Baaghi TV

Tag: یورپی ممالک

  • افغان مہاجرین یورپ کیلیےخطرہ، سویڈن کا یورپی ممالک سے ایکشن لینے کا مطالبہ

    افغان مہاجرین یورپ کیلیےخطرہ، سویڈن کا یورپی ممالک سے ایکشن لینے کا مطالبہ

    افغان مہاجرین کی غیر قانونی سرگرمیاں اور جرائم یورپی ممالک کے لیے سنگین سکیورٹی خطرہ بن گئیں۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی، ایران اور ترکیہ کے بعد سویڈن نے بھی افغان مہاجرین کو ملک چھوڑنے کا الٹی میٹم جاری کر دیا۔ سویڈن کے وزیر برائے امیگریشن کا افغان مہاجرین سے متعلق سخت موقف سامنے آگیا ہےسویڈن نے یورپی یونین سے افغان مہاجرین کے لیے دستاویزات کا مشترکہ نظام مانگ لیا۔ سویڈش وزیر نے واضح کردیا کہ جرائم پیشہ افغان مہاجرین کو یورپ میں رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    سویڈش وزیر برائے امیگریشن کا کہنا تھا کہ جرائم میں ملوث افغان مہاجرین ہماری سوسائٹی کا ہرگز حصہ نہیں بن سکتےجرائم میں ملوث افغان مہاجرین کو ہر قیمت پر ملک بدر کیا جائے گا۔ جرائم پیشہ اور غیر قانونی افغان مہاجرین کی فوری ملک بدری پر تمام یورپی ممالک بھی متفق ہیں،سویڈش وزیر نے یورپی ممالک کو افغان مہاجرین کو ایک جگہ جمع کر کے چارٹر فلائٹس کے ذریعے ملک بدر کرنے کی تجویز بھی دی۔

  • ایران کے جوہری پروگرام پر جرمنی، فرانس اور برطانیہ فوری مذاکرات کے لیے تیار

    ایران کے جوہری پروگرام پر جرمنی، فرانس اور برطانیہ فوری مذاکرات کے لیے تیار

    برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کے جوہری پروگرام پر فوری مذاکرات کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

    برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق تینوں یورپی ممالک نے ایران کو مذاکرات کی باضابطہ پیشکش کر دی ہے۔جرمن وزیر خارجہ واڈیفول نے بیان میں کہا ہے کہ خطے میں تنازع کے خاتمے کے لیے بات چیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کی ایک اہم شرط یہ ہے کہ ایران خطے، اسرائیل یا یورپ کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہ بنے۔

    ادھر فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام یورپ اور اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے، اور کشیدگی سے بچنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ہر حال میں مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ایران نے دوسری جانب قبرص کے صدر کے حالیہ دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    ایران اسرائیل جنگ سے متعلق پاکستان کا وائرل بیان جعلی ، سفارتی ذرائع کی تردید

