ ہیلی کاپٹر کو حادثہ فنی خرابی کے باعث پیش آیا۔
واضح رہے کہ نااہلی، غفلت اور کرپشن کے باعث بھارتی فوج کے طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کے خزاں رسیدہ پتوں کی طرح بکھرنے کے درجنوں واقعات کے بعد گزشتہ برس ایک اہم حفاظتی اپ گریڈ کا آغاز کیا گیا تھا یہ اپ گریڈیشن مکمل ہوچکی ہے اور مقامی طور پر بنائے گئے ہیلی کاپٹرز پر نصب اپ گریڈ شدہ کنٹرول سسٹم سے ان کی فضائی صلاحیت میں بہتری کی توقع بھی کی جا رہی تھی لیکن حادثات پھر بھی نہ رک سکے۔
قاہرہ: جنوب مغربی ترکیہ میں ایک ایمبولینس ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے میں 4 افراد ہلاک ہوگئے۔
باغی ٹی وی:ترک خبر ایجنسی انادولو کے مطابق وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس ہیلی کاپٹر نے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے کے قریب 2 پائلٹوں، ایک ڈاکٹر اور ایک طبی ورکر کو لے کر موغلا ٹریننگ اینڈ ریسرچ ہاسپٹل سے ٹیک آف کیا تھا ٹیک آف کے فوری بعد یہ ہیلی کاپٹر اسپتال کی اوپری منزل سے ٹکرا گیا اور قریب موجود احاطے میں گر کر تباہ ہوگیا،حادثے سے اس میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے۔
مقامی حکام کے مطابق یہ ہیلی کاپٹر گزشتہ روز خراب موسم کے باعث پرواز نہیں کرسکا تھا،22 دسمبر کی صبح اس نے انطالیہ جانے کی کوشش کی مگر شدید دھند کے باعث حادثے کا شکار ہوگیا، حادثے سے عمارت کے اندر یا زمین پر موجود کسی فرد کو نقصان نہیں پہنچا، حاد ثے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں وہاں پہنچ گئی تھیں، وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں حادثے میں 4 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ،حکام کی جانب سے حادثے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