Baaghi TV

Tag: یحییٰ آفریدی

  • چیف جسٹس حج پر روانہ، جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھالیا

    چیف جسٹس حج پر روانہ، جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھالیا

    اسلام آباد: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی جمعہ کی صبح حج پر روانہ ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی عید کے چوتھے روز وطن واپس آئیں گے، جسٹس منیب اختر نے قائمقام چیف جسٹس پاکستان کا حلف اٹھا لیا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے اُن سے حلف لیا۔

    حلف برداری کی تقریب سپریم کورٹ اسلام آباد میں ہوئی جس میں سپریم کورٹ کے ججز، اٹارنی جنرل آفس کے افسران اور سینئر وکلا نے شرکت کی، جسٹس منیب اختر 6 جون تک بطور قائمقام چیف جسٹس فرائض سر انجام دیں گے، 6 جون سے 10 جون تک جسٹس منصور علی شاہ بطور قائمقام چیف جسٹس فرائض سر انجام دیں گے۔

    پاکستان کا افغانستان میں سفیر تعینات کرنے کا فیصلہ

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ خان آفریدی 10 جون کو پاکستان واپس آئیں گے، جسٹس منیب اختر سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہیں، سینیئر جج جسٹس منصور علی شاہ بھی بیرون ملک ہیں۔

    منشیات فروش گروہ نے 5 موسیقاروں کو قتل کردیا

  • 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے،جسٹس منصور کا خط

    26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے،جسٹس منصور کا خط

    سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا،

    جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف درخواستوں پر فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔جسٹس منصورعلی شاہ نے خط26 آئینی ترمیم درخواستوں پر سماعت کیلئے تحریر کیا اور کہا کہ چیف جسٹس یحیی آفریدی 26 آئینی ترمیم کیخلاف درخواستوں پر سماعت کیلئے فل کورٹ تشکیل دیں۔چیف جسٹس چیف جسٹس آفریدی رجسٹرار سپریم کورٹ کو درخواستیں سماعت کیلئے لگانے کا حکم دیں،خط میں کہا گیا ہے کہ آئینی عدالتوں کے ججز کی تقرری کے لیے جو کمیشن بنایا گیا ہے، اس کے فیصلے میں کسی واضح معیار اور طریقہ کار کا فقدان ہے۔ ججز کی تقرری کا عمل صرف "ایگزیکٹو کی ووٹنگ طاقت” کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، جو کہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کمیشن کو دی گئی ہے۔ ا ان تقرریوں کا کوئی معقول جواز نہیں ہے اور کمیشن کی میٹنگز کے منٹس عوام کے سامنے نہیں لائے جا رہے ہیں، جو کہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں مزید کہا کہ کمیشن کا اصل مقصد آئینی عدالتوں کے ججز کی تقرری ہے، جو کہ عوامی اہمیت کا حامل معاملہ ہے۔ تاہم، ان تقرریوں کے متعلق میٹنگز کے منٹس کو عوام کے ساتھ شیئر نہ کرنا آئین کے آرٹیکل 19 اے کی خلاف ورزی ہے، جو ہر شہری کو عوامی اہمیت کے معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں کہا کہ عدلیہ میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے معلومات تک رسائی کی آزادی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے فیصلوں کے بارے میں معلومات کا شائع نہ کرنا عوام میں مشکوک اندازوں کو جنم دیتا ہے اور عدلیہ کی اہلیت اور میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں کا یقین نہیں ہوتا۔ شفاف طریقے سے تقرریوں کی اطلاعات دینا عدلیہ کی ساکھ کو بہتر بنانے اور ججز کو اپنے فیصلوں میں آزادی اور ایمانداری کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دیتا ہے، جو کہ جمہوریت کے بنیادی ستون کو مضبوط کرنے کے لیے ضروری ہے۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو لکھے گئے خط میں درخواست کی ہے کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ کو اجلاس طلب کیا جائے تاکہ 26ویں آئینی ترمیم پر زیر التوا درخواستوں کی سماعت کی جا سکے۔ انہوں نے مزید درخواست کی کہ پاکستان کے نئے عدالتی کمیشن کا اجلاس اس وقت تک ملتوی کر دیا جائے جب تک وہ درخواستیں فل کورٹ کے سامنے نہیں آ جاتیں، اور کمیشن اپنے طریقہ کار کے اصول آئین کے آرٹیکل 175 اے (4) کے تحت وضع نہیں کرتا۔عدالتی کمیشن کے فیصلوں کی شفافیت اور معلومات تک رسائی کا حق ہر پاکستانی کا آئینی حق ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔”

    خط میں کہا گیا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کی گئی تھی،26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دو درجن سے زائد درخواستیں زیر التوا ہیں26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواستیں منظور بھی ہو سکتی ہیں اور مسترد بھی 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست منظور ہوتی ہیں تو جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کی وقت ختم ہو جائے گی ایسی صورتحال ادارے اور ممبران کے لیے شرمندگی کا باعث بنے گی،

