Baaghi TV

Tag: یمنی حوثی

  • یمنی حوثیوں کی ریڈ سی میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    یمنی حوثیوں کی ریڈ سی میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

    حوثی حکومت کے وزیر دفاع میجر جنرل محمد العاطفی کے مطابق یمنی عوام کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    حوثی حکومت کے وزیر دفاع نے کہا کہ حالیہ تنازع میں امریکی اور صہیونی دشمن کے خلاف کارروائیوں نے مختلف محاذوں کے اتحاد کو ظاہر کیا ہے اور مزا حمتی قوتوں کی عسکری حکمت عملی کو مؤثر ثابت کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمتی محور کی کارروائیاں دشمن کے خلاف کامیابی کے ساتھ جاری ہیں۔

    حوثی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک حملے جاری رکھیں گے جب تک جنگ مکمل طور پر بند نہیں ہو جاتی۔ ان کے مطابق وہ اپنے اسلحہ ذخائر کو استعمال کرتے ہوئے حساس فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے رہیں گے حوثیوں نے ریڈ سی میں بحری آمد و رفت کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے مارچ کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف جاری جنگ میں باقاعدہ طور پر شمولیت اختیار کی، جس کے بعد انہوں نے اسرائیل کو نشانہ بناتے ہوئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

  • یمنی حوثیوں کا ایران کی حمایت کا اعلان

    یمنی حوثیوں کا ایران کی حمایت کا اعلان

    یمن کے حوثی باغیوں (انصاراللہ) نے تصدیق کی ہے کہ وہ عسکری طور پر ایران کے ساتھ صف بندی کے لیے تیار ہیں۔

    عرب نشریاتی ادارے ’المیادین‘ کو دیے گئے انٹرویو میں حوثی تحریک کے سیاسی رہنما اور ترجمان محمد البخیتی نے کہا کہ یمن خطے کی مزاحمتی تنظیموں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے، خصوصاً ایران کے ساتھ قریبی ہم آہنگی برقرار ہے صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے انصاراللہ کے رہنما سید عبدا لملک الحوثی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یمن پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ ’ہماری انگلی ٹریگر پر ہے، اور ضرورت پڑنے پر مداخلت کے لیے تیا ر ہیں ۔

    محمد البخیتی نے مزید کہا کہ یمن کی جنگ میں شمولیت کے لیے وقت کا انتظار ہے، اس حوالے سے مکمل رابطے میں ہیں،ایران کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خطے میں موجود ان امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے جہاں سے اس کے خلاف حملے کیے جا رہے ہیں ، اس وقت نشانہ صرف ایران نہیں بلکہ تمام عرب اور اسلامی ممالک ہیں امریکا کو خلیجی ممالک کی سلامتی کی کوئی فکر نہیں بلکہ وہ انہیں ایران کے خلاف جنگ میں الجھانا چاہتا ہے۔

    افغان رجیم کے پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور نقصان کے دعوے مسترد

    انہوں نے خطے کے تمام ممالک سے فوری طور پر مشترکہ مؤقف اپنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکی جارحیت کی مذمت کرنی چاہیے اور اس محاذ پر ایران کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیےیہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے اور ہمیں اسے اس وقت تک جاری رکھنا ہوگا جب تک ہم اپنی شرائط منوانے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔ انہوں نے اس جنگ کو فیصلہ کن معرکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا انجام حق کی فتح کی صورت میں نکلے گا۔

    یمن میں جمعہ کے روز عالمی یوم القدس کے موقع پر ملک بھر میں ہونےوالے مظاہروں میں بھی ایران کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا مظاہرین نے حزب اللہ اور عراق کی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔

    امت مسلمہ کو اتحاد،اخوت اور مضبوط نظریاتی بیانیے کی ضرورت ہے،حافظ طلحہ سعید

    واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ ہفتے کے روز اپنے 15ویں دن میں داخل ہو گئی ہےایران کی مسلح افواج نے جوابی کارروائی کے طور پر ’آپریشن وعدہ صادق 4‘ کے تحت اب تک 48 سے زائد حملے کیے ہیں اور اسرائیلی فوجی تنصیبات اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔

    ماہرین کے مطابق یمنی حوثیوں کی جانب سے ایران کی حمایت کے بعد ممکنہ طور پر امریکا اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے ’باب المندب‘ کو بھی بند کیا جاسکتا ہے اگر ایسا ہوتا ہے تو بحیرہ احمر آگ کی لپیٹ میں آ جائے گا، سعودی تیل کی برآمدات اچانک رک جائیں گی اور عالمی تجارت کو ایک اور شدید جھٹکا لگے گا۔

    متحدہ عرب امارات میں بندرگاہیں جائز ہدف ہیں، ایران

  • امریکی فوج کا  یمنی حوثیوں کے دو بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

    امریکی فوج کا یمنی حوثیوں کے دو بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ

    واشنگٹن: امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں دو ٹرکوں پر نصب دو اینٹی شپ میزائلوں کے خلاف اپنے دفاع میں حملہ کر کے انہیں تباہ کردیا۔

    باغی ٹی وی : ہفتے کے روز امریکی سینٹرل کمانڈ نے "ایکس” پلیٹ فارم پر کہا کہ”صنعا کے مقامی وقت کے مطابق تقریباً 3:55 پر حوثیوں نے یمن سے خلیج عدن میں M/V Propel Fortune نامی بحری جہاز پر دو اینٹی شپ بیلسٹک میزائل داغے، اس جہاز پر سنگاپور کا جھنڈا لہرا تھا اور یہ جہاز سنگاپور کی ایک کمپنی کی ملکیت ہے، حوثیوں کے حملے کے نتیجے میں کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    یہ اقدامات جہاز رانی کی آزادی کے تحفظ اور امریکی بحریہ اور تجارتی جہازوں کے لیے بین الاقوامی پانیوں کو محفوظ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

    کراچی کنگز کی ٹاس جیت کر لاہور قلندرز کو پہلے بیٹنگ کی …

    قبل ازیں جمعہ کو برٹش میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے کہا تھا کہ بحیرہ احمر میں جازان سے 135 ناٹیکل میل شمال مغرب میں ڈرون کی سرگرمی کی اطلاعات ملی تھیں، اسے عدن کے یمنی ساحل سے 50 ناٹیکل میل جنوب مشرق میں ایک بحری جہاز کے سامنے دو دھماکوں کی اطلاع ملی ہے اور جہاز اور عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور علاقے میں گذرنے والے بحری جہازوں کو مشورہ دیا کہ وہ محتاط رہیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع دیں۔

    "العربیہ ” کے مطابق میری ٹائم سکیورٹی کمپنی امبری نے کہا کہ وہ عدن سے تقریباً 52 ناٹیکل میل جنوب میں پیش آنے والے حادثے سے آگاہ ہے اور اس کی تحقیقات کر رہی ہے-

    مذہبی رہنما ڈاکٹر حافظ مسعوداظہر کیساتھ ڈکیتی کی واردات،پولیس کی بروقت کارروائی میں ڈاکو گرفتار …

    واضح رہے کہ 19 نومبر سے حوثیوں نے بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں کا آغاز کیا جن کے بارے میں حوثیوں کو شبہ ہے کہ وہ اسرائیل سے منسلک ہیں یا اس کی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہیں۔

  • اقوام متحدہ میں میں چینی مستقل مندوب کی یمن میں امریکی حملےکی مذمت

    اقوام متحدہ میں میں چینی مستقل مندوب کی یمن میں امریکی حملےکی مذمت

    امریکا نے یمن پر ایک اور حملہ کیا ہے جس میں حوثیوں کی ریڈار سائٹ کو نشانہ بنانےکا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی سینٹرل کمانڈکا کہنا ہےکہ یمن میں حوثیوں کی ریڈارسائٹ کو نشانہ بنایا گیا، امریکی بحریہ کے جہاز سے حوثیوں کی ریڈار سائٹ پر ٹام ہاک میزائل فائرکیے، حوثیوں کی ریڈار سائٹ پر حملہ جمعرات کی شب امریکا برطانیہ حملےکا تسلسل ہے۔

    العربیہ کے مطابق یہ حملہ یو ایس ایس کارنی (ڈی ڈی جی 64) نے تاماہاک زمینی میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے کیا تھا اور یہ 12 جنوری کے حملوں سے وابستہ ایک مخصوص فوجی ہدف پر فالو آن کارروائی تھی جو حوثیوں کی سمندری بشمول تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

    امریکی و برطانوی فوج کے یمن میں 73 مقامات پر حملے

    حوثیوں کی ریڈار سائٹ پر یہ حملہ ملک بھر میں متعدد حملوں کے ایک دن بعد ہوا ہے جس سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ فلسطینی گروپ حماس کے ساتھ اسرائیل کی جنگ وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

