Baaghi TV

Tag: یورینیم

  • امریکا اسرائیل کیجانب سے دوبارہ حملہ ہوا تو  یورینیم کی 90 فیصد افزودگی پر غور کریں گے،ایران

    امریکا اسرائیل کیجانب سے دوبارہ حملہ ہوا تو یورینیم کی 90 فیصد افزودگی پر غور کریں گے،ایران

    ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملہ کیا گیا تو یورینیم کی 90 فیصد افزودگی جیسے سخت اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔

    ایرانی پارلیمان کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اگر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ جارحیت کی گئی تو ایران ممکنہ طور پر یورینیم کی 90 فیصد تک افزودگی پر غور کرے گا اس معاملے کا پارلیمنٹ میں جائزہ لیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سخت لہجہ اختیار کیا اور ایران کے ساتھ ہونے والی موجودہ جنگ بندی کے بارے میں کہا کہ یہ اس وقت لائف سپورٹ پر ہے جو کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے انہوں نے ایران کی جانب سے بھیجی گئی امن تجاویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا کہ ایران نے ایک فضول دستاویز بھیجی ہے جسے پڑھنے کا بھی میرا دل نہیں کیا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران پہلے اپنا یورینیم دینے پر راضی تھا لیکن اب وہ اس سے مکر رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ صرف امریکا اور چین ہی جوہری مواد کو محفوظ طریقے سے منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ان پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے اور وہ ایران کے خلاف مکمل فتح حاصل کر کے رہیں گے۔

    ایران نے بھی امریکی دھمکیوں کا جواب دینے کے لیے کمر کس لی ہے اور بحری دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے آبنائے ہرمز میں اپنی چھوٹی آبدوزیں روانہ کر دی ہیں ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آبدوزیں آبنائے ہرمز کی چھپی ہوئی محافظ ثابت ہوں گی اور کسی بھی دشمن کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دیں گی۔

    ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور دنیا پہلے بھی دیکھ چکی ہے کہ غلط فیصلوں اور غلط حکمت عملی کا انجام ہمیشہ بھیانک ہوتا ہے،ہم ہر قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور اگر امریکا نے کوئی غلطی کی تو اسے وہ نتائج بھگتنے پڑیں گے جو اسے حیران کر دیں گے۔

    دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس کے ریئر ایڈمرل محمد اکبرزادہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے محافظوں نے ثابت کر دیا ہے کہ اس اہم آبی گزرگاہ پر ایران کا مؤثر اور طاقتور کنٹرول موجود ہے،ایران آبنائے ہرمز کو صرف ایک محدود جغرافیائی مقام کے طور پر نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے، جو دیگر ممالک کی سوچ سے مختلف ہےماضی میں آبنائے ہرمز کو صرف ہرمز اور جزائر کے اطراف موجود ایک محدود علاقہ تصور کیا جاتا تھا، تاہم اب صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔

    ایرانی عہدیدار کے مطابق ماضی میں اس آبی گزرگاہ کی چوڑائی 20 سے 30 میل سمجھی جاتی تھی، لیکن اب یہ 200 سے 300 میل یعنی تقریباً 500 کلومیٹر تک پھیل چکی ہے، جو جاسک اور سیریک سے جزیرہ قشم اور تنبِ بزرگ سے آگے تک محیط ’چاند‘ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

