Baaghi TV

Tag: یورینئیم

  • ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے لیے زیرِ زمین تنصیبات سیل کردیں،سی این این کا انکشاف

    ایران نے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے لیے زیرِ زمین تنصیبات سیل کردیں،سی این این کا انکشاف

    امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے زیرِ زمین جوہری تنصیبات کو سیل کر دیا ہے اور ان تک رسائی کے راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کر دی ہیں۔

    سی این این کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سے واقف پانچ ذرائع کے مطابق ایران نے حالیہ ہفتوں میں اپنے جوہری مواد کو مزید محفوظ بنانے کے لیے متعدد حفاظتی اقدا مات کیے ہیں ان اقدامات میں بعض زیرِ زمین سرنگوں کو بند یا منہدم کرنا اور داخلی راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کرنا شامل ہے، ان اقدامات کے بعد تقریباً نصف ٹن انتہائی افزودہ یورینیم تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل، خطرناک اور وقت طلب ہو گئی ہے،جتنا کہ صرف ایک ماہ پہلے تھا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ عوامی طور پر یہ اشارہ دے رہے تھے کہ وہ امریکی فوج کو اسے ضبط کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق بین الاقوامی اندازوں کے تحت اس ذخیرے کا بڑا حصہ وسطی ایران میں واقع اصفہان کی جوہری تنصیب کے قریب زیرِ زمین سرنگوں میں موجود ہے، جبکہ کچھ مقدار دیگر خفیہ مقامات پر بھی منتقل کی جا چکی ہے،ایرانیوں کی جانب سے نئی قلعہ بندیوں نے ٹرمپ انتظامیہ کے تہران کے ساتھ اس کے یورینیم کو ہٹانے اور تلف کرنے کے مجوزہ معاہدے میں پیچیدگی کی ایک اضافی تہہ ڈال دی ہے، اور اس اقدام سے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ اسے کھودنے کا خطرناک کام کون کرے گا-

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق مئی کے وسط میں امریکی فوج نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کے لیے ممکنہ زمینی آپریشن پر غور کیا تھا، تاہم اس منصوبے کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے مؤخر کر دیا گیا،امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ایران نے اپنی جوہری تنصیبات اور ذخائر کے تحفظ کے لیے مزید سخت حفاظتی اقدامات اختیار کیے، جس سے کسی بھی ممکنہ کارروائی کی پیچیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے،خود ایرانیوں کے لیے بھی، کئی ذرائع نے کہا کہ افزودہ مواد کو ہٹانا اب مشکل اور خطرناک ہوگا، اس کے لیے کھدائی کے بھاری آلات اور کان کنی کی کوششوں کی ضرورت ہوگی ، جو مشکل اور خطرناک ہیں۔

    اقوام متحدہ میں ایران کے سفارتی وفد نے فوری طور پر اس رپورٹ پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا،جبکہ ہاؤس نے فوری طور پر سی این این کے سوالات کا جواب نہیں دیاماہرین کے مطابق اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو ایران کے جوہری ذخائر تک رسائی مستقبل میں کسی بھی ممکنہ فوجی یا انٹیلی جنس آپریشن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

    ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جاری مذاکرات میں مواد کی حفاظت امریکہ کی ترجیح ہے جسے ایران نے مؤثر طریقے سے بند کر دیا ہے۔

    اور انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق جس نے جمعہ کو صحافیوں کو بریفنگ دی، دونوں فریق ایک معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں جس کے تحت ایران کو اپنی افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے کی ضرورت ہوگی اس اہلکار کے مطابق، اسے سائٹ پر تباہ کر دیا جائے گا اور پھر ملک سے باہر لے جایا جائے گا۔

    لیکن امریکی اور ایرانی حکام نے عارضی معاہدے کے متضاد اکاؤنٹس پیش کیے ہیں، اور اس کی صحیح شرائط ابھی تک واضح نہیں ہیں معاہدے کے مسود ے کا متنبہ جمعہ کو نیم سرکاری ایرانی خبر رساں ایجنسی کو لیک کیا گیا، جس سے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کی جانب سے غصے کی لہر دوڑ گئی-

  • یوکرین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرے گا؟

    یوکرین اپنے جوہری ہتھیار تیار کرے گا؟

    کیف: یوکرین کی وزارت دفاع کے مطابق، اگر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی فوجی امداد واپس لے لیتے ہیں تو یوکرین مہینوں کے اندر ایک ابتدائی جوہری بم تیار کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: وزارت دفاع کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک تیزی سے پلوٹونیم سے ایک بنیادی ڈیوائس بنانے کے قابل ہو جائے گا جس کی ٹیکنالوجی 1945 میں ناگاساکی پر گرائے گئے "فیٹ مین” بم سے ملتی ہے۔ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ "ایک سادہ ایٹم بم بنانا، جیسا کہ امریکہ نے مین ہٹن پروجیکٹ کے فریم ورک کے اندر کیا، 80 سال بعد کوئی مشکل کام نہیں ہوگا۔”

    یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیے درکار بڑی سہولیات بنانے اور چلانے کے لیے وقت نہ ہونے کے باعث، جنگ کے وقت یوکرین کو ملکی نیوکلیئر ری ایکٹروں سے لیے گئے ایندھن کی سلاخوں سے نکالے گئے پلوٹونیم کے استعمال پر انحصار کرنا پڑے گا۔

    یہ امکان ہفتوں پہلے اس وقت پیدا ہوا تھا جب اکتوبر میں صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ انہوں نے ستمبر میں نیویارک شہر میں ہونے والی میٹنگ کے دوران ٹرمپ کو بتایا تھا کہ یوکرین یا تو نیٹو میں شامل ہو جائے گا یا جوہری ہتھیار تیار کر لے گا۔

    زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے انہیں سنا ہے اور کہا ہے کہ "یہ ایک منصفانہ دلیل تھی، بعد میں انہوں نے اس بیان کو واپس لیتے ہوئے کہا کہ یوکرین جوہری ہتھیاروں نہیں بنائے گا،تاہم، زیلنسکی کے بیان نے قیاس آرائیوں کو جنم دیا کہ آیا یوکرائنی جوہری ہتھیاروں کا پروگرام تکنیکی اور سیاسی نقطہ نظر سے حقیقت پسندانہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین سالوں کے اندر کم از کم ایک قدیم جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، حالانکہ اس کے لیے کافی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوگی۔

    امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کی سینئر انٹیلی جنس سروس کے ایک ریٹائرڈ رکن جان سیفر نے 5 نومبر میں ٹرمپ کی فتح پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، "میرا اندازہ ہے کہ ہر کوئی جوہری ہتھیار حاصل کرنے والا ہے۔

    سیفر، جو اب اٹلانٹک کونسل کے تھنک ٹینک کے ساتھی ہیں، ان خدشات کا ذکر کر رہے تھے کہ ٹرمپ کی اقتدار میں واپسی امریکہ کو تنہائی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، جس سے مغربی اتحادی، بشمول نیٹو ممبران اور یوکرین، امریکی حمایت کے بغیر اپنا دفاع کرنے کی ضرورت پر غور کر رہے ہیں۔