    سندھ میں پلاسٹک شاپنگ بیگز پر مکمل پابندی نافذ

    ایران کے اسرائیل پر پھر بیلسٹک میزائل حملے، تہران و مشہد پر اسرائیلی بمباری

    اسرائیل نے امریکا سے مدد مانگ لی، ٹرمپ انتظامیہ کا غیر واضح مؤقف

  • یورپی ممالک عمران خان کی رہائی کیلئے سرگرم مگر کیوں؟

    یورپی ممالک عمران خان کی رہائی کیلئے سرگرم مگر کیوں؟

    سابق رکن پنجاب اسمبلی اور نجم سیٹھی کی اہلیہ جگنو محسن نے دعویٰ کیا ہے کہ یورپی اور دیگر ممالک عمران خان کی رہائی کیلئے سرگرم ہیں جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جگنو محسن نے کہا کہ اِن ممالک کا نام چیئرمین پی ٹی آئی اور اُن کی بہن نام نہیں لیں گے، اس حوالے سے اپنی معلومات اکٹھی کر رہی ہوں، جلد ہی بریکنگ نیوز شیئر کروں گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ قانون ہر ایک کیلئے یکساں ہونا چاہیے، خان صاحب قانون سے کوئی بالاتر نہیں ہیں، لیکن ان کا حق ہے کہ وہ اپنے لیے ریلیف کیلئے درخواست دیں جبکہ ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی مجھے معلوم ہے کہ یہاں یورپ میں اور یو ایس (امریکہ) میں کونسی طاقتیں ہیں، کون سے کون سے لوگ ہیں جو اس مہم میں پیش پیش ہیں، ان کا نام میرا خیال ہے ان کی بہن اور خان صاحب لیں گے نہیں، کیونکہ اس سے عیاں ہو جائے گا کہ وہ لوگ کون ہیں اور ان جڑیں کہاں پر ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چینی کی قیمت 200 تک پہنچ گئی
    شادی جلدی یا لیٹ کبھی بھی ہو سکتی ہے ایشو والی بات نہیں‌عثمان مختار
    میں آج تک اقربا پروری کا شکار نہیں‌ہوئی غنا علی
    انڈر 23 ایشین کپ 2024 کوالیفائرز کیلئے 23 رکنی سکواڈ کا اعلان
    حلیم عادل شیخ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج
    نجی ٹی وی کے مطابق چئیرمین پی ٹی آئی کی ممکنہ رہائی کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ راہ راست پر ہیں تو کوئی طاقت آپ کو جیل میں نہیں رکھ سکتی، نگراں وزیراعظم کی پیشکش کے سوال پر جگنو محسن نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نگراں وزیراعظم کی پیش کش ہوئی تھی، پیشکش پر میں نے شکریہ ادا کیا اور انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں کی بڑی شکرگزار ہوں، جنہوں نے اتنی عزت افزائی کی، جنہوں نے میرا نام پروپوز کیا میں ان کی بہت شکرگزار ہوں، جو سرکاری عہدے ہوتے ہیں ان پر فائز ہونا ہمارا کام نہیں، ہمارا کام ہے گراس روٹس میں لوگوں کو ریلیف دینا، ایمپاور کرنا اور ان کے سہولتکار بننا.

  • یورپی ممالک کو اگر مزدوروں اور نوجوانوں کے حقوق کی اتنی ہی فکر ہے تو اپنے ہاں مواقع دیں،سربراہ فیفا

    یورپی ممالک کو اگر مزدوروں اور نوجوانوں کے حقوق کی اتنی ہی فکر ہے تو اپنے ہاں مواقع دیں،سربراہ فیفا

    دوحہ: فیفا کے سربراہ گیانی انفینٹینونے قطر پہ یورپی ممالک کی جانب سے کی جانے والی تنقید پر کڑی نکتہ چینی کی ہے-

    باغی ٹی وی : گیانی انفینٹینو نے اپنی پہلی باضابطہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک کو اپنی لیکچر بازی بند کردینی چاہیے، اگر مزدوروں اور نوجوانوں کے حقوق کی انہیں اتنی ہی فکر ہے تو اپنے ہاں مواقع دیں، صرف زبانی کلامی ہمدردیاں نہ جتلائیں ہم یورپی لوگ گزشتہ تین ہزار سال سے انسانوں کے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں اس کے ازالے کے لیے ہمیں کم از کم تین ہزار سال تک ہی انسانوں سے معافی مانگنا ہو گی۔

    فیفا ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل ہی فرانس کی ٹیم کو بڑا جھٹکا

    انہوں ںے کہا کہ وہ خود کو ایک عرب و قطری محسوس کر رہے ہیں، انہوں نے قطر کی جانب سے کیے جانے والے تمام تر انتظامات کا بھرپور طور پر دفاع کیا اور اطمینان کا اظہار بھی کیا۔

    واضح رہے کہ قطر کو اس وقت سے یورپی ممالک کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جب سے اس نے فیفا ورلڈ کپ کرانے کا عندیہ دیا تھا لیکن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مزدوروں کے حقوق اور ان کے معاوضوں کے حوالے سے جاری مہم میں مزید شدت آگئی ہے۔

    یورپی ممالک کی جانب سے جاری مخالفانہ مہم اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب قطر کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ اسٹیڈیم کے اندر شراب کی فروخت پر پابندی ہو گی۔ یورپ سے تعلق رکھنے والے فیفا کے سربراہ نے اس اعلان کا بھی بھرپور دفاع کیا۔

    تاریخ کے مہنگے ترین فیفا ورلڈکپ 2022 کا آغاز آج سے ہوگا

    گیانی انفینٹنو نے یورپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کی جانب سے تنقید کے دوہرے معیار ہیں ان کاکہنا تھا کہ وہ خود کو افریقی، معذور اور تارک وطن کے طور پر محسوس کر رہے ہیں۔

