Baaghi TV

Tag: یوکرین جنگ

  • یوکرین جنگ: پیوٹن کی زیلنسکی کو ماسکو آنے اور مذاکرات کی مشروط دعوت

    یوکرین جنگ: پیوٹن کی زیلنسکی کو ماسکو آنے اور مذاکرات کی مشروط دعوت

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرینی صدر ولوودیمیر زیلنسکی کو ماسکو آنے اور جنگ کے خاتمے پر براہِ راست بات چیت کرنے کی دعوت دے دی ہے۔

    فاکس نیوز کے مطابق ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ انہوں نے کبھی ملاقات سے انکار نہیں کیا، اگر زیلنسکی تیار ہیں تو ماسکو آ کر بات کریں۔روسی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پیوٹن نے یہ بیان چین میں دیا، جہاں وہ چینی صدر شی جن پنگ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ دوسری جنگِ عظیم کی 80ویں سالگرہ کی فوجی پریڈ میں شریک تھے۔

    صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ اگر اس ملاقات میں قابلِ قبول حل پر اتفاق نہ ہوا تو روس فوجی طاقت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ادھر یوکرینی صدر کے دفتر اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے تاحال کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

    برطانیہ میں ریپ کیس، کرکٹر حیدر علی بے قصور قرار

    سیلاب کی غیر معمولی صورتحال، بزرگوں کو ہٹا کر نوجوانوں کو آگے لانا ہوگا: مصدق ملک

    غزہ، اسرائیلی بمباری میں مزید73 فلسطینی شہید

    یوکرین جنگ: ٹرمپ نے مذاکرات کا عندیہ دے دیا

    کرک میں دہشتگردوں کا پولیس پر حملہ، ایس ایچ او سمیت 3 اہلکار شہید

  • یوکریں کی حفاظت کریں گے،پیوٹن ملاقات سے مایوسی ہوئی،ٹرمپ

    یوکریں کی حفاظت کریں گے،پیوٹن ملاقات سے مایوسی ہوئی،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات توقع کے مطابق نہیں رہی اور وہ اس سے بہت مایوس ہیں۔

    امریکی ریڈیو پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ ملاقات اچھی نہ ہونے پر ممکنہ پابندیوں پر غور کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین جنگ میں لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے اقدامات کریں گے اور اس حوالے سے فعال کردار ادا کریں گے۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے خلاف چین اور روس کے اتحاد سے وہ خاص تشویش میں نہیں ہیں۔

    جماعتِ اسلامی کا ضمنی الیکشنز میں حصہ نہ لینے کا اعلان

    کمالیہ: ہیڈ سدھنائی کو بچانے کیلئے مائی صفوراں بند میں شگاف

    کراچی سمیت سندھ بھر میں بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خدشہ

    تین ملکی ٹی 20 سیریز: افغانستان کی پاکستان کو 18 رنز سے شکست

  • یوکرین جنگ میں پاکستان کی مداخلت کے کوئی ثبوت نہیں ملے، روس

    یوکرین جنگ میں پاکستان کی مداخلت کے کوئی ثبوت نہیں ملے، روس

    یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کے جھوٹے پروپیگنڈا بےنقاب ، روسی سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ماسکو کو یوکرین جنگ میں پاکستان کی مداخلت کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین میں پاکستانی اسلحے کے استعمال کے تاحال کوئی ثبوت نہیں ملے، یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کے حوالے سے بھی کوئی ثبوت نہیں ملا۔روسی سفارتی ذرائع کے مطابق یوکرین میں پاکستانی اسلحے کے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں ملا، یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا۔سفارتی ذرائع کے مطابق ماسکو ان الزامات کی بنیاد پر پاکستان کی قیادت سے رابطے میں تھا، ماسکو نے پاکستان کی جانب سے یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کی خبروں کے حوالے سے تحقیقات کیں، ماسکو کو پاکستان کے خلاف اب تک بلواسطہ یا بلا واسطہ کوئی ثبوت نہیں مل سکے۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی اسلحے یا گولہ بارود کے روس کے خلاف یوکرین میں استعمال کے بھی کوئی ثبوت نہیں ملے، ماسکو ان الزامات کی بنیاد پر مسلسل پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کے ساتھ رابطے میں تھا۔واضح رہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) نے نومبر 2023 میں اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے 2022 میں دو نجی امریکی کمپنیوں کے ساتھ 36 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت کا معاہدہ کیا، یہ ہتھیار مبینہ طور پر روس کے ساتھ جنگ ​​کے لیے یوکرین کو بھیجے گئے۔بی بی سی اردو کی خصوصی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مبینہ پیش رفت پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے دور حکومت میں ہوئی۔