    محمد اکبرزادہ نےکہا کہ ایران کی خطے کے دیگر ملکوں کے عوام سے کوئی دشمنی نہیں، تاہم بعض حکومتیں ہمیشہ ایران مخالف رویہ اپناتی رہی ہیں بعض ممالک ایران کے ہر اقدام کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں جیسے ایران انہیں فتح کرنا چاہتا ہو، حالانکہ یہ تصور مکمل طور پر غلط ہے اور ایران کے بارے میں یہ ایک منفی اور جھوٹی تصویر بنائی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایران نے توانائی، تجارتی سامان کی ترسیل اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں کبھی رکاوٹ پیدا نہیں کی بلکہ عالمی برادری کو وسیع خدمات فراہم کیں بعض مواقع پر ایران نے اپنے علاقائی پانیوں سے گزرنے والے جہازوں، حتیٰ کہ مخالف ممالک کے بحری جہازوں کو بھی سیکیورٹی فراہم کی اور یہ خدما ت مفت مہیا کی گئیں۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ ایران خطے میں ہونے والی تمام نقل و حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے سمندری حدود اور قومی مفادات پر کسی قسم کی جارحیت کی اجازت نہیں دے گا خطے میں بدلتے حالات کے تناظر میں نئی پالیسیاں نافذ کی جا رہی ہیں، جن کے اثرات دنیا جلد دیکھے گیانہوں نے ایرانی عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ایران کی مسلح افواج ملک کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے دفاع کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔

  • یورینیم نکالنے کیلئے  ٹرمپ کی  اپنے قریبی مشیروں کو ایران پر دباؤ ڈالنے کی ہدایت،وال اسٹریٹ جرنل

    یورینیم نکالنے کیلئے ٹرمپ کی اپنے قریبی مشیروں کو ایران پر دباؤ ڈالنے کی ہدایت،وال اسٹریٹ جرنل

    امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے افزودہ یورینیم نکالنے کے لیے ممکنہ فوجی آپریشن پر غور کر رہے ہیں۔

    اخبار کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران سے تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ یورینیم نکالنے کا یہ مشن نہایت پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتا ہے، جس کے لیے امریکی فوج کو کئی دن تک ایران کے اندر موجود رہنا پڑ سکتا ہے تاہم صدر ٹرمپ نے ابھی تک اس آپریشن کا حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن اسے ایک ممکنہ آپشن کے طور پر زیر غور رکھا گیا ہےصدر ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران پر دباؤ بڑھائیں تاکہ وہ جنگ کے خاتمے کی شرط کے طور پر یورینیم حوالے کرے ،اگر ایران مذاکرات کے دوران یورینیم حوالے کرنے پر آمادہ نہ ہوا تو طاقت کے استعمال کا امکان بھی موجود ہے،یورینیم پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے محدود اور ہدفی فوجی کارروائی جنگ کے دورانیے کو زیادہ طویل نہیں کرے گی، تاہم اس کے خطرات اور نتائج انتہائی حساس ہو سکتے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ امریکا ماضی میں بھی ایسے حساس مشنز کر چکا ہے، جن میں 1994 میں قزاقستان اور 1998 میں جارجیا سے یورینیم منتقل کرنے کے آپریشنز شامل ہیں تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اس نوعیت کا کوئی آپریشن کیا گیا تو اس کے خطے کی سکیورٹی صورتحال اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کا کام صدر کو مختلف آپشنز فراہم کرنا ہے اور مختلف آپشنز کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے اس معاملے پر پینٹاگون اور سینٹرل کمانڈ کے ترجمانوں نے فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

  • ایران فی الحال یورینیم افزودگی نہیں کر رہا،امریکا

    ایران فی الحال یورینیم افزودگی نہیں کر رہا،امریکا

    امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران اس وقت یورینیم کی افزودگی نہیں کر رہا۔

    مارکو روبیو نے کہا کہ ایران اس صلاحیت کے حصول کی کوشش ضرور کر رہا ہے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران بین البراعظمی بیلسٹک میزائل حاصل کرنے کی کوشش میں بھی مصروف ہے ایران کے پاس ایسے روایتی ہتھیار موجود ہیں جو امریکا پر حملے کے لیے تیار کیے گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایران طویل عرصے سے امریکا کے لیے ایک انتہائی سنگین خطرہ ہے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات زیادہ تر اس کے جوہری پروگرام پر مرکوز ہوں گے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ سفارت کاری کبھی مکمل طور پر ختم ہوتی یا میز سے ہٹتی ہے۔

