Baaghi TV

Tag: یوم وفات

  • آج مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کا یوم وفات منایا جارہا ہے

    آج مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کا یوم وفات منایا جارہا ہے

    کراچی: قائداعظم محمد علی جناح کی بہن اور مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 56 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی: حصولِ پاکستان کی جدوجہد میں مسلمان عورتوں میں زندگی کی نئی روح پھونکنے والی مادرِ ملت محترمہ فاطمہ کو دنیا سے رخصت ہوئے 56 سال گزر گئے، فاطمہ جناح 31 جولائی 1893 کو کراچی میں پیدا ہوئیں فاطمہ جناح بچپن سے زندگی کے آخری لمحات تک اپنے بھائی اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ ساتھ رہیں اور قوم کی خدمت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیامادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح 73 برس کی عمر میں 9 جولائی 1967 کو کراچی میں وفات پاگئیں، وہ اپنے عظیم بھائی کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک ہیں،جہاں‌ ہر سال ان کی برسی کے موقع پر خصوصی طور پر لوگ فاتحہ خوانی کے لیے جاتے ہیں۔

    پاکستان کی عظیم خاتون رہنماء مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی قومی خدمات کی کہیں نظیر نہیں ملتی، انہوں نے اپنے بھائی بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے شانہ بشانہ وطن عزیزاور پاکستانی قوم کے لئے اپنی زندگی وقف کردی تھی،فاطمہ جناح نے قائدِاعظم کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے برصغیر کی مسلمان خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے حصولِ پاکستان کی منزل کو آسان بنایا اور ان کی گراں قدر خدمات پر انھیں مادرِ ملت کا خطاب دیا گیا-

    محترمہ فاطمہ جناح نے کراچی میں قائم قائد اعظم ہاؤس میں اپنی زندگی کے 17 برس گزارے، یہ جگہ ماضی میں فلیگ اسٹاف ہاؤس کہلاتی تھی،قائد اعظم محمد علی جناح 1944 سے تا وفات اسی میں رہائش پذیر رہے، جبکہ ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح یہاں 1964 تک رہائش پذیر رہیں۔ یہ عمارت حکومت پاکستان نے 1985ء میں اپنی تحویل میں لے لی،محترمہ فاطمہ جناح نے سابق صدر جنرل (ر) ایوب خان کے خلاف اسی عمارت سے الیکشن لڑا، ان کا انتخابی نشان لالٹین اب بھی یہاں محفوظ ہے۔

    ان کے ڈریسنگ روم میں آج بھی محترمہ کے زیر استعمال پرفیوم اور بیڈ روم میں ان کی چپل اور دیگرسامان بھی موجود ہے۔ جن گاڑیوں میں انہوں نے سفر کیا وہ بھی اس میوزیم میں محفوظ کی گئی ہیں۔

  • ارنسٹ ہیمنگوے کا یوم وفات

    ارنسٹ ہیمنگوے کا یوم وفات

    ارنسٹ ہیمنگوے21جولائی1899ء کو شکاگو کے مضافات اوک پارک میں پیدا ہوئے ،ان کے والد گریس ہال ہیمنگوے ایک دیہاتی ڈاکٹر تھے۔ وہ ارنسٹ ہیمنگوے کی پیدائش پر اتنا خوش ہوا کہ گھر کی چھت پر کھڑے ہو کر بگل بجا کر اعلان کیا کہ اس کی بیوی کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے۔ -ہیمنگوے کو شکار اور مچھلی پکڑنے کا شوق تھا۔ جنگلوں میں جا کر کیمپ لگانا اور خطرناک جانوروں کو دیکھنا اس کا مشغلہ تھا۔ اس کے باپ کا ولوں (Walloon) جھیل کے پاس ایک گھر تھا۔ ارنسٹ زیادہ وقت وہیں گزارتا۔ دور دراز گنجان جنگلوں میں جا کر رہنا اسے بہت پسند تھا۔ فطرت کے اس قُرب نے اس کی تحریروں میں بڑی جگہ پائی ہے۔ سکول کے زمانے میں اس نے سکول کے میگزین اور اخبار کو سنبھالا۔ یہ تجربہ اس کے بہت کام آیا۔ جب وہ سکول سے گریجوایشن کرکے فارغ ہوا تو اسے کنساس کے ایک اخبار” کینساس سٹی اسٹار” میں رپورٹر کی ملازمت مل گئی۔ یہ نوکری اسے اپنے چچا کے توسط سے ملی جو چیف ایڈیٹر کا دوست تھا، ان کا خیال تھا کہ جس طرح مارک ٹوین، سٹیفن کرین ناول نگار بننے سے پہلے صحافی تھے۔ ارنسٹ کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ ارنسٹ ہیمنگوے نے یہاں صرف چھ ماہ نوکری کی مگر یہاں اس نے اچھی نثر لکھنے کے سنہری اصول سیکھے –
    1926ء میں ارنسٹ ہیمنگوے کا پہلا ناولThe Sun Also Rises چھپا۔ یہ ناول ارنسٹ کو مقبولیت دلوانے میں بہت مددگار ثابت ہوا۔ ناول کی کہانی ہیروجیک بارنس کے اردگرد گھومتی ہے، جسے جنگ نے بہت بڑا زخم دیا ہے اور وہ زخم ہے اس کی مردانہ صلاحیت سے محرومی۔ اسے نہ نیند آتی ہے، نہ چین، بس روتا رہتا ہے۔ اسے سماج اور سوسائٹی کی ہر چیز سے نفرت ہو چکی ہے۔ وہ پیرس جا کر ایک ایسے گروہ میں شامل ہو جاتا ہے جس کی ساری سرگرمیاں بے مقصد ہیں۔ ان میں ہر شخص جنگ کا زخم خوردہ ہے -اسی سبب ایذرا پاؤنڈ اور اس کے ہم خیال ادیبوں نے اس تحریک اور رویے کو ” گمشدہ نسل” (Lost Generation) کا نام دیا تھا۔ -ہیمنگوے کے ناول’’ اے فیئر ویل ٹو آرمز‘‘ کا ترجمہ’’ و داع جنگ‘‘ کے نام سے اُردو میں ہو چکا ہے اور اسکی متعدد کہانیاں بھی اردو میں ڈھل چکی ہیں۔ سمندر اور بوڑھا (The old man and the sea) ہیمنگوئے کا وہ شہر ہ آفاق ناول ہے جو اس نے کیوبا میں 1951 میں لکھا ۔ یہ ناول ایک بوڑھے مچھیرے کی کہانی ہے جو کافی دن مچھلی پکڑنے میں ناکام رہتاہے۔ کبھی کاسانتیاگو چیمپئن اب لوگوں کی نظر میں بس ’’ سلاؤ‘‘ بن کے رہ گیا ،جو بدقسمتی کی بدترین مثال ہے۔
    ارنسٹ ہیمنگوے نے اپنی کتاب’ ڈیتھ ان دی آفٹرنون‘ میں بُل یا بھینسےسے مقابلہ کرنے والے کو آرٹسٹ یا فنکار قرار دیا تھا۔ سپین میں جنرل فرانکو کے آمرانہ دور میں بل فائٹنگ کو قومی یک جہتی کے لئے بھی فروغ دیا گیا تھا۔ اُسی دور میں اِس کی مقبولیت کے قومی سطح پر بڑے بڑے پلان بنائے گئے تھے۔
    حتیٰ کہ اس کے واحد شاگرد کے ماں باپ بھی اپنے لڑکے کو اسے ملنے سے منع کرتے ہیں۔ اور پھر وہ دن بھی آتاہے جب سانتیاگو سمندر اور اس کی تمام تر ہولناکیوں سے بھڑ جاتاہے۔ ۔یقیناً آپ اس خوبصورت ناول کوپڑھتے ہوئے اس کی ہرسطر کا خوب مزہ لیں گے۔ یہ وہ آخری اہم ترین ادبی تخلیق تھی جو ہیمنگوئے کی زندگی میں ہی شائع ہوئی۔ناول کی کہانی انسان کے عزم و ہمت کی داستان ہے۔ وداع جنگ کی اشاعت کے بعد دس برس تک اس کا کوئی اہم تخلیقی کام نہیں آسکا۔ ایک عشرے پر محیط اس تخلیقی بنجر پن کے دور کے بعد جب اس کا ناول Across the river and into the trees شائع ہوا تو نقادوں نے اس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس کتاب میں ہیمنگوئے نے دوسری جنگ عظیم میں اخباری نمائندہ کے طور پر حاصل ہونے والے تجربات کو اس انداز میں جس طرح کہ اس نے جنگ اول اور اسپین کی خانہ جنگی سے حاصل ہونے والے تجربات کو ناول کی صورت میں کامیابی سے ڈھالا تھا اس کو ناکامی ہوئی۔ بوڑھا اور سمندر کو عدیم النظیر پذیرائی حاصل ہوئی۔ 1953 میں اسے اسی ناول کی بنیاد پر اسے Pulitzer priz جبکہ اگلے برس ادب کے نوبیل انعام سے نوازا ،ایک انقلابی تھا، ایک روشن خیال ترقی پسند شخص تھا ،اس کا تذکرہ نہیں کیا۔وہ قطعی طورپر ایک خصوصی مزاج کارجعت پسند امریکی نہ تھا، اس نے ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران آمرفرانکو کے خلاف جدوجہد کرتے بائیں بازو کے انقلابیوں کا ساتھ دیا جہاں سے ان کے ناول’’ فار ہوم بیل ٹولز‘‘ نے جنم لیا اور اس نے اپنی آخری عمر کیوبا میں بسر کی۔
    امریکہ دوسری جنگ عظیم میں آٹھ دسمبر 1941ء کو شریک ہوا۔ ہیمنگوئے اس جنگ کی کوریج کے لیے کویر میگزین کی طرف سے یورپ گیا۔ جنگ کے بعد ہیمنگوئے’’The garden of eden‘‘لکھنے کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کا یہ تصنیفی منصوبہ برسوں بعد نہایت مختصر شکل میں 1986ء میں شائع ہوا۔ ایک موقع پر نہایت ہی مختصر شکل میں 1986ء میں شائع۔ ہسپانوی سول جنگ کی نارتھ امریکن نیوز پیپرز الائنس کی طرف سے رپورٹنگ کے لیے وہ 1937ء میں سپین گیا، اس جنگ نے اس کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ہیمنگوئے جو اپنی بیوی پالیون سے شادی کے وقت کیتھولک ہوچکا تھا اب مذہب کے بارے میں تشکک کا شکار ہوا اور چرچ سے باغی ہو گیا۔ اس کی بیوی کیھتولک ازم کی پرجوش حامی تھی اس لیے وہ فرانکو کی فاشٹ حکومت کی حمایت کر رہی تھی اس کے برخلاف ہیمنگوئے ری پبلیکن حکومت کی حمایت کرتا تھا۔ اس زمانے میں اس نے’’The Denunciation‘‘ لکھا جس کا چرچا بہت کم ہی ہوا اس کی اشاعت بھی 1969ء میں ممکن ہوئی جب اس کو ہیمنگوئے کی کہانیوں کے مجموعے میں شامل کیا گیا۔
    ’’ اولڈ مین اینڈ دے سی‘‘ میں ناول لکھا، جس کی بنیاد پر اسے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اس ناول کو شاہد حمید نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے ہیمنگوےایک طرف تو مسیحی اخلاقیات سے متاثر تھے ان کےمزاج میں ایک انقلابی چھپا ہوا تھا۔ ، ایک روشن خیال ترقی پسند اور روشن خیال شخص تھے ۔ انہیں قطعی طورپر ایک خصوصی مزاج کا رجعت پسند امریکی نہیں کہا جاسکتا ۔ ، مگر ہیمگوے کا روایت پسند مذہبی رجحان ان کی تحریروں میں دکھائی دیتا ہے ۔ انھوں نے نے ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران آمرفرانکو کے خلاف جدوجہد کرتے بائیں بازو کے انقلابیوں کا ساتھ دیا جن میں ژان پال سارتر اور کئی ادبا انکے ساتھ شریک تھے۔ جہاں سے اس کے ناول’’ فار ہوم بیل ٹولز‘‘ نے جنم لیا اور اس نے اپنی آخری عمر کیوبا میں بسر کی اور ’’ اولڈ مین اینڈ دی سی‘‘ میں ناول لکھا، اس ناول اور ” بوڑھا اور سمندر ” پر اسے ۱۹۵۴ میں ادب کا نوبل انعام دیا گیا۔ ارنسٹ ہیمنگوے نے اپنی عادات کے کے متلعق بھی لکھا ہے۔ ’’میں ہر صبح لکھتا ہوں۔‘‘۔ 1959ء میں جب وہ کیوبا میں مقیم تھا انقلاب آیا اور بتیسٹا کی حکومت ختم ہوئی تو بدستور کیوبا میں ہی مقیم رہا۔ اس کے بارے میں کہا جاتا رہا کہ وہ کاسترو کا حمایتی ہے اور اس کے برپا کیے ہوئے انقلاب کے لیے اس نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ دوسری جنگ عظیم اور اس کے بعد ایف بی آئی اس کی نگرانی کرتی رہی کیونکہ اس کے بارے میں شبہ کیا جاتا تھا کہ اس کا ہسپانوی سول وار کے دنوں میں جن مارکسی سوچ کے حامل افراد کے ساتھ اس کا تعلق استوار ہوا، وہ اس زمانے میں کیوبا میں دوبارہ سرگرم تھے۔ 1960ء میں اس نے کیوبا کو خیرآباد کہا۔
    جارج پلمٹن کو انٹرویو دیتے ہوئے ہیمنگوے نے اپنے روزمرہ معمولات یو ں بیان کیے۔’’جب مجھے کسی کتاب یا کہانی پر کام کرنا ہوتا ہے تو میں صبح پوپھوٹتے ہی کام شروع کر دیتا ہوں۔ یہ ایسا وقت ہے جس میں کوئی بھی آپ کے کام میں خلل انداز نہیں ہوتا اور اس طرح بہت سہولت سے آپ اپنا کام کر لیتے ہیں۔ اپنا لکھا ہوا دوبارہ پڑھئے۔ یہ آپ کی تحریر میں نکھار لانے کا سبب بنے گا۔‘‘ ہیمنگوے کا کہنا تھا کہ”شراب انسان کی اچھی دوست ہوتی ہے”۔ 2 جولائی 1961 میں امریکی ریاست ” ایوڈا” کے شہر ” کچھمم” میں ان کا انتقال ہوا ۔ ایک کیتھولک راہب کا کہنا تھا کی ان کی موت ” حادثادتی” تھی۔ جب کی ہیمنگوے کی بیوی نے اپنے ایک خباری مصاحبے میں کہا تھا کی انھوں نے اپنے آپ کو گولی مار کر خود کشی کی تھی۔ اس کو وجہ اعصابی تناؤ اور کثرت شراب نوشی تھی۔

  • یوم وفات، شبنم رومانی

    یوم وفات، شبنم رومانی

    مجھے یہ زعم کہ میں حسن کا مصور ہوں
    انہیں یہ ناز کہ تصویر تو ہماری ہے

    شبنم رومانی

    پیدائش: 30 دسمبر 1928ء
    وفات :17 فروری 2009ء

    نام مرزا عظیم احمد بیگ چغتائی اور تخلص شبنمؔ ہے۔ 30 دسمبر 1928ء کو شاہ جہاں پور(ہندستان) میں پیدا ہوئے۔ 1948ء میں بریلی کالج سے بی کام کا امتحان پاس کیا۔ 1949ء کوآپریٹوز کے اکاؤنٹنٹ اور پھر اسسٹنٹ سکریٹری رہے۔ اسی سال ہجرت کرکے پاکستان چلےگئے۔ انھوں نے غزل کے علاوہ نظمیں، افسانے، انشائیے سبھی کچھ لکھا ہے۔ 1973ء سے روزنامہ ’’مشرق‘‘ میں ہائیڈ پارک کے عنوان سے پابندی سے ادبی کالم لکھتے رہے۔ سہ ماہی مجلہ ’’اقدار‘ کی ‘ خوبصورت ادارت کرتے رہے جبکہ وہ متعدد ادبی اور اشاعتی اداروں کے بانی اور مشیر بھی رہے۔ ۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:
    ’مثنوی سیر کراچی‘،’جزیرہ‘ (شعری مجموعہ) ، ’حرفِ نسبت‘ (نعت)، ’ارمغانِ مجنوں‘ (جلد اول۔مرتب)، ’تہمت‘، ’دوسرا ہمالہ‘ (شعری مجموعہ)۔ ” عطر خیال” نعتیہ شعری مجموعہ

    شبنمؔ رومانی کی 17 فروری 2009ء کو کراچی میں وفات ہوئی اور عزیز آباد کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔ ان کے پسماندگان میں ایک بیوہ دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں ۔ ان کے ایک فرزند فیصل عظیم بھی شاعری کرتے ہیں اور ان کا ایک شعری مجموعہ” میری آنکھوں سے دیکھو” شائع ہو چکا ہے۔ فیصل عظیم بسلسلہ روزگار کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں سکونت پذیر ہیں ۔ شبنم رومانی کی وفات کے وقت زیر طباعت کتب میں نظموں کا مجموعہ ” نفی برابر اثبات” تنقیدی مضامین کا مجموعہ” حریف ظریف” مزاحیہ و طنزیہ مضامین کا مجموعہ” کہتے ہیں جس کو عشق” اور مزاحیہ شاعری کا مجموعہ” فن ہمارا” شامل ہیں ۔

    بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)
    ویکیپیڈیا
    تلاش و ترتیب : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.
    شبنم رومانی صاحب کی شاعری چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    درد پیراہن بدلتا ہے یہ ہم پر اب کھلا
    صرف لفظوں کی شاعری کو دھنک سمجھتے تھے ہم

    اب کے بارش ایک ساتھی دے گئی
    ایک چہرہ بن گیا دیوار پر

    مجھے یہ زعم کہ میں حسن کا مصور ہوں
    انہیں یہ ناز کہ تصویر تو ہماری ہے

    تمام عمر کی آوارگی پہ بھاری ہے
    وہ ایک شب جو تری یاد میں گزاری ہے

    ہر آن ایک نیا امتحان سر پر ہے
    زمین زیر قدم آسمان سر پر ہے

    یہ معرفتِ غزل تو دیکھو
    انجان کو جان لکھ رہا ہوں

    میں نے دیکھا ہے بہت غور سے اس دنیا کو
    اِک دلِ آزار مسیحا کے سوا کچھ بھی نہیں

    وہ دور افق میں اڑانیں ہیں کچھ پرندوں کی
    اتر رہے ہیں نئے لفظ آسمانوں سے

    لمحوں کا پتھراؤ ہے مجھ پر صدیوں کی یلغار میں
    گھر جلتا چھوڑ آیا ہوں دریا کے اس پار

    اپنی مجبوری کو ہم دیوار و در کہنے لگے
    قید کا ساماں کیا اور اس کو گھر کہنے لگے

  • مولانا جلال الدین رومیؒ  کا یوم وفات

    مولانا جلال الدین رومیؒ کا یوم وفات

    محمد جلال الدین رومیؒ (پیدائش:1207ء میں پیدا ہوئے، مشہور فارسی شاعر تھے۔ مثنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریز آپ کی معروف کتب ہے، آپ دنیا بھر میں اپنی لازاول تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں، آپ کا مزار ترکی میں واقع ہے۔

    پیدائش اور نام و نسب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اصل نام محمد ابن محمد ابن حسین حسینی خطیبی بکری بلخی تھا۔ اور آپ جلال الدین، خداوندگار اور مولانا خداوندگار کے القاب سے نوازے گئے۔ لیکن مولانا رومی کے نام سے مشہور ہوئے۔ جواہر مضئیہ میں سلسلہ نسب اس طرح بیان کیا ہے :

    محمد بن محمد بن محمد بن حسین بن احمد بن قاسم بن مسیب بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابی بکرن الصدیق۔ اس روایت سےحسین بلخی مولانا کے پردادا ہوتے ہیں لیکن سپہ سالار نے انہیں دادا لکھا ہے اور یہی روایت صحیح ہےکیونکہ وہ سلجوقی سلطان کے کہنے پر اناطولیہ چلے گئے تھے جو اس زمانے میں روم کہلاتا تھا۔ ان کے والد بہاؤ الدین بڑے صاحب علم و فضل بزرگ تھے۔ ان کا وطن بلخ تھا اور یہیں مولانا رومی 1207ء بمطابق 6 ربیع الاول 604ھ میں پیدا ہوئے۔

    ابتدائی تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    ابتدائی تعلیم کے مراحل شیخ بہاؤلدین نے طے کرادیے اور پھر اپنے مرید سید ب رہان الدین کو جو اپنے زمانے کے فاضل علما میں شمار کیے جاتے تھے مولاناکا معلم اور اتالیق بنادیا۔ اکثر علوم مولانا کو انہی سے حاصل ہوئے۔ اپنے والد کی حیات تک ان ہی کی خدمت میں رہے۔ والد کے انتقال کے بعد 639ھ میں شام کا قصد کیا۔ ابتدا میں حلب کے مدرسہ حلاویہ میں رہ کر مولاناکمال الدین سے شرف تلمذ حاصل کیا۔

    علم و فضل
    ۔۔۔۔۔۔
    مولانا رومیؒ اپنے دور کے اکابر علما میں سے تھے۔ فقہ اور مذاہب کے بہت بڑے عالم تھے۔ لیکن آپ کی شہرت بطور ایک صوفی شاعر کے ہوئی۔ دیگرعلوم میں بھی آپ کو پوری دستگاہ حاصل تھی۔ دوران طالب علمی میں ہی پیچیدہ مسائل میں علمائے وقت مولانا کی طرف رجوع کرتے تھے۔ شمس تبریز مولانا کے پیر و مرشد تھے۔ مولانا کی شہرت سن کر سلجوقی سلطان نے انھیں اپنے پاس بلوایا۔ مولانا نے درخواست قبول کی اور قونیہ چلے گئے۔ وہ تقریباً 30 سال تک تعلیم و تربیت میں مشغول رہے۔ جلال الدین رومی ؒ نے 3500 غزلیں 2000 رباعیات اور رزمیہ نظمیں لکھیں۔

    اولاد
    ۔۔۔۔۔۔
    مولانا کے دو فرزند تھے، علاؤ الدین محمد، سلطان ولد۔ علاؤ الدین محمد کا نام صرف اس کارنامے سے زندہ ہے کہ انہوں نے شمس تبریز کو شہید کیا تھا۔ سلطان ولد جو فرزند اکبر تھے، خلف الرشید تھے، گو مولانا کی شہرت کے آگے ان کا نام روشن نہ ہو سکا لیکن علوم ظاہری و باطنی میں وہ یگانہ روزگار تھے۔ ان کی تصانیف میں سے خاص قابل ذکر ایک مثنوی ہے، جس میں مولانا کے حالات اور واردات لکھے ہیں اور اس لحاظ سے وہ گویا مولانا کی مختصر سوانح عمری ہے۔

    سلسلہ باطنی
    ۔۔۔۔۔۔
    مولانا کا سلسلہ اب تک قائم ہے۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفرنامے میں لکھا ہے کہ ان کے فرقے کے لوگ جلالیہ کہلاتے ہیں۔ چونکہ مولانا کا لقب جلال الدین تھا اس لیے ان کے انتساب کی وجہ سے یہ نام مشہور ہوا ہوگا۔ لیکن آج کل ایشیائے کوچک، شام، مصر اور قسطنطنیہ میں اس فرقے کو لوگ مولویہ کہتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم سے قبل بلقان، افریقہ اور ایشیا میں مولوی طریقت کے پیروکاروں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ یہ لوگ نمد کی ٹوپی پہنتے ہیں جس میں جوڑ یا درز نہیں ہوتی، مشائخ اس ٹوپی پر عمامہ باندھتے ہیں۔ خرقہ یا کرتا کی بجائے ایک چنٹ دار پاجامہ ہوتاہے۔ ذکر و شغل کا یہ طریقہ ہے کہ حلقہ باندھ کر بیٹھتے ہیں۔ ایک شخص کھڑا ہو کر ایک ہاتھ سینے پر اور ایک ہاتھ پھیلائے ہوئے رقص شروع کرتا ہے۔ رقص میں آگے پیچھے بڑھنا یا ہٹنا نہیں ہوتا بلکہ ایک جگہ جم کر متصل چکر لگاتے ہیں۔ سماع کے وقت دف اور نے بھی بجاتے ہیں۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    بقیہ زندگی وہیں گزار کر تقریباً 66 سال کی عمر میں سن 1273ء بمطابق 672ھ میں انتقال کر گئے۔ قونیہ میں ان کا مزار آج بھی عقیدت مندوں کا مرکز ہے۔

    مثنوی رومی
    ۔۔۔۔۔۔
    ان کی سب سے مشہور تصنیف ’’مثنوی مولانا روم‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ایک مشہور کتاب ’’فیہ مافیہ‘‘ بھی ہے۔

    ”باقی ایں گفتہ آید بے زباں
    در دل ہر کس کہ دارد نورِ جان

    ترجمہ: ’’جس شخص کی جان میں نورہوگا اس مثنوی کا بقیہ حصہ اس کے دل میں خودبخود اتر جائے گا‘‘

    اقبال اور رومیؒ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ محمد اقبال مولانا رومی کو اپنا روحانی پیر مانتے تھے۔ کشف اور وجدان کے ذریعے ادراک حقیقت کے بعد صوفی صحیح معنوں میں عاشق ہو جاتا ہے کہ بہ رغبت تمام محبوب حقیقی کے تمام احکام کی پیروی کرتا ہے۔ رومی نے جوہر عشق کی تعریف اور اس کی ماہیت کی طرف معنی خیز اشارے کیے ہیں۔ صوفی کی ذہنی تکمیل کا مقام کیا ہے اس کے متعلق دو شعر نہایت دل نشیں ہیں:

    آدمی دید است باقی پوست است
    دید آں باشد کہ دید دوست است
    جملہ تن را در گداز اندر بصر
    در نظر رو در نظر رو در نظر
    علامہ اقبال نے اس کی یوں تشریح کی ہے:
    خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
    ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

    رومی بین الاقوامی سال
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ان کے 800 ویں جشن پیدائش پر ترکی کی درخواست پر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، ثقافت و سائنس یونیسکو نے 2007ء کو بین الاقوامی سالِ رومی قرار دیا۔ اس موقع پر یونیسکو تمغا بھی جاری کیا۔

  • ملکہ نورجہاں کا یوم وفات

    ملکہ نورجہاں کا یوم وفات

    لاہور کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ یہ شہر مغل عمارات کا ایک بڑا تاریخی ورثہ رکھتا ہے۔ ان میں قلعہ لاہور، بادشاہی مسجد، شالامار باغ اور متعدد مقابر شامل ہیں۔

    لاہور شہر سے باہر مغلوں کے شاہی ذوق کی عکاسی کرنے والی ایک جگہ اور بھی ہے، جسے اس حوالے سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، یہ ہےدریائے راوی کے کنارے وہ مقام جسے مغلیہ دَور میں دریا پار کرکے کشمیر یا کابل جانے یا قریبی شیخوپورہ میں ہرن کی شکار گاہ پہنچنے سے قبل سستانے کے مقام یا پڑاؤ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

    کسی زمانے میں یہ شاہدرہ سایہ دار گھنے درختوں اور سرسبز روشوں والا باغ، ”باغِ دل کشا“ تھا، جہاں شاہی ہاتھی، گھوڑے دکھائی دیتے اور شاہی خاندان کے افراد سیر کیا کرتے تھے۔ البتہ اب یہاں صرف تین مقابر باقی ہیں، جن میں سے دو مقبرے مغل بادشاہ نورالدین جہانگیر اور آصف جاہ کے ہیں۔ پہلوئے شاہ میں تیسرا مقبرہ وہ ہے، جس کے لیے کبھی ساحر لدھیانوی نے لکھا تھا:

    پہلوئے شاہ میں دختر جمہور کی قبر
    کتنے گم گشتہ فسانوں کا پتہ دیتی ہے
    کتنے خوں ریز حقائق سے اٹھاتی ہے نقاب
    کتنی کچلی ہوئی جانوں کا پتہ دیتی ہے

    اداس فضاؤں میں اس ویراں اور خاموش مرقد میں مدفون ہستی جسے ساحر لدھیانوی نے ”دختر جمہور“ قرار دیا کوئی بے بس و لاچار خاتون نہیں بلکہ سلطنت مغلیہ کی اپنے وقت کی طاقتور ترین خاتون تھی، جس نے اپنی ذہانت اور ذکاوت سے مغل سلطنت پر کئی عشرے حکومت کی۔

    اس خاتون کی طاقت و اختیارات کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ یہ واحد خاتون تھی ،جن کے نام کا سکّہ مغلیہ دَور میں جاری ہوا اور شاہی مہر پر، جس کا نام کندہ تھا۔ یہ ملکہ ہندوستان نورجہاں کا مقبرہ ہے، جس کے بارے میں سٹینلے لین پول نے History of India میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”یہ ایرانی شہزادی، بادشاہ جہانگیر پر بے پناہ اثر انداز رہی، یہاں تک کہ جہانگیر کے ساتھ اس کا نام سکّوں پر جاری ہوابیشتر عہد جہانگیری میں اصل حکومت ملکہ نور جہاں کی رہی۔ اُس نے جہانگیر کے دل پر ہی نہیں بلکہ اصل تاج و تخت پر بھی حکومت کی اور جہانگیر کی سیاسی و سماجی زندگی پر اثر انداز رہی۔

    قندھار میں پیدا ہونے والی ایرانی النسل مہر النسا، جسے شہنشاہ جہانگیر نے شادی کے بعد ”نورِ محل“ اور پھر ” نورِجہاں“ کا خطاب دیا ملکہ ہندوستان بنی اور مغل سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی۔ لاہور ہی وہ شہر ہے ،جہاں مہر النسا اور جہانگیر کی شادی ہوئی، یہیں ملکہ نے اپنے شوہر کا مقبرہ تعمیر کروایا، قریبی باغات بنوائے، قلعہ لاہور میں اضافے کیے اور زنانہ کوارٹرز تعمیر کروائے۔ نورجہاں دَورِ مغلیہ کی واحد ملکہ تھی ،جس نے اپنی بیشتر زندگی لاہور میں گزاری ،جب کہ باقی تمام زیادہ تر مغل دارالسلطنت آگرہ اور دہلی میں مقیم رہیں۔

    مہر النساکے دادا ایرانی شاہ کے دربار میں ملازم تھے جب کہ اس کے والد غیاث بیگ، مغل بادشاہ اکبر کے دَور میں ایران سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے اور شاہی دربار میں ملازمت اختیار کی۔ یہاں میں مہر النسا کی شادی ترک النسل علی قلی بیگ سے انجام پائی، جسے بعد ازاں شیر افگن کا خطاب دے کر بنگال میں جاگیردار تعینات کر دیا گیا۔ گورنر بنگال اور جہانگیر کے رضاعی بھائی قطب الدین کو ایک تنازع میں شیر افگن کے ہاتھوں قتل ہوئے، جس کے نتیجے میں گورنر کے محافظوں نے شیر افگن کو ہلاک کر دیا۔

    مہر النسا اور اس کی بیٹی کو آگرہ کے شاہی حرم میں بھجوا دیا گیا، جہاں وہ مغل شہنشاہ اکبر کی بیوہ رقیہ سلطان بیگم (جو مرزا ہندال کی بیٹی تھی) کی خدمت پر مامور ہوئیں۔ یہیں نو روز کے تہوار پر مہر النسا کا سامنا بادشاہ جہانگیر سے ہوا اور بادشاہ نے اس 35 سالہ حسین، برجستہ گو اور ذہین بیوہ سے شادی کر لی جو مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

    رفتہ رفتہ جہانگیر کو ملکہ نورجہاں پر اس قدر بھروسہ ہو گیا کہ وہ حکومتی معاملات میں اس سے مشورہ لینے لگا جو سیاست، معیشت، ثقافت اور انتظام میں مہارت رکھتی تھی۔ وہ جہانگیر کی بیسویں، مگر سب سے محبوب اور پسندیدہ بیوی تھی۔ وہ غیر معمولی قابلیت، ذہانت اور حوصلے کے ساتھ سیاسی اختیارات کو استعمال کرتی رہی۔ اختیارات حاصل کرنے کے بعد اُس نے ایران سے ذہین سپاہی، علما اور شعرا ہندوستان بلوائے، جنہوں نے انتظامیہ اور مغل سلطنت کی ثقافتی زندگی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان ہی کے باعث ملکہ کا دربار میں اثر و رسوخ بھی بڑھ گیا۔

    ملکہ نور جہاں کے والد غیاث بیگ اور بھائی عبدالحسن آصف خان کو دربار میں اہم عہدے دیے گئے جنہیں بالترتیب اعتماد لدولہ اور آصف جاہ کے خطابات سے نوازا گیا۔ نورجہاں کا خاندان اُس دَور کا طاقت ور ترین خاندان تھا۔ اعتماد الدولہ، جہانگیر کا وزیراعظم اور آرمی چیف بنا۔ آصف جاہ کو دربار میں اس وقت زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہو گئےجب ملکہ نے اپنی بھانجی ارجمند بانو بیگم (ممتاز محل) کی شادی اپنے سوتیلے بیٹے خرم سےکروا دی بعد ازاں ملکہ نورجہاں نے اپنےپہلے شوہرکی بیٹی، جس کا نام لاڈلی بیگم تھا،کی شادی جہانگیر کے چوتھے بیٹے شہریار سے کروا دی۔ یوں مستقبل میں دونوں شہزادوں خرم اور شہریار میں سے جو بھی شہنشائے ہند بنتا ملکہ نورجہاں کو مزید اگلی ایک نسل تک طاقت و اختیارات حاصل رہتے۔

    شہنشاہ جہانگیر کے بڑے بیٹے خسرو نے جہانگیر کے خلاف بغاوت کر دی تو بادشاہ نے اسے اندھا کروا دیا تھا۔ خسرو کی مدد کرنے کے جرم میں مہرالنسا کے ایک بھائی کو بھی اپنی جان گنوانی پڑی تھی۔ جہانگیر کا دوسرا بیٹا پرویز مے نوشی کا عادی تھا۔ جہانگیر کی ناسازی طبیعت اور بڑھاپے کے باعث ہندوستان پر عملاً مرزا غیاث، نورِجہاں، آصف جاہ اور شہزادہ خرم کی حکومت تھی۔

    شہنشاہ جہانگیر تمام حکومتی اور محلاتی معاملات میں ملکہ نورجہاں پر بھروسا کرتا تھا، ملکہ دربار میں بادشاہ کے ساتھ موجود رہتی اور اسے جہانگیر کی طرف سے فیصلے کرنے کی آزادی حاصل تھی۔ شہزادہ خرم کی من مانی کی عادات کے باعث ملکہ اپنے داماد شہریار کو شہزادہ خرم پر فوقیت دینے لگی، جس پر خرم، ملکہ سے برافروختہ ہوگیا۔ خرم کے ملکہ کے احکامات ماننے سے انکار پر ہی قندھار سے بھی ہاتھ دھونے پڑے کہ اُس نے نورجہاں کے احکامات کے برعکس قندھار جانے سے انکار کردیا تھا۔

    خرم کو شبہ تھا کہ اُس کی غیر موجودگی میں شہریار کو ولی عہد بنا دیا جائے گا یا ہو سکتا تھا کہ وہ میدانِ جنگ میں مارا جائے۔ اسی کے باعث، شہزادہ خرم نے جنگ لڑنے اور قندھار جانے کی بجائے باپ کے خلاف بغاوت کر دی اور قندھار پر ایرانیوں کا قبضہ ہو گیا۔ اس بغاوت کے وقت جہانگیر، کشمیر کے راستے میں تھا کہ شہزادہ خرم نے اُسے گرفتار کروا لیا۔ ملکہ نور جہاں نے مداخلت کی اور مذاکرات کے ذریعے جہانگیر کو رِہا کروایا۔ اس کشمکش میں فتح خرم کی ہوئی ،جسے بغاوت میں مغل افواج کے جرنیل مہابت خان نے بھی مدد دی تھی جو ایک عورت یعنی ملکہ نورجہاں کے اقتدار اور درباری سیاست سے متنفر تھا۔

    اس واقعے کے بعد جہانگیر ایک برس ہی زندہ رہا اور کشمیر سے واپسی پر راستے میں وفات پائی۔ جہانگیر کو لاہور میں ملکہ نورجہاں کے ملکیتی وسیع و عریض باغ، باغِ دل کشا میں دفن کیا گیا۔شہنشاہ کی وفات کے بعد شہریار اپنی سوتیلی والدہ اور ساس ملکہ نورجہاں کی مدد سے تخت پر قابض ہو گیا۔ لیکن ملکہ نورجہاں کی ذہانت بھی اس کا اقتدار بچا نہ پائی، کیوںکہ اس موقع پر آصف جاہ نے بہن کی بجائے داماد کی حمایت کی۔ آصف جاہ کی افواج قلعہ کے اندر داخل ہو گئی اور اس جنگ میں شہریار مارا گیا۔

    آصف جاہ کی فتح کے بعد شہزادہ خرم، ”شاہ جہاں“ کے لقب سے لاہور میں تخت نشیں ہوا۔ شاہ جہاں نے اپنے سارے بھائیوں کو آصف جاہ کے ذریعے قتل اور ملکہ نورجہاں کو ایک طرح سے نظربند کروا دیا۔ البتہ شاہی دربار کی مداخلت سے ملکہ کو رِہا کیا گیا اور اس کا سالانہ وظیفہ مقرر ہوا۔

    شہنشاؤں کی طرح ملکہ پر بھی اقربا پروری، بداعمالی، بدعنوانی کے الزامات لگائے گئے، درباری سازشیں بھی اس سے منسوب کی گئیں لیکن اس کے باوجود مغل دربار کو جو کچھ ملکہ نورجہاں نے دیا۔مثلاََکھانے، طرزِ لباس، طرزِ زندگی، تہذیب…. وہ سب بے مثل ہے۔

    ملکہ نورجہاں مغل خواتین سے مختلف تھیں۔ وہ شاعرہ، زیورات اور لباس کی ڈیزائنر اور آرٹ سے شغف رکھنے والی ایک غیرمعمولی عورت جو عمر بھر تعمیرات و فنون کی سرپرستی کرتی رہیں۔ وہ جہانگیری عہد کی کئی فنی، تعمیری اور ثقافتی کامیابیوں کی تنہا ذمے دار تھیں۔ اس کی ڈیزائن کردہ تعمیرات میں کشمیر و آگرہ کے باغات، باغ ِدل کشا، اپنے والد اعتماد الدولہ، بادشاہ جہانگیر اور اپنے مقبرے شامل ہیں۔

    اعتماد الدولہ کا مقبرہ مغلیہ عہد کی تعمیرات میں ایسی پہلی مثال ہے جس میں سفید سنگمرمر اور قیمتی پتھروں کا استعمال کیا گیا تھا۔اس سے قبل مغل عمارات میں سنگ سرخ کا استعمال کیا جاتا تھا جیسا کہ شہنشاہ ہمایوں اور جلال الدین اکبر کے مقبروں میں دکھائی دیتا ہے، بعد میں شاہ جہاں نے اسی تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے آگرہ میں اپنی محبوب ملکہ اور ملکہ نورجہاں کی بھانجی ارجمند بانو (ممتازمحل) کا مقبرہ، تاج محل تعمیر کروایا۔

    ملکہ کے بنوائے گئے باغات میں سے کچھ سرکاری شاہی تقریبات کے لیے مخصوص تھے، جب کہ دیگر عوام کے استعمال میں بھی آتے تھے۔ زنانہ حرم پر بھی ملکہ کا ہی حکم چلتا تھا، جس میں بیگمات، کنیزیں، بچے، خدّام، غلام، خواتین محافظات، خواجہ سرا وغیرہ شامل تھے۔ وہ زنانہ حرم کی زیبائش و آرائش کے ذوق، فیشن، زیورات،کھانوں پر اثر انداز رہی۔ نئی خوشبویات میں تجربات کیے گئے۔ نورجہاں ہی نے گلاب کا عطر ایجاد کیا۔\”چاندنی\” ملکہ نورجہاں کی اختراع ہے۔ دوسرے ممالک سے زیورات، ریشم، پورسلین درآمد کیے گئے۔

    ملکہ نورجہاں نے ہی خواتین کے لباس کو برصغیر کے گرم موسم سے ہم آہنگ کیا، نہ صرف یہ بلکہ ،جہانگیر کے شانہ بہ شانہ شیر، چیتے اور دیگر جانوروں کا شکار کھیلا کرتی تھیں۔ ان کا نشانہ بے مثال تھا۔ شکار کا یہذکر \”تزک جہانگیری\” میں بھی ملتا ہے۔ ملکہ نورجہاں اور بادشاہ جہانگیر دونوں کو مصوری سے شغف تھا۔ جہانگیر کے پاس منی ایچر پینٹنگز کا ایک بڑا خزانہ موجود تھا ،جن میں دربار کی زندگی کی عکاسی کی گئی تھی اور شاہی مرد و خواتین اور باغات اور پرندوں کی تصاویر شامل تھیں۔دَورِ اکبری میں داستانِ امیر حمزہ، اکبر نامہ اور ہندو اساطیر کی تصویرکشی پر کام کا آغاز ہوا تھا اور ایرانی مصوروں کی بدولت برصغیر میں فن مصوری کو فروغ ملا۔

    یورپیوں سے تجارت کا آغاز بھی ملکہ نور جہاں کے دَور میں ہوا۔ انہوں نے آنے والے تاجروں سے محصولات لینے کا آغاز کیا۔ داخلی اور خارجی تجارت میں دخل اندازی اور رکاوٹ سے بچنے اور سہولیات کے حصول کے لیے مغل حکومت کو ادائیگی کی جانے لگی۔ وہ بحری جہازوں کی مالک تھیں جو نہ صرف حج کے سفر بلکہ تجارت کے لیے بھی استعمال ہوتے تھے۔ تجارتی تعلقات سے مغل سلطنت کی دولت و آمدنی میں اضافہ ہوا۔ مغل دارالسلطنت آگرہ، ملکہ نور جہاں کے ان اقدامات کے باعث ایک کاسموپولیٹن شہر اور تجارتی مرکز بن گیا تھا۔

    اپنی گوشہ نشینی کے دَور میں بھی ملکہ نور جہاں فلاحی کاموں اور خواتین کی تعلیم اور دیگر معاملات میں دلچسپی لیتی اور یتیم لڑکیوں کو زمینیں اور جہیز عطا کرتی رہیں۔ شہریار کی بیوہ اور ملکہ کی واحد اولاد لاڈلی بیگم اس گوشہ نشینی میں ملکہ نورجہاں کے ساتھ رہتی تھی۔ ملکہ نے یہ وقت اپنے والد اور شوہر کے مقابر بنواتے ہوئے گزارا۔

    ملکہ نورجہاں نے 68 سال کی عمر میں شہنشاہ جہانگیر کے دنیا سے گزرنے کے 16 برس بعد گوشہ نشینی اور تنہائی کے عالم میں وفات پائی اور اپنے تعمیر کروائے گئے مقبرے میں دفن ہوئیں۔ ملکہ کی واحد اولاد لاڈلی بیگم کی قبر بھی ان ہی کے پہلو میں ہے۔

    ملکہ کا یہ مقبرہ کئی بار اُجڑا، اٹھارہویں صدی میں رنجیت سنگھ کے دَور میں سکھ گولڈن ٹیمپل کی تعمیر کے لیے نورجہاں اور جہانگیر کے مقبروں سے قیمتی پتھر اکھاڑ کر لے گئے۔ بعد ازاں انگریزوں نے مقبرے کے باغ سے ریلوے لائن گزاری اور انیسویں صدی میں اس مقبرے کے حصوں کو کوئلے کے گودام کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا رہا۔ محکمہ آثارِقدیمہ کی غفلت کے باعث اب اس مقبرے کا قیمتی پتھر مخدوش و بوسیدہ حالت میں ہے۔

    ملکہ نور جہاں فارسی زبان کی شاعرہ تھیں اور مخفی تخلص تھا، ان کا مزار اسی کے فارسی شعر کی تفسیر ہے جو ان کی لوحِ مزار پر رقم ہے۔
    برمزارِ ما غریباں، نے چراغِ نے گلے
    نے پر پروانہ سوزد، نے صدائے بلبلے

    مجھ اجڑے ہوئے کے مزار پر چراغ (روشن) ہے نہ کوئی پھول (کھلے) ہیں۔ (اسی لیے) نہ یہاں پروانے کے پر جلتے ہیں نہ بلبل کی صدا سنائی دیتی ہے۔

  • معروف ادیبہ پروین عاطف کا یوم وفات

    معروف ادیبہ پروین عاطف کا یوم وفات

    پاکستان کی معروف ادیبہ پروین عاطف کو دنیا سے رخصت ہوئے 4 برس بیت گئے-

    باغی ٹی وی : پاکستان کی معروف ادیبہ پروین عاطف 1935ء میں گوجرانوالہ کے قریب ایمن آباد میں پیدا ہوئیں اور 17 نومبر 2018 کو راولپنڈی میں وفات پائی وہ ہاکی کے مشہور کھلاڑی اولمپئین بریگیڈیئر عاطف کی اہلیہ اور ممتاز ادیب اور صحافی احمد بشیر کی بہن تھیں۔

    ان کے والد غلام حسین تاریخ اور فارسی میں ایم اے تھےعمر بھر تدریس سے وابستہ رہے، شاعر بھی تھے پروین عاطف اپنے بھائی احمد بشیر کے ساتھ لاہور آگئیں مدرستہ البنات سے تعلیمی سفر کا دوبارہ آغاز کیا. پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے سوشیالوجی کیا-

    پروین عاطف بنیادی طور پر افسانہ نویس تھیں۔ وہ 16 برس تک پاکستان ویمن ہاکی فیڈریشن کی صدر رہیں اس سلسلے میں بے شمار ملکوں کا سفر کیا اور پھر سفر نامے بھی لکھے۔ کئی برس تک ایک قومی اخبار میں ’’ میں سچ کہوں گی” کے عنوان سے کالم بھی لکھتی رہیں-

    پروین عاطف کی تصانیف میں ٹپر وَاسنی، بول میری مچھلی (افسانے) میں میلی پیا اُجلے (افسانے)عجب گھڑی عجب افسانہ (افسانے)ایک تھی شادی (افسانے)صبح کاذب، کرن تتلی اور بگولےاور گاڈ تسی گریٹ او شامل ہیں حال ہی میں ان کا مجموعہ شائع ہوا ہے-