Baaghi TV

Tag: یروشلم

  • مراکش کے بعد اسرائیل تباہ کن مناظر کا شکار ہو سکتا ہے،ماہرین نے خبردار کر دیا

    مراکش کے بعد اسرائیل تباہ کن مناظر کا شکار ہو سکتا ہے،ماہرین نے خبردار کر دیا

    ماہرین کی جانب سے پیشگوئی کی گئی ہے کہ مراکش کے بعد اسرائیل حکومت کی ناکامی کی وجہ سے شدید زلزلےسے تباہ کن مناظر کا مشاہدہ کر سکتا ہے-

    باغی ٹی وی: "یروشلم” رپورٹ کے مطابق اسرائیل حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار متان یاہو انگلمین نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ چھ ماہ پہلے، یہ ترکی تھا جمعہ کو مراکش کو ایک مہلک زلزلے کا سامنا کرنا پڑا اسرائیلی ریاست ان سخت یاد دہانیوں کے باوجود زلزلے کی تیاریوں کو نظر انداز کر رہی ہے کسی تباہی کے بعد تحقیقاتی کمیٹی کا انتظار کرنے کے بجائے یہ ضروری ہے کہ وزیراعظم اور متعلقہ وزارتیں فوری طور پر خامیوں کو دور کریں۔

    اسرائیل افریقی اور عرب ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہے اور اس وجہ سے اسے ایک بڑے اور مہلک زلزلے کے خطرے کا سامنا ہے،افریقی پلیٹ شمال جنوبی محور کے ساتھ منقسم ہے جسے ”بحیرہ مردار“ یا شامی افریقی رفٹ کہا جاتا ہےیہ رفٹ جنوبی ترکیہ سے شام، لبنان، وادی اردن، وادی عربہ، بحیرہ احمر، اور جنوب کی طرف افریقہ کے مشرقی ساحل کے ساتھ خلیج عقبہ تک پھیلی ہوئی ہے۔ ان رفٹ زونز کے قریب ترین علاقے بڑے زلزلوں کے لیے حساس ہیں۔

    پوری بستی میں اکلوتا زندہ بچ جانے والا مراکشی

    اسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے ایک سینئر محقق اور ماہر ارضیات ڈاکٹر ایریل ہیمن کے مطابق، اسرائیل میں شامی افریقی رفٹ کے ساتھ آنے والے زلزلوں کا پتہ آٹھویں صدی تک لگایا جا سکتا ہے اور یہ ہر 80 سال بعد آتے ہیں،چھ یا اس سے زیادہ شدت کا آخری بڑا زلزلہ 1995 میں ایلات کے علاقے میں آیا تھا۔

    ڈاکٹر ایریل ہیمن نے کہا کہ بہت سے چھوٹے زلزلے جو بمشکل محسوس کیے جاتے ہیں اس خطے میں باقاعدگی سے آتے ہیں اور بغیر کسی واقعے کے گزر جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، اگلے 50 سالوں کے اندر جنوبی لبنان اور بحیرہ مردار کے جنوبی حصے کے درمیان ایک اور طاقتور زلزلے کے زیادہ امکان کو سمجھنا مناسب رہے گا’اسرائیل میں بڑیم شدت کا زلزلہ ”اگر“ نہیں بلکہ ”کب“ کا سوال ہے‘۔

    سعودی عرب اوریورپ تک نئی راہداری کابھارتی نقشہ جعلی ثابت

    انہوں نے کہا کہ مراکش میں تباہی اسرائیل کے لیے ایک اور انتباہی علامت ہے۔ ایسا زلزلہ یا شاید اس سے بھی زیادہ طاقتور زیادہ دور نہیں اگلا زلزلہ 10 منٹ یا 10، 20، 50 سال دور ہو سکتا ہے، تمام نئی ٹیکنالوجی کے باوجود، زلزلے کی پیش گوئی کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے ’ زیر زمین کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ہو رہی ہیں، لیکن بہت آہستہ اور امید ہے کہ زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

  • دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    دیوارمیں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت

    یروشلم: اسرائیلی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک دیوار میں چُھپے 1000 سال سے زائد عرصہ پُرانے 44 سونے کے سِکے دریافت کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ سکے گولان پہاڑیوں میں بینیاس کے مقام پر بہنے والے چشمے پر ایک پتھر کی دیوار کی بنیاد میں کی جانے والی کھدائی کے دوران ملے اسرائیل میں ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ 7ویں صدی کے 44 خالص سونے کے سکے ایک نیچر ریزرو میں دیوار سے چھپے ہوئے ملے ہیں۔