    دوسری جانب امریکا نے ایران کے جواہری معاہدے کے لیے مذاکرات سے قبل ایران پر نئی پابندیاں لگا دیں۔

    30 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ،ڈرون ایکٹیویٹی پر پابندی

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے 30 سے زائد افراد، اداروں اور بحری جہازوں پر پابندی کا اعلان کیا ہے ، جن پر ایرانی پیٹرولیم کی غیر قانونی فروخت اور اسلحہ سازی میں معاونت کرنے کا الزام ہے،ایران کے مبینہ شیڈو فلیٹ میں شامل جہازوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے جو ایرانی تیل و پیٹرولیم مصنوعات کو بیرونی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں،اس اقدام کا مقصد ایرانی حکومت کے مالی ذرائع کو محدود کرنا ہے۔

    راولپنڈی کی عوام جواب چاہتی ہے۔ تجزیہ: شہزاد قریشی

    امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران مالیاتی نظام کا استعمال غیر قانونی تیل فروخت کرنے، اس کی آمدنی چھپانے، اپنے جوہری اور روایتی ہتھیاروں کے پروگرام کیلئے پرزہ جات حاصل کرنے اور دہشتگرد گروہوں کی حمایت کیلیے کرتا ہے انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ایران کی ہتھیاروں کی صلاحیت اور دہشتگردی کی حمایت کو ختم کرنے کیلئےٹرمپ انتظامیہ زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھے گی۔

  • ایران کا یورینیم کی افزودگی  ترک کرنے سے انکار

    ایران کا یورینیم کی افزودگی ترک کرنے سے انکار

    تہران:ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اضح کیا کہ یورینیم کی افزودگی ایران کا بنیادی حق ہے اور اسے کسی صورت روکا نہیں جا سکتا۔

    ایران نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے باوجود اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرنے کے امکان کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہےایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک امریکی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ یورینیم کی افزودگی ایران کا بنیادی حق ہے اور اسے کسی صورت روکا نہیں جا سکتا۔

    عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اگرچہ فی الحال افزودگی کا عمل رکا ہوا ہے، تاہم اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ حالیہ بمباری سے جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے ہم یورینیم کی افزودگی کو ترک نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ ایرانی سائنسدانوں کی محنت کا نتیجہ ہے اور ہماری قوم کے لیے باعث فخر ہے،مستقبل میں کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کو افزودگی کا حق ضرور حاصل ہونا چاہیے، کیونکہ یہ ایران کی خودمختار ٹیکنالوجی ہے، جو کسی بیرونی طاقت کی مرہون منت نہیں۔

    سوات:چھٹیاں کرنے پر مدرسے کے اساتذہ کا مبینہ تشدد ، کم عمر طالب علم جاں بحق

    عباس عراقچی سے پوچھا گیا کہ بمباری سے پہلے محفوظ کیا گیا افزودہ یورینیم بچایا جا سکا یا نہیں تو انہوں نے تفصیلات سے لاعلمی ظاہر کی تاہم انہوں نے بتایا کہ ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم اس پہلو کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اصل میں کتنے جوہری مواد کو نقصان پہنچا ہے،اگرچہ تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، لیکن جوہری ٹیکنالوجی ایران کے اپنے سائنسدانوں کی تخلیق ہے، جسے کسی فضائی حملے سے مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا یہ مسئلہ جنگ یا بمباری سے حل نہیں کیا جا سکتا۔

    کوہستان کرپشن اسکینڈل : گرفتار ٹھیکیدار 7 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے

    واضح رہے کہ امریکا نے 22 جون کو ایران کی 3 جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے، جن میں تہران کے جنوبی علاقے میں زیر زمین واقع فوردو کی یورینیم افزودگی تنصیب بھی شامل تھی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کو کامیاب کارروائی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ان تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

  • بھارت میں جوہری مواد کی چوری،دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی

    بھارت میں جوہری مواد کی چوری،دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی

    بھارت میں جوہری مواد کی چوری، اسمگلنگ اور تابکار حادثات کے تسلسل نے عالمی برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

    ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود بھارت کی جوہری تنصیبات اور مواد کی تیاری سے متعلق حفاظتی اقدامات میں مسلسل کوتاہیاں سامنے آ رہی ہیں، جو نہ صرف خود بھارت بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں، سکیورٹی ماہرین اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ بھارت میں ایٹمی مواد کی تیاری، تجربات اور ان کی نگرانی میں سنگین خامیاں موجود ہیں۔

    ساؤتھ ایشیا اسٹریٹجک اسٹیبیلٹی انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق 1994 سے 2021 کے دوران بھارت میں جوہری مواد کی چوری کے 18 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں چوری ہونے والے مواد کی مقدار 200 کلوگرام سے تجاوز کر گئی ہے ان واقعات میں شامل متعدد کیسز میں ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا جن کے قبضے سے یورینیم یا کیلیفورنیم جیسے خطرناک تابکار مادے برآمد ہوئے۔

    پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا معیار،بہتری کے لیے تجاویز اور عملی اقدامات

    نیوکلئیر تھریٹ انیشی ایٹو (NTI) کی 2024 کی رپورٹ بھی بھارت کی جوہری سلامتی کے نظام پر شدید سوالات اٹھاتی ہے اس رپور ٹ میں بھارت کو 22 ممالک کی فہرست میں 20 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، جب کہ ایٹمی تنصیبات کے تحفظ کے عالمی انڈیکس میں بھا رت 47 ممالک میں سے 40 ویں نمبر پر ہے صرف یہی نہیںNTI نے متعدد بار بھارت میں ممکنہ جوہری حادثات سے قبل خبردار بھی کیا، مگر حکومتی عدم توجہ نے ان خطرات کو حقیقت بنا دیا۔

    نومبر 1994 میں بھارت کے علاقے دومیاسیات سے 2.5 کلوگرام یورینیم اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنائی گئی 1998 میں 100 کلوگرام سے زائد یورینیم اسمگل کرنے کی کوشش بھی ریکارڈ پر ہے اسی برس جولائی میں تامل ناڈو سے 8 کلوگرام، مئی 2000 میں ممبئی سے 8.3 کلوگرام اور اگست 2001 میں مغربی بنگال سے 200 گرام نیم تیار شدہ یورینیم برآمد ہوا۔

    برونائی کے سلطان کی آسیان اجلاس میں اچانک طبیعت خراب ، اسپتال منتقل

    2018 میں کولکتہ میں پانچ افراد کے قبضے سے 1 کلوگرام یورینیم برآمد ہوا مئی 2021 میں مہاراشٹرا سے 7 کلوگرام یورینیم اور جون 2021 میں جھارکھنڈ سے 6.4 کلوگرام یورینیم قبضے میں لیا گیا اسی سال کولکتہ ایئرپورٹ پر 250 گرام کیلیفورنیم بھی برآمد کیا گیا جو کہ شدید تابکار اور مہنگا مواد ہے۔

    جولائی 2024 میں بھارت کے حساس ترین ادارے، بھابھا ایٹمی تحقیقاتی مرکز سے تابکار آلہ چوری ہو ا اگست 2024 میں ایک اور تابکار مادہ، جو کیلیفورنیم سے مشابہہ تھا، قبضے میں لیا گیاان تمام واقعات نے عالمی اداروں اور ماہرین کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ بھارت کی جوہری سلامتی پر نظر ثانی کریں۔

    یکم جون سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    ماہرین کے مطابق بھارت کی یہ کمزوریاں نہ صرف خود اس کے لیے خطرناک ہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں جوہری تحفظ کے عالمی پروٹوکولز کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں تابکار مواد کی بار بار چوری اور اس کی اسمگلنگ کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت جوہری ہتھیار رکھنے کے باوجود بین الاقوامی ذمے داریوں کو سنجیدگی سے لینے میں ناکام رہا ہے۔

