Baaghi TV

Tag: یاسمین آفتاب علی

  • انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات

    انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات

    انتخابات کی درخواست اور سپریم کورٹ کے سوالات
    چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عام انتخابات کے انعقاد سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عابد زبیری، اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نمائندگی کرنے والے وکیل علی ظفر کی درخواست سے متعلق سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بیان بازی پر توجہ دینے کے بجائے، درست طور پر نشاندہی کی کہ 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کے تصور کو عملی تجاویزکودیکھنے کی ضرورت ہے۔

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کی سربراہی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کر رہے ہیں۔ بنچ جسٹس اطہر من اللہ، اور جسٹس امین الدین خان پر مشتمل ہے۔دوران سماعت سپریم کورٹ کے بینچ میں شامل معزز ججوں کی طرف سے کچھ بہت اہم سوالات اٹھائے گئے تھے،
    جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ آئین میں یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ مردم شماری اگر ہو چکی ہے تو انتخابات کب ہونے چاہئیں؟
    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آئین نے نئی مردم شماری کا حکم دیا ہے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ ہ کیا یہ آئینی شق ہے کہ انتخابات 2017 سے 2021 تک مردم شماری کے بعد ہونے چاہئیں؟ اس سوال پر عابد زبیری نے کہا کہ حالات سے قطع نظر 90 دن کے اندر انتخابات کا مطالبہ ہے۔
    جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ مردم شماری مکمل ہونے کے بعد الیکشن کرانے کے لیے آئین میں کیا مقررہ مدت درکار ہے۔
    علی ظفرسے بھی سوال کیا گیا کہ یہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بروقت مردم شماری کرائی، "مردم شماری کی منظوری میں چار سال کیوں لگے؟ لگتا ہے آپ تاخیر کا الزام کسی اور پر لگا رہے ہیں،بتائیں کہ مردم شماری میں تاخیر کا ذمہ دار کون تھا؟ اگر 2017 میں مردم شماری کی منظوری دی گئی تھی تو جلد کیوں نہیں کرائی گئی؟ آدھا سچ کیوں پیش کرتے ہیں؟ پچھلی حکومت نے مردم شماری نہیں کروائی اور جب نئی حکومت نے کرائی تو آپ اسے غلط کہتے ہیں۔ آپ نے اس وقت مردم شماری کو چیلنج کیوں نہیں کیا؟” [ہم نیوز ویب ڈیسک 23 اکتوبر 2023]
    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ اگر آئینی طور پر مردم شماری کی ضرورت ہے تو اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن کو کرنا ہے۔ [ہم نیوز ویب ڈیسک 23 اکتوبر 2023]
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جنہوں نے اپنی آئینی ذمہ داریاں بروقت ادا نہیں کیں وہ اب تاخیر، حلقہ بندیوں، اور متعلقہ مسائل پر سوال نہیں اٹھا سکتے۔

    نوے دن میں انتخابات کے حوالہ سے کیس کی سماعت کے دوران یہ اٹھائے گئے چند اہم سوالات ہیں۔ ایک چیز جو ظاہر تھی وہ یہ تھی کہ عدالت کی طرف سے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی خواہش تھی ،بیان بازی پر پابندی لگانے کے بجائے "قابل عمل” پر توجہ مرکوز کی گئی تھی، یہ مختلف اسٹیک ہولڈرز کو اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی میں تاخیر کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔

    اندرون خانہ مسائل کو حل کرنے کے بعد حتمی تاریخ دینے کے لیے معاملہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ تاہم، نہ صرف ابھی کے لیے بلکہ مستقبل کی نظیر کے طور پر بھی، قانون کے سوالات کو طے کرنا ہے بلکہ طے کیا جائے گا۔

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • نواز شریف کی واپسی

    نواز شریف کی واپسی

    لندن میں چار سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد نواز شریف کی لاہور واپسی پر جوش و خروش دیکھے میں آیا، نواز شریف کی آمد سے قبل انہیں تین مقدمات میں 24 اکتوبر تک ضمانت دی گئی، زیر بحث پہلا مقدمہ توشہ خانہ کیس تھا، جہاں نواز شریف پر ابھی تک باضابطہ فرد جرم عائد نہیں کی گئی تھی، لیکن قانونی کارروائی جاری تھی۔ دیگر دو مقدمات، یعنی ایون فیلڈ کیس اور العزیزیہ کیس، میں ان کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

    العزیزیہ کیس میں، نواز شریف نے بیرون ملک علاج کرانے کے لیے ضمانت حاصل کی تھی، لیکن وہ وعدے کے مطابق واپس نہ آئے، ایسی صورتحال جس کے نتیجے میں عام طور پر ایک عام شہری کی فوری گرفتاری ہوتی ہے، جس کے بعد ضمانت کی درخواست دائر کی جاتی ہے۔ تاہم نواز شریف کے کیس میں یہ اصول لاگو نہیں کئے گئے،

    اگرچہ نواز شریف کی واپسی جمہوری عمل کے لیے اہمیت کی حامل ہے، لیکن یہ جس انداز میں ہوا اس کے بارے میں اہم خدشات پیدا کرتا ہے، جس سے قانون کی حکمرانی کی ممکنہ بے توقیری کا اشارہ ملتا ہے۔ اس طرح کی صورتحال عوام میں پولرائیزیشن کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ عوام کا ایک اہم حصہ اب بھی پاکستان تحریک انصاف حکومت کا حامی ہے.

    نواز شریف کی پاکستان واپسی ، پی ٹی آئی کی وجہ سے ہی ممکن ہوئی، پی ٹی آئی کی محاذ آرائی، فوج پر مسلسل تنقید، 9 مئی کا واقعہ اور سائفر کیس جیسے کیسز میں ملوث ہونے کی وجہ سے فوج اور پی ٹی آئی کے درمیان دراڑ مزید بڑھ گئی،جس نے ملک کی سفارتی کوششوں پر نقصان دہ اثر ڈالا، یہ جزوی طور پر، پی ٹی آئی کی اپنی غلطی تھی جس نے نواز شریف کے لیے سیاسی منظر نامے میں دوبارہ داخل ہونے کا راستہ پیدا کیا.

    احتساب کی بجائے معاشی بحالی کو ترجیح، نواز شریف کا بیانیہ تجزیہ کاروں کو یہ سوال کرنے پر مجبور کر رہاہے کہ کیا وہ انتخابات میں تاخیر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ عوامی حمایت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے وقت مل سکے۔ یہ اقدام ابھرتے ہوئے سیاسی منظر نامے اور پاکستانی سیاست میں مختلف اداکاروں کی جانب سے استعمال کی جانے والی حکمت عملیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔

  • حماس تحریک فلسطین پر قابض؟

    حماس تحریک فلسطین پر قابض؟

    دہشت گردی کی نئی لہر میں اسرائیلی حملوں میں فلسطینیوں کی تباہی اور بربادی کے حملے میں کوئی دو رائے نہیں ،اس کا آغاز غزہ کے عسکریت پسندوں نے 7 اکتوبر کو اسرائیلی قصبوں کی طرف ہزاروں راکٹ فائر کرنے کے ساتھ، تاروں کی بھاری باڑ کو توڑ کر اسرائیلی بستیوں میں اپنی فوج بھیجنے سےکیا

    حماس کے مینڈیٹ کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ محسوس کیا جا سکے کہ ایک انتہائی منصفانہ فلسطینی تحریک کو ‘مطلق پسند’ نقطہ نظر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ حماس دو ریاستی نظریہ کے سیاسی حل کی حمایت نہیں کرتی۔ بنیادی طور پر فلسطینی ایسا چاہتے ہیں۔ اس لیے اسرائیل اور سعودی عرب کا معاہدہ جو اس وقت مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنے کے لیے تھا، یہ اب تاخیر کا شکار ہو چکا ہے۔ اگر مغربی کنارے میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں طویل عرصے تک جاری رہیں تو یہ معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔

    حماس اسرائیل کو ایک غیر قانونی ریاست سمجھتی ہے اور اس نے ہمیشہ اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، ایسے نان سٹیٹ ایکٹرز یا تو بنائے جاتے ہیں یا بین الاقوامی میدان میں دوسرے اسٹیک ہولڈرز ان کی حمایت کرتے ہیں۔ ایران نے حماس اور فلسطین اسلامی جہاد سمیت مختلف فلسطینی عکسری گروپوں کو سالانہ 100 ملین ڈالر تک کا تعاون دیا ۔ سعودی عرب اور اسرائیل امن معاہدے کا مطلب ایران کے ساتھ جنگ ہے۔ "اگر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے، تو ایران یہ سمجھے گا کہ ریاض اسرائیلی فوج کو ایران کے خلاف تیز حملے کرنے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرے گا، چاہے سعودی قیادت کا ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہ ہو۔” [فارن پالیسی اگست 30، 2023]

