Baaghi TV

Tag: یران

  • یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے مبینہ خفیہ دورے نے خطے کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے ہوئی ، تاہم متحدہ عرب امارات نے اس دورے کی تردید کی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اور محمد بن زید کی یہ ملاقات عمان کی سرحد کے قریب العین شہر میں ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور اس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد رکھی –

    اس انکشاف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کر نے والوں سے حساب لیا جائے گا انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ایک احمقانہ جوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام سے دشمنی کے لیے اسرا ئیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے عباس عراقچی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیتن یاہو نے جو انکشاف کیا ہے، ایرانی سیکیورٹی ادارے بہت پہلے اس حوا لے سے قیادت کو آگاہ کر چکے تھے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ غیرا علا نیہ یا خفیہ دوروں سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔

    اماراتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ یہ ابراہم معاہدے کے تحت کھلے عام استوار کیے گئے ہیں یہ تعلقات کسی رازداری پر مبنی نہیں ہیں، اس لیے خفیہ ملاقاتوں کی باتیں حقیقت کے خلاف ہیں اس مبینہ دورے کے دوران دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون پر بات چیت کی گئی تھی۔

    امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو اپنا دفاعی نظام آئرن ڈوم فراہم کیا جس نے ایران کی جانب سے کیے گئے مبینہ حملوں کو روکنے میں مدد دی اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ نے بھی سیکیورٹی تعاون کے سلسلے میں یو اے ای کے دورے کیے تھے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدے کے تحت باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

  • کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ، متعدد ملازمین زخمی

    کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ، متعدد ملازمین زخمی

    کویت کی جنرل اتھارٹی برائے شہری ہوابازی کے مطابق کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد ملازمین کو معمولی زخم آئے اور مسافر عمارت کو محدود نوعیت کا نقصان پہنچا۔

    کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ، متعدد ملازمین کے معمولی زخمی ہونے کی اطلاع، مسافر ٹرمینل کو بھی نقصان پہنچا، اتھارٹی کے سرکاری ترجمان عبداللہ الراجحی نے بتایا کہ حملے کے فوری بعد متعلقہ حکام نے منظور شدہ ہنگامی طریقہ کار فوری طور پر نافذ کردیا، حالات کو قابو میں کرلیا گیا ۔

    ایران نے ایک دن کے میزائل حملوں سے خلیجی ممالک کی پوری فضائی ٹریفک کو مفلوج کر دیا اس پر اربوں نہیں تو لاکھوں ڈالر لاگت آئے گی-

    ایرانی پاسداران انقلاب کا امریکا کے 14 اڈوں پر سیکڑوں فوجی ہلاک کرنے کا دعویٰ

    دوسری جانب سوشل میڈیا پوسٹس کے ،مطابق ایران نے کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

    تہران نے تصدیق کی کہ کویت کے ہوائی اڈے کے واقعے میں اس کے ملوث ہونے کا دعویٰ کرنے والی تمام رپورٹس غلط ہیں، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ کوئی تیسرا فریق اس کے پڑوسیوں کے ساتھ کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ ایرانی فوجی کارروائیوں کا رخ صرف امریکی اڈوں پر ہے۔

    ترکیہ اور چین کا ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار

  • بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ دور میں ایران پر عائد پابندیوں سےاستثنیٰ کو بحال کر دیا

    بائیڈن انتظامیہ نے ٹرمپ دور میں ایران پر عائد پابندیوں سےاستثنیٰ کو بحال کر دیا

    امریکی صدر نے ٹرمپ دور میں ایران پر عائد پابندیاں ہٹانا شروع کر دیں-

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی خبررساں ادارے "الجزیرہ” کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے جمعہ کے روز ایران کے جوہری پروگرام پر عائد پابندیاں ہٹانا دوبارہ شروع کر دیں۔ انہیں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے 2020 میں نافذ کیا تھا۔

    ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب ،یواے ای کو ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے جمعہ کو ایران کی پابندیوں سے استثنیٰ کو بحال کر دیا ہے کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے میں واپسی پر بالواسطہ بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے مئی 2020 میں اس چھوٹ کو منسوخ کر دیا تھا جس میں روسی، چینی اور یورپی کمپنیوں کو ایرانی جوہری مقامات پر عدم پھیلاؤ کی کارروائیاں کرنے کی اجازت دی-

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ یہ چھوٹ ان تکنیکی بات چیت کی اجازت دینے کے لیے ضروری تھی جو مذاکرات کے لیے ضروری ہے اس کا مقصد معاہدے پر واپس جانا ہے جسے باضابطہ طور پر مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کہا جاتا ہے۔

    تاہم اہلکار نے کہا کہ استثنیٰ کو بحال کرنا اس بات کا اشارہ نہیں ہے کہ واشنگٹن معاہدے پر واپسی کے لیے سمجھوتہ کرنے کے قریب ہے پابندیوں سے اس چھوٹ کے بغیر تیسرے فریق کے ساتھ ذخیرے کو ٹھکانے لگانے اور عدم پھیلاؤ سے متعلق دیگر سرگرمیوں پر تفصیلی تکنیکی بات چیت کرنا ممکن نہیں ہے۔

    دنیا میں 6.4 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    اس استثنیٰ میں اراک میں ایران کے بھاری پانی کے تحقیقی ری ایکٹر کی تبدیلی، تہران کے تحقیقی ری ایکٹر کو افزودہ یورینیم کی فراہمی اور صرف شدہ ایندھن کی بیرون ملک منتقلی شامل ہے ٹرمپ کے 2018 میں جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے اور دوبارہ سخت پابندیاں عائد کرنے کے بعد ایران نے بتدریج معاہدے میں طے کی گئی جوہری پابندیوں کی خلاف ورزی شروع کر دی۔

    پاکستان ہمارا اسٹریٹجک پارٹنرہے،پاک چین قربت کے حوالے سے سوال پر امریکا کا جواب