Baaghi TV

Tag: ہیپاٹائٹس

  • ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے اجتماعی عزم اور مسلسل عملی اقدامات کی ضرورت ہے،وزیراعظم ،صدر

    ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے اجتماعی عزم اور مسلسل عملی اقدامات کی ضرورت ہے،وزیراعظم ،صدر

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی یومِ ہیپاٹائٹس کے موقع پر اپنے الگ الگ پیغامات جاری کئے ہیں-

    صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہیپاٹائٹس ایک قابلِ علاج اور قابلِ روک تھام بیماری ہے، تاہم بروقت تشخیص اور علاج انتہائی ضروری ہے، پاکستان دنیا میں ہیپاٹائٹس سی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، اس لیے اس بیماری کے خاتمے کے لیے اجتماعی عزم اور مسلسل عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

    صدر مملکت نے کہا کہ غیر محفوظ طبی اور تجارتی طریقوں کے خلاف مؤثر قانون کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ عوامی آگاہی اور احتیاطی تدابیر ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی بنیاد ہیں، وزیراعظم کے قومی پروگرام کے تحت ہیپاٹائٹس سی کی مفت اسکریننگ، تشخیص اور علاج فراہم کیا جا رہا ہے اور محدود وسائل کے باوجود حکومت اس قومی مشن کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے عزم کی تجدید کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کئی دہائیوں سے ہیپاٹائٹس سی جیسے سنگین عوامی صحت کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے، اس لیے معیاری اسکریننگ، تشخیص اور علاج تک ہر شہری کی مساوی رسائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے 2025 میں وزیراعظم قومی پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس سی شروع کیا، جس کے تحت لاکھوں پاکستانیوں کو مفت اسکریننگ، تصدیقی ٹیسٹ اور مؤثر علاج فراہم کیا جا رہا ہے اسلام آباد کے سرکاری اسپتالوں میں اس پروگرام کے تحت خدمات کا آغاز ہو چکا ہے، جبکہ دور دراز علاقوں تک رسائی کے لیے موبائل اسکریننگ سروس بھی شروع کر دی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے غیر معیاری سرنجوں کی تیاری، تقسیم اور دوبارہ استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جا چکی ہے، جبکہ اسپتالوں اور طبی مراکز میں انفیکشن سے بچاؤ کے اصولوں پر سختی سے عمل درآمد اور غفلت برتنے والوں کے خلاف مؤثر احتساب کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے عوام پر زور دیا کہ وہ بروقت ہیپاٹائٹس سی کی اسکریننگ کرائیں، اپنے اہلِ خانہ، دوستوں اور ساتھیوں کو بھی ٹیسٹ کرانے کی ترغیب دیں اور محفوظ طبی و حفظانِ صحت کے اصول اپنائیں، کیونکہ جلد تشخیص اور فوری علاج سے قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

    انہوں نے ڈاکٹروں، نرسوں، لیبارٹری ماہرین اور فرنٹ لائن طبی عملے کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی اتحاد، سائنسی ترقی، عوامی تعاون اور مسلسل کوششوں سے پاکستان 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا قومی اور عالمی ہدف حاصل کر سکتا ہے۔

  • ہیپاٹائٹس ہر گھنٹے 4 پاکستانیوں کی زندگی چھین لیتا ہے:ماہرین صحت

    ہیپاٹائٹس ہر گھنٹے 4 پاکستانیوں کی زندگی چھین لیتا ہے:ماہرین صحت

    کراچی :ہیپاٹائٹس ہر گھنٹے 4 پاکستانیوں کی زندگی چھین لیتا ہے:اس حوالے سے ماہرین صحت کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہر سولہویں منٹ میں ایک پاکستانی ہیپاٹائٹس اور 31ویں منٹ میں ایک عورت زچگی کے دوران زندگی کی بازی ہار جاتی ہے، ان زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے کیونکہ یہ امراض قابل علاج ہیں، یہ قیمتی جانیں ریت کی طرح ہمارے ہاتھوں سے پھسل رہی ہیں، ہم بے بس ہیں۔

    ماہرین کا کہنا کہ ایک روز میں 50 عورتیں دوران زچگی مر جاتی ہیں لگ بھگ 96 افراد ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام کا شکار ہوکر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، نہ کوئی خبر بنتی ہے نہ سرکاری ادارے توجہ دیتے ہیں، یہ خاموشی ہمیں کن پستیوں میں دھکیل رہی ہے، ہم تو اپنے پڑوسی ممالک بھارت، ایران، بنگلہ دیش سے بھی پیچھے جارہے ہیں، اس پر ہمیں سوچنا اور کچھ کرنا ہوگا، ہمارا شمار افریقا کے پسماندہ ممالک کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق ہیپاٹائٹس اے سے ایک لاکھ اور ہیپاٹائٹس ای سے 60 ہزار افراد سالانہ لقمۂ اجل بن رہے ہیں جبکہ حاملہ خواتین میں شرح اموات اس سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ پاکستان میں بچوں میں ہونیوالے وائرل ہیپاٹائٹس کا 50 سے 60 فیصد ہیپاٹائٹس اے پر مشتمل ہوتا ہے، ابتدائی مراحل میں علامات ظاہر ہونے کی وجہ سے 96 فیصد افراد 5 سال کی عمر تک ہیپاٹائٹس اے کے سامنے مزاحمت رکھتے ہیں دوسری طرف بالغ افراد میں ہیپاٹائٹس اے 3.5 سے 4 فیصد پیچیدہ ہیپاٹائٹس کا باعث بنتا ہے اور تقریباً 98 سے 100 فیصد بالغ افراد کو جوانی میں ہیپاٹائٹس اے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ہیپاٹائٹس اے کی علامات میں بخار، ہاضمے کی خرابی، شدید زرد پیشاب، کمزوری، الٹی، پیٹ کے دائیں جانب درد ہونا، متلی اور چکر شامل ہیں۔ ہیپاٹائٹس سے بچنے کے لیے ویکسین کرانا، پھل اور سبزیاں دھو کر کھانا، اچھی طرح پکا کر کھانا، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دوائیں استعمال کرنا، برتن دھو کر استعمال کرنا شامل ہیں۔