  • چیف جسٹس نےتین ریسرچرز کو دوبارہ سپریم کورٹ بلا لیا

    چیف جسٹس نےتین ریسرچرز کو دوبارہ سپریم کورٹ بلا لیا

    چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے تین ریسرچرز کو دوبارہ سپریم کورٹ واپس بلا لیا ہے

    ان ریسرچرز میں سینئر سول جج ظفر اقبال، سول جج حسن ریاض، اور سول جج وقاص علی مظہر شامل ہیں۔ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ان کی ڈیپوٹیشن کے اختتام پر انہیں لاہور ہائی کورٹ بھیج دیا تھا۔ان ریسرچرز میں سے ایک ریسرچر جسٹس منصور علی شاہ کی ٹیم کا حصہ تھے۔اب دوبارہ انہیں سپریم کورٹ میں واپس بلایا گیا ہے،

    چند روز قبل چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے نئے سیکریٹری اور ایگزیکٹو آفیسر کی تعیناتی کی تھی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، سینئر پرائیویٹ سیکریٹری محمد یاسین گریڈ 21 میں چیف جسٹس کے سیکریٹری تعینات ہوئے ہیں، جبکہ سینئر پرائیویٹ سیکریٹری محمد عارف گریڈ 20 میں چیف جسٹس کے ایگزیکٹو آفیسر بنے ہیں۔

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    نئے چیف جسٹس یحی آفریدی نے پہلا انتظامی حکم جاری کر دیا

  • ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں اراضی تنازع کیس کی سماعت ہوئی،
    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کی، اس دوران کیسز کو طویل عرصہ لگنے سے متعلق چیف جسٹس یحیٰیٰ آفریدی نے ریمارکس دیئے ہیں،عدالت میں درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ تحریری حکم میں ہمیں متعلقہ فورم سے رجوع کی ہدایت کر دے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے خلاف ایک اپیل سن رہا تھا، وکیل نے استدعا کی کہ سپریم کورٹ متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت جاری کرے،حکم میں ایسا کچھ نہیں لکھیں گے جس سے دوبارہ سول کورٹ میں کیس شروع ہو جائے، کبھی کبھی سپریم کورٹ کے 1 جملہ لکھنے سے 18، 18سال کیسز چلتے رہتے ہیں، جسٹس شاہد بلال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے لکھے بغیر بھی متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتے ہیں،سپریم کورٹ نے متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔

    چیف جسٹس کے دفتر میں اہم افسران تعینات

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا پہلا دن،سوا گھنٹے میں 24 مقدموں کی سماعت

    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے نماز کے دوران تصویر بنانے پر ایس پی سیکیورٹی کا تبادلہ کر دیا

    نئے چیف جسٹس یحی آفریدی نے پہلا انتظامی حکم جاری کر دیا

  • یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس تقرری،کیا سینئر ججز مستعفیٰ ہوں گے؟ مبشر لقمان

    یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس تقرری،کیا سینئر ججز مستعفیٰ ہوں گے؟ مبشر لقمان

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کی چیف جسٹس تقرری کر دی گئی ہے، دیکھتے ہیں اب سینئر ججز کام کرتے ہیں یا مستعفی ہوں گے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس پاکستان تقرری کر دی گئی ہے،جسٹس جمال مندو خیل کو آئینی بینچ کا سربراہ بنایا جا سکتا ہے.اب سوال یہ ہے کہ وہ سینئر ججز جن کو بائی پاس کیا گیا، کیا وہ استعفیٰ دیں گے،جیسا کہ مسلح افواج میں روایت ہے ،یا وہ سینئر ججز سپریم کورٹ میں اب کسی جونیئر کے ماتحت کام کرتے رہیں گے،مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے لیے روز آنا اور کسی جونیئر سے آرڈر وصول کرنا بہت مشکل ہے۔ میں صرف متجسس ہوں کہ دیکھتے ہیں نتیجہ کیا نکلتا ہے۔

    واضح رہے کہ جسٹس یحییٰ آفریدی کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس تقرر کر دیا گیا ہے، وزارت قانون نے یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ،صدر مملکت کی منظوری کے بعد چیف جسٹس کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا،وزارت قانون و انصاف کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی 26اکتوبر کو حلف اٹھائیں گے،

    پارلیمانی کمیٹی نے جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے ناموں پر بطور چیف جسٹس غورکیا تھا، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر ،دونوں ججز جسٹس یحییٰ آفریدی سے سینئر ہیں تا ہم پارلیمانی کمیٹی نے جسٹس یحییٰ آفریدی کے نام پر بطور چیف جسٹس اتفاق کیا.

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ملاقات

    جسٹس یحییٰ آفریدی کی بطور چیف جسٹس تقرری،بارکونسلرنے خوش آئند قرار دے دیا