Baaghi TV

Tag: ینگ ڈاکٹرز

  • ینگ ڈاکٹرزکی ہڑتال:عدالت نے  پنجاب حکومت اور سیکرٹری صحت سے جواب طلب کرلیا

    ینگ ڈاکٹرزکی ہڑتال:عدالت نے پنجاب حکومت اور سیکرٹری صحت سے جواب طلب کرلیا

    لاہور: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی ہڑتال پر لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت اور سیکرٹری صحت سے جواب طلب کرلیا۔

    باغی ٹی وی: ڈاکٹروں کی غیر قانونی ہڑتال کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے درخواست پر سماعت کی درخواست گزار جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی وکلا آمنہ اور سلمیٰ نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ سرکاری اسپتالوں میں سستا علاج کرانا شہریوں کا آئینی حق ہے تاہم ڈاکٹرز نے اسپتالوں میں غیر قانونی طور پر ہڑتال کر رکھی ہے۔

    آئی ایم ایف کے طے شدہ معیارات کی کوئی خلاف ورزی نہ ہو،وزیراعظم

    جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی وکلاء نے استدعا کی کہ عدالت ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی رجسٹریشن معطل کرنے کا حکم دے اور سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے علاج کے لئے احکامات جاری کرے۔

    لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت، سیکرٹری صحت اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کو کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

    واضح رہے کہ چلڈرن اسپتال لاہور میں ڈاکٹر پرتشدد کے خلاف اسپتالوں کی اوپی ڈیز کی بندش کو ایک ہفتہ ہوگیا مگر ڈاکٹرز ٹھوس اقدامات تک احتجاج جاری رکھنے پربضد ہیں صوبے پھر میں او پی ڈیز کی بندش اور باربارہڑتالوں سے تنگ آکر مریضوں نے حکومت سے معاملہ سلجھانے کا مطالبہ کردیا۔

    ڈاکٹروں کی غیر قانونی ہڑتال کیخلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    ایک سال کی بچی میڈیکل وارڈ میں داخل تھی، طبیعت نہ سنبھلنے پر ڈاکٹرز کی کوشش کے باوجود جانبر نہ ہو سکی اور خالق حقیقی سے جا ملی بچی کی ہلاکت پر لواحقین آپے سے باہر ہو گئے، لواحقین نے اسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور ڈیوٹی ڈاکٹر و عملہ پر تشدد کیا-

    لواحقین نے ڈیوٹی ڈاکٹر کو تھپڑوں، لاتوں اور گھونسوں سے تشدد کا نشانہ بنایا، لواحقین کے تشدد سے ڈاکٹر شدید زخمی ہو گیا، مشتعل لواحقین نے لیڈی ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف کو بھی گالیاں دیں،مذکورہ واقعہ کے بعد ڈاکٹرز نے اسپتال میں علاج معالجہ بند کر دیا تھا-

    محکمہ ایکسائز نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے نام رجسٹرڈ گاڑیوں کی تفصیل نیب کو …

  • ڈاکٹروں کی غیر قانونی ہڑتال کیخلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    ڈاکٹروں کی غیر قانونی ہڑتال کیخلاف لاہورہائیکورٹ میں درخواست دائر

    ڈاکٹروں کی غیر قانونی ہڑتال کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : ینگ ڈاکٹرزایسوسی ایشن (وائے ڈی اے) کےخلاف درخواست جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی طرف سےدائر کی گئی ہے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ سرکاری اسپتالوں میں سستا علاج عوام کا بنیادی حق ہے لیکن ڈاکٹرز نے غیر قانونی طور پر ہڑتال کردی جس سے غریب مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    حسن علی نے سرفراز کو کراچی کا سلمان خان قرار دے دیا

    جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے درخواست میں عدالت سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی رجسٹریشن معطل کرنے کی بھی استدعا کردی ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں چلڈرن اسپتال لاہور میں ڈاکٹر پر تشدد کے خلاف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے صوبے بھر کے تمام سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز بند رکھنے کا اعلان کیا تھا چلڈرن ہسپتال میں بچی کی ہلاکت پر لواحقین آپے سے باہر ہو گئے تھے اور اسپتال میں لواحقین نے ڈیوٹی ڈاکٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

    بنگلہ دیش نے معیشت کے تمام شعبوں میں پاکستان کو پیچھے چھوڑ دیا

    ایک سال کی بچی میڈیکل وارڈ میں داخل تھی، طبیعت نہ سنبھلنے پر ڈاکٹرز کی کوشش کے باوجود جانبر نہ ہو سکی اور خالق حقیقی سے جا ملی بچی کی ہلاکت پر لواحقین آپے سے باہر ہو گئے، لواحقین نے اسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور ڈیوٹی ڈاکٹر و عملہ پر تشدد کیا، لواحقین نے ڈیوٹی ڈاکٹر کو تھپڑوں، لاتوں اور گھونسوں سے تشدد کا نشانہ بنایا، لواحقین کے تشدد سے ڈاکٹر شدید زخمی ہو گیا، مشتعل لواحقین نے لیڈی ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف کو بھی گالیاں دیں۔

    جناح ہاؤس لاہور پر حملے کا ایک اور شر پسند گرفتار

    مذکورہ واقعہ کے بعد ڈاکٹرز نے اسپتال میں علاج معالجہ بند کر دیا تھس اور او پی ڈی بند کر کے فیروز پور روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا، ڈاکٹرز کے احتجاج کے باعث فیروز پور روڈ پر گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئی تھیں۔

  • مسافر بس نے موٹر سائیکل سواروں کو روند ڈالا،1 بچی جاں بحق،کوئٹہ میں نوجوان جاں بحق

    مسافر بس نے موٹر سائیکل سواروں کو روند ڈالا،1 بچی جاں بحق،کوئٹہ میں نوجوان جاں بحق

    گوجرہ /کوئٹہ :گوجرہ کے انڈر پاس کے قریب مسافر بس اور موٹر سائیکل سواروں کے درمیان خطرناک تصادم کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے،تفصیلات کے مطابق حادثے کے نتیجے میں 8سالہ بچی جاں بحق جبکہ والدہ سمیت 2افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔

    ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والی بچی کی شناخت منیحہ کے نام سے ہوئی ہے جبکہ شدید زخمیوں میں 30سالہ طیبہ اور اظہر شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ حادثہ بس ڈرائیور کی غفلت اور تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔

    دنیا بھرمیں ٹریفک حادثے انسانی جانوں کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر سامنے آ رہے ہیں، عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال لاکھوں افراد ٹریفک حادثات کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

    ایک عالمی تحقیقاتی ادارے کے مطابق پاکستان میں ہلاکتوں کا باعث بننے والے پچاس عوامل اوربیماریوں میں ٹریفک حادثات پندرہویں نمبر پر ہیں۔

    پاکستان میں ایڈز، ناقص خوراک، مرگی، تشدد کئی قسم کے سرطان اور خود کشیوں کی وجہ سے انفرادی طور پر ہونے والی اموات سے ٹریفک حادثات میں مرنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔

    اس رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ٹریفک حادثات موٹر سائیکل سواروں آٹو رکشا والوں اور موٹر کاروں اور وینز چلانے والوں کو پیش آئے اس کے بعد بسوں اور ٹرکوں کے حادثات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ادھر بلوچستان کے شہر دکی میں گیس لیکج کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق دکی کے علاقے کلی سراج الدین ناصر میں گیس لیکج کے باعث دم گھٹنے سے نوجوان جانبحق ہوگیا، جانبحق ہونے والے نوجوان کی شناخت بخت محمد ولد کمال خیل ناصر کے نام سے ہوئی ہے۔

    ہسپتال ذرائع کا ہے کہ بخت محمد غسل خانے میں گیس لیکج کی وجہ سے دم گھٹنے کی وجہ سے جانبحق ہوا۔

    واضح رہے کہ گیس لیکج گیزر کی وجہ سے ہوئی۔یہ بھی یاد رہے کہ کچھ روز قبل راولپنڈی میں بھی گھر میں گیس لیکج سے گھر کی چھت تباہ ہوگئی تھی ۔

    گیس لیکج دھماکے سے خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد جھلس گئے تھے، جن کو بروقت ہولی فیملی ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

    ترجمان ریسکیو کا کہنا تھا کہ جھلس جانے والوں میں راج ولی اور اس کا بھائی کاشف علی جبکہ ان دونوں کی بیویاں اور 4 کم عمر بچے شامل ہیں۔

  • کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز کا ریڈ زون میں احتجاج،پولیس کا لاٹھی چارج:پولیس والے ہی زخمی ہوگئے

    کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز کا ریڈ زون میں احتجاج،پولیس کا لاٹھی چارج:پولیس والے ہی زخمی ہوگئے

    کوئٹہ :کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز کا ریڈ زون میں احتجاج،پولیس کا لاٹھی چارج:پولیس والے ہی زخمی ہوگئے،اطلاعات کے مطابق کوئٹہ میں ینگ ڈاکٹرز نے ریڈ زون جانے کی کوشش کی جس پر پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا اور 20 ڈکٹروں کو گرفتار کر لیا جبکہ 6 پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

    یاد رہے کہ بلوچستان کے ینگ ڈاکٹرز نے آج مطالبات کےحق میں ریڈزون میں وزیراعلیٰ ہاؤس کےسامنے مظاہرے کااعلان کر رکھا تھا۔یہ بھی یاد رہے کہ ینگ ڈاکٹرز مطالبات کے حق میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سےزائد عرصے سے ہڑتال اور احتجاج پر ہیں۔

    کوئٹہ سے ذرائع کے مطابق ینگ ڈاکٹرز کی سنڈیمن اسپتال سے انسکمب روڈ پر احتجاجی ریلی میں ینگ ڈاکٹرز کےعلاوہ پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسز کےنمائندے بھی شریک ہیں۔ینگ ڈاکٹرز کی ریلی کےموقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ ریڈزون کو جانے والےراستے خاردار تاریں لگا کر بند کردیے گئے ہیں۔

    ترجمان وائی ڈی اے کے مطابق پولیس کے تشدد سے10 سے زائد ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل عملےکےارکان زخمی ہوگئے۔

    دوسری طرف کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث ان ڈور سروسز اور او پی ڈیز بند ہیں۔ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث مریضوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    مریضوں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال پر بے توجہی اور بےحسی کا شکار ہیں، انہیں عوام کے کسی مسئلے کا ادراک نہیں ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال کا نوٹس لیتے ہوئے اسے فوری ختم کروائے تاکہ عوام کو سہولت میسر آسکے۔

  • بلوچستان حکومت نے ینگ ڈاکٹرز کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے

    بلوچستان حکومت نے ینگ ڈاکٹرز کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے

    بلوچستان حکومت نے ینگ ڈاکٹرز کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے

    سول لائن تھانے میں درج ینگ ڈاکٹرز کے خلاف ایف آئی آر واپس لے لی گئی ،وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی ہدایت پر ایف آئی آر واپس لی گئی ینگ ڈاکٹرز کو 27 نومبر کو ریڈزون میں احتجاج کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا ،16 ینگ ڈاکٹرز سمیت 19 افراد کو ریڈزون پر احتجاج کرنے پر گرفتار کیا تھا ،محکمہ پراسکیشن نے ایف آئی آر کی واپسی سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کردیا ،19ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیکل اسٹاف کے خلاف ریڈزون میں احتجاج اور کار سرکار میں مداخلت کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی ،ایف آئی آر درج ہونے کے بعد 19ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس اسٹاف کو گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا گیا

    واضح رہے کہ  8 نومبر کو کوئٹہ سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال،طبی سہولیات سے متعلق کیس کی ہائی کورٹ میں سماعت میں چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیوں غلط کام کرتے ہیں؟ نظام کو چلنے دیں آپ میں سے کوئی آئی جی یا ڈی آئی جی پولیس سے ملا چیف جسٹس نے ینگ ڈاکٹر کو ہڑتال اور ریلیاں نہ نکالنے کی ہدایت دی تھی-

    چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا تھا کہ اب کوئی بائیکاٹ کرے گا تو اس کی نوکری چلی جائے گی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی ہوگی،چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ پیرامیڈکس کو اپنے آپ سے الگ رکھیں-

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،عدالت نے لڑکے اور لڑکی کو کیا طلب

    خواتین کو ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کا کیس، درخواست ضمانت پر آیا فیصلہ

    شادی کا جھانسہ دے کر زیادتی کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار

    چینی شہریوں کے ساتھ ڈکیتی، ڈاکو سیکورٹی گارڈ کا اسلحہ بھی لے گئے

    ڈولفن اہلکار بپھر گئے، شہریوں پر کیا تشدد

  • کوئٹہ:  ینگ ڈاکٹرز کا اوپی ڈیز ، ان ڈور سروسزاور آپریشن تھیٹرز کا بائیکاٹ جاری،مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    کوئٹہ: ینگ ڈاکٹرز کا اوپی ڈیز ، ان ڈور سروسزاور آپریشن تھیٹرز کا بائیکاٹ جاری،مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا

    کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے اوپی ڈیز ، ان ڈور سروسزاور آپریشن تھیٹرز کا بائیکاٹ جاری ہے –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ینگ ڈاکٹرز نے ساتھیوں کی رہائی کے لیے ڈیوٹیز سے بائیکاٹ کر رکھا ہے جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ینگ ڈاکٹرز کا مطالبہ کہ کوئٹہ میں دھرنے کے دوران گرفتار کیے گئے ڈاکٹروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی بھی مطالبات میں شامل ہے۔

    بلوچستان حکومت نے پہلے ہی ایم آر آئی میشن کے لیے 250 ملین روپےجاری کر دیئے ہیں۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلی میر عبدالقدوس بزنجو نے رقم جاری کردی ہے بہت جلد ایم آر آئی اور سی ٹی سکین مشینیں کام شروع کر دیں گی۔

    واضح رہے کہ ینگ ڈاکٹرز نے 22 نومبر کو اپنے مطالبات کے حق میں کوئٹہ کے ریڈ زون میں دھرنا دیاتھا جس سے نہ صرف کوئٹہ شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوا تھا بلکہ تعلیمی اداروں کو جانے والے طلبہ وطالبات بھی کئی دنوں تک مشکلات سے دوچار رہے تھے۔

    کوئٹہ سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال: اب کوئی ڈاکٹر بائیکاٹ کرے گا تو اس کی نوکری چلی جائے گی عدالت

    جس پر کوئٹہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 30 نومبر کو دھرنے میں شامل19 افرادگرفتار کیے تھے جن میں 15 ڈاکٹرز اور چار پیرامیڈیکس سٹاف ممبرز شامل ہیں- گرفتار افراد کو عدالت نے چھ دسمبرتک قید کی سزا سنائی تھی اور پولیس نے انہیں جیل منتقل کردیا تھا۔

    لوچستان میں ینگ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کا احتجاج اب ایک معمول بن چکا ہےاور حالیہ احتجاج دو ماہ قبل شروع ہوا تھا لیکن 23 نومبر سے شدید سردی کے باوجود انھوں نے گورنر ہاﺅس کے قریب دھرنا دیا تھا ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کو مطالبات کی جو فہرست پیش کی گئی ہے وہ 24 نکات پر مشتمل ہے۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کے سپریم کونسل کے رکن ڈاکٹر ارسلان کے مطابق ان 24 مطالبات میں سے دو تین کے سوا باقی تمام مطالبات مریضوں کی بھلائی کے لیے ہیں حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے بلوچستان میں سرکاری ہسپتال کھنڈرات بنے ہوئے ہیں اور ان میں علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جب مریض ہسپتال آتے ہیں تو ادویات اور دیگر سہولیات نہ ہونے پر وہ اپنا سارا غصہ ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کے عملے پر نکالتے ہیں۔

    پاکستان میں کورونا سے 8 افراد جاں بحق، 904 مریضوں کی حالت تشویشناک

    ہسپتالوں میں ادویات اور جدید مشنری کو یقینی بنانا ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کا کام نہیں ہوتا بلکہ یہ کام حکومت کا ہے لیکن چونکہ ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین کے سامنے ڈاکٹر یا دیگر طبی عملہ ہوتا ہے اس لیے انھیں لوگوں کے اشتعال اور غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ینگ ڈاکٹروں کے ذاتی فائدے کے جو مطالبات ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے اور جو پوسٹ گریجوایٹ سٹوڈنٹس ہیں ان کو ملک کے دیگر اچھے اداروں میں پڑھنے کے لیے ڈیپوٹیشن پر جانے کی اجازت دی جائے۔ 2016 میں ان کی تنخواہ 80 ہزار روپے مقرر کی گئی تھی لیکن اس کے بعد اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 8 نومبر کو کوئٹہ سرکاری اسپتالوں میں ہڑتال،طبی سہولیات سے متعلق کیس کی ہائی کورٹ میں سماعت میں چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کیوں غلط کام کرتے ہیں؟ نظام کو چلنے دیں آپ میں سے کوئی آئی جی یا ڈی آئی جی پولیس سے ملا چیف جسٹس نے ینگ ڈاکٹر کو ہڑتال اور ریلیاں نہ نکالنے کی ہدایت دی تھی-

    چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا تھا کہ اب کوئی بائیکاٹ کرے گا تو اس کی نوکری چلی جائے گی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کارروائی ہوگی،چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ پیرامیڈکس کو اپنے آپ سے الگ رکھیں-

  • "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    "وکیلوں اور ینگ ڈاکٹرز کی بدمعاشی میں پستی عوام اور اسلام آباد کی ٹویٹس” تحریر: محمد عبداللہ

    ینگ ڈاکٹرز اپنی جگہ بدمعاش ہیں جب چاہتے ہیں اسپتالوں کا نہ صرف بائیکاٹ کرتے ہیں بلکہ معمول OPDs اور وارڈز کو تالے تک لگوا دیتے ہیں حتیٰ کے ایمرجنسی میں بھی ڈاکٹرز دستیاب نہیں ہوتے جس کی وجہ سے مریض خوار ہوتے رہتے ہیں کچھ دن قبل ہی ہمارے دوست کے والد محترم جناح اسپتال لاہور میں ان ڈاکٹرز کی بدمعاشی کی وجہ سے فوت ہوئے.
    اسی طرح یہ کالے کوٹ والے بھی "ریاست کے اندر ریاست” ہیں. قانون کے سارے داؤ پیچ جانتے ہیں مخالف کو قانون کے عین مطابق کیسے چاروں شانے چت گرانا ہے اس میں خوب ماہر ہوتے ہیں پھر ججز کی کرسیوں پر بیٹھے عزت مآب منصف تو ہوتے ہی ان کی قبیل کے ہیں لہذا "سانوں کسے دا ڈر نہیں” کے مصداق جب چاہیں جہاں چاہیں قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں کیونکہ آئین تو ہے ہی ان کی جیب میں…
    اسی طرح پولیس کی بدمعاشی بےچارے معصوم شہریوں کے لیے ہی ہے صلاح الدین جیسے فاطر العقل لوگ ہی ان کی بربریت کا شکار ہوسکتے ہیں کیونکہ ان قانون کے لباس میں ملبوس غنڈوں اور مسیحائی کے نام پر قاتلوں کے سامنے پولیس بے بس اور خاموش تماشائی ہے. کل کے سانحہ میں بھی پولیس کی اپنی گاڑیاں تک جلا دی گئیں مگر پولیس نے ان کالے کوٹوں کو کھل کھیلنے کا بھرپور موقع دیا جس کی وجہ سے کئی جانیں ان کے تماشے کی بھینٹ چڑھ گئیں.
    لیکن کیا کریں جی اسلام آباد میں خوبصورت وزیراعظم صاحب بیٹھے ہیں جو تقریر بڑی خوبصورت کرتے ہیں جو رلانا تو کرپٹ سیاستدانوں کو چاہتے تھے مگر اب تک تو ہم نے عوام ہی روتی دیکھی ہے، عوام ہی پٹتی دیکھی ہے اور عوام ہی مرتی دیکھی ہے اور ملک کو لوٹنے والے کرپٹ سیاستدان جیلوں سے باہر قانون اور آئین کو "مڈل فنگر” دکھا کر جاچکے ہیں، اس قانون کے رکھوالے اور شارح اسپتالوں پر حملے کر رہے ہیں، ان کو روکنے والے اور امن و امان کو بحال رکھنے والے خاموش تماشائی ہیں اور ان سب کو چلانے والی اسلام آباد کی گورنمنٹ تقاریر اور ٹویٹس میں مصروف ہے.
    کل ان کالے کوٹوں کے ڈاکٹرز پر حملے میں مرنے والی بھی عوام اور آج ڈاکٹرز اور وکلاء کے احتجاج کے باعث کورٹ کچہریوں، اسپتالوں اور سڑکوں پر خوار ہونے والی بھی عوام الناس ہے. نہ ڈاکٹرز کا کچھ بگڑا نہ وکلا کو کوئی خراش آئی نہ پولیس والوں میں درد عوام پیدا ہوا نہ اسلام آباد کے کانوں پر کوئی جوں رینگی…..
    گڈ گورنس اور عوامی مسائل کا حل گئے تیل لینے… کاش اسلام آباد کے باسیوں کو یہ اندازہ بھی ہوجائے کہ چوبرجی اور بہالپور والے نان اسٹیٹ ایکٹرز نہیں بلکہ اصل نان اسٹیٹ ایکٹرز تو یہ کالے کوٹوں والے بدمعاش اور مسیحائی کے نام پر دھندا کرنے والے ڈاکٹرز ہیں جن پر ریاست کی بھی نہیں چلتی بلکہ یہ خود ریاست کے اندر ریاست ہیں….

