Baaghi TV

Tag: یاسمین آفتاب علی

  • پاکستانیوں کی احساس زمہ داری کہاں گئی؟

    پاکستانیوں کی احساس زمہ داری کہاں گئی؟

    پاکستانیوں کی احساس زمہ داری کہاں گئی؟

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونیوالے واقعات میں عوام میں احساس کی نمایاں کمی دیکھی گئی، احتجاج میں شریک افراد نے انتہائی لاپرواہی کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا، سرکاری عمارتوں، ایمبولینس گاڑیوں، پولیس کی گاڑیوں اور نجی و سرکاری املاک کو تباہ کیا گیا جن کی ویڈیو بھی سامنے آ رہی ہیں، دکانوں میں توڑ پھوڑ کے ساتھ لوٹ مار بھی کی گئی

    پرامن احتجاج کا حق سب کو حاصل اور کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ عام شہریوں کے معمولات زندگی متاثر نہیں ہونے چاہئے، بدقسمتی سے عمران خان کی گرفتاری کے بعد ہونیوالے احتجاج میں بہت تباہی ہوئی، پولیس کی 26 گاڑیاں، سات سرکاری عمارتیں ، 10 نجی املاک میں توڑ پھوڑ کی گئی، پاکستان کی مسلح افواج کی املاک کو بھی نشانہ بنایا گیا، کور کمانڈر ہاؤس لاہور جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی رہائش گاہ تھی اور اسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے کو بھی نشانہ بنایا، راولپنڈی میں جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا، لاہور کی تحصیل ماڈل ٹاؤن میں عسکری ٹاور کو نقصان پہنچایا گیا، اس ہنگامہ آرائی ے دوران دس اموات بھی ہوئیں جوکہ افسوسناک امر ہے

    اسی احتجاج کے دوران ایک اور افسوسناک واقعہ ہوا، تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہرین نے میانوالی ایئر بیس پر "دی لٹل ڈریگن” طیارے کو آگ لگائی، یہ طیارہ ایئر کموڈور ایم ایم عالم کا تھا، جنہوں نے 1965 کی جنگ میں ایک منٹ میں چھ بھارتی طیاروں کو مار گرایا تھا اور اس پر انہیں ستارہ جرات دیا گیا تھا، مظاہرین کی جانب سے ایسا کرنے پر ہمارے قومی ورثے کو نہ صرف داغدار کیا گیا بلکہ فوج کے خلاف نفرت کو بھی ہوا دی گئی

    مظاہرین نے لاہور میں جو کچھ کیا، اگر خدانخواستہ اسکے جواب میں کور کمانڈر لاہور مظاہرین کی جانب سے کئے حملے کا جواب دینے کا حکم دیتے تو اسکے تباہ کن نتائج ہو سکتے تھے جو ممکنہ طور پر 1971 کی یاد تازہ کر دیتے، اس سے ہمارے رہنماؤں کی سوچ بارے سوال اٹھتا ہے

    دوسری طرف لوگوں کو صرف اس لئے گرفتار کرنا کہ انکا تحریک انصاف کے ساتھ تعلق ہے یہ ان لوگوں کو جواز دے دے گا جو اس قسم کی تخریب کاری میں شامل ہوتے ہیں یا حمایت کرتے ہیں،

    ہم میں سے ہر ایک کو پاکستان کے موجودہ حالات کا جائزہ لینا چاہئے، تباہی پھیلانا اور نقصان کرنا یہ صرف ایک ایسے معاشرے کو دکھا رہا ہے جو جنگل کے قانون کی حمایت اور پیروی کرتا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں بد نام زمانہ کردار گلو بٹ جیسے افراد کا اثر ہوتا جا رہا ہے،

    آخر کار ،ہم سب کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ ہم زمہ داری کے ساتھ چلیں گے یا اسے نظر انداز کر دیں گے ،ہم یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ قانون کی پاسداری کریں اور آپس کے معاملات میں تہزیب کے دائرے میں رہیں یا ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اس کے برعکس کریں