    دوسری جانب یمنی حوثی ترجمان نے ردعمل میں امریکی حملےکو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئےکہا ہےکہ ہم اس کا مضبوط اور مؤثر ردعمل دیں گے، فوجی اڈے پر حالیہ امریکی حملے اسرائیل جانے والے جہازوں کو روکنےکی صلاحیتوں پر خاص اثر انداز نہیں ہوئے، امریکی حملے میں کوئی جانی اور مالی نقصان نہیں ہوا۔

    غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 23708 ،انٹرنیٹ سروس بھی بند

    یمن کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کااجلاس ہوا جس میں چینی مستقل مندوب نے یمن میں امریکی حملےکی مذمت کی اور کہا کہ یمن میں فوجی آپریشن سے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں ہوسکتے بحیرہ احمر میں فوجی کارروائیاں یو این قرارداد کی خلاف ورزی ہیں، اثرورسوخ رکھنے والے ممالک بحیرہ احمر کی آبی گزرگاہوں کی حفاظت کو یقینی بنانےکے لیے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔

    امریکا نے یمن حوثیوں کیخلاف جانے والے جبگی طیاروں کی ویڈیو شئیر کر دی

  • امریکا نے یمن حوثیوں کیخلاف جانے والے جبگی طیاروں کی ویڈیو شئیر کر دی

    امریکا نے یمن حوثیوں کیخلاف جانے والے جبگی طیاروں کی ویڈیو شئیر کر دی

    امریکا نے یمن پر حملے کیلئے جانے والے جنگی طیاروں کی ویڈیو جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرنے والے یمنی حوثیوں کے خلاف امریکی اور برطانوی طیاروں نے بمباری شروع کردی دارالحکومت صنعا میں بھی دھماکوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔
    https://x.com/Leeonie_2/status/1745730632742002738?s=20
    عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق لڑاکا طیاروں، بحری جہازوں اور آبدوزوں کی مدد سے یمن کے دارالحکومت صنعا، بندرگاہی شہر حدیدہ اور شمالی شہر سعدہ میں درجن بھر سے زائد مقامات پر بمباری کی گئی ہے، حملوں میں ٹام ہاک میزائلوں کا بھی استعمال کیا گیا۔

    https://x.com/CENTCOM/status/1745647248866738322?s=20

    حوثی ترجمان کے مطابق امریکی حملوں میں 5 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوئے ہیں اب امریکا نے یمن پر حملے کیلئے جانے والے جنگی طیاروں کی ویڈیو جاری کردی ہے، ویڈیو سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔

    دوسری جانب یمن پر امریکی و برطانوی فضائی حملوں کے بعد یمن کے رہنما عبدالمالک بدرالدین الحوثی نے جارحیت کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے قوم کو پیغام دیا کہ دشمن کو میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ بنایا جائے۔

    حزب اللہ نے جمعے کے روز کہا کہ وہ یمن پر امریکی اور برطانوی حملے کی مذمت کرتا ہےامریکی جارحیت دوبارہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ امریکہ غزہ اور خطے میں صہیونی دشمن کی طرف سے انجام دیئے گئے سانحات اور قتلِ عام کا مکمل ساتھی ہے۔

    امریکہ اور برطانیہ نے غزہ کی حمایت میں بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں پر گروپ کے حملوں کے جواب میں یمن میں حوثی فوجی مراکز کے خلاف فضائی اور سمندری حملے کیے۔

    یمن کے حوثی ترجمان محمد عبدالسلام نے جمعہ کو کہا یمن پر امریکہ اور برطانیہ کے حملے کا کوئی جواز نہیں ہے اور ایران کی حمایت یافتہ گروپ اسرائیل کی طرف جانے والے جہازوں کو نشانہ بنانا جاری رکھے گا۔

    دوسری جانب سعودی عرب نے جمعے کے اوائل میں کہا ہے کہ وہ بحیرۂ احمر کے علاقے میں ہونے والی فوجی کارروائیوں اور یمن میں متعدد مقامات پر فضائی حملوں کو "بڑی تشویش” کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔

    سعودی پریس ایجنسی کے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، "جبکہ مملکت بحیرۂ احمر کے خطے کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیتی ہے جس میں جہاز رانی کی آزادی ایک بین الاقوامی مطالبہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے تو خطے میں جاری واقعات کی روشنی میں سعودی عرب تحمل اور کشیدگی سے گریز کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

    یہ بیان امریکہ اور برطانیہ کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آیا کہ انہوں نے یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے زیرِ استعمال ایک درجن سے زیادہ مراکز کو نشانہ بنایا تھا امریکی فوج کے مطابق حوثیوں نے 19 نومبر سے بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی نقل و حمل پر 27 حملے کیے ہیں، واشنگٹن اور کئی ممالک نے اس سے قبل گروپ کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنے حملے بند کر دے ورنہ نتائج کا سامنا کرے۔