    روبوٹ اب آلو اور پیاز کے فرائز تیار کرے گا

    ماہرین کا اندازہ ہے کہ تقریباً 170 گرام وزنی، ہرمون سٹریم (بنیاس) کے مقام پر ملنے والا ذخیرہ 635 میں مسلمانوں کی فتح کے دوران چھپایا گیا تھا سکے علاقے میں بازنطینی حکومت کے خاتمے پر روشنی ڈالتے ہیں بازنطینی سلطنت رومی سلطنت کا مشرقی نصف تھا، جو 1,000 سال سے زائد عرصے تک زندہ رہا۔

    کھدائی کے ڈائریکٹر یوو لیر نے کہا، "ہم تصور کر سکتے ہیں کہ مالک جنگ کے خطرے میں اپنی خوش قسمتی کو چھپا رہا ہے، اس امید میں کہ وہ ایک دن اپنی جائیداد واپس لینے کے لیے واپس آئے گا ماضی میں، ہم جانتے ہیں کہ وہ کم خوش قسمت تھا۔

    اسرائیل اینٹیکوئیٹیز اتھارٹیز کے ڈائریکٹر ایلی ایسکیوسیڈو کا کہنا تھا کہ سکوں کا یہ ذخیرہ آثارِ قدیمہ کی ایک انتہائی اہم دریافت ہے کیوں کہ اس کا تعلق بینیاس شہر اور اس پورے خطے کے عبوری دور سے ہے۔

    ادارے کے مطابق ماہرین نے یہ سکے پینیاس (جو بعد میں بینیاس کے نام سے جانا گیا) کے قدیم شہر سے دریافت کئے۔ یہ شہر ماضی میں ذرخیزی کے خدا ’پین‘ (Pan) کے حوالے سے مذہبی رسومات کے لیے خدمات انجام دیتا تھا۔ اسی نام سے پر بعد میں شہر کا یونانی نام رکھا گیا۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    ڈاکٹر گیبریلا بِجووسکی کا کہنا تھا کہ سکّوں میں سب سے پُرانا سکہ بازنطینی بادشاہ فوکس کے دور کا ہے جس نے 602 عیسوی سے 610 عیسوی تک حکومت کی۔جبکہ سب سے نئے سکے کا تعلق اسی صدی کے اگلے حصے میں جب مسلمانوں نے یہ خطہ فتح کیا اس وقت سے ہے۔

    ادارے میں کھدائی کے ڈائریکٹر یوو لیرر کا کہنا تھا کہ یہ سکے ممکنہ طور پر جنگ کے خوف سے بھاگنے والے شخص نے اس امید پر دبائے ہوں گے کہ واپس آکر یہاں سے اپنی ملکیت نکال لے گا۔

    اسرائیلی حکام نے بتایا کہ سونے کے سکوں کے علاوہ، کھدائی کے دوران قدیم شہر کے ایک رہائشی کوارٹر میں – عمارتوں کے باقیات، پانی کے نالے اور پائپ، کانسی کے سکے اور بہت کچھ بھی دریافت ہوا۔

    بنیاس کو عیسائی روایت میں ایک خاص مقام حاصل ہے، یہ وہ جگہ ہے جہاں کہا جاتا ہے کہ یسوع نے پطرس رسول سے کہا تھا، کہ اس چٹان پر، میں اپنا چرچ بناؤں گا-

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

  • بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

    بوڑھی جلد کو جوان کرنے کا سائنسی طریقہ دریافت

    یروشلم: سدابہار جوانی کا راز ڈھونڈنے کے لئے انسان صدیوں سے کوشاں تھا اور اکیسویں صدی میں آ کر میڈیکل سائنس پہلی بار اس میدان میں ایک غیر معمولی پیش رفت کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے تاریخ میں پہلی بار سائنسدان بڑھتی ہوئی عمر کا پہیہ پیچھےکی جانب گھمانے میں کامیاب ہوگئے ہیں جس میں ایک اہم پیشرفت 20 برس کی مسلسل تحقیق کے بعد اسرائیل سے سامنے آئی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی شہر حائفہ میں واقع ریمبام ہیلتھ کیئرکیمپس اور ٹیکنیون اسرائیل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے مسلسل دو عشروں تک غور و تحقیق کے بعد انسانوں کو کم ازکم بیرونی طور پر جوان رکھنے کا سائنسی طریقہ دریافت کیا ہے۔