  • عمران خان کی گرفتاری

    عمران خان کی گرفتاری

    عمران خان کی گرفتاری
    سابق وزیراعظم عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں عدالت پیشی کے دوران گرفتار کر لیا گیا، عمران خان پر انکی حکومت کے عرصے کے دوران 2018 سے 2022 تک سرکاری تحائف کی فروخت کرنے کا الزام تھا، عمران خان کی گرفتاری غیر متوقع نہیں تھی تا ہم اسکے بعد تباہی دیکھنے کو ملی، تحریک انصاف کے کارکنان اور حامی سڑکوں پر نکلے ، دو چیزیں سامنے آئیں، ایک ، تحریک انصاف کی اول درجے اور دوم درجے کی قیادت اور رہنما عمران خان کی گرفتاری کے بعد سڑکوں پر احتجاج میں نظر نہیں آئے تھے، دوم،نام نہاد برگر کراؤڈ بھی اس احتجاج میں نظر نہیں آیا، عمران خان کی گرفتاری کے بعد جو احتجاج ہوا اس میں جوش و جزبہ بھی دیکھنے میں نہیں آیا،

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے کئی شہروں میں ہنگامہ آرائی کے بعد حکومت نے موبائل فون نیٹ ورک کو بند کر دیا تا کہ رابطے نہ ہو سکیں، کئی شہروں میں ٹی وی کی نشریات بھی معطل کی گئیں، اسکے بعد آڈیو لیکس سامنے آنا شروع ہو گئیں، آڈیو لیکس میں ہونیوالی گفتگو سن کر یہ طے کرنا مشکل نہیں کہ اس ہنگامہ آرائی اور احتجاج کی کون ہدایات دیتا رہا، آڈیو لیک کی گفتگو میں لاہور میں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف بڑھنے کی ہدایات دی گئیں، تحریک انصاف کے رہنما، سینیٹر اعجاز چودھری اور انکے بیٹے علی چودھری کی مبینہ آڈیو لیک ہوئی ، ڈاکٹر یاسمین راشد اور اعجاز منہاس کی بھی آڈیو لیک ہوئی، دو اور بھی آڈیوز سامنے آئیں، جن میں ملک کے مفادات کے خلاف منصوبہ بندی کے ثبوت ملے،

    اختلافات سیاست کا فطری حصہ ہیں تا ہم اختلافات کو ختم کرنے اور آگے بڑھنے کا واحد حل بات چیت، مزاکرات ہیں ، لیکن بدقسمتی سے عمران خان کسی بھی قسم کی بات چیت کرنے کو تیار نہیں تھے، اداروں، افراد اور حتیٰ کہ اقوام (جیسے امریکہ) پر الزام لگانے کا ان کا رجحان اس بات کی مثال ہے کہ سیاست میں کیا نہیں کرنا چاہیے۔ ڈپلومیسی ایک فن ہے، اور اگر کوئی پارٹی رہنما اپنی پارٹی اور اپنی قوم کے مفادات کو ملکی سطح پر محفوظ رکھنے کے لیے سفارت کاری کا استعمال نہیں کر سکتا تو عالمی سطح پر پاکستان کے مفادات کی نمائندگی کرنے کی صلاحیت کے حوالہ سے ان پر کوئی بھی سوال اٹھا سکتا ہے

    دنیا بھر کے رہنماؤں کو گرفتار کیا جاتا ہے اور انہیں اکثر قید یا طویل مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ اپنے کارکنان کو عوامی املاک کو تباہ کرنے یا ریاست کے ساتھ تنازعات میں ملوث ہونے پر اکساتے نہیں قیادت خود ایسے واقعات سے دور رہتی ہے ،عمران خان نیب کے پاس جسمانی ریمانڈ پر ہیں، انکے ریمانڈ میں توسیع ہو سکتی ہے یا انہیں جوڈیشل ریمانڈ میں جیل بھجوایا جا سکتا ہے، جس کے بعد انکئ ضمانت کی درخواست بھی دائر کی جا سکتی ہے، تحریک انصاف کے رہنما فواد کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، مزید کئی گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں،ایسی صورتحال میں تحریک انصاف کے اندر اقتدار کی کشمکش ناگزیر ہو جاتی ہے ،کیونکہ پارٹی طے کرتی ہے کہ اب پارٹی قیادت کون کرے گا، اب حساب کا وقت آ گیا ہے

  • بلاول بھٹو زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کرکے کیا حاصل کیا؟

    بلاول بھٹو زرداری نے شنگھائی تعاون تنظیم میں شرکت کرکے کیا حاصل کیا؟

    حالیہ دنوں بھارت کے شہر گوا میں شنگھائی تعاون تنظیم میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی شرکت کو پاکستان میں بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ مخالفین کے مطابق بلاول کو بھارت جاکر شرکت نہیں کرنی چاہئے تھی۔