    بچوں کو 15 ماہ تک کی عمر تک 6 دفعہ ویکسین دینے سے انہیں 10 جان لیوا بیماریوں سے محفوظ کیا جا سکتا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق ہیپاٹائٹس کے 2735 مریضوں میں سے 232 اسپتال میں داخل ہوتے ہیں جن میں سے 30 مریض جگر کی خرابی کا شکار ہوتے ہیں۔بالغوں میں 20 سے 22 فیصد اور بچوں میں 2.4 فیصد پیچیدہ ہیپاٹائٹس کی وجہ ہیپاٹائٹس ای ہے، ہیپاٹائٹس ای کے باعث اموات کی شرح 0.4 سے 4 فیصد تک ہے جبکہ دوران حمل یہ شرح کئی گنا 16 سے 33 فیصد تک بڑھ جاتی ہے، گندے پانی، گٹر والے پانی کے باعث ہیپاٹائٹس ای کا پھیلاؤ پاکستان میں شدت اختیار کررہا ہے۔

    ایک سروے کے مطابق سندھ میں خصوصاً کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، اور میرپورخاص گندے اور آلودہ پانی کی فراہمی کے باعث سب سے زیادہ ہیپاٹائٹس اے اور ای کے خطرے سے دوچار ہیں۔

    حالیہ سروے 2020ء کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی سے ایک لاکھ 64 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے، موجودہ رفتار کے ساتھ ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ صوبوں کو پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کیلئے سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے، اسپتالوں میں تمام مریضوں کا ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے لیکن مثبت پائے جانے والوں کو علاج کے مقامات پر منتقل نہیں کیا جاتا، ہم ان مریضوں کا معالج سے رابطہ کرانے کا موقع گنوا رہے ہیں۔

  • ایک کروڑ پنجابی ہیپاٹائٹس کے مریض‌

    ایک کروڑ پنجابی ہیپاٹائٹس کے مریض‌

    لاہور:گورنر پنجاب چوہدری سرور نے انکشاف کیا ہے کہ پنجاب میں ایک کروڑ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں ۔گورنر ہاؤس لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئےچوہدری سرور کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ہیپاٹائٹس کے مرض میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ پینے کا گندا پانی ہے۔

    مقبوضہ کشمیر ، بھارتی مظالم کی کہانی بھارتی صحافی کی زبانی

    انہوں نے کہا کہ 2020 تک پنجاب کے 2 کروڑ لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کریں گے،پینے کا صاف پانی نہ ہونے کے باعث ہیپاٹائٹس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 2 ہفتے پہلے ایک شہر کے 60 فیصد لوگ ہیپاٹائٹس کے مریض پائے گئے۔

    گورنر پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت سب سے بڑا چلنج یہ ہےکہ ہماری درآمدات، برآمدات سے 3 ارب ڈالر زیادہ ہے، کوئی ہمارے خلاف لکھے تو ہم اسے مخالف سمجھتے ہیں ہمیں اس سوچ کو بھی بدلنا ہوگا۔

    سپین کے سفیر بھی لاہوری نکلے

    واضح رہے کہ 11 کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے میں ایک کروڑ لوگوں کا ہیپاٹائٹس جیسے مرض سے متاثر ہونا سنگین صورتحال کی نشاندہی کرتا ہے۔رواں سال اپریل کے مہینے میں بھی پنجاب میں ہیپاٹائٹس کے حوالے سے ہونے والے ایک سروے میں پنجاب کی 8 اعشاریہ 9 فیصد آبادی کے ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔

    صف علی زرداری پر نیب کا خوف طاری ، اہم پیش رفت

    ڈاکٹروں کے مطابق ہیپاٹائٹس کی علامات میں بھوک نہ لگنا، اسہال، تھکاوٹ، جِلد اور آنکھوں میں پیلاہٹ اور پٹھوں، جوڑوں و معدے میں درد شامل ہے، دیہی علاقوں کے لوگ ہیپا ٹائٹس میں زیادہ مبتلا ہورہے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ علاج کیلئے اتائیوں کے پاس جانے والے اوراسپتالوں میں دیر سے آنے والے ہیپاٹائٹس کے مریض مصیبت میں پڑ سکتے ہیں، اس حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