  • "مسیحاؤں کی غنڈہ گردی اور حکومت کی بے بسی” تحریر: محمد عبداللہ

    جی یہ قوم کے مسیحا ہیں جو گزشتہ ایک مہینے سے قوم کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہیں. ہر دوسرے روز سرکاری اسپتالوں کا عملہ بشمول نرسز، خاکروب سڑکیں بلاک کرکے جبکہ ڈاکٹرز آرام سے پرائیویٹ کلینکس میں بیٹھے پیسے چھاپ رہے ہوتے ہیں.ایم ٹی آئی ایکٹ کی نامنظوری اور دیگر چند مطالبات کی منظوری کے لیے ہڑتال کے نام پر سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز اور یہاں تک کہ ایمرجنسی تک کو بند کرکے خود پرائیویٹ کلینکس میں جا بیٹھتے ہیں اور سرکاری اسپتالوں کا عملہ سڑکوں پر آبیٹھتا ہے. ایک طرف تو ان اسپتالوں میں دور دراز سے آئے ہوئے ہزاروں غریب افراد جو پرائیویٹ علاج افورڈ نہیں کرسکتے وہ بے چارے رل رہے ہوتے ہیں، ڈاکٹرز اور عملے کی منتیں کر رہے ہوتے ہیں جبکہ قوم کے یہ مسیحا فرعون کے لہجے میں رعونت بھری نگاہ ڈال کر گاڑی میں جا بیٹھتے ہیں.
    پولیس کے نظام میں اصلاحات کیوں ضروری ہیں؟ ؟؟ محمد عبداللہ
    ابھی کچھ دن قبل ہی ساہیوال سے ہمارے دوست کہ جن کے والد صاحب لاہور جناح اسپتال میں ایمرجنسی میں وارڈ میں تھے مگر کوئی ڈاکٹر ان کو پوچھنے تک نہ آیا اور وہ ایمرجنسی وارڈ ہی میں اپنی جان ہار گئے. یہ ایک کہانی نہیں ایسی سینکڑوں کہانیاں ہیں کبھی اقتدار کی غلام گردشوں میں بیٹھے لوگ کبھی اپنی اونچی مسندوں سے نیچے اتریں اور آکر دیکھیں کہ کیسے ان کی رعایا صحت و انصاف کے لیے اسپتالوں اور کچہریوں میں رل رہی ہے اور باقی ماندہ سڑکیں بند ہونے اور قوم کے ان مسیحاؤں کی بدمعاشی سے سڑکوں پر لمبی لائنوں میں کھڑی ہے. دور دراز سے محنت مزدوری اور دیگر ضروریات کے لیے لاہور آنے والے اور شہر کے اندر ہی سے کام کاج کے سلسلے میں سفر کرنے والے لوگ جب روزانہ کی بنیاد پر یوں سڑکوں پر ہی خوار ہوتے رہیں گے تو خاک کاروبار ہوگا اور ملکی معیشت چلے گی.

    عورت اور اسلامی معاشرہ ….. محمد عبداللہ
    جس غریب کی ان احتجاجوں کی وجہ سے دیہاڑی نہ لگ سکے اس کا چولہا کیسے جلے گا؟ کیا قوم کے ان مسیحاؤں کو یہ احساس ہے کہ ان کی آئے دن ہڑتالیں کتنے گھروں کے چولہے بجھا دیتی ہیں اور کتنے مجبور اور بے کس باپوں کو بھوک سے بلکتے بچوں کو دیکھنے کی تاب نہ لاتے ہوئے خودکشیوں پر مجبور کردیتی ہیں. کیا ہمارے حکمرانوں کو احساس ہے کہ ان کی گورنس میں کیسے یہ مٹھی بھر طبقہ پورے معاشرے اور قوم کو عذاب میں ڈالے ہوئے ہے؟
    کیوں یہ ہر دوسرے دن سڑکوں پر آن موجود ہوتے ہیں اور ملک و قوم کو عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں، سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات کی بندش سے غربت کی چکی میں پستے مریضوں کے لیے سامان مرگ کررہے ہیں. قوم ان مسیحاؤں کی غنڈہ گردی پر حکمرانوں سے سراپا سوال ہیں کہ ان ریاست ان کو کنٹرول کرنے میں ناکام کیوں ہے؟

    کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے ….. محمد عبداللہ

    محمد عبداللہ کے دیگر مضامین پڑھیے اور انکے بارے میں جانیے

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • مریضوں کے لیے خیرخواہی نہیں‌ اور کرتے ہیں‌ اپنے لیے بار بار جگہ جگہ مظاہرے  ، ینگ ڈاکٹرز کی شامت آگئی

    مریضوں کے لیے خیرخواہی نہیں‌ اور کرتے ہیں‌ اپنے لیے بار بار جگہ جگہ مظاہرے ، ینگ ڈاکٹرز کی شامت آگئی

    لاہور :مریضوں کے لیے خیرخواہی نہیں‌اور کرتے ہیں‌ ، اور کرتے ہیں‌اپنے لیے بار بار جگہ جگہ مظاہرے ، ینگ ڈاکٹرز کی شامت آگئی ، اطلاعات کےمطابق پنجاب میں ٹیچنگ ہسپتالوں کے خلاف احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے،

    خیبرپختونخوامیں ڈینگی کےمریضوں کی تعداد3000سےتجاوزکرگئی

    پنجاب حکومت کے ذرائع کے مطابق حکومت نے 25 ستمبر کو گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے والے ڈاکٹرز کی لسٹیں مانگ لیں، مظاہرے میں شریک نرسز اور پیرامیڈیکس کو شوکاز نوٹس دینے اور محکمانہ کارروائی کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیئے گئے، گرینڈ ہیلتھ الائنس نے بھی جوابی حکمت عملی پر غور شروع کر دیا ۔

     

    زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں‌ 30لاکھ سے زائد ادویات اور سرجیکل سامان روانہ کررہے ہیں،ظفرمرزا

    ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور سمیت صوبے بھر میں ٹیچنگ ہسپتالوں نے نرسز اور پیرامیڈیکس کے احتجاج میں شریک ہونے والے نمائندوں کو شوکاز جاری کرتے ہوئے تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔یہ کارروائی کب عمل میں‌لائے جائے گی اس کے بارے میں اگلے 24 گھنٹوں میں فیصلہ کرلیا جائے گا

     

    نجاب میں رواں سال ڈینگی مریضوں کی تعداد 2ہزار900 تک پہنچ گئی ، مزید 4 افراد جانبحق

    حکومت کیطرف سے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی پر گرینڈ ہیلتھ الائنس نے بھی اس صورتحال پر جوابی حکت عملی وضع کرنے کیلئے صلاح مشورے شروع کر دیئے ہیں اور احتجاج میں مزید شدت لانے کا جائزہ لیا گیا ہے۔

  • حکومت اور ینگ ڈاکٹرز پھر آمنے سامنے ، ینگ ڈاکٹرز کو موقع مل گیا

    حکومت اور ینگ ڈاکٹرز پھر آمنے سامنے ، ینگ ڈاکٹرز کو موقع مل گیا

    لاہور : ینگ ڈاکٹرز کو حکومت کے خلاف اپنے مطالبات منوانےکا پھر موقع مل گیا ، اطلاعات کے مطابق صحت کی سہولیات دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، پنجاب حکومت نجکاری کرکے اس ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوسکتی، اگر ایم ٹی آئی آرڈیننس بل لایا گیا تو پنجاب اسمبلی اور گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کیا جائے گا، ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن پنجاب نے پنجاب حکومت کو خبردار کردیا۔

    ذرائع کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے عہدیداروں نے لاہور جنرل ہسپتال میں پریس کانفرنس کی، صدر وائے ڈی اے پنجاب ڈاکٹر قاسم اعوان کا کہنا تھا کہ وائے ڈی اے ٹیسٹوں کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتی ہے، ایم ٹی آئی ایکٹ لانا عوام کے مینڈیٹ کیساتھ دھوکہ ہے، ایم ٹی آئی ایکٹ لایا گیا تو پنجاب اسمبلی اور گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے۔