    تاہم واضح رہے کہ جن لوگوں نے بلاول کی اس شرکت کو منفی رنگ دیا یا اس پر اعتراض کیا وہ یا تو مخالفت میں اندھے ہوچکے یا پھر حقائق سے نابلد ہیں کیونکہ وزیر خارجہ کا بھارت جاکر شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کرنے کا مقصد انڈیا کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کرنا نہیں تھا بلکہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے نمائندوں سے ملاقاتیں اور اہم امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

    خیال رہے کہ اس اجلاس کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات پر بلاول بھٹو زرداری اور جے شنکر کے درمیان کوئی دو طرفہ بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی ایسی کسی قسم کی کوئی ملاقات ہوئی ، بھارت نہ چاہتا تھا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اس فورم میں پاکستان کے وزیر خارجہ کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت، سی پیک اور دہشت گردی کے بارے میں بات چیت ہو یا وہ اس میں شامل ہوں۔

    لیکن پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اس فورم میں شرکت کرکے ان تمام مسائل کی طرف شرکاء کی ناصرف توجہ مبذول کروائی بلکہ اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا۔ اور ان مسائل کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں اجاگر کرکے بلاول نے بہت اچھا کیا ہے جس پر انہیں سراہا جارہا ہے۔

    جنوبی ایشیائی امور کے ماہر امریکی صحافی مائیکل کوگلمین کے مطابق، بلاول بھٹو زرداری نے وہ کام سرانجام دیا جو اسلام آباد چاہتا تھا، بھارت کے علاوہ ایس سی او اجلاس میں شرکت کے علاوہ ایس سی او کے تمام ارکان کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں جو انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور یہ اس خطہ کے امن کیلئے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے۔

    علاوہ ازیں یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ دونوں ممالک یعنی بھارت اور پاکستان اس وقت ایک دوسرے کے ساتھ کسی قسم کی کشیدگی بڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں جبکہ بھارت اس خطے میں اپنا سب سے بڑا حریف چین کو سمجھتا ہے ناکہ پاکستان کو لہذا وہ اب پاکستان کے ساتھ اب گٹھ جوڑ کرنے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتا ہے کیونکہ وہ اپنے لیئے سب بڑا خطرہ پاکستان کے بجائے چین کو سمجھتا ہے۔

    تاہم دوسری جانب پاکستان بھی اندرونی طور پر مختلف مسائل سے نمٹ رہا ہے جیسے حالیہ آئینی بحران سمیت معاشی بحران جبکہ مہنگائی اور سیاسی انتشار اور نفرت عروج پر ہے ،

    حقانی نے ایک بیان میں درست نکتہ اٹھایا کہ گوا میں ہونے والے اجلاس سے یہ امید نظر آتی ہے کہ اس سے مثبت بات چیت کی طرف راہ ہموار ہوگی۔

    یاد رہے کہ علاقائی استحکام کے حصول کے لیے پاکستان کو بھارت سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ بہترین تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ دونوں فریقین کو آگے بڑھ پہل کرکے اپنے تمام تر شکوک و شبہات اور خدشات کو دور کرنے کیلئے میز پر بیٹھنا چاہئے اور اس کیلئے کمیٹیاں بنانی چاہئے جو ایک میز پر بیٹھ کر دونوں طرف کے خدشات دور کریں۔

    ای اے بکیانیری نے کہا تھا کہ مسائل ایک دروازہ کی طرح ہوتے ہیں لہذا آپ کو اس کے اندر سے گزرنا پڑے گا لیکن اگر آپ آگے نہیں بڑھتے تو پھر دیوار کے ساتھ ٹکرانے کیلئے تیار ہوجائیں۔

  • قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد  کیوں ضروری ؟

    قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد کیوں ضروری ؟

    قومی اور صوبائی انتخابات کا بیک وقت انعقاد کیوں ضروری ؟

    ابراہم لنکن نے کہا تھا "انتخابات کا تعلق عوام سے اور یہ ان کا فیصلہ ہے، اور اگر وہ آج کسی غلط انسان کا انتخاب کرتے ہیں تو کل کو انہیں ہی سب کچھ بھگتنا پڑے گا کیونکہ انہوں نے یہ فیصلہ خود کیا تھا.” انتخابات میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان میں انتخابات کے انعقاد کو عملی طور پر شفاف رکھنا ہوگا۔ جبکہ ریاست میں انتخابات سے قبل وفاقی اور صوبائی دونوں میں نگران حکومتوں کے قیام کیلئے آئین میں دفعات موجود ہیں تاکہ انتخابات کو یقینی طور پر شفاف بنایا جا سکے اگر دو جگہوں پر الیکشن ہو گئے اور پھر اگلی قسط میں د ونگران حکومتوں کے دور میں ہوئے اور وفاقی حکومت میں، تو پھر صوبائی حکومتیں وفاقی الیکشن میں سرکاری مشنری کا غلط استعمال کر سکتی ہیں

    اگر عمران خان کی خواہش کے مطابق پنجاب اورخیبر پختونخواہ میں الیکشن ہوتے ہیں تو وفاقی حکومت تو اپنی جگہ پر قائم رہے گی دو صوبوں میں نگران حکومتیں ہیں الیکشن ہوں گے اور پھر شکست کھانے والی جماعتوں کی طرف سے حکومت پر دھاندلی کا الزام لگایا جائے گا اور الزام تراشی ہوگی جبکہ بعدازاں یہ بھی الزام عائد ہونے کا خطرہ ہے کہ حکومتی مشینری کو حکمران جماعت کے حق میں استعمال کیا گیا ہے.

    تاہم خیال رہے کہ یہ اقدام آئین کے آرٹیکل 224 اور 224-A سے بھی متصادم ہوگا جو اسمبلی کی تحلیل کی صورت میں نگراں حکومتوں کی تقرری کا خاکہ پیش کرتا ہے۔ لہذا آئین کو ایک کھلونا نہ سمجھا جائے اور نہ ہی اسے محض اپنے سیاسی مفادات کی خاطر نظرانداز کردیا جائے. لہذا میری رائے میں مناسب یہ ہوگا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کروائے جائیں تاکہ بار بار انتخابات یعنی ڈبل الیکشن یا علیحدہ علیحدہ انتخابات پر وسائل کا ضیاع نہ ہو. اور تمام سیاسی جماعتوں کو برابری کی سطح پر الیکشن کے میدان میں اترنے کا موقع دیا جائے جبکہ سیاسی وفاقی حکومت کے صوبہ میں انتخابات پر اثر انداز ہونے کے امکانات یعنی ریاستی مشینری کے استعمال کے امکانات کو بھی دور کیا جاسکتا ہے.

  • پاکستان میں ماحولیاتی قوانین کی اشد ضرورت کیوں؟

    پاکستان میں ماحولیاتی قوانین کی اشد ضرورت کیوں؟

    پاکستان کو اس وقت شدیدترین ماحولیاتی مشکلات کا سامنا ہے اور اس کی سب سے اہم وجہ جنگلات کی کٹائی، آبی آلودگی، فضائی آلودگی اور زمینی آلودگی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ جبکہ جنگلات کی کٹائی نہ صرف گلوبل وارمنگ کیلئے اہم کردار ہے بلکہ یہ کٹاؤ ساحلی سیلاب کا باعث بھی بنتتا ہے جس سے نہ صرف پودوں کو ختم کیا جاتا ہے بلکہ اس کے ساتھ چرند، پرند اور جانوروں کے گھر بھی تباہ ہوتے ہیں.

    اگر ہم صحت کے حوالے سے اس کا جائزہ لیں تو درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتے ہیں اورآکسیجن فراہم کرتے ہیں جبکہ دوران سیلاب تیز پانی کے بہاؤ کو بھی روکتے ہیں علاوہ ازیں پاکستان جیسے ملک میں تو درختوں کا ہونا اس لئے بھی انتہائی ضروری ہے کہ موسمی حالات کے بدلتے وقت جیسے سردیوں میں لوگ خود کو گرم رکھنے اور کھانا وغیرہ پکانے یعنی آگ کیلئے لکڑی کا استعمال کرتے ہیں کیونکہ پاکستان میں بڑے شہروں کے علاوہ گیس کی سہولت میسر نہیں ہے.