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ صرف سعودی عرب ہی نہیں، بلکہ اگر کوئی اور خلیجی ملک اسرائیل کے ساتھ زیادہ نرمی اختیار کرتا ہے تو ایران کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آئے گا۔

    سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان ممکنہ طے پانے والا معاہدہ ایران کے مفاد میں نہیں ، جس کا مقصد غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنا ہے، یہ معاہدہ حماس کے خلاف ہے کیونکہ وہ اسرائیل کے وجود کو قبول نہیں کرتا۔ اس مقام پر حملہ فلسطینیوں کے طویل المدتی مفاد میں نہیں.

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے کردار کے حوالے سے پاکستان کی دانشمندانہ سفارتکاری

    مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے کردار کے حوالے سے پاکستان کی دانشمندانہ سفارتکاری

    امت مسلمہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے عوامی بیانیٔے کی پیروی اور فلسطینیوں کی حالت زار کو بیان کرنا چاہئے جنہیں بلاشبہ سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم، بین الاقوامی سیاست کے پیچیدہ منظر نامےکو دیکھتے ہوئے پاکستان کو انتہائی احتیاط برتنی چاہیے اور پاکستان کو اپنے قومی مفادات کو ہر چیز سے بالاتر رکھنے کی ضرورت ہے۔

    ایک جامع نقطہ نظر حاصل کرنے کے لیٔے،ماضی کی طرف جاتے ہیں اور وسیع تر سیاق و سباق پر غور کرتے ہیں۔ 2016-17 میں، مصر نے سینائی کے علاقہ میں اسلامک اسٹیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیٔے، حماس کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت کو تسلیم کیا، جو تنظیم کے متعلق، اس کے پچھلے موقف میں اہم تبدیلی تھی۔ اس نقطہ نظر کی وجہ سے مصر نے 2018 سے منتخب تجارتی سامان کو صلاح الدین بارڈر کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل کرنے کی اجازت دی۔ 2021 سے، خبروں کے مطابق، حماس غزہ میں مصری درآمدات پر ٹیکس کی مد میں ہر ماہ ایک اندازے کے مطابق 12 ملین ڈالر جمع کر رہی ہے۔

    امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق، ایران حماس کے ایک اہم فنانسر کے طور پر سامنے آیا ہے، جو حماس اور فلسطین اسلامی جہاد سمیت مختلف فلسطینی عسکری گروپوں کو سالانہ 100 ملین ڈالر تک کا تعاون کرتا ہے۔ اس کے برعکس، ٹائمز میگزین کے مطابقہ امریکی کانگریس نے حماس کے خلاف کوششوں کو تقویت دینے کے لیے تقریباً 2 بلین ڈالر کا امدادی پیکج تجویز کیا ہے۔

    حماس نے کرپٹو کرنسی کے ذریعے بھی اہم فنڈنگ حاصل کی ہے، اسرائیلی حکام نے 2020 اور 2023 کے درمیان تقریباً 41 ملین ڈالر ضبط کیٔے، اسکو وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے۔ مزید 94 ملین ڈالر مبینہ طور پر متعلقہ ادارہ فلسطینی اسلامی جہاد کے پاس ہیں۔

    دشمنیوں میں حالیہ اضافہ، طویل عرصہ سے جاری کشیدگی جو کئی مہینوں سے بڑھ رہی تھی۔ جس کی وجہ سے معصوم جانوں کا المناک نقصان ہوا۔ اس تنازعے کی دل دہلا دینے والی تصاویر اور کہانیاں دنیا کو چونکاتی رہتی ہیں۔

