Baaghi TV

Tag: یوم آزادی

  • انور مقصود کا پلے ”ساڑھے 14 اگست “یوم آزادی کے موقع پر پیش کیا جائیگا

    انور مقصود کا پلے ”ساڑھے 14 اگست “یوم آزادی کے موقع پر پیش کیا جائیگا

    انور مقصود جو کہ تھیٹر ہو یا ٹی وی بامقصد کھیل پیش کرنے پر یقین رکھتے ہیں رواں برس فروری کے مہینہ میں‌انہوں نے اعلان کیا تھا کہ چوداں اگست کے موقع پر ساڑھے 14 اگست پیش کیا جائیگا. یہ کھیل کراچی آرٹس کونسل میں پیش کیا جائیگا اور کراچی آرٹس کونسل نے اس کی تصدیق بھی کردی ہے. اس کھیل کا ٹیزر بھی جاری کر دیا گیا ہے.ٹیزر میں ایک فوٹوگرافر کو مہاتما گاندھی اور قائد اعظم محمد علی جناح کی ایک ساتھ تصویر لینے کی کوشش کرتے دکھایا گیا ہے۔انور مقصود کا اس حوالے سے مزید کہنا ہے کہ 2011 میں ہم نے پونے چودہ اگست کیا، لوگوں نے کہا کہ چودہ اگست کیوں نہیں، میں نے کہا کہ جس دن چودہ اگست ہوگی تب اعلان کر دیں

    گے۔ 3 سال بعد سوا چودہ اگست لکھا یہ اسی سلسلے کی آخری کڑی ”ساڑھے چودہ اگست “ہے۔تھیٹر پلے کی کہانی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انور مقصود نے کہا کہ اس کھیل میں ایک شخص نے قائداعظم اور گاندھی پر مقدمہ دائر کیا ہے کہ تقسیم کے بجائے اگر یہ ایک ہی ریاست رہتی تو کتنا اچھا ہوتا. یاد رہے کہ انور مقصود کے آج کے ڈرامے سے نالاں ہیں ان کا کہنا ہےکہ جو کچھ لکھا جا رہا ہے میں وہ نہیں لکھ سکتا لیکن میں یہ بھی نہیں‌کہتا کہ آج لکھنے والے اچھا نہیں‌لکھ رہے لیکن اگر ان کا لکھا ہوا لوگ پسند کررہے ہیں تو پھر ٹھیک ہے.

  • پاکستان کا مطلب کیا؟ جویریہ بتول

    پاکستان کا مطلب کیا؟ جویریہ بتول

    پاکستان کا مطلب کیا؟
    جویریہ بتول

    اس دھرتی کی عالم میں شان ہے جُدا…
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ…!!!

    خوں کے دریا طے کر کے پائی یہ آزادی…
    ہم قومِ خاص ہیں،جب دی جہاں میں منادی…
    جینے،مرنے،کھانے،پینے میں ہے اک گہری تفاوت…
    ایسی دو قومیں اَب رہ سکتی نہیں یکجا…
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ…

    اِس دیس کا ذرہ ذرہ ہمیں جان سے پیارا ہے…
    اس دیس کی صبح پر لاکھ ستاروں کو وارا ہے…
    اُس خوں کی بدولت لہراتا پرچم یہ ہمارا ہے…
    اِس پرچم کی اَب شان کم کیسے ہو بھلا…؟
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ…

    اس وطن کا قریہ قریہ خوشبو میں بسانا ہے…
    اس دیس کا ہر گوشہ اَمن سے مہکانا ہے…
    عَلم اس کا ہر ایک بلندی پر لہرانا ہے…
    کہ ہم خالد و جعفر کے روحانی ہیں ورثاء…
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ…!!!

    اس گُلشن کے آنگن میں رہے سدا بہار…
    اس گھر کے رہیں روشن سبھی لیل و نہار…
    اس کنبے کا بڑھے پھر روز بروز وقار…
    اس کا ہر اِک فرد ہو اپنے محاذ پر کھڑا…
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ

    اس قوم کے محافظ بیٹے ہیں ہر دَم تیار…
    یہ غیور ،جری، بے باک،جو ہیں مثلِ ضرار…
    اس مٹی کو خوں دے کر ملتا ہے جنہیں قرار…
    ان کے سنگ مل کر اِک نعرہ لگائیں ذرا…
    پاکستان کا مطلب کیا………لا الٰہ الا اللہ…!!!

  • لنڈی کوتل: دنیا کے سب سے بڑے اور طویل قومی پرچم کی رونمائی ،پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند

    لنڈی کوتل: دنیا کے سب سے بڑے اور طویل قومی پرچم کی رونمائی ،پاکستان زندہ باد کے نعرے بلند

    پشاور:یوم آزادی کے موقع پر پاکستان بھر میں جہاں تمام پاکستانی بڑے جوش وخروش سے خوشیاں منا رہے ہیں وہاں خیبر پختون خوا کے ٹاؤن لنڈی کوتل میں دنیا کے سب سے بڑے اور طویل قومی پرچم کی رونمائی کی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان کے یوم آزادی پر کے پی کے علاقے لنڈی کوتل میں طویل ترین قومی پرچم تیار کیا گیا، لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے پرچم کو سروں پر بلند کر کے مارچ کیا۔

    تفصیلات کے مطابق یہ قومی پرچم 3 ہزار 600 فٹ طویل ہے،جب کہ اس کی چوڑائی 34 فٹ اور وزن 24 من ہے۔اس طویل ترین قومی پرچم کی تیاری پر 9 لاکھ روپے لاگت آئی ہے، جھنڈے کو خیبر سے میچنی پوسٹ تک لے جانے کے لیے ایک ہزار رضاکاروں نے حصہ لیا۔رضا کاروں کا تعلق اسکولوں اور کالجز سے تھا، طلبہ کے ساتھ مقامی افراد نے بھی اس میں حصہ لیا، یہ پرچم مقامی شہری نے تیار کرایا۔

  • چھوٹے بچوں نے یوم آزادی پر کشمیریوں کی آزادی کے نعرے لگا کر سب کو حیران کردیا

    چھوٹے بچوں نے یوم آزادی پر کشمیریوں کی آزادی کے نعرے لگا کر سب کو حیران کردیا

    یوم پاکستان ، پاکستان زندہ باد ملک کے کونے کونے میں ہر پاکستانی یوم آزادی کی خوشیوں سے سرشار،چھوٹے چھوٹے بچے ٹولیوں کی شکل میں آزادی کی خوشیاں مناتے ہوئے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھنے والوں کو خوش کررہے ہیں. اطلاعات کے مطابق اس دفعہ تو یوم آزادی کی خوشی اور منانے کے انداز پہلے سے مختلف ہیں.

    ذرائع کے مطابق ملک بھرسےایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ چھوٹے چھوٹے بچے ٹولیوں کی شکل میں یوم آزادی منا رہے ہیں تو دوسری طرف کشمیریوں سےاظہاریکجہتی کررہے ہیں. بلوچستان ، کے پی، سندھ اور پنجاب سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں ایسے مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں.

  • پاکستانیوں کا 73 واں یوم آزادی کشمیریوں کے نام ، کشمیر بنے گا پاکستان ، بھارت ہوگیا پریشان

    پاکستانیوں کا 73 واں یوم آزادی کشمیریوں کے نام ، کشمیر بنے گا پاکستان ، بھارت ہوگیا پریشان

    اسلام آباد:پاکستان کا 73 ویں یوم آزادی کشمیریوں کے نام،رنگ برنگے سز ہلالی پرچم ، ملی نغمے اور کشمیریوں کے حق میں ریلیاں جاری ہیں ، یوم آزادی پر ملک بھر میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا سلسلہ جاری ہے۔ بچہ بچہ کشمیری بھائیوں کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہے۔یوم آزادی یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جارہا ہے۔ قومی پرچم کے ساتھ ساتھ کشمیر کا پرچم بھی ملک بھر میں لہرا رہا ہے۔ فضا میں کشمیر بنے گا پاکستان کی صدائیں گونجنے لگیں۔

    پاکستانی اور کشمیری پرچم نے پورے ملک کو سجا دیا۔ نماز فجر کے ادائیگی کے بعد مساجد میں ملکی سلامتی اور امت مسلمہ کی خوشحالی لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی بھارت سے نجات کے لیے بھی خصوصی دعائیں کی گئیں۔ملک بھر میں سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں ریلیاں نکالیں گی اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا جائے گا۔14 اگست کا دن کشمیریوں سے منسوب کرنے کا قومی لوگو بھی سب کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

  • آج 14 اگست عید الا ضحیٰ کے تیسرے روز قومی جوش و جذبے سے منایا جائے گا

    آج 14 اگست عید الا ضحیٰ کے تیسرے روز قومی جوش و جذبے سے منایا جائے گا

    اسلام آباد :آج عید الا ضحی کے تیسرے روز 14 اگست کو یوم آزادی قومی جوش و جذبے اور شایان شان طریقے سے منایا جائے گا۔دن کا آغاز نماز فجر کے بعد تمام بڑی مساجد میں وطن عزیز کی سلامتی، ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی، قومی یکجہتی اور وطن عزیز کی خدمت کی توفیق اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لیے خصوصی دعاﺅں سے ہو گا۔

    پاکستان کا 73 واں یوم آزادی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا اور اس موقع پر وزیراعظم عمران خان آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب بھی کریں گے۔جشن آزادی کے سلسلے میں مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں، سماجی تنظیموں اور نظریہ پاکستان فورم اور دیگر شعبوں کی جانب سے مختلف نوعیت کے پروگرامز ترتیب دئیے گئے ہیں، جس کے دوران سیمینارز، میٹنگز، کانفرنسز اور مختلف تعلیمی اداروں کے طلبا و طالبات کے مابین تقریری و مضمون نویسی کے مقابلے منعقد ہوں گے جب کہ یونیورسٹیوں اور مختلف تعلیمی اداروں میں بھی جشن آزادی کے پروگرامز کا انعقاد کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق عید کی تیاریوں کے سا تھ ساتھ یوم آزادی کے سلسلے میں بھی ملک بھر کے بازاروں، مارکیٹوں، شاہراہوں کو رنگ برنگی جھنڈیوں، قومی پرچموں کے ساتھ سجایا گیا ہے جب کہ رات کو سرکاری و غیر سرکاری عمارتوں پر چراغاں بھی کیا جائے گا۔

  • یوم آزادی بھرپور انداز سے منائیں گے ، حکومت کس انداز سے منائے گی سب کچھ بتا دیا

    یوم آزادی بھرپور انداز سے منائیں گے ، حکومت کس انداز سے منائے گی سب کچھ بتا دیا

    لاہو: حکومت پنجاب نے یوم آزادی بھر پور طریقے سے منانے کا اعلان کردیا. اس سلسلسے میں‌ وزیر اعلیٰ پنجاب کے سیاسی معاون سید رفاقت علی گیلانی نے یوم آزادی کی تقریبات کے حوالے سے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ڈویژن و ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے صوبہ بھر میں پاکستان کا یوم آزادی شایان شان طریقے سے منانے کے لئے رنگارنگ تقریبات منعقد کرنے کے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔

    پنجاب حکومت کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق تمام افسران اور ملازمین پاکستانی پرچم کے بیجز لباس پر نمایاں طور پر آویزاں کریں گے -یوم آزادی کے موقع پر تما اداروں میں پرچم کشائی کی تقریبات بھی منعقد کی جائیں گی- یوم آزادی کی تقریبات کے سلسلہ میں مشہور گلوکار قومی نغموں پر مشتمل موسیقی کے پروگراموں میں شرکت کریں گے – وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پرپاکستان کی ممتاز شخصیات یوم آزادی کی تقریبات کے حوالے سے منعقدہ خصوصی سیمینارز میں شرکت کریں گی –

    وزیراعلیٰ کے سیاسی معاون سید رفاقت لی نے بتایا کہ اس موقع پر مصوری کی کی نمائش بھی منعقد ہوگی جبکہ مشہور فنکارآزادی واک میں خصوصی طور پر شرکت کریں گے – اس کے علاوہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹس کے طلبا و طالبات کے درمیان آزادی کی تحریک اور جدوجہد کے موضوع پر مصوری کے مقابلے منعقد ہوں گے – انہوں نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت کے مرکزی مقامات کی دیواروں پر یوم آزادی اور جدوجہد پاکستان کے حوالے سے تصاویر آویزاں کر دی گئی ہیں۔ نیز صوبہ بھر میں لوک رقص فیسٹیول کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے- صوبہ بھر میں پاکستان کے حوالے سے شاعری کی محفلیں منعقد ہوں گی،جدوجہد آزادی پر مشتمل مرکزی خیال کے حوالے سے ڈرامے، آزادی کا سفر کے عنوان سے تصویری نمائش اور لوک رقص فیسٹیول منعقد ہوں گے-
    ٭٭٭٭٭

  • 14 اگست ، یوم آزادی پاکستان

    14 اگست ، یوم آزادی پاکستان

    14 اگست یوم آزادیِ پاکستان ۔۔۔ محمد عبداللہ گِل
    آج کی میری اس تحریر کا مقصد یوم آزادی پر ہماری ذمہ داریاں کی نشان دہی کرنا ہے۔آزادی ایک نعمت ہے اس کی قدر ان کو ہی ہوتی ہے جن نے کچھ کھویا ہوتا ہے اس کے لیے یا جن کے پاس یہ نعمت نہی ہوتی۔ 14 اگست کا دن ایک خاص اہمیت کا حامل اور حب وطنی کا جذبے بھرپور ایک خاص دن ہوتا ہے ۔۔ ایک ایسا دن جس کا بچوں اور نوجوانوں کوعید کے دن کی طرح ہی انتظار ہوتا ہے ۔۔ گھروں ، چھتوں ، گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں کو لوگ سجانا شروع کر دیتے ہیں ۔۔ بچوں کے سکولوں کالجوں وغیرہ میں بھی خاص پروگرام ہوتے ہیں ۔۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے تجزیے، کالم نویسوں کے کالم بہت عجیب اور حیران کن انداز میں بات کرتے ہیں 14 اگست کی اہمیت اور اسکی بنیاد کو کھوکھلا کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہتے ہیں اور کچھ حضرات بیرون ِ ملک سے خرچہ لے کر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں انھیں غیرت کھانی چاہیں اور انھیں بتانا چاہتا ہوں کہ 14 اگست صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک خاص تہوار ہے جس دن پاکستان معرض وجود میں آیا ۔۔
    14 اگست، آزادی، اور جشنِ آزادی کا مفہوم کیا ہے، عام لوگ اور بالخصوص نئی نسل کی اکثریت اس سے بالکل بے بہرہ ہے۔ ان پڑھ تو چلو پروپیگینڈے کا شکار ہیں، لیکن پڑھے لکھے بھی غیر تاریخ کے طوطے بنے ہوئے ہیں۔ آزادی کا تصور ان سب کے لیے ایک مجرد اور رومانوی تصور کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بس یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے 14 اگست کو آزادی حاصل کی۔ کس سے حاصل کی، کیوں حاصل کی، اور کیسے حاصل کی؛ ان بنیادی سوالات سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔ اس روز ایسے بینر بھی آویزاں کیے جاتے ہیں، جن پر آزادی کے شہیدوں کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔ اس بے خبری کا نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ 14 اگست اور آزادی کا تصور محض ایک خالی خولی نعرے میں تبدیل ہو گیا ہے اور ظاہری ٹیپ ٹاپ، دکھاوا، ہلڑ بازی اور لاقانونیت اس دن کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ہم لوگ سارا سال پاکستان کی کمزوریوں پر مباحث میں اُلجھے رہتے ہیں جو خصوصاً اگست کے مہینے میں مزید دھواں دھار صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ لیکن اگر سال میں ایک دن یہ بھی سوچ لیا جائے کہ گزشتہ ایک سال میں ہم نے ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کیا کیا؟ ہمارا کون سا عمل صرف اور صرف پاکستان کے مفاد کے لئے تھا؟ تو شاید بہت سی بے مقصد باتوں پر بحث میں وقت ضائع نہ ہو۔14 اگست کا دن پاکستان میں قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے اس کے علاوہ پاکستانی جو بیرونِ ملکوں میں مقیم ہیں وہ بھی بہت جوش خروش سے اس دن کی تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں ۔۔ بلخوص پچھلے سال مجھے دبی میں 14 اگست منانے کا موقع ملا ۔۔ یہ دن وہاں موجود پاکستانیوں کے لیے باعث فخر اور پرمصرت ہوتا ہے ۔۔ اس دن نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک میں بھی لوگ پاکستان جھنڈوں سے گھروں کمروں ، اپنی رہائش گاہوں کو سجاتے ہیں ۔۔ دنیا کو دکھاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ پاکستان اس دن آزاد ہوا تھا اور دو قومی نظریہ کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان کیوں بنا ۔۔پاکستان بنانے کے لیے بزرگوں ، نوجوانوں ، بچوں ، یعنی مسلمانوں نے بہت قربانیاں دی ہیں ۔۔14 اگست 1947ء کا سورج برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزادی کا پیامبر بن کر طلوع ہوا تھا۔ مسلمانوں کو نہ صرف یہ کہ انگریزوں بلکہ ہندؤوں کی متوقع غلامی سے بھی ہمیشہ کے لیے نجات ملی تھی۔ آزادی کا یہ حصول کوئی آسان کام نہیں تھا جیسا کہ شاید آ ج سمجھا جانے لگا ہے۔ نواب سراج الدولہ سے لے کر سلطان ٹیپو شہید اور آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر تک کی داستاں ہماری تاریخ حریت و آزادی کی لازوال داستان ہے۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے المناک واقعات بھی اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ سات سمندر پار سے تجارت کی غرض سے آنے والی انگریز قوم کی مسلسل سازشوں، ریشہ دوانیوں اور مقامی لوگوں کی غداریوں کے نتیجے میں برصغیر میں مسلمانوں کی حکومتیں یکے بعد دیگرے ختم ہوتی چلی گئیں۔ اگرچہ مسلمان حکمرانوں اور مختلف قبائل کے سرداروں نے سر دھڑ کی بازی لگا کر اور جان و مال کی عظیم قربانیاں دے کر انگریزوں کو یہاں تسلط جمانے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کیں تھیں۔قائد اعظم محمد علی جناح نے کیا خوبصورت بات کی تھی۔: پاکستان اسی دن یہاں قائم ہو گیا تھا، جس دن برصغیر میں پہلا شخص مسلمان ہوا تھا:۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے کبھی بھی انگریز کی حکمرانی کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔ انگریزوں اور ان کے نظام سے نفرت اور بغاوت کے واقعات وقفے وقفے کے ساتھ بار بار سامنے آتے رہے تھے۔ برطانوی اقتدار کے خاتمے کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے جو عظیم قربانیاں دی ہیں اور جو بے مثال جدوجہد کی ہے۔ یہ ان کے اسلام اور دو قومی نظریے پر غیر متزلزل ایمان و یقین کا واضح ثبوت ہے۔ انہی قربانیوں اور مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔جب ہم تحریک پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اس تاریخی جدوجہد میں یہ بات سب سے زیادہ نمایاں طور پر ہمیں نظر آتی ہے کہ مسلمان اپنے جداگانہ اسلامی تشخص پر مصر تھے۔ یہی نظریہ پاکستان اور علیحدہ وطن کے قیام کی دلیل تھی۔ ہر قسم کے جابرانہ و غلامانہ نظام سے بغاوت کرکے خالص اسلامی خطوط پر مبنی نظام حیات کی تشکیل ان کا مدعا اور مقصود تھا۔ جس کا اظہار و اعلان قائد اعظم محمد علی جناح نے بار بار اپنی تقاریر اور خطابات میں کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تحریک پاکستان کے دوران برصغیر کے کونے کونے میں: لے کے رہیں گے پاکستان، بن کے رہے گا پاکستان۔ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ؛ اور پاکستان کا مطلب کیا؟، لا الہ الا اللہ
    یہ نعرے برصغیر کے مسلمانوں کے دلی جذبات کے حقیقی ترجمان تھے۔عرصہ دراز سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے مسلمانوں کو آزادی ملنے کی امید پیدا ہو چلی تھی۔ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اگر یہ موقع ہاتھ سے نکل گیا تو پھر انگریزوں کے چلے جانے کے بعد وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہندو بنیا کی غلامی میں چلے جائیں گئے۔ وہ ہر طرح کے سامراج سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دی جاسکتی تھی، مگر اس مقصد سے پیچھے ہٹنا انہیں گوارا نہ تھا۔پاکستان کا قیام شب قدر، جمعۃ الوداع ماہ رمضان المبارک 1368ھ بمطابق 14 اگست 1947ء عمل میں آیا۔ ظہور پاکستان کا یہ عظیم دن جمعۃ الوداع ماہ رمضان المبارک اور شب قدر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، محض اتفاق نہیں ہے بلکہ خالق و مالک کائنات کی اس عظیم حکمت عملی کا حصہ ہے 13 اپریل 1948 ء کو اسلامیہ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے بانی پاکستان نے فرمایا:-
    ” ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایسی جائے پناہ چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں”پاکستان کرہ اراض کا واحد ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ایک نظریہ پر رکھی گئی اور وقت کی سفاک طاقتوں سے اس نظریہ کو منوانے کیلئے اسلامیان ہند نے جو انگنت قربانیاں دیں اقوام عالم کی تاریخ میں ان کی مثال نہیں ملتی۔ برسہا برس کی جدوجہد کے بعد ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک قرآن پر ایمان رکھنے والوں نے ایک قائد کی قیادت میں پاکستان اس نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں جس کا طرز زندگی، ثقافت اور دین سب سے الگ ہے۔ اس قوم کا کسی بھی دوسری قوم میں یا قومیت میں ضم ہونا قطعی طور پر ناممکن ہے۔دو قومی نظریہ کیا یا اس کی بنیاد کیا ہے؟ اس کا انداز بانی پاکستان حضرت قائداعظمؒ کی اس تقریر سے کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے 8 مارچ 1944 کو علی گڑھ یونیورسٹی میں طلبا کے اجتماع میں کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا۔ ’’پاکستان اس دن معرض وجود میں آ گیا تھا جب ہندوستان میں پہلا غیر مسلم مسلمان ہوا تھا‘‘ اسی طرح 17 نومبر 1945 کو بابائے قوم نے ایڈورڈ کالج پشاور میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا۔ ’’ہم دونوں قوموں میں صرف مذہب کا فرق نہیں، ہمارا کلچر ایک دوسرے سے الگ ہے۔ ہمارا دین ہمیں ایک ضابطہ حیات دیتا ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ہم اس ضابطہ کے مطابق زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔
    اب کچھ عرصے سے ان عناصر کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کا واویلا کیا جا رہا ہے۔ ایسے لوگوں کی عقل کا ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ان سے پوچھا جائے کہ کیا پاکستان بھارت کو اس لئے پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دے دے کہ اس بھارت نے 1947ء سے پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو اپنے پنجہ استبداد میں لے رکھا اور اپنے وطن کشمیر کو آزاد کرانے کی جدوجہد کرنے والے لاکھوں کشمیری نوجوانوں کو شہید کرچکا اور کرتا رہتا ہے۔
    بھارت پاکستان آنیوالے دریائوں پر اپنے زیر تسلط علاقوں میں غیر قانونی بند باندھ کر پاکستان کے حصے کا پانی روکنے کی روش پر قائم ہے جس کا مقصد پاکستان کے سرسبز علاقوں میں پانی کی ترسیل بند کرنا اور اسے ریگستانوں میں تبدیل کرنا ہے۔ تاکہ پاکستان کے مسلمانوں کو ایتھوپیا ایسے سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑے یہاں کے لوگ اناج کے ایک ایک دانے کو ترسیں۔دوقومی نظریہ اور پاکستان کے بارے میں جو لوگ غلط باتیں کرتے ہیں انھیں کشمیر کے حالات نظر نہیں آ رہے ۔۔ ِ؟؟ جمعوں کشمیر میں بھارتی کیسے ظلم و ستم کی داستانیں رقم کر رہے ہیں ۔۔دو قومی نظریے کی بنیاد غیر منقسم ہندوستان میں سب سے پہلے البیرونی نے اپنی کتاب ”کتاب الہند“میں پیش کی۔ اس نے واضح طور پر لکھا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں بلکہ اس نے تو یہاں تک بتایا کہ ہندو مسلمانوں کو نیچ قوم قرار دیتے ہیں اور ان سے کراہیت کرتے ہیں۔شبہ مسلمان اور ہندو سینکڑوں سال سے رہ رہے تھے مگر جیسا کہ البیرونی کی کتاب ” کتاب الہند ” میں ذکر ہے کہ ہندو مسلمانوں کو نیچ سمجھتے تھے ۔ مسلمان ایک نیچ قوم کی حیثیت سے ذہنی غلام تھے ۔ یا د رہے کہ یہ وہ مسلمان نہیں تھے جو ایران ، ترک یا عرب سے آئے تھے ان سیدوں ،شیرازیوں ، گیلانیوں ، برلاس ، قریشیوں بخاریوں کو مقام حاصل تھا یہ وہ مسلمان تھے جن کا نسلی تعلق ہندووں ہی کی مختلف برادریوں سے تھا جن میں بگٹی ، مینگل ، بھٹو ، بھٹی ، شیخ ، راو ، رانا ،کھوکھر، سبھی شاامل تھے ۔مگر ان کے قبول اسلام ہی سے وہ ہندو قوم سے جدا ہو کر امت مسلمہ میں شامل ہوگئے اور ہندووں کی نظر میں نیچ کہلائے ۔برصغیر میں دو قومی نظریہ اتنا ہی پرانا ہے جتنی تاریخِ اسلام پرانی ہے ۔ پاکستان بنانے کا مقصد بہت عظیم تھا
    کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان 14 اگست کو نہیں بلکہ پندرہ اگست کو بنا جناب بات یہ کہ اعلان کو ہوا ، اور ہجرت بھی لوگوں نے 14 اگست سے شروع کر دی ، یہ بات نہیں ہے کہ کب پہنچے یا کب انکو منزل پر پہنچے کی مبارک باد دی گئی ۔۔ جب اعلان ہوا کہ پاکستان بن گیا ہے لوگ ہجرت کر کے یہاں آجائیں ۔۔ وقت اوردن تو وہ نوٹ کیا جاتا ہے ۔۔ اور سب سے بڑھ کر شب قدر کی مبارک شب تھی اور 14 اگست کا دن تھا ۔۔
    کچھ لوگ نئی نسل کو کس بحث مباحثے میں ڈال رہے ہیں ؟؟ اس سے کیا حاصل ۔۔ ملک اور آزادی کی قدر غلام ملکوں سے پوچھو ، کشمیریوں سے فلصطینیوں ، اعراقیوں سے پوچھو ۔۔پاکستانیوں آپ کی نگاہ اس طرف کم گئی ہے دنیا کی تاریخ میں اتنی قلیل مدت میں یہ وہ پاکستان ہے جس نے 63 سال کی عمر میں 8 جنگیں لڑیں تقسیم کے وقت1948 کشمیر کی جنگ، 1965 میں ہندستان کی مسلط کردہ جنگ، 1971 میں ہندوستان کی مسلط کردہ جنگ، 1999 میں کارگل کی جنگ، دنیا کی سپر پاور روس سے افغانستان میں جنگ، دنیاکی سب سے بڑی 50 لاکھ مہاجرت کو اپنے ملک میں پناہ دی. موجودہ دوسری سپر پاور امریکہ سے جنگ اس کے باوجود پاکستانیوں پاکستان زندہ بلکہ ایٹمی قوت بھی ہے. یہ وہ پاکستان ہے جس کے خلاف اسرائیل، انڈیا اور امریکہ نے اتحاد کرلیا ہے لیکن اس وقت تک اللہ کے حکم سے ناکام ہیں یہ وہ پاکستان ہے جس نے عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل کے چھ ایف سولہ جہاز گرائے تھے۔14 اگست وہ دن ہے جب ہر ایک کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا عہد کرنا ہو گا۔پا کستان جیسی فوج کسی ملک کے پاس نہی ہے۔پا کستان جیسی عوام کسی ملک کے پاس نہی ہے۔بس چند ایک دشمن ممالک کے ایجنٹ جو پا کستان کے خلاف بکتے ہیں۔کبھی سندھ تحریک شروع کرتے ہیں اپنے آقاوں کو خوش کرنے کے لیے تو کبھی بلوچستان میں ٹی ٹی پی آ جاتی ہے ۔کبھی انڈیا کلبھوشن لانچ کرتا ہے ۔تو کبھی امریکہ شکیل آفریدی لانچ کرتا ہے۔کبھی خیبر پختون خواہ میں پی ٹی ایم آ جاتی ہے ۔اس کے نمائندے پاک فوج کی چوکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔پاک فوج کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہیں۔دہشت گردی پھیلاتے ہیں۔پاکستان کے عوام کو چاہیے کہ پاک فوج کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔جس ملک کی فوج نہی ہوتی وہ کبھی کامیاب ہو ہی نہی سکتا۔ہم سب کو آج پاکستان کی ترقی کے لیے کوشاں رہنا چاہیے اور ذمہ داریاں ادا کرنی چاہیے۔اگر آزادی کی نعمت کو جاننا اور پہچاننا ہے تو فلسطین کی عوام سے پوچھو ،اگر آزادی کی نعمت کوپہچاننا ہے تو مظلوم کشمیریوں سے پوچھو ،غزہ کی عوام سے پوچھو،برما کی عوام سے پوچھو ۔اس لیے آزادی کی قدر کرو اور اپنے ملک۔کی ترقی کے لیے کوشاں ہو جاؤ۔