Baaghi TV

Tag: یرغمالی

  • امریکی سینیٹ،اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد ،ووٹنگ رواں ہفتے

    امریکی سینیٹ،اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد ،ووٹنگ رواں ہفتے

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل بدھ کو ایک قرارداد پر ووٹ دینے والی ہے، جس میں غزہ میں فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، اور اس جنگ بندی کو حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی سے مشروط نہیں کیا گیا۔ امکان ہے کہ امریکہ اس قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران نے عالمی طاقتوں کی پالیسیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو غیر جانبداری کے ساتھ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔امریکہ کی ممکنہ ویٹو پالیسی نہ صرف خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بھی جاری رکھنے کا سبب بن سکتی ہے۔

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ "غزہ میں انسانی بحران عروج پر ہے۔ بچے، خواتین، اور عام شہری جنگ کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، اور عالمی برادری اس ظلم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اگر امریکہ اس قرارداد کو ویٹو کرتا ہے، تو یہ ایک واضح پیغام ہوگا کہ طاقتور ممالک انسانی حقوق کو صرف اپنے مفادات کے تحت دیکھتے ہیں۔”

    غزہ میں بمباری اور مسلح جھڑپوں کے نتیجے میں ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جن میں اکثریت معصوم شہریوں کی ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق، خطے میں انسانی ضروریات کی شدید کمی ہو رہی ہے، اور فوری امداد کی ضرورت ہے۔یورپی ممالک سمیت کئی دیگر طاقتوں نے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے، لیکن اس قرارداد کے متن پر اختلافات موجود ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ حماس کے یرغمالیوں کی رہائی کو مذاکرات کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ دوسری طرف، مسلم ممالک نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے فوری اقدامات کرے۔

    دوسری جانب امریکی سینیٹ میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد پر ووٹنگ رواں ہفتے ہوگی،عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو 20 ارب ڈالر کے امریکی ہتھیاروں کی فروخت روکنے کی قرارداد امریکی سینیٹ میں پیش کی گئی، امریکی سینیٹر برنی سینڈرز کی قرارداد پر امریکی سینیٹ میں ووٹنگ رواں ہفتے کے آخر میں ہوگی،میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینیٹ میں اسرائیلی حمایت کی اکثریت کے باعث قرارداد منظور ہونے کا امکان کم ہے

    علاوہ ازیں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو ایک سال کی کوشش کے باوجود حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کو چھڑانےمیں کامیاب نہ ہوئے جس کے بعد اب اسرائیلی وزیرِ اعظم نے یرغمالیوں کو رہا کرانے والوں کو 50 لاکھ ڈالرز کا لالچ دے ڈالا، نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ سے یرغمالیوں کو بحفاظت نکال لانے پر ہر یرغمالی کے عوض 50 لاکھ ڈالرز دیں گے،یرغمالیوں کو رہا کرانے والوں کو اہلِ خانہ سمیت غزہ سے انخلاء کرائیں گے

  • یرغمالیوں کی رہائی کا واحد رستہ جنگ بندی،فوج نے اسرائیلی وزیراعظم کو بتا دیا

    یرغمالیوں کی رہائی کا واحد رستہ جنگ بندی،فوج نے اسرائیلی وزیراعظم کو بتا دیا

    اسرائیلی فوج کے سینئر افسران نے وزیراعظم نیتن یاہو کو خبردار کیا ہے کہ حماس کے قبضے میں موجود یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جنگ بندی کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق انٹیلی جنس اور سکیورٹی حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ یرغمالیوں کی حالت انتہائی نازک ہے۔ غذائی قلت کے باعث ان کے وزن میں واضح کمی ہو چکی ہے، اور موسم سرما کے پیش نظر ان کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔اسرائیلی فوج کے جنرلز نے نشاندہی کی کہ یرغمالیوں کے حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، جس کے باعث جنگ بندی کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

    اسی دوران اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مظاہرے شدت اختیار کرگئے ہیں۔ مظاہرین نے وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر پر دھاوا بول دیا، جہاں قیصریہ میں واقع ان کے گھر کے باغ میں دو فلیش بم گرنے کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ نیتن یاہو اور ان کا خاندان اس وقت گھر میں موجود نہیں تھا۔پولیس نے واقعے کے بعد تین افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تمام حدود پار کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے کہ وزیراعظم، جو پہلے ہی ایران اور دیگر مزاحمتی قوتوں کی جانب سے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں اپنے گھر پر بھی ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑے۔

