Baaghi TV

Tag: یوم ترویہ

  • یوم ترویہ:عازمین حج کی منیٰ روانگی

    یوم ترویہ:عازمین حج کی منیٰ روانگی

    حج 2026 کے مناسک کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، آج حج کا پہلا دن ہے جسے ”یوم الترویہ“ کہا جاتا ہے، اور پاکستان سمیت دنیا بھر سے تقریباً اٹھارہ لاکھ عازمینِ حج مکہ مکرمہ سے منیٰ کی طرف روانہ ہورہے ہیں-

    عازمین آج منیٰ میں نمازِ ظہر، عصر، مغرب اور عشاء ادا کریں گےحاجی لبیک کی صدائیں بلند کرتے ہوئے خیموں میں قیام کر رہے ہیں،کل 9 ذی الحجہ کو نماز فجر کے بعد میدان عرفات روانہ ہوں گے جہاں حج کا سب سے اہم رکن وقوفِ عرفہ ادا کیا جائے گا۔

    مکہ مکرمہ کے قلب میں واقع یہ وادی چند ہی دنوں میں ایک مکمل اور جدید شہر کی شکل اختیار کرلیتی ہے، جہاں لاکھوں حجاج کرام نہایت منظم انداز میں عبادات کی ادائیگی کے لیے جمع ہوتے ہیں منیٰ کو ایک جدید موسمی اسمارٹ سٹی کی حیثیت حاصل ہے، جہاں صرف سفید خیموں کا وسیع جال ہی نہیں بلکہ پسِ منظر میں ایک انتہائی مربوط اور مؤثر نظام بھی فعال ہوتا ہے۔

    منیٰ میں جدید طرز کے خیموں کا مجموعی رقبہ تقریباً 25 لاکھ مربع میٹر پر مشتمل ہے، جو اعلیٰ ترین حفاظتی معیارات کے مطابق تیار کیے گئے ہیں، ان خیموں میں 26 لاکھ سے زائد عازمینِ حج کو ٹھہرانے کی گنجائش موجود ہے۔

    سعودی حکومت کی جانب سے حج انتظامات کو موثر اور محفوظ بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کیے گئے ہیں سیکیورٹی، بجلی، پانی، طبی سہولیات اور گرمی سے بچاؤ کے لیے خصوصی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں منیٰ، عرفات اور دیگر مقدس مقامات پر جدید کولنگ سسٹم، پانی کی پھوار دینے والے پنکھے، شیڈ اسٹرکچر اور سائبان نصب کیے گئے ہیں تاکہ شدید گرمی میں حجاج کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

    میدان عرفات اور مسجد نمرہ کے اطراف ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے شجر کاری کے منصوبے بھی مکمل کیے گئے ہیں جبکہ پیدل چلنے والے حجاج کی آسانی کے لیے سہولیات کے ساتھ راستے تیار کیے گئے ہیں سعودی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد حجاج کو محفوظ، آرام دہ اور بہتر ماحول فراہم کرنا ہے۔

    دوسری جانب پاکستانی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے پاکستانی حجاج کے کیمپوں کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا انہوں نے سعودی وزیر حج ڈاکٹر توفیق العربیہ سے بھی ملاقات کی اور بہترین انتظامات پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔

    حج گروپس کی انتظامیہ نے عازمین کو یوم الترویہ اور دیگر مناسک کے حوالے سےضروری ہدایات بھی فراہم کی ہیں مختلف راستوں پر سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں جبکہ ہلالِ احمر اور فلاحی تنظیموں کے رضاکار بھی حجاج کی مدد میں مصروف ہیں۔

    وزارتِ صحت کی جانب سے مختلف زبانوں میں آگاہی پمفلٹس تقسیم کیے جا رہے ہیں اور حجاج کو شدید گرمی سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ عازمین کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ کھلی دھوپ میں زیادہ دیر نہ رہیں، زیادہ پیدل سفر سے گریز کریں، چھتری کا استعمال کریں۔

    ادھر مکہ مکرمہ کے مقامی شہری بھی حجاج کی خدمت میں پیش پیش ہیں اور منیٰ جانے والے راستوں پر عازمین میں پانی کی بوتلیں تقسیم کر رہے ہیں، جس سے حج کے ماحول میں بھائی چارے اور خدمت کے جذبات نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔

  • سعودی عرب میں مناسک حج کا آغاز،منی میں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی آباد ہوگئی

    سعودی عرب میں مناسک حج کا آغاز،منی میں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی آباد ہوگئی

    مکہ مکرمہ: سعودی عرب میں مناسک حج کا آغاز ہوگیا، اس سال کووڈ 19 وبا سے قبل جیسی بھرپور تعداد میں حج ادا کیا جا رہا ہے، سعودی عرب کی جانب سے اس سال مسلمانوں کو عازمین حج کی تعداد اور عمر کی پابندی کے بغیر حج کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب میں مناسک حج کا آغاز ہوگیا جہاں منی میں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی آباد ہوگئی منیٰ مسجد حرام سے 5 کلومیٹر دور ہے جہاں لاکھوں عازمین رات کو قیام کریں گے اور رب سے گڑ گڑا کر دعائیں کریں گے آج 8 ذوالحج کے اس دن کو یوم ترویہ کہا جاتا ہے۔ اس دن عازمین حج منی میں پانچ نمازیں پڑھتے ہیں منیٰ میں تلبیہ، تسبیح اور تکبیر پڑھی جاتی ہے۔


    عازمین صبح فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد حج کے سب سے بڑے رکن وقوف عرفہ کیلیے روانہ ہوں گے جہاں وہ خطبہ حج سُن کر ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کریں گے،پاکستان کے 2 لاکھ عازمین سمیت 160ممالک سے 25 لاکھ کے قریب عازمین لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے منٰی پہنچ گئے۔ جہاں ’لبیک الھم لبیک‘ کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔

    عازمین آج کی رات مِنیٰ میں ہی قیام کریں گے اور منگل کو نماز فجر کی ادائیگی کے بعد مِنیٰ سے میدان عرفات روانہ ہوں گے حج کا رکن اعظم ”وقوف عرفہ” منگل کو ادا کیا جائے گا۔حاجی مسجد نمرہ میں خطبہ حج سنیں گے اور ظہراور عصر کی نمازیں قصر کرکے پڑھیں گے۔ دن بھر ذکراذکارکریں گے اور جبل رحمت پر جا کر اپنی اور امت مسلمہ کی بخشش کی دعائیں کریں گے ۔

    https://twitter.com/insharifain/status/1673175899963793408?s=20

    سورج غروب ہوتے ہی حجاج مغرب کی نماز ادا کیے بغیر مزدلفہ کی طرف روانہ ہوجائیں گے مزدلفہ پہنچ کر مغرب ور عشا کی نماز عشا کے وقت میں ادا کریں گے اور رات مزدلفہ میں کھلے آسمان تلے گزاریں گے یہاں سے ہی جمرات کو مارنے کیلیے کنکریاں جمع کریں گے،10 ذی الحج صبح فجر کے بعد واپس منٰی چلے جائیں گے 10، 11 اور 12 ذو الحج اور اختیاری طور پر 13 ذو الحج کو حجاج کرام منیٰ میں قیام کرتے ہیں۔ پرسوں بدھ سعودی عرب میں 10 ذوالحج کو حجاج کرام منیٰ پہنچ کر رمی جمار کریں گے یعنی شیطان کو کنکریاں ماریں گے 10 ذو الحج کو صرف ایک جمرہ کی رمی کی جائے گی۔ گیارہ اور بارہ ذو الحج کو تینوں جمرات کی رمی کی جاتی ہے۔ قربانی کے بعد حاجی احرام اتار دیں گے اور خانہ کعبہ جا کرطواف زیارہ کریں گے اور واپس منی جا کر ایام تشریق گزاریں گے-

    حکومت پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے پاکستانی عازمین حج کی مدد اور سہولت کے لئے منیٰ میں مرکزی کنٹرول آفس قائم کر دیا ہے ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق کنٹرول روم میں معلومات اور رابطے کو یقینی بنانے کے لیے ایک انفارمیشن سیل قائم کیا گیا ۔ اس کے علاوہ گمشدہ حاجیوں یا گمشدہ سامان کی تلاش میں مدد کے لئےایک خصوصی سیل بھی قائم کیا گیا ہے نجی طور پر حج کے لئے جانے والے عازمین کے کسی بھی ممکنہ مسائل کی کڑی نگرانی اور ان کے حل کے لیے ایک علاحدہ مانیٹرنگ سیل قائم کیا گیا ہےمختلف دیگر خصوصی یونٹس، جیسے کہ وہیل چیئر ڈیسک وغیرہ حاجیوں کی سہولت کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔

    سعودی عرب کی حکومت اور حرمین الشریفین کی انتظامیہ نے عازمین کی سہولت کے لیے سیکیورٹی کے سخت اور دیگر معاملات کے لیے بھی زبردست انتظامات کیے ہیں، عازمین کو گرمی سے بچانے کے لیے انہیں پانی فراہم کیا جارہا ہے جبکہ جگہ جگہ پر فوارے کے ذریعے اُن پر پانی چھڑکا جارہا ہے۔

    امسال بھی خطبہ حج کو عربی، اردو، انگریزی، فرانسیسی، چینی سمیت دیگر زبانوں میں بیک وقت نشر کیا جائے گا حرمین الشریفین کی جنرل پریزیڈنسی کے سربراہ اور امام کعبہ عبدالرحمان السدیس نے کہا ہے کہ ہم نے 300 کروڑ افراد کے خطبہ حج کا منصوبہ بنایا تھا مگر اللہ نے ہمیں سرخرو کیا جس کے بعد رواں سال 50 کروڑ افراد خطبہ حج سُن سکیں گے۔

    حج انتظامات کی تیاریوں کے سلسلے میں سعودی عرب کی حکومت نے خطبہ حج کو پوری دنیا کے مسلمانوں تک پہنچانے کے لیے جدید ترین مواصلاتی ڈیجیٹیل سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے دنیا بھر میں ارد سمیت دنیا کی بیس بڑی زبانوں میں خطبہ حج کا ترجمہ براہ راست نشر کیا جائے گا۔

    اس ضمن میں صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین نے خطبہ حج کا ترجمہ 20 بین الاقوامی زبانوں میں نشر کرنے اور اسے پوری دنیا کے مسلمانوں تک پہنچانے کی تیاری کے لیے’منارات الحرمین‘ پلیٹ فارم سے ڈیجیٹل سروسز سسٹم کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔


    العربیہ کے مطابق صدارت عامہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے تکنیکی امور ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت انجینیر وسام بن محمد مقادمی نے کہا کہ میدان عرفات کے خطبہ کے ترجمے کے منصوبے کا مقصد مسلمانوں کو ڈیجیٹل دنیا کو استعمال کرتے ہوئے خطبہ حج سننے اور دیکھنے کے قابل بنانا ہے۔ یہ سروس مسجد حرام کے منارات حرمین پلیٹ فارم کی ویب سائٹ اور سمارٹ فون ایپلی کیشنز کے ذریعے ایک ہی لمحے میں دُنیا بھر میں500 ملین سے زیادہ سامعین اور زائرین تک حرمین شریفین کا پیغام پہنچانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹیل پلیٹ فارم کے معیار میں کنکشن سرکٹ (IP-VPN)کی رفتار میں اضافہ (DIE) کی رفتار میں اضافہ ، تمام ڈیجیٹل براڈکاسٹنگ ڈیوائسز کی جانچ، ڈیٹا ٹرانسمیشن کی رفتار کی جانچ اور ڈیٹا ٹرانسمیشن کی حفاظت کی پیمائش کی تکمیل کی گئی ہے۔