    دہی خواتین کی صحت کیلئے بے حد مفید قرار

    اس ضمن میں چوہوں پر تجربات کے شاندار نتائج سامنے آئے ہیں جو انسانوں پر بھی قابلِ اطلاق ہیں تاہم مستقبل میں ان سےانسانی اعضا کو بھی جوان رکھنا ممکن ہوسکے گااس تحقیق میں کئی بین الاقوامی ماہرین بھی شامل ہیں جن کے کام کی تفصیلات سائنس ایڈوانسِس نامی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔ اس تحقیق میں بوڑھے چوہے کی جلد کا ایک ٹکڑا لیا گیا اور اس کی تمام پرتوں کی سالماتی (مالیکیولر) ساخت کو تبدیل کیا گیا ہے۔

    جوان چوہوں کو لیا گیا جو’سیویئر کمبائنڈ امیونوڈیفشنسی ڈیزیز‘ (ایس سی آئی ڈی) کے شکار تھے۔ اس کیفیت میں بی اور ٹی لمفوسائٹس بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔ ان چوہوں میں بوڑھے انسانوں کے خلیات شامل کیے گئے کیونکہ اہم ہدف انسانی جلد ہی تھی۔ ماہرین کی مسلسل کوشش سے نہ صرف جلد میں خون کی نئی رگیں بنیں بلکہ جگہ جگہ سے بدلی رنگت ٹھیک ہونے لگی اور عمر رسیدگی کے بایومارکر بھی کم ہوئے۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    ماہرین کے مطابق اس ضمن میں جلد ایک بہترین تحقیقی مقام تھی کیونکہ دنیا بھر میں جلد کو جوان رکھنے پر کام ہو رہا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بڑھاپے کے آثار سب سے پہلے جلد پر ہی ظاہر ہوتے ہیں۔

    اسی ٹیم نے پہلے بھی ایس سی آئی ڈی کے شکار جوان چوہوں میں بوڑھے افراد کی جلد شامل کی تھی اور افادیت ناپنے کے لیے ویسکولر اینڈوتھیلیئل گروتھ فیکٹر اے (وی ای جی ایف اے) کو ناپا تھا۔ یہ ایک طبی پیمانہ ہے جو تجربہ گاہ میں انسانی اعضا کی جوانی اور تازگی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

    تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ انسانی جلد کے بوڑھے خلیات اور جلد میں جوانی کے آثار سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عمل درست سمت میں ایک قدم ہے اور کم ازکم ہم ایک تھراپی کے تحت انسانی جلد کو بڑھاپے کے اثرات سے بچاتے ہوئے دوبارہ جوان کرسکتے ہیں۔

    مسلسل بے خوابی اور خراب نیند سے فالج کا خدشہ بڑھ سکتا ہے نئی تحقیق

  • "ڈیل آف دی سنچری یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا  مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 حقیقت میں کیا ہے؟

    "ڈیل آف دی سنچری یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 حقیقت میں کیا ہے؟

    "ڈیل آف دی سنچری یا مشرق وسطیٰ امن پلان 2020 کیا ہے؟
    تحریر: محمد عبداللہ
    مسئلہ فلسطین دنیا کے بڑے اور تاریخی تنازعات میں سے ایک ہے، دوسری جنگ عظیم کے بعد بالخصوص برطانیہ و دیگر ممالک نے جیوش ایجنسی کے ساتھ مل کر نام نہاد "ہولو کاسٹ” میں بچ جانے والے اور دنیا کے بیشتر حصوں میں بکھرے ہوئے یہودیوں کو اکٹھا کرکے ایک جگہ پر بسانے کھ منصوبے پر کام شروع ہوا جس کے لیے بیت المقدس(یروشلم) اور اس کے گرد و نواح کے علاقے کا انتخاب کیا گیا کہ یہودی بیت المقدس پر ہیکل سلیمانی کا دعویٰ کرتے ہیں. اس پلان کی وجہ سے ایک تو یہودیوں کو کوئی دیس مل جاتا اور دوسرا مستقل عرب دنیا کو ایک خطرے سے دوچار رکھا جاسکتا تھا تاکہ وہ آگے چل کر دنیا میں کوئی موثر کردار نہ ادا کرپائیں.
    اس کے لیے چودہ مئی 1948 کو یروشلم کو عالمی نگرانی کے تحت چلانے ، اس کے گرد و نواح میں یہودیوں کی آبادکاری اور اسرائیل کے قیام کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو گیارہ مئی 1949 کو منظور کرکے اسرائیل کے قیام باقاعدہ عمل میں لایا گیا.جس کو عرب لیگ اور عرب ہائی کمیٹی نے مسترد کیا اور اس خطے میں جنگ چھڑ گئی جو تاحال جاری ہے جس میں بڑی جنگیں بھی شامل ہیں جن میں عرب ممالک بھی شامل ہوتے رہے اور اسرائیل کو عالمی طاقتوں کی حمایت حاصل ہوتی رہی لیکن ان سب جھڑپوں اور جنگوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ فلسطینیوں کی بہت بڑی تعداد بے گھر ہوتی چلی گئی اور اسرائیل یکے بعد دیگرے فلسطین کے علاقوں پر قبضہ کرتا چلا گیا.
    بین الاقوامی اداروں اور ملکوں کی مداخلت کے باوجود مسئلہ فلسطین لاینحل مسئلہ رہاہے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ و جدل کی ایک وجہ بھی یہی مسئلہ فلسطین ہے.ابھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے ایک پلان پیش کی ہے جس کو دی ڈیل آف سنچری کا نام دیا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ کے لیے اس صدی کا سب سے بڑا منصوبہ ہوگا. اس منصوبے کے مین نکات یہ ہیں.

    مشرقی یروشلم پر مکمل اسرائیلی قبضہ تسلیم کیا جائے گا اور شہر کے ایک حصے میں فلسطین کا دارالحکومت بنایا جائے گا.
    چار سال کے لیے یہودی بستیوں کی آبادکاری پر پابندی عائد ہوگی جبکہ مغربی کناروں سمیت اب تک جو یہودی بستیاں قائم ہوچکی ہیں وہ اسرائیل کا حصہ ہوں گی.
    اپنی بستیوں سے نکالے گئے فلسطینی جو غزہ کی پٹی میں محصور ہوچکے ہیں وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکیں گے.
    اسرائیل اردن کے بادشاہ کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یروشلم کے مقدس مقامات کی انتظامیہ کا موجودہ نظام برقرار رہے گا
    فلسطینیوں کے لیے مختص کیے گئے علاقے آئندہ چار سال آمد و رفت کے لیے کھلے رہیں گے اور وہاں کوئی تعمیراتی کام نہیں کیا جائے گا۔
    اس وقت کے دوران فلسطینیوں کے پاس موقع ہوگا کہ وہ اس پلان کا جائزہ لیں، اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کریں اور ’خود مختار ریاست کے لیے تعین شدہ پیمانے پر پورا اتریں.

    اس منصوبے کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس پلان کے تحت فلسطینیوں کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ مستقبل میں اپنی ایک آزاد ریاست قائم کر لیں. ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ان کے پلان سے فلسطینی علاقہ دوگنا ہو جائے گا اور مشرقی یروشلم دارالحکومت بن جائے گا جہاں امریکہ اپنا سفارتخانہ کھولے گا۔
    اسرائیل نے اس منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو سراہتے ہوئے انھیں ‘وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کا بہترین دوست’ قرار دیا ہے.
    نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ‘منصوبہ اس صدی کا ایسا موقع ہے جسے ہم ضائع نہیں کریں گے۔
    جبکہ فلسطینی اتھارٹی اس منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کرچکی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ غرب اردن پر اسرائیلی حاکمیت کو مستقل طور پر مسلط کرنے کے مترادف ہے۔
    فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا کہ یہ منصوبہ ایک ’سازش‘ ہے میں ٹرمپ اور نتن یاہو کو کہتا ہوں یروشلم برائے فروخت نہیں ہے۔ ہمارے حقوق برائے فروخت نہیں ہیں اور نہ ہی سودے کے لیے ہیں۔ آپ کا منصوبہ، آپ کی سازش منظور نہیں ہوگی۔‘
    حماس نے مشرقی بیت المقدس کو اسرائیل کے حوالے کرنے کے اس منصوبے کو اشتعال انگیز اور فضول قرار دیا ہے۔ ایران نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو یکطرفہ اور اسرائیل نواز کہہ کر مسترد کر دیا ہے۔
    پاکستانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کی حمایت کی ہے، پاکستان فلسطینیوں کو جائز حقوق اور حق خود ارادیت دینے کا حامی ہے اور پاکستان ایسی فلسطینی ریاست کا قیام چاہتا جو 1967 کی عرب اسرائیل جنگ سے قبل کی سرحدی حدود پر مشتمل ہو اور القدس جس کا دارالحکومت ہو.
    امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے پر غور کے لیے عرب لیگ کا اجلاس ہفتے کے روز طلب کیا گیا ہے۔