Baaghi TV

Tag: یو ایس ایس جیرالڈ

  • امریکا کا  جیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ سے واپس بلانے کا فیصلہ

    امریکا کا جیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کو مشرقِ وسطیٰ سے واپس بلانے کا فیصلہ

    امریکا نے یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (سی وی این-78) کو مشرقِ وسطیٰ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیاہے-

    عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے اس جدید طیارہ بردار بحری جہاز کی واپسی کو اسٹریٹجک ترتیبِ نو کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد خطے میں فوجی تعیناتی کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ کرنا ہےجیرالڈ فورڈ دنیا کے جدید ترین ایئرکرافٹ کیریئرز میں شمار ہوتا ہے اور اسے حالیہ عرصے میں مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے اظہار کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کو امریکا کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور ممکنہ سفارتی کوششوں سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے خطے میں کشیدگی میں کمی کا تاثر بھی دیا جا سکتا ہے تاہم امریکی حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات محدود رکھی گئی ہیں۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تجویز مسترد کرتے ہوئے جوہری معاہدے تک آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف اپنے مقاصد تقریباً حاصل کر چکے ہیں، اس کے پاس میزائل سازی کی صلاحیت انتہائی کم رہ گئی ہے، ایران کے 82 فیصد میزائل تباہ کر دیئے ہیں، ایران کے پاس کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہیئں۔

    بدھ کو امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزوس کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ پہلے ایران کو جوہری معاہدے پر آمادہ ہونا ہوگا۔

    رپورٹس کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینیٹ کام) نے ایران پر ”مختصر اور طاقتور“ فضائی حملوں کا ایک منصوبہ بھی تیار کیا ہے، جس کا مقصد مذاکرات میں تعطل توڑنا بتایا جا رہا ہے ان ممکنہ حملوں میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے ان حملوں کے بعد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر مجبور کیا جائے گا تاہم تاحال کسی فوجی کارروائی کا باضابطہ حکم جاری نہیں کیا گیا یران کی بحری ناکہ بندی بمباری کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ہے اور ایران اس صورت حال میں شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ان کے مطابق ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔

    امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی تیل کی برآمدات رکنے سے اس کے آئل ذخائر اور پائپ لائنز خطرناک حد تک دباؤ میں ہیں تاہم بعض ماہرین نے اس دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے تہران ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے معاہدہ چاہتا ہے لیکن امریکا اس وقت تک کوئی نرمی نہیں دکھائے گا جب تک جوہری معاملہ حل نہیں ہوتا۔