  • یمنی حوثیوں کا پاکستان آنے والے امریکی جہاز پر حملہ

    یمنی حوثیوں کا پاکستان آنے والے امریکی جہاز پر حملہ

    دبئی: یمنی حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی عرب سے پاکستان آنے والے امریکا کے بحری جہاز پر حملہ کر دیا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یمنی حوثیوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں بحری جہاز پر میزائل حملے کیے جبکہ اسرائیل کی جانب ڈرون حملے بھی کیے گئے۔

    شپنگ کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ سعودی عرب سے پاکستان جاتے ہوئے اس کے جہاز یونائیٹڈ 8 پر حملے سے اس کے عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اس میں کہا گیا ہے کہ جہاز نے قریبی اتحادی بحریہ کے جنگی جہاز کو اطلاع دی تھی کہ وہ حملے کی زد میں آ گیا ہے جبکہ اسرائیل نے الگ سے کہا کہ اس کے طیارے نے بحیرہ احمر کے علاقے میں فضائی ہدف کو روکا تھا۔

    اسرائیلی فوج حماس کے جانی نقصان کے بارے جھوٹ بول رہی ہے،سابق اسرائیلی جنرل

    اپنے بیان میں یمنی حوثیوں نے کہا کہ بحیرہ احمر میں ٹارگٹ کیا گیا بحری جہاز امریکا کا تھا جس کی شناخت ایم ایس سی یونائیٹڈ کے طور پر کی گئی ہے جبکہ اس کے ساتھ ہی جنوبی اسرائیل میں متعدد فوجی اہداف کو بھی ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا ہےیہ بحری جہاز سعودی عرب کی کنگ عبداللہ بندرگاہ سے روانہ ہو کر کراچی جا رہا تھا۔

    حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ ساریہ نے ایک ٹیلی ویژن خطاب میں کہا کہ گروپ نے جہاز کو نشانہ بنایا، جس کی شناخت اس نے ایم ایس سی یونائیٹڈ کے نام سے کی،ہ گروپ کی جانب سے بحری جہاز کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب عملے نے انتباہی پیغامات پر ردعمل ظاہر نہیں کیاحوثیوں نے اسرائیل کے ایلات اور دیگر علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک فوجی آپریشن کیا ہے، جسے انہوں نے مقبوضہ فلسطین کہا ہے انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا کسی بھی ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    سعودی عرب میں آج سے 30 دسمبر تک بارشوں کا امکان

    حوثی، جو دارالحکومت سمیت یمن کے زیادہ تر حصے پر قابض ہیں، اکتوبر سے غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بحیرہ احمر میں ان تجارتی جہازوں پر حملہ کر چکے ہیں جن کے بارے میں ان کے بقول اسرائیل سے روابط ہیں یا وہ اسرائیل کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔

    برطانیہ کی یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے قبل ازیں یمن کے ساحل کے قریب بحیرہ احمر میں ایک کشتی کے قریب میزائل اور ڈرون سے ہونے والے دھماکوں کے دو واقعات کی اطلاع دی تھی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ کوئی زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

    یہ رپورٹ ہونے والے واقعات یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے کشتیوں پر حملوں کے جواب میں بحیرہ احمر میں امریکہ کی جانب سے کثیر القومی بحری حفاظتی اقدام کے اعلان کے ایک ہفتے بعد سامنے آئے ہیں۔

    صیہونی فوج کا فلسطینی ہلال احمر کے ہیڈکوارٹر پر بھی …

    یمنی حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے 7 اکتوبر کے بعد سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم کی وجہ سے کیے جا رہے ہیں، اسرائیل اور اسرائیل سے منسلک جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ غزہ کی پٹی میں جارحیت کو روکنے کے لیے زور دیا جا سکے۔

    اس سے قبل اسرائیل کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اس کے ائیر کراف تنے ایک ڈرون حملے کی کوشش کو ناکام بنایا ہے۔

    واضح رہے 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی وحشیانہ بمباری سے 20 ہزار 977 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 54 ہزار 536 افراد زخمی ہوئے ہیں، شہدا اور زخمیوں میں نصف سے زائد تعداد صرف بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے۔

    ہمیں بچانے کی کوشش میں حماس کے نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کردیں،اسرائیلی خواتین