Baaghi TV

Tag: یوم خواتین

  • گھریلو تشدد کا شکار رضوانہ  جنرل ہسپتال میں  یوم خواتین تقریب کی مہمان خصوصی

    گھریلو تشدد کا شکار رضوانہ جنرل ہسپتال میں یوم خواتین تقریب کی مہمان خصوصی

    پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ دین اسلام نے خواتین کو خصوصی عزت و احترام اور حقوق سے نوازا ہے جن کی پاسداری ہم سب پر واجب ہے جبکہ دین اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے خواتین کو وراثت کا حق دے کر اُن کی محرومیوں کا ہمیشہ کے لئے ازالہ کر دیا۔

    ان خیالات کا اظہار پروفیسر الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال میں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں گھریلو تشدد کی شکار رضوانہ جو ایل جی ایچ میں زیر علاج رہی، کو بطور مہمان خصوصی شرکت کے لئے بلایا گیا جبکہ سینئر خواتین ڈاکٹرزنے رضوانہ کے ساتھ مل کر کیک بھی کاٹا۔ اس موقع پر پرنسپل سمز پروفیسرزہرہ خانم، پروفیسر عائشہ شوکت،پروفیسر ندرت سہیل، پروفیسر شمسہ ہمایوں، پروفیسر طیبہ وسیم، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق، ڈاکٹر مہوش الیاس اور ڈاکٹر نادیہ ارشد سمیت خواتین ڈاکٹرز و نرسز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے جدید دور میں خواتین اعلیٰ تعلیم، ٹیکنالوجی،میڈیکل سائنس، بزنس، ڈیفنس،عدلیہ سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی میں خدمات سر انجام دے کر اپنی صلاحیتوں کو منوا رہی ہیں اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ خواتین مردوں سے کسی بھی طرح کم نہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل و شعورسمیت اُن تمام صلاحیتوں سے نواز ا ہے جو انہیں معاشرے میں ممتاز کرتی ہیں۔پروفیسر الفرید ظر نے مزید کہا کہ کوئی بھی معاشرہ تب ہی ترقی کرے گا جب خواتین کو اُن کے جائز حقوق ملیں گے اورانہیں ملکی و قومی ترقی میں انہیں کردارادا کرنے کے قابل سمجھا جائے گا۔پرنسپل پی جی ایم آئی نے اعلان کیا کہ لاہور جنرل ہسپتال، اے ایم سی اور پی جی ایم آئی میں ڈے کئیر سینٹر اور بریسٹ فیڈنگ کے کیلئے جگہ مختص کی جائے گی تاکہ خواتین ڈاکٹرز،نرسز دکھی انسانیت کی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی بہتر نگہداشت کر سکیں۔

    پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر و دیگر مقرر ین نے کہا کہ قبل از اسلام بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا اس انسانیت سوز اور قبیح رسم کو اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے آکر ختم کر دیا اور بیٹی کو اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی خواتین کو اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ﷺ اور دین اسلام کا احسان مند ہونا چاہیے جنہوں نے انہیں قدیم غلامی سے نجات دلا کر معاشرے میں بلند مقا م دلوایا اور ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی یعنی ماں کی خدمت سے انسان جنت کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر مہمان گرامی کو اعزازی شیلڈ سے بھی نوازا گیا۔ رضوانہ کے اہل خانہ نے اُن کی بیٹی کو صحت یاب ہونے اور گھریلو شدد کا شکار ہونے کے بعد معمول کی زندگی میں واپس آنے پر شکریہ ادا کیا

  • یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    یومِ خواتین مریم نواز کے نام، تحریر:محمد نورالہدیٰ

    اس مرتبہ کا یومِ خواتین پاکستان کے کسی بھی صوبے کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ مریم نواز کے نام …… جنہوں نے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھاتے ہی کوئی لمحہ ضائع کئے بغیر پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کا آغاز کر دیا۔ مریم نواز کی رفتار بتا رہی ہے کہ وہ بھرپور استقامت کے ساتھ اپنا آئینی سفر مکمل کریں گی اور ملکی تاریخ کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے تاریخ میں سرخرو بھی ٹھہریں گی۔ وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے فوری بعد ہی سے مریم نواز نے جو میچور سٹارٹ لیا، وہ یقینا قابل تحسین ہے۔ منصب سے ایسا انصاف کم ہی وزرائے اعلیٰ کرتے نظر آئے ہیں۔ اسمبلی کے فلور پر ان کی طرف سے جیسے اپوزیشن کے ساتھ مثبت طرز عمل کا مظاہرہ کیا گیا، یہاں تک کہ خود اپوزیشن پنجوں پر گئیں اور احوال دریافت کیا، یہ بلاشبہ ان کی مہذب شخصیت کی دلیل ہے۔

    مریم نواز کا طرز عمل بتاتا ہے کہ وہ خود کو مختلف اور منفرد کو ثابت کرتے ہوئے صحیح معنوں میں سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر صوبے کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے بھی خود کو وقف کیا ہے۔ وہ پنجاب کی خواتین کی ترقی اور خود انحصاری پر فوکس کا عزم لے کر آئی ہیں۔ اس ضمن میں وہ شارپ ویژن رکھتی ہیں۔ انہوں نے عہد کیا ہے کہ وہ خواتین کے حقوق اور چادر چار دیواری کا تحفظ فراہم کرنے کیلئے بھرپور انداز میں متحرک رہیں گی۔ اس کی آڑ میں کسی بھی تنقید کو خاطر میں نہیں لائیں گی۔ اس امر کا تجربہ ہمیں گذشتہ دنوں دیکھنے کو بھی ملا جب مریم نواز نے سیف سٹی اتھارٹی کے دورہ کے دوران بریفنگ دینے والی ایک خاتون کا سر دوپٹے سے ڈھانپا اور اس پر مخالفین کی جانب سے بلا جواز تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ مریم نواز کا موقف تھا کہ کسی خاتون کا دوپٹہ ٹھیک کرنے کے عمل پر تنقید کرنے والے اپنا ظرف دکھا رہے ہیں، لیکن وہ اپنا کام کرتی رہیں گی۔

    اس کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ وزارت اعلیٰ کے پہلے ہی ہفتے میں مریم نواز نے خواتین کو فوکس کرتے ہوئے انقلابی اقدامات اٹھانے شروع کئے۔ وزارت اعلیٰ کا اعزاز پنجاب کی خواتین کے نام کرتے ہوئے انہیں ایک بہتر اور محفوظ پنجاب بنا کر دینے کا وعدہ کیا۔ اپنے منصب کو خواتین سے منسوب کرتے ہوئے ان کی ہراسمنٹ روکنے کا چیلنج لیا …… مراکز صحت کو ماں اور بچے کی صحت میں خصوصی دلچسپی لینے اور انہیں علاج کی معیاری اور بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایات دیں …… اسی طرح پنجاب میں گرلز ایجوکیشن کے فروغ کیلئے خصوصی کاوشوں کا اعلان کیا …… خواتین پولیس کمیونیکیشن آفیسرز کیلئے ہاسٹل بنانے …… وویمن سیفٹی ایپ کو اپ گریڈ کر کے ری-لانچ کرنے…… خواتین کو ٹرانسپورٹ کارڈز اور سکوٹیز دینے…… بڑی تعداد میں ڈے کئیر سنٹرز بنانے سمیت دیگر اعلانات و اقدامات مریم نواز کے صرف پہلے ایک ہفتے کے کریڈٹ میں شامل ہیں …… آپ مریم نواز کے ابتدائی سات دنوں کا موازنہ کسی بھی دوسرے صوبے کے وزیر اعلیٰ سے کر لیں، اس قدر متحرک، مستعد اور کام کا دھنی چیف منسٹر کوئی نہیں پائیں گے۔ مریم نواز نے عزم کیا ہے کہ وہ تنقید اور مخالفت کے باوجود اپنا فرض ادا کرتی رہیں گی اور خدمت کر کے تمام مخالفین کو غلط ثابت کریں گی۔ مجھے یقین ہے کہ اپنے اقدامات سے وہ اپنا نام تاریخ کے ابواب میں سنہرے الفاظ کی صورت رقم کرنے میں کامیاب ٹھہریں گی۔

    آج کا یوم خواتین پنجاب کی سب سے کم عمر اے ایس پی سیدہ شہر بانو کے نام سے بھی منسوب کیا جانا چاہئے جس نے اچھرہ کے بازار میں مذہبی شدت پسندوں کے ہاتھوں ایک خاتون کی جان بچائی۔ اے ایس پی شہربانو نے خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنے، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے اور صنفی جرائم میں ملوث سفاک ملزموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم کر رکھا ہے۔ ہر لحاظ سے پُرعزم شہر بانو نقوی انٹیلی جنس بیورو، پبلک مینجمنٹ اور مختلف پولیس اسٹیشنوں میں اہم عہدوں پر پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا چکی ہیں۔ کمزور خواتین اور بچوں کی حفاظت کیلئے تحفظ مراکز، پولیس اسٹیشنوں میں ڈے کئیر سنٹر کے آغاز کی کوششیں اور پنجاب میں پہلی مرتبہ پولیس اینیمل ریسکیو سنٹر کے قیام جیسی کاوشیں شہر بانو نقوی کی خدمات میں شامل ہیں۔ اے ایس پی شہر بانو کے اچھرہ واقعہ کو سانحہ بننے سے بچانے جیسے دلیرانہ اقدام پر انہیں پولیس کی جانب سے قائد اعظم گولڈ میڈل کیلئے نامزد کر دیا گیا ہے جو کہ یقینی طور پر انہیں رواں سال میں عنایت کر دیا جائے گا، تاہم میں یہ سمجھتا ہوں کہ آرمی چیف کو بھی ملاقات کے دوران اپنے ادارہ کے پلیٹ فارم سے ان کیلئے خصوصی ایوارڈ کا اعلان کرنا چاہئے تھا جبکہ حکومت پاکستان کو بھی ایوارڈ کا اعلان کرنا چاہئے تھا۔ محض تعریفیں اور تھپکیاں انسان کی حوصلہ افزائی تو کر سکتی ہیں، مگر اس کی خدمات کے اعتراف کا حق نہیں ادا کر سکتیں …… مجھے یقین ہے کہ اس قدر عزت افزائی کے بعد بھی سیدہ شہر بانو نقوی ڈاؤن ٹو ارتھ رہیں گی اور تکبر کا شکار نہیں ہوں گی۔

    خواتین کی شراکت اور انہیں بااختیار بنائے بغیر معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ ان کی معاشرتی حیثیت مسلمہ ہے۔ ہم پُرامید ہیں کہ مریم نواز کی قیادت میں صنفی مساوات پر مبنی صوبہ تشکیل پائے گا اور پنجاب کی خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے خاتون وزیر اعلیٰ کی کاوشیں تاریخ کے یادگار عنوان کی صورت میں یاد رکھی جائیں گی

    پاکستانیوں کو خادم مل گیا،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

    پیس پلازہ میں آتشزدگی،وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا نوٹس

    وزیر اعلی مریم نواز کا پہلادورہ راولپنڈی،رنگ روڈکی سڑک دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

    مریم نواز نے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی کا پلان طلب کرلیا

    مریم نواز سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کے پاس خود چل کر گئیں

    پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس

    کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوگی،احتساب، شفافیت، کوالٹی و ٹائم ورک ریڈ لائن ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا حکم

    برطانوی ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ مریم نواز سے ملاقات،مبارکباد دی

  • مقبوضہ کشمیر:خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار:نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی

    مقبوضہ کشمیر:خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار:نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی

    سری نگر:مقبوضہ کشمیر:خواتین بھارتی ریاستی دہشت گردی کاشکار:نام نہاد عالمی برادری خاموش تماشائی ،اطلاعات کے مطابق آج دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جارہا ہے تاہم بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروں کی طرف سے کشمیر ی خواتین پرڈھائے جانیوالے مظالم اور انہیں درپیش مشکلات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے اوروہ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کا شکار ہیں ۔

    کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج خواتین کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جنوری 1989ء سے اب تک بھارتی فوجیوں نے ہزاروں خواتین سمیت 95ہزار981شہریوں کو شہید کیا ۔بھارتی فوجیوں نے جنوری 2001سے اب تک کم سے کم681خواتین کو شہید کیا۔

    رپورٹ میں واضح کیاگیا ہے کہ بھارت کی جاری ریاستی دہشت گردی کے دووران 22ہزار 943 خواتین بیوہ ہوئی ہیں جبکہ بھارتی فوجیوں نے11ہزار 250خواتین کی بے حرمتی کی جن میں کنن پوشپورہ میں اجتماعی آبروریزی اور شوپیاں کی سترہ سالہ آسیہ جان اور اس کی بھابھی نیلو فر بھی شامل ہیں جنہیں بے حرمتی کے بعد قتل کردیاگیا تھا۔بھارتی پولیس کے اہلکارنے جنوری 2018میں کٹھوعہ میں ایک آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو کو اغواء اور بے حرمتی کرنے کے بعد قتل کردیا تھا ۔

    بھارتی فوجیوں نے 10 فروری2021 کو ضلع بانڈی پورہ کے علاقے چیو اجس میں ایک بچی کے ساتھ بدسلوکی کی اور اسے گھسیٹ کر اپنی گاڑی میں ڈالا جب وہ اپنی بہن کے ساتھ اپنے باغ میں کام کررہی تھی ۔ اس کی بہن کی چیخ و پکار پرمقامی لوگوں نے موقع پر پہنچ کر بچی کو بچایا ۔ متاثرہ خاندان نے اجس پولیس اسٹیشن میں مقدمہ در ج کرایا تھاتاہم بھارتی فوجیوںنے مقدمہ واپس لینے کیلئے مذکورہ خاندان کو حراساں کیا۔

    رپورٹ کے مطابق مقبوضہ علاقے میںبھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروںنے ہزاروں خواتین کے بیٹوں، شوہروں اوربھائیوںکو حراست کے دوران لاپتہ اورقتل کر دیا ہے ۔دوران حراست لاپتہ کشمیریوں کے والدین کی تنظیم کے مطابق گزشتہ34برس کے دوران 8ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کیاگیا ہے ۔

    رپورٹ میں انکشاف کیاگیا ہے کہ ہزاروں کشمیری نوجوان ، طلبہ اور طالبات بھارتی فورسز کی طرف سے پر امن مظاہرین پر گولیوں اورپیلٹ گنوں کے وحشیانہ استعمال سے زخمی ہو چکے ہیں ۔ ان زخمیوں میں سے 19ماہ کی شیر خوار بچی حبہ نثار، دو سالہ نصرت جان ، سترہ سالہ الفت حمید ، انشا مشتاق،افرہ شکور ، شکیلہ بانو،تمنا،شبروزہ میر،شکیلہ بیگم اور رافعہ بانو سمیت سینکڑوں بچے اور بچیاں اپنی آنکھوں کی بینائی کھو چکے ہیں ۔ گزشتہ سال جولائی میں بھارتی پولیس کے ایک کانسٹیبل اور ایس اپی او نے جموں کے علاقے ڈنسل میں ایک دلت بچی کی اجتماعی آبروریزی کی

    بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی اور ہراسانی کو جنگی ہتھیار کے بطور استعمال کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی درندگی اور بربریت سے بیواوں اور آدھ بیواوں کی بڑی تعداد موجود ہے،بھارتی سفاکوںنے اپنی وحشیانہ کاروائیوں میں معصوم اور بیگناہ کشمیریوں کا خون بیدردی کے ساتھ بہا نے کے علاوہ ہزاروں کشمیریوں کو گرفتاریوں کے بعد لاپتہ بھی کیا،جس کے باعث جہاں ہزاروں خواتین بیوہ ہوئیں وہیں ہزاروں کی تعداد میںایسی خواتین بھی ہیں جو آدھ بیوہ کہلاتی ہیں، خواتین کا عالمی دن اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کشمیری خواتین کے خلاف بھارتی افواج کے جرائم کو بے نقاب کیا جائے۔

    کشمیری خواتین کی مشکلات کی بنیادی وجہ مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی،جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ ہے۔ جہاں تک خواتین کی آبروریزی اور دیگر جرائم کا تعلق ہے، بھارت خواتین کے حوالے سے دنیا کا ایک بدترین ملک ہے۔ خواتین کے حقوق کی عالمی تنظیموں کو پورے بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں خواتین کی حالت زار پر خاموش تماشائی نہیں بلکہ بھارت کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔بھارت اور پورے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے خلاف بھارتی تشدد پر قابو پانے کے لیے عالمی برادری کو بیدار ہونا چاہیے۔

    عالمی یوم خواتین کے موقع پر دنیا کو اس صدمے کو نہیں بھولنا چاہیے کہ کشمیری بیوائیں اور آدھ بیوائیں بھارتی مظالم اور سفاکیت گزشتہ تین دہائیوں سے برداشت کر رہی ہیں، یہ وقت ہے کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں خواتین کے خلاف ہونے والے بڑے پیمانے پر جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ خواتین کا عالمی دن دنیا کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ وہ کشمیری خواتین کو سفاک بھارتی فوجیوں کے مظالم اور درندگی سے بچانے کے لیے آگے آئے۔

  • یوم خواتین افغانستان کی خواتین کیلئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنےکا اچھا موقع ہے،افغان حکومت

    یوم خواتین افغانستان کی خواتین کیلئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنےکا اچھا موقع ہے،افغان حکومت

    کابل: خواتین کے عالمی دن کے موقع پرافغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ حکومت خواتین کومذہبی حقوق دینے کے لئے پرعزم ہے۔

    باغی ٹی وی : افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےعالمی یوم خواتین کے موقع پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یوم خواتین افغانستان کی خواتین کے لئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنے کا اچھا موقع ہے۔

    عالمی یوم خواتین پر گوگل کا ڈوڈل تبدیل


    ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا تھا کہ افغان خواتین کوشریعت کے مطابق حقوق دینے کے لئے پرعزم ہیں ہم اپنی افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ اور دفاع کرتے ہیں، انشاء اللہ


    گزشتہ سال اگست میں افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان حکومت نے خواتین کوشرعی حدود میں رہتے ہوئے حقوق دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

    عالمی یوم خواتین ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں بیک وقت منایا جاتا ہےعالمی یوم خواتین کا آغاز سوا ایک صدی قبل 1909 سے ہوا تھا، اس دن کو منانے کا آغاز 1908 سے قبل امریکی فیکٹریوں میں کام کرنے والی مزدور خواتین کی جانب سے اپنی تنخواہ مرد حضرات کے برابر کرنے کے لیے کیے گئے احتجاجوں کے بعد ہوا۔

    عورت مارچ کی جانب سے مطالبات سامنے آ گئے

    خواتین کے احتجاج کے بعد ہی وویمن نیشنل کمیشن بنایا گیا، جس کے ذریعے خواتین کے حقوق کی تحریک چلائی گئی اور پہلی بار فروری 1909 میں عالمی یوم خواتین منایا گیا لیکن بعد ازاں اس دن کو 8 مارچ کو منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اقوام متحدہ (یو این) نے بھی 1977 میں ہر سال 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین منانے کی منظوری دی اور تب سے اس دن کو دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر منایا جانے لگا ہے۔

    تاثر غلط ہے کہ ہراسمنٹ کا قانون صرف خواتین کے لیے ہے،کشمالہ طارق

  • قصور کی عورتوں کا لبرل عورتوں کو پیغام

    قصور کی عورتوں کا لبرل عورتوں کو پیغام

    8 مارچ عالمی یوم خواتین کے موقع پر قصور کی عورتوں کا پیغام

    تفصیلات کے مطابق کل بروز ہفتہ قصور کے مختلف سکولز کےسٹاف اور طالبات نے لبرل عورتوں کو پیغام دیا کہ ہم اسلامی کلچر میں پروان چڑھنے والی بیٹیاں ہیں ہم لعنت بھجتی ہیں میرا جسم میری مرضی پر اور ان نعروں کے لگانے والوں پر ہمارے مرد ہمارے محافظ ہیں اور ہمارے جسم اللہ کی مرضی کے تابع ہیں ہم اپنے گھر کی شہزادیاں ہیں اور ہمارے مرد ہمارے حاکم
    آج 8 مارچ کو اتوار کی چھٹی ہونے کی بدولت کل 7 مارچ کو طالبات و اساتذہ کے علاوہ ہر شعبہ زندگی کی خواتین نے اپنا پیغام میڈیا تک پہنچایا