  • ایران یورینیم کی 60فیصد تک افزودگی کر چکا ہے،ایٹمی توانائی ایجنسی

    ایران یورینیم کی 60فیصد تک افزودگی کر چکا ہے،ایٹمی توانائی ایجنسی

    واشنگٹن: سربراہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران ایٹم بم بنانے کے قریب پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی : رافیل گروسی نے کہاکہ ایران یورینیم کی ساٹھ فیصد تک افزودگی کر چکا ہے جبکہ ایٹم بم بنانے کے لئے 90 فیصد یورینیم کی افزودگی کی ضرورت ہے۔

    ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے ایٹمی تنصیبات پر حملوں کا خطرہ بھی بڑھا ہے امریکا نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کی ایٹمی تنصیبات اور تیل کی تنصیبات پر حملوں سے گریز کرے ایران میں ایٹمی تنصیبات کتنی ہیں، ان کی نوعیت کیا ہے اور ایران کس حد تک ایٹمی قوت کا حامل ہے یہ تمام باتیں بہت اہم ہیں اور تجزیہ کاروں کی توجہ بھی حاصل کر رہی ہیں۔

    ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کی موجودگی اور اس کے جاری رہنے سے متعلق خبروں کی تردید کی ہے ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی نگرا ن ادارے آئی اے ای اے کے مطابق ایران نے 2003 میں اپنا ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا خفیہ پروگرام روک دیا تھا، 2015 میں ایران نے امریکا، چین، روس، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین سے معاہدہ کیا جس کے تحت وہ ایٹمی ہتھیاروں کی طرف لے جانے والے پروگرام سے دست بردار ہوا اور اسے اقتصادی پابندیوں میں کچھ نرمی دی گئی، 2018 میں اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے ایٹمی معاہدہ ختم کردیا جس کے بعد ایران بھی اس معاہدے کے تحت عائد کی جانے والی پابندیوں کا احترام کرنے کا پابند نہ رہا۔

    اب ماہرین کہتے ہیں کہ ایران یورینیم کی افزودگی کے معاملے میں 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے90 فیصد کی منزل تک پہنچ کر وہ 4 ایٹم بم بنانے کے قابل ہوجائے گا۔

  • بھارت میں یورینیم کی چوری اوراسمگلنگ کے بڑھتے واقعات دنیا کیلئے خطرہ ہیں، تجزیہ کار

    بھارت میں یورینیم کی چوری اوراسمگلنگ کے بڑھتے واقعات دنیا کیلئے خطرہ ہیں، تجزیہ کار

    بھارت میں یورینیم کی چوری اور اسمگلنگ کے بڑھتے واقعات دنیا کے لیے خطرے کا باعث بن گئے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی نیو کلیئر پروگرام کی سیکیورٹی کے خطرناک حد تک ناقص انتظامات کا پردہ چاک ہو گیا پاکستان میں قائم سینٹر فار سٹریٹیجک اینڈ کنٹیمپریری ریسرچ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں دفاعی تجزیہ کاروں نے کہا کہ بھارت میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جوہری مواد کی چوری نے جوہری دہشت گردی کا سنگین خطرہ لاحق کر دیا ہے-

    سعودی پرچم ڈیزائن کرنے والے معروف خطاط انتقال کر گئے

    دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی طاقتوں کو بھارت میں ناقص حفاظتی معیارات سے نمٹنے کے لیے کارروائی کرنے کی ضرورت ہے جبکہ ماضی قریب میں بھی بھارت میں یورینیم کی چوری کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں جو بھارت کے اندر جوہری مواد کی بلیک مارکیٹ کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    بھارتی حکام نے 2021 کے دوران جھارکنڈ میں 6.4 کلوگرام یورینیم اور مہاراشٹرا میں 7 کلوگرام یورینیم ضبط کی تھی جبکہ 26 اگست 2021 میں کولکتہ میں ایک انتہائی تابکار اور زہریلے مادے کی قسم کی کل 250 کلو گرام یورینیم جس کی مالیت 573 ملین ڈالر تھی کو ضبط کیا گیا تھا۔

