Baaghi TV

Tag: یونان کشتی

  • یونان کشتی حادثہ: ایف آئی اے کے 31 افسران اور اہلکاروں کےملوث ہونے کا انکشاف

    یونان کشتی حادثہ: ایف آئی اے کے 31 افسران اور اہلکاروں کےملوث ہونے کا انکشاف

    اسلام آباد: یونان کشتی حادثے میں ایف آئی اے کے 31 افسران اور اہلکاروں کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: ایف آئی اے نے یونان کشتی حادثے کی تحقیقات میں 31 اہلکاروں کو مشتبہ قرار دے دیا ہے مشتبہ ایف آئی اے اہلکاروں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، مشتبہ افسران میں فیصل آباد ائیرپورٹ کے 19 ، سیالکوٹ ائیرپورٹ کے 3 اور لاہور ائیر پورٹ کے 2 افسران شامل ہیں، اسلام اباد ایئرپورٹ کے 2 جبکہ کوئٹہ ایئرپورٹ کے 5 افسران کے نام شامل ہیں تمام 31 افسران یونان کشتی حادثہ میں لوگوں کو بھجوانے میں ملوث رہے ہیں۔

    لاہور: ایئر کلیننگ سسٹم رکھنے والی صنعتوں کی تعداد 96 فیصد ہوچکی،سروے

    ہے اور ان کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ وہ ملک سے باہر نہ جا سکیں، حکومت کی جانب سے ان اہلکاروں کی گرفتاری اور تحقیقات کے عمل کو تیز کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ اس انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔مذکورہ 31 ایف آئی اے اہلکاروں میں انسپیکٹر، سب انسپیکٹر اور کانسٹیبل شامل ہیں، جو مختلف ایئرپورٹس پر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔

    ان میں فیصل آباد ایئرپورٹ کے 19 افسران، سیالکوٹ ایئرپورٹ کے 3 افسران، لاہور ایئرپورٹ کے 2، اسلام آباد ایئرپورٹ کے 2 اور کوئٹہ ایئرپورٹ کے 5 افسران شامل ہیں،ان افسران میں اہم ناموں میں انسپیکٹر زبیر اشرف باجوہ، سب انسپیکٹر شاہد منیر، شمائلہ سلیم، محمد عدنان رشید، محمد رضوان، محمد رحمان بشیر، مجیب رحمان، محمد شہزاد، راشد توقیر، ہارون مسیح اور محمد عمران شامل ہیں۔ ان افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر افراد کو یونان جانے کی اجازت دینے کے بدلے رشوت لی تھی اور ان کی معاونت سے کشتی حادثہ پیش آیا۔

    یونان کشتی حادثہ ایک سنگین سانحہ تھا جس میں کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ اس حادثے کے بعد تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ انسانی اسمگلنگ کے گروہ نے ایف آئی اے کے اہلکاروں کی معاونت سے غیر قانونی طور پر لوگوں کو بیرون ملک روانہ کیا اس نوعیت کے جرم میں ملوث ہونے کے باعث ایف آئی اے اہلکاروں کو سخت سزائیں دینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ اس قسم کے جرائم کا خاتمہ ہو سکے۔

    حکومت نے ایف آئی اے کے ان اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرنے کا عہد کیا ہے اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی حکام کا کہنا ہے کہ اس انسانی اسمگلنگ کی کارروائیوں کے ذمہ داروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    دوسری جانب یونان کشتی حادثہ میں ایک اور پاکستانی کی لاش ساحل سمندر کے قریب سے برآمد ہوئی ہے، جاں بحق ہونے والے پاکستانی کی شناخت علی حسن کے نام سے ہوئی ہے جس کا تعلق ضلع گجرات سے ہے،علی حسن کی لاش سوموار کو ایتھنز منتقل کی جائے گی، یونان کشتی حادثے میں اب تک 7 پاکستانی شہریوں کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔

    جعلسازی سے شناختی کارڈ حاصل کرنے والی 3 بنگالی خواتین گرفتار

    واضح رہے کہ ایف آئی اے گوجرانوالہ نے کارروائی کرتے ہوئے یونان اور لیبیا کشتی حادثے میں ملوث خاتون سمیت 2 انسانی سمگلروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

  • بیرون ممالک سے انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلانے والوں کیخلاف کارروائی کا آغاز

    بیرون ممالک سے انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلانے والوں کیخلاف کارروائی کا آغاز

    ایف آئی اے نے بیرون ممالک سے انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلانے والوں کیخلاف بھی کارروائی کا آغاز کردیا

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل نارتھ ریجن نے یونان کشتی حادثے کے بعد سے اب تک 69 انسانی اسمگلرز گرفتار کر لیے یونان کشتی حادثے میں ملوث انسانی اسمگلروں کیخلاف اب تک 184 مقدمات درج کیے گئے، مقدمات ایف آئی اے اسلام آباد، فیصل آباد اور لاہور زون میں درج ہے۔گجرات 115، گوجرانوالہ 47، لاہور 11، فیصل آباد 8 اور اسلام آباد زون میں 3 مقدمات درج کئے گئے، اب تک 223 لاپتہ نوجوانوں کے خاندانوں کے ڈی این اے سیمپلز حاصل کر لئے گئے، انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصرکو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا،

     یونان کشتی حادثے میں 3 انکوائریاں اور 6 مقدمات درج

    کشتی حادثہ،میتوں کو جلد از جلد پاکستان لانے کے فوری انتظامات کئے جائیں ،نواز شریف

    کشتی حادثہ پر مریم نواز کا ردعمل

    کشتی ڈوبنے کے حادثے پرنسل پرستانہ تبصرہ،یونانی رکن پارلیمنٹ کی پارٹی رکنیت معطل

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث گینگ کے خلاف کریک ڈاؤن

    لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار 

    حادثے کے مرکزی ملزم ممتاز آرائیں کو وہاڑی سے گرفتار کیا گیا

    گجرات کا ایک جیولر بھی اس گروپ کے ساتھ کام کرتا ہے
    ایف آئی اے نے انسانی سمگلروں کوگرفتار کیا تو انہوں نے دوران تحقیقات اہم انکشافات کئے، ایک ایجنٹ کے مطابق لیبیا میں مقیم پاکستانی اپنے تین بھائیوں کے ساتھ مل کر نیٹ ورک چلا رہا تھا،اس کام کے لئے ایک بھائی پاکستان میں بیرون ملک جانے کے خواہشمند تلاش کرتا ہے اور ان سے پیسے لیتا ہے، دو بھائی لیبیا سے آگے لوگوں کو بھیجنے میں معاونت کرتے ہیں ،پنجاب کے شہر گجرات کا ایک جیولر بھی اس گروپ کے ساتھ کام کرتا ہے،انسانی سمگلروں کے اس گروپ کے ایجنٹ گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، کوٹلی اوردیگر شہروں میں موجود ہیں یونان کشتی حادثے میں متاثرہ تمام افراد بھی اسی گروہ کے ذریعے یورپ جارہے تھے ، گروہ دو برسوں میں تین ہزار سے زائد افراد کو پاکستان سے یورپ تک لے جا چکا ہے

     

  • یونان کی انتظامیہ نے لوگوں کے ڈوبنے کے باوجود غفلت برتی، خواجہ آصف

    یونان کی انتظامیہ نے لوگوں کے ڈوبنے کے باوجود غفلت برتی، خواجہ آصف

    قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کشتی حادثے میں کئی معصوم شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ 70 کی دہائی سے شروع ہوا، جب ہمارے لوگوں نے روزگار کے لئے بیرون ملک جانا شروع ہوا۔ کسی حد تک اس کاروبار کو ریگولرائز کرنے کی کوشش کی گئی۔ بعد ازاں یہ غیر قانونی کاروبار کی شکل اختیار کر گیا جن اداروں کے مفادات اس کاروبار کے ساتھ وابستہ ہیں وہ بھی اس جرم میں ملوث ہیں۔ یونان کی انتظامیہ نے لوگوں کے ڈوبنے کے باوجود غفلت برتی۔ یونانی شہریوں نے اپنی انتظامیہ کی غفلت پر احتجاج کیا۔ ہماری مدت ختم ہونے سے قبل اس کاروبار کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جانا چاہئیے۔ اگر ہماری معیشت درست ہوتی تو لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوتے۔

    جرائم کی بیخ کنی ہوسکتی ہے یہ کون لوگ کررہے ہیں؟ مولانا عبدالاکبر چترالی
    مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ سوچنا چاہیئے یہ لوگ ملک چھوڑ کر اس طریقے سے کیوں جاتے ہیں اس ملک میں 25 ایجنسیاں کام کرتی ہیں جرائم کی بیخ کنی ہوسکتی ہے یہ کون لوگ کررہے ہیں کہاں پہ کررہے ہیں ایجنسیوں کو سب پتہ ہے ہم نے یہاں ہر بات کی اور پھر ان کی گرفتاری ہوئی اس کا مطلب ہے ان کو پتہ ہے اگر ان لوگوں کو سخت سزا دی جائے تو وہ باقی لوگوں کے نام بھی لیں گے

    حکومت کو بڑی ہی سختی کے ساتھ ان لوگوں کا محاسبہ کرنا چاہئے ،اسپیکر قومی اسمبلی
    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے یونان میں کشتی کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد اور انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ کشتی ڈوبنےکا جو خوفناک حادثہ ہوا ہے اس سے پورا ملک رنجیدہ ہے اور افسوس میں ڈوبا ہوا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کو بڑی ہی سختی کے ساتھ ان لوگوں کا محاسبہ کرنا چاہئے جو معصوم لوگوں کو روزگار کا جھانسہ دے کے ایسے حالات سے دوچار کرتے ہیں، میری تمام ممبران سے گزارش ہوگی کہ آپ اپنے اپنے حلقے کے لوگوں کو ایجوکیٹ کریں کہ اس طرح کے لوگوں کے ہتھے چڑھنے سے بچیں کیونکہ اس سے پاکستانیوں کا تواتر سے بہت نقصان ہو چکا ہے، حکومت کو خاص طور پر جو لوگ اس مکروہ کاروبار میں شامل ہیں ان کے خلاف سخت سے سخت ایکشن ہونا چاہئے اور ان کو قرار واقعی سزا ضرور ملنی چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔

    قومی اسمبلی اجلاس کے آغاز میں یونان میں کشتی الٹنے کے واقع میں جاں بحق افراد، سابق ممبر قومی اسمبلی شیر محمد بلوچ، موٹروے کلر کہار بس حادثے میں جاں بحق افراد اور ملک بھر میں مختلف حادثات میں وفات پاجانے والے افراد کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی گئی۔

    کشتی حادثہ پر مریم نواز کا ردعمل

    کشتی ڈوبنے کے حادثے پرنسل پرستانہ تبصرہ،یونانی رکن پارلیمنٹ کی پارٹی رکنیت معطل

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث گینگ کے خلاف کریک ڈاؤن

    لیبیا کشتی حادثہ میں ملوث انسانی سمگلر کو گرفتار 

    انسانی اسمگلرز کے خلاف کارروائیاں انتہائی اہمیت اختیار کر گئی
    میڈیا رپورٹس کے مطابق کشتی میں پاکستان، افغانستا، مصر، شام اور فلسطین کے شہری سوار تھے،اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کا کہنا ہے کہ یونان میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے کے بعد 500 سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں اس واقعے کے بعد انسانی اسمگلرز کے خلاف کارروائیاں انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہیں ،یونان کے نگران وزیر اعظم لونیس سارماس نے کشتی ڈوبنے کے حوالے سے حقائق اور تکنیکی پہلوؤں کو جاننے کیلئے تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ جلد ہی واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کر لیا جائے گا