Baaghi TV

Tag: یوکرائن

  • یوکرائن کا مشرقی شہرچوہویو پردوبارہ قبضے اور دو روسی کمانڈوز کو مارنے کا دعویٰ

    یوکرائن کا مشرقی شہرچوہویو پردوبارہ قبضے اور دو روسی کمانڈوز کو مارنے کا دعویٰ

    کیف: یوکرائن کے دفاعی حکام نے اعلان کیا ہے کہ یوکرائنی افواج نے مشرقی یوکرائن کے قصبے چوہویو پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "ڈیلی میل” کے مطابق یوکرائن کے جنرل اسٹاف نے کہا کہ دفاعی فورسز نے شہر کو روسیوں سے چھین لیا ہے اور پیوٹن کی فوج اور جنگی آلات کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

    یوکرائنی حکام نے دعویٰ کیا کہ اس لڑائی میں دو اعلیٰ ترین روسی کمانڈربھی ہلاک ہوئے ہیں-

    روس یوکرین جنگ نے تیل مزید مہنگا کر دیا

    چوہویو 31,000 افراد پر مشتمل اسٹریٹجک شہر خارکیو سے 23 میل کے فاصلے پر واقع ہے، جو یوکرین کا دوسرا بڑا شہر ہے جسے شدید بمباری کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    جنرل اسٹاف نے فیس بک پر کہا: ‘جھڑپ کے دوران، چوہویو شہر کو آزاد کرالیا گیا قابض فوج کے اہلکاروں اور آلات کا بھاری نقصان پہنچا۔

    ‘روسی مسلح افواج کی 61 ویں علیحدہ میرین بریگیڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل دمتری سفرونوف اور روسی مسلح افواج کی 11ویں علیحدہ ایئر بورن اسالٹ بریگیڈ کے ڈپٹی کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل ڈینس گلیبوف ہلاک ہو گئے۔’

    اس شہر کو جنگ کے آغاز سے ہی شدید گولہ باری کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور یہ ایک فضائی حملے کا مقام تھا جس میں 52 سالہ خاتون شدید زخمی ہوئی تھی-

    شدید بمباری کے باوجود، یوکرین اب روس کو روکنے اور شہر پر دوبارہ قبضہ کرنے کے لیے جوابی حملے کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

    نیوزی لینڈ کا روس کے خلاف پابندیوں کا اعلان،کیف کے قریب ائیرپورٹ بھی مکمل تباہ

    یہ اس وقت ہوا جب آج صبح ولادیمیر پوتن کے حملے کے بارہویں دن میں داخل ہونے کے ساتھ ہی شہروں کو دوبارہ بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔

    یوکرائنی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ‘خدا معاف نہیں کرے گا’ اور یوکرین روسیوں کے ہاتھوں شہریوں کے قتل عام کو نہیں ‘بھولے گا’، یہ کہتے ہوئے کہ ان کے لیے ‘قیامت کا دن’ آنے والا ہے۔

    زیلنسکی نے ‘معافی اتوار’ کے آرتھوڈوکس عیسائی تعطیل کے موقع پر اپنے ہم وطنوں سے رات گئے خطاب میں، کہا کہ کس طرح چار افراد پر مشتمل ایک کنبہ ان آٹھ شہریوں میں شامل تھا جو روسی مارٹر گولوں سے مارے گئے تھے جب کہ کیف کے قریب – ارپن شہر سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔

    انہوں نے خطاب کے دوران کہا یہ سب ‘ہم معاف نہیں کریں گے۔ ہم نہیں بھولیں گے انہوں نے مزید کہا۔ ‘خدا معاف نہیں کرے گا۔ آج نہیں. کل نہیں۔ کبھی نہیں۔’

    روس، یوکرین میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے:امریکہ

    انہوں نے اس وقت بات کی جب روس نے دعویٰ کیا کہ وہ ماریوپول، خارخیو، سومی اور کیف سمیت گھیرے ہوئے شہروں سے باہر ‘انسانی ہمدردی کی راہداری’ کھول رہا ہے جو آج برطانیہ کے وقت کے مطابق صبح 7 بجے شروع ہو رہا ہے تاکہ عام شہریوں کو انخلا کی اجازت دی جا سکے – حالانکہ کچھ لوگ توقع کرتے ہیں کہ پوٹن کے آدمی عارضی جنگ بندی کی پابندی کریں گے۔ ہفتے کے آخر میں اسی طرح کے دو کوریڈور ناکام ہو گئے۔

    شہریوں کی ہلاکتوں کی صحیح تعداد واضح نہیں ہے، حالانکہ یوکرین کے اندازے کے مطابق یہ ہزاروں میں ہے کیونکہ بڑے شہروں کے رہائشی علاقوں پر تھرموبارک اور کلسٹر گولہ بارود کا استعمال کرتے ہوئے اندھا دھند بمباری کی جاتی ہے جس کے شواہد کے درمیان ‘ہٹ اسکواڈز’ شہری گاڑیوں کو نشانہ بناتے ہیں اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ 1.5 ملین لوگ لڑائی سے فرار ہو چکے ہیں۔

    66 ہزاریوکرینی مرد روس سے لڑنے کیلئے بیرون ملک سے وطن واپس لوٹ آئے

    یہاں تک کہ جب روس نے پیر کی صبح سے جنگ بندی کا اعلان کیا اور کئی علاقوں میں انسانی ہمدردی کی راہداری کھول دی، اس کی مسلح افواج نے یوکرین کے شہروں کو نشانہ بنانا جاری رکھا، متعدد راکٹ لانچروں نے رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔

    محدود جنگ بندی کا اعلان ایک دن کے بعد سامنے آیا ہے جب یوکرین کے مرکز، شمال اور جنوب میں شہروں پر روسی گولہ باری سے لاکھوں یوکرائنی شہری حفاظتی پناہ کی طرف بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دونوں اطراف کے حکام نے پیر کو بات چیت کے تیسرے دور کا منصوبہ بنایا۔

    یوکرین کے جنرل اسٹاف نے پیر کی صبح کہا کہ روسی افواج نے اپنی جارحیت جاری رکھتے ہوئے، دارالحکومت کیف سے 480 کلومیٹر جنوب میں میکولائیو شہر پر فائرنگ کی۔ امدادی کارکنوں نے بتایا کہ وہ راکٹ حملوں کی وجہ سے رہائشی علاقوں میں لگنے والی آگ پر قابو پا رہے ہیں۔

    کیف کے مضافاتی علاقوں بشمول ارپین میں بھی گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے جہاں تین دن سے بجلی، پانی اور حرارتی نظام منقطع ہے۔

    اسرائیلی فورسزکی فائرنگ سے فلسطینی نوجوان شہید

    جنرل اسٹاف نے کہا کہ ‘روس یوکرین کے شہروں اور بستیوں پر راکٹ، بم اور توپ خانے سے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔’ ‘حملہ آور یوکرین پر فضائی حملے کرنے کے لیے بیلاروس کے ایئر فیلڈ نیٹ ورک کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔’

    جنرل اسٹاف کے مطابق، روسی انسانی ہمدردی کی راہداریوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں، خواتین اور بچوں کو یرغمال بنا رہے ہیں اور شہروں کے رہائشی علاقوں میں ہتھیار رکھ رہے ہیں۔

    ایک روسی ٹاسک فورس نے کہا کہ جنگ کے 12 ویں دن پیر کی صبح جنگ بندی شروع ہو جائے گی، کییف، جنوبی بندرگاہی شہر ماریوپول، یوکرین کے دوسرے بڑے شہر خارکیو اور سومی کے شہریوں کے لیے۔ یہ فوری طور پر واضح نہیں تھا کہ آیا ٹاسک فورس کے بیان میں جن علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے اس سے آگے لڑائی رکے گی یا جنگ بندی کب ختم ہوگی۔

    فیصلے میں غلط ہوسکتا ہوں، ٹونی بلیئر

    یہ اعلان ماریوپول سے شہریوں کو نکالنے کی دو ناکام کوششوں کے بعد کیا گیا ہے، جہاں سے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے اندازے کے مطابق 200,000 لوگ بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    روس اور یوکرین نے ناکامی کا الزام لگایا ہے روسی ٹاسک فورس نے کہا کہ پیر کی جنگ بندی اور راہداری کھولنے کا اعلان فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی درخواست پر کیا گیا، جنہوں نے اتوار کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بات کی۔

    روس کی آر آئی اے نووستی خبر رساں ایجنسی نے وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے انخلاء کے راستوں کو شائع کیا ہے کہ عام شہری روس اور بیلاروس کو روانہ ہو سکیں گے۔ ٹاسک فورس نے کہا کہ روسی افواج ڈرون کے ساتھ جنگ ​​بندی کا مشاہدہ کریں گی۔

    پیوٹن نے کہا کہ ماسکو کے حملے صرف اس صورت میں روکے جا سکتے ہیں جب کیف دشمنی بند کر دے جیسا کہ اس نے اکثر کیا ہے، پیوٹن نے یوکرین کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا، اتوار کے روز ترک صدر رجب طیب اردون سے کہا کہ کیف کو تمام دشمنیوں کو روکنے اور ‘روس کے معروف مطالبات’ کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔

    یوکرین کی طرح مسلمان ممالک پر حملوں کی مذمت کیوں نہیں کی جاتی؟ بیلا حدید کا دنیا…

  • روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

    روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیرے میں لے لیا:جنگ کے امکانات بڑھ گئے:امریکی میڈیا

    واشنگٹن :روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیر لیا ہے۔سی این این کے مطابق حالیہ ہفتوں میں یوکرین کی سرحد کے قریب روس ایک لاکھ سے زائد فوجیوں کو اکٹھا کرچکا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس نے یوکرین کو 3 سمتوں سے گھیر لیا ہے، روس یوکرین سرحد کے علاوہ یوکرین سے الگ ہونے والے علاقے کریمیا میں بھی روس کی افواج موجود ہیں جبکہ روس کا اتحادی ملک بیلاروس بھی روس کا لانچنگ پیڈ ہوسکتا ہے۔

    اُدھر پیسیفک جزائر کے قریب امریکی آبدوز کی جانب سے روسی سمندری حدود کی خلاف ورزی پر روس نے امریکی فوجی اتاشی کو طلب کرلیا ہے۔بگڑتے حالات کے باعث سوئیڈن اور اردن نے بھی اپنے شہریوں کو یوکرین چھوڑنے کی ہدایت کردی جبکہ ہالینڈ کی ائیر لائن نے یوکرین کیلئے اپنی پروازیں روک دی ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز روس یوکرین کشیدگی کے معاملے پر امریکی صدر جو بائیڈن نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر بائیڈن نے پیوٹن سے کہا ہے کہ روس نے یوکرین میں دراندازی کی تو اسے فیصلہ کُن ردعمل کا سامناہوگا، روسی جارحیت سے بڑے پیمانے پر مشکلات ہوں گی، روس کا مؤقف کمزورپڑجائےگا۔

  • یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:امریکا

    یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:امریکا

    واشنگٹن: یوکرائن پر حملہ کرنے پر روس کوایسی سزا دیں گے کہ نسلیں یاد رکھیں گی:اطلاعات کے مطابق امریکا نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو ایسی پابندیاں عائد کریں گے جس سے وہ مکمل طور پر اپاہج ہوجائے گا۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرائن کے معاملے پر سخت حریفوں امریکا اور روس کے صدور نے ٹیلی فونک گفتگو کی تاہم دونوں رہنماؤں کے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پانے کے باعث خطے میں تناؤ اور کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

    جوبائیڈن اور پوٹن ٹیلی فونک گفتگو کی ناکامی کے بعد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے فجی کے قائم مقام وزیر اعظم ایاز سید خیوم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں روس کو خبردار کیا کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو امریکا اس پر ’اپاہج‘ کردینے والی پابندیاں عائد کر دے گا۔

    چند روز قبل فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے بھی روس اور یوکرائن کا دورہ کیا تھا لیکن یہ دورہ بھی کسی مثبت پیشرفت کے بغیر ہی ختم ہوگیا تھا۔ جرمنی کے چانسلر نے بھی اس حوالے سے وائٹ ہاؤس میں صدر جوبائیڈن سے ملاقات کی تھی۔

    قبل ازیں ممکنہ روسی حملے کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے یوکرائن سے اپنے سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو واپس بلالیا تھا اور اب صرف ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے نہایت مختصر اور ضروری عملہ ہی موجود ہے۔

    ہر گزرتے لمحے کے ساتھ وائٹ ہاؤس کا اصرار بڑھتا جا رہا ہے کہ روس کی یوکرائن پر جارحیت کی صورت میں سخت پابندیاں عائد کردی جائیں گی جن میں ممکنہ طور پر ایل این جی کی فروخت بھی شامل ہے۔

    روس یورپی ممالک کو ایل این جی فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور پابندی کی صورت میں مغربی ممالک میں توانائی کا بحران پیدا ہوجائے گا جس کے لیے امریکا نے قطر سے مدد مانگ لی ہے۔

    ادھر روس نے بھی ممکنہ پابندی کی صورت میں ہونے والے مالی نقصان سے بچنے کے لیے چین کا دورہ کیا اور چینی صدر کے ساتھ اربوں ڈالر کے ایل این کی فروخت کا معاہدہ کیا تھا۔

  • روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے

    ماسکو:روس کا گرد گھیرا تنگ:روسی وزیر خارجہ احتجاجا مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے،اطلاعات ہیں کہ یوکرین کے معاملے پرروس کوتنقید کا نشانہ بنانے پرروسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی ہم منصب کے ساتھ کی جانے والی پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔یہ منظراس قدر اہمیت اختیار کرگیا کہ دنیا بھر میں اس حوالے سے چہ میگوئیاں جاری ہیں‌

    برطانوی میڈیا کے مطابق یوکرین کے مسئلے پربرطانوی تنقید سے ناراض روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کے ساتھ کی جانے والی مشترکہ پریس کانفرنس چھوڑ کرچلے گئے۔ کچھ منٹوں کے بعد برطانوی وزیرخارجہ بھی کانفرنس ہال سے چلی گئی۔برطانوی اور امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں برطانیہ کی وزیرخارجہ، دولت مشترکہ اورترقیاتی امورکی وزیرلزٹریس یوکرین کے مسئلے پرمذاکرات کے لئے ماسکو پہنچی تھیں۔

    برطانوی وزیرخارجہ لز ٹریس کا کہنا تھا کہ انہوں نے روس کوآگاہ کیا ہے کہ یوکرین کے معاملے پراسے پڑوسی کی سرحد عبور کرنے سے باز رہنا اورسرد جنگ جیسے رویے سے گریز کرنا ہوگا۔انہوں نے ماسکو کو خبردارکیا کہ وہ یوکرین کے مسئلے پردنیا کوبیوقوف بنانے کی کوششیں نہ کرے۔روسی وزیرخارجہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیرکے ساتھ ملاقات ایسی رہی جیسے کسی گونگے اوربہرے سے ملاقات کی جائے۔

    سرگئی لاروف کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ ایک برطانوی عہدیدارنے ماسکو کا دورہ ایسے کیا جیسے برطانوی سامراج میں حکام اپنے مفتوحہ علاقوں کا دورہ کرتے تھے۔سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ مغربی طاقتیں روس کویوکرین سے متعلق ڈرانے اوردھمکیاں دینے سے باز رہیں۔

    دوسری طرف امریکہ اور نیٹو اتحادی اس وقت یوکرائن کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں اور بھر پور فوجی امداد دے رہے ہیں ،کہا جارہا ہے کہ ان اقدامات سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ ار اتحادی اس صورت حال میں ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں‌گے جنگ سے بچنے کے لیے روس کو ہی حکمت عملی کے تحت واپس جانا پڑے گا یا پھرٹکراو کے لیے تیار رہنا ہوگا

  • روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی، امریکی حکام

    ماسکو:روس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی،اطلاعات کے مطابق امریکا نے کہا ہے کہ روس یوکرین پر آئندہ چند ہفتوں میں حملہ کرسکتا ہے جس کے لیے اس نے 70 فیصد تک تیاری مکمل کرلی ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی حکام نے انہیں بتایا کہ یوکرین تنازع پر روس حملہ کرنے کے لیے تیار ہے، وہ جنگی تیاریوں کے لیے فروری کے وسط تک مزید بھاری ہتھیار اور سامان یوکرین کی سرحد تک منتقل کرسکتا ہے۔

    اس حوالے سے دو امریکی حکام نے عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ 15 فروری سے مارچ کے اختتام تک کا موسم روس کو بھاری جنگی سازو سامان سرحدوں تک منتقلی کے لیے پیک ٹائم ہوگا۔
    امریکی حکام نے اپنے الزامات کے حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے اور کہا کہ یہ معلومات خفیہ اطلاعات کے سبب حاصل ہوئی ہیں، معاملہ حساس ہونے کے سبب وہ امریکی میڈیا کو اس ضمن میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کرسکتے۔

    واضح رہے کہ روس نے یوکرین کی سرحد کے نزدیک ایک لاکھ فوجی اہلکار تعینات کررکھے ہیں تاہم روس نے یوکرین پر حملے کے خدشے کو مسترد کردیا ہے۔

    ادھر امریکا نے بھی اس جنگ میں کودنے کا فیصلہ کرلیا ہے،یوکرائن تنازع کے چلتے امریکی فوجی کمک کا پہلا دستہ پولینڈ پہنچ گیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ مزید دستے بھی جلد بھیجے جائیں گے۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مغربی اتحادی ممالک کی مدد کے لیے مشرقی یورپ میں مزید امریکی فوجی روانہ کریں گے۔

    وا ضح رہے، امریکی صدر جو بائیڈن نے اسی ہفتے اعلان کیا تھا کہ وہ مشرقی یورپ کے لیے فوجی روانہ کریں گے۔ مغربی ممالک کو یقین ہے کہ روس یوکرائن پر ایک نیا حملہ کرنے والا ہے۔

    دریں اثناء پولش آرمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکی فوجیوں پر مشتمل پہلا دستہ ہفتے کے دن وارسا پہنچ گیا ہے۔

    یہ امریکی فوجی مشرقی یورپ میں پہلے سے ہی تعینات مغربی عسکری دفاعی اتحاد نیٹو کے فوجیوں میں شامل ہو جائیں گے ۔ جب کہ مزید سترہ سو امریکی فوجی جلد ہی پولینڈ روانہ رہے ہیں۔

    مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ان فوجیوں کی رہائش کا انتظام جاسیوانکا میں کیا گیا ہے، جہاں عارضی شیلٹر ہاؤسز بنائے گئے ہیں۔ علاقے کو رکاوٹیں لگا کر عام شہریوں کی آمدورفت کے لیے بھی بند کر دیا گیا ہے۔

    یاد رہے، پولینڈ میں پہلے سے تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد تقریبا ساڑھے چار ہزار بنتی ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے مطابق مشرقی یورپ میں نیٹو اتحادی ممالک کی عسکری مدد کے لیے مزید تین ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک دستہ روانہ کیا جائے گے۔

    امریکی اور اس کے مغربی اتحادی ممالک کا دعویٰ ہے کہ روس نے یوکرائن کی سرحد پر ایک لاکھ کے لگ بھگ فوجی تعینات کر رکھے ہیں او وہ یوکرائن میں فوجی کارروائی کا منصوبہ رکھتا ہے۔

    تاہم ماسکو حکومت مسلسل ان الزامات کو مسترد کر رہی ہے۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے مفادات پر سمجھوتا بھی نہیں کرے گا۔ روسی صدر نے اسی ہفتے کہا کہ مغربی ممالک کے اقدامات ان کو جنگ پر مجبور کررہے ہیں۔

    یوکرائنی صدر وولودومیر زیلنسکی نے حال ہی میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ مغربی ممالک روسی حملے کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جو غلط ہے۔ اسی طرح ترک صدر رجب طیب ایردوان نے بھی اپنے دورہ یوکرائن کے بعد اسی ہفتے کہا تھا کہ یوکرائن پر روسی حملوں کے خطرات کے امریکی تجزیوںکے باعث تناؤمیں شدت آرہی ہے۔

    ترک صدر کا مزید کہنا تھا کہ مغربی ممالک نے یوکرائنی بحران کو زیادہ سنگین بنایا ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن اس تناظر میں مناسب ردعمل ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

  • امریکی صدر نے27 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا

    امریکی صدر نے27 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیا

    واشنگٹن : امریکی صدر نے27 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیدیاا،طلاعات کے مطابق روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ اب میدان جنگ کو گرم کرنے کی طرف رواں دواں ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ روس اور یوکرین کے مابین میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا کے صدر جوبائیڈن نے روس کے 27 سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔

    بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن سے یہ حکم جاری ہونے کے علاوہ بائیڈن انتظامیہ نے یوکرین کو نیٹو (NATO) میں شامل نہ کرنے کی روسی مطالبہ بھی مسترد کردیا ہے۔جوبائیڈن نے یوکرین پر حملے کی صورتحال میں روس کو سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ بھی دی ہے۔

    بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا، تو وہ روس کی 85 ہزار کروڑ روپے کی ’نیرڈ اسٹریم 2‘ گیس پائپ لائن کو بند کر دیں گے۔ روسی پائپ لائن سے یوروپ کو قدرتی گیس سپلائی کرنے کا منصوبہ ہے۔خاص بات یہ ہے کہ اب تک نیٹو سے الگ ہونے کی قیاس آرائیوں کا سامنا کرنے والے جرمنی نے بھی امریکہ کا ساتھ دیا ہے۔ دوسری جانب روس اور یوکرین نے دونوں ممالک کی سرحد پر جنگ بندی کے لئے پیرس مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

    واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان تنازع کافی عرصے سے جاری ہے۔ یوکرین 24 اگست 1991 کو سوویت یونین سے الگ ہو گیا تھا۔ سوویت یونین سے علیحدگی کے بعد یوکرین کو مغربی ممالک کی حمایت حاصل تھی۔ نیٹو کا قیام 1949 میں ہوا تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ اس کے آس پاس کے ممالک سوویت یونین سے اپنا دفاع کر سکیں۔

    2014 میں یوکرین میں جو حکومت تھی، وہ کافی حد تک روس نواز تھی۔ اسی وجہ سے یوکرین نے نیٹو( NATO )میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ تاہم نیٹو میں دوبارہ شمولیت کی تحریک تیز ہو گئی ہے۔ یوکرین دو حصوں مغربی یوکرین اور مشرقی یوکرین پر مشتمل ہے۔ مشرقی یوکرین میں روس کے حامیوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

  • یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس     :    :خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ

    یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس : :خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ

    ماسکو:یوکرین امریکہ اور نیٹو کے ہاتھ کا کھلونا بن گیا:روس::خطے میں جنگ ہوئی تو روس ذمہ دارہوگا،امریکہ ،اطلاعات کے مطابق ایک بارپھر چند گھنٹوں کی خاموشی کےبعد روس اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی شروع ہوگئی ہے، اس حوالے سے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ یوکرین کو روس پر جغرافیائی و سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ ایک حقیقت ہے کہ یوکرین نیٹو اور امریکہ کے ہاتھ میں کھلونا بن کر رہ گیا ہے کیونکہ یوکرین کو روس پر جغرافیائی سیاسی دباؤ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

    ماسکو میں روسی وزارت دفاع نے اطلاع دی کہ فضائی دفاعی افواج کے دستے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کے ساتھ جمہوریہ بیلاروس کی سرزمین پر مشقوں کے لیے پہنچ رہے ہیں۔محکمہ نے کہا کہ لاجسٹک یونٹس نے پہلے ہی امور ریجن میں ٹرین پلیٹ فارمز پر ہتھیار پہنچا دیے تھے۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے مسئلہ پر روس کی نیٹو اتحاد ،امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ کشیدگی میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

    ادھر امریکی صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی صدرجوبائیڈن نے خبردارکیا ہے کہ روس فروری میں یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرینی ہم منصب سے گفتگومیں خبردارکیا کہ روس فروری میں یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔

    امریکی صدرجوبائیڈن نے یوکرین کے صدرسے ٹیلی فون پرگفتگومیں کہا کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ روس فروری میں یوکرین کیخلاف کوئی جارحانہ کارروائی کرے۔ امریکا گزشتہ کئی ماہ سے روس کی یوکرین کیخلاف ممکنہ جارحیت کے بارے میں خبردارکررہا ہے۔
    روس کے حکام نے یوکرین کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کومسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین کے بحران سے متعلق مذاکرات اب بھی ممکن ہیں۔

    امریکا اوراس کے نیٹواتحادی حالیہ ہفتوں میں ماسکوکی جانب سے یوکرین کے قریب ایک لاکھ روسی فوجیوں کی تعیناتی پربھی تشویش کا اظہارکرچکے ہیں۔

  • روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

    روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن

     

    لاہور:روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا امکان:روسی فوج بھاری یا بھاری یوکرائن ,یوکرائن کی سرحدوں پر اس وقت سخت دباو ہے اور یہ اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اتحادی یوکرائن کو جنگ میں دھکیل رہے ہیں تاکہ روس کی فوجی قوت کو کمزور کیا جاسکے ، ایسی صورت میں اگرنیٹو اور دیگر قوتیں میدان میں اتریں تو یہ جنگ عالمی جنگ کی شکل میں تبدیل ہوسکتی ہے

     

    ان حالات میں جبکہ دونوں طرف سے سخت چپقلش پائی جارہی ہے ، دفاعی ماہرین نے روسی اور یوکرائنی افواج کے درمیان قوت کے تخمینے اور اندازے لگانے شروع کردئیے ہیں ، اس حوالے سے جو تازہ تقابلی جائزہ پیش کیا گیا ہے اس کے مطابق روس کی باقاعدہ افواج کی تعداد نو لاکھ سے زائد ہے جبکہ اس کے مقابلے میں یوکرائن کی مسلح افواج کی تعداد دو لاکھ نو ہزار تک ہے

     

     

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہےکہ روس کو ریزور افواج کی صورت میں بیس لاکھ فوجیوں کی کمک حاصل ہوگی جبکہ یوکرائن کو صرف نو لاکھ فوجیوں کی مدد حاصل ہوگی

     

    دفاعی ماہرین کی طرف سے جاری تفصیلات کے مطابق روس کے پاس آرٹلری کی تعداد 7571 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد 2040 ہے

     

    روس کے پاس فوجی گاڑیوں کی تعداد 30 ہزار 122 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد 12303 ہے ، ایسے ہی روس کےپاس 12420 ٹینکس ہیں جبکہ یوکرائن کےپاس یہ تعداد صرف 2596 ہے

     

    روس کے پاس جنگی ہیلی کاپٹرز کی تعداد 544 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہ تعداد صرف 34 ہے ،روس کے پاس فائٹراٹیک ایئر کرافٹ کی تعداد 1511 ہے جبکہ یوکرائن کے پاس یہی تعداد صرف 98 ہے ،

     

    روس کا سالانہ دفاعی بجٹ 61 ارب ڈالرز سے زائد ہے جبکہ یوکرائن کا دفاعی بجٹ 8 ارب ڈالرز سے زائد ہے یوں اگردیکھا جائےتو روس کے مقابلے میں یوکرائن کی فوجی طاقت نہ ہونے کے برابر ہے

     

    لیکن یہی طاقت اس صورت میں روس کے مقابلے میں بڑھتی ہوئی نظرآتی ہے جب روس کی مخالف قوتیں امریکہ ، نیٹو اور دیگراتحادی یوکرائن کو بھاری اسلحہ دے رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ یوکرائن اور روس کا ٹکراو ہو ہی جائے تاکہ روس کی فوجی قوت کو زنگ لگ جائے یا پھرروس کوبہت زیادہ نقصان پہنچایا جاسکے ، اس صورت میں پھرامریکہ کے سامنے چین ہی بڑی قوت رہ جائے گا اور چین سے نمٹا امریکہ اور اتحادیون کے لیے آسان ہوگا

  • روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی

    روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی

    ماسکو:روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق امریکا نے روس کے خلاف مہلک ہتھیاروں کی 90 ٹن وزنی کھیپ یوکرائن کے دارالحکومت میں پہنچادی ہے جبکہ روس نے بھی جنگ کے لیے صف بندی شروع کردی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق روس امریکی مذاکرات کی ناکام کے بعد یوکرائن تنازع شدت اختیار کرگیا ہے اور خطے پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں جبکہ یوکرائن بارڈر پر نیٹو کی فوجی تنصیبات کا عمل بھی جاری ہے۔

    رپورٹس کے مطابق روس نے بھی سرحد کے قریب اپنی فوج کی صف بندی کرنا شروع کردی ہے جبکہ امریکا کی جانب سے یوکرائن کو دی جانے والی مہلک ہتھیاروں کی پہلی کھیپ وہاں پہنچ گئی ہے۔

    یوکرائن میں قائم امریکی سفارتخانے نے کھیپ وصول کرنے کی تصدیق بھی کردی ہے۔

    واضح رہے کہ روس بارہا یہ باور کراچکا ہے اس کا یوکرائن پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے تاہم وہ اپنے دفاع کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔امریکی صدر جوبائیڈن نے دسمبر میں یوکرائن کے لئے 200 ملین ڈالرز سیکیورٹی پیکج کی منظوری دی تھی۔

    دوسری جانب برطانیہ کا دعوی ہے کہ روس یوکرائن میں اپنی مرضی کی حکومت لانے کی کوششیں کررہا ہے جبکہ متعدد سابقہ یوکرائن کے سیاست دانوں کے روس کی انٹیجلنس سروس سے رابطے ہیں۔

    برطانیہ کا دعوی ہے کہ یوکرائن کی پارلیمان کے ایک سابق رکن یووغن مورائیف کو روس کی جانب سے یوکرائن کے نئے لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

    روس کی جانب سے برطانوی دعوے کی تردید بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ برطانیہ فضول باتیں پھیلانے سے گریز کرے۔

    روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات اس بات کا اشارہ کرتی ہیں کہ نیٹو کی قیادت یوکرائن کے بحران کو مزید بڑھا رہی ہیں۔

    دوسری طرف روس کی وزارت خارجہ کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ ہم دفترخارجہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فضول باتیں پھیلانا بند کرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات اس بات کا اشارہ کرتی ہیں کہ نیٹو کی قیادت یوکرائن کے بحران مزید بڑھا رہی ہیں۔

    دوسری جانب برطانوی سیکرٹری خارجہ کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ جو معلومات جاری کی گئی ہیں وہ روسی منصوبے کو آشکار کرتی ہیں جبکہ یہ منصوبہ یوکرائن کو تباہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں جس سے روس کی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یوکرائن میں روسی فوجی مداخلت ایک بڑی اسٹریجک غلطی ہوگی جس کی بھاری قیمت بھی چکانا پڑے گی، روس کشیدگی کو کم کرے اور اپنی جارحیت کو ترک کرکے سفارتکاری کا راستہ اختیار کرے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ کا دعوی ہے کہ روس یوکرائن میں اپنی مرضی کی حکومت لانے کی کوششیں کررہا ہے جبکہ متعدد سابقہ یوکرائن کے سیاست دانوں کے روس کی انٹیجلنس سروس سے رابطے ہیں۔

    برطانیہ کا دعوی ہے کہ یوکرائن کی پارلیمان کے ایک سابق رکن یووغن مورائیف کو روس کی جانب سے یوکرائن کے نئے لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

  • ایرانی صدر کا دورہ ماسکو:امریکہ پریشان،اب کیا کرے گا ایران؟

    ایرانی صدر کا دورہ ماسکو:امریکہ پریشان،اب کیا کرے گا ایران؟

    ماسکو:ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے دورہ روس کو دونوں مملک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دے دیا۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے صدر ابراہیم رئیسی منصب سنبھالنے کے بعد پہلی بار روس کے دو روزہ سرکاری دورے پر ماسکو پہنچ گئے جہاں انہوں نے روسی ہم منصب ولادی میرپیوٹن سے ملاقات کی۔

    ماسکو روانگی سے قبل میڈیا سے مختصر گفتگو میں ابراہیم رئیسی نے کہا کہ روس اور ایران خطے کے دو اہم خودمختار، مضبوط اور بااثر ممالک ہیں جو قریبی تعلقات اور بات چیت سے تجارت و سلامتی کو بڑھا سکتے ہیں۔

    اس ضمن میں ایرانی صدر نے اپنے دورہ ماسکو کو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا ٹرننگ پوائنٹ بھی قرار دیا۔
    روسی صدر سے ملاقات میں ایرانی صدر نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال پرتشویش ہے روس کےساتھ مستحکم اورجامع تعلقات کےخواہاں ہیں ہم روس کےساتھ تجارتی تعلقات کاحجم بڑھانےکےخواہاں ہیں۔

    ایرانی صدر نے واضح کیا کہ عالمی پابندیوں اور امریکا و اسرائیل کی دھمکیوں سے ایران کی ترقی کا سفر نہیں رکے گا۔