    دوسری جانب ہمارے ملک میں آبی آلودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ بہت سارا کیمیائی فضلہ (کچرا) پانی میں پھینکا جاتا ہے جس سے زہریلے مادے بھی پیدا ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی استعمال کے قابل نہیں رہتا ہے جبکہ اس میں کارخانوں میں استعمال کے بعد پیدا ہونے والا کچرا، اور ناقص سیوریج سسٹم بھی آبی آلودگی کا باعث بنتے ہیں،

    صوبہ پنجاب کا دارالخلافہ لاہور جو بہت بڑا شہر ہے اور سردیوں کے موسم میں اسے سموگ کا سامنا رہتا ہے ، اس سے علم ہوتا ہے کہ یہاں فضائی آلودگی کا مسئلہ ہے، علاوہ ازیں گاڑیوں میں اضافہ کے سبب دھواں، ایندھن نیز کارخانوں اور کاروں سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی کی اہم وجوہات ہیں ،تاہم واضح رہے کہ زمین کی آلودگی بھی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے غلط نظام کے سبب زمین کے کھلے پلاٹوں میں کچرا پڑا رہتا ہے جس سے نہ صرف ناگوار بدبو، بیماریاں اور آلودگی پھیلتی ہے بلکہ ماحول بھی گندہ ہوتا ہے اور حکومت کا صرف پلاسٹک بیگز پر پابندی لگانے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ کوئی جامع حکمت عملی بنانی ہوگی.

    اس موسمیاتی تبدیلی نے تباہ کن سیلاب بھی لائے جس سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں ، سیلاب زمینیوں سمیت زرعی کھیتوں کو تباہ کرتے ہیں، اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے گلوبل انفارمیشن اینڈ ارلی وارننگ سسٹم کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان ایل نینو سمندری رجحان کی وجہ سے زیادہ بارشوں کے خطرے سے دوچار 20 ممالک میں شامل ہے۔ (ڈان نیوز)

    پاکستان کو ان ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر جامع پالیسیاں اور قوانین بنانے کی اشد ضرورت ہے، ماحولیاتی تحفظ کے قوانین اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں کہ افراد، کارپوریشنز اوراداروں کو انکی وجہ سے ماحول کو پہنچنے والے نقصان کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے،حکومت کو ان مسائل کو حل کرنے موثر پالیسیاں بنانے اور ان پرعمل درآمد کرنے میں آگے بڑھنا چاہئے تا کہ پاکستان کا مستقبل پائیدار ہو.

  • روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    روس سے تیل برآمد کرنے پر پاکستانی معیشت پر اثرات

    پاکستان کو جلد ہی روس سے ملاوٹ شدہ تیل کی پہلی کھیپ موصول ہونے والی ہے جو اس کی توانائی کی ضروریات کو جزوی طور پر پورا کرے گی۔ کیونکہ پاکستان کے پاس خام تیل کو ملاوٹ شدہ تیل میں ریفائن کرنے کی ٹیکنالوجی کا فقدان ہے، اور روس نے تیل برآمد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روس نے چینی یوآن، یو اے ای درہم اور روسی روبل میں ادائیگی قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی جو کہ امریکی ڈالر کے معمول کے لین دین سے ہٹ کر ہے.

    تاہم واضح رہے کہ یہ درآمدگی مستقبل میں کم نرخوں پر خریداری کے لیے پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے وسیع البنیاد نقطہ نظر کے دروازے کھول سکتی ہے۔ یہ پاکستان کو امریکی ڈالر کے علاوہ کرنسی استعمال کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے جو کہ پاکستان کی نقدی کی تنگی کی صورتحال کے پیش نظر ایک راحت کی سانس ہے۔ ادائیگی کے ماڈیول سے الگ ہونے والا یہ واحد قدم پاکستان کے لیے لائف لائن ہے۔ اور پھر امریکہ کی طرف سے کوئی اعتراض کرنے کا امکان بھی نہیں ہے.

    حالانکہ بڑی حد تک اس حقیقت کی وجہ سے کہہ بہت سے ممالک نے روس پر امریکی سپانسر شدہ پابندیوں سے خود کو دور کر لیا ہےاور یہ سمجھتے ہوئے کہ مستقبل قریب میں انہیں بھی اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ماسکو پر انحصار کرنا پڑے گا. اور پالیسی سازوں کو قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی کی عجلت کو تسلیم کرنا چاہیے۔

    2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بجلی کی طلب گرمیوں میں 28,000 میگاواٹ تک پہنچ جاتی ہے جس سے سپلائی کا فرق 4,000 سے 6,000 میگاواٹ رہ جاتا ہے۔ سردیوں میں طلب اور رسد کا فرق 8,000 میگاواٹ ہوتا ہے۔ لہذا اسی لیے توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صرف پیٹرولیم سے متعلقہ مصنوعات پر انحصار طویل مدت میں غیر پائیدار ہے۔

    مزید برآں پٹرولیم سے متعلقہ مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں جس کے نتیجہ میں تمام اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے، اور پھر اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے حکومت خود کی ذمہ داری سے بچنے کیلئے خود کوہی شکست دینے والا طریقہ ہے اختیار کرتی ہے۔ لہذا پالیسی سازوں کو قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ تیل کی درآمدات پر ملک کا انحصار کم ہو اور پائیدار ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    برطانوی وزیرداخلہ کا پاکستانیوں کو جنسی زیادتی کا مجرم کہنا حقیقت کے خلاف ہے،برٹش جج

  • کیا پاکستان کی قدر بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوئی؟

    کیا پاکستان کی قدر بین الاقوامی سطح پر متاثر ہوئی؟

    جب طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے خوشی سے نعرہ لگاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’طالبان نے مغربی حمایت یافتہ افغان حکومت کا تختہ الٹ کر ’’غلامی کا طوق‘‘ توڑ دیا ہے۔ (13 جنوری 2022 ریڈیو فری یورپ) تاہم پاکستان کے لیے اس واقعے کے اثرات زیادہ تر لوگوں کو پوری طرح سے سمجھ میں نہیں آ پائے۔

    مشرق وسطی میں نئی ​​پیش رفت یہ ہوئی کہ سب سے پہلے سعودی عرب کا ایران کے ساتھ سفارتی رابطہ بشکریہ چین اور پھر ان کا شام کے ساتھ دوبارہ روابط بشکریہ روس ہوا لہذا دونوں مفاہمتی معاہدے ایک گیم چینجر ہیں۔ اگرچہ پاکستان سعودی عرب اور ایران کے درمیان ہونے والی سفارتی تعلقات کی بحالی کا بالواسطہ فائدہ اٹھانے والا ہے لیکن یہ دونوں پیش رفت پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا منفی اثر لے کر آئی جسے زیادہ تر تجزیہ نگار سمجھنے سے قاصر رہے.

    خیال رہے کہ ملٹی پولر ورلڈ آرڈر آچکا جس کا پاکستان کے لیے مطلب ہے کہ مشرقی محور اب موجود نہیں ہے۔ پاکستان کو جغرافیائی طور پر تزویراتی طور پر رکھا جا سکتا ہے تاہم ریکارڈ رفتار سے ہونے والی زبردست پیش رفت نے اقوام کی ترجیحات اور مفادات کو تبدیل کر دیا ہے۔

    تاہم اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا بڑی نوعیت کے مسائل کی طرف بڑھ گئی ہے لہذا مشرقی محور کو مشرق وسطیٰ کے محور نے پیچھے چھوڑ دیا ہے جبکہ پاکستان اور افغانستان اب دنیا کی دلچسپی کا مرکز نہیں رہے۔ پاکستان کو اس بات کو سمجھنے اور واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو دوبارہ درست کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اب ہم نے ان کا اسٹریٹجک مفاد کھو دیا ہے۔

    اب موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں جو چیز محض مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے وہ پی ٹی آئی کی بنیادی زمینی حقائق کے سے لاعلمی یا لاتعلقی ہے کیونکہ انہوں‌نے ایک PR فرم کو $25,000 فی ماہ پر ہائیر کرنا اور بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ اپنے الگ تھلگ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا کچھ بھی ڈلیور نہیں کرے گا. ادھر بریڈ شرمین نے سیکرٹری آف اسٹیٹ بلنکن کو ایک خط لکھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے مبینہ "سیاسی نشانہ بنانے کے عمل” سے متعلق کہا گیا.

