Baaghi TV

Tag: یوم تکبیر

  • مسلح افواج کا نیوکلیئر صلاحیت حاصل کرنے میں کردارادا کرنے والوں کو خراج تحسین

    مسلح افواج کا نیوکلیئر صلاحیت حاصل کرنے میں کردارادا کرنے والوں کو خراج تحسین

    مسلح افواج کا نیوکلیئر صلاحیت حاصل کرنے میں کردار اداکرنے والوں کو خراج تحسین

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یوم تکبیر کے موقع پر ترجمان پاک فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مسلح افواج ھے نیوکلیئر صلاحیت حاصل کرنے میں کردار اداکرنے والوں کو خراج تحسین پیش کیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 24 سال قبل 28 مئی 1998 کو پاکستان نے نیوکلیئر صلاحیت حاصل کی، 24 سال پہلے اسی دن پاکستان ایٹمی قوت بنا ،جس سے خطے میں طاقت کا توازن بحال ہوا ،ملک کا دفاع مضبوط کرنے والوں نے مشکلات کے باوجود نیوکلیئرصلاحیت کو ممکن بنایا،مسلح افواج ان تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے بے لوث کام کیا تمام مشکلات کیخلاف ثابت قدم رہے اور اسے ممکن بنایا

    واضح رہے کہ 8 مئی 1998 دنیا کی تاریخ میں وہ دن ہے جب پاکستان دنیا بھر میں ساتویں اورعالم اسلام میں پہلی ایٹمی قوت بن کر ابھرا چاغی میں 5 ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان نے ایٹمی صلاحیت میں مسلسل ترقی کی جس سے اسے روایتی دشمن بھارت پر فوقیت حاصل ہو گئی گزشتہ 24 برسوں میں پاکستان نے ایٹمی صلاحیت میں مسلسل ترقی کی ہے جس کی وجہ سے خطے میں پاکستان کو اپنے روایتی دشمن بھارت پر نہ صرف فوقیت حاصل ہے بلکہ پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے اگر بھارتی عزائم اور اس کے جنگی جنون کا جائزہ لیا جائے تو بھارت آنے والے برسوں میں اربوں ڈالر کا ملٹری ہارڈ ویئر خرید رہا ہے مگر بھارت پاکستان کے خلاف اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکا جس کی واحد وجہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت ہے

    28 مئی کو پاکستان نے خطے میں توازن کا پیغام دیا

    یوم تکبیر، پاکستان تیس منٹ‌ میں تمام بھارتی شہروں‌ کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے. ڈاکٹر عبدالقدیر خاں

    یوم تکبیر، خواب کو حقیقت بنانے والوں کو سلام، ترجمان پاک فوج

  • پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24 برس مکمل،وزیراعظم کا یوم تکبیر پرخصوصی پیغام

    پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24 برس مکمل،وزیراعظم کا یوم تکبیر پرخصوصی پیغام

    لاہور: پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24 برس مکمل ہو گئے لہٰذا پورے ملک میں آج یوم تکبیر جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیر اعظم نے یوم تکبیر پرخصوصی پیغام میں قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آج کے دن 1998 میں وزیراعظم نواز شریف نے قیادت کے دلیرانہ شو میں دباؤ اور ترغیبات کو مسترد کر کے پاکستان کو دنیا کی ایٹمی طاقت بنا یا-


    وزیر اعظم نے کہا کہ اب ہم اسے معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کا عزم کر چکے ہیں۔ میں ان تمام لوگوں کا مشکور ہوں جنہوں نے ہمارے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے میں مدد کی۔

    پیٹرول سے متعلق ہم نے دل پر پتھر رکھ کرفیصلہ کیا ، شہباز شریف

    پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 24برس مکمل ہو گئے تاہم اسی مناسبت سے آج پورے ملک میں یوم تکبیر قومی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے اورملک بھر میں خصوصی تقریبات ہوں گی۔


    واضح رہے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے دورمیں پاکستان نے 28مئی 1998ء کو بلوچستان کے علاقے چاغی میں 5 کامیاب ایٹمی دھماکے کیے، جس کے بعد اس دن کو یوم تکبیر کے نام سے منایا جاتا ہے۔


    وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے یوم تکبیر پرخصوصی پیغام میں کہا گیا کہ یوم تکبیر پر پوری پاکستانی قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں24 سال قبل آج کے دن ہم نے ثابت کیا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے-

    نعرہ تکبیر تک کا سفر ، ازقلم :غنی محمود قصوری

    یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے جوہری دھماکوں کے 24 سال مکمل ہونے پر 10 روزہ تقریبات منانے کا فیصلہ قیام پاکستان کے 75 سال مکمل ہونے کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کی طرز پر یوم تکبیر ملک بھر میں قومی جذبے سے منانے کی ہدایت کی تھی –

    وزیراعظم نےوفاق، چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر تقریبات کے انعقاد کی ہدایت کی تھی یوم تکبیر پر قومی تقریبات منانے کا آغاز 19 مئی سے ہوگا-

    وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر یوم تکبیر کی تقریبات منعقد کی جائیں گی، تعلیمی اداروں، طالب علموں اور نوجوانوں کو خاص طور پر ان تقریبات کا حصہ بنایا جائے گا، وزیراعظم نے تمام سیاسی جماعتوں، وکلاء ، ڈاکٹر، میڈیا، محنت کش، سول سوسائٹی تنظیموں سمیت معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی تھی کہ وہ اس قومی دن کو قومی جذبے کے ساتھ منائیں-

    جوہری دھماکوں کے 24 سال مکمل،حکومت کا 10 روزہ تقریبات منانے کا فیصلہ

  • پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا کریڈٹ صرف نوازشریف کو جاتا ہے- عظمیٰ بخاری .

    پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا کریڈٹ صرف نوازشریف کو جاتا ہے- عظمیٰ بخاری .

    مسلم لیگ(ن) پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری کا یوم تکبیر پر پیغام.پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا کریڈٹ صرف نوازشریف کو جاتا ہے.اللہ تعالیٰ نے نوازشریف کو جرات اور ہمت دی اور ایٹمی دھماکے کیے.
    بھارت پاکستان پر ایٹمی حملے کی دھمکیاں دے رہا تھا.
    نوازشریف نے ایٹمی دھماکے کرکے بھارت کو ہمیشہ کےلئے خاموش کردیا.1997میں عمران خان ایٹمی دھماکے کرنے کےلئے نوازشریف پر دباﺅ ڈال رہے تھے.

    1997میں عمران خان نیلا گنبد لاہور میں چیخ چیخ کرکہہ رہے نوازشریف دھماکے کرو قوم تمہارے ساتھ ہے.
    پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے پر نوازشریف کو جلا وطنی اور جیل ملی.نوازشریف اور ان کی جماعت آج بھی انہی ہتھ کنڈوں کا مقابلہ کررہی ہے.موجودہ حکمران طبقے کے پاس اس عظیم دن کےلئے ایک جملہ نہیں ہے.سرکاری سطح پر آج یوم تکبیر کو نہ منانا تاریخی المیہ ہے.

  • نواز شریف کی وجہ آج پاکستان ناقابل تسخیر ہے.احسن اقبال

    نواز شریف کی وجہ آج پاکستان ناقابل تسخیر ہے.احسن اقبال

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال کی یوم تکبیرپر قوم کو مبارکباد.نوازشریف کی قیادت میں آج پاکستان نے اپنی خودمختاری، آزادی کا پہرہ دیا .
    22 سال پہلے ایک فیصلے نے پاکستان کو پوری دنیا میں باعزت مقام دلایا .نوازشریف نے دنیا کو بتادیا کہ ہم پابندیاں برداشت کرلیں گے لیکن غلامی قبول نہیں کریں گے .جوہری پروگرام کا آغاز، ترقی، اور انتہاءتک پہنچانے والے ہر فرد کو قوم سلام پیش کرتی ہے .اپنے ہیروز کو سلام پیش کرنے کے لئے یوم تکبیر کی تقریب آج لاہور میں ہوگی، سینئر پارٹی قیادت شریک ہوگی.تقریب 180 ایچ ماڈل ٹاون لاہور میں آج دوپہر دو بجے ہوگی .کورونا وبا کے پیش نظر تقریب کو انتہائی سادہ رکھتے ہوئے تمام احتیاطی تدابیر کو ملحوظ رکھا جائے گا.کارکنان سے اپیل ہے کہ اپنے گھروں میں کیک کاٹ کر یوم تکبیر منائیں.

  • پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا یوم تکبیر پر ٹویٹ

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف کا یوم تکبیر پر ٹویٹ

    یوم تکبیر کے تاریخی دن پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی جوہری قوت بن کر ابھرا۔ وزیراعظم نوازشریف نے خطرات، دھمکیوں اور لالچ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے قائدانہ صلاحیتوں کا بے مثال مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیربنادیا۔ قومی سلامتی کے لئے جوہری صلاحیت ناگزیر ہے.

  • مسلم لیگ ن کے رہنما  احسن اقبال کی ماڈل ٹائون میں پریس کانفرنس

    مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کی ماڈل ٹائون میں پریس کانفرنس

    مشاورتی اجلاس میں طے ہوا کہ اٹھائیس مئی کو ایس او پیز کے تحت مسلم لیگ ن ملک بھر میں یوم تکبیر کو منائے گی .

    سکیورٹی کی صورتحال درپیش ہے اس کے پیش نظر قوم اپنے دفاع و سلامتئ پر کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کرے گی. قوم سلامتئ و دفاع کےلئے بڑے بڑے چیلنج کا مقابلہ کر سکتی ہے . بھارت نے پاکستان کو ایٹمی دھماکے کرنے پر دھمکیاں دی گئیں . بھارتی دھمکیوں کا ترکی بہ ترکی جواب دیا اور چھ ایٹمی دھماکے کرکے ثابت کیا کہ قوم کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کےلئے عزم سیسہ پلائی جیسا ہے . امریکی صدر نے متعدد فون کالز کیں لیکن نوازشریف نے بین الاقوامی دبائو کو نظر انداز کرکے قومی مفاد کا فیصلہ کیا . ایٹمی دھماکہ ایک نظیر ہے جو روشنی کے مینار کی طرح حوصلہ دیتی رہے گی. ملک کے دشمن ہمیں آزما رہے ہیں لائن آف کنٹرول پر بھارتی چھیڑ چھاڑ جاری ہے . بہادر افواج کی شہادتیں ہو رہی ہیں وہ ہمیں شکست دینا چاہتا ہے لیکن دشمن کو اٹھائیس مئی پر پیغام دینا چاہتے ہیں پاکستان ناقابل تسخیر ہے: احسن اقبال

  • یوم تکبیر، یومِ عید ۔۔۔ عبدالحمید صادق

    یوم تکبیر، یومِ عید ۔۔۔ عبدالحمید صادق

    28 مئی  یوم تکبیر ہماری شان ، عظمت، وقار اور قومی تاریخ کا اہم ترین دن ہے.
    مسلم امہ کی تاریخ کا یہ وہ یادگار دن ہے کہ جب پاکستان نے عالم کفر کا غرور خاک میں ملاتے ہوئے یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کر دنیا کو اسبات کا پیغام دیا کہ ہم سوئے نہیں بلکہ اپنے دفاع کے لئے زندہ و بیدار گھڑے ہیں.
    ایٹمی دھماکے ہونے کی دیر تھی کہ پاکستان کے گلی کوچے "نعرہ تکبیر اللہ اکبر” کی صداؤں سے گونج رہے تھے.

    اس ملک کی سرحد کو کوئی چھو نہیں سکتا

    جس ملک کی سرحد کی نگہبان ہیں آنکھیں

    بھارت نے ہمیشہ کی طرح اپنے آپ کو خطے کا ٹھیکیدار سمجھتے ہوئے 11 مئی 1998 کو راجستھان کے صحرا پوکھران میں 5 ایٹمی دھماکے کر کے خطے امن کو داؤ پرلگا دیا.
    امریکہ سمیت دیگر ممالک کی جانب سے پاکستان پر زبردست پریشر ڈالا گیا کہ پاکستان ایٹمی دھماکے نہ کرے، اس دوران دنیا بھر میں یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ شاید پاکستان کے پاس اپنے دفاع کا سامان موجود نہیں اس لیے بھارت کو کوئی کوئی جواب نہیں دیا گیا. حتیٰ کہ اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی نے پاکستان کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ بات کہی کہ ” پاکستان کی کھوکھلی دھمکیاں دنیا کے سامنے آ چکی ہیں، پاکستان کے پاس نہ ایٹم بم موجود ہے اور نہ ہی یہ دھماکے کر سکتا ہے” دوسری جانب پاکستان کی سیاسی قیادت بھی زبردست عالمی پریشر میں تھی کہ اگر پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دیئے تو امریکہ سمیت دنیا بھر کی جانب سے پابندیاں لگا دی جائیں گی.
    عالم کفر کی پابندیوں، دھمکیوں، سازشوں اور لالچ کو پس پشت ڈالتے ہوئے افواج پاکستان نے 28 مئی 1998 کو دن 3 بج کر 16 منٹ پر بلوچستان کے ضلع چاغی کے سیاہ و سنگلاخ پہاڑوں میں 5 زبردست ایٹمی دھماکے کر کے اسلام و پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا.
    قوموں کی تاریخ میں ایسے یادگار لمحات ضرور آتے ہیں کہ جب کوئی ایک درست فیصلہ بھی بروقت کر دیا جائے تو اس قوم کی تقدیر بدل جاتی ہے. ایسا ہی کچھ ییادگار وقت پاکستان کی تاریخ میں 28 مئی 1998 کا آیا تھا جب پاکستان نے بروقت جرات مندانہ فیصلہ کر کے ایک ایسا معجزہ کر دکھایا کہ دنیا کو حیران و ششدر کر کے رکھ دیا.
    یہی وہ یادگار وقت تھا کہ جب پاکستان کے دشمنوں میں صفماتم بچھی ہوئی تھی اور دنیا بھر کے مسلمانوں میں مٹھایاں تقسیم کی جا رہی تھیں.
    ادھر امریکہ کی جانب سے پاکستان پر پابندی لگا دی گئی تھی اور ادھر سعودی عرب نے کسی کی پرواہ کیے بغیر پاکستان کو انعام کے طور پر 50 ہزار بیرل مفت تیل دینے کا اعلان کر دیا.
    ایک طرف تو امریکہ، بھارت سمیت دنیا بھر کے کافروں پر سکتہ طاری تھا اور دوسری جانب فلسطین، شام، سعودی عرب، مصر، شام اور ترکی سمیت تمام مسلم مالک میں مرد، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے دلوں میں عید کی سی خوشی تھی اور اس بات پر مٹھایاں بانٹے پھر رہے تھے کہ آج ہم (مسلمان) ایٹمی پاور بن چکے ہیں.
    یہی وہ لمحات تھے کہ جب پاکستان مسلم دنیا کا پہلا اور دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک ہونے کا درجہ حاصل کر چکا تھا.
    پاکستان کے ایٹم بم کو دنیا اسلامی بم کے ان سے جانتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج بھی مسلم اُمّہ کہ امیدوں کا محور و مرکز ہے.
    ہمارے دشمن کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ پاکستان ایک تر نوالہ ہے جسے جب چاہیں ہضم کر جائیں، عوام پاکستان جذبہ ایمانی سے سرشار اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ

    بتا دواہل باطل کو کہ حق کا نام زندہ ہے
    ابھی وہ دین قائم ہے، ابھی اسلام زندہ ہے

    28 مئی کے اس عظیم کارنامے کا کریڈٹ افواج پاکستان، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک اور ان کے سینکڑوں شاگرد سائنسدانوں کو جاتا ہے کہ جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر وطن کا دفاع مضبوط کیا.

  • ایٹمی پاکستان ۔۔۔ عثمان عبدالقیوم

    ایٹمی پاکستان ۔۔۔ عثمان عبدالقیوم

    14 اگست 1947 دنیا میں ایک ازاد ملک پاکستان کا قیام وجود میں آیا تھا۔ بس کیا تھا اسی دن سے پاکستان کے دشمن کم نہیں ہوئے بڑے ہی ہیں۔ شروع دن سے پاکستان کو اندرونی و بیرونی سازشوں میں گھیرا جا رہا ہے۔

    پہلے کشمیر ہم سے کاٹ دیا گیا پھر بنگال کو بنگلہ دیش بنا دیا گیا اسی اثنا میں پاکستان کا اصلی و ازلی دشمن بھارت پاکستان مخالفت میں عالمی گٹھ جھوڑ کی مدد سے دنیا میں ایٹمی طاقت بن کے ابھرتا ہے۔ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کا عدم توازن پیدا کر دیتا ہے۔ اب پاکستان کو مقابل کھڑے ہونے کی اشد ضرورت تھی تاکہ خطے میں طاقت کا توازن قائم رہ سکے۔

    بھارت اور اس کے حواریوں کے کردار سے یہ بات بالکل واضح ہو چکی تھی کہ بھارت کبھی پاکستان کا پُر امن ہمسایہ یا دوست بن کر نہیں رہ سکتا۔بھارت سے دوستی اور امن کی بات تو دور بھارت سے امن کی معمولی سی بھی امید رکھنا خوابوں کی دنیا میں رہنے کے مترادف ہے۔ بھارت کا پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے کے لیے دریاﺅں پر ڈیم اور بیراج بنانا پاکستان کی زمینوں کو بنجر بنا دینے کی گہری سازش ہے۔ بھارت سے یہ توقع رکھنا بھی حماقت ہے کہ وہ شرافت اور امن و امان کی سفارت کاری کی زبان کو سمجھتا ہے۔

    بھارت نے 11 مئی 1998ءکو (ایٹم بم) نیوکلیئر (ہائیڈروجن) اور نیوکران بموں کے دھماکوں کے بعد پاکستان کی سلامتی اور آزادی کےلئے خطرات پیدا کر دیے تھے اور علاقہ میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے سے بھارت کے جارحانہ عزائم کی تکمیل کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔ جسے روکنے کے لیے پاکستانی عوام کے علاوہ عالم اسلام کے پاکستان دوست حلقوں کی طرف سے سخت ترین دباﺅ ڈالا جارہا تھا کہ پاکستان بھی ایٹمی تجربہ کر کے بھارت کو منہ توڑ جواب دے۔

    وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کو جوہری صلاحیتوں سے مالا مال کرنے کا خواب 1966 سے سجائے بیٹھے تھے۔ بھارت کے پہلے ایٹمی دھماکے نے اسے مزید مستحکم ارادے میں بدل کر رکھ دیا اور اس دن سے وہ پاکستان کو اس منزل تک پہنچانے کی غرض سے سرگرم ہو گئے تھے۔

    مگر پاکستان کے اس ایٹمی خواب کو امریکہ اور یورپ کی تائید حاصل نہ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ امریکی صدر کلنٹن، برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر اور جاپانی وزیراعظم موتو نے پاکستان پر دباﺅ ڈالا کہ پاکستان ایٹمی دھماکہ نہ کرے ورنہ اس کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔ دوسری طرف بھارت کی سرگرمیوں کی صورتحال یہ تھی کہ بھارت نے ایٹمی دھماکہ کرنے کے علاوہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر فوج جمع کرنا شروع کی جس سے پاکستان بھارت جنگ کا حقیقی خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ بھارتی وزیر داخلہ اور سربراہ امور کشمیر ایل کے ایڈوانی نے بھارتی فوج کو حکم دیا کہ وہ مجاہدین کے کیمپ تباہ کرنے کے لیے آزاد کشمیر میں داخل ہو جائے جبکہ بھارتی وزیر دفاع جارج فرنینڈس نے تو یہاں تک ہرزہ سرائی کی تھی کہ بھارتی فوج کو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس کر دیا جائے گا۔ یہ سب کچھ پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کی تیاریاں تھیں۔ یہ درست ہے کہ بھارت نے ایٹمی دھماکے کر کے ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے اپنے حق کا استعمال کیا مگر یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا واضح مقصد صرف اور صرف پاکستان کو خوفزدہ کرنا تھا اور ایک طاقتور ملک ہونے کا ثبوت دےکر پاکستان سمیت پورے خطے کے ممالک پر اپنی برتری ظاہر کرنا تھا۔

    مگر میرے رب کو اس ارض وطن پر دشمنان اسلام کے عزائم کی کامیابی کسی صورت گوارا نہ تھی جسکا ہر بچہ ہر بوڑھا جوان مرد و عورت کے زبان پر ابھی تک پاکستان کا مطلب کیا لاالٰہ الا اللہ کے نعروں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔

    مسلمانوں کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر دشمن سے مقابلہ کی تیاری کا حکم دے رکھا ہے ۔

    وَاَعِدُّوْا لَـهُـمْ مَّا اسْتَطَعْتُـمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّـٰهِ وَعَدُوَّكُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِـهِـمْۚ لَا تَعْلَمُوْنَـهُـمُ اللّـٰهُ يَعْلَمُهُـمْ ۚ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَىْءٍ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ يُوَفَّ اِلَيْكُمْ وَاَنْتُـمْ لَا تُظْلَمُوْنَ (60)

    اور ان سے لڑنے کے لیے جو کچھ قوت سے اور صحت مند گھوڑوں سے جمع کرسکو سو تیار رکھو کہ اس سے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کے سوا دوسروں پر رعب پڑے، جنہیں تم نہیں جانتے اللہ انہیں جانتا ہے، اور اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے تمہیں (اس کا ثواب) پورا ملے گا اور تم سے بے انصافی نہیں ہوگی۔

    پاکستان نے 28 مئی 1998ءکو چاغی کے پہاڑوں میں پانچ دھماکے کیے۔ جمعرات کا دن تھا اور سہ پہر 3 بجکر 40 منٹ پر یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان نے ہمسایہ اور دشمن ملک بھارت کی برتری کا غرور خاک میں ملا دیا۔ اس کےساتھ ہی پاکستان ایٹمی قوت رکھنے والا دنیا کا ساتواں اور عالم اسلام کا پہلا ملک بن گیا۔

    یہ 28 مئی 1998ءکا مبارک دن تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت بن گیا مگر پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کےلئے جن عناصر نے حب الوطنی اور اسلام پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے تاریخی کردار ادا کیا، ان میں
    ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب، ذولفقار علی بھٹو رحمتہ اللہ علیہ جن کا نعرہ تھا گھاس کھا لیں گے مگر ملک کو ایٹمی قوت ضرور بنائیں گے اور روزنامہ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر جناب مجید نظامی صاحب مرحوم رحمتہ اللہ علیہ سرفہرست ہیں اور برادر اسلامی ملک سعودی عریبیہ ہے۔

    آج الحمدللہ دفاعی اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کے پاس دنیا کی پانچویں سب سے بڑی فوج ہے جس کی تعداد چھ لاکھ بیس ہزار ہے۔ عالمی رینکنگ میں پاکستان کی فوج کو دنیا کی گیارہویں سب سے طاقتور فوج مانا جاتا ہے۔ حالانکہ دفاع پر خرچ کرنے کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں 23 ویں نمبر پر ہے۔ پاک فوج کی طاقت کا اندازہ اس بات سےلگائیں کہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے دہشتگردی کے اندرونی نیٹ ورک کو دس سال سے بھی کم عرصے میں کچل کر رکھ دیا۔ یاد رکھیں کہ یہی چیلنج شام، لیبیا، یمن اور عراق کو بھی در پیش تھا لیکن یہ تمام ممالک ان خطرات کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے اور خانہ جنگی کا شکار ہو گئے۔ اسی طرح افغانستان میں امریکہ اور ستر ملکوں کا فوجی اتحاد سترہ سال میں بھی مسلح گروہوں کو شکست نہیں دے سکا۔ پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت ہے۔ پاکستان دنیا کے ان طاقتور ممالک میں شامل ہے جو تھرڈ اور فورتھ جنریشن کے لڑاکا طیارے، آبدوزیں، جنگی بحری جہاز اور سیٹیلائٹس بھی تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس ارض پاک کو قائم دائم رکھے۔