    شاہ محمود قریشی کی دفعہ 144 کے باوجود کارکنان کو آج زمان پارک پہنچنے کی …

    اسی طرح دسمبر 2006 میں راجرپا (ضلع رام گڑھ) کے ایک تحقیقی مرکز سے تابکار مواد سے بھرا ایک کنٹینر چوری ہو گیا تھا۔ 9 مارچ 2022 کو بھارتی غلطی سے ہریانہ کے علاقہ سرسا سے براہموس میزائل فائر کیا گیا جو پاکستان کے علاقے میاں چنوں میں گر کر تباہ ہوا۔

    آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے یورینیم کی غیر قانونی تجارت کے الزام میں کچھ افراد کو گرفتار بھی کیا تھا ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات جوہری طاقتوں بھارت اور پاکستان کے درمیان غلط فہمی کی وجہ بن سکتے ہیں ۔

    ایران روس سے 35 لڑاکا طیارے خریدے گا

  • ایران کے پاس بم گریڈ تک افزودہ یورینیم کے ذرات کی موجودگی کا انکشاف

    ایران کے پاس بم گریڈ تک افزودہ یورینیم کے ذرات کی موجودگی کا انکشاف

    ویانا: ایران کے پاس جوہری بم کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والی افزودہ یورینیم موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی:غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کے معائنہ کاروں نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے پاس لگ بھگ بم گریڈ تک افزودہ یورینیم کے ذرات موجود ہیں یہ انکشاف ممکنہ طور پر ایران اور مغرب کے درمیان جوہری پروگرام پر تناؤ میں اوراضافہ کرے گا۔

    ویانا کی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے)کی جانب سے رکن ممالک کو فراہم کردہ خفیہ سہ ماہی رپورٹ میں اس افزودہ یورینیم کا انکشاف کیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ایران میں 83 فیصد سے زائد یورینیم کے افزودہ ذرات ملے ہیں تاہم ان کے ماخذ کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ہے ایران کے پاس موجود یہ یورینیم افزودگی 2015 کی ڈیل میں طے شدہ ہدف سے 18 فیصد زیادہ ہے۔

    دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے یورینیم افزودگی کے دوران ایسا غیر ارادی طور پر ہوگیا ہو جب کہ اس حوالے سے ایجنسی اور ایران کے اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 21 جنوری کوانسپکٹروں کو پتاچلا تھاکہ فردومیں آئی آر-6 سینٹری فیوجز کے دوکیس کیڈزکو اس سے مختلف انداز میں ترتیب دیا گیا تھا جس کا پہلے سے اعلان کیا گیا تھا۔معائنہ کاروں نے اس سے اگلے دن نمونے لیے،ان میں افزودہ یورینیم کے 83.7 فی صد تک خالص ذرّات دیکھے گئے تھے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے ایجنسی کو آگاہ کیا ہے کہ منتقلی کے دور میں افزودگی کی سطح میں ‘غیرمتوقع اتارچڑھاؤ’ ہوسکتا ہے۔تاہم ایجنسی اور ایران کے درمیان اس معاملے کی وضاحت کے لیے بات چیت جاری ہے۔

    ایرانی حکام سے فوری طور پر اس رپورٹ کے بارے میں تبصرہ کے لیے رابطہ نہیں کیا جا سکا۔اس کی تفصیل گذشتہ ایک ہفتے سے گردش کررہی تھی۔

    "العربیہ” کے مطابق ایران کے سویلین جوہری پروگرام کے ترجمان بہروز کمال آفندی نے گذشتہ ہفتے یہ کوشش کی تھی کہ اس سطح تک افزودہ یورینیم کے ذرّات کی نشان دہی کی کسی طرح پردہ پوشی کی جاسکے اور اس کو 60 فی صد خالص پیداوار تک پہنچنے کی کوشش کے عارضی ضمنی اثرات کے طور پر پیش کیا جائے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ جوہری سطح پر بھی مصفا یورینیم میں اتنا بڑا فرق معائنہ کاروں کے نزدیک مشکوک نظر آئے گا۔