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

    یہ بھی واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی ہائیر کردہ پی آر فرم صرف اتنا کر سکتی ہے بین الاقوامی توجہ یعنی ایک قوم کی حکمت عملی، دوسرے ملک کی حرکات بارے میں ان کی سمجھ، پارٹیوں اور رہنماؤںسمیت دیگر کام میں تبدیل کرنا اور امریکہ میں پاکستان مخالف لوبینگ کرنا ہے جبکہ میرا زاتی خیال ہے کہ وہ اس وقت یا مستقبل قریب میں پاکستان میں اپنی توانائیاں ضائع کرنے میں دلچسپی نہیں رکھیں گے خاص طور پر عمران خان کے معاملے میں جنہوں نے ماضی قریب میں یہ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کہ واشنگٹن ان کی حکومت گرانے کی سازش میں ملوث تھا لیکن یہ یاد رکھیں کہ امریکہ اس وقت تک بالکل مداخلت نہیں کرے گا جب تک کہ ان کے اپنے مفادات شامل نہ ہوں۔

  • شام اور سعودی عرب؛ سفارتی تعلقات کی بحالی کے اثرات

    شام اور سعودی عرب؛ سفارتی تعلقات کی بحالی کے اثرات

    شام اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی روس کے لیے ایک قابل ذکر جیت ہے لیکن یہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان چین کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے جبکہ ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کی پالیسی نے سفارتی اڈے کو وسعت دینے کی طرف مائل کیا ہے جو اب تک امریکہ تک محدود تھا، جہاں تک سپر پاورز کی بات ہے وہ روس اور چین دونوں کو اپنے دائرہ کار میں شامل کرنے کی سرشار کوشش ہے۔ تاہم شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کا فیصلہ بیجنگ کے قریب آنے کا واضح اقدام ہے۔

    صدر بائیڈن نے 2022 میں اپنے دورہ ریاض کے دوران ولی عہد کو ماسکو اور ریاض کے قریب جانے سے بچنے کے لیے اپنی رائے سے آگاہ کیا تھا تاہم یقینی طور پر واشنگٹن مندرجہ بالا پیش رفت پر خوش نہیں ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اہم سوال یہ ہوگا کہ کاموں میں اسپینر پھینکنے کے لیے امریکہ کتنا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے؟ لیکن دوسری طرف واشنگٹن اسے ایک مثبت پیشرفت کے طور پر دیکھ سکتا ہے:

    جبکہ عرب ریاستوں کو امریکہ کے ساتھ دوستانہ بنیادوں پر استوار کرنا اور دمشق کے ساتھ مضبوط قدم جمانا۔ شام میں امریکی افواج کے دستے کے پس منظر اور شام اور ایران کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں کے درمیان جاری جھڑپوں کے پیش نظر، اسد کی حکومت کے ساتھ رابطے کا راستہ کھولنے کے لیے یہ یقینی طور پر مفید ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ بشار الاسد کی حکومت ایک حقیقت ہے.

    تاہم ریاض کو یہ سوال ضرور حل کرنا چاہیے کہ شام میں سفارت خانہ کھولنا امریکہ کی جانب سے شام کے خلاف عائد کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی نہیں لیکن ریاض اس مقام سے دمشق کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے کیسے آگے بڑھے گا؟ اسے احتیاط سے آگے بڑھنا ہو گا واشنگٹن کے لیے اسے لیٹا جانا مشکل ہو سکتا ہے جسے روس اور چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو جگہ دینے کے طور پر دیکھا جائے گا۔ یہ امریکہ کے دوست عرب ممالک پر پابندیاں نہیں لگا سکتا تاہم جنگ زدہ شام پر واشنگٹن کے ایسا ہی کرنے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے.

    علاوہ ازیں آگے بڑھنے کے طریقہ سے متعلق ریاض کا فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھے گا کہ ایران کے ساتھ اس کے تعلقات کیسے بڑھتے ہیں اور یمن میں جنگ بندی جاری ہے یا نہیں؟ لہذا اگر دونوں پیش رفت مثبت رہیں تو واشنگٹن پر ریاض کا انحصار کم ہو جائے گا لیکن جہاں تک بات امریکی سلامتی کی ضمانتوں کا تعلق ہے تو وہ جیسا کہ عالمی طاقت کی حرکیات میں تبدیلی آرہی ہے وہ مشرقِ وسطیٰ ایک بلبلا کڑھائی ہے جو ان علاقوں میں نئے کھلاڑی قائم کرے گا جنہیں اب تک امریکی اثر و رسوخ کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