Baaghi TV

Tag: یوم پیدائش

  • ذوالفقار علی بھٹو کا  آج 97 واں یوم پیدائش

    ذوالفقار علی بھٹو کا آج 97 واں یوم پیدائش

    کراچی: بانی پاکستان پیپلزپارٹی ذوالفقار علی بھٹو کا 97 واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا 97 واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے ذوا لفقار علی بھٹو نے 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئےذوالفقار علی بھٹو سال 1971 سے 1973 تک پاکستان کے صدر رہے جبکہ انہیں ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

    ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو متفقہ آئین، عام آدمی کو شناختی کارڈ اور ووٹ کا حق دیا پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا سنگ بنیاد رکھنے اور پاکستان میں پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کرانے کا اعزاز بھی ذوالفقار علی بھٹو کو حاصل ہے۔

    کمرے میں جلتے کوئلوں کی وجہ سے دم گھٹنے سے پانچ بچے جاں بحق

    ذوالفقار علی بھٹو کے یوم پیدائش کی مناسبت سے آج اتوار کو 3 بجے پیپلز سیکرٹیریٹ ماڈل ٹاؤن میں سیمنار اور کیک کاٹنے کی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے، ملک کے دیگر شہروں میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی جس میں قائد عوام کو ملک کو ایٹمی طاقت بنانے پر خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

    کمرے میں جلتے کوئلوں کی وجہ سے دم گھٹنے سے پانچ بچے جاں بحق

  • بانی پاکستان کا یوم پیدائش آج ملی جوش و جذبے سے منایا جائے گا

    بانی پاکستان کا یوم پیدائش آج ملی جوش و جذبے سے منایا جائے گا

    بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم پیدائش آج ملک بھر میں عقیدت واحترام سے منایا جائے گا۔ اس حوالے سے کراچی سمیت ملک بھر میں خصوصی تقریبات منعقد ہوں گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بانی پاکستان کے یوم پیدائش کی مناسبت سے ملک بھر میں سیمینار۔کانفرنسز اور دیگر تقریبات ہوں گی، ان تقریبات میں قائد اعظم محمد جناح کو ان کی برصغیر کے مسلمانوں کے لیے آزاد اور خود مختار پاکستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کی گئی جدوجہد پر شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔بانی پاکستان کے یوم پیدائش پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب مزار قائد اعظم پر منعقد ہوگی۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کا چاق وچوبند دستہ مزار قائد پر گارڈز کے فرائض سنبھالے گا جبکہ اس وقت پاک فضائیہ کے جوان مزار قائد پر گارڈز کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔بابائے قوم کے یوم پیدائش کے موقع پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری ۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ ۔صوبائی کابینہ کے ارکان عسکری وسول حکام سمیت اہم شخصیات مزار قائد پر حاضری دیں گی۔پھولوں کی چادر چڑھائی جائیں گی اور فاتحہ خوانی کریں گی۔یہ شخصیات قائد اعظم کی خدمات پر ان کو خراج عقیدت پیش کریں گی۔

    مقبوضہ کشمیر : گاڑی کھائی میں گرنے سے 5 بھارتی فوجی ہلاک

    ڈومیسٹک ٹی 20 کپ میں بہترین کھلاڑیوں کی نشاندہی کر لی گئی

    کوئی طاقت ہمیں پاکستان سے جدا نہیں کر سکتی، وزیر اعظم آزاد کشمیر

    ٹیکس پالیسی اورآپریشنزکے شعبےالگ کرنے کا فیصلہ

  • یوم پیدائش،عنبریں حسیں عنبر،23 جون 1981

    یوم پیدائش،عنبریں حسیں عنبر،23 جون 1981

    قدر یوسف کی زمانے کو بتائی میں نے
    تم تو بیچ آئے اسے مصر کے بازاروں میں

    اردو کی معروف پاکستانی شاعرہ عنبرین انصاری المعروف عنبرین حسیں عنبر 23 جون 1981 میں کراچی میں پیدا ہوئیں وہ اردو کے ممتاز شاعر ا ماہر تعلیم پروفیسر سحر انصاری کی صاحبزادی ہیں۔ عنبرین حسیں عنبر کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر چکی ہیں ۔ ان کے اب تک دو شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں وہ کراچی سمیت ملک بھر کے مشاعروں میں شرکت کرتی رہتی ہیں اور مشاعروں کی مقبول ترین شاعرات کی فہرست میں شامل ہیں۔

    شعری مجموعے

    ۔ (1)دل کے اُفق پر-2012ء
    ۔ (شعری مجموعہ)
    ۔ (2)تم بھی ناں-2020ء
    ۔ (شعری مجموعہ)

    عنبریں حسیں عنبر کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دنیا تو ہم سے ہاتھ ملانے کو آئی تھی
    ہم نے ہی اعتبار دوبارہ نہیں کیا

    فیصلہ بچھڑنے کا کر لیا ہے جب تم نے
    پھر مری تمنا کیا پھر مری اجازت کیوں

    تعلق جو بھی رکھو سوچ لینا
    کہ ہم رشتہ نبھانا جانتے ہیں

    مجھ میں اب میں نہیں رہی باقی
    میں نے چاہا ہے اس قدر تم کو

    اب کے ہم نے بھی دیا ترک تعلق کا جواب
    ہونٹ خاموش رہے آنکھ نے بارش نہیں کی

    تم نے کس کیفیت میں مخاطب کیا
    کیف دیتا رہا لفظ تو دیر تک

    اڑ گئے سارے پرندے موسموں کی چاہ میں
    انتظار ان کا مگر بوڑھے شجر کرتے رہے

    عمر بھر کے سجدوں سے مل نہیں سکی جنت
    خلد سے نکلنے کو اک گناہ کافی ہے

    اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے
    ہر جیت ہے لا حاصل ہر مات ادھوری ہے

    ہم تو سنتے تھے کہ مل جاتے ہیں بچھڑے ہوئے لوگ
    تو جو بچھڑا ہے تو کیا وقت نے گردش نہیں کی

    دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں
    مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو تم بھی ناں

    بن کے ہنسی ہونٹوں پر بھی رہتے ہو
    اشکوں میں بھی تم بہتے ہو تم بھی ناں

    بھول جوتے ہیں مسافر رستہ
    لوگ کہتے ہیں کہانی پھر بھی

    دل جن کو ڈھونڈھتا ہے نہ جانے کہاں گئے
    خواب و خیال سے وہ زمانے کہاں گئے

    محبت اور قربانی میں ہی تعمیر مضمر ہے
    در و دیوار سے بن جائے گھر ایسا نہیں ہوتا

    کیا جانئے کیا سوچ کے افسردہ ہوا دل
    میں نے تو کوئی بات پرانی نہیں لکھی

    زندگی میں کبھی کسی کو بھی
    میں نے چاہا نہیں مگر تم کو

    وہ جنگ جس میں مقابل رہے ضمیر مرا
    مجھے وہ جیت بھی عنبرؔ نہ ہوگی ہار سے کم

    جو تم ہو تو یہ کیسے مان لوں میں
    کہ جو کچھ ہے یہاں بس اک گماں ہے

    کیا خوب تماشہ ہے یہ کار گہ ہستی
    ہر جسم سلامت ہے ہر ذات ادھوری ہے

    عیاں دونوں سے تکمیل جہاں ہے
    زمیں گم ہو تو پھر کیا آسماں ہے

    ترے فراق میں دل کا عجیب عالم ہے
    نہ کچھ خمار سے بڑھ کر نہ کچھ خمار سے کم

    اک حسیں خواب کہ آنکھوں سے نکلتا ہی نہیں
    ایک وحشت ہے کہ تعبیر ہوئی جاتی ہے

    لفظ کی حرمت مقدم ہے دل و جاں سے مجھے
    سچ تعارف ہے مرے ہر شعر ہر تحریر کا

    تشہیر تو مقصود نہیں قصۂ دل کی
    سو تجھ کو لکھا تیری نشانی نہیں لکھی

    اے آسماں کس لیے اس درجہ برہمی
    ہم نے تو تری سمت اشارا نہیں کیا

    مانوس بام و در سے نظر پوچھتی رہی
    ان میں بسے وہ لوگ پرانے کہاں گئے

    پیروی سے ممکن ہے کب رسائی منزل تک
    نقش پا مٹانے کو گرد راہ کافی ہے

    قدر یوسف کی زمانے کو بتائی میں نے
    تم تو بیچ آئے اسے مصر کے بازاروں میں

  • ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش

    ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش

    ٹیپو سلطان شیرِ میسور، سلطان حیدر علی کے سب سے بڑے فرزند، ہندوستان کے اصلاح و حریت پسند حکمران، بین المذاہب ہم آہنگی کی زندۂ جاوید مثال، طغرق (فوجی راکٹ) کے موجد تھے

    ٹیپو سلطان 20 نومبر 1750ء (بمطابق جمعہ 20 ذوالحجہ، 1163 ہجری ) کو دیوانہالی میں پیدا ہوئے۔ موجودہ دور میں یہ بنگلور دیہی ضلع کا مقام ہے جو بنگلور شہر کے 33 کلومیٹر (21 میل) شمال میں واقع ہے۔ ٹیپو سلطان کا نام آرکاٹ کے بزرگ ٹیپو مستان اولیاء کے نام پر ہے۔ اسے اپنے دادا فتح محمد نام کی مناسبت سے فتح علی بھی کہا جاتا تھا۔

    حیدر علی نے ٹیپو سلطان کی تعلیم پر خاص توجہ دی اور فوج اور سیاسی امور میں اسے نوعمری میں ہی شامل کیا۔ 17 سال کی عمر میں ٹیپو سلطان کو اہم سفارتی اور فوجی امور پر آزادانہ اختیار دے دیا۔ اسے اپنے والد حیدر علی جو جنوبی بھارت کے سب سے طاقتور حکمران کے طور پر ابھر کر سامنے آئے کا دایاں ہاتھ سمجھا جاتا تھا

    ‘ٹیپو سلطان کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔ آپ بنگلور، ہندوستان میں 20 نومبر، 1750ء میں حیدر علی کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو بزورِ طاقت روکے رکھا اور کئی بار انگریز افواج کو شکست فاش بھی دی

    ٹیپو سلطان کا قول تھا :

    ”شیر کی ایک دن کی زندگی، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے“

    آپ نے برطانوی سا مراج کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت فراہم کی اور برصغیر کے لوگوں کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے سنجیدہ و عملی اقدامات کیے۔ سلطان نے انتہائی دوررس اثرات کی حامل فوجی اصلاحات نافذ کیں، صنعت و تجارت کو فروغ دیا اور انتظامیہ کو ازسرنو منظم کیا۔ سلطان کو اس بات سے اتفاق تھا کہ برصغیر کے لوگوں کا پہلا مسئلہ برطانوی اخراج ہے۔ نظام اور مر ہٹوں نے ٹیپو کی طاقت کو اپنی بقاء کے لیے خطرہ سمجھا اور انگریزوں سے اتحاد کر لیا

    ٹیپو سلطان نے ترکی، ایران، افغانستان اور فرانس سے مدد حاصل کرنے کی کوششیں کیں مگر کامیاب نہ ہو سکے

    ٹیپو سلطان کی زندگی ایک سچے مسلمان کی زندگی تھی۔ وہ مذہبی تعصب سے پاک تھے۔ یہی وجہ تھی کہ غیر مسلم ان کی فوج اور ریاست میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ ٹیپو سلطان نے اپنی مملکت کو مملکت خداداد کا نام دیا۔ حکمران ہونے کے باوجود خود کو عام آدمی سمجھتے تھے۔ با وضو رہنا اور تلاوتِ قرآن آپ کے معمولات میں سے تھے۔ ظاہری نمود و نمائش سے اجتناب برتتے تھے۔ ہر شاہی فرمان کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کیا کرتے تھے۔ زمین پر کھدر بچھا کر سویا کرتے تھے

    ٹیپو سلطان ہفت زبان حکمران کہے جاتے ہیں۔ آپ کو عربی، فارسی، اردو، فرانسیسی، انگریزی سمیت کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ آپ مطالعے کے بہت شوقین تھے اور ذاتی کتب خانے کے مالک تھے جس میں کتابوں کی تعداد کم و بیش 2000 بیان کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ سائنسی علوم میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کو برصغیر میں راکٹ سازی کا موجد کہا جاتا ہے

    ہر جنگ میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ رہنے والے ٹیپو سلطان اپنے زمانے کے تمام فنون سپہ گری سے واقف تھے۔ اپنی افواج کو پیادہ فوج کی بجائے سواروں اور توپ خانے کی شکل میں زیادہ منظّم کیا۔ اسلحہ سازی، فوجی نظم و نسق اور فوجی اصلاحات میں تاریخ ساز کام کیا

    میسور کی آخری جنگ کے دوران جب سرنگاپٹم کی شکست یقینی ہو چکی تھی، ٹیپو سلطان کی فوج کے دو غداروں میر صادق اور پورنیا نے اندورن خانہ انگریزوں سے ساز باز کرلی تھی۔ میر صادق نے انگریزوں کو سرنگاپٹم کے قلعے کا نقشہ فراہم کیا اور پورنیا اپنے دستوں کو تنخواہ دینے کے بہانے پیچھے لے گيا

    ٹیپو نے محاصرہ کرنے والے انگریزوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی اور قلعے کو بند کروا دیا لیکن غدار ساتھیوں نے دشمن کے لیے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور قلعے کے میدان میں زبردست جنگ چھڑ گئی۔ با رُود کے ذخیرے میں آگ لگ جانے کے باعث مزاحمت کمزور ہو گئی اس موقع پر فرانسیسی افسر نے ٹیپو کو چترادرگا بھاگ جانے اور اپنی جان بچانے کا مشورہ دیا مگر ٹیپو راضی نہ ہوئے اور 4 مئی، 1799ء کو میدان جنگ میں دشمنوں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے

    شاعر مشرق علامہ اقبال کو ٹیپو سلطان شہید سے خصوصی محبت تھی۔ 1929ء میں آپ نے شہید سلطان کے مزار پر حاضری دی اور تین گھنٹے بعد باہر نکلے تو شدّت جذبات سے آنکھیں سرخ تھیں۔ انہوں نے فرمایا :

    ”ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کرسکے گی وہ مذہب ملّت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتا رہا یہاں تک کہ اس مقصد کی راہ میں شہید ہو گیا“

    علامہ اقبال نے ضرب کلیم میں سلطان ٹیپو کی وصیت کے عنوان سے مندرجہ ذیل نظم لکھی ہے

    تو رہ نوردِ شوق ہے، منزل نہ کر قبول
    لیلٰی بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول

    اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تند و تیز
    ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول

    کھویا نہ جا صنم کدہ کائنات میں
    محفل گداز گرمی محفل نہ کر قبول

    صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے
    جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول

    باطل دوئی پسند ہے حق لا شریک ہے
    شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول

    سیماب اکبرآبادی نے مندرجہ ذیل نظم کے ذریعے خراج عقیدت پیش کیا ہے

    اے شہید مرد میدان وفا تجھ پر سلام
    تجھ پہ لاکھوں رحمتیں لا انتہا تجھ پر سلام

    ہند کی قسمت ہی میں رسوائی کا سامان تھا
    ورنہ تو ہی عہد آزادی کا ایک عنوان تھا

    اپنے ہاتھوں خود تجھے اہل وطن نے کھو دیا
    آہ کیسا باغباں شام چمن نے کھو دیا

    بت پرستوں پر کِیا ثابت یہ تو نے جنگ میں
    مسلم ہندی قیامت ہے حجازی رنگ میں

    عین بیداری ہے یہ خواب گراں تیرے لیے
    ہے شہادت اک حیات جاوداں تیرے لیے

    تو بدستور اب بھی زندہ ہے حجاب کور میں
    جذب ہو کر رہ گیا ہستی پر شور میں

    تلاش و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا 145 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

    شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا 145 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

    شاعر مشرق اور عظیم مفکر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا 145 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے، مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب ہوئی-

    باغی ٹی وی : پاکستان نیوی کے دستے نے مزار اقبال پر گارڈز کی اعزازی ذمہ داری سنبھال لی ،پاک بحریہ کے اسٹیشن کمانڈر لاہور کموڈور ساجد حسین تقریب کے مہمان خصوصی تھے-

    علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کی اور پھر لاہورآ گئے ان کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا، 1899 میں ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج میں شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے اور اس دوران شاعری بھی جاری رکھی۔

    علامہ اقبال نے 1905 میں برطانیہ چلے گئے جہاں پہلے انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی ٹرنٹی کالج میں داخلہ لیا اور پھر معروف تعلیمی ادارے لنکنزاِن میں وکالت کی تعلیم لینا شروع کردی بعد ازاں بعد وہ جرمنی چلے گئے جہاں میونخ یونیورسٹی سے انھوں نے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی-

    ڈاکٹر محمد اقبال نے 1910 میں وطن واپسی کے بعد وکالت کے ساتھ سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کیا اور اپنی شاعری کے ذریعے فکری اور سیاسی طور پر منتشر مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگایا شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال 20ویں صدی کے معروف مفکر، شاعر، مصنف، قانون دان، سیاست دان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔

    شاعر مشرق نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ یورپ اور انگلستان میں گزارا لیکن انہوں نے انگریزوں کا طرز رہن سہن کبھی نہیں اپنایا، اپنی شاعری میں علامہ اقبال نے زیادہ تر نوجوانوں کو مخاطب کیا، علامہ اقبالؒ کو دورِ جدید کا صوفی بھی سمجھا جاتا ہے۔

    علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلانے کے لیے جداگانہ قومیت کا احساس اُجاگر کیا اور اپنی شاعری سے مسلمانوں کو بیدار کیا اُن کے افکار اور سوچ نے اُمید کا وہ چراغ روشن کیا جس نے نا صرف منزل بلکہ راستے کی بھی نشاندہی کی۔

    علامہ اقبال کا شہرہ آفاق کلام دُنیا کے ہر حصے میں پڑھا اور سمجھا جاتا ہے، انہوں نے ہمیشہ مسلمانوں کو آپس میں اتحاد اور اتفاق کی تلقین کی اور دعوت عمل دی۔

    1934 کو مسلم لیگ کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے رکن بنے تاہم طبیعت نے ان کا ساتھ نہ دیا اور وہ قیام پاکستان سے 9 برس قبل 21 اپریل 1938 کو لاہور میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے آپ کا مزار بادشاہی مسجد کے سائے میں مرجع خلائق ہے۔

    حکومت پاکستان نے کئی سال کے بعد رواں برس مفکر پاکستان کے یوم پیدائش کے موقع پر ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

  • محترمہ فاطمہ جناح کا 129 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

    محترمہ فاطمہ جناح کا 129 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے

    بانی پاکستان کی ہمشیرہ و مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا 129 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کا 129 واں یوم پیدائش آج منایا جا رہا ہےتاہم اس حوالے سےملک بھر میں مختلف سیاسی و سما جی تنظیموں کے زیراہتمام تقاریب کا ناعقاد کیا جا رہا ہے جن میں مادرملت کی زندگی، ملک وملت کیلیے عظیم خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

    مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ 30جولائی 1893 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، محترمہ فاطمہ جناح قائد اعظم محمد علی جناح کے بہن بھائیوں میں ان کے سب سے زیادہ قریب تھیں 1919 میں یونیورسٹی آف کلکتہ سے انہوں نے ڈینٹل سرجن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ممبئی میں باقاعدہ پریکٹس کی ان کی شادی 1918 میں ہوئی تھی۔ لیکن جب 1929 میں ان کے خاوند کا انتقال ہوگیا تو وہ اپنا نجی کلینک بند کرکے بھائی کے گھر منتقل ہوگئیں۔

    بھائی محمد علی جناح کے گھر منتقل ہونے کے بعد انہوں نے قیام پاکستان کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا محترمہ فاطمہ جناح نے بھائی محمدعلی جناح کیساتھ ملکر آزادی تحریک میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ فاطمہ جناح آزاد وطن کے حصول کیلئے پیش پیش رہیں۔

    مادر ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے تحریک پاکستان کے دوران نہ صرف مسلم خواتین کی رہنمائی کی بلکہ قائداعظم محمد علی جناح کی بھرپور اخلاقی مدد کرتے ہوئے نئے وطن کے حصول کے مشن میں‌ عملی طور پر ان کے ساتھ رہیں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ نے برصغیر کی مسلم خواتین کو ایک پلیٹ فارم پرجمع کر کے حصول پاکستان کی منزل کو آسان بنایا۔ قائداعظم کے شانہ بشانہ رہ کر ان کا حوصلہ بڑھاتیں اور سیاسی معاملات میں انھیں قابل عمل مشورے دیتیں۔ ان کی ذات میں بھی وہی اصول اور قائدانہ صلاحیت تھی جو قدرت نے ان کے بھائی کو ودیعت کر رکھی تھی-

    انھوں نے 1965 میں متحدہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے منصب صدارت کیلیے ایوب خان کا مقابلہ کیا لیکن کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکیں، محترمہ فاطمہ جناح 9 جولائی 1967 کو انتقال کر گئیں۔

  • بابائے قوم کا یوم پیدائش:مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب

    بابائے قوم کا یوم پیدائش:مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب

    بانیٔ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ کے یومِ پیدائش کے موقع پر کراچی میں واقع ان کے مزار پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب منعقد ہوئی۔

    باغی ٹی وی :بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش آج عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے، پاکستان کے حصول کیلئے لازوال کردار پر قوم ہمیشہ محمد علی جناح کی احسان مند رہے گی۔

    کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب ہوئی، پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کیڈٹس نے مزار قائد پر سیکیورٹی کے فرائض سنبھال لیے، کمانڈنٹ پاکستان ملٹری اکیڈمی میجر جنرل عمر احمد بخاری تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔

    بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح‌ کا 146واں‌ یومِ پیدائش

    تقریب میں بابائے قوم کو قومی سلام پیش کیا گیا اور قومی ترانہ بھی بجایا گیا مہمانِ خصوصی نے اس موقع پر پریڈ کا معائنہ بھی کیا۔

    تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی کمانڈنٹ پی ایم اے میجر جنرل عمر احمد بخاری نے بانیٔ پاکستان کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کیے۔


    بانیٔ پاکستان کے یومِ پیدائش پر پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام دیا ہے کہ قائدِ اعظم کے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں پر چلنے والے پر امن اور ترقی پسند پاکستان کا وژن بحیثیت قوم ہماری کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

    بانی پاکستان کی ولادت پر مزار کی تزئین و آرائش کا کام جاری

    مزارِ قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب سال میں 3 بار، 14 اگست، 6 ستمبر اور آج یعنی 25 دسمبر کو منعقد کی جاتی ہے، اس تقریب میں نیوی، ایئر فورس اور پی ایم اے کاکول کے کیڈٹس بالترتیب ذمے داریاں سنبھالتے ہیں۔

  • ظہیر عباس آج کونسی سالگرہ منا رہے ہیں؟

    ظہیر عباس آج کونسی سالگرہ منا رہے ہیں؟

    پاکستانی اوپنر ظہیر عباس آج اپنی 72ویں سالگرہ منا رہے ہیں- وہ 24 جولائی 1947 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے-انہوں نے 22 سال کی عمر میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا- انہوں نے 24 اکتوبر 1969 کو نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا- ظہیر عباس نے اپنے دوسرے میچ میں ہی انگلینڈ کے خلاف ڈبل سینچری کر ڈالی،اپنے دوسرے میچ میں انہوں نے 274 رنز بنائے،کسی بھی پاکستانی کا یہ چوتھا بڑا سکور ہے- ظہیر عباس نے اپنے ٹیسٹ کیرئیر میں 4 ڈبل سینچریاں بنائی،جو کسی بھی پاکستانی جاوید میانداد اور یونس خاں کے بعد سب سے زیادہ ہے-انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا آخری میچ 27 اکتوبر 1985 کو سری لنکا کے خلاف کھیلا- ظہیر عباس نے کل 78 ٹیسٹ میچز میں‌پاکستان کی نمائندگی کی جس میں ٕانہوں نے 44.79 کی اوسط سے 12 سینچریوں اور 20 نصف سینچریوں کی بدولت 5062 رنز بنائے- انہوں نے اپنے ون ڈے کیرئیر کا آغاز 31 اگست 1974 کو انگلینڈ کے خلاف کیا،اپنا آخری ون ڈے میچ 3 نومبر 1985 کو سری لنکا کے خلاف کھیلا- ظہیر عباس نے کل 62 ایک روزہ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کی، جس میں انہوں نے 47.62 کی اوسط سے 7 سینچریوں اور 13 نصف سینچریوں کی بدولت 2572 رنز بنائے،ان کے ون ڈے کیرئیر کا بہترین سکور 153 ہے- ظہیر عباس کو رنز مشین بھی کہا جاتا ہے- ظہیر عباس 2015 میں آئی سی سی کے صدر بھی بنے- ظہیر عباس کو ایشین بریڈ مین کا لقب بھی دیا گیا-