ائیر انڈیا نے اپنے ایک بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کو اس وقت گراؤنڈ کر دیا جب ایک پائلٹ نے پرواز کے دوران فیول کنٹرول سوئچ سے متعلق مسئلے کی نشاندہی کی،جس کی برطانیہ کی ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئر انڈیا سے وضاحت طلب کر لی-
روئٹرز کےمطابق برطانیہ کی ایوی ایشن اتھارٹی نے ایئر انڈیا سے اس بات کی وضاحت کرنے کو کہا ہے کہ بوئنگ (BA.N)ڈریم لائنر مسافر طیارہ جو اتوار کو لندن سے ممکنہ طور پر ناقص فیول سوئچ کے ساتھ اڑان بھرنے کے لیے حفاظتی جانچ کے لیے ہندوستان پہنچنے پر گراؤنڈ کیوں کیا گیا تھا۔
یو کے سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے منگل کو ایئر لائن کو لکھے ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ ایئر لائن ایک ہفتے کے اندر مکمل جواب جمع نہیں کراتی ہے تو ایئر انڈیا اور اس کے بوئنگ 787 بیڑے کے خلاف ریگولیٹری کارروائی کی جائے گی-
واضح رہے کہ ائیر انڈیا نے اپنے ایک بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کو اس وقت گراؤنڈ کر دیا جب ایک پائلٹ نے پرواز کے دوران فیول کنٹرول سوئچ سے متعلق مسئلے کی نشاندہی کی یہ وہی سسٹم ہے جو گزشتہ برس ہونے والے ایک مہلک طیارہ حادثے کی تحقیقات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ائر انڈیا کے مطابق طیارے کو احتیاطی طور پر پروازوں سے ہٹا دیا گیا ہے اور اصل ساز و سامان بنانے والی کمپنی ا وای ایم کو پائلٹ کے خدشات کا فوری جائزہ لینے کے لیے شامل کیا گیا ہے۔
ائیر لائن کا کہنا ہے کہ اس معاملے سے بھارتی ایوی ایشن ریگولیٹر کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ ادھر بوئنگ اور بھارتی وزارتِ شہری ہوا بازی نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
واضح رہے کہ ٹاٹا گروپ اور سنگاپور ایئر لائنز کی ملکیت ائیر انڈیا کو جون 2025 ء میں ہونے والے ڈریم لائنر حادثے کے بعد شدید تنقید اور جانچ پڑتال کا سامنا ہے، جس میں 260 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ائیر انڈیا کا کہنا ہے کہ ریگولیٹر کی ہدایت پر گزشتہ سال اپنے تمام بوئنگ 787 طیاروں کے فیول کنٹرول سوئچز کی جانچ کی گئی تھی، تاہم اس وقت کسی قسم کی خرابی سامنے نہیں آئی تھی۔
خبر رساں اداروں کے مطابق جون 12 کو پیش آنے والے حادثے کی کاک پٹ ریکارڈنگ میں دونوں پائلٹوں کے درمیان ہونے والی گفتگو سے عندیہ ملتا ہے کہ طیارے کے کپتان نے انجنوں کو جانے والے ایندھن کا بہاؤ بند کر دیا تھا، جسے امریکی حکام کی ابتدائی تحقیقات کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔




