Baaghi TV

Tag: یوم پاکستان

  • سلیم صافی اور شہباز گل کے درمیان سخت ’ الفاظ‘ کا تبادلہ

    سلیم صافی اور شہباز گل کے درمیان سخت ’ الفاظ‘ کا تبادلہ

    معروف صحافی سلیم صافی اور معاون خصوصی شہباز گل کے درمیان سخت ’ الفاظ‘ کا تبادلہ ،سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دونوں شخصیات کے درمیان نئی جنگ چھڑ گئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق صحافی سلیم صافی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”یوم پاکستان مبارک ہو۔۔ سیلیکٹڈ وزیراعظم کو ان کے اقتدار کا آخری یوم پاکستان مبارک ہو۔ آرڈیننس فیکٹری کے سربراہ عارف علوی کو 23 مارچ کی آخری سلامی لینا مبارک ہو۔ انشااللہ مہنگائی کے شکار غریب عوام جلد سونامی کی تباہ کاریوں سے نجات پر ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے۔


    اور یہ بھی ٹوئٹ کی تھی کہ اہم اعلان: 27 مارچ سے پہلے حکومت کے تینوں اتحادی مسلم لیگ(ق)، ایم کیوایم اور باپ پارٹی اپوزیشن کے عدم اعتماد کی تحریک کی حمایت کا باقاعدہ اعلان کردیں گی جے ڈی اے سردست حکومت کے ساتھ ہے لیکن وہ بھی یوٹرن لے سکتی ہے۔


    سلیم صافی کے ان ٹویٹس پر عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل بھی خاموش نہ رہے اور میدان میں آئے اور سلیم صافی کو سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ اور اس کے بعد سلیم صافی نے وزیراعظم بن جانا ہے بھائی جتنے مرضی اعلان کر لے تیری قسمت میں پھر بھی دن رات عمران خان کے بغض میں جلنا کڑنا خبریں گھڑنا جھوٹ بولنا اور تڑپنا ہی رہنا ہے اللہ نے آپکو حسد کی ایسی بیماری میں مبتلا کیا جو لا علاج ہے کرتا جا روز اعلان اپنی آخری سانس تک۔

    اس سے قبل سیلم صافی نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ شاہ محمود قریشی سعودی وزیر خارجہ سے الوداعی ملاقات کررہے ہیں۔ اب یہ ناممکن نظر آتا ہے کہ وہ مستقبل میں ان سے بطور وزیر خارجہ ملاقات کریں۔ پیپلز پارٹی نے بھی واضح کردیا ہے کہ وہ شاہ محمود قریشی کو دوبارہ قبول نہیں کرے گی جبکہ نون لیگ نے بھی انہیں نیگیٹیو لسٹ میں شامل کیا ہے۔

  • قذافی اسٹیڈیم میں کھلاڑیوں کی یوم پاکستان منانے کی تصاویر وائرل

    قذافی اسٹیڈیم میں کھلاڑیوں کی یوم پاکستان منانے کی تصاویر وائرل

    ملک بھر میں جہاں آج یوم پاکستان بڑے جوش وخروش سے منایا جا رہا ہے وہیں لاہور کے قذافی اسٹیڈیم کوبھی یوم پاکستان کے موقع پر پاکستانی جھنڈوں سے آراستہ کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی :آج دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے ہوا، جبکہ نماز فجر کے بعد ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں پاکستان میں بسنے والی اقلیتیں بھی یوم پاکستان بھرپورطریقے سے منا رہی ہیں، گرجا گھروں، مندروں اورگوردواروں میں بھی ملکی سلامتی اور امن و امان کے لیے خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں وہیں قذافی اسٹیڈیم میں کھلاڑیوں نے بھی یوم پاکستان منایا اور پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی ) کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر آسٹریلیا کے خلاف آخری ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز کو یوم پاکستان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔


    پی سی بی کی جانب سے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ 23 مارچ کی مناسبت سے کھیل کا آغاز پاکستان کے قومی ترانے سے کیا گیا جہاں دونوں ٹیمیں قومی ترانے کے اعزاز میں گراؤنڈ میں کھڑی ہوئی نظر آئیں۔

    23 مارچ ،وطن سے محبت اور اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی، ازقلم :غنی محمود قصوری


    دوسری جانب پی سی بی نے کھلاڑیوں کی یوم پاکستان مناتے تصاویر بھی شیئر کی ہیں، تصاویر میں قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم، فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ سمیت دیگر کھلاڑیوں کو جھنڈے تھامے کھڑا دیکھا جاسکتا ہے۔

    ملک بھر میں یوم پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے،اسلام آباد میں مسلح…


    خیال رہے کہ گزشتہ روز پی سی بی نے یوم پاکستان کرکٹ فینز کے ہمراہ منانے کا اعلان کیا تھا کہ 23 مارچ یعنی آج قذافی اسٹیڈیم لاہور میں موجود تماشائیوں میں 2500 جھنڈے تقسیم کیے جائیں گے جبکہ یہ جھنڈے چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ خود کرکٹ فینز کو دیں گے۔

    جیتنے کی پوری کوشش کریں گے نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے،بابراعظم

    پی سی بی نے اپنے اعلان میں مزید کہا تھا کہ اس موقع پر ملکی اور غیرملکی کمنٹیٹرز یوم پاکستان کی مناسبت سے سبز اور سفید رنگ کا لباس زیب تن کریں گے۔

  • بلاول کریں گے درگئی میں جلسے سے خطاب

    بلاول کریں گے درگئی میں جلسے سے خطاب

    بلاول کریں گے درگئی میں جلسے سے خطاب
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے نصرت بھٹو کی 93ویں سالگرہ پر پر پیغام نصرت بھٹو کو شاندار الفاظ میں عقیدت پیش کیا

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ غیرمتزلزل عزم اورحوصلے کے ساتھ جدوجہد کرنے کا نام نصرت بھٹو ہے میری نانی نے آئین شکنوں کیخلاف مزاحمت کرنا سکھایا،نصرت بھٹو انتہائی بہادراور باوقار شخصیت کی مالک خاتون تھیں،قدرت نے بیگم بھٹو کو کئی منفرد اعزازات سے نوازا،نصرت بھٹو پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم کی اہلیہ تھیں، مادرِ جمہوریت بیگم نصرت بھٹو انتھائی بھادر اور باوقار شخصیت کی مالک خاتون تھیں وہ ایک وزیراعظم کی بہو، پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم کی اہلیہ اور اسلامی دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم کی والدہ ہیں لاکھوں جیالوں اور کروڑوں محب وطنوں کے لیئے ‘مادرِ جمہوریت’ ہونے کا اعزاز بھی انہیں ہی ملا بیگم نصرت بھٹو کی جدوجہد و قربانیاں بے مثال اور اس کے ردعمل میں عوام کی ان سے محبت بھی لازوال ہے پاکستان پیپلز پارٹی اپنی پہلی خاتون چیئرپرسن بیگم نصرت بھٹو کی پیروی کرتے رہے گی

    قبل ازیں پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےیومِ پاکستان پر پیغام میں کہا ہے کہ آج آئین کی پاسداری کے عہد سے تجدید اور وطن کے لیئے جانیں قربان کرنے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے آج کا دن ہمیں اپنے ان بزرگوں کی بھی یاد دلاتا ہے، جنہوں نے قراردادِ پاکستان کی شکل میں ایک منزل متعین کی تھی ہمارے بزرگوں نے اس عظیم منزل کو حاصل کرنے کے لیئے جمہوری جدوجہد کا راستہ اختیار کیا تھا ،پیپلز پارٹی اپنے قیام کے پہلے دن سے آج تک قائداعظم کی سوچ اور ویژن پر عمل پیرا ہے قائداعظم محمد علی جناح آئین پسندی اور قانون کی عملداری کے عالمی آئیکن ہیں ،شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو پہلا متفقہ آئین دیا اور دفاع کے لیئے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھی شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت کے لیئے طویل جدوجہد کی، آئین کو اصل شکل میں بحال کیا

    دوسری جانب پیپلزپارٹی کے جلسے کیلئے درگئی میں پنڈال سجا دیا گیا بلاول بھٹو زرداری جلسے سےخطاب کرینگے بلاول بھٹو زرداری 25 مارچ کو کرم میں بھی جلسہ سے خطاب کریں

    آرڈر پر عمل نہ ہوا تو سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر، آئی جی اسلام آباد پیش ہوں،عدالت

    میرا کچرا،میری ذمہ داری،برطانوی ہائی کمشنر ایک بار پھر مارگلہ کی پہاڑیوں پر پہنچ گئے

    وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

     ماحولیاتی منظوری کے بغیر مارگلہ ایونیو کی تعمیر کیس پر فیصلہ محفوظ 

    جو نقشے عدالت میں پیش کئے گئے وہ سب جعلی،یہ سب ملے ہوئے ہیں، مارگلہ ہلز کیس میں چیف جسٹس کے ریمارکس

    نور مقدم قتل کیس، ظاہر جعفر پر ایک اور مقدمہ درج

    مارگلہ کی پہاڑیوں پر تعمیرات پر پابندی عائد

    ایف نائن پارک میں شہری پر حملے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کر لیا گیا

    وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی بھی اسلام آباد پولیس کے خلاف بول اٹھے

    اسلام آباد جرائم کا گڑھ بن گیا، روز پولیس مقابلے، ڈکیتیاں، وجہ کیا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    اسلام آباد ڈاکوؤں کیلیے جنت بن گیا، یکے بعد دیگرے آٹھ وارداتیں

  • 23 مارچ ،وطن سے محبت اور اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی،   ازقلم :غنی محمود قصوری

    23 مارچ ،وطن سے محبت اور اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی، ازقلم :غنی محمود قصوری

    23 مارچ ،وطن سے محبت اور اسلامی ممالک تنظیم او آئی سی

    ازقلم غنی محمود قصوری

    وطن سے محبت اسلام کا حصہ ہے کیوں کہ اگر وطن پیارا و آزاد ہو گا تو آپ اپنی مذہبی رسومات بآسانی انجام دے سکے گے اور آزادی کی زندگی گزار سکیں گے بصورت دیگر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے ساتھ شحضی آزادی بھی چھن جاتی ہے یوں تو محض یہ مملکت خداداد پاکستان ہی ہمارا ملک ہے مگر احادیث رسول کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ساری زمین ہی اللہ کی ہے اور ہم مسلمان اللہ کے خاص بندے اور اس ساری زمین پر حق ہمارا ہے-

    جس کی مثال یہ حدیث ہے

    عن النعمان بن بشیرؓ قال: قال رسول اللّٰہ مثل المؤمنین فی توادہم وتراحمہم وتعاطفہم مثل الجسد إذا اشتکی منہ عضوٌ تداعٰی لہٗ سائرُ الجسد بالسہر والحُمّٰی (مسلم)

    ترجمہ۔۔باہمی محبت اور رحم وشفقت میں تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں، جب انسان کے کسی عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے جسم کے تمام اعضاء بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں –

    اسی طرح جب ایک مسلمان آدمی و ملک کو تکلیف پہنچے تو تمام امت کو اس کا درد محسوس ہوتا ہے اور اس درد کو رفع کرنا اپنی بساط کے مطابق ہر ایک شحض و ملک پر فرض ہے-

    اسلام میں ذمیوں، کافروں کے حقوق بھی احادیث سے ثابت ہیں تاکہ وہ بھی عزت و احترام سے رہ سکیں اور اپنی مذہبی آزادی کے ساتھ شحضی آزادی بھی برقرار رکھ سکیں مگر افسوس کہ آج کافر ہم امت مسلمہ پر ہاوی ہیں اور ہم پستی کی زندگیاں گزار رہے ہیں-

    نبی کریم کی اپنے وطن سے محبت کا اندازہ ان احادیث سے لگایا جا سکتا ہے-

    ما أطيبَكِ مِن بلدةٍ وأحَبَّك إليَّ، ولولا أنَّ قومي أخرَجوني منكِ ما سكَنْتُ غيرَكِ. (صحيح ابن حبان عن عبد الله بن عباس، الصفحة أو الرقم: 3709)

    ترجمہ۔۔۔ ہجرت کے موقع پر مکہ کو مخاطب کرکے آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے مکہ تو کتنا پاکیزہ اور میرا محبوب شہر ہے، اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی میں کہیں اور نہ رہتا-

    ایک دوسری حدیث میں ہے کہ

    اللَّهمَّ حبِّبْ إلينا المدينةَ كما حبَّبْتَ إلينا مكَّةَ وأشَد. اللَّهمَّ بارِكْ لنا في صاعِها ومُدِّها وانقُلْ وباءَها إلى مَهْيَعةَ. (وهي الجُحفةُ). (صحيح ابن حبان عن عائشة، الصفحة أو الرقم: 5600)

    ترجمہ ۔۔ہجرت کے بعد آپ علیہ السلام نے مدینہ منورہ کے لئے دعا فرمائی کہ اے اللہ مدینہ کی محبت ہمارے دل میں مکہ کی محبت سے زیادہ فرما دے-

    ان احادیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے وطن سے محبت کی بڑی عمدہ مثال ملتی ہے نیز ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اپنے وطن کی توقیر و سلامتی کیلئے ہجرت کی جا سکتی ہے اور کفار کے غلبہ پر ان کا قبضہ ختم کروانے کیلئے جہاد لازمی ہے جیسا کہ نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کو چھوڑا مدینہ میں سکونت اختیار کی ایک مضبوط جماعت بنائی اور کفار سے ٹکرا کر اپنے وطن کو فتح کیا انہیں احادیث کو دیکھتے ہوئے ٹیپو سلطان رحمتہ اللہ علیہ نے 1857 کی جنگ آزادی لڑی تھی اور اسی جذبے کے تحت علامہ اقبال و محمد علی جناح نے آزادی کی یلغار بلند کی تھی اور دو قومی نظریہ پیش کیا تھا

    آج 23 مارچ کا دن ہے 1940 کو محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے جو خواب دیکھا تھا ان کے رحلت کے بعد قائد و رفقاء نے اسے 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں دنیا کے سامنے رکھا اور خوب جدوجہد کی اور أخرکار 14 اگست 1947 کو کم و بیش 16 لاکھ قربانیاں اور لاکھوں ماؤں بہنوں کی عزتوں کی قربانیوں کے بعد یہ ملک ہمیں ملا اور آج اس کی تقریباً چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہےان شاءاللہ یہ وطن تاقیامت رہے گا مگر سارا عالم کفر اس کو توڑنے کے درپے ہے-

    جہاں پاکستان کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں وہیں پوری دنیا کے مسلمان ممالک کے خلاف بھی سارا عالم کفر اکھٹا ہے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے 21 اگست 1969 کو مسجد اقصیٰ پر یہودی حملےکے بعد مراکش کے شہررباط میں او آئی سی نامی اسلامی ممالک کی مشترکہ تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تھی-

    اس اورگنائزیشن اسلامک کوپریشن ( او آئی سی) 25 ستمبر 1969 کی کانفرنس کو کامیاب کروانے میں پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم ،سعودی عرب کے شاہ فیصل مرحوم نے کلیدی کردار ادا کیا تھا-

    1974 میں لاہور میں ہونے والی او آئی سی کانفرنس میں مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی اور فلسطینی وزیراعظم یاسر عرفات،سعودی عرب کے شاہ فیصل،یوگنڈا سے عیدی امین،تیونس سے بومدین،لیبیا سے معمر قذافی مصر سے انور سادات ،شام سے حافظ الاسد ،بنگلہ دیش سے شیخ مجیب الرحمن ،ترکی سے کورو فخری سمیت دیگر اسلامی ممالک کے وفد نے شرکت کی تھی-

    اب ایک بار پھر مملکت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں 57 اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے 44 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور کچھ کے دیگر اعلی عہدیداران موجود ہیں جن کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے اور یہ ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے
    ان شاءاللہ اس کانفرنس میں 23 مارچ 1940 کی طرز پر پیش کئے گئے دو قومی نظریہ کی طرح امت مسلمہ کیلئے نظریات پیش کئے جائینگے جس کیلئے ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی امت مسلمہ کی اس تنظیم سے زیادہ سے زیادہ امت مسلمہ کی بقاء و سلامتی کا کام لے

    آمین

  • پروقار پریڈ ہماری عظیم افواج کی ایک شاندار روایت ہے،شیخ رشید

    پروقار پریڈ ہماری عظیم افواج کی ایک شاندار روایت ہے،شیخ رشید

    پروقار پریڈ ہماری عظیم افواج کی ایک شاندار روایت ہے،شیخ رشید

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ یوم پاکستان پر قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،

    شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان میں 23 مارچ 1940 کا دن کلیدی حیثیت رکھتا ہے 75سال قبل پیش کی گئی قرارداد لاہور ہی پاکستان کے قیام کی بنیاد بنی، پاکستان کی بنیاد ایک عظیم فلسفے اورنصب العین پر رکھی گئی،بانیان پاکستان کا اسلامی اورفلاحی ریاست کا خواب ضرورشرمندہ تعبیر ہوگا،پاکستان ایک عظیم اسلامی اور فلاحی ریاست کی طرف گامزن ہے، یوم پاکستان پرافواج پاکستان کے جذبہ کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں،یوم پاکستان پر پروقار پریڈ ہماری عظیم افواج کی ایک شاندار روایت ہے

    واضح رہے کہ ملک بھر میں آج یوم پاکستان ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے،یوم پاکستان کے موقع پر آج ملک بھر میں عام تعطیل ہےوفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شکر پڑیاں پریڈ گراؤنڈ میں یومِ پاکستان کی مرکزی تقریب منعقد کی گئی، جس میں صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم عمران خان، پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ شریک ہوئے-

    سیکیورٹی خطرات کے خلاف ہم نے مکمل تیاری کر رکھی ہے، ترجمان پاک فوج

    الیکشن پر کسی کو کوئی شک ہے تو….ترجمان پاک فوج نے اہم مشورہ دے دیا

    امریکی صدر جوبائیڈن نے پاکستانی صدر عارف علوی کو خط میں دیا اہم پیغام

    تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے درمیان زیادہ دوری نہیں،گورنر سندھ

    یوم پاکستان پر سفیر پاکستان،وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کو دیا اہم پیغام

    یوم پاکستان پر شیخ رشید و دیگر وزرا کے اہم پیغام

    یوم پاکستان پر ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی پرچم لہرا دیئے گئے

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم پاکستان پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج ہم پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط و خوشحال ملک بنانے اور بانیان وطن کی بصیرت کے مطابق جمہوری اقدار ، قانون کی حکمرانی اور اسلامی طرز ِزندگی کو برقرار رکھنے کا عہد کرتے ہیں، جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کے لئے جموں و کشمیر کے تنازعہ کا سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کلیدی حیثیت رکھتا ہے

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے یوم پاکستان کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 23 مارچ تاریخی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل دن ہے جب ہمارے آباؤ اجداد نے قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر قیادت اپنی تقدیر بدلنے کا فیصلہ کیا اور ایک علیحدہ ریاست کے قیام کیلئے لائحہ عمل اختیار کیا۔ ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے ہم سب کو مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے پاکستان امن پسند اور محبت کرنے والا ملک ہے۔ مگر کسی نے ہماری خود مختاری اور علاقائی سلامتی کو چیلنج کیا تو اس کا بھر پور جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ افواج پاکستان نے نہ صرف ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ہوا ہے بلکہ عالمی سطح پر دہشت گردی اور امن دشمنوں کے خلاف کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

  • ملک بھر میں یوم پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے،اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ جاری

    ملک بھر میں یوم پاکستان آج ملی جوش و جذبے سے منایا جا رہا ہے،اسلام آباد میں مسلح افواج کی پریڈ جاری

    ملک بھر میں آج یوم پاکستان ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے،یوم پاکستان کے موقع پر آج ملک بھر میں عام تعطیل ہے-

    باغی ٹی وی :وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے شکر پڑیاں پریڈ گراؤنڈ میں یومِ پاکستان کی مرکزی تقریب منعقد کی گئی، جس میں صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم عمران خان، پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ شریک ہوئے-

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ندیم رضا، نیول چیف ایڈمرل اجمل خان نیازی،وزیرِ دفاع پرویز خٹک اور ایئر مارشل ظہیر احمد بابر بھی یومِ پاکستان کی مرکزی تقریب میں شامل ہوئے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کو بھی یومِ پاکستان پریڈ میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔

    صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی آمد پر خصوصی بگل بجایا گیا، اس کے بعد قومی ترانہ پڑھا گیا جس کے احترام میں تقریب کے تمام شرکاء کھڑے ہو گئے۔
    https://twitter.com/AyeshaMalickPTI/status/1506496852606259203?s=20&t=qUUkcFzKkJjsp1qAp19uPQ
    قومی ترانے کے بعد تلاوتِ قرآن پاک ترجمے کے ساتھ پریڈ گراؤنڈ کی فضاؤں میں گونجنے لگی صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خصوصی جیپ میں سوار ہو کر مسلح افواج کا معائنہ کیا۔


    ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ نے سلامی پیش کی جدید ترین جے 10 سی جنگی طیاروں نے فلائی پاسٹ کیا، شاندار فضائی مظاہرے میں جے ایف 17 تھنڈر، ایف 16 اور دیگر جنگی طیارے شامل رہے۔

    صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باہمی اتحاد اور تعاون سے تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا پاکستان تمام ممالک کے ساتھ امن چاہتا ہے، ہم نے آزادی کے تحفظ کے لیے بے پناہ قربانیاں دی ہیں ہم نے اندرونی اور بیرونی سازشوں پر کامیابی حاصل کی اور کرتے رہیں گے ہم نے علمائے کرام کے ساتھ مل کر کورونا وائرس کی وباء کا مقابلہ کیا ہمارے سب ادارے جمہوریت کے استحکام اور قانون کی بالا دستی چاہتے ہیں۔

    اس سال یومِ پاکستان کی مرکزی پریڈ کی تھیم ’شاد رہے پاکستان‘ رکھی گئی، یہ دعائیہ تھیم قومی ترانے کے حصے ’مرکزِ یقین شاد باد‘ سے لی گئی پریڈ میں تینوں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دستوں نے حصہ لیا۔

    پریڈ میں آرمرڈ کور، آرٹلری اور ایئر ڈیفنس انجینئرز کے دستے دشمن پر ہیبت طاری کرنے والے سامانِ حرب کے ساتھ حصہ لیا، ایس ایس جی کے کمانڈوزنے فری فال کا مظاہرہ کیا-

    میزائل، یو اے وی پاکستان کے ناقابل تسخیر دفاع کی علامت کے طور پر پریڈ کا حصہ بنے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ثقافتی فلوٹس نے بھی تقریب کو چار چاند لگایا او آئی سی کے فلوٹ کو یومِ پاکستان کی پریڈ میں خصوصی طور پر شامل کیا گیا –

    یومِ پاکستان کے موقع پر پر سربراہِ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اپنا پیغام جاری کیا ہے۔

    اپنے پیغام میں ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کا کہنا ہے کہ 23 مارچ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے23 مارچ کو مسلمانانِ برصغیر نے پہلی بار باضابطہ علیحدہ وطن کا مطالبہ کیا یومِ پاکستان آباؤ اجداد کی آزادی کے لیے قربانی اور طویل جدوجہد کی علامت ہے اس سال یومِ پاکستان خصوصی اہمیت کا حامل ہے، قوم پریڈ کے موقع پر جے 10 سی جہاز کا مظاہرہ دیکھے گی۔

    سربراہِ پاک فضائیہ نے یہ بھی بتایا کہ جے 10 سی طیارے حال ہی میں پاک فضائیہ کا حصہ بنے ہیں، جو ہماری جدت پر مبنی پالیسی کا شاہکار ہیں۔

    آج دن کا آغاز توپوں کی سلامی سے ہوا، جبکہ نماز فجر کے بعد ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں پاکستان میں بسنے والی اقلیتیں بھی یوم پاکستان بھرپورطریقے سے منا رہی ہیں، گرجا گھروں، مندروں اورگوردواروں میں بھی ملکی سلامتی اور امن و امان کے لیے خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں۔

    تمام سرکاری و نجی عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے گئے ہیں، پاک فوج کی طرف سے وفاقی دارالحکومت میں 31جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21،21توپوں کی سلامی دی گئی۔

    یومِ پاکستان پر مسلح افواج کی پریڈ کی اہم تقریب آج اسلام آباد میں ہوئی،جس میں صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، مسلح افواج کے سربراہان اور دیگر اہم سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات اور غیر ملکی مہمانوں نے شرکت کی پریڈ میں تینوں مسلح افواج کے دستوں نے حصہ لیا پریڈ میں آرمرڈ کور، آرٹلری اور ایئر ڈیفنس انجینیرز کے دستے دشمن پر ہیبت طاری کرنے والے سامانِ حرب کے ساتھ حصہ لیں گے اور ایس ایس جی کے کمانڈوز فری فال کا مظاہرہ کیا۔

    کراچی میں قائد اعظم جبکہ لاہورمیں مزاراقبال پرگارڈزکی تبدیلی کی پروقارتقریب منعقد ہوئی، جہاں پر پر ستلج رینجرز کی جگہ پاک فضائیہ کا چاک و چوبند دستہ اعزازی گارڈز کے فرائض سنبھالے جس میں مہمان خصوصی ایئر وائس مارشل زبیر حسن خان ایئر آفیسر کمانڈنگ پی اے ایف ایئرمین اکیڈمی کورنگی کریک نے شرکت کی، مہمان خصوصی ایئر وائس مارشل زبیر حسن خان نے مزار اقبال پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔

    واضح رہے کہ 23 مارچ 1940 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں منظور کی گئی جلاس کے دوران شیر بنگال مولوی فضل الحق نے قرارداد پیش کی قرارداد کی یاد میں منایا جاتا ہے جس کی روشنی میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا خواب شرمندہ تعبیر کیا یہ قرارداد لاہور منٹو پارک میں میں پیش کی گئی جہاں اس کی یادگار کے طور پر مینار پاکستان تعمیر کیا گیا منٹوپارک کے مقام پرآج گریٹراقبال پارک موجود ہے۔

    قرارداد کا اردو ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے کیا۔ اس کی تائید میں خان اورنگ زیب خان، حاجی عبداللہ ہارون، یگم مولانا محمد علی جوہر، آئی آئی چندریگر، مولانا عبدالحامد بدایونی اور دوسرے مسلم اکابرین نے تقاریر کیں تقاریر کے بعد مسلمانوں کےلیےعلیحدہ وطن کی قرارداد منظور کرلی گئی جسے قرارداد لاہور کا نام دیا گیا۔ بیگم محمد علی جوہر نے تقریر میں قرارداد کوپہلی بارقرارداد پاکستان کہا۔

    قرارداد میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان کےوہ علاقے جو مسلم اکثریتی اورجغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہیں ان کی حد بندی ایسے کی جائے کہ وہ خود مختارآزادمسلم ریاستوں کی شکل اختیار کرلیں۔

    قرارداد کے مطابق جن علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں انہیں آئین کے تحت مذہبی، قافتی، سیاسی، اقتصادی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کی ضمانت دی جائے کیونکہ ہندوستان کا موجودہ آئین مسلمانوں کے حقوق پورے نہیں کرتا قرارداد پاکستان کے 7 برس بعد اسلامی جمہوریہ پاکستان کرہ ارض پر وجود میں آیا اور پوری آب و تاب کے ساتھ چمکا۔

    وزیراعظم عمران خان نے یوم پاکستان کی مناسبت سے جاری اپنے پیغام میں کہا کہ 23 مارچ تخلیق پاکستان کے حقیقی مقاصد انصاف اور مساوات پر کاربند رہنے کے ہمارے عزم کی تجدید کا دن ہے، آج ہم بابائے قوم اور تحریک آزادی کے ان تمام رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے بے مثال قربانیوں کے ذریعے قوم کو متحد کرنے کی جدوجہد کی۔

    عمران خان نے کہا کہ نوجوانوں کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان ایک طویل جمہوری جدوجہد سے معرض وجود میں آیا اور اب اس کے استحکام اور ترقی کی کلید سخت محنت ، دیانتداری اور اخلاقیات میں مضمر ہے، یہ دن مناتے ہوئے ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح کے دیئے ہوئے سنہری اصولوں ایمان ، اتحاد اورتنظیم پر کاربند رہنے کی ضرورت ہے، ہمیں خود کو ریاست مدینہ کی طرز پر ملک کو ایک حقیقی فلاحی ریاست بنانے کیلئے وقف کرنا چاہیے۔

    وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھ سمیت تمام پاکستانیوں کو ملک کے عظیم بانیان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے یوم پاکستان کی مناسبت سے جاری اپنے پیغام میں کہا کہ یوم ِ پاکستان برصغیر کی تاریخ میں کئی حوالوں سے اہم دن ہے، 1940ء میں اس دن مسلمانوں نے ’’جداگانہ انتخاب‘‘ کی بجائے ’’علیحدہ ریاست‘‘ کا مطالبہ کیا۔

    ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ’اس دن مسلمانوں نے انگریزوں پر واضح کر دیا کہ کانگریس مسلمانوں کی نمائندہ سیاسی جماعت نہیں، اس دن مسلمانوں نے واضح کیا کہ برصغیر کی تقسیم میں مزید تاخیر نہیں کی جا سکتی، ہمارا فرض ہے کہ ہم قوم کیلئے بروقت اور دانشمندانہ سیاسی فیصلے لینے والے بانیوں کو خراج عقیدت پیش کریں۔

    صدر مملکت نے کہا کہ ’وقت نے مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے مطالبے کو سیاسی طور پر درست ثابت کیا ہے، جموں و کشمیر، بھارت میں مسلمانوں کی صورت حال واضح ثبوت ہیں کہ متحدہ ہندوستان میں ہندو اکثریت کے رحم و کرم پر مسلمانوں کا کیا حشر ہوتا، ہمیں مختلف قومیتوں اور اقلیتوں کو ایک قوم میں یکجا کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش تمام چیلنجز پر اجتماعی کوششوں سے قابو پایا جا سکتا ہے، وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک معاشی طور پر مضبوط اور خوش حال ملک بن جائے گا، ہمیں اپنے آباؤ اجداد کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے مل کر قومی اتحاد اور سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

  • 23 مارچ ، تجدید عہد وفا کا دن از محمد نعیم شہزاد

    قومی زندگی میں بعض لمحات بڑے قیمتی ہوتے ہیں اور زندہ قومیں ان لمحات کو ضائع نہیں ہونے دیتیں اور تاریخ رقم کر جاتی ہیں۔ پاکستان کی قومی تاریخ میں ایسا ہی ایک اہم دن 23 مارچ 1940 کا دن ہے جب
    لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرارداد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے لیے عليحدہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔

    اس کے پس منظر میں مسلم لیگ کو عام انتخابات میں ہونے والی شکست اور ہزیمت تھی جس نے مسلم قوم کی نمائندہ جماعت ہونے کے دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔ برصغیر میں برطانوی راج کی طرف سے اقتدار عوام کو سونپنے کے عمل کے پہلے مرحلے میں 1936ء/1937ء میں پہلے عام انتخابات ہوئے اور ہندوستان کے 11 صوبوں میں سے ایک میں بھی مسلم لیگ اپنی حکومت قائم نہ کر سکی۔ اور مسلم لیگ برصغیر کی سیاست میں یکسر ناکام ہو کر رہ گئی تھی۔ اور مسلم لیگ پر واضح ہو گیا کہ اس کو مسلم نمائندہ جماعت ہونے کی بنا پر ہزیمت اٹھانا پڑی۔ اس بنا پر مسلم لیگ کی قیادت میں دو قومی نظریے کی اہمیت اجاگر ہوئی اور انھیں ایک روٹ میپ مل گیا کہ ہندو مسلم دو الگ قومیں ہیں جن میں اتحاد ممکن نہیں۔

    اسی اثنا میں دوسری جنگ عظیم کی حمایت کے عوض اقتدار کی بھر پور منتقلی کے مسئلہ پر تاج برطانیہ اور کانگریس کے درمیان ٹکراؤ ہوا اور کانگریس اقتدار سے الگ ہو گئی۔ اس طرح مسلم لیگ کے لیے کچھ دروازے کھلتے دکھائی دئے۔ اور اسی پس منظر میں لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا یہ 3 روزہ اجلاس 22 مارچ کو شروع ہوا۔ 23 مارچ کو ایک قرارداد پاس کی گئی جس میں مسلم اکثریتی علاقوں پر الگ آزادانہ مسلم حکومت قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ یہ ایک اہم گھڑی تھی اور اس وقت درست لیے گئے فیصلے کی بدولت قریب ساڑھے سات برس کے عرصے میں مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن قائم کر لیا گیا۔

    قیام پاکستان کے 9 برس بعد اسی دن پاکستان کے پہلے آئین کو اپنایا گیا اور پاکستان پہلے اسلامی جمہوریہ کے طور پر سامنے آیا ۔ یوں پاکستان کی تاریخ میں 23 مارچ کے دن کی اہمیت دوچند ہو گئی۔

    آج الحمدللہ پاکستان اسی نظریے پر قائم ہے اور اُس وقت اِس نظریے کی مخالفت کرنے والے لوگ بھی آج اپنے فیصلے پر خود پچھتا رہے ہیں ۔ ہمسایہ ملک بھارت کے قانون میں ہونے والی حالیہ ترامیم کو ہی دیکھ لیجیے کہ کس طرح دین اسلام سے عداوت نبھاتے ہوئے متنازعہ شہریت بل پیش کیا گیا۔ اخبارات کی شہ سرخیاں اب نظریہ پاکستان کے مخالفین کو منہ چڑھا رہی ہیں اور وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی بصیرت کے قائل ہو گئے ہیں۔

    اس عظیم قومی دن کو بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ مگر اس سال کرونا وائرس جیسے وبائی مرض کے پھیلاؤ نے پوری قوم کو اپنے سحر میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اور ایک عجیب خوف کی کیفیت طاری ہو رہی ہے۔ چین کے ایک شہر سے شروع ہونے والی اس بیماری نے اس وقت قریباً پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ روز بروز حالات دگرگوں ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔ کرونا وائرس کے مبینہ مریضوں کی بغیر مناسب سکیننگ ملک میں آمد ہی پاکستان میں کرونا کے پھیلنے کا سبب بنی۔ مگر اب جب سانپ گزر گیا تو لکیر کو پیٹنے سے کیا حاصل؟ لہذا ہمیں مستقبل پر نظر کرنی چاہیے اور حکومت کی طرف سے عائد کردہ حفاظتی اقدامات پر سختی سے کاربند ہونا جانا چاہیے۔

    آج پھر ایک قومی سوچ و فکر کی ضرورت ہے۔ آئیے تجدید عہد کے اس دن یہ عہد کریں کہ ہم اس وبائی بیماری کو شکست دیں گے اور اپنے قومی جذبات کی حرارت سے اس وبا کا خاتمہ کر دیں گے۔ اور ملک و قوم کو اس بیماری کے خلاف فتح سے ہمکنار کرنے کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ تاریخ کے تناظر میں یہ بات ضرور یاد رکھیں کہ ہمیشہ بروقت لیے گئے درست فیصلے ہی کامیابی کی ضمانت قرار پاتے ہیں۔ لہذا بلا تاخیر سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہوں، بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلا جائے اور رش کے مقامات سے دور رہا جائے۔
    اس موقع پر دوسرا اہم پیغام حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کے لیے بھی ہے کہ عوامی شعور کو بیدار کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات تسلی بخش ہیں اور امید کی جا سکتی کہ پاکستانی قوم اس وبا کو ضرور شکست دے گی۔

  • 23 مارچ اور اتحاد از عاشق علی بخاری

    اگر بغور جائزہ لیں تو اس کے پیچھے ایک طویل اور تھکادینے والی جدوجہد اور بے شمار قربانیاں آپ کو نظر آئیں گی. وطن عزیز حاصل کرنا بچوں کا کھیل نہیں تھا بلکہ دو ایسی طاقتوں سے مقابلہ تھا، جن میں سے ایک برسرِ اقتدار انگریز اور دوسرے انہی کے مہرے تھے.

    سیدھے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ آپ بے سر و سامان تھے اور اور مقابل پورے توپ تفنگ سے آراستہ تھا، سمجھیں یہ وہی منظر تھا کہ ایک طرف 313 تو دوسری طرف 1000 کا لشکر تلواروں، نیزوں اور بہترین گھوڑوں پر سوار.
    یہاں بھی جب فضائے بدر پیدا ہوئی تو آسمانی مدد پورے جلال کے ساتھ مسلمانوں کے شانہ بشانہ موجود تھی. جب ہم نے آزادی حاصل کی تو ہمارے اثاثے تک روک لیے گئے، ہم پر جنگیں مسلط کی گئیں، یہاں تک کہ دشمنوں کی سازشوں کا شکار ہو ہم دو ٹکڑے ہوگئے، لیکن ہم اس وقت سے اب تک سروائو کرتے چلے آئے ہیں.

    پوری انسانی تاریخ اٹھا کر دیکھ جب بھی، اور کہیں بھی پختہ عزم اور کامل یقین کے ساتھ جس نے بھی جدوجہد کی وہ یقیناً کامیاب ہوا ہے.
    منگول سلطنت ہو یا سلطنت عثمانیہ یا پھر امیر تیمور ہو یا مغلیہ سلطنت اس کے علاوہ بھی بے شمار حکمران اور افراد گزرے ہیں، جنہوں نے عزم کیا تو بالآخر اپنی منزل پر پہنچ ہی گئے.
    یہ دن بھی ہمارے لیے تاریخ کا بہترین سبق رکھتاہے.
    ہم لاالہ الااللہ کی بنیاد پر جمع ہوئے تھے، اسی پر ہم نے جمع رہنا ہے،
    اپنی منزل سے ہٹ کر چھوٹے چھوٹے رستوں پر چل نکلے تو پھر منزل سے ضرور بھٹک جائیں گے، ہمیشہ اپنے مرکز لاالہ الا اللہ کے قریب رہنا ہے اسی میں ہماری بقا کا راز چھپا ہوا ہے.

    چاہے کیسے بھی جھکڑ، طوفان چلیں، کیسی ہی ہوائیں مخالف کیوں نہ ہوجائیں، ہم نے اتحاد کے سبق کو نہیں بھولنا یہ گویا موت و حیات کے بیچ لٹکی ہوئی رسی ہے، اگر ذرا بھی ہاتھ ڈھیلا ہوا تو لکڑبگھوں اور اژدھوں کا نوالہ بن جائیں گے.
    ملک پاکستان ابتداء سے لیکر اب تک مختلف بحرانوں اور مسلسل مشکلات کا شکار ہے، اور حالیہ وبائی سلسلے میں بھی مشکلات میں گھرا ہوا ہے، ان تمام حالات میں ہم نے ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا ہے، حکومتی اقدامات چاہے کچھ بھی نہ ہوں لیکن ہم نے وہ تمام ضروری کام کرنے ہیں جو ہمارے لیے ضروری ہیں، آپ اپنا بالکل نہ سوچیں بلکہ اگر آپ بیٹے ہو تو والدین بہن بھائیوں کا سوچو، اگر شوہر ہو تو بیوی، بچوں کا سوچیں، آپ آپ نہیں ہیں بلکہ بہت سارے لوگوں کی امید ہیں آپ. بہت سارے لوگوں کے چہروں پر آپ مسکراہٹ کا سبب ہیں، اس نے کہا تھا نہ
    احتیاط ضروری اے.

    ہمارا ملک کسی بھی لسانی، صوبائی، فرقہ وارانہ کاموں کا متحمل نہیں ہوسکتا، لہذا وہ تمام کام جو مسلمانوں کے اتحاد کے لیے نقصان دہ ہوں ان سے خود بچنا یے اور دوسروں کو بچانا ہے.
    یہ ملک کلمے کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے، تو اس کے منافی کام کرکے اپنے آباء و اجداد کی قربانیوں پر پانی نہیں پھیرنا، اس ملک میں نہ لبرل ازم کی کوئی جگہ ہے اور نہ ہی سیکولرازم کی.
    سندھی، پنجابی، بلوچ سب نے مل کر اس کی بنیاد رکھی تو اب بھی ہر ایک اس کا نگران او نگہبان ہے، کوئی کسی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا.
    پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ
    پاکستان زندہ باد

  • بنیاد پاکستان میں قرارداد پاکستان کا کردار  تحریر: غنی محمود قصوری

    بنیاد پاکستان میں قرارداد پاکستان کا کردار تحریر: غنی محمود قصوری

    ہر سال 23 مارچ کو سرکاری چھٹی ہوتی ہے سرکاری طور پر فوج کی جانب سے پریڈ کی جاتی ہے اور اس دن ہم یوم پاکستان مناتے ہیں مگر اس سال عالمی وبائی مرض کرونا کے باعث پریڈ منسوخ کر دی گئی ہے یہ سارا کچھ کیوں ہے اس کیلئے ہمیں ماضی میں جانا ہو گا
    یوں تو دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی بنیاد اسی دن ہی پڑ گئی تھی جب محمد بن قاسم نے سندھ پر راجہ داہر کے ظلم کے خلاف حملہ کیا تھا اور پھر اس کے بعد ہر آنے والے مسلمان جرنیل نے ہندو کی ٹھکائی کرکے دو قومی نظرئیے کو تقویت دی
    قیام پاکستان کا منصوبہ 14 اگست 1947 کو پایہ تکمیل کو پہنچا مگر اس پہلے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہمارے بزرگوں نے اسے کامیاب بنانے کیلئے کیا حکمت عملی اپنائی اور کون کونسی قربانیاں دیں
    انگریز و ہندو سے تنگ مسلمان نے مسلم لیگ اور اپنے مسلمان قائدین کے زیر سایہ ایک الگ اسلامی ملک کیلئے کوششیں شروع کیں جس کا خواب ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا
    علامہ علیہ رحمہ نے 1937 کو قائد اعظم محمد علی جناح کے نام لکھے گئے اپنے خط میں انہیں مخاطب کرکے لکھا کہ اگر ہندوستان کے مسلمانوں کا مقصد سیاسی جد وجہد سے محض آزادی اور اقتصادی بہبود ہے اور حفاظت اسلام اس جدوجہد کا مقصد نہیں تو مسلمان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے
    اس پیغام کو جناب محمد علی جناح نے نہایت سنجیدگی سے سمجھا اور قیام پاکستان کے لئے کوششیں انتہائی تیز کر دیں اور ان کوششوں اور قربانیوں کے نتیجے میں 22 دسمبر 1939 کو یوم نجات منایا اور اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھایا کہ منزل بہت قریب ہے کیونکہ قائد اعظم جان چکے تھے کہ ہندو کے ساتھ گزرا ممکن نہیں اور ہندو کیساتھ رہتے ہوئے مسلمان اپنا اسلامی تشخص برقرار نہیں رکھ سکیں گے اس لئے قیام پاکستان کیلئے تمام تر کوششیں تیز کر دی گئیں
    مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس 21،22،اور 23 مارچ 1940 کو طے تھا جسے رکوانے کیلئے انگریز انتظامیہ نے دفعہ 144 کا نفاذ کر رکھا تھا تاکہ مسلمان اس جلسے کو نا کر سکیں اور جذبہ آزادی سے دستبردار ہو جائیں جو کہ مسلمانوں کے لئے ناممکن تھا سو 19 مارچ کو جزبہ آزادی سے سرشار مسلمانوں نے کرفیو کو توڑا جس پر پولیس نے گولی چلائی جس کے نتیجے میں 82 مسلمان شہید اور درجنوں زخمی ہوئے جلسے کی تاریخ بھی نزدیک تھی اور لاہور کی فضاء بھی انتہائی سوگوار تھی مگر مسلمانوں کے حوصلے انتہائی بلند تھے اور وہ ہر حال میں اس جلسے کو کامیاب بنانے کیلئے پر عزم تھے 21 مارچ کو قائد اعظم محمد علی جناح فرنٹئیر میل کے ذریعے لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچے جہاں لاکھوں لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا قائد اعطم ریلوے اسٹیشن سے سیدھا زخمیوں کی عیادت کرنے ہسپتال پہنچے اور ان کی عیادت کرنے کیساتھ ان کے جذبے کی بھی داد دی جس پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند کے حوصلے مزید بلند ہو گئے اور آخر کار 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں طے شدہ وقت پر کارکنان مسلم لیگ و مسلمانان ہند جلسہ گاہ میں پہنچے اور قائد اعظم کے پہنچنے پر کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کیا گیا جلسہ گاہ میں تل دھرنے کو جگہ نا تھی قائد اعظم نے تقریباً 100 منٹ تقریر کی چونکہ اس جلسے کا مقصد دو قومی نظرئیے کو اجاگر کرنا تھا اس لئے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے اور قرار داد پاکستان پیش کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ مسلمان اور ہندو دو الگ الگ قومیں ہیں جن کے مذہب الگ ہیں جن کی غمی خوشی،رسم و رواج اور رہن سہن الگ ہے لہذہ یہ دو قومیں ہیں اور ہم اپنے رہنے کے لئے الگ ملک پاکستان بنائینگے جہاں تمام مذاہبِ کے لوگ مکمل آزادی کیساتھ زندگی بسر کر سکیں گے قائد اعظم کے علاوہ اس جلسے میں مولوی فضل الحق بنگالی،چویدری خلیق الزماں،مولانا ظفر علی خان،سردار اورنگزیب،اور عبداللہ ہارون نے بھی تقریر کرتے ہوئے دو قومی نظرئیے اور قیام پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا
    اس جلسے میں تقریباً سوا لاکھ مسلمانوں، جن میں سے بیشتر خواتین تھیں ،نے شرکت کی اس سے قبل ہندوستان میں مسلمانوں کا اتنا بڑا اجتماع کبھی نا ہوا تھا مسلمانوں نے قائد اعظم زندہ باد،سینے پہ گولی کھائیں گے پاکستان بنائینگے اور بن کے رہے گا پاکستان کے نعرے لگائے اور اپنے قائد حضرت محمد علی جناح کی قیادت میں انگریز و ہندو کے سامنے سینہ سپر ہو گے اور اپنی جان و مال کی قربانیاں دے کر 14 اگست 1947 کو پاکستان بنانے میں کامیاب ہو گئے
    آج ہمیں بھی پاکستان کی بقاء و سلامتی کیلئے علامہ محمد اقبال،قائد اعظم محمد علی جناح اور ان کے کارکنان جیسا عزم چاہئیے تاکہ دو قومی نظرئیے اور پاکستان کے قیام کا مقصد دنیا پر واضح ہو سکے اور اقبال کا خواب شرمندہ تعبیر ہو

  • یوم پاکستان اور کرونا وائرس،  قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    یوم پاکستان اور کرونا وائرس، قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    آج تئیس مارچ ہے وہ دن جو تحریک پاکستان کا سب سے خاص دن ہے. یوں تو برصغیر کے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی اور ہندو کی چالبازی سے نکالنے لیے کوششیں اور کاوشیں بڑی دیر سے جاری تھیں، جنگ آزادی آٹھارہ سو ستاون سے علی گڑھ تحریک تک ،اور تحریک خلافت سے مسلم لیگ کے قیام تک برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اس بیچ منجھدار میں ڈولتی ناؤ کو سنبھالا دینے اور پرسکون ساحل کی سمت لانے کے لیے سینکڑوں قائدین نے اپنی خدمات سرانجام دیں.

    مسلم لیگ کے قیام کے بعد کچھ سمتیں متعین ہونا شروع ہوئیں پھر قائد و اقبال کی زیرک قیادت نے مسلمانوں کے تحفظ کا بیڑہ اٹھایا اور بالآخر تئیس مارچ انیس سو چالیس کو اسلام کے لاکھوں پروانے لاہور میں منٹو پارک میں جمع ہوئے جس کو آج گریٹر اقبال پارک کے نام سے جانا جاتا ہے ان لاکھوں فرزندان توحید نے محمد علی جناح کی قیادت میں پختہ عہد کیا کہ ہمیں کوئی وزارتیں اور پیکجز نہیں چاہیں بس لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر ایک آزاد وطن چاہیے جہاں اسلام آزاد ہو اسلام پر کاربند ہونا آزاد ہو.

    اس دن شیر بنگال کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کو ان کی منزل دکھا دی اور پھر سات سال کے مختصر عرصے میں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی اس منزل کو پاکستان کی صورت پالیا. یہ منزل کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی بلکہ آگ و خون کے دریا تھے جن کو عبور کرنا پڑا تھا ، قربانیوں کی داستان اسماعیل و ابراہیم تھی.
    پچاس لاکھ مسلمانوں نے فقط لاالہ الا اللہ کی آزاد سرزمین پر ایک سجدے کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور چل نکلے تھے مگر ہجرتوں کے یہ سفر بھی آسان نہ تھے. سولہ لاکھ مسلمانوں کو اس وطن عزیز کے لیے قربان ہونا پڑا تھا ، پاکباز ماؤں اور بیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں تھیں اور پھر لٹے پٹے قافلے پاکستان کی سرحد پر پہنچتے تو سبز ہلالی کے سائے تلے سجدہ ریز ہوجاتے.
    آج کا دن کوئی معمولی دن نہیں ہے بلکہ اس دن کو یوم پاکستان کہا جاتا ہے یہ دن ہے ان یادوں کا، ان عہد و پیمان کا، ان قربانیوں اور ان کاوشوں کا دن ہے کہ جو اسلام کی ایک آزاد اور مضبوط ریاست کے قیام کا باعث بنیں. لیکن آج صورتحال بہت ہی نازک ہے، دنیا بھر میں پھیلنے والی وباء کرونا وائرس سے وطن عزیز پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ پایا فقط چند دنوں کے اندر نقشہ بدل چکا ہے اس دن کے تحت ہونے والی سبھی تقریبات حتیٰ کہ افواج پاکستان کی پریڈ تک منسوخ ہوچکی ہے اور ریاست کے سربراہان مجبور ہوکر ملک بھر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن لگانے کی سوچ بچار کر رہے ہیں.

    وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں پچیس فیصد لوگ یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہوں وہ مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا مگر ہم اٹلی اور ایران بھی نہیں بننا چاہتے کہ کرونا کی وجہ سے لاشیں ہر طرف بکھری پڑی ہوں اور کوئی اٹھانے والا بھی نہ اس لیے پاکستان کہ ہر شہری کو قوم کا کردار ادا کرنا پڑے گا ان جذبوں کا زندہ کرنا پڑے گا کہ جو قیام پاکستان کے وقت تھے. اس وقت گھر سے نکلنے کا حکم تھا تو آج گھروں میں رہنے کا حکم ہے. اس وقت اس حکم پر عمل کیا تھا اور سر دھڑ کی بازی لگائی تھی تو پاکستان ملا تھا آج اگر گھر میں رہنے کے حکم پر عمل کرتے ہیں تو پاکستان کو بچا پائیں گے.
    اپنے گھر میں رہیے، ریاست کو مجبور مت کیجیئے کہ ان کو ملک مکمل طور پر بند کرنا پڑ جائے کہ صورتحال انتہائی حد تک خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور یہ مکمل طور پر عوام الناس اور انتظامیہ کی لاپرواہی کے نتائج ہیں آج یوم پاکستان کا پیغام یہی ہے کہ ایک قوم بنیے نہ کہ ایک ہجوم.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں۔

    محمد عبداللہ