    واضح رہے کہ ایران 2015 کے جوہری معاہدے کے تحت یورینیم کو صرف3.67 فی صد تک افزودہ کرسکتا تھا اور یہ حد کسی جوہری پاور پلانٹ کو ایندھن مہیاکرنے کے لیے کافی ہے۔سنہ 2018 میں سابق امریکی صدر ڈولنڈ ٹرمپ کی اس معاہدے سے یک طرفہ دستبرداری کے بعد ایران نے زیادہ اعلیٰ سطح پرافزودہ یورینیم کی تیاری شروع کردی تھی۔

    اس وقت ایران 60 فی صد خالص افزودہ یورینیم تیار کررہا ہے۔اس کے بارے میں جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین پہلے ہی کَہ چکے ہیں کہ تہران کا کوئی سویلین استعمال نہیں ہے۔84فی صد یورینیم 90 فی صد کی سطح کے قریب ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اگر ایران چاہے تو اس مواد کے کسی بھی ذخیرے کو ایٹم بم بنانے کے لیے فوری طور پراستعمال کرسکتا ہے۔

  • ہیتھرو ایئرپورٹ؛ یورینیم کی تصدیق کے بعد انسداد دہشت گردی پولیس کی تحقیقات

    ہیتھرو ایئرپورٹ؛ یورینیم کی تصدیق کے بعد انسداد دہشت گردی پولیس کی تحقیقات

    ہیتھرو ایئرپورٹ؛ یورینیم کی تصدیق کے بعد انسداد دہشت گردی پولیس کی تحقیقات

    ہیتھرو ایئرپورٹ؛ بیگ میں یورینیم کی تصدیق کے بعد کاؤنٹر ٹیرر پولیس کی تحقیقات شروع کردی ہیں جبکہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے ملنے والے مشکوک بیگ میں یورینیم کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے۔ بارڈر فورسز کی جانب سے تصدیق کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    یاد رہے کہ ایئرپورٹ سے یورینیم سے بھرا بیگ 29 دسمبر2022 کو پکڑا گیا تھا جس سے متعلق پولیس کا کہنا تھا کہ یورینیم سے عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق ہیتھرو میں بارڈر فورس کے افسران کی جانب سے یورینیم سے آلودہ مواد قبضے میں لینے کے بعد انسداد دہشت گردی کی پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔


    کمانڈر رچرڈ سمتھ کے مطابق "میں عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ آلودہ مواد کی مقدار بہت کم تھی اور ماہرین نے اس کا اندازہ لگایا ہے کہ اس سے عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "اگرچہ ہماری تفتیش ابھی تک جاری ہے، اب تک کی ہماری پوچھ گچھ کے مطابق، اس کا کسی براہ راست خطرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جیسا کہ عوام توقع کررہی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اوگرا نے گیس چوہتر فیصد تک مہنگی کرنے کی منظوری دے دی
    عمران خان پاکستان کی نہیں بلکہ کسی اور کی ترجمانی کر رہے. شیری رحمان
    ڈاکوؤں نے جہیز کا سامان لوٹ کر گھر کے واحد کفیل کوبھی قتل کردیا
    پی ڈی ایم، پی پی پی، پی ٹی آئی ٹرائیکا نے ہماری تہذیب، سماج، سیاست اور معیشت سمیت سب کچھ تباہ کردیانسراج الحق

    انہوں نے کہا کہ یہ ہماری بندرگاہوں اور سرحدوں کی نگرانی کرنے کے لیے ہمارے اور ہمارے شراکت داروں کے پاس موجود بہترین صلاحیت کو اجاگر کرتا ہے تاکہ عوام کو ان کی حفاظت اور سلامتی کو لاحق کسی بھی ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے جو برطانیہ میں آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہم مزید چھان بین بھی کررہے ہیں اور جیسے کوئی نئی پیش رفت ہوگی ہم بتادیں گے لیکن عوام اور مسافروں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے.