Baaghi TV

Tag: یوم تاسیس

  • سیاسی استحکام یا تو بات چیت سے یا لاٹھی سے لانا پڑے گا ، بلاول

    سیاسی استحکام یا تو بات چیت سے یا لاٹھی سے لانا پڑے گا ، بلاول

    سکھر: پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ مسلم امہ میں شہید بی بی کی قیادت کو سب نے قبول کیا، پاکستانی تاریخ میں تمام سیاستدان ایک طرف اور محترمہ کی سیاسی تاریخ ایک طرف ہے۔

    باغی ٹی وی : سکھر میں پیپلز پارٹی کے 57ویں یوم تاسیس کے حوالے سے منعقدہ جلسے میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے بلا و ل بھٹو نے کہا کہ پی پی کے یوم تاسیس پر بیک وقت پاکستان کے 150 علاقوں سے مخاطب ہوں، تمام اضلاع، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی براہ راست خطاب کررہا ہوں، پیپلز پارٹی کی پوری جدوجہد عوام کے سامنے ہے، ہمارا سفر ذوالفقارعلی بھٹو سے شروع ہوا، ذوالفقار علی بھٹو نے ملک میں جمہوریت کی بنیاد رکھی، قائدِ عوام ذوالفقار بھٹو نے ملک کو آئین دیا، ذوالفقار بھٹو نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا، ذوالفقار بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی پروگرام دلوایا۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے تمام تر سازشوں کا مقابلہ کیا، بےنظیر بھٹو عوام کے تعاون سے پہلی خاتون وزیراعظم بنیں، بےنظیر بھٹو پاکستان کے غریب عوام کی نمائندہ تھیں، بےنظیر کی پالیسیوں سے غریب عوام کو فائدہ ہوتا تھا، مشہور تھا کہ بےنظیر آئے گی روزگار لائے گی، بےنظیر بھٹو نے ایک نہیں دو آمروں کا مقابلہ کیا، بےنظیر بھٹو نے بہادری سے آمریت کا مقابلہ کیا، بےنظیر دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارتی تھیں، بےنظیر بھٹو دہشتگردوں سے ڈر کر بھاگ سکتی تھیں، لیکن شہید بےنظیر بھٹو ایک حملے کے باوجود عوام کے درمیان رہیں، اگر محترمہ شہید نہ ہوتیں تو وہ تیسری مرتبہ بھی وزیر اعظم ہوتیں، محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ روزگار کی اور عوام کی بات کی، مسلم امہ میں شہید بی بی کی قیادت کو سب نے قبول کیا، پاکستانی تاریخ میں تمام سیاستدان ایک طرف اور محترمہ کی سیاسی تاریخ ایک طرف ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کی سوچ تھی کہ بے نظیر کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی ختم ہوجائے گی مگر پھر صدر زرداری کی قیادت میں پیپلزپارٹی متحد ہوئی اور پھر ہم نے وہ کامیابیاں حاصل کیں جو ماضی میں نہیں کرسکے تھے، اٹھارہویں ترمیم منظور کروا کے ہم نے بے نظیر کی دیرینہ خواہش پوری کی اور وعدہ پورا کیا، صوبوں کو حقوق دیے، این ایف سی ایوارڈ قائم کیا، یہ سارے خواب زرداری کی صدارت کے دوران ہوئے، زرداری نے پاکستان کو سی پیک جیسا تحفہ دیا، انہوں نے سرحد کو پختونخوا کا پروگرام دلوایا، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شروع کر کے روٹی کپڑے اور مکان کے وعدے کو پورا کیا جس سے غربت کا مقابلہ کیا جارہا ہے جبکہ وسیلہ روزگار سے نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا‘۔

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو توڑنے کے لئے کئی بار حملے کیے گئے، پی ٹی آئی کو جگہ دینے کیلئے پیپلز پارٹی کو توڑا گیا، پیپلز پارٹی کو سیاست سے دور کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن پیپلز پارٹی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اب اہم ذمہ داریاں نبھا رہی ہے، غربت کا خاتمہ پیپلز پارٹی کی ترجیح ہے، پیپلز پارٹی نے ہر موقع پرعوام اور ملک کا سوچ کر فیصلے کیے، ہم ملک میں امن و امان اور بڑھتا ہوا روزگار دیکھنا چاہتے ہیں، ملک میں سب سے بڑا مسئلہ سیاسی عدم استحکام ہے، دہشتگردی اور معاشی بحران کے مقابلے کیلئے سیاسی استحکام ضروری ہے، لیکن سیاسی استحکام میں سب سے بڑی رکاوٹ اپوزیشن ہے، وہ نہ جمہوری اور نہ سیاسی اپوزیشن کررہے ہیں، کچھ جماعتیں سیاست کے دائرے میں رہ کرسیاست نہیں کررہیں، ملک میں سیاسی استحکام ضروری ہے، چاہے اس کے لیے حکومت اور اپوزیشن بات چیت کرے یا پھر لاٹھی کا استعمال کرنا ہو، 9 مئی کا حملہ سیاست کے دائرے میں نہیں آتا، اسلام آباد میں جو کچھ ہوا وہ سیاست کے دائرے میں نہیں آتا، ہمیں بطور سیاستدان سیاست کے دائرے میں آنا پڑے گا، سیاسی استحکام پیدا کرنا اور ریاست کو چلانا حکومت کی ذمہ داری ہے، حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی ذمہ دار ہوتی ہے، غیرجمہوری اپوزیشن کرنے والے جمہوری کردار اپنائیں، غیر سیاسی اپوزیشن غیرجمہوری کردار ادا کر رہی ہے، غیر سیاسی اپوزیشن سیاسی رویے کی امید کیسے رکھ سکتی ہے؟

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کے حل کیلئے تمام جماعتوں کو مل بیٹھ کر سیاسی استحکام قائم کرنا ہوگا، چاہے اس کے لیے بات چیت کرنی پڑے یا لاٹھی کی ضرورت ہو تاکہ ریاست کی رٹ بحال ہو اور معاشی صورت حال بھی بہتر ہو ہم ہمیشہ مذاکرات اور بات چیت کی بات کرتے ہیں مگر اپوزیشن سیاست جماعتوں سے نہیں اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات چاہتی ہے، اگر یہی طرز سیاست رہا تو پی ٹی آئی اور ملک دونوں کو نقصان ہوگا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ پیپلزپارٹی ہمیشہ ملک اور عوام کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔ بلاول نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کا مسئلہ بہت سنجیدہ ہے اور ہمیشہ پیپلزپارٹی نے اس معاملے پر آواز بلند کی اور اپنے دور میں اسٹیٹ کی رٹ بحال کی من و امان کے مسئلے پر سیاست کی جارہی ہے، جب ماضی میں ہم دہشت گردوں کو شکست دے سکتے ہیں تو پھر ایک بار پھر متحد ہوکر ملک سے دہشت گردوں کو شکست دے سکتے ہیں، ملک کے عوام کو زندگی کا تحفظ ضروری ہے۔

    انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے حالات بہت سنگین ہیں، امن و امان کی وجہ سے ایمرجنسی بحران پیدا ہوتا جارہا ہے، پارا چنار کے حالات کو سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا دکھا رہا ہے، صوبائی حکومت رٹ بحال کرنے کے بجائے وفاق پر چڑھائی کررہا ہے وزیراعلیٰ آج بھی اسمبلی میں کھڑے ہو کر وفاق پر گولی چلانے کی دھمکی دے رہا ہے، ہم کب تک یہ برداشت کریں کہ پاکستان کے اصل مسائل کچھ اور ہیں، پختونخوا میں 100 سے زیادہ لاشیں موجود ہیں اور یہ اسلام آباد میں اپنی 100 لاشیں تلاش کررہے ہیں تاریخ میں کبھی اتنی غیرذمہ دارانہ صوبائی حکومت نہیں دیکھی، یہ صوبائی حکومت ذمہ داری ادا کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہے، ان کا ایک ہی کام ہے کہ اپنے لیڈر کو جیل سے نکلوانا ہے، مجھے امید ہے صوبائی حکومت اپنی غلطی کو تسلیم کر کے اب عوامی مسائل پر توجہ دے گی اور اب ہر دوسرے دن احتجاج کے نام پر انتشار پھیلائیں گے، احتجاج کا پاکستانی کا حق ہے، مگر قانون ہاتھ میں لینا اور لشکر کشی کی اجازت کسی صورت نہیں ہے۔

    بلاول نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے مسائل میں اضافہ نہیں کرنا چاہئے، اپوزیشن کی یہی سیاست رہی تو ان کا اور ملک کا نقصان ہوگا، سیاسی جماعتوں کا کردار مثبت ہو تو مسائل حل ہوسکتے ہیں، پیپلز پارٹی مثبت سیاست پر یقین رکھتی ہے، پیپلز پارٹی عوام کے مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتی ہےدہشت گردی کاخاتمہ ہم سب کی ذمہ داری ہے، عوام کے جان و مال کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

    بلاول نے کہا کہ مجھے امید ہے صوبائی حکومت اپنی غلطی کو تسلیم کرکے اب عوامی مسائل پر توجہ دے گی اور اب ہر دوسرے دن احتجاج کے نام پر انتشار نہیں پھیلائے گی، احتجاج کا پاکستانی کا حق ہے، مگر قانون ہاتھ میں لینا اور لشکر کشی کی اجازت کسی صورت نہیں ہے حکومت کبھی نہیں چاہتی کہ کسی واقعے میں کوئی شہری کی جان جائے، ہمیں امید ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومت ملکی مفاد کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے، ہمیں مل کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے نیشنل ایکشن پلان 2.0 لانا پڑے گا اور ایک متفقہ فیصلہ کرنا ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں دہشت گردوں یا ناراض لوگوں کو انگیج کرنے کے لیے بھی پالیسی بنانی ہوگی، ہمیشہ منصوبہ بندی کے ذریعے ہی دہشت گردی کو شکست دی جاسکتی ہے کسانوں کا معاشی قتل عوام کے معاشی قتل کے مترادف ہوگا، زراعت کی ترقی سے ملک ترقی کرتا ہے، ہم زراعت کے ذریعے ملکی برآمدات میں اضافہ کریں گے، زراعت کے زریعے ملک میں معاشی انقلاب لایا جاسکتا ہے پانی کے معاملے پر عوام کا ردعمل بہت زور سے آئے گا، پانی کی غیرمنصفانہ تقسیم سے مسائل بڑھیں گےملک میں آئی ٹی کا شعبہ بھی بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے، پوری دنیا کا مستقبل آئی ٹی شعبے سے جڑا ہوا ہے، حکومت کو آئی ٹی سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہئیے۔

  • پیپلز پارٹی کا   یوم تاسیس،بلاول 150 سے زائد شہروں میں کریں گے خطاب

    پیپلز پارٹی کا یوم تاسیس،بلاول 150 سے زائد شہروں میں کریں گے خطاب

    چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری پاکستان پیپلزپارٹی کے 57ویں یوم تاسیس کے موقع پر 30 نومبر بروز ہفتہ شام سوا چھ بجے ملک بھر میں 150 سے زائد اضلاع میں ہونے والی تقریبات سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے،

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویڈیو لنک خطاب سے قبل کوئٹہ میں وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی، جامشورو میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، پشاور میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور ملتان میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کا خطاب ہوگا۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویڈیو لنک خطاب سے قبل حیدرآباد میں سید قائم علی شاہ، گوجرانوالہ میں اعتزاز احسن، راولپنڈی میں راجہ پرویز اشرف اور سانگھڑ میں شازیہ مری کا خطاب ہوگا۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویڈیو لنک خطاب سے قبل مخدوم احمد محمود رحیم یار خان، نثار کھوڑو اور سعید غنی کراچی، خورشید شاہ سکھر، قمر زمان کائرہ اٹک، جمیل سومرو لاڑکانہ اور چوہدری منظور احمد فیصل آباد میں خطاب کریں گے۔
    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ویڈیو لنک خطاب سے قبل لاہور میں حسن مرتضی، نواب شاہ میں ناصر شاہ اور ضیاء لنجار، چکوال میں سینیٹر پلوشہ خان، جیکب آباد میں اعجاز جکھرانی، سرگودھا میں ندیم افضل چن، میرپورخاص میں شرجیل میمن، ساہیوال میں شہزاد سعید چیمہ، گلگت شہر میں امجد ایڈووکیٹ اور مظفرآباد میں چوہدری یاسین یوم تاسیس کی تقریبات سے خطاب کریں گے۔درج بالا خطابات کے علاوہ بھی پارٹی قائدین ملک کے دیگر اضلاع میں یوم تاسیس کی تقریبات سے خطاب کریں گے۔

    سروسز بیچنے والیوں سے مجھے یہ فتوی نہیں چاہیے،سلمان اکرم راجہ کا بشریٰ کو جواب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    پیسے دے کر کہا گیا دھرنے میں جا کر آگ لگانی ،گرفتار شرپسندوں کے انکشاف

  • آزاد جموں و کشمیر کا 77 واں یوم تاسیس  ملی جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے

    آزاد جموں و کشمیر کا 77 واں یوم تاسیس ملی جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے

    مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کا 77 واں یوم تاسیس آج ملی جوش و خروش کے ساتھ منایا جا رہا ہے،24اکتوبر 1947 کو آزاد جموں و کشمیر ایک آزاد ریاست بنی، یہ دن کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی جدوجہد کی علامت ہے۔

    باغی ٹی وی : آزاد کشمیر کے 77 ویں یوم تاسیس کے موقع پر صبح کا آغاز دعائیہ تقریبات سے ہوا، دعائیہ تقریبات میں پاکستان اور کشمیر کی سلامتی اور شہدا کشمیر کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعا کی گئی اس موقع پر مظفرآباد میں پاک فوج کے جوانوں نے 21 توپوں کی سلامی دی، توپوں کی سلامی کے بعد پاکستان اور آزاد کشمیر زندہ آباد کے نعرہ بھی لگائے گئے۔

    واضح رہے کہ 24 اکتوبر 1947 کو ظالم ڈوگرہ حکمرانوں کے تسلط کے خلاف کشمیری مسلمانوں نے مسلح جدوجہد کر کے ریاست جموں و کشمیر کا ایک حصہ آزاد کروایا تھا، یہ دن ’غازی ملت‘ سردار محمد ابراہیم خان کی قیادت میں قائم ہونے والی پہلی انقلابی حکومت کی یادگار ہے سردار ابراہیم نے 1947 میں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کی جو ایک اہم تاریخی لمحہ تھا تاریخی لحاظ سے کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت تھی جبکہ 1947 میں کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے کشمیر کا الحاق بھارت سے کر دیا تھا۔

    ناکام احتجاج: بلوچ یکجہتی کمیٹی کا تربت میں مظاہرین کو ورغلانے میں ناکامی

    بھارت کے قبضے کے خلاف کشمیریوں نے 1947 میں تحریک آزادی شروع کی اور مقامی رہنماؤں نے اس علاقے کے لیے الگ شناخت اور حکومت قائم کرنے کی کوشش کی، 1947 میں کشمیری عوام اور قبائلی لشکر نے مل کر بھارتی افواج کے خلاف کھڑے ہونے کی جرات کی۔

    24 اکتوبر 1947 کو کشمیریوں نے مظفر آباد میں اپنی حکومت کا اعلان کیا، یوم تاسیس 1947 کی وہ عظیم تاریخ کی یاد دلاتا ہے جب کشمیری عوام نے اپنی خود مختاری کا اعلان کیا، آزاد کشمیر کی جنگ آزادی میں کشمیری عوام نے بھارتی تسلط کے خلاف بھرپور مزاحمت کی۔

    پاکستان کی جانب سے انقرہ میں ہونے والے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت

    24 اکتوبر 1947 کو سردار ابراہیم خان کی قیادت میں آزاد حکومت قائم ہوئی، آزاد کشمیر حکومت کا قیام، مظلوم کشمیریوں کی فتح اور خودمختاری کی جانب یہ پہلا قدم تھا آزاد جموں و کشمیر حکومت کا قیام کشمیری عوام کے جذبے اور قربانیوں کا نتیجہ تھا،آزاد جموں و کشمیر کا حکومتی ڈھانچہ پاکستان کی طرز پر ہے، جس میں ایک آزاد ایگزیکٹو، قانون سازی اور عدلیہ شامل ہیں، یہ ایک خود مختار ریاست ہے جس کا اپنا صدر، وزیر اعظم، اور پرچم ہے، جو اپنی خود مختاری کا دفاع کرتی ہے۔

  • عام انتخابات کے بعد وفاق سمیت چاروں صوبوں میں عوامی راج ہوگا،بلاول

    عام انتخابات کے بعد وفاق سمیت چاروں صوبوں میں عوامی راج ہوگا،بلاول

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین، وفاقی وزیر داخلہ بلاول زرداری نے کہا ہے کہ 55سال پرمحیط پیپلز پارٹی کی جدوجہد بار آور ہونے کے قریب ہے

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ملک میں آئین کی بالادستی اور جمہوریت مضبوط ہوگی،عام انتخابات کے بعد وفاق سمیت چاروں صوبوں میں عوامی راج ہوگا،پیپلز پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے کہ جس کی جڑیں عوام میں موجود ہیں، پیپلز پارٹی نے مشکل ترین حالات کا جرا ت و بہادری سے مقابلہ کیا،پیپلز پارٹی جمہوریت، انسانی حقوق اور مساوات کی علمبردار ہے،زندہ قومیں اپنے ماضی اور حال کا تنقیدی جائزہ لیتی ہیں، ہمیں بھی بطور جماعت، ریاست اور قوم اپنی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا،نوشتہ دیوار ہے کہ ملک کو آئندہ سلیکٹڈ نہیں الیکٹڈ حکومت کی ضرورت ہے،پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کو ملک، آئین اورجمہوریت زیادہ عزیز ہیں

    سابق صدر مملکت اور صدر پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز آصف علی زرداری نے پاکستان پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کے موقع پر اہم پیغام جاری کیا ہے، آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہم پارٹی کے ان ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنے نظریہ پر ثابت قدم رہتے ہوئے شہادت پائی اور جنہوں نے اپنی زندگی پارٹی کے لیئے وقف کردی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے تین آمروں کو شکست دیکر جمہوریت کو فتحیاب کیا۔ عوام کیلئے جان کیسے قربان کی جاتی ہے یہ حوصلہ صرف پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کی ورثہ ہے۔ کوئی شک نہیں کہ پیپلزپارٹی کے کارکن بھی بے مثال ہیں۔قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید بھی جھک کر جی سکتا تھا مگر وہ تاریخ کے ہاتھوں مرنا پسند نہیں کرتے تھے وہ تختہ دار بھی بڑے شان سے گئے اور تاریخ ساز بن گئے۔سرخ سلام ہے مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو کو جس نے ملک اور قوم کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردیا مگر کبھی اف تک نہیں کی۔محترمہ بینظیر شہید نے ایک لڑکی ہوتے ہوئے اقتدار پر قابض ایک وحشی اور سفاک ٹولے کی مزاحمت کی وہ نہتی اور خالی ہاتھ تھی مگر ان کی جمہوری جدوجہد نے طاقتور آمروں کے بت پاش پاش کردیئے۔آج گڑھی خدا بخش بھٹو کا قبرستان شہیدوں سے آباد ہے مگر ان کے قاتلوں کا کوئی نام نشان نہیں ہے۔

    جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں

    خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا

    گورنر پنجاب محمد بلیغ الرحمان سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات

    آصف زرداری کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کو آج بھی قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید یاد ہیں مگر انہیں سیاسی منظر ہٹانے کی کوشش کرنے والوں کو کوئی نہیں جانتا۔ ہم قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بینظیر بھٹو کے سیاسی پیروکار ہیں ہم میں اور ہمارے مخالفین میں ایک فرق ہے ہم جمہوریت کو مقدم سمجھتے ہیں اور ہمارا ہر فیصلہ جمہوریت کی بقا کیلئے ہوتا ہے۔ ہمیں پختہ یقین ہے کہ سیاسی جنت عوام کے قدموں میں ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کہتی تھیں کہ میرا دل اس وقت دکھی ہوتا جب میں اپنے ملک کے بچوں کو گندگی کے ڈھیر سے رزق تلاش کرتے ہوئے دیکھتی ہوں میں شہید بی بی کی اس فکر مندی کوکبھی بھی بھول نہیں سکتا۔ آنے والا وقت میرے وطن کے ان بچوں کے بہترین مستقبل کا ہے پاکستان پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنی عظیم والدہ کے خواب کی تکمیل کریں گے جو ان کا منشور ہے۔نوجوان پیپلزپارٹی کے نوجوان چیئرمین کے قافلہ میں شریک ہو کر ان کے ہاتھ مضبوط کریں اور ان کے قافلے میں شامل ہو جائیں۔ آج کے دن ہم اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ قائد عوام بھٹو شہید کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے ہر خواب کو حقیقت بنائیں گے۔ ہم پاکستان کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا پاکستان بنائیں۔ جہاں خواتین کو ہر شعبہ میں نمائندگی ہوگی انہیں معاشرے میں باوقار ماحول فراہم کیا جائے گا۔ نوجوانوں کو روزگار اور انہیں ترقی کی منزلیں طے کرنے کے موقع فراہم کرینگے اور ملک حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست ہوگی، ہم مزدوروں اور محنت کشوں کی ملازمتوں اور ان سے انصاف کو یقینی بنائیں گے۔ کسانوں کو ان کی محنت کا پھل ملے گا، پاکستان ذراعت میں خود کفیل ہوگا۔تمام ملکی امور کا فیصلہ عوام کی منتخب پارلیمنٹ کریگی اور انشاء ﷲ جمہوریت مضبوط ہو گی۔

  • یوم تاسیس پر بحیرہ احمر کے پانیوں میں سعودی عرب کا پرچم لہرا دیا

    یوم تاسیس پر بحیرہ احمر کے پانیوں میں سعودی عرب کا پرچم لہرا دیا

    جدہ: 20 سعودی شہریوں نے یوم تاسیس کی خوشی میں جدہ میں بحیرہ احمر کے پانیوں میں 30 فٹ نیچے سعودی عرب کے یوم تاسیس کا جشن منایا اور اس موقعے پر مملکت کا پرچم زیر آب لہرایا گیا سعودی شہری "ایکو آف دی ڈیپ” اور "لیٹس گو” کی ٹیم میں شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : ” العربیہ ” کے مطابق سعودی غوطہ خورٹیم ’چلو غوطہ لگائیں‘ کے رکن کیپٹن فیصل فلیمبان کا کہنا تھا کہ سمندر کے نیچے یوم تاسیس منانے کا اپنا ہی مزہ ہے اس تجربے میں غوطہ خوری کی خوشی، جشن کی خوشی اور سعودی عرضہ کی کارکردگی شامل ہے جہاں 20 غوطہ خوروں نے تھوبے، شماغ، دقلہ اور قمنا جیسا لباس زیب تن کیا اس طرح انہوں نے سمندر میں تیس فٹ کی گہرائی پر سعودی عرب کا قومی پرچم لہرایا۔

    دنیا کے سب سے خوبصورت اور جدید ’میوزیم آف دی فیوچر‘ کا افتتاح

    انہوں نے کہا کہ کسٹم سوٹ کے بغیر غوطہ خوری کے لیے پیشہ ورانہ اور اعلیٰ درجے کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے جس میں ہر غوطہ خور کو تفویض کیے گئے وزن اور فن اسٹروک کو مدنظر رکھا جاتا ہے یہ اقدام بطور پیشہ ور غوطہ خوروں کی ان کی کوششوں سے کیا گیا تھا اور اس کام کو کامیاب بنانے کے لیے انہیں کئی ریہرسل اور آلات کی مشق کرنے میں کئی ہفتے لگے۔

    سوئس سیکرٹس: مزید بین الاقوامی رہنماؤں اور اہلخانہ کے خفیہ اکاؤنٹس سامنے آگئے

    واضح رہے کہ یوم تاسیس ایک قومی موقع ہے سعودی عرب میں ہرسال 22 فروری کو یوم تاسیس منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔جس میں مملکت سعودی عرب، قیادت اور عوام سنہ 1727 عیسوی یعنی 3 صدیاں پہلے مملکت کے قیام کی یاد مناتے ہیں اس میں شان و شوکت سے متعلق مختلف ضروری تاریخی معانی،سعودی ریاست کے ورثہ،عظمت اور بہادری کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس عظیم قومی دن کی مناسبت سے سعودی عرب کے پاسپورٹ ڈاریکٹوریٹ نے یہ مہر جاری کی ہے جسے مملکت کی بین الاقوامی گذرگاہوں پر گذرنے والے مسافروں کی دستاویزات پر لگایا گیا۔

    ‏روس نے علیحدگی پسندوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو تسلیم کرلیا،ڈوناسٹک میں جشن کا…

  • اب رات کے اندھیروں میں سعودی عرب سے طیارے نہیں آئینگے، بلاول

    اب رات کے اندھیروں میں سعودی عرب سے طیارے نہیں آئینگے، بلاول

    اب رات کے اندھیروں میں سعودی عرب سے طیارے نہیں آئینگے، بلاول
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری یوم تاسیس کے جلسے میں شرکت کے لئے جلسہ گاہ پہنچ گئے، بلاول زرداری جلسہ گاہ پہنچے تو کارکنان نے انکا بھر پور استقبال کیا، بلاول کی آمد پر خیر مقدمی نعرے لگائے گئے، بلاول نے کارکنان کی جانب ہاتھ ہلا کر شکریہ ادا کیا، پی پی رہنما خورشید شاہ سمیت دیگر بلاول کے ہمراہ سٹیج پر موجود ہیں

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یوم تاسیس کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کارکنوں کویوم تاسیس مبارک ہو ، پیپلزپارٹی مظلوموں اورغریبوں کی جماعت ہے، پیپلزپارٹی نے جمہوریت کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں،خیبرپختونخوا کےل وگوں نے کبھی پیپلزپارٹی کومایوس نہیں کیا ہے،سلیکٹڈ نے پیپلزپارٹی کوپشاورمیں جلسےکی اجازت نہیں دی، آج لوگوں کاجم غفیردیکھ لیں،لوگ پیپلزپارٹی کیساتھ ہیں،پی ڈی ایم کا پشاورجلسہ بھی ناکام رہا،کاغذی وزیراعلیٰ نے جلسہ رکوانے کی کوشش کی ،چاہے ایم آر ڈی ہو، میاں نواز شریف کا دور ہو، ہر وقت خیبرپختونخواہ کی عوام نے کبھی شہید محترمہ بینظیر اور قائد عوام کو مایوس نہیں کیا. غربت اوربے روزگاری کے خاتمے کیلئے پیپلز پارٹی بنائی گئی تھی،پیپلزپارٹی نے ہمیشہ غریبوں کیلئے آوازبلند کی ہے،آج دیکھ لیں ،پوراپشاورجلسے میں موجود ہے،آصف زرداری نے اس وقت حکومت سنبھالی تھی جب پوری دنیامیں معاشی بحران تھا،ہم نے بینظیرانکم سپورٹ پروگرام جیسے انقلابی منصوبے شروع کیے،پیپلزپارٹی حکومت نے پنشن اورتنخواہوں میں اضافہ کیا،موجودہ حکومت امیروں کوریلیف غریبوں کوتکلیف دیتی ہے،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سازش کرنے والوں کوسازش کرنے دیں،ٹیپ نکالنے والے ٹیپ نکالتے رہیں،ہم عوامی طاقت سے حکومت بنائیں گے ،ماضی میں عدالت پردباوَڈالتے رہے کہ زرداری کو20 سال قید کی سزا سناوَ ،ہمیں اس پرخوشی نہیں ہورہی کہ آج ان کے خلاف ٹیپس نکل رہی ہیں ،اب رات کے اندھیروں میں سعودی عرب سے طیارے نہیں آئینگے،جو بھٹو کی بیٹی کو چور کہتے تھے وہ خود سرٹیفائیڈ ہوچکے،ہم نے ستر سال بعد پختونوں کو پہچان دی۔ہم ہی پختونوں کو جعلی تبدیلی سے نجات دلوائیں گے۔کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات، دہشتگردوں سے بات چیت کوتسلیم نہیں کرینگے

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ عوام ساتھ دے ہم تبدیلی سرکار کی تمام سازشیں ناکام بنائیں گے، کپتان آئی ایم ایف کی غلامی کرتے ہوئے پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان کرتا ہے، پی پی کے جیالے حکومت کے اس اعلان کو رد کرتے ہیں، حکومت ناکام ہو چکی، حکومت کی نالائقی کی وجہ سے وہ ملک جو خود گیس پیدا کرتا ہے اب آنیوالے مہینہ میں ہمارے پاس گیس نہیں ہو گی، ہم اس نالائقی کی مذمت کرتے ہیں،انہوں نے ہر پاکستانی کو تکلیف میں ڈالا، ہم کب تک انکی ناکامی کا بوجھ اٹھائیں گے، پاکستان نے عوام نے پہلے دن سے اسکو نہیں مانا، ہم کہتے ہیں کہ آئی ایم ایف ڈیل سے نکلو، عوام دشمن آئی ایم ایف کی نہ مانو، ایسی معاشی پالیسی لائیں جو ملک کے مفاد میں ہو، پاکستانی قوم کے مفاد میں ہو،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ یہ قانون سازی کرنے جا رہے ہیں کہ پاکستان کا سٹیٹ بینک کسی کا پابندی نہیں ہو گا بلکہ صرف آئی ایم ایف کی غلامی کرے گا، ہم اسکی مخالفت کریں گے اور ایسے کسی قانون کی اجازت نہیں دیں گے،زبردستی الیکٹرونک ووٹنگ مشین مسلط کرنے کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے، یہ آرٹی ایس ٹو ہے، ہم اس الیکشن کو رد کرتے ہیں جو جعلی ای وی ایم سے ہو گا، ہم قانونی کیس بھی بنا رہے ہیں، ای وی ایم کے نام پر اوورسیز پاکستانی کے ساتھ بھی گیم کھیلا جا رہا ہے، اوورسیز پاکستانی پاکستان کے لئے اہم ہیں لیکن تبدیلی سرکار انکو حق نہیں دے رہی،ہم اوورسیز کے حقوق کا تحفظ کریں گے، وہ ہمارے لوگ ہیں، خان صاحب سازش کر رہے ہیں جس میں اوورسیز کا نقصان ہے، پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اوور سیز پاکستانیوں کا خیال رکھا ہے.ہم نے کہا کہ اوورسیزپاکستانیوں کا پارلیمنٹ میں اپنا نمائندہ ہونا چاہیے،یہ کیسے ہوسکتا ہےکہ پیرس میں ووٹ ڈالاجائے اورنتیجہ پشاورمیں نکلے ،اوورسیز پاکستانیوں کی حقیقی نمائندگی ہونی چاہیے،ایبسولوٹلی ناٹ کہنے والے عمران خان کلبھوشن یادیو کو این آراو دینے کی کوشش کررہے ہیں،خیبرپختونخوا پولیس نےدہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں،قبائلی اضلاع میں ایف سی آرکےنظام کورد کرتے ہیں،جنہوں نے اے پی ایس کے بچوں کوشہید کیا ان کیساتھ حکومت مذاکرات کررہی ہے،موجودہ حکومت دہشتگردوں کے سامنے جھک چکی ہے،یہ لوگ کون ہوتے ہیں قاتلوں سےمذاکرات کرنے والے؟ جوسنگین جرائم میں ملوث ہیں ان کوسزا ملنی چاہیے،ہرپاکستانی کومعلوم ہے کہ تبدیلی کا اصل چہرہ تاریخی مہنگائی اوربے روزگاری ہے ،چینی کی قیمت میں200 فیصد اضافہ ہوا ہے،پوری دنیا ملکرافغانستان میں ناکام رہی،ہم مزدوروں ،کسانوں اورنوجوانوں کیلئے منصوبے لے کرآئیں گے

    پیپلزپارٹی کے جلسے میں پاکستان کے مختلف علاقوں کے روایتی رنگ نمایاں ہیں سندھی اجرک اور سندھی ٹوپی پہن کر پی پی پی کارکن سندھ کی نمائندگی کررہے ہیں،قبائلی اضلاع کے کارکنوں نے روایتی پگڑیاں، چترال کے کارکن چترالی پکول پہنے ہوئے ہیں

    قبل ازیں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ آج یوم تجدید ہے کہ ہم پارلیمانی نظام کا مکمل دفاع کرتے رہیں گے بااختیار پارلیمنٹ اورعوام کے حق حاکمیت پر کوئی سودے بازی منظور نہیں،اسلام ہمارا دین ہے اور سوشلزم ہماری معیشت ہے،پاکستان پیپلزپارٹی نے ملک کو آئین دیا اورعوام کو جمہوری حقوق دیے،ملک اورجمہوریت کیلئے پاکستان پیپلزپارٹی کی قربانیوں سے کوئی انکارنہیں کرسکتا،18ویں آئینی ترمیم محترمہ بینظیربھٹو شہید کے مشن کی تکمیل ہے تمام جمہوریت پسندوں کا فرض ہے کہ وہ 18ویں آئینی ترمیم کی حفاظت کریں،,چیرمین بلاول بھٹوزرداری اپنے نانا اور والدہ کے خواب کی تکمیل کیلئے میدان میں ہیں

    پیپلز پارٹی کے رہنما ، رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی تب وجود میں آئی جب لوگوں کی زبانوں پر تالے تھے،سید خورشید شاہ کا کہناتھا کہ قوم دن بدن مقروض ہوتی جارہی ہے ملک میں آئین و قانون کے تحت حکمرانی ہونی چاہیے، پیپلز پارٹی استعفٰی نہیں دے گی اور انارکی پھیلا کر سیاست نہیں کرنا چاہتی، حکومت آتی جاتی رہتی ہے لیکن ملک عزیز ہے،1997 میں پیپلز پارٹی کے پاس 17 سیٹیں تھیں دباؤ کے باوجود استعفیٰ نہیں دیا،استعفیٰ کسی بات کا حل نہیں ہوتا،یہ پارلیمنٹ نہیں بلکہ بابو کا آفس بن گیا ہے،

    پی پی رہنما سینیٹر مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ پی پی پی نے ملک کو ائین، عوام کو آواز، میڈیا اور عدلیہ کو آزادی دی، ائٹم بم، میزائیل ٹیکنالوجی دے کر وطن کا دفاع پیپلز پارٹی نے ہی ناقابل تسخیر بنایا ،آج پارلیمانی جمہوری نظام کے خلاف بھی طرح طرح کی سازشیں رچی جا رہی ہیں، پی پی پی قیادت اور جیالے آج بھی آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کیلئے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں،جب جب ملک اور عوام پر کڑا وقت آیا پیپلز پارٹی نے ہی آگے بڑھ کر مشکلات کا خاتمہ کیا ،تاریخ گواہ ہے کہ کون مشکل وقت میں عوام کے ساتھ کھڑا رہا اور کون میدان چھوڑ کر بھاگ کیا،

    دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے 54ویں یوم تاسیس کے جلسے میں شرکت کے لئے شرکاء کی آمد کا سلسلہ جاری ہے، یوم تاسیس کے موقع پر پیپلز پارٹی پشاور میں جلسہ کر رہی ہے، پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے حکومتی ادوار میں نہ صرف پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا بلکہ اسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے اسلامی دنیا کی طاقتور ترین ریاست بھی بنایا۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ملک کو ایٹمی طاقت اور میزائیل ٹیکنالوجی دے کر ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، اور معشیت کو مستحکم کرکے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ملک سے غُربت کے خاتمے اور خواتین کو خودمُختار بنانے سے لیکر پاکستان کی تقدیر بدلنے والے سی پیک اور گوادر بندرگاہ کے تاریخی معاہدے، پاکستان پیپلز پارٹی کی خدمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کے 54 ویں یوم تاسیس پر پیغام جاری کیا ہے، پی پی پی چیئرمین کی جانب سے تمام جیالوں اور قوم کو یومِ تاسیس کی مبارکباد دی گئی ہے، بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ طویل جدوجہد اور بے مثال قربانیوں کے بعد، اب پاکستان میں جمہوریت کا ترجمہ پاکستان پیپلز پارٹی ہے پارٹی کا منشور و لائحہ عمل ہی، اب 22 کروڑ پاکستانیوں کے وطن کو ایک حقیقی جمہوری و فلاحی ریاست بنانے کا واحد راستہ ہے ،پی پی پی ایک تحریک، جس کی اساس قائدِ عوام کا نظریئہ، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا فلسفہ، اور کئی نسلوں کی جدوجہد و قربانیاں ہیں ،پی پی پی نے مشکل ترین حالات کا مقابلہ کرکے بھی ملک و قوم کو بیش بہا اسٹریٹجک تحفے دیئے ،ملک کو پہلا متفقہ آئین، ناقابلِ تسخیر دفاع کے ضامن جوہری پروگرام اور میزائیل ٹیکنالاجی پیپلز پارٹی کے تحفے ہیں ،صوبائی خودمختاری، اور زرعی و معاشی اصلاحات بھی ایسے تحفوں میں شامل ہیں ،پاک – چین دوستی اورسی پیک منصوبہ بھی قوم کو پی پی پی کے تحفے ہیں ،اسلامی سربراہی کانفرنس کی شکل میں سیاسی طور پاکستان کو اسلامی دنیا کو محور و مرکز بنانا بھی پی پی پی کا طرہِ امتیاز ہے ،آج ان تمام جیالوں کو سلام پیش کرتا ہوں، جنہوں نے جمہوریت کے کاز کی خاطر اپنی جانوں کی قربانیاں دیں ،ان جیالوں کو سلام جنہوں نے کوڑے کھائے، قید و بند، جلاوطنی اور غیرجمہوری قوتوں کے اسپانسرڈ میڈیا ٹرائیلز کے سامنا کیا ،باعثِ فخر ہے کہ قائدِ عوام اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نامکمل مشن کو پایئہ تکمیل پر پہنچانے کے لیئے، پارٹی پرعزم ہے ،اس مقصد کے حصول کی خاطر کارکنان آج بے مثال جراَت کے ساتھ اپنی جدوجہد میں نئی روح پھونکنے کے لیئے کھڑے ہیں ،آج تجدیدِ عہدِ نو کا دن ہے کہ ہم عوام کے حقِ حاکمیت کے لیئےجدوجہد جاری رکھیں گے خواتین کی آزادی، اقلیتوں کی قومی دھارے میں شمولیت کے لیئے سرگرم عمل رہیں گے جمہوری اداروں کو بااختیار اور آئین کی حکمرانی کے لیئے جدوجہد جاری رکھیں گے ،پاکستان پیپلز پارٹی عوام کی بھبود و ترقی کے لیئے ہماری تحریک جاری رہے گی پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور جیالوں کی انتھک جدوجہد بارآور ہونے کے قریب ہے ،ملک سے ہر قسم کے امتیاز کے خاتمے اور مساوات پر مبنی معاشرے کے قیام کا خواب حقیقت میں بدلنے والا ہے ،وقت آگیا ہے کہ اب پاکستان میں حقیقی جمہوریت کو پاوَں جمانے دیا جائے اور لاڈلہ سازی کا خاتمہ کیا جائے

    ایک ہزار سے زائد خواتین، ایک سال میں چار چار بار حاملہ، خبر نے تہلکہ مچا دیا

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    ایک برس میں 10 ہزار سے زائد کسانوں نے کس ملک میں خودکشی کی؟

    مطالبات نہ مانے گئے تو بھارت بند کردیں گے،احتجاج کرنیوالے کسانوں کا بڑا اعلان

    بھارت بند کا اعلان، کسانوں کو اپوزیشن جماعتوں کی حمایت مل گئی

    مودی کا جہاز خریدنے کیلیے پیسے ہیں لیکن کسانوں کو دینے کیلئے نہیں،پرینکا گاندھی مودی پر برس پڑیں

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    لداخ ،کشمیر تنازعہ پر ہم بھارت کے ساتھ ہیں، امریکہ کا دوٹوک اعلان

    چین کے ساتھ سرحد پر صورتِ حال خطرناک ہے، بھارتی آرمی چیف کی لداخ میں بات چیت

    چین نے دیا بھارت کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا،لداخ کے بعد ارونا چل پردیش پر بھی اپنا دعویٰ کر دیا

    ضلع پونچھ میں جھڑپ کے دوران 5 بھارتی فوجی جہنم واصل

    بھارتی پولیس اہلکاروں کی غیر ملکی خاتون سے 5 ماہ تک زیادتی

    بھارتی وزیرکی گاڑی نے چار کسانوں کو کچل دیا،احتجاج کے بعد اپوزیشن رہنماؤں کی بھی گرفتاریاں

    کسانوں نے دیا حکومت کو ایک بار پھر بڑا جھٹکا

  • عطااللہ عیسی خیلوی کو کوئی بتائے کے اچھے نہیں برے دن آئے ہیں،روبینہ خالد

    عطااللہ عیسی خیلوی کو کوئی بتائے کے اچھے نہیں برے دن آئے ہیں،روبینہ خالد

    عطااللہ عیسی خیلوی کو کوئی بتائے کے اچھے نہیں برے دن آئے ہیں،روبینہ خالد

    پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی صوبائی صدر سینیٹر روبینہ خالد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور میں یوم تاسیس منعقد کرنے کا فیصلہ چئیرمین بلاول کا ہے،

    سینٹر روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ اجتماع میں پورے پاکستان سے جیالے اور جیالیاں شریک ہونگے، پارٹی کے جلسوں کی اجازت نہ دینے والے خود گھبرا چکے ہیں یوم تاسیس منانے کے لیے این او سی نہیں دیا جارہا، بی بی شہید کے سپاہیوں کو کوئی نہیں روک سکتا،سکیلٹڈ حکمران غریبوں کے دکھ کا مزاق اڑا رہے ہیں، غربت کی وجہ سے لوگ مر رہیے ہیں،عطااللہ عیسی خیلوی کو کوئی بتائے کے اچھے نہیں برے دن آئے ہیں، ملک کی تاریخ کا بد ترین دور ہے، لوگ مہنگائی میں پس چکے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی کے 54 ویں یوم تاسیس کے موقع پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں، پشاور میں ایک تاریخی جلسہ عام منعقد کیا جائے گا پوری عوام اس وقت چیخ رہی ہے انہوں نے واقعی لوگوں کی چیخیں نکال دی ہیں غریب لوگ آخر کار مر جاٸینگے، اب یہ منی بجٹ بھی لارہے ہیں ہمارا یوم تاسیس ہے ہم تو نکلین گے، عوام کا سمندر بھی ساتھ ہوگا یہ سکیلٹڈ حکمران غریبوں کے دکھ کا مزاق اڑا رہے ہیں یوم تاسیس کا جلسہ کرنے این او سی نہیں دیا جارہا کیونکہ یہ گھبرائے ہوئے ہیں پی ٹی آٸی والے تو اب اپنے نشان پر الیکشن نہیں کرنا چاہتے اتنے ڈرے ہوئے ہیں یہ ملک کی تاریخ کا بد ترین دور ہے، لوگ مہنگاٸی میں پس چکے ہیں یہ حکومت ہمارے اور شوز سے گھبرا گئے ہیں پیپلز پارٹی کے جلسوں کی اجازت نہ دینے والے خود گھبرا چکے ہیں پیپلز پارٹی کےسیاسی ورکرز شہید ذولفقار علی بھٹو اور بی بی کے ورکرز ہیں انہیں کوٸی نہیں روک سکتا

    دوسری جانب پی پی رہنما امجد آفریدی کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے یوم تاسیس جلسے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی شدید مذمت کرتے ہیں، پی ٹی آئی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرکے جیالوں کا راستہ نہیں روک پائے گی اور اسے منہ کی کھانی پڑے گی, جلسہ پہلے سے شیڈول تھا جسکا بلدیاتی انتخابات مہم سے کوئی تعلق نہیں، تحریک انصاف حکومت کو اپنی کمزور ساکھ کی فکر لاحق ہے اور بلدیاتی الیکشن میں ممکنہ ناکامی کے ڈر سے پیپلز پارٹی جلسہ رکوانے کےلئے حربے استعمال کیے جارہے ہیں عوام حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی وبیروزگاری سے تنگ آچکی ہے جلسہ میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر حکمرانوں کی نیندیں حرام کردے گا،جلسے کے روز انتظامیہ نے کسی قسم چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی تو حالات کی زمہ داری حکومت پر عائد ہوگی,

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات سعید غنی کا کہنا تھا کہ حکومت نے غریب آدمی کی زندگی مشکل میں ڈال دی ہے سندھ حکومت کی زمہ داری ہے یہ ہمارا احسان نہیں ہے حکومتوں کو چاہئیے کہ صحافیوں کو سپورٹ دی جائے جب تک کم صحافیوں پر ظلم کرنے والوں کو گرفتار نہیں کرتے تب تک ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ایسی حرکتوں سے آپ سچ کو نہیں روک سکتے، جتنا ظلم میڈیا پر اس دور میں ہورہا ہے وہ کبھی نہیں ہوا ہے جتنی سازشیں عدالتوں کے خلاف ہوری ہے اتنی تو فوجی آمر کے دور میں بھی نہیں ہوئی دو باتیں اگر میں کرلوں تو مجھے بلانے آجاتے ہیں آپ فیصلہ دیں مگر کم سے کم اتنا تو بولنے کا حق دیں کہ فیصلہ غلط ہے تھوڑی سی بات کرتے ہیں تو توہین عدالت لگائی جاتی ہے، میں احترام کرتا ہوں عدالتوں کا ،میں یہ نہیں بول رہا کہ زمینوں پر قبضہ ہونا چاہئیے، ماضی میں ہزاروں عمارتیں بن گئی ہیں ، اس کا ایک حل یہ ہے کہ آپ ساری عمارتوں کو گرادوں کیا یہ ممکن ہے,

    قبل ازیں سندھ کے صوبائی وزیر منظور وسان کا کہنا تھا کہ کہا گیا گندم مہنگی ہونے کی سندھ حکومت ذمہ دار ہے ، ڈی اے پی اور یوریا امپورٹ کی جاتی ہے، پنجاب سے کم قیمت پر سندھ میں مل رہی ہے، سندھ میں فرٹیلائزرکے 1320 ڈیلرزہیں، سندھ میں ڈی اےپی کاریٹ پنجاب سے کم ہے، کسی بھی چیز کی قلت ہو،ذمہ دارسندھ حکومت کوکہتےہیں وزیر اعظم نے سندھ حکومت پر الزام لگایا، 3صوبوں میں ان کی حکومت ہے، الزام لگاتے ہیں ، عملی اقدام نہیں کرتے حکمرانوں کی غیبی طاقت ختم ہورہی ہے،مکیش چاولہ کا کہنا تھا کہ یوریا گیس سے بنتی ہے، 70 فیصد گیس سندھ دیتا ہے، 3 ماہ سے یوریا کی بکنگ کیوں کی ہوئی ہے،