    اس پیش رفت کو جاری سفارتی مذاکرات کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ سعودی عرب، امریکہ اور اسرائیل تین طرفہ مذاکرات میں مصروف ہیں، واشنگٹن نے یروشلم کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ریاض کو یقین دہانیاں کروائی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، اسرائیل تجارتی معاہدوں کی تلاش کر رہا ہے، جس میں یورپ کو گیس کی ممکنہ برآمدات، اور ترکی جیسی مختلف ریاستوں کے ساتھ تجارتی راہداری شامل ہیں۔ اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ بات چیت میں مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ تاہم، اگر مغربی کنارے میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں طویل عرصے تک جاری رہیں تو یہ معاہدہ ختم ہو سکتا ہے۔ یہ الزامات کہ ایران نے حالیہ حملے میں مرکزی کردار ادا کیا، جیسا کہ اسرائیل کے حامی دھڑوں کی طرف سے کہا جا رہا ہے، معاہدے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حماس تقریباً ایران کے لیے ایک پراکسی ہے۔ الجزیرہ نے 15 اکتوبر 2023 کی رپورٹ میں کہا کہ ایران نے اسرائیل کو علاقائی کشیدگی سے خبردار کیا ہے اگر اسرائیلی فوج غزہ میں زمینی حملے کے لیے داخل ہوتی ہے تو ایران بھی اس جنگ میں کود پڑے گا.

    تازہ ترین خبروں کے مطابق، سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ معاہدے کو موقوف کر دیا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی ہے، کیونکہ ریاض خطے میں کشیدگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ امریکہ اس معاہدے میں کتنی دلچسپی رکھتا ہے۔

    اس پیچیدہ سفارتی منظر نامے کے پیش نظر پاکستان کو غیر جانبدار رہنا چاہیے، اور فریقین کا موقف اپنالینے سے گریز کرنا چاہیے۔ عوامی بیانیہ کے آگے جھکنے کے بجائے، اسے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے اور اس پیچیدہ بین الاقوامی منظر نامے پر احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

     پرتشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ 

    اسرائیلی میجر جنرل حماس کے ہاتھوں یرغمال؛ کیا اب فلسطینی قیدی چھڑوائے جاسکیں گے؟

    اسرائیل پر حملہ کی اصل کہانی مبشر لقمان کی زبانی

    حماس کا وجود مٹانا ہو گا،تاہم غزہ پر اسرائیلی قبضہ غلطی ہو گی،امریکی صدر

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

  • افغان مہاجرین کی گھر واپسی

    افغان مہاجرین کی گھر واپسی

    حالیہ پیش رفت میں، پاکستانی حکومت نے تمام غیر قانونی تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو یکم نومبر 2023 تک پاکستان چھوڑنے کا الٹی میٹم جاری کیا ہے، جس کی تعمیل کرنے میں ناکام رہنے والوں کے لیے ممکنہ گرفتاریوں اور جبری ملک بدری کا انتباہ دیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں، کابل میں طالبان انتظامیہ کے ترجمان نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغان شہریوں کو پاکستان کے سیکیورٹی مسائل کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔

    اس فیصلے کے پیچھے محرک عوامل میں سے ایک پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہے۔ وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا تھا کہ رواں برس بڑی تعداد میں خودکش بم حملے ہوئے جن میں "24 میں سے 14” افغان شہریوں کی جانب سے کیے گئے۔

    اس صورت حال کے قانونی تناظر کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے، یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ پاکستان مہاجرین کی حیثیت سے متعلق 1951 کے کنونشن یا مہاجرین کی حیثیت سے متعلق 1967 کے پروٹوکول کا فریق نہیں ہے۔ نتیجتاً، پاکستان ان افراد کو غیر معینہ مدت تک پناہ دینے کا پابند نہیں ہے۔ تاہم، خیر سگالی اور ہمسائیگی کی حمایت کی علامت کے طور پر، پاکستان نے ابتدائی طور پر افغان مہاجرین کو پناہ گزینوں کا درجہ دیا [UNHCR، ‘افغانستان کی واپسی 2002’ پر 5؛ UNHCR، ‘حل کی تلاش؛ UNHCR کے 25 سال – افغان مہاجرین پر پاکستان کا تعاون، جون 2005 میں 17]۔

    اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ پناہ گزینوں کی یہ صورتحال ہمیشہ عارضی نوعیت کی رہی ہے کہ ان کے گھریلو حالات بہتر ہونے پر اسے واپس لیا جائے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، UNHCR اور پاکستان کے درمیان مسلسل معاہدوں کے نتیجے میں ان کے قیام کی مدت میں توسیع ہوئی ہے، لیکن کسی بھی موقع پر ان کی موجودگی کو مستقل کرنے کا نہیں کہا گیا

    مقامی رپورٹس کے مطابق پاکستان کا اس اقدام کا مقصد تمام افغانوں بشمول قانونی حیثیت اور پاکستانی رہائشی کارڈ کے حامل افراد کو ملک چھوڑنا ہے [BBC News]۔ اس اقدام کو پاکستان کے اندر سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیوں کہ بعض مہاجرین نے مبینہ طور پر دہشتگرد افراد کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی ہیں۔

    یہ واضح ہے کہ پاکستان نے ابتدائی طور پر افغان پناہ گزینوں کی مہمان نوازی کی، لیکن اب سیکورٹی کے بدلتے ہوئے منظر نامے نے صورتحال کا از سر نو جائزہ لیا ۔ یہ ضروری ہے کہ افغان مہاجرین کی روانگی منظم طریقے سے ہونی چاہئے، اس عمل کے دوران ان کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنایا جائے۔

    جب ہم ان چیلنجوں کا تذکرہ کرتے ہیں تو حضرت علی علیہ السلام کے ان الفاظ کو یاد رکھنا ضروری ہے: "جس کے ساتھ نیکی کرو اس کے شر سے بچو۔” تحفظ کے ساتھ صنفی توازن ایک پیچیدہ کام ہے، لیکن اس صورتحال میں ملوث تمام اسٹیک ہولڈرز کے خدشات کو دور کرنا ناگزیر ہے۔

  • پاکستان میں افغان مہاجرین کے خطرے کا از سر نو جائزہ

    پاکستان میں افغان مہاجرین کے خطرے کا از سر نو جائزہ

    2007 میں، پاکستان نے اپنی سرحدوں کے اندر افغان مہاجرین کے لیے رجسٹریشن کا عمل شروع کیا، رجسٹریشن کا ثبوت (POR) کارڈ جاری کیا۔ ان کارڈز میں عارضی قانونی حیثیت، نقل و حرکت کی آزادی، اور فارنرز ایکٹ 1946 سے استثنیٰ کی پیشکش کی گئی تھی۔ اصل میں یہ 2017 تک جاری رہنے کا ارادہ تھا، افغانستان میں جاری عدم استحکام کی وجہ سے اس انتظام کو بڑھایا گیا تھا۔ اس کے بعد، کسی بھی نئے افغان پناہ گزین کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) کے ذریعے کیے گئے مہاجرین کی حیثیت کے تعین کے طریقہ کار سے گزرنا پڑا۔

    یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کو مستقل رہائش کے حقوق حاصل نہیں ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک پر جو پہلے ہی معاشی اور سیاسی چیلنجز سے نبرد آزما ہیں، مہاجرین کی آمد سے مزید بوجھ نہیں بڑھ سکتا۔ مہاجرین کی آڑ میں پاکستان میں داخل ہونے والے افرادسے معاشی دباؤ میں اضافہ ہواجو ممکنہ طور پر اضافی مسائل کا باعث بن سکتے ہیں۔

    اس پروگرام کا بنیادی مقصد افغانوں کو محفوظ پناہ گاہ فراہم کرنا تھا جنہیں امریکہ کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے طالبان کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس میں وہ لوگ شامل ہیں جو اسپیشل امیگریشن ویزا (ایس آئی وی) پروگرام کے لیے اہل نہیں ہیں، جس میں مترجموں اور دیگر لوگوں کو شامل کیا گیا ہے، جنہوں نے امریکہ کی حکومت کے لیے کام کیا

    اکتوبر 2020 کی UNHCR کی رپورٹ کے مطابق، تقریباً 50 لاکھ افغان اپنے آبائی ملک سے باہر بے گھر ہوئے، جن میں سے 90 فیصد کی میزبانی پاکستان اور ایران نے کی۔ (ماخذ: UNHCR. CITATON: "ایران میں پناہ گزین،” https://www.unhcr.org/ir/refugees-in-iran/

    تاہم افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان کے اندر دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ افغان پناہ گزینوں کی موجودگی سے پیدا ہونے والے سیکورٹی خطرات ایک سنگین تشویش کا باعث بن چکے ہیں۔

    مزید افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے کا اسمگلروں نے فائدہ اٹھایا۔ اس غلط استعمال میں اہم کردار ادا کرنے والا ایک اہم عنصر پی ٹی آئی حکومت کی طرف سے اکتوبر 2022 میں کراچی کی بندرگاہوں اور پورٹ قاسم پر "ان ٹرانزٹ ٹو افغانستان” کے طور پر سامان کی مہر لگانے کو روکنے کا فیصلہ تھا۔ دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ کے مطابق، اس معطلی نے ایک خامی پیدا کر دی ہے، جس سے افغانستان کے لیے تیار کردہ مصنوعات پر ٹیکس اور کسٹم فیس بغیر ادائیگی کی جا سکتی ہے جب انہیں پاکستان واپس کیا جاتا ہے۔

    پاکستان میں افغان مہاجرین کی صورتحال پیچیدہ اور کثیر الجہتی ہے۔ جہاں ایک انسانی پہلو پر غور کرنا ہے، وہیں سیکورٹی اور اقتصادی خدشات کو بھی دور کرنا ہوگا۔ پاکستان کو پناہ گزینوں کی اس آبادی کو سنبھالنے میں اہم چیلنجز کا سامنا ہے، اور ایک متوازن اور پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے UNHCR جیسی بین الاقوامی تنظیموں کی مشاورت سے صورتحال کا از سر نو جائزہ لینا ضروری ہے۔

  • کسی عزیز کے جانے پہ صبر کرنا

    کسی عزیز کے جانے پہ صبر کرنا

    کسی عزیز کے جانے پہ صبر کرنا

    غم ایک حقیقت ہے، بالکل ایسے ٹپکنے والے نل کی طرح جو کبھی رکنے والا نہیں لگتا۔ یہ آپ کا ساتھ چھوڑنے سے انکاری ہے، اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ اسے کتنا ہی بند کرنا چاہتے ہیں، یہ برقرار رہتا ہے۔ یہ تصور کہ "وقت تمام زخموں کو بھر دیتا ہے” اکثر ایک گمراہ کن کلچ کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ درحقیقت، جیسے جیسے وقت گزرتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ نقصان سے رہ جانے والا خلا پھیلتا جا رہا ہے، جس سے اندر ایک اور بھی گہری کھائی پیدا ہوتی ہے۔

    ایک عورت کی کہانی پر غور کریں جس نے اپنے ساتھی کو کھو دیا۔ اس کی جذباتی کیفیت، مالیاتی کمزوری سے بڑھ گئی ہے۔ وہ اپنے جذباتی صدمے سے نمٹنے کی عیش و عشرت کو شاذ و نادر ہی برداشت کرتی ہے، کیونکہ اگر اس کا شوہر مالدار تھا، تو موقع پرست لوگ گدھوں کی طرح گھومتے پھرتے ہیں، اپنے فائدے کے لیے اس کا استحصال کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف، اگر اس کا شوہر ایک عام کام کرنے والا آدمی تھا جس کی آمدن اس کے گزرنے کے بعد بند ہو جاتی ہے، تو وہ اپنے بچوں کی طرح، بڑھے ہوئے خاندان پر بوجھ بن جاتی ہے۔ اچانک، رشتہ داروں کا ایک گروہ اسے بدحالی کا شکار کر دیتا ہے۔ اس کے بچے، جو اب ناواقف چہروں سے گھرے ہوئے ہیں، اب خود کو اپنے بازوؤں میں جھونکتے ہوئے، اپنے آپ کو کامل سرپرست کے کردار میں ڈالتے ہوئے پاتے ہیں۔

    یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ اسے کتنی بار "اپنے بچوں کی زندگیوں میں خوشی تلاش کرنے” کا مشورہ دیا جاتا ہے گویا وہ محض اپنے شوہر یا اس کی اولاد کی توسیع ہے۔ اس کی اپنی شناخت اور خواہشات کا کیا ہوگا؟ کیا اسے اپنے خاندان کے محض ایک ضمیمہ تک محدود کر دینا چاہیے، جس کی تعریف صرف اس کے شوہر یا بچوں کے ساتھ تعلقات سے ہوتی ہے؟

    یا اگر، عورت کے بچے بڑے ہو گئے ہیں، تو وہ اب اپنے گھر کی مالکن نہیں رہی بلکہ ایک مہر کی ملکہ کے درجے پر چلی گئی ہے۔ جس کا بنیادی مطلب ہے بغیر کسی اختیار کے اوپر کی طرف لات ماری جانا۔

    ہمارے معاشرے میں ایسے مواقع آتے ہیں. ان بچوں کے لیے جو ایک المناک حادثے میں والدین کو کھو دیتے ہیں، ایک نوجوان غیر شادی شدہ لڑکی کے لیے جو اس کے بڑے بھائی اور اس کے خاندان کے رحم و کرم پر چھوڑ دی جاتی ہے، یا ایک نوجوان لڑکے کے لیے جو اپنی تعلیم کو آگے بڑھانے کا خواب دیکھتا ہے، اچانک نقصان مشکلات میں بدل جاتا ہے۔ ہر روز، ان افراد کو یاد دلایا جاتا ہے کہ ان کی زندگی کتنی مختلف ہو سکتی تھی اگر انہیں اپنے المناک نقصانات کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

    غم ایک لازوال سفر ہے۔ اور ان لوگوں کے لیے جنہوں نے گہرا نقصان اٹھایا ہے، وہ ایک ابدی جدوجہد کی طرح محسوس کر سکتا ہے۔ ان لمحات میں، ہمارے معاشرے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان لوگوں کے لیے ہمدردی اور مدد فراہم کریں جو اس طرح کے نقصان سے گزرے ہیں، یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ شفا یابی ایک پیچیدہ وجاری عمل ہے

  • فاٹا میں طالبان کا اثرورسوخ اور پاکستان پر اثرات

    فاٹا میں طالبان کا اثرورسوخ اور پاکستان پر اثرات

    مولانا فضل الرحمان نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی غالب موجودگی کو اجاگر کیا ہے۔ یہ مسلح گروہ خطے میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مشکلات کھڑی کرتا ہے،منصوبوں کی تکمیل کے لئے لاگ کا 10 فیصد حصہ مانگا جاتا ہے اور نہ ملنے کی صورت میں منصوبے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، فاٹا کے خیبرپختونخوا (کے پی کے) میں انضمام کے بعد سے، ٹی ٹی پی نے اس کی علیحدگی، اور اپنی سابقہ خود مختار حیثیت پر واپسی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    15 اگست 2021 کو طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد سے، نہ صرف فاٹا بلکہ صوبہ بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے 21 ماہ کے دوران ایسے واقعات میں 73 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ سیکورٹی چیلنجز پاکستان کی پہلے سے ہی کمزور معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔

    ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایک ریسرچ فیلو عبدالباسط کا مشاہدہ ہے، "یہ پورا خطہ غیر مستحکم ہے، چاہے وہ افغانستان ہو یا پاکستان۔ یہ افغانستان میں ہونے والی پیشرفت کا ایک اثر ہے۔”

    ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کی کوششوں نے بدقسمتی سے دہشت گرد تنظیم کو دوبارہ منظم ہونے اور حملوں کو تیز کرنے کے مواقع فراہم کیے ۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کے پاس صرف دو ہی قابل عمل آپشن رہ جاتے ہیں۔ پہلی بات حقانی کی طرف سے بیان کی گئی ہے، جو دلیل دیتے ہیں، "پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت یہ تسلیم کرنے سے گریزاں ہے کہ پرتشدد بنیاد پرست، اسلام پسند صرف ناراض لوگ نہیں ہیں. جنہیں مذاکرات کے ذریعے منایا جا سکتا ہے۔” [The New Humanitarian] اس آپشن میں ان شرپسند عناصر کے خلاف ایک جامع فوجی مہم شروع کرنا شامل ہے۔دوسرے آپشن میں بات چیت کے ذریعے تصفیہ شامل ہے۔ ان میں سے کوئی بھی آپشن پاکستان کے لیے مثالی حل پیش نہیں کرتا۔

    ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکراتی تصفیہ کی ماضی کی کوششوں کو جب بھی عسکریت پسندوں کے لیے موزوں تھا نظر انداز کیا گیا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی سمجھوتہ ہو بھی جاتا ہے، تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ٹی ٹی پی مزید رعایتوں کا مطالبہ نہیں کرے گی. ممکنہ طور پر ریاست کو ایک غیر یقینی صورت حال میں ڈالے گی، اور ایک پریشان کن مثال قائم کرے گی۔ ان عسکریت پسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے آپشن کے متعلق، یہ تبھی کارگر ثابت ہو گا جب سرحد پار سے دراندازی کے ہر راستے کو سختی سے سیل کر دیا جائے تاکہ بیرونی حمایت کو ختم کیا جا سکے۔

    ٹی ٹی پی سے نمٹنے کے لئے ، ایک پائیدار حل تلاش کرنا پیچیدہ اورغیریقینی سی صورتحال ہے،ان سیکورٹی خدشات کو حل کرنے کے لئے کثیر الجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے،

  • فرانس کے افریقہ کے ساتھ ناکام تعلقات

    فرانس کے افریقہ کے ساتھ ناکام تعلقات

    فرانس انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دائرے کار میں، برکینا فاسو اور مالی کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کو مزید آگے بڑھا رہا ہے، جس کی وجہ سے حال ہی میں دونوں ممالک سے فرانسیسی فوجیوں کا انخلا ہوا۔ بہت سے لوگوں نے فرانس کی جانب سے اپنی سابق کالونیوں پر دباؤ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔
    جنوری 2023 میں، برکینا فاسو نے اس معاہدے کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا جس کے ذریعہ فرانسیسی فوجیوں کو اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گرد گروہوں سے لڑنے کی اجازت دی تھی۔ ویگنر گروپ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے، جو کہ ایک روسی نجی ملٹری کمپنی ہے، جس کے روسی حکومت سے تعلقات ہیں، فرانس کے ساتھ معاہدے کی تحلیل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

    مالی میں ویگنر گروپ کی کارروائی، سوڈان اور وسطی افریقی جمہوریہ میں اس کے پہلے کی کارروائیوں کی عکاسی کرتی ہے، جو افریقی ریاستوں کے لیے تیار کردہ اسٹریٹجک منصوبہ کو ظاہر کرتی ہیں۔ روس، ویگنر گروپ کے ساتھ، پسندیدگی حاصل کر رہا تھا کیونکہ فرانسیسی فوج مطلوبہ رفتار سے انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے جدوجہد میں ناکام رہی۔ نئے شراکت داروں کی تلاش کی خواہش باہمی احترام پر مبنی تعلقات کو فروغ دینے کے بجائے، اپنی سابقہ کالونیوں کے تئیں فرانس کے سمجھے جانے والے تکبر سے پیدا ہوئی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ فوجی مدد حاصل کرنے اور سونے کی کانوں جیسے قیمتی وسائل پر کنٹرول دینے کا عمل منفرد نہیں ہے، کیونکہ یہ فرانس سمیت دیگر بین الاقوامی کھلاڑیوں کے اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔
    آج چین افریقی ممالک کے اقتصادی اور تجارتی منظرنامے میں ایک غالب قوت کے طور پر ابھر چکا ہے۔ تاہم، چین کی شمولیت کے حوالے سے سوالات باقی ہیں، جن میں "قرضوں میں پھنسی معیشتوں” کی ممکنہ تخلیق کے بارے میں خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
    افریقی ریاستیں اپنی مخلوط معیشتوں پر فخر کرتی ہیں، اور انہیں کڑی مشکلات کا سامنا ہے، پھر بھی 2023-24 میں ان کی متوقع ترقی کے بارے میں پرامید ہے، جو دنیا کی دوسری تیز ترین شرح شمار ہوتی ہے۔ ایک امید افزا اشارہ، ملازمت کی تخلیق میں اضافہ، پیداوار میں اضافہ، نئی صنعتوں کا ابھرنا، اور صارفین کی قوت خرید میں اضافہ ہے۔ مثلا، جنوبی افریقہ نے 2023 میں ختم ہونے والے مالی سال کے دوران 784,000 ملازمتوں (5.0%) میں قابل ذکر اضافہ کیا۔ان پیش رفتوں کی روشنی میں، افریقہ تیزی سے عالمی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے