Baaghi TV

Tag: یوکرینی پناہ گزین

  • روسی صحافی کا یوکرینی پناہ گزینوں کیلئے اپنا نوبیل انعام فروخت کرنے کا فیصلہ

    روسی صحافی کا یوکرینی پناہ گزینوں کیلئے اپنا نوبیل انعام فروخت کرنے کا فیصلہ

    ماسکو:روس کے نوبیل یافتہ صحافی نے نوبیل انعام میں ملنے والے میڈل کو فروخت کرکے رقم یوکرینی پناہ گزینوں پر خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق نووایا گزیٹا نامی اخبار کے مدیر دمیتری مروادوف نے اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا کہ اب یوکرین کے ’زخمی اور بیمار‘ بچوں کو دیکھا نہیں جاتا۔

    پوٹن کیمیائی ہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں:امریکی صدر:ہم اس سے آگے جاسکتےہیں :روس کا…

    انہوں نے کہا کہ نوبیل انعام کا تمغہ نیلام کرکے اس کی رقم ایک خیراتی فاؤنڈیشن کو دیں گے جو یوکرینی پناہ گزینوں کی مدد کررہا ہےاپنے بیان میں انہوں نے فوری جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور انسانی راہداری پربھی زور دیا۔

    دمیتری مرادوف نے 1993 میں اپنے اخبار کی بنیاد رکھی تھی ان کی صاف گوئی روسی حکومت پر تنقید کی بنا پر دمیتری کو 2021 میں امریکی صحافی کے ساتھ امن کا نوبیل انعام ملا تھا۔ بالخصوص انہوں نے عسکری اداروں کی بدعنوانی پر اپنا مؤقف پرزور انداز میں پیش کیا تھا۔

    یقین ہے کہ روس نئے فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے، امریکی صدر

    لیکن اب انہوں نے کہا ہے کہ حکومت انہیں جنگ مخالف اور یوکرین کی حمایت میں مضامین اور خبریں شائع کرنے سے روک رہی ہے اور ان پر شدید دباؤ ہے۔

    دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ روس اس وقت تک جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا جب تک اس کے وجود کو خطرہ نہ ہو۔ وجود کو خطرہ ہوا تو جوہری ہتھیار استعمال کیے جائیں گے یوکرین میں آپریشن پلان کے مطابق جاری ہے کسی کو یقین نہیں تھا کہ یہ دو دن بھی چلے گا ساحلی شہر ماریوپول میں آپریشن کا بنیادی مقصد یوکرین کی تمام قومی اکائیوں کا خاتمہ ہے۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ یوکرین سے مذاکرات کا عمل جاری ہے، لیکن ہم مزید فعال، زیادہ ٹھوس مذاکرات دیکھنا چاہتے ہیں روس اور یوکرین کے درمیان بات چیت سست اور کم بامعنی تھی۔ مذاکرات کا خلاصہ شائع کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ اس طرح کے اقدام سے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچے گا۔

    بیلاروس جلد ہی یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے،نیٹو کے سینئر انٹیلی جنس اہلکار کا دعویٰ

  • یورپی یونین نے یوکرینی پناہ گزینوں کیلئے دروازے کھول دئیے

    یورپی یونین نے یوکرینی پناہ گزینوں کیلئے دروازے کھول دئیے

    یوکرینی پناہ گزین کے لیے ایک برس تک یورپی یونین میں رہنے کا بل منظور کر لیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : یورپین یونین نے یوکرین سے نکلنے والے مہاجرین کیلئے فوری تحفظ کا بل منظور کر لیا، بل کے تحت یوکرین کے شہری یورپین یونین کے کسی بھی ممبر ملک میں ایک سال تک رہ سکیں گے۔

    بل میں واضح کیا گیا ہے کہ صرف یوکرینی مہاجرین ہی یورپین یونین میں رہ سکتےہیں دوسرے ملکوں میں موجود یوکرین کے عارضی شہریوں کی 15 دن کے بعد قانونی حیثیت ختم ہوجائے گی۔

    یوکرین جنگ: روس نے چین سے فوجی مدد مانگ لی ،امریکا کا دعوٰی

    دوسری جانب امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان سے چینی سفارت کار یانگ جیچی کی ملاقات ہوئی ہے، 7گھنٹے کی ملاقات میں یوکرین جنگ، چین روس اتحاد پر گفتگو ہوئی-

    امریکہ نے کہا ہے کہ اس نے چین کو خبردار کر دیا ہے کہ کوئی بھی ملک پابندیوں کی زد میں موجود روس کو بچا نہیں پائے گا امریکی مشیرِ قومی سلامتی جیک سلیوان نے کہا کہ اُنھوں نے بیجنگ سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

    جبکہ روسی صدارتی محل کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے پیر کے روز کہا تھا کہ روسی فوج کا آبادی کے بڑے مراکز کو مکمل کنٹرول میں لینے کا امکان ہے جبکہ روسی فوج یوکرین کے کچھ شہروں کا پہلے ہی محاصرہ کر چکی ہے صدر پیوٹن نے بڑے شہروں پرزیادہ انسانی نقصان کے خدشے کے باعث کسی بھی فوری حملے کو روکنے کے احکامات دیے ہیں تاہم وزارت دفاع بڑے شہروں کو اپنے مکمل کنٹرول میں رکھنے کے امکان کو رد نہیں کرتی۔

    یوکرین میں روسی فوج کی فائرنگ سے امریکی صحافی ہلاک، دوسرا زخمی

    انہوں نے مزید کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکا اور یورپی یونین کے رہنما روس کو یوکرین کے بڑے شہروں پر حملہ کرنے پر مجبور کر رہے ہیں تاکہ ہمارے ملک کو شہریوں کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے روسی لیڈرشپ کے تمام منصوبے وقت پر اور مکمل طور پر پورے ہوں گے تاہم انہوں نے اس بعد کی نفی کی کہ روس نے چین سے عسکری ساز و سامان کی مدد مانگی ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ روس کے پاس آپریشن جاری رکھنے کی اپنی خود مختار صلاحیت ہے، یوکرین میں آپریشن منصوبہ بندی کے مطابق چل رہا ہے جو وقت پر مکمل طور پر پورا کیا جائے گا۔

    تاہم امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اُن کا ملک یوکرین کو اسلحہ، خوراک اور دولت فراہم کرتا رہے گا۔ ٹوئٹ میں امریکی صدر نے لکھا کہ امریکہ روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں ٹن انسانی امداد فراہم کر رہا ہے۔ یوکرینی پناہ گزینوں کو امریکا کھلی بانہوں سے خوش آمدید کہے گا۔

    یوکرین تنازع: ایلون مسک کا روسی صدر کو فائٹ کا چیلنج