    پی ڈی ایم ایک کثیر الجماعتی اتحاد تھا جس نے اپریل 2022 میں عمران خان کی زیر قیادت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کو عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے بے دخل کر دیا تھا، اس وقت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تھے، جو بعد ازاں نومبر 2022 میں ریٹائر ہوئے۔
    روس اور یوکرین کا بحران 24 فروری 2022 کو شروع ہوا تھا جب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنی فورسز کو یوکرین پر حملے کا حکم دیا۔دفتر خارجہ نے یوکرین کو اسلحہ اور گولہ بارود کی فروخت کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان تنازع میں ’انتہائی غیر جانبداری‘ کی پالیسی برقرار رکھی اور اس تناظر میں انہیں کوئی اسلحہ یا گولہ بارود فراہم نہیں کیا۔بعدازاں نومبر 2023 میں یوکرین کے وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان سے کسی قسم کا کوئی اسلحہ نہیں لے رہے جبکہ ہم اپنے سے کہیں زیادہ طاقت ور دشمن سے جنگ لڑ رہے ہیں۔

    بھارت میں امیر مزید امیر غریبوں کی حالت خراب ہوگئی، رپورٹ

    نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام

    چالیس ارب ڈالر خوش آئند لیکن مانیٹرنگ اتھارٹی ناگزیر.تحریر:ملک محمد سلمان

    فائیو جی سروس کے منتظر پاکستانیوں کیلیے بری خبر آ گئی

    عالمی تحفظ ختم نبوت کانفرنس پچنند .تحریر:فیصل رمضان اعوان

  • یوکرین جنگ پر امریکی اور روسی حکام کی ریاض میں ملاقات

    یوکرین جنگ پر امریکی اور روسی حکام کی ریاض میں ملاقات

    سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ’سعودی عرب یوکرین جنگ پر روس اور امریکا کے درمیان بات چیت کی میزبانی کر رہا ہے، جس کا مقصد عالمی امن اور سلامتی کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔

    عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایت پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آج بروز منگل سعودی عرب اس اہم موقع کا میزبان ہے جہاں ریاض شہر میں روس اور امریکا کے حکام کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں اور یہ اقدام مملکت کی جانب سے عالمی امن اور سلامتی کے لیے کی گئی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔‘اس ملاقات میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شریک ہیں جبکہ سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور سعودی وزیر مملکت اور قومی سلامتی کے مشیر مساعدٰ العیبان بھی ایونٹ کا حصہ ہیں۔

    سعودی دارالحکومت ریاض میں ہونے والے مذاکرات کو سرد جنگ کے دو حریفوں کے درمیان کافی اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے یہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے حوالے اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارےکے مطابق اس ملاقات کو یوکرین جنگ کے خاتمے اور امریکہ و روس کے درمیان تعلقات کی بحالی کی توقع کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔اس بات چیت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان سربراہی ملاقات کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے۔

    یہ موقع پیر کو پیرس میں یورپین رہنماؤں کی اس سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد سامنے آیا جو متفقہ حکمت عملی کے حوالے سے تھا کیونکہ پچھلے ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کے پوتن سے ٹیلی فونک رابطے کے بعد ان پر فوری بات چیت شروع کرنے کے لیے شدید دباؤ ہے۔یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ دفاع میں مزید پیسہ لگائیں گے اور یوکرین کی سلامتی کی ضمانت میں پیش پیش رہیں گے۔نیدرلینڈز کے وزیراعظم ڈک سکوف کا کہنا تھا کہ ہر کسی کو ہنگامی صورت حال کا احساس ہو رہا ہے۔ ’یورپ کے تحفظ کے حوالے سے اس اہم ترین وقت میں ہمیں یوکرین کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے۔‘ یورپ کو کسی بھی معاہدے کے دفاع کے لیے اہم کردار ادا کرنا ہو گا اور اس ضمن میں امریکہ کے ساتھ تعاون بہت ضروری ہے۔

    دونوں اطراف کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو، وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کے مشیر مائیک والٹز اور مشرق وسطیٰ کے نمائندے سٹیو وٹکوف روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف اور پوتن کے خارجہ امور کے مشیر یوری اوشکوف سے ریاض میں ملاقات کریں گے۔

    ابتدائی رابطہ

    یہ ملاقات ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے کے بمشکل ایک مہینے کے بعد ہونے جا رہی ہے جس سے واشنگٹن کی اس پوزیشن میں تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے جو صدر جو بائیڈن کے دور میں تھی، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وہ عوامی رابطوں اور جنگ کو ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں تھے۔روس نے 2014 سے یوکرین کے کچھ حصوں پر قبضہ کیا تھا جبکہ فروری 2022 میں یوکرین پر ایک بڑا حملہ کیا تھا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یہ جنگ جلد ختم ہو۔دوسری جانب یوکرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں اس کی جانب سے کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہو سکتا جس میں کیئف کو مدعو نہ کیا گیا ہو۔

    امریکی حکام ہونے والے مذاکرات کو ابتدائی رابطے کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس سے اس بات کا تعین ہو گا کہ آیا ماسکو یوکرین میں جنگ ختم کرنے میں سنجیدہ ہے۔امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ٹیمی بروس نے ریاض میں صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ’یہ ٹرمپ اور پوتن کے درمیان ابتدائی بات چیت کا پہلا قدم ہو سکتا ہے اور اگر یہ ممکن ہوا تو باقی کے مفادات کے حوالے سے امور بھی طے ہو سکتے ہیں۔‘تاہم کریملن کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ بات چیت میں ’امریکہ اور روس کے پیچیدہ تعلقات‘ کا ہر طرح سے احاطہ کیا جائے گا جبکہ اس میں یوکرین کے حوالے سے کسی ممکنہ حل اور دونوں صدور کے درمیان ملاقات کی تیاری بھی شامل ہے۔

    روس کا کہنا ہے کہ سرگئی لاوروف اور مارکو روبیو نے سنیچر کو ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔سابق صدر جو بائیڈن اور اتحادیوں نے یوکرین پر حملے کے بعد روس پابندیاں لگا دی تھیں، جس کا مقصد روس کو کریملن کو کمزور کرنا اور جنگی استعداد کو محدود کرنا تھا۔روس کے ساورن ویلتھ فنڈ کے سربراہ نے ٹرمپ کو ’مسئلے کو حل کروانے والا‘ قرار دیا ہے۔کیریل دمتروی نے ریاض میں صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو یقینی طور پر مسئلہ حل کروانے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں بہت سے مسائل کو تیزی اور کامیابی سے حل کرایا ہے۔‘

    ریاض جو غزہ کی پٹی کے مستقبل کے حوالے سے واشنگٹن کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے، نے ٹرمپ انتظامیہ اور ماسکو کے درمیان ابتدائی رابطوں کے لیے کردار ادا کیا اور پچھلے ہفتے قیدیوں کے محفوظ تبادلے میں بھی مدد دی۔

    اسلام آباد میں رجب طیب ایردوان انٹرچینج کا افتتاح

    قصور میں باغی ٹی وی کے دفتر کا مبشر لقمان نے کیا افتتاح

    سیالکوٹ: 16 سال سے مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم انٹرپول کے ذریعے کروشیا سے گرفتار

    مصطفی عامر قتل کیس ، ملزم ارمغان عدالت میں بے ہوش، ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    سیکیورٹی فورسز کی جنوبی وزیرستان میں کارروائی، 30 خارجی دہشتگرد ہلاک

  • ٹرمپ،پیوٹن ٹیلیفونک رابطہ، یوکرین جنگ خاتمے پر آمادگی

    ٹرمپ،پیوٹن ٹیلیفونک رابطہ، یوکرین جنگ خاتمے پر آمادگی

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو میں صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ وہ یوکرین جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

    امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین جنگ کا خاتمہ دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ مزید اموات کو روکا جا سکے۔ اُن تمام جوان اور خوبصورت لوگوں کو ذہن میں لائیں جو آپ کے بچوں کی ہی طرح ہیں لیکن بے وجہ مارے گئے اور اس کا احساس پیوٹن کو بھی ہے۔ اگر میں صدر ہوتا تو روس اور یوکرین جنگ کبھی شروع نہ ہوتی۔ جوبائیڈن ہماری قوم کے لیے مکمل شرمندگی ثابت ہوئے ہیں۔

    ٹرمپ نے اس جنگ کے جلد خاتمے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس اس کے خاتمے کے لیے ایک ٹھوس منصوبہ ہےامریکی صدر نے جلد از جلد جنگ کے خاتمے کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ جلد ختم ہو۔ ہر دن لوگ مر رہے ہیں اور یہ جنگ بد سے بدترین ہوتی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پسکوف نے کہا کہ وہ اس رپورٹ کی تصدیق یا تردید نہیں کرسکتے کیونکہ روس اور امریکا کے درمیان رابطے مختلف چینلز کے ذریعے ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اگلے ہفتے میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے۔امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرین کے ساتھ 500 ملین ڈالر کے معاہدے کی تجویز دی ہے جس کے تحت یوکرین کو نایاب معدنیات اور گیس تک رسائی حاصل ہو گی بدلے میں کسی ممکنہ امن معاہدے میں سیکیورٹی کی ضمانتیں فراہم کی جائیں گی۔

  • روسی صدر کے ایک اور مخالف، سابق روسی جنرل کی پراسرار موت

    روسی صدر کے ایک اور مخالف، سابق روسی جنرل کی پراسرار موت

    روس اور یوکرین جنگ کی وجہ سے دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی، روسی صدر کو جنگ کی وجہ سے مسلسل تنقید اور مخالفت کا سامنا ہے،ایسے میں روسی صدر کے مخالف افراد کی پراسرار طریقے سے موت کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں

    اب حالیہ وقعہ میں روسی صدر کے ایک مخالف،سابق روسی جنرل ولادیمیر سویریدوف کی لاش ملی ہے، سابق روسی جنرل کی لاش ایک خاتون کی لاش کے ہمراہ بستر سے ملی، امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق روسی جنرل ولا دیمیر یدوف نے فضائیہ کی ٹریننگ کے حوالے سے روسی صدر پیوتن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، اب سابق روسی جنرل کی لاش ملی،خاتون ،کی شناخت سابق جنرل کی بیوی کے طور پر ہوئی، سابق جنرل ولادیمیر کی عمر 68 برس تھی،

    ماسکو کی سیکورٹی سروسز سے منسلک روسی آؤٹ لیٹس بازا اور کومرسنٹ کی رپورٹ کے مطابق سابق روسی جنرل پر تشدد نہیں ہوا، نہ ہی انکی اہلیہ پر تشدد ہوا، کریملن نے سابق روسی جنرل کی موت پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق روسی جنرل اور اسکی اہلیہ کی لاشیں گھر میں ایک ہی بستر پر ملیں،سابق روسی جنرل نے 2007 میں روسی میگزین کو ایک انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے روسی صدر پر تنقید کی تھی اور پائلٹوں کی ٹریننگ پر اظہار تشویش کیا تھا

    قبل ازیں ایک روسی تاجر جس نے یوکرین حملوں کے حوالہ سے روسی صدر کی مخالفت کی تھی کی لاش بھارتی ریاست اڈیشہ سے ملی تھی، 2015 میں سابق سوویت یونین کے عظیم سیاستدان سمجھے جانے والے روس کے نیمتسوف کو بھی قتل کر دیا گیا تھا، انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے وکیل اسٹینسلاو مارکیلوف کو بھی 2009 میں قتل کر دیا گیا تھا،

    روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    ہ برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی اپیل

    امریکی صدر جوبائیڈن سے جرمن چانسلر اولاف شُولس کی وائٹ ہاوس میں ملاقات

    وس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی

    بھارت مکاری کا شہنشاہ:مفاد پرمبنی پالیسیاں:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی:یوکرین پرامریکہ کا مخالف

  • یوکرین جنگ سے معاشی طور پر متاثرہ ممالک میں پاکستان بھی شامل

    یوکرین جنگ سے معاشی طور پر متاثرہ ممالک میں پاکستان بھی شامل

    اقوام متحدہ نے پاکستان کو یوکرین جنگ میں متاثر ہونے والے ممالک میں شامل کردیا۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے معاشی و سماجی کمیشن برائے ایشیا اور پیسیفک (یو این ای ایس سی اے پی) نے خطے کے خصوصی صورتحال والے ممالک میں پاکستان سمیت 12 ممالک کو شامل کرلیا ہے، ان ممالک کو یوکرین سمیت دیگر جاری جنگوں سے متاثر ہونے والے ممالک کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

    بھارت روس سے کتنا تیل لے رہا؟ تحریک انصاف کے پروپیگنڈے کی حقیقت سامنے آ گئی

    ’یوکرین میں جنگ :اثرات، ایکسپوجر، ایشیا اور پیسیفک میں پالیسی مسائل‘ کے نام سے آن لائن جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق 12 ممالک کے معاشی ڈھانچے موجودہ صورتحال کے سبب بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

    پالیسی رپورٹ کے مطابق ان ممالک کو توانائی اور خوارک کی بُلند قیمتوں، کم بیرونی مالیاتی آمد، مالیاتی لاگت میں اضافے اور کاروباری جذبے میں اچانک تبدیلی نے متاثر کیا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان ممالک میں آرمینیا، کمبوڈیا، جورجیا، قازقستان، کیرباتی، مالدیپ، پاکستان، صومالیہ، ساموا، جزیرہ سلیمان، سری لنکا، تاجکستان اور وانواتو شامل ہیں۔

    توانائی کے حوالے سے پالیسی پیپر کے مطابق توانائی کے حوالے سے کمبوڈیا، پاکستان، جزیرہ سلیمان اور وانواتو کو توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے ایشیا پیسیفک کے دیگر ممالک کےمقابلےمیں متاثر کیا ہے، جبکہ پاکستان اور سری لنکا بیرونی قرضوں اور قرضوں کی ادائیگی کے باعث زیادہ بے نقاب ہوئے ہیں پاکستان بیرونی قرضوں اور بینکنگ سیکٹر سے زیادہ متاثر ہے۔

    پیوٹن کی حکمت عملی کامیاب رہی:روسی کرنسی کی قیمت میں ڈالر کےمقابلے میں ریکارڈ…

    ای ایس سی اے پی، ایشیا پیسیفک کے ان ممالک سے رابطے میں ہے جو یوکرین جنگ کے باعث زیادہ متاثر ہوئے ہیں، پاکستان، سری لنکا اورمالدیپ میں خواتین آجروں کو ای کامرس اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے حوالے سے ٹریننگ دے رہے ہیں قازقستان اور تاجکستان میں سپلائی چین کنیکٹیویٹی پرکوویڈ 19 وبائی امراض کے اثرات کا جائزہ؛ سری لنکا میں پائیدار مال کی نقل و حمل کے بارے میں پالیسی مشورہ اور پاکستان، قازقستان، سری لنکا، ساموا اور تاجکستان میں مالی وسائل کو بہتر کرنے کے پالیسی آپشنز پر بھی غور کر رہا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق عالمی توانائی اورخوراک کی قیمتوں میں اضافےسے مہنگائی سے غریب گھرانے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اسی وقت، بڑھتی ہوئی افراط زر کے درمیان بڑھتی ہوئی شرح سود گھرانوں کی بیلنس شیٹ، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور حکومتوں کی قرض کی خدمت کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ خوراک کی بڑھتی قیمتوں سے غریبوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حکومتوں کو سبسڈی دینی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ان سبسڈی اسکیموں سے ضرورت مندوں کو فائدہ ہوگا، تاہم اس ک لیے مضبوط مالی صورتحال کی ضرورت ہوگی جو کہ عالمی وبا کے بعد ایشیا پیسیفک خطے میں پہلے ہی خراب ہوچکی ہے مالیاتی گنجائش کو بڑھانے اور عوامی قرضوں کی پائیداری کو برقرار رکھنے کے لیے، مختلف مالیاتی اور مالیاتی پالیسی کے اختیارات دستیاب ہیں اور انہیں فوری بنیادوں پر تلاش کیا جانا چاہیے۔

    روس یوکرین تنازع دنیا کی پہلی ’ہائبرڈجنگ‘ ہے، صدر مائیکرو سافٹ

    معاشی غیر یقینی صورتحال میں اضافے کے باعث عالمی سرمایہ کار محفوظ منڈیوں کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، جس کے سبب دنیا بھر کے ترقی پذیر ممالک کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے ان ٹرانسمیشن چینلز کے ذریعے، جنگ کے نتیجے میں کمزور اقتصادی ترقی، وسیع مالیاتی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور خطے میں زیادہ مالیاتی اخراجات ہوں گے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ دیکھتے ہوئے کہ ایشیا پیسیفک کے زیادہ تر ملک توانائی اور خوراک کے خالص درآمد کنندگان ہیں، خوراک کا ‘کنزیومر پرائس انڈیکس’ کی باسکٹ میں 40 فیصد حصہ ہے، مارچ 2022 میں خطے میں اوسط مہنگائی بڑھ کر 7 اعشاریہ 3 فیصد ہوگئی تھی۔

    اسی طرح پاکستان میں بھی اپریل 2022 میں مہنگائی کی شرح 13 اعشاریہ 4 فیصد ہوگئی جو مرکزی بینک کے ہدف سے دگنی شرح ہے مجموعی گھریلو استعمال کو کم کرنے کے علاوہ، خوراک اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں غریب گھرانوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کرے گی۔

    پالیسی کے منتخب اختیارات کی تجویز کرتے ہوئے، پالیسی پیپر میں کہا گیا ہے کہ ممالک کو کم از کم عارضی طور پر، تجارتی لبرلائزیشن اور متاثرہ مصنوعات کے لیے سہولت کاری کے اقدامات کو تجارت اور سرمایہ کاری کےشعبے میں قلیل مدتی پالیسیوں کے طور پرمتعارف کرانا چاہیے۔ درمیانی مدت میں، ممالک ڈیجیٹل تجارتی سہولت کاری کو تیز کر سکتے ہیں جو تجارتی لاگت کو کم کرنے، ترسیل کے اوقات کو کم کرنے اور خراب ہونے والی زرعی مصنوعات کے نقصانات کو کم کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

    روبل میں لین دین،روسی کرنسی کی قدر میں حیران کن اضافہ

    خطے کے ممالک کو مالی اضافے اور پالیسی کی ساکھ کو بہتر کرنے کے لیے متعدد مالیاتی آپشنز پر کام کرنا ہوگا، یہ ممالک عارضی طور پر اشیائے ضروریہ پر ٹیکس کو کم اور قومی ایمرجنسی مالیاتی میکانزم کی کوریج میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ایشیا پیسیفک خطے میں برآمدات کی کارکردگی ملی جلی ریکارڈ کی گئی، تاہم برآمدی نمو میں آنے والے مہینوں میں اضافے کی توقع ہے۔ وسیع معنوں میں کمزور برآمدی آمدنی اور کم ہوتی سرمایہ کاری، منفی ‘ٹرمز آف ٹریڈ’ کے ساتھ ادائیگیوں کے توازن پر بڑا دباؤ ڈال سکتی ہے۔

    مزید بتایا گیا کہ کچھ اشاریوں کے مطابق سیاحتی سرگرمیوں کے جذبے کو بھی ٹھیس پہنچی ہے یشیا اور پیسیفک میں سفر سے متعلق متعدد ویب سائٹس پر سماجی بات چیت کی بنیاد پر مارچ اور اپریل 2022 میں سیاحت کے جذبے میں کمی دیکھی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یوکرین کی جنگ کے سبب عالمی بُلند شرح سود اور معاشی غیر یقینی کی صورتحال سے ایشیا پیسیفک حکومتوں کی مالیاتی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ جنگ کے باعث خطے کے زیادہ تر معیشتوں میں توانائی اور اشیائے ضروریہ پر بُلند سبسڈی اخراجات اور کم محصولات کے سبب مالیاتی صورتحال کمزور ہوئی ہے خطے میں اوسط مالیاتی خسارے کا جی ڈی پی تناسب میں 2019 میں ایک اعشاریہ 3 فیصد کے مقابلے میں 2020 اور 2021 میں 5 اعشاریہ 3 فیصد تک پہنچنا بھی خطرے کی علامت ہے۔

    خوراک کی شدید قلت کے باعث ہم بھوک سے مرنے والے ہیں، سری لنکن وزیراعظم کی دنیا سے…

  • یوکرین جنگ:امریکہ میں چالیس سالہ مہنگائی کےتمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

    یوکرین جنگ:امریکہ میں چالیس سالہ مہنگائی کےتمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

    امریکہ میں گزشتہ 12 ماہ کے دوران افراط زر کی شرح میں 7.9 فیصد تک کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے-

    باغی ٹی وی :امریکی میڈیا کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں گزشتہ چالیس سال میں ہونے والی مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں امریکہ میں مہنگائی میں تیز ترین اضافہ یوکرین جنگ کے بعد ہوا ہے ماسکو کے خلاف مغربی ممالک کی پابندیوں کے نتیجے میں پٹرول کے ساتھ ساتھ دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔

    ولادیمیر پیوٹن یوکرین میں نسل کشی کے ذمہ دار ہیں،امریکی صدر

    ماہرین کے مطابق مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیوںکہ توانائی اور خوراک کی طویل عرصے تک جاری رہنے والی ترسیل میں رکاوٹوں کے خطرات بڑھ چکے ہیں۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے خام تیل کی قیمتوں میں کمی وبیشی کا سلسلہ جاری ہے اور عالمی مارکیٹ میں ایک بار پھر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔

    سفارت کاری کے بھیس میں جاسوسی کا الزام ،فرانس نے 6 مشتبہ روسیوں کو ملک سے بے دخل…

    عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4 ڈالر 25 سینٹ کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد برینٹ خام تیل 105.23 ڈالر فی بیرل کا ہو گیا جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 3 ڈالر 56 سینٹ اضافے سے 101.20 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

    واضح رہے کہ روس یوکرین جنگ شروع ہونے کے چند دن بعد ہی گزشتہ ماہ مارچ کے اوائل میں خام تیل کی قیمتیں ریکارڈ 10 سال کی بلندی کو چھو گئی تھیں اور خام تیل پہلی بار 119.84 ڈالر فی بیرل کا ہو گیا تھا۔ بعد ازاں تیل کی قیمتوں میں گراوٹ نظر آئی جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ جاری ہے۔

    یوکرینی صدر نے جنوبی کوریا سے طیارہ شکن میزائل سسٹم اور جنگی ساز و سامان مانگ لیا

  • امریکی صدر نے روسی صدر پیوٹن کو جنگی مجرم قرار دے دیا

    امریکی صدر نے روسی صدر پیوٹن کو جنگی مجرم قرار دے دیا

    امریکی صدرجوبائیڈن نے روسی صدر پیوٹن کو جنگی مجرم قرار دے دیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ایجسی کے مطابق یوکرین میں روس نے کیف کے ایک تھیٹر اور کھانا لینے کے لیے قطار میں کھڑے عام شہریوں کو نشانہ بنایا ہے یوکرین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ روسی افواج نے ماریوپول کے تھیٹر پر ایک بڑا بم گرایا جس سے متعدد افراد ہلاک ہو گئے جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق تھیٹر میں کم از کم 500 افراد موجود تھے۔

    یوکرین نے امریکی مدد سے نیوکلئیر ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی،ایٹمی محاذ آرائی…

    امریکی صدر نے تھیٹر میں پناہ گزینوں کو نشانہ بنانے پر روسی صدر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی صدر جنگی مجرم ہیں یہ ناقابل معافی ہے کہ کریملن امن مذاکرات کے دوران جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔

    دوسری جا نب کیف میں امریکہ کے سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ روسی فوجیوں نے کیف کے علاقے چرنیف میں کھانا حاصل کرنے کے لیے لائن میں کھڑے 10 افراد کو نشانہ بنایا۔

    تاہم روس کی جانب سے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کی گئی ہے روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ افواج نے عمارت پر حملہ نہیں کیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز قوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت (عالمی عدالتِ انصاف) نے روس کو یوکرین کے خلاف فوجی چڑھائی ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ماسکو کی جانب سے فوجی طاقت کے استعمال سے شدید تشویش کا شکار ہے –

    داہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف کے ججوں نے کہا تھا کہ روسی فیڈریشن کو اس کیس کا حتمی فیصلہ آنے تک یوکرین کےعلاقے میں 24 فروری 2022 کو شروع کی گئی فوجی کارروائیوں کو معطل کرنا ہوگا روس کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اس کے زیرقبضہ یا اس کی حمایت یافتہ دیگر فورسز بشمول دونیسک اور لوہانسک کی فوجیں کیف کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو بند کردیں-

    روسی صدر کو لڑائی کا چیلنج ، چیچن سربراہ کی ایلون مسک کو نصیحت

    آئی سی جے نے اپنے بیان میں کہا کہ تھا روس کے یوکرین میں ’’خصوصی فوجی آپریشن‘‘کے نتیجے میں لاتعداد شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔اس سے عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی سمیت اہم مادی نقصان ہوا ہے حملے جاری ہیں اور شہری آبادی کے لیے جینے کے مشکل حالات پیدا ہورہے ہیں بہت سے افراد کوبنیادی غذائی اجزاء، پینے کے قابل پانی، بجلی، ضروری ادویہ یا سردی سے بچنے کے لیے مصنوعی تپش تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ بہت بڑی تعداد میں لوگ انتہائی غیرمحفوظ حالات میں جنگ سے سب سے زیادہ متاثرہ شہروں سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں-

    دوسری جانب زیلنسکی نے ٹویٹراس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یوکرین نے عالمی عدالت انصاف میں روس کے خلاف اپنے مقدمے میں مکمل کامیابی حاصل کی ہے آئی سی جے نے روس کو فوری طور پر حملہ روکنے کا حکم دیا ہے یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایک پابند حکم ہےروس کو فی الفوراس کی تعمیل کرنی چاہیے اس حکم کو نظراندازکرنے سے روس (دنیا میں) مزید تنہا ہوکررہ جائے گا۔

    بدھ کو امریکی کانگریس سے ورچوئل خطاب میں زیلنسکی نے یوکرین میں موت اور تباہی کی گرافک تصاویر پرمشتمل ویڈیو بھی دکھائی تھی انھوں نے کہا تھا کہ روس نے یوکرین کے آسمان کو ہزاروں لوگوں کی موت کا ذریعہ بنادیا ہے اس ہلاکت آفرینی کا اختتام ’’یوکرین کاآسمان بند کردو‘‘کے ساتھ ہوسکتا ہے۔

    یوکرین روس جنگ : پانچ صحافی ہلاک درجنوں زخمی

    زیلنسکی نے یوکرین پر نو فلائی زون کے نفاذ اور گذشتہ ماہ سے جاری روسی حملوں کاجواب دینے کے لیے مزید طیاروں اور دفاعی نظام مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا انھوں نے صدرجوبائیڈن سے انگریزی میں براہ راست درخواست کے ساتھ اپنا خطاب ختم کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری خواہش ہے کہ آپ دنیا کے رہنما بنیں دنیا کا رہ نما ہونے کا مطلب امن کا رہبربننا ہے-

    زیلنسکی نے اپنی تقریرمیں سنہ1941ء میں جزیرہ ہوائی میں پرل ہاربرپرجاپانی فورسزاور 2001ء میں القاعدہ کے عسکریت پسندوں کے اغوا شدہ طیاروں کے ذریعے امریکا پر ماضی کے حملوں کا حوالہ دیا تھا انھوں نے جنوبی ڈکوٹا میں پہاڑوں کے کنارے واقع یادگارماؤنٹ رشمور کا بھی ذکر کیا تھا جس میں امریکا کے چارعظیم ترین صدور کے مجسم چہرے تھے۔

    واضح رہے کہ معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے علاوہ جو بائیڈن اور بہت سے امریکی قانون سازوں نے ان خدشات کے پیش نظریوکرین میں نو فلائی زون کی مزاحمت کی ہے کہ اس سے جوہری ہتھیاروں سے لیس روس کے ساتھ تنازع بڑھ جائے گا۔ وائٹ ہاؤس نے اب تک روسی ساختہ مِگ جنگی طیاروں کو یوکرین میں منتقل کرنے میں مدد کی تجویز کی حمایت نہیں کی ہے حالانکہ کانگریس کے بعض ارکان اس تجویز کے حامی ہیں۔

    زیلنسکی نے واشنگٹن میں امریکی قانون سازوں سے خطاب سے قبل کینیڈا کی پارلیمان سے روس پرمزید مغربی پابندیوں اور یوکرین پرنو فلائی زون کے نفاذ کی درخواست کی تھی۔

    روسی صدر پیوٹن عالمی سلامتی کیلئے خطرہ:برطانیہ

    زیلنسکی نے اس سے قبل ایک ترجمان کے ذریعے تقریر میں کہا تھا کہ اس وقت ہمارے ملک کی تقدیر کا فیصلہ کیا جارہا ہے ۔یوکرین کو ایسی دہشت گردی کا سامنا ہے جس کا تجربہ یورپ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد نہیں کیا تھا زیلنسکی نے امن کے تحفظ اور قدرتی اور انسانی وجہ سے آنے والی آفات سے نمٹنے کے لیے ایک نیا بین الاقوامی ادارہ تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

    انھوں نے حالیہ ہفتوں میں یورپی اور برطانوی پارلیمانوں سمیت غیر ملکی سامعین سے مختلف تقریروں میں اپنے ملک کے خلاف روس کی جنگ کے مقابلے میں حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ری پبلکن اور ڈیموکریٹس دونوں نے منقسم کانگریس میں اتحاد کا مظاہرہ کیا ہےدونوں جماعتوں کے کچھ قانون سازوں نے بائیڈن پر زوردیا ہے کہ وہ یوکرین کی مدد میں مزید آگے بڑھیں اور اس کوجنگی طیارے مہیا کیے جائیں-

    امریکہ کی یوکرین کیلئے 13 ارب 60 کروڑ ڈالر کی امداد کی منظوری

    قبل ازیں صدربائیڈن نے منگل کے روز یوکرین کومزید ہتھیاروں کے حصول اور انسانی امداد کے لیے 13.6 ارب ڈالر کی ہنگامی امداد دینے کے قانون پردست خط کیے تھے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدہ دار نے بتایا کہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن آج امریکی امداد سے متعلق تبصرے میں یوکرین کو 80 کروڑڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کریں گے۔

    منگل کو امریکی سینیٹ نے متفقہ طور پرروسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو جنگی مجرم قراردینے کے لیے ایک مذمتی قرارداد منظور کی تھی اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ روس کے حملے کے بعد قریباً 30 لاکھ افراد یوکرین سے اپنا گھربارچھوڑ کرجاچکے ہیں ۔ان میں زیادہ ترخواتین اور بچے ہیں اور وہ پڑوسی ممالک، بالخصوص پولینڈ میں محفوظ پناہ کے خواہاں ہیں۔

    میانمار کی فوج جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے : جواب دینا ہوگا : اقوام متحدہ

    خیال رہے کہ جنگ کے دوران غیرملکی رہنماؤں کا امریکی کانگریس سے خطاب شاذونادر ہی ہوتا ہے اس سے قبل1941ء برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل نے پرل ہاربرپر جاپان کے حملے کے بعد کانگریس میں گفتگو کی تھی۔اس کے چند ہفتے کے بعد ہی امریکا دوسری جنگ عظیم میں شامل ہوگیا تھا۔چرچل نے خبردارکیا تھاکہ بہت سی مایوسیاں اور ناخوشگوارحیرتیں ہمارا انتظار کر رہی ہیں۔

    سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سابق روسی صدر بورس یلسن نے 1992ء میں کانگریس سے خطاب کیا تھا۔ یلسن نے اس حوصلہ افزا تقریر میں اعلان کیا تھا کہ ہم اس دور کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں جب امریکا اورروس بندوقوں کی نالیوں سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا کرتے تھے اور کسی بھی وقت ٹریگر کھینچنے کوتیار تھے-

    لیکن امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے روس پر عاید کردہ حالیہ پابندیوں اور یوکرین کی فوجی صلاحیت کو بڑھانے کے اقدامات نے ایک مرتبہ پھر تاریخ دُہرائی ہے اور امریکااورسابق سوویت یونین کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری سرد جنگ کی یادیں تازہ کردی ہیں بورس یلسن نے اپنی مذکورہ تقریر میں اسی سردجنگ کا حوالہ دیا تھا۔

    یوکرین روس جنگ :دارالحکومت کیف، اوڈیسا اور زپوریزیا میں روسی فوج کی بمباری،سخت…

  • یوکرین جنگ: روس کی خاموش حمایت پربورس جانسن سے بھارت کی مالی امداد روکنے کا مطالبہ

    یوکرین جنگ: روس کی خاموش حمایت پربورس جانسن سے بھارت کی مالی امداد روکنے کا مطالبہ

    لندن: برطانیہ کے رکن اسمبلی جونی مرسر نے وزیر اعظم بورس جانسن سے یوکرین جنگ میں روس کی خاموش حمایت کرنے پر بھارت کی 5 کروڑ پاؤنڈز مالی امداد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی رکن اسمبلی جونی مرسر نے کہا ہے کہ بھارت نے روس کے یوکرین پر حملے کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قراردادوں پر ووٹ دینے سے کئی بار گریز کیا ہے اس لیے بھارت کی مالی امداد کو روک دیا جائے۔


    جونی مرسر نے اپنی ٹویٹ میں وزیر اعظم بورس جانسن سے مطالبہ کیا کہ رواں برس ہم بھارت کو غیر ملکی امداد کے طور پر 5 کروڑ 53 لاکھ پاؤنڈز کی خطیر رقم دے رہے ہیں جو اب روک دینی چاہیئے۔

    روس، یوکرین میں جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے:امریکہ

    جونی مرسر نے مزید لکھا کہ میں غیر ملکی امداد کا بھرپور حامی ہوں تاہم اگر روسی صدر ولادیمیر پوٹن ہمارے دوستوں پر پابندیاں لگاتے ہیں تو وقت آ گیا ہے کہ بھارت کی مالی امداد بھی بند کردی جائے۔

    66 ہزاریوکرینی مرد روس سے لڑنے کیلئے بیرون ملک سے وطن واپس لوٹ آئے

    برطانوی رکن اسمبلی نے اخبار ’’دا ٹیلی گراف‘‘ کی ایک رپورٹ کا بھی حوالہ دیا جس میں امریکی صدر جوبائیڈن کے دباؤ کے باوجود بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی کی طرف سے کی مذمت سے انکار کیا تھا۔

    یوکرین کی طرح مسلمان ممالک پر حملوں کی مذمت کیوں نہیں کی جاتی؟ بیلا حدید کا دنیا…