Baaghi TV

Tag: یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی

  • کیف پر روسی ڈرون اور میزائل حملہ، 19 افراد ہلاک

    کیف پر روسی ڈرون اور میزائل حملہ، 19 افراد ہلاک

    روسی افواج نے یوکرینی دارالحکومت کیف پر بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملہ کیا جس میں 2 بچوں سمیت 19 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہوگئے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بتایا کہ حملے میں 7 اضلاع کی رہائشی اور دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیف پر گزشتہ رات ہونے والا حملہ ثابت کرتا ہے کہ روس کو حقیقی سفارتکاری میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔صدر زیلنسکی نے مزید کہا کہ روس مذاکرات کی میز کے بجائے بیلسٹک میزائلوں کا انتخاب کرتا ہے اور جنگ ختم کرنے کے بجائے قتل و غارت گری جاری رکھے ہوئے ہے۔

    بھارتی آبی جارحیت،پنجاب میں سیلاب سے تباہی،درجنوں دیہات زیر آب،20 اموات

  • ٹرمپ کی کوشش،  روس نے یوکرین کی سیکیورٹی ضمانت منظور  کر لی

    ٹرمپ کی کوشش، روس نے یوکرین کی سیکیورٹی ضمانت منظور کر لی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کی سیکیورٹی ضمانت منظور کرلی ہے اور کوشش کی جائے گی کہ امریکا، روس اور یوکرین مل کر کام کریں۔

    وائٹ ہاؤس میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم سب پائیدار امن کے لیے کام کرنے کے ساتھ فوری جنگ بندی کو ترجیح دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ روس۔یوکرین امن معاہدہ مستقبل قریب میں ممکن ہے۔یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے سیکیورٹی ضمانتوں سمیت اہم معاملات پر بات چیت ہوئی ہے۔ ہمارا مقصد جنگ کا خاتمہ اور روس کو روکنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے مضبوط سیکیورٹی سگنل ضروری ہے۔ زیلنسکی نے یہ بھی کہا کہ یوکرین کو خوشی ہوگی اگر صدر ٹرمپ روس اور یوکرین رہنماؤں کی ملاقات میں شامل ہوں۔

    اس سے قبل وائٹ ہاؤس پہنچنے پر امریکی صدر ٹرمپ نے زیلنسکی کا استقبال کیا اور کہا کہ یوکرین میں جنگ روکنے کا اچھا موقع ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم چاہتے ہیں جنگ سب کے لیے بہتر انداز میں ختم ہو اور ان کے خیال میں روسی صدر پیوٹن بھی جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر معاملات درست رہے تو وہ یوکرین اور روسی صدور کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کریں گے، تاہم وہ نہیں چاہتے کہ یہ معاملہ عارضی طور پر حل ہو اور چند سال بعد دوبارہ لڑائی شروع ہو۔

    ایشیا کپ 2025: پاک بھارت میچ کے اشتہارات کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر

    موسمیاتی تبدیلیاں، بطور قوم غلطی کہاں ہوئی؟، پی ٹی آئی کو جواب؟

    صدر ٹرمپ کی زیلنسکی سے ملاقات، سہ فریقی مذاکرات کی پیشکش

    پیوٹن اور مودی کی ٹیلیفونک گفتگو، عالمی امور پر تبادلہ خیال

  • یورپی یونین اور برطانیہ کی روس پر نئی پابندیاں، شیڈو فلیٹ اور مالیاتی ادارے  شامل

    یورپی یونین اور برطانیہ کی روس پر نئی پابندیاں، شیڈو فلیٹ اور مالیاتی ادارے شامل

    یورپی یونین اور برطانیہ نے روس کے خلاف نئی معاشی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان پابندیوں کا اعلان امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان گفتگو کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔

    عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، نئی پابندیاں خاص طور پر روس کے تیل لے جانے والے ’’شیڈو فلیٹ‘‘ یعنی خفیہ شپنگ نیٹ ورک اور مالیاتی اداروں کو نشانہ بنائیں گی، جنہیں ماسکو عالمی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔یورپی یونین اور برطانیہ کے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا ہے کہ یہ پابندیاں اہم ہیں، اور میں ان تمام افراد کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو ان اقدامات کو جنگی مجرموں کے خلاف موثر بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔‘‘

    تاہم ان پابندیوں میں امریکہ شامل نہیں ہے، حالانکہ یورپی رہنماؤں نے ٹرمپ انتظامیہ پر اس حوالے سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔جرمن وزیر خارجہ جوہان ویڈفول نے برسلز میں یورپی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران کہا کہ ہم روس سے صرف ایک چیز کی توقع رکھتے ہیں، اور وہ ہے غیر مشروط فوری جنگ بندی۔انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ روس نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے، اس لیے یورپی ممالک کو سخت ردعمل دینا پڑا، اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکا بھی اس رویے کو برداشت نہیں کرے گا۔

    جنگ بندی پر ڈیڈلاک برقرار
    یاد رہے کہ حال ہی میں سابق صدر ٹرمپ کی درخواست پر روس اور یوکرین کے درمیان تین سال بعد براہ راست مذاکرات ہوئے، تاہم روس کی طرف سے ایسی شرائط پیش کی گئیں جنہیں یوکرینی وفد نے ’’ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔یوکرین نے فوری جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جب کہ روس نے پہلے بات چیت پر زور دیا ہے۔ یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ روسی مؤقف اس بات کا ثبوت ہے کہ صدر پوتن، جنہوں نے 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا، اب بھی جنگ ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں۔

    روسی ردعمل
    روس نے ان پابندیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ماسکو کسی بھی ’’الٹی میٹم‘‘ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے کہا کہ ہم ایسی پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتے جو ہماری خودمختاری پر حملہ ہیں۔دوسری جانب صدر پوتن نے ٹرمپ سے گفتگو کے بعد کہا ہے کہ روس، یوکرین کے ساتھ مستقبل میں امن معاہدے کے حوالے سے ایک یادداشت پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

    ماریا زخارووا نے مزید کہا کہ اب گیند یوکرین کے کورٹ میں ہے۔ واضح رہے کہ یورپی یونین اور برطانیہ کی نئی پابندیوں کا اہم مقصد روس کے اس شپنگ نیٹ ورک کو محدود کرنا ہے، جس کے ذریعے ماسکو عالمی منڈیوں میں تیل برآمد کر رہا ہے، حالانکہ ان برآمدات پر پابندیاں عائد ہیں۔

    سندھ کابینہ اجلاس، ٹریفک اصلاحات، عدالتی نظام میں بہتری، اور سماجی ترقی کے اہم فیصلے

    پاکستان کا امارات کے بینکوں سے ایک ارب ڈالر قرض لینے کا فیصلہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کیریئر پر ایک جامع رپورٹ

    افغانستان اور بھارت ٹرانزٹ ٹریڈ دوبارہ فعال، واہگہ بارڈر سے درجنوں ٹرک بھارت روانہ

    مورو واقعہ: سندھ بھر میں کشیدگی، قومی شاہراہ بند، مظاہرے اور پرتشدد واقعات

  • استنبول میں روس-یوکرین جنگ بندی مذاکرات مکمل ہوگئے

    استنبول میں روس-یوکرین جنگ بندی مذاکرات مکمل ہوگئے

    تین سال کے تعطل کے بعد روس اور یوکرین کے اعلیٰ حکام کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور ترکیہ کے شہر استنبول میں ہوا، جو تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا۔

    مذاکرات کا اہتمام ترکیہ کی حکومت نے کیا، جس میں ترک وزیر خارجہ اور انٹیلی جنس چیف نے بھی شرکت کی۔یہ ملاقات 2022 میں جنگ کے آغاز کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہِ راست سفارتی نشست تھی۔ ترک وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں، اور مستقبل میں اس عمل کو جاری رکھنے پر بھی غور کیا گیا ہے۔یوکرینی وزیر دفاع رستم عمروف نے مذاکرات کے بعد بتایا کہ دونوں فریقین نے 1000 جنگی قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ سیز فائر سے متعلق ابتدائی بات چیت بھی ہوئی ہے۔ عمروف کے مطابق مذاکرات کے اگلے دور کا جلد اعلان کیا جائے گا، اور پیوٹن اور زیلنسکی کے درمیان ممکنہ ملاقات پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ بات چیت جنگ بندی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، تاہم حتمی نتیجہ ابھی سامنے نہیں آیا۔اس سے قبل یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے البانیہ کے دارالحکومت ترانہ میں یورپی سربراہی اجلاس سے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کی اولین ترجیح "بغیر کسی شرط کے جنگ بندی” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر روسی وفد اس بنیاد پر مذاکرات کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ "صدر پوتن درحقیقت جنگ کا خاتمہ نہیں چاہتے۔”

    صدر زیلنسکی نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو روس کے خلاف سخت اور واضح ردعمل اختیار کیا جائے تاکہ جارحیت کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔دوسری جانب، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے زیلنسکی کی جانب سے براہِ راست بات چیت کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اعلیٰ سطح پر ملاقات سے گریز کیا اور امن مذاکرات کے لیے ایک نچلی سطح کا وفد استنبول بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

    اس کے برعکس، یوکرین نے اپنی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کے لیے وزیر دفاع کو نامزد کیا ہے، جو اس بات چیت کو سنجیدہ اور ترجیحی حیثیت دینے کا عندیہ ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، استنبول میں جاری مذاکرات خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی ایک اہم کوشش ہیں، تاہم دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی کمی اور سیاسی تحفظات اس عمل کی کامیابی میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

    ایس ای سی پی کی تمام کمپنیوں کے لیے سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری جاری

    محسن نقوی سے امریکی قائم مقام سفیر کی ملاقات، علاقائی امن پر تبادلہ خیال

    چیئرمین آئی سی سی جے شاہ کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، غیرجانبداری پر سوالات

    میں اسے گولی مار دوں گا،یہ بدمعاش ہے،لال مسجد سے مولانا عبدالعزیز نے مفتی عبدالقوی کونکال دیا

  • ٹرمپ اور یوکرینی صدر کی ملاقات میں جھگڑا؟

    ٹرمپ اور یوکرینی صدر کی ملاقات میں جھگڑا؟

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی ملاقات جھگڑے کی صورت اختیار کر گئی۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، اس موقع پر میڈیا نمائندوں کے سامنے یوکرینی صدر کی امریکی صدر اور نائب سے تکرار ہوتی رہی جس کی ویڈیو کیمروں میں محفوظ ہوگئی۔ وائرل ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے صدر زیلنسکی سے کہا کہ آپ کا ملک جنگ نہیں جیت رہا، آپ ہماری وجہ سے اس جنگ سے صحیح سلامت نکل سکتے ہیں۔ اگر آپ کی فوج کے پاس ہمارا دیا ہوا عسکری سازوسامان نہیں ہوتا تو یہ جنگ 2 ہفتوں میں ہی ختم ہوجاتی۔

    اس دوران یوکرینی صدر متعدد مرتبہ امریکی صدر کی بات کا جواب دینے کی کوشش کرتے رہے لیکن ٹرمپ نے یوکرینی صدر کو بولنے نہیں دیا۔ٹرمپ نے ملاقات میں میڈیا نمائندوں کی موجودگی کے حوالے سے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ امریکی عوام کو صورتحال معلوم ہو اسی وجہ سے میں نے یہ ملاقات جاری رکھی۔ٹرمپ نے زیلنسکی سے کہا کہ آپ کو شکر گزار ہونا چاہیے، آپ کے پاس آپشز نہیں ہیں، آپ کے لوگ مررہے ہیں، آپ کو فوجیوں کی کمی کاسامنا ہے۔ہ آپ تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہے ہیں، آپ اس ملک [امریکا] کی توہین کررہے ہیں۔ آپ ہمیں احکامات دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں‘۔

    نائب امریکی صدرجے ڈی وینس نے زیلنسکی سے کہا کہ ’آپ کے الفاظ انتہائی غیر مناسب ہیں‘، ٹرمپ نے زیلسنکی سے سوال کیا کہ کیا آپ نے ایک بار بھی امریکا کا شکریہ ادا کیا؟ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو سکیورٹی ضمانت امریکا نہیں یورپ کی ذمہ داری ہے ، چاہتے ہیں امریکا یوکرین کی مدد بند نہ کرے.یوکرینی صدر نے کہا کہ روس نے 30 ہزار سے زائد بچوں اور دیگر شہریوں کو اغوا کیا، اپنے لوگوں کی واپسی چاہتے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے یوکرینی صدر کو کہا گیا کہ آپ بہت زیادہ بولتےہیں۔ملاقات میں نائب امریکی صدر جے ڈی وانس نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان امن کا راستہ امریکی سفارتی کوششوں سے ہو کر گزرتا ہے، اس میں روسی صدر سے مذاکرات بھی شامل ہیں۔

    یوکرینی صدر کی جانب سے کہا گیا کہ ہم نے روسی صدر کے ساتھ معاہدہ کیا تھا، لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا، آپ کس قسم کی سفارت کاری کی بات کر رہے ہیں؟غیرملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق اس ملاقات کے بعد امریکا اوریوکرین کے صدور کی مشترکہ پریس کانفرنس منسوخ کردی گئی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں ٹرمپ نے کابینہ سے خطاب میں کہا تھا کہ یوکرینی صدر زیلنسکی جمعے کو ایک بڑی ڈیل پر دستخط کرنے آ رہے ہیں۔یوکرین سے اپنے پیسے واپس لیں گے ،یوکرین کیلئے سکیورٹی ضمانت امریکا نہیں، یورپ دے گا۔

    سونے کی فی تولہ قیمت میں آج بھی بڑی کمی

    وزیراعظم رمضان پیکج؛ 5 ہزار روپے فی خاندان دینے کا اعلان

    سوات: سیدو شریف میں فائرنگ، 2 افراد جاں بحق

    حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں کمی کا اعلان

    قائمہ کمیٹی داخلہ کامصطفیٰ قتل کیس کی ہائی پروفائل انویسٹی گیشن کا مطالبہ