Baaghi TV

Tag: یہودی

  • یہودی عبادت گاہ میں لوگوں کو یرغمال بنانےکا واقعہ دہشتگردی ہے:امریکی صدر

    یہودی عبادت گاہ میں لوگوں کو یرغمال بنانےکا واقعہ دہشتگردی ہے:امریکی صدر

    واشنگٹن :یہودی عبادت گاہ میں لوگوں کو یرغمال بنانےکا واقعہ دہشتگردی ہے:اطلاعات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے ٹیکساس میں ایک شخص کی جانب سے سیناگاگ (یہودی عبادت گاہ) میں گھس کر ربی (یہودی عالم) سمیت 4 افراد کو یرغمال بنانےکے واقعےکو دہشت گردی قرار دے دیا۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نےکہا ہےکہ یہودی عبادت گاہ کے واقعے پر اٹارنی جنرل سے بات کی ہے، حملہ کرنے والے شخص نے مبینہ طور پر سڑک پر اپنا ہتھیار نکالا، زیادہ معلومات نہیں کہ مسلح شخص نے اس عبادت گاہ کو کیوں نشانہ بنایا۔

    خیال رہےکہ آج امریکا کی ریاست ٹیکساس میں ایک شخص نے یہودی عبادت گاہ میں گھس کر ربی سمیت 4 افراد کو یرغمال بنالیا تھا، جسے بعدازاں امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی (ایف بی آئی) نے آپریشن کرکے ہلاک کردیا اور تمام یرغمالی بحفاظت رہا ہوگئے۔

    دوسری جانب سیناگاگ میں لوگوں کویرغمال بنانے والا شخص برطانوی شہری نکلا ہے، ایف بی آئی کا کہنا ہےکہ یہودی عبادت گاہ میں لوگوں کو یرغمال بنانے والے برطانوی شہری کی شناخت 44 سالہ ملک فیصل اکرم کے نام سے ہوئی ہے۔

    اس حوالے سے میڈیاکوجاری تفصیلات کے مطابق ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ واقعے میں اب تک کسی اور کے ملوث ہونےکے شواہد نہیں ملے ہیں۔

    اُدھر برطانوی وزارت خارجہ کا کہنا ہےکہ ٹیکساس میں برطانوی شہری کی ہلاکت سے آگاہ ہیں اور اس سلسلے میں امریکی حکام سے رابطے میں بھی ہیں۔

    برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق 44سالہ برطانوی شہری کا تعلق لنکاشائر کے علاقہ بلیک برن سے ہے۔جس کےبارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ ایک مسلمان تھا جس کا نام ملک فیصل اکرم بتایا جارہاہے ،اس نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا

  • ٹیکساس: یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    ٹیکساس: یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    لندن :ٹیکساس: یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا ،اطلاعات کے مطابق اس وقت امریکہ میڈیا چیخ چیخ کر کہہ رہا ہےکہ امریکی ریاست ٹیکساس میں مسلح شخص نے یہودیوں کی عبادت گا ہ میں داخل ہو کر وہاں موجود متعدد افراد کو یرغمال بنانے والوں میں ایک برطانوی شہری ملک فیصل اکرم بھی تھے جس نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا

    ادھر اس حوالے سے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ ٹیکساس کی عبادت گاہ میں چار افراد کو یرغمال بنانے کے بعد گولی مار کر ہلاک کرنے والے برطانوی شخص کا نام ملک فیصل اکرم ہے

    اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ بلیک برن سے تعلق رکھنے والا برطانوی 44 سالہ شخص ملک فیصل اکرم جو کہ ریاستہائے متحدہ میں نہیں رہتا تھا لیکن اس نے حال ہی میں وہاں کا سفر کیا تھا۔

    دوسری طرف اس حوالے سے ملک فیصل اکرم کے گھروالوں کا کہنا ہے کہ وہ اس کی موت سے سخت پریشانی میں مبتلا ہیں بتا نہیں سکتے کہ ملک فیصل نے اگرایسا کیا ہے تواس کے ہمارے اوپر کتنے منفی اثرات ہ ی ں ، انہوں نے مزید کہا کہ "وہ اس کے کسی بھی عمل سے اتفاق نہیں کرتے اور نہ اس کے ساتھ ہونے والے اس واقعہ پر وہ افسوس کرتے ہیں اگرواقعی ایسا ہے

    گھر والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس جرم کی معافی مانگتے ہیں اور ملک فیصل اکرم کے اس قبیح فعل سے برات کا اعلان کرتے ہیں‌

    اس حوالے سے فیصل اکرم کے بھائی کا کہنا ہے کہ انہیں بھی یہ احساس ہے کہ ہمارے بھائی نے اس دوران اپنے رویے سے غلط تاثر دیا لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس قدرآگے جاسکتا ہے

    گلبر نے کہا، "ایسا کچھ بھی نہیں تھا جو ہم اس سے کہہ سکتے تھے یا کیا کر سکتے تھے جو اسے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرتا۔”

    میٹروپولیٹن پولیس کا انسداد دہشت گردی یونٹ "امریکی حکام اور ایف بی آئی کے ساتھیوں سے رابطہ کر رہا ہے”، جس نے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ اس حملے میں کوئی اور شخص ملوث تھا۔

    ادھر اس حوالے سے مزید تفصیلات بھی موصول ہوئی ہیں کہ فیصل اکرم نے ہفتے کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے کے قریب کولی وِل میں کنگریگیشن بیت اسرائیل کی عبادت گاہ کے اندر ایک ربی سمیت چار افراد کو یرغمال بنا لیا۔

    ایک کو چھ گھنٹے کے بعد رہا کر دیا گیا اس سے پہلے کہ FBI SWAT کی ایک ٹیم رات 9 بجے کے قریب عمارت میں داخل ہوئی، حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور باقی تین کو بغیر کسی نقصان کے رہا کر دیا۔

    امریکہ سیکورٹی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اس دوران انہوں نے یرغمال بنانے والے کو عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سنا گیا، ایک پاکستانی نیورو سائنس دان جس کا القاعدہ سے تعلق کا شبہ ہے، جسے افغانستان میں زیر حراست امریکی فوجی افسران کو قتل کرنے کی کوشش کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ وہ صدیقی سے بات کرنا تھا ، جنہیں 2010 میں سزا سنائے جانے کے بعد فورٹ ورتھ، ٹیکساس میں ایف ایم سی کارسویل میں رکھا گیا ہے۔

    عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسے اپنی بہن کہا، لیکن کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے جان فلائیڈ نے کہا کہ صدیقی کا بھائی اس میں ملوث نہیں تھا۔اس نے ایک مذہبی تعلق کو بنیاد بنا کر بہن کہا ہوگا

    انہوں نے کہا، "اس حملہ آور کا ڈاکٹر عافیہ، ان کے خاندان، یا ڈاکٹر عافیہ کے لیے انصاف کے حصول کی عالمی مہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔”

    "ہم چاہتے ہیں کہ حملہ آور جان لے کہ اس کی حرکتیں برے ہیں اور ہم میں سے جو ڈاکٹر عافیہ کے لیے انصاف کے خواہاں ہیں ان کو براہ راست نقصان پہنچاتے ہیں۔”

    نیو یارک شہر میں ایک ربی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکساس میں یرغمال بنائے گئے ربی نے صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے،

    امریکی ریاست ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ کولی ولی کی بیتِ اسرائیل نامی یہودی عبادت گاہ (سائناگوگ) میں یرغمال بنائے گئے تمام افراد کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

    یاد رہےکہ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک شخص نے یہودی معبد میں راہب سمیت 4 افراد کو یرغمال بنایا تھا۔ 4 افراد کو یرغمال بنائے جانے کے بعد ایک یرغمالی کو رہا کیا گیا تھا۔ یہودی عبادت گاہ کی جانب سے دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنی جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

    پولیس چیف کے مطابق یہودی عبادت گاہ میں 10 گھنٹوں تک یرغمال رہنے والے تمام 4 افراد کو رہا کرا لیا گیا ہے،جبکہ تمام یرغمالی خیریت سے ہیں۔ یرغمال کرنے والا مشتبہ شخص ہلاک ہو چکا ہے، یرغمال بنائے جانے والے شخص کی شناخت ہو گئی ہے تاہم حکام کی جانب سے یرغمال شخص کی شناخت ابھی نہیں بتائی گئی۔یرغمال بنانے والے شخص نے دیگر مطالبات کے ساتھ پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

    واضح رہے عافیہ صدیقی افغانستان میں امریکی فوج اور حکومتی اہلکاروں پر مبینہ قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے 7 الزامات میں ٹیکساس کی جیل میں 86 برس کی قید کاٹ رہی ہیں۔

  • عرب امارات:یہودی بچّوں کے پہلے تربیتی کیمپ کا آغاز:یہودی مذہبی رہنما مشن پرمامور

    عرب امارات:یہودی بچّوں کے پہلے تربیتی کیمپ کا آغاز:یہودی مذہبی رہنما مشن پرمامور

    دبئی:عرب امارات میں اسرائیلی وزیراعظم کی آمد یہودیوں کے لیے بڑی مبارک ثآبت ہوئی :یہودی بچّوں کے پہلے تربیتی کیمپ کا آغازبھی انہیں تعلقات کے پیش خیمے کے طور پر پیش کیا جارہاہے: اطلاعات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں یہودی بچّوں کے پہلے دس روزہ تربیتی کیمپ کا پیر کے روز سےآغازہوگیا ہے۔ملک مقیم ربی نے اس اقدام کو’’گیم چینجر‘‘قرار دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق الصفا ،دبئی میں واقع منی معجزات یہودی پری اسکول میں منعقدہ کیمپ گان ایزی میں شرکاء کو یہود کی تاریخ اور مذہبی طریقوں کے اسباق پڑھائے جائیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ گیند بازی اور ٹیلنٹ شوزوغیرہ بھی کیمپ کی سرگرمیوں میں شامل ہیں۔

    متحدہ عرب امارات میں مقیم ربی لیوی ڈچمین نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ ’’یہ سب کچھ زبردست ہے۔ یہ ابراہیم معاہدے کا براہِ راست نتیجہ ہے اور ہم اس کے بارے میں بہت پرجوش ہیں‘‘۔

    کیمپ گان ایزی کے آغاز کے موقع پر اتفاق سے اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے یواے ای کاتاریخی دورہ کیا تھا۔انھوں نےابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی تھی۔ کسی اسرائیلی رہنما کا متحدہ عرب امارات کا یہ پہلا سرکاری دورہ تھا۔

    کیمپ گان ایزی دنیا بھر میں درجنوں مقامات پر منعقد ہوتا ہےاور وہ متحدہ عرب امارات میں یہودی بچّوں کو ان کے مذہبی ورثے کے بارے میں سکھانے کے لیے امریکا اور فرانس سے کونسلروں کولایا جارہا ہے۔ یہ کیمپ 22دسمبر تک جاری رہے گا۔اس میں شرکت کے لیے 50 سے زیادہ بچّوں نے اپنے ناموں کا اندراج کرایا ہے۔

    واضح رہے کہ ربی ڈچمین خود بھی کیمپ گان ایزی میں ایک نوجوان کے طور پر کام کرچکے ہیں۔ وہ گذشتہ سات سال سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ڈچمین نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ کیمپ متحدہ عرب امارات میں پرورش پانے والے یہودی بچوں کے لیے’کھیل کا پانسہ پلٹنے والا‘ہے۔

    اس سے انھیں نئے دوستوں سے تعلق داری قائم کرنے اور نئے لوگوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے۔اس ماحول میں متحدہ عرب امارات میں ایک بچّے کا بڑا ہونا معمول کی بات ہے۔

    ربی نے مزید کہا کہ ’’اگرچہ متحدہ عرب امارات میں یہودی برادری 2020 کے وسط میں اسرائیل اوریواے ای کے درمیان باضابطہ طور پرسفارتی تعلقات کے قیام سے پہلے بھی موجود تھی لیکن معاہدۂ ابراہیم پر دستخط دنیا بھر کے یہودکے لیے ایک اشارہ تھا کہ یو اے ای ان کے لیے ایک اچھا گھر بن سکتا ہے‘‘۔

    انھوں نے کہا کہ یہودی خاندانوں کے لحاظ سے اچانک متحدہ عرب امارات نقشے پرآگیا۔معاہدہ ابراہیم سے پہلے شاید وہ کبھی متحدہ عرب امارات میں آنے پر غور نہیں کرتے تھے کیونکہ انھیں یقین ہی نہیں تھا کہ اماراتیوں کااسرائیل کے بارے میں کیا نقطہ نظر ہوسکتا ہے؟ نیز دوسرے موضوعات پر وہ کیا رائے رکھتے ہیں؟‘‘ لیکن ربی اماراتی رہنماؤں کی جانب سے یہودی برادری کے ساتھ حسن سلوک کی خوب تعریف کی ہے۔

    اس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ دوطرفہ تعلقات معمول پر آنے کے بعد اس شانداربرتاؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ’’جب ہم متحدہ عرب امارات میں یہودی زندگی کا احیاء، رواداری اور بقائے باہمی کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ یواے ای میں بچّے ان ہی اقدار کے ساتھ پروان چڑھیں جواماراتی قیادت میں ہیں یعنی رواداری کی اقدار، احترام اور پُرامن بقائے باہمی کی اقداران میں بھی پائی جائیں

  • پہلےاسرائیلی وزیراعظم کا دورہ متحدہ امارات:سخت سیکورٹی میں استقبال کی تیاریاں:دنیا کی نظریں لگ گئیں

    پہلےاسرائیلی وزیراعظم کا دورہ متحدہ امارات:سخت سیکورٹی میں استقبال کی تیاریاں:دنیا کی نظریں لگ گئیں

    تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ آج متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کرنے والے ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی وقت وہ متحدہ عرب امارات اترسکتے ہیں‌، اس طرح یو اے ای کا دورہ کرنے والے وہ تاریخ کے پہلے اسرائیلی وزیراعظم بن جائیں گے۔ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ متحدہ عرب امارات کے دورے پر آج ابوظہبی پہنچ رہے ہیں جہاں ان کا استقبال ولی عہد شہزادہ محمد بن زائد النہیان کریں گے۔

    اسرائیلی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نفتالی بینیٹ کے ہمراہ اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہمراہ ہوگا۔ سرکاری دورے میں تجارتی او سفارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی رفتار پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے دورے کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

    خیال رہے کہ یہ کسی بھی اسرائیلی وزیراعظم کا پہلا سرکاری دورہ ہے۔ تاریخی دورے میں دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے معاہدہ ابراہیمی پر بات چیت کی جائے گی۔

    اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان امریکا کی ثالثی میں امن معاہدہ ایک سال قبل طے پایا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان نہ صرف سفارتی تعلقات بحال ہوچکے ہیں بلکہ کئی تجارتی معاہدے بھی ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکی ثالثی میں بحرین، متحدہ عرب امارات، سوڈان اور مراکش اسرائیل کو تسلیم کرکے اور سفارتی تعلقات بحال کرچکے ہیں۔

  • پاک اسرائیل تعلقات ، فوائد و نقصانات کا ایک تاریخی جائزہ از طہ منیب

    اسرائیل کے قیام اور اس سے تعلقات سے متعلق سوال پر قائد اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل مغرب کا ناجائز بچہ ہے جسے ہم تسلیم نہیں کر سکتے ، اسی طرح 1948 میں قائد اعظم کو پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان کا ٹیلیگرام موصول ہوا جسے اگنور کرتے ہوئے جواب نہیں دیا گیا۔ لیاقت علی خان کے پہلے دورہ امریکہ پر کچھ تاجروں نے انہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بعد معاشی و تجارتی اہمیت بیان کی تو انہوں نے کہا، "Gentleman our souls are not for sale”۔ پاکستان نے 1948 ، 1967 ، 1973 اور 1982 کی جنگوں میں عربوں کی حمایت کی ، پاک فضائیہ کے شاہینوں کو چار اسرائیلی طیارے گرانے کا اعزاز بھی ہے۔ 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بن گوریان نے پاکستان کو اپنا دشمن نمبر قرار دیتے ہوئے کہ کہا کہ ہمیں عربوں سے زیادہ انکے دوست پاکستان سے خطرہ ہے جسکے مقابل اسرائیل کو اقدامات کرنے ہونگے۔

    یہ تو ہے اسرائیل پاک تعلقات کے معاملات کی کچھ تاریخ تاہم مشرف دور میں انقرہ میں ترکی نے خفیہ طور پر پاک اسرائیل وزراء خارجہ ملاقات کا اہتمام کروایا جسکا مقصد یقیناً مستقبل قریب میں پاک اسرائیل تعلقات کی بحالی تھا۔ تاہم اس کے بعد پاکستان کی طرف سے اسرائیل سے تعلقات سے متعلق کوئی خاص کاوش دیکھنے میں نہیں آئی۔ ابھی گزشتہ دو تین سالوں سے مخصوص قبیل کے کچھ اینکرز کی طرف سے مسلسل اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے فوائد و ثمرات پر دلائل دیکھنے میں آرہے ہیں یہاں تک کہ کل کامران خان نے کہا کہ پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ طاقت کے ایوانوں میں عمران خان اسرائیل کے حوالے سے خاصا سخت مؤقف رکھتے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اس پر مزید کوئی ڈویلپمنٹ سامنے نہیں آئی۔

    پاکستان میں پبلک پریشر خارجہ و داخلہ امور میں ہمیشہ سے اثر انداز رہا ، ایٹمی دھماکے ہوں ، توہین رسالت کا مسئلہ ہو یا اسرائیل کا تسلیم کرنا اس قسم کے معاملات پر ہمیشہ سخت ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اسکی اپنی جگہ حقیقت لیکن یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جب ریاست کسی فیصلے پر عمل درآمد کا ارادہ کرتی ہے تو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی جیسے غیر مقبول معاملات بھی کر گزرتی ہے۔

    اسرائیل کی شروع دن سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش رہی ہے ، جبکہ ہم واحد ایٹمی اسلامی ریاست ہیں جو اسرائل کے ناجائز وجود کو دنیا میں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور اپنے پاسپورٹ پر بھی لکھ رہا ہے کہ اسرائیل کے علاوہ دنیا کے ہر ملک میں کارآمد ہے۔ ہمارے تسلیم کرنے سے دنیا میں اسرائیل کے راستے کی واحد رکاوٹ بھی ختم ہو جائے گی اور اسکی سلامتی کو ہم سے لاحق خطرات بھی ختم ہو جائیں گے۔

    یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر پاکستان کے پالیسی میکرز کہیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سرگرم و متحرک ہوتے ہیں تو شاید تجارتی و معاشی فوائد تو حاصل ہو جائیں جیسا کہ ماضی میں بھی لیاقت علی خان کو اس کی یقین دہانی کرائی گئی تھی لیکن پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف کو کھو دے گا ، کشمیر ہماری بقاء اور خارجہ پالیسی کا بنیادی مرکز ہے اس پر کسی قسم کی اخلاقی کجی کمی ہمیں اقوام عالم میں کھڑا نہیں رکھ پائے گی۔