  • حماس حملے کی اسرائیلی فوج کو ستمبر میں رپورٹ مل گئی تھی،اسرائیلی میڈیا

    حماس حملے کی اسرائیلی فوج کو ستمبر میں رپورٹ مل گئی تھی،اسرائیلی میڈیا

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کی رپورٹ اسرائیلی فوج کو مل چکی تھی، اسرائیلی ٹی وی چینل نے ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے

    گزشتہ برس سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیاجس کے بعد اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، اب ایک اسرائیلی ٹی وی نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو حماس کے حملے کی رپورٹ مل چکی تھی،اسرائیلی فوج کو حماس کے حملے کے حوالہ سے جو رپورٹ ملی تھی اس میں بڑے پیمانے پر حملے کا ذکر تھا وہیں شہریوں کو یرغمال بنانے کا ذکر بھی تھا،اسرائیلی ٹی وی کے مطابق اسرائیلی فوج کی 8200 انٹیلی جنس یونٹ کو 19 ستمبر کو یعنی حماس کے حملے سے تقریبا 20 روز قبل حماس کے حملے کی رپورٹ ملی تھی، اس رپورٹ کو اسرائیل کے سینئر افسران کو بھی دکھایا گیا تھا تا ہم اسرائیلی حکام نے اس رپورٹ کو مکمل نظر انداز کر دیا تھا،

    اسرائیل کے کان پبلک براڈ کاسٹر کے مطابق اسرائیلی فوج کو جو 19 ستمبر کو خفیہ رپورٹ ملی تھی اس میں بتایا گیا تھا کہ حماس کی جانب سے دو سو سے 250 کے قریب شہریوں کو یرغمال بنایا جائے گا،حماس نے اسرائیل پر جب حملہ کیا تو 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا،

    حماس کے حملے کے حوالہ سے اسرائیلی میڈیا ایجنسی کان پبلک براڈ کاسٹر تنہا نہیں بلکہ کچھ اور میڈیا اداروں نے بھی اسی طرز کی رپورٹ کو نشر کیا اور کہا کہ اسرائیلی دفاعی محکمہ کے پاس حماس کے حملہ کے حوالہ سے رپورٹ موجود تھیں، اسرائیلی محکمہ دفاع کو یہاں تک معلوم تھا کہ حماس کس طرح اسرائیل کے شہروں اور ملٹری ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا اور شہریوں کو یرغمال کرے گا،حماس کے حملے بارے مکمل تفصیلات ہونے کے باوجود اسرائیل نے اس رپورٹ کو نظر انداز کیا،

    اسرائیلی فوج نے میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے، اسرائیلی فوج نے حملے سے متعلق پہلے سے اطلاع ہونے کے دعوے کو مسترد بھی کیا ہے تاہم اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وہ کوتاہیوں کا پتہ لگانے سے متعلق مسلسل تحقیقات میں مصروف ہیں جو بھی رپورٹ آئے گی سب کے سامنے رکھی جائے گی

    غزہ کی موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں تو دوسری جانب اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہوکی مخالفت بڑھتی جارہی ہے۔ یرغمال کئے گئے افراد کی فیملی والے ان کی رہائی کے لئے احتجاج کر رہے ہیں اور وہ اس جنگ سے متعلق نیتن یاہو حکومت کی اب تک کی حکمت عملی کی کھلے عام تنقید کررہے ہیں۔ اسرائیل کے غزہ پرحملے میں 37 ہزار سے بھی زیادہ لوگوں کی جان جاچکی ہے 85 ہزار سے بھی زیادہ لوگ زخمی ہیں 10 ہزار لوگ لاپتہ ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے گھر کے باہر احتجاج کرنے والے 8 اسرائیلی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے،احتجاج کرنے والے نئے انتخابات، جنگ بندی معاہدے اور یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے

    حماس یرغمالیوں کو رہاکرتا ہے توکل ہی جنگ بندی ہوجائےگی،امریکی صدر

    یرغمالیوں کے لواحقین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں جاری اجلاس پر دھاوا بول دیا

    اسرائیل اپنے یرغمالیوں کے بوجھ سے جان چھڑانے کی شدت سےکوشش کر رہا ہے،ابو عبیدہ

    اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • امریکی یرغمالیوں کے بدلے حماس کی امریکی جیلوں سے قیدی چھڑانے کی خواہش

    امریکی یرغمالیوں کے بدلے حماس کی امریکی جیلوں سے قیدی چھڑانے کی خواہش

    سات اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، اس حملےکے دوران کئی افراد کو یرغمال بنایا گیا، اطلاعات کے مطابق حماس نے 14 امریکیوں کو بھی یرغمال بنایا ہے ،جن کی رہائی کے لئے حماس نے کہا ہے کہ ہم اپنے قیدی امریکہ سے بدلے میں چھڑوائیں گے، اب تک 20 امریکی لاپتہ ہیں، جن میں سے 14 حماس کے پاس ہیں،

    لاپتہ اور یرغمال امریکیوں کے خاندانوں سے امریکی صدر جوبائیڈن نے بات کی اور کہا کہ میرا عزم اور کوشش ہے کہ ہر لاپتہ امریکی کو واپس لایا جائے،ہم حماس کے پاس امریکی یرغمالیوں کی رہائی کے لئے بھی کام کر رہے ہیں،تاہم امریکی صدر نے فی الحال امدادی دستے بھیجنے سے انکار کیا، امریکہ حماس کے ساتھ مذاکرات کے لئے قطر اور ترکی کو استعمال کر رہا ہے،اسرائیل نے یرغمالیوں کی رہائی کے لئے حماس کے قیدی چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے تا ہم میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر اپنے قیدیوں کی رہائی کے لئے حماس کے قیدی رہا کر سکتے ہیں

    حماس کے ایک سینئر رہنما علی براکا نے خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں ایسے قیدی ہیں ہم چاہتے ہیں کہ انکو رہا کیا جائے،حماس کے ارکان امریکی جیلوں میں ہیں، انکو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ ہمارے بیٹوں‌کو امریکی جیلوں سے رہا کرے، امریکہ قیدیوں کا تبادلہ کرتا ہے، اس نے ایران کے ساتھ قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے تو ہمارے ساتھ کیوں نہیں کر سکتا؟

    حماس رہنما کا کہنا تھا کہ امریکہ میں ایسے فلسطینی بھی قید ہیں جنہیں امریکہ نے فلسطین میں مزاحمت کی حمایت کے الزام میں گرفتار کیا، ان افراد پر غزہ میں محصور افراد کی مدد کرنے کے لئے فلاحی تنطیمیں چلانے کا الزام لگایا گیا ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ہولی لینڈ فاؤنڈیشن کیس، امریکہ کا خیراتی ادارہ ہے جس کی اہم شخصیات کو حماس کو لاکھوں روپے بھجوانے کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا تھا، حماس کو حماس رہنما خالد مشعل کے بھائی میں بھی دلچسپی ہو گی ، عبدالقادر, خالد کےسوتیلے بھائی ہیں اور ٹیکساس کی ایک جیل میں 20 برس قید کی سزا کاٹ رہے ہیں،دہشت گردون کی مالی معاونت اور دہشت گردانہ دھمکیوں کا مقدمہ ان پر بنایا گیا تھا.

    امریکہ میں عبدالقادر کی رہائی کے لئے وبائی مرض کرونا کے دنوں میں بھی تحریک چلائی گئی تھی کہ اسکی عمر 60 برس سے زائد ہے، اور اسے کرونا ہو سکتا ہے، اسے رہا کیا جائے تاہم امریکہ نے عبدالقادر کو رہا کرنے سے انکار کر دیا تھا، جیل میں اسے کرونا ہو بھی گیا تھا تا ہم وہ صحتیاب ہو گیا، اب 2025 میں اسکی سزا ختم ہو جائے گی.

    قطر جو امریکہ اور حماس کے مابین قیدیوں کی رہائی کے لئے مذاکرات کر رہا ہے وہ یہ ممکنہ طور پر دلیل دے سکتا ہے کہ عبدالقادر تو دو برس بعد رہا ہونے ہی والے ہین.

    امریکی یرغمالیوں کی رہائی ہوتی ہے یا نہیں آئندہ چند دنون میں واضح ہو جائے گا، امریکی صدر جوبائیڈن بھی اسرائیل کے دورے پر ہیں جنہوں نے غزہ میں ہسپتال پر حملے کا ذمہ دار اسرائیل کو نہیں بلکہ فلسطین کو ٹھہرایا ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