    فیفا کے سربراہ نے کہا کہ قطر نے اتنی بڑی تعداد میں دیگر ممالک کے کارکنوں کو روزگار کے مواقع دے رکھے ہیں جب کہ ہم یورپی ممالک اپنی سرحدیں بند کر دیتے ہیں اور ان ممالک کے لوگوں کو آنے نہیں دیتے جن کی شرح آمدنی بہت قلیل ہے۔

    گیانی انفینٹنو ںے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر یورپی ممالک واقعی مزدوروں اور نوجوانوں سے ہمدردی رکھتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ قطر کی طرح عملی اقدام کریں اور صرف زبانی کلامی لیکچرز نہ دیں۔

    ایلون مسک کا ٹوئٹر پر فٹبال ورلڈ کپ کی کوریج کا اعلان

  • روس اور یورپی ممالک کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق

    روس اور یورپی ممالک کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق

    کئی عرصے سے جاری کشیدگی کے بعد، روس اور یورپی ممالک کے درمیان یوکرین میں جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پیرس میں روس، یوکرین، فرانس اور جرمنی کے مشیران کے طویل مذاکرات ہوئے، روسی مشیر کا کہنا ہے کہ مذاکرات سے کشیدگی کم کی جا سکتی ہے لیکن یوکرین کے مسئلے کا مستقل حل ایک اجلاس سے نہیں نکالا جاسکتا چاروں ممالک کی ایک اور میٹنگ دو ہفتوں میں برلن میں ہو گی، ساتھ ہی روس نے نیٹو سے مشرقی یورپ سے فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

    روس کی جانب سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہےکہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت بھی روکی جائے جبکہ امریکہ اور نیٹو نے روس کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے تاہم ہتھیاروں کے کنٹرول اور اعتماد سازی کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ دو روز قبل روس نے یوکرائن کی سرحد کے قریب فوجی مشقوں کی ویڈیو جاری کی تھی، روسی فوجی ٹینکوں اور میزائل لانچرز سمیت مشقوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز روس نے کہا ہے کہ صدر پوٹن پر امریکی پابندیوں سے سیاسی طور پر کوئی فرق نہیں پڑے گا تاہم یہ تباہ کُن ضرور ثابت ہوگا روس کے حکومتی ترجمان ڈمتری پیسکوو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اگر صدر ولادمیر پوٹن پر پابندی عائد کرتا ہے تو سیاسی سطح پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا تاہم اس کے نتائج مہلک ہوں گے۔

    روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

    یاد رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا تھا کہ روس کو یوکرین پر حملہ کرنے کی سخت قیمت ادا کرنی ہوگی جو بائیڈن نے روس کوخبردارکرتے ہوئے کہا کہ یوکرائن پر حملے کی روس کو جانی اورمعاشی نقصان کی صورت قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

    جوبائیڈن نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر روس اپنی فوج کی اتنی بڑی تعداد کو لے کر یوکرین پر چڑھائی کرتا ہے تو یہ جنگ دوسری جنگِ عظیم سے کئی گنا بڑی ہوگی اور دنیا کا نقشہ بدل دے گی۔

    یورپی یونین کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان

    واضح رہے کہ چند روز قبل امریکہ نے دعویٰ کیا تھا کہ روس خود پر جعلی حملے کروا کے یوکرائن پر حملہ کرے گا۔انہوں نے کہا تھا کہ روس یوکرین پر حملے کی تیاری کر رہا ہے اور اگلا ایک ہفتہ انتہائی اہم ہے۔

    دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرجی لیوروو نے کہا ہے کہ روس اپنے مطالبات کے تحریری جواب کا منتظر ہے۔ اگر مغرب اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھتا ہے تو روس کو بھی جوابی کارروائی کرنی پڑے گی۔

    روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے…

  • طالبان نے  یورپی ممالک کے دورے کو کامیابی کی پہلی سیڑھی قراردیا

    طالبان نے یورپی ممالک کے دورے کو کامیابی کی پہلی سیڑھی قراردیا

    اوسلو: طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار یورپی ممالک کے دورے کو کامیابی کی پہلی سیڑھی قراردیا کہا کہ اوسلو میں مغربی سفارت کاروں کے ملاقات ساتھ بذات خود ایک بڑی کامیابی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اوسلو میں طالبان کا وفد وزیر خارجہ کی سربراہی میں مغربی ممالک کے سفارت کاروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں مذاکرات کا مقصد دو دہائیوں کے جنگ زدہ افغانستان میں انسانی بحران کا حل ڈھونڈنا ہے۔

    امارات اسلامیہ افغانستان میں امریکی شہری دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے

    میٹنگ میں یورپی یونین، امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور ناروے کے نمائندوں نے طالبان کے وفد کے ساتھ اس کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں ملاقات کی تین روزہ اجلاس میں طالبان کے مندوب نے مغربی مذاکرات کاروں پر زور دیا کہ وہ افغان اثاثوں کو غیر منجمد کریں اور سیاسی گفتگو کی وجہ سے عام افغانوں کو سزا نہ دیں۔

    منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

    طالبان کے مندوب شفیع اللہ اعظم نے مزید کہا کہ فاقہ کشی، شدید سردیوں کی وجہ سے، میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری افغانیوں کی حمایت کرے، نہ کہ ان کے سیاسی تنازعات کی وجہ سے انہیں سزا دی جائے ان ملاقاتوں سے ہمیں یقین ہے کہ افغانستان کے انسانی ہمدردی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مدد ملے گی۔

    امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

    اوسلو کی برفانی پہاڑی کی چوٹی پر واقع سوریا موریا ہوٹل میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے وزیر خارجہ ملا امیر اللہ متقی کا کہنا تھا کہ ملاقات کا کوئی نتیجہ نکلے یا نہیں لیکن مغرب میں مغربی ممالک کے سفارت کاروں سے مذاکرات کا آغاز ہی ہوجانا اپنی ذات میں ایک بڑی کامیابی ہے ان ملاقاتوں سے ہمیں یقین ہے کہ افغانستان کے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بھی مغربی ممالک کا تعاون حاصل ہوگا۔

    دوسری جانب عالمی برادری کا اصرار ہے کہ طالبان امداد کی بحالی سے پہلے افغانستان میں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائیں جن میں لڑکیوں کی تعلیم، خواتین کی ملازمتوں میں واپسی اور تمام طبقات کو حکومت میں جگہ دینا شامل ہیں۔

    طالبان سے فائرنگ کے تبادلے میں قومی اپوزیشن گروپ کے 8 مزاحمتی جنگجو ہلاک

    طالبان کے گزشتہ برس اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کے بیرون ملک اثاثوں اور اربوں ڈالرز کے فنڈز کو منجمد کردیا گیا تھا جو افغان بجٹ کا 80 فیصد بنتے ہیں۔ فنڈز اچانک رک جانے سے کار مملکت ٹھپ اور آدھی سے زیادہ آبادی بھوک کا شکار ہوگئی ہے۔


    مذاکرات کے آغاز سے قبل اتوار کے روز افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے تھامس ویسٹ نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ایک مستحکم، حقوق کا احترام کرنے والی اور کثیر النسلی افغان حکومت کے قیام کے لیے ہم اپنے اتحادیوں، شراکت داروں اور امدادی اداروں کے ساتھ مل کر نہ صرف انسانی بحران سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ طالبان کے ساتھ اپنے خدشات کے حوالے سے بھی ڈپلومیسی جاری رکھیں گے۔

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

    ناروے نے طالبان اور مغربی ممالک کو مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم تو فراہم کیا ہے تاہم اب تک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے البتہ مذاکرات کی میزبانی کرنے پر ناروے کو کہیں کہیں تنقید کا بھی سامنا ہے اور وزارت خارجہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئےجس پر ناروے کے وزیر خارجہ نے وضاحت کی کہ ان مذاکرات کا مقصد طالبان کو قانونی حیثیت دینے یا تسلیم کرنا نہیں بلکہ جنگ زدہ ملک کو درپیش انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    طالبان کے ساتھ ملاقات کے پہلے دور میں شامل خواتین کے حقوق کی کارکن جمیلہ افغانی نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ ایک مثبت ملاقات تھی جہاں طالبان نے خیر سگالی کا مظاہرہ کیا لیکن یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ طالبان کے اقدامات کیا ہوں گے۔

    مذاکرات کے پہلے دور میں شریک ایک اور خاتون کارکن محبوبہ سراج نے کہا کہ طالبان نے ہمارا خیر مقدم کیا اور ہماری بات سنی۔ میں پر امید ہوں کہ فریقین ایک دوسرے کے بارے میں شکوک کا خاتمہ کرکے افہام و تفہیم پر قائل ہوجائیں